پروفیسر سحر انصاری
ڈاکٹر فرمان فتح پوری، کچھ یادیں کچھ باتیں

            ڈاکٹر فرمان فتح پوری بھی رخصت ہو گئے۔ ابھی چند ہی دنوں کی بات ہے کہ وہ اپنی شگفتہ مزاجی اور ادب دوستی کی دیرینہ روش کے ساتھ محفلوں کو سنجیدہ گفتاری کے ساتھ ساتھ اپنی دلچسپ گفتگو سے زعفران زار بھی بنا دیتے تھے۔ فرمان صاحب رخصت ہوئے، یادیں رہ گئیں۔ ۱۹۵۴ئ، ۱۹۵۵ء کی بات ہے ، ہم ڈائو میڈیکل کالج (اب ڈائو یونیورسٹی) کے بالمقابل گورنمنٹ سکول کوتوال بلڈنگ میں میٹرک کی تعلیم مکمل کر رہے تھے۔ اُس زمانے میں گیارہ سال کا میٹرک ہوتا تھا۔ ہمارا شاید آخری بیج تھا۔ اُس کے بعد پھر وہی دس جماعتوں کا سلسلہ لوٹ آیا۔
ہمارا سکول ہر لحاظ سے نمایاں تھا۔ عمارت اگرچہ اُس کی کھنڈر نماتھی۔ آثار قدیمہ کی باقیات معلوم ہوتا تھا۔ زینہ چڑھتے ہوئے احساس ہوتا تھا کہ اب گرے اور اب گرے لیکن وہیں اندازہ ہوا کہ درس گاہ در و دیوار کا نام نہیں،  اس کی اہمیت اور عظمت اساتذہ کے انہماک، اخلاص اور علمیت کی بنا پر قائم ہوتی ہے۔ اس وقت ہمارے صدر مدرس، خواجہ محمد صدیق تھے، جن کی تالیف کردہ ’’قواعد اردو‘‘ کے سلسلے اب بھی داخل نصاب ہیں۔ اس کے علاوہ مولوی امداد حسین (اردو)، ثناء الحق انصاری (انگریزی) میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ دونوں نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں طلائی تمغے حاصل کیے تھے۔ فرسٹ کلاس ایم اے تھے لیکن کالج یا یونیورسٹی کے بجائے سکول کی تدریس کو انھوں نے پسند کیا۔
ہمارے سکول میں ایک بزم ادب تھی جس کے نگران ثناء اللہ انصاری تھے۔ ایک نشست میں ہم نے دیکھا کہ چھریرے بدن اور درمیانے قد کی ایک شخصیت بھی مسند پر رونق افروز ہے۔ انصاری صاحب نے بتایا کہ سید دلدار علی اس سکول کے نئے استاد ہیں۔ ایک اچھے ادیب ہیں۔ بزم ادب کی کارگزاری کی بنا پر ہم سید دلدار علی کے پاس بھی مشوروں کے لیے جاتے تھے۔ اسی اثنا میں معلوم ہوا کہ استاد موصوف تو فرمان فتح پوری ہیں اور ان کے مضامین علامہ نیاز فتح پوری کے ماہنامہ ’’نگار‘‘ میں شائع ہوتے ہیں۔ ہم لوگ اس وقت بھی ’’نگار‘‘، ’’ادب لطیف‘‘، ’’نقوش‘‘، ’’افکار‘‘ اور ’’نیا دور‘‘ کے قاری تھے اور اس لیے ہمیں اندازہ ہو گیا کہ سکول کے تدریسی عملے میں ایک اہم علمی شخصیت کا اضافہ ہواہے۔ فرمان صاحب سیکشن ’’بی‘‘ کو اردو پڑھاتے تھے اور ہم سیکشن ’’اے‘‘ میں تھے لیکن اس وقت کی تہذیبی روایت یہ تھی کہ سکول ، کالج یا یونیورسٹی میں جتنے اساتذہ ہیں، وہ چاہے آپ کو پڑھاتے ہوں یا نہ پڑھاتے ہوں، سب آپ کے استاد اور واجب الاحترام ہوتے تھے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ، حفظِ مراتب اپنے مقام پر لیکن اس کا کیا کیجیے کہ فرمان صاحب لیے دیے رہنے والی شخصیت نہیں تھے۔ جب ملتے باغ و بہار شخصیت کا تاثر دیتے۔ خوش مزاج ، خوش اخلاق ، پورے خلوص سے مصافحہ کرنے اور قہقہے لگانے والے۔ ہم سکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی کی منزلیں طے کرتے رہے، اسی دوران فرمان صاحب سے زیادہ تر اردو بازار، کسی ادبی محفل یا سرِ راہ ملاقات ہو جاتی۔ ان کا وہی باغ و بہار انداز ہر جگہ قائم رہتا تھا۔
فرمان صاحب چراغ سے چراغ اور خیال سے خیال کی کوئی نئی رو نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے خاصی مدت قبل ’’اردو کی نثری داستانیں‘‘ کے زیر عنوان پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی تھی۔ فرمان صاحب نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے ’’اردو کی منظوم داستانیں‘‘ منتخب کیا اور موضوع کا حق ادا کر دیا۔ پھر وہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہو گئے اور ’’نگار‘‘ کے ساتھ ساتھ ان کے علمی کارنامے اور علمی بحثیں بھی جاری رہیں۔ خاص طور پر ’’رباعی‘‘ کی ہیئت اور اوزان پر اُن کی ایک بحث ڈاکٹر عندلیب شادانی سے چل پڑی۔ نتیجہ خواہ کچھ بھی رہا ہو، فرمان صاحب کی کتاب ’’اردو رباعی‘‘ معرض وجود میں آ گئی، جو اب بھی حوالے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
فرمان صاحب نے علامہ نیاز فتح پوری کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے ان کی زندگی ہی میں یاد گار نمبر شائع کیے جن میں ’’تذکروں کا تذکرہ نمبر‘‘ اور’’نیاز فتح پوری نمبر ‘‘ ( دو حصوں میں) ، ’’سرسید احمد خاں نمبر‘‘  بطور خاص اہم ہیں۔ بعد میں مزید تحقیق اور دقت نظر سے کام لے کر انھوں نے تذکروں والے نمبر کو کتابی شکل دے دی اور اس پر انھیں جامعہ کراچی سے ڈی لٹ کی سند عطا ہوئی۔
میں ۱۹۷۴۔۱۹۷۳ میں بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ پھر بہ وجوہ مجھے کراچی آنا پڑا اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہو گیا۔ بڑی مدت کے بعد کسی نئے ٹیچر کا تقرر اس شعبے میں ہوا تھا۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری بے حد خوش ہوئے اور بعض دوسرے اساتذہ کے برعکس نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ کچھ عرصے کے لیے اپنی ایم اے کی کلاسوں کی تدریس بھی میرے سپرد کردی اور فارسی میں میرے لیے ایک نظم لکھی ، جو اس طرح شروع ہوتی تھی:
شادم کہ شب تا برفت و سحر آمد
شعبے میں کچھ علمی و ادبی کام کی صورت یہ نکالی گئی کہ فرمان صاحب کے کمرے میں کسی موضوع پر ایک مختصر سا مذاکرہ ہوتا اور اسے ’’نگار‘‘ میں شائع کر دیا جاتا۔ ان میں سے ایک تو فیض احمد فیض کی مقبولیت کے اسباب پر تھا اور دوسرا اردو میں نثری نظم کے ارتقا پر۔ ان میں فرمان صاحب کے علاوہ پروفیسر انجم اعظمی، پروفیسر منظور حسین شور، مرزا ظفر الحسن اور مسعود احمد برکاتی نے بھی حصہ لیا۔
فرمان صاحب کاایک بڑا کارنامہ علامہ نیاز فتح پوری لیکچرر ہے جو ۲۶ سال تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ اس موقع پر ایک سال نامہ شائع کیا جاتا تھا اور لیکچر کے لیے پاک و ہند کے معتبر اہل قلم کو مدعو کیا جاتا تھا۔ ان اجتماعات کو انجم اعظمی ، سرشار صدیقی اور امرائو طارق کی خصوصی معاونت حاصل تھی۔ ادھر کئی سال سے فرمان صاحب کی خواہش پر میں یادگاری لیکچر کے تعارف اور نظامت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
فرمان صاحب کی زندگی میں نادانستہ طو رپر ایک واقعہ ایسا سر زد ہو گیا تھا ، جسے بڑی مشکل سے مثبت شکل دی گئی۔ اردو کے ایک قاعدے میں ناشرین نے بعض منفی الفاظ کے ساتھ ہمارے بعض مشاہیر کی تصاویر چسپاںکر دی تھیں۔ اس پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔عبدالحفیظ پیرزادہ وفاقی اور پیار علی الانہ صوبائی وزیر تعلیم تھے۔ پیار علی الانہ سے میرے خاندانی مراسم تھے۔ میں نے کسی طرح اس معاملے کو رفع دفع کرا دیا۔ فرمان صاحب اکثر محفلوں میں اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ میںانھیں اس سے بازرکھنے کی کوشش کرتا لیکن  وہ محبت اور شفقت سے لبریز لہجے میں اپنی گفتگو اس موضوع پر جاری رکھتے۔
فرمان صاحب کا حافظہ بہت عمدہ تھا۔ اردو، فارسی اور ہندی کے سیکڑوں اشعار انھیں یاد تھے۔ موقع محل کے لحاظ سے سناتے چلے جاتے تھے۔ خاص طور پر ہندی کے کم از کم پچاس ساٹھ دوہے انھیں یاد تھے۔ بڑی روانی سے ٹھیٹھ ہندی لہجے میں دوہے پڑھتے اور کبیر داس، عبدالرحیم خان خاناں اور میرا بائی کی شاعرانہ صفات بھی ساتھ ساتھ بیان کرتے جاتے۔ ہندی اور سنسکرت سے فرمان صاحب کی آگہی اُن کی کتاب ’’اردو ہندی تنازع‘‘ میں کام آئی۔ یہ کتاب اس پس منظر سے تعلق رکھتی ہے جو پاکستان کی تحریک آزادی کے سلسلے میں لسانی تنازعے کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اس کتاب کا چرچا زیادہ نہیں ہوا لیکن یہ فرمان صاحب کا ایک تحقیقی کا ر نامہ ہے۔
فرمان صاحب کو مولانا حسرت موہانی ، علامہ نیاز فتح پوری، فراق گورکھ پوری اور مجنوں گورکھ پوری سے خاص ذہنی مناسبت تھی۔ اختر حسین رائے پوری، ڈاکٹر محمود حسین خاں اور ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی پر بھی انھوں نے سیر حاصل مضامین تحریر کیے۔
شعراء میں غالب، اقبال اور فیض سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ غالب پر تو ان کے خصوصی مقالے، کتابیں، شرحیں اور تحقیقی مواد خاص حیثیت اور اہمیت رکھتا ہے۔
اردو ڈکشنری بورڈ میں جو کام عرصے سے رکا ہوا تھا فرمان صاحب نے اسے جاری کیا اور کئی جلدیں اُن کی سربراہی میں شائع ہوئیں۔ اُن کی زندگی میں نظم و ضبط کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اسی لیے وہ کہتے تھے کہ ’’قلم کی مزدوری سے لے کر پروفیسر شپ تک ، میرے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔اب بھی چار سے چھ گھنٹے روزانہ تحریری کام کرتا ہوں۔ فرمان صاحب کو اندرون ملک اور بیرون ملک  متعدد اعزازات ملے جن میں دائود ادبی انعام، کینیڈا کا فروغ اردو انعام اور حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیازشامل ہے۔اردو کے شعبے میں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے بعد ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری دوسرے پروفیسر ایمریطس مقرر ہوئے۔
فرمان صاحب نے ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح پر درجنوں اسکالرز کی راہنمائی کی اور انھیں پابند کیا کہ وہ اپنا تحقیقی کام مکمل کریں۔ ان میں سید سجاد باقر رضوی اور ڈاکٹر سید معین الرحمن خاص طو پر قابل ذکر ہیں۔
فرمان صاحب کا کتب خانہ ایک مثالی کتب خانہ ہے، جس میں کتابوں کی تعداد اور معیار قابل رشک ہے۔ ایک زمانہ تھا، جب فرمان صاحب کہاکرتے تھے کہ ’’کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد‘‘ بھائی ان کتابوں کی نکاسی کی کوئی سبیل نکالو۔ تاہم مقام مسرت ہے کہ ان کی صاحب زادی ڈاکٹر عظمیٰ فرمان نے تدریس و تحقیق میں میراث پدر کو سنبھالنے اور اس کی روایات کو برقرار رکھنے کا عملی ثبوت بہم پہنچا دیا ہے، اب اس کتب خانے کے لیے کسی اور انداز سے سوچنے کی گنجائش نہیں رہی۔
فرمان صاحب نے امریکا ، کینیڈا اور ہندوستان کے متعدد سفر کیے اور وہاںکی ادبی تنظیموں کے تحت اپنے علمی ماخذ سے سامعین کو مستفیض کیا۔فرمان صاحب کئی سال سے مختلف عوارض کا شکار تھے لیکن اپنی قوت ارادی کے بل پر انھوں نے علالت سے شکست نہیں کھائی۔ شکست کھائی تو صرف  پیکرِ اجل سے ۔ فرمان صاحب کے تابوت پر جو چادر ڈالی گئی تھی، اس کا رنگ گہرا زعفرانی تھا۔ فرمان صاحب میر تقی میر کا شعر، جو اکثر پڑھتے تھے، کا نوں میں گونجنے لگا۔
بسنتی قبا پر تری مر گیا
کفن میر کو دیجیو زعفرانی
بشکریہ روزنامہ جنگ)