سعدیہ کمال
پروفیسر ڈاکٹر عطش دُرّانی کے ساتھ چند باتیں

ڈاکٹر عطش دُرّانی کا اصل نام ’’عطاء اللہ‘‘ ہے۔ عطش کے معنی ’’پیاس‘‘ کے ہیں، علم کی پیاس اور ’’عطش‘‘ ایسا جزو بناکہ اب یہی ان کا نام ٹھہرا اور اصل نام گم ہو گیا۔ بس ذات تک محدود ہے، ڈاکٹر صاحب بھاری بھرکم ہی نہیں، علمی وزن اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ مقتدرہ سے بھی منسلک رہے، آج کل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ ’’پاکستانی زبانیں‘‘ کے سربراہ ہیں۔ حکومت پاکستان نے انھیں خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ آئیے ان کی ذاتی اور علمی صورتحال جانتے ہیں۔
س:        یہ بات درست ہے کہ نام شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ کا نام بھی آپ کی شخصیت پر چھایا رہا۔یہ بتائیے گا کہ ساہیوال کے حوالے سے چونکہ آپ کا بچپن وہاں پر گزرا ، دوستوں کی یادیں ، کچھ باتیں؟
ج:         میرے دوست جو پہلی جماعت کے تھے وہ آج تک میرے دوست ہیں۔ ساہیوال میں میرے دوست جاوید جس کا میں ذکر کرتا رہاہوں اس کا میری زندگی میں اہم کردار ہے۔ اختر ادھر واہ کینٹ میں رہتا ہے۔ زندگی بھر ان کا ساتھ رہا۔
س:        یہ تو خوش قسمتی کی بات ہے کہ دوستوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ آپ بچپن ہی سے کسی نہ کسی سے متاثربھی ہوئے ہوں گے؟
ج:         لکھنے پڑھنے کی تحریک اپنے ہم جماعت عبدالرئوف(وفاقی ٹیکس محتسب) سے لی ، جس نے ساتویں جماعت میں طلبہ کی نمایش کے لیے ایک رسالہ ہاتھ سے لکھ کر پیش کیا تھا۔ گھرآ کر میں نے بھی رسالے کتابیں لکھنا شروع کر دیں۔ پھر یہ زندگی بھر کا کام بن گیا۔
س:        دوستوں کے حوالے سے آپ خوش قسمت رہے ۔ یہ بتائیں کہ آپ کی ازدواجی زندگی کیسی گزر رہی ہے اور آپ کے کتنے بچے ہیں؟
ج:         میرا ایک ہی بیٹا ہے اور جیسا کہ میں نے ایک جگہ تحریر بھی کیا ہے کہ میں چاہتا تھا کہ میری بیوی ایسی ہو جو میری بات کو ، میرے فکر و نظر کو سمجھ سکے جو میرا اس طرح سے ساتھ دے کہ مجھے یوں نہ لگے کہ میں دیواروں سے باتیں کر رہا ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ ایسی ہیں۔ ایجوکیشن کی استاد رہی ہیں۔ تصنیف و تالیف ان کا بھی کام ہے اور ماشاء اللہ ڈگریاں مجھ سے بھی زیادہ ہیں ان کے پاس۔
س:        آپ نے شاعری بھی کی تو آپ نے شاعری چھوڑ کیوں دی۔ اس کو اپنایا کیوں نہیں؟
ج:         شاعری میں جناب احسان دانش سے اصلاح لیا کرتا تھا۔ انھوں نے اپنی کتا ب جہان دگر میں ’’میرے خود ساز ساتھی‘‘ میں میرا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے مجھے کہا کہ تمھاری نثر بہت اچھی ہے اور تحقیق کا رجحان بہت ہے۔ شاعر کتنے ہیں۔ کیا کر لو گے؟ یہ ان کا مشورہ تھا۔ چنانچہ میں نے شاعری بس ایک شوق کے طور پر رکھی اور پھر آہستہ آہستہ وہ سب کچھ ترک ہو گیا اور تحقیق اور نثر کی دنیا میں آگے بڑھا۔شاعری میں مجھے فیض نے متاثر کیا ہے۔فیض ایک ایسی سطح کا شاعر ہے جو پرانا ڈکشن استعمال کرتا ہے اور جدید فکر دیتا ہے۔ یہ ملاپ کسی اور شاعر کے ہاں نہیں ہے۔ احمد فراز نوجوانوں کا شاعر ہے۔ جوانی کا شاعر ہے لیکن احمد فراز کے ہاں کوئی گہرا فکر نہیں، فلسفہ نہیں ہے، حسن و عشق کا تعلق فیض کے ہاںبھی ملتا ہے لیکن انسانی فکر و فلسفے کے ساتھ۔ اس طرح سے وہ بلند تر ہو جاتا ہے یعنی ترفع۔ چنانچہ اگر زندگی کا کوئی پہلو ڈھونڈو بھی تو فیض کا کوئی نہ کوئی شعر سامنے آ کھڑا ہوتاہے۔ اس لیے میں ذرا …یہ ایک اور بات ہے کہ وہ ایک اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ کہنے کو وہ خود کو مزدور شاعر کہتا تھا مگر ایسا نہیں۔ مزدور شاعر احسان دانش تھے۔ ان کی زندگی مزدوری کرتے گزری تھی اور انھوں نے مزدور ہی سے شاعر کا رتبہ پایا تھا۔مزدور کے احساسات بیان کرنے میں ان سے بہتر شاعر کوئی نہیں ہے۔لیکن فیض ایک اعلیٰ طبقہ سے ہونے کے باوجود جس جدید طبقے کی بات کرتا ہے۔ جس جدید فلسفے کی بات کرتاہے۔ وہ اسے پرانے ڈکشن میں بہت اچھے طریقے سے بیان کرتاہے اور ہم پرانے ڈکشن کے عادی ہیں۔ اس لیے فیض کے نزدیک ہو جاتے ہیں۔
س:        فیض نے حسن و عشق کے علاوہ محبت کی بات بھی کی۔ یہ آپ کے نزدیک احترام یا عقیدت ایک ایسا رشتہ ہے جو محبت سے بڑھ کر ہے۔ آج کل کے ڈراموں میں جو محبت دکھائی جا رہی ہے اور جس کے پیچھے ہمارے عوام بھاگ رہے ہیں وہ بالکل بے معنی ہے کیا؟
ج:         اس وقت جو وقتی گپ شپ کی بنیاد پر ڈرامے بن رہے ہیں اس میں ایک لفظ ’’محبت‘‘ استعمال ہو رہاہے اور ایک نفسیاتی بیماری کو مقدس بنا کر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اسے قرآن نے بھی بیماری کہا ہے۔ عورت سے کہا گیا ہے کہ جب کوئی دروازہ کھٹکھٹائے تو تم سخت آواز سے بولو۔ (نرم آواز سے جواب نہ دو) کہ وہ جن کے دلوں میں ’’بیماری‘‘ ہے وہ اس کا غلط مطلب نہ لے لیں۔ قرآن نے ایسی محبت کو بیماری قرار دیا ہے اور ہم نے اس نفسیاتی الجھن کو محبت کا مقدس جذبہ قرار دیا ہے۔ اگر آپ کو واقعی کسی سے محبت ہے تو پھر اس کا احترام آپ پر واجب ہے۔ محبت تو خود سپردگی کا نام ہے؟ جھک جانے کا نام ہے۔ یہاں جو دکھایا جاتا ہے وہ خود غرضی کا نام ہے، دوسرے کو اپنانے کانام ہے۔ دوسرے کو اپنی طرف لے آنے کا نام ہے اور اس کی ناکامی کے رد عمل میں ایک ڈراما تخلیق ہو رہاہے۔ یہ محبت نہیں ہے۔
س:        آپ صحافی بھی رہے ہیں۔پھرآپ نے صحافت کو مستقل طور پر کیوں نہیں اپنایا؟
ج:         میں جب لاہور سیکریٹریٹ میں ملازمت کے سلسلے میں پنجاب پبلک سروس کمیشن میں انٹرویو کے لیے گیا، اگرچہ انٹرویو لینے والے مسکین حجازی اور وارث میر موجود تھے۔ مجھ سے چیئرمین پبلک سروس کمیشن نے بھی یہی سوال کیا تھا کہ آپ جب صحافت میں ایک مقام حاصل کر چکے، ڈائجسٹوں کے ایڈیٹر بھی رہے۔ مختلف اخباروں میں کام کیا تو اب آپ سرکاری ملازمت میں کیوں آنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا تھا جی میں کارکن صحافی رہا ہوں۔ مالک صحافی نہیں ہوں۔کارکن صحافی جب سڑکوں پر آتا ہے تو پھر اسی ٹوٹے چپل کے ساتھ… اب میرے اوپر ذمہ داریاں آ گئی ہیں۔ گھر کی، بیوی بچے کی۔ اب مجھے بھی جائز معاشی تحفظ چاہیے۔ پھر دوسری بات کہ میں یہ سمجھ رہاہوں کہ جس جگہ میں جا رہا ہوں وہاں بھی میں اپنا حصہ ڈالوں گا کیونکہ میں وہاں لاہور سیکریٹریٹ میں ’’اردو نامہ‘‘ کا ایڈیٹر تھا اور اس رسالے کو اچھا خاصا چلایا۔ شعیب بن عزیز اس کے ایڈیٹر تھے۔ ان سے چارج لیا اور منصور عاقل میرے سربراہ تھے۔ پھر وہاں سے مقتدرہ قومی زبان میں آ گیا۔
س:        آپ کام کے سازوآواز میں بھی گم رہتے ہیں اور اس کے باوجود ہم نے آپ کی لائبریری اور ذخیرے دیکھے ہیں۔تقاریب اور سیمیناروں کی تمام چیزیں منظم شکل میں آپ کے پاس موجود ہیں۔ آپ یہ سب کیسے کر لیتے ہیں؟
ج:         میں جب چھٹی جماعت میں اپنی کلاس کا مانیٹر تھا ۔کبھی میں مانیٹر ہوتا تھا، کبھی رؤف چودھری ۔ ہم باری باری مانیٹر ہوتے تھے تو استاد نے میرے ذمے ٹائم ٹیبل بنانا لگایا۔ وہ چیز زندگی بھر میرے ساتھ رہی۔ میں نے تمام چیزوں کو ان کے خانوں میں بند کر دیا۔ ضرورت کے وقت خانہ کھول لیتا ہوں اور کام کرتا ہوں۔ مولانا شبلی نعمانی نے کہا تھا کہ توجہ کے ساتھ اگر آپ روزانہ دو گھنٹے بھی کام کر لیں، تو آپ دنیا میں بہت سے لوگوں سے زیادہ کام کریں گے۔ میں جو کام کرتا ہوں۔ ارتکاز توجہ سے کرتا ہوں۔ اس لیے میرے تعلقات ، میرا گھر بار، میری پبلک ریلیشنگ، میری لیکچرر شپ، میری تصنیف و تالیف ، یہ سب اپنی اپنی جگہ پر ہیں اور مکمل ہیں۔ کسی کمپارٹمنٹ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں۔
س:        ہماری نئی نسل تو بہت شوق سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن جو پرانے لوگ ہیں ان کا ایک ذہن بن چکا ہے۔ وہ بہت مشکل سے اس جانب آتے ہیں۔ انھیں فون پر پیغام بھیجا جائے تو وہ اس کا جواب فون کر کے دیتے ہیں۔ وہ اس طرح سے آسانی محسوس کرتے ہیں۔ انھیں ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
ج:         آپ نے درست بات کی۔ ایک ذہن بن چکا ہوتا ہے اور اس کو توڑنا آسان کام نہیں۔ میں قلم سے لکھتا رہا ہوں ۔ میں کی بورڈ پر اس رفتار سے نہیں چل سکتا۔ آج بھی میں پہلے قلم سے لکھتا ہوں اور کی بورڈ پر بعد میں لکھتا ہوں۔ یہ ایک عادت ہوتی ہے لیکن میں آپ کی توجہ ایک اور جانب دلانا چاہتا ہوں کہ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں لیکن تبدیلی اب بھی ہماری خواہش نہیں ہے۔ کمپیوٹر کی اب ہر چیز ہم نے اردو میں کر دی ہے، سندھی میں کر دی ، پنجابی میں کر دی ہے۔ موبائل فون ان میں کر دیے ہیں لیکن عوام اس کو استعمال نہیں کر رہے یا انھیں شعور نہیں۔ لوگ پیغام رسانی اردو میں نہیں کرتے، رومن میں لکھ کر کرتے ہیں۔
س:        ٹھیک کہا آپ نے۔ آپ ماہر لسانیات بھی ہیں۔ اردو زبان کے حوالے سے بات کی جائے تو آپ کی رائے دوسرے لوگوں سے الگ تھلک رہی… کیوں؟
ج:         میرا خیال ہے کہ جب میں کوئی کام کرتا ہوں تو میں اس کی ’’کنہ‘‘ (بنیاد) یا اس کے بیک اینڈ پر جاتا ہوں کہ اصل کیا ہے؟ وہاں سے تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہوں جیسے کمپیوٹر کی Ghost Characters Theory میں بیک اینڈ سٹوری پہ گیا ہوں۔ اردو کے بیک اینڈ پر جاتا ہوں تو میں یہ دیکھتا ہوں کہ کچھ مصنوعی کوششیں کی گئیں۔ انشاء اللہ خان انشاء نے جس اردو کو فصیح اردو قرار دیا تھا وہ اردو تو آج کہیں نہیں ہے اور اپنی کتاب میں جس اردو کو اس نے رد کیا تھا یعنی پنجابی سودگران دہلی کی اردو۔ آج وہی اردو چل رہی ہے۔ سودگران دہلی جو اب کراچی میں اردو سپیکنگ کہلاتے ہیں۔ پنجابی نہیں کہلاتے۔ حالانکہ گئے وہ پنجاب ہی سے تھے۔ اس لیے اردو کے بارے میں میرے اپنے نظریات ہیں۔ یہ محض سنی سنائی اور محض پراپیگنڈہ اور محض ایک روایت کے تحت نہیں۔
س:        مقامی زبانوں کے حوالے سے بات کی جائے تو ہمیں پاکستان میں تعصب نظر آتاہے کہ سندھی پسماندہ ہے۔ سرائیکیوں کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا ہے اور بلوچستان ، خیبر پختونخوا کے حوالے سے بھی یہی رائے ہے۔مستقبل کے لیے آپ کا کیا خیال ہے؟
ج:         میرا خیال ہے زبانوں کے مسئلے کوہر دو طرف سے غیر ضروری طور پر اٹھایا گیا ہے۔ مقامی زبانیں پشتو، بلوچی، پنجابی، ہندکو، سرائیکی، سندھی، شنا، بلتی، اردو سے زیادہ امیر زبانیں ہیں۔ کس میں؟ فوک میں جو اردو کے پاس نہیں ہے۔ سلینگ میں جو اردو کے پاس سرے سے نہیں۔ وہ وہاں ہو بھی نہیں سکتیں کیونکہ اردو زبان امتزاجی زبان ہے، ترکیبی زبان ہے وہ ایک اوپر کی سطح پر تہذیبی سطح پر بنی۔ یہ کسی سر زمین پر نہیں بنی لیکن یہ اس طرح سے کامن یا اشتراک لے کر آتی ہے کہ ہم سب زبانوں میں بولنے والے فطری طو رپر اردو بول سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ہماری فطری زبان ہے اور میں نے یہی کچھ جمیل الدین عالی کو خط لکھتے ہوئے کہا تھا کہ اردو تو میری روح کا مسئلہ ہے۔ میں نے اردو کے لیے کام کیا ہے اگرچہ روح کے ساتھ لیکن اس طرح سے جذباتی ہو کر نہیں۔ عملی طور پر اور یہ سمجھ کر کہ میری اپنی مادری زبان پنجابی ہو ، سرائیکی ہو ، وہ بھی اپنی جگہ پر رہے اور اردو بھی ، سو میں سمجھتاہوںمیں کثیر لسانی ہوں۔
س:        لیکن محبت کس زبان سے ہے ؟کیا اردو سے ہے؟
ج:         محبت! سب زبانوں سے ہے۔ اردو میں بھی کا م کیا ہے۔ انگریزی ، پنجابی میں بھی کام کیے۔رہنمائی بھی دی ہے۔ زبان کوئی بت نہیں ہے جسے پوجا جائے۔ زبان کی عصبیت کوئی اچھی چیز نہیں۔ زبان تو بس سننے اور بولنے کے لیے ہے، لکھنے پڑھنے کے لیے ہے۔ اردو میرے نزدیک وہی ہے جو ایک پٹھان سندھی کے ساتھ بولتا ہے۔ اس کا نام میں نے پاکستانی اردو رکھا ہے اور میرا یہ دعویٰ میری کتاب ’’پاکستانی اردو‘‘ میں ہے۔ اس لیے میں لسانی طور پر متعصب نہیں۔ میری کتاب ’’پاکستانی اردو‘‘ اس لیے معروف یا زیر بحث ہوئی ہے کہ میں پاکستانی اردو کی ایک اپنی ٹون یا اپنا کینڈ ا Genre )) کہتاہوں۔ اردو کو ویسے بھی بول چال کا سب سے زیادہ موقع پاکستان میں آ کر ملا ہے۔  اس سے پہلے یہ محدود طبقے میں تھی۔
س:        آپ نے خاکوں پر کتاب ’’اماں سین‘‘ لکھی۔ اس کے سرائیکی، سندھی، پنجابی میں تراجم بھی ہو چکے ہیں۔ یہ اماں سین کون ہے؟
ج:         اماں سین میری پھوپھی کا خاکہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی میں نے کئی خاکے لکھے۔ اپنے والد پر بھی اور کئی اور لوگوں پر بھی خاکے لکھے۔ اماں سین ایک ایسا کردا رہے جو مجھے اس کے بعد دنیا میں پھر کبھی نظر نہیں آیا۔ یہ ایک نیم پڑھی لکھی عورت، جو ایک صوفی بزرگ کی بیوی ہے اور ایک بہت بڑ ا لنگر چلا رہی ہے۔ دو تین سو عورتیں اس کی نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔ گھر کے اندر ہی اور میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔ اس کے باوجود اس کا ذہن سائنٹیفک ہے۔ مرید نیاں اس کے پاس بیمار بچوں کو لے کر تعویز لینے آتی ہیں۔ وہ ان کو تعویز کے ساتھ دوائی کی گولی بھی دے دیتی ہے۔ وہ اپنی بیٹیوں کے جن نکلوانے آتی تھیں اور اماں سین ان لڑکیوں کو کمرے میں لے جاتیں۔ پھر ان لڑکیوں کی مائوں سے کہتیں کہ اس کی شادی اس کے مامے کے بیٹے کے ساتھ کر دو۔ پیر صاحبہ کا حکم ہوتا تھا اس لیے لوگوں کو ماننا پڑتا تھا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ایک متوازن شخصیت تھیں۔ اس چیز نے مجھے تحریک دی اور اسی وجہ سے میں نے اسی صوفیانہ فضا میں خاکہ لکھا جو بہت مقبول ہوا ہے اور مجھے تو آج تک اماں سین کے علاوہ کوئی اور اچھا منظم نظر نہیںآیا۔
س:        آپ زندگی کے سفر کو دیکھیں تو مشکلات اور مصائب نظر آتے ہیں۔ آپ نے مکتبہ لائبریری میں سٹور کی صفائی کرنے والی حیثیت سے بھی کام کیا، صحافت کی، تدریس کے فرائض بھی انجام دیے… اگر ان میں سے کسی ایک پیشے کومنتخب کرنے کا کہا جائے تو کون سا پیشہ آپ کا پسندیدہ ہے؟
ج:         میرا پسندیدہ پیشہ ہمیشہ تدریس ہی رہا ہے اور اتفاق سے میں ابتدا میں یونیورسٹی تدریس میں رہا اور اب بھی۔ شروع میں کچھ عرصہ پنجاب یونیورسٹی میں کام کیا ۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ اگر تم نے کچھ حاصل کیا ہے تو یہ اگلی نسلوں کا قرض ہے جو سود کے ساتھ ادا کر دو۔ میں نے جو سیکھا ہے وہ میں نئی نسل کی آبیاری میں ڈال دیتا ہوں لیکن ایک خواہش باقی ہے۔ میں دوبارہ پیدا ہونا چاہتا ہوں اس دنیا میں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیابنائی بہت خوبصورت ہے۔ اپنی مشکلات کے دوران میں بھی میں نے کبھی اپنے خدا سے گلہ نہیں کیا۔میرا پیغام ہے کہ کبھی اپنی ہار سے مایوس نہیں ہونا اور اپنی جیت پر فخر نہیں کرنا۔ بس کام کرنے کاشوق رہے۔ منزل کی طرف بڑھنے کا شوق ہونا چاہیے۔ منزل پر پہنچنا کوئی چیز نہیں۔٭٭٭