الفاط کے معنی کیسے بتائیں

ڈاکٹر فرمان فتح پوری

زبان کی تدریس کا اہم اور بنیادی مقصد، تحریر و تقریر کے ذریعے، اظہار خیال پر قدرت حاصل کرنا ہے۔ یہ اظہار جس قدر مربوط، واضح، بھرپور اور خوبصورت ہو گا اسی قدر کسی بچے کو زبان کا اچھا طالب علم سمجھا جائے گا۔ اظہار خیال پر قدرت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچے کے ذہن میں، اس کی معلومات و خیالات کی وسعت کے مطابق الفاظ کا ایک بڑا ذخیرہ محفوظ ہو۔ یہاں ذخیرۂ الفاظ کی موجودگی سے یہ مراد نہیں کہ طالب علم نے کسی لغت یا کسی نصابی کتاب کے آخر میں دی ہوئی فرہنگ سے الفاظ کے معنی رٹ لیے ہوں بلکہ یہ مفہوم ہے کہ اُس کے حافظے میں الفاظ کا جو ذخیرہ موجود ہو، وہ روزمرہ کی تحریرو تقریر میں اسے صحیح طو رپر استعمال کرنے پر دسترس بھی رکھتا ہو۔ لیکن عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ بچے الفاظ و معنی کا وافر ذخیرہ رکھنے کے باوجود، اظہار خیال پر خاطر خواہ قدرت نہیں رکھتے نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم کی اعلیٰ منزلوں میں پہنچ کر اور بعض صورتوں میں تعلیم سے فارغ ہو کر بھی وہ اپنے ما فی الضمیر کو صفائی اور اثر خیزی کے ساتھ ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کمزوری کے اور بھی اسباب ہوں گے لیکن ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہمارے ابتدائی اور ثانوی مدرسوں میں اخذ ِ معنی کے سلسلے میں پوری توجہ صرف نہیں کی جاتی ، اُردو کے اکثر معلمین بچوں کو سرسری طو رپر الفاظ کر مترادف معنی بتا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اخذ معنی کی طرف سے یہ بے اعتنائی یا یہ طریقۂ کار صرف یہی نہیں کہ زبان کی تدریس کے لیے غیر مفید وغیر دلچسپ ہے بلکہ آگے چل کر طلبہ و طالبات کے لیے گمراہی کا سبب بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی طالب علم کو چشم، گوش، گُل، شکم اوردندان کے صرف مترادف الفاظ علی الترتیب آنکھ، کان، پھول، پیٹ اور دانت بتا دیے جائیںتو یہ بات لغت و فرہنگ کے لحاظ سے درست ہو گی لیکن جب تک مختلف عبارتوں یا جملوں کے ذریعے ان کے استعمالات کا فرق ذہن نشین نہ کرایا جائے اوپر بتائے ہوئے معنی روز مرہ کی تحریر و تقریر میں مضحکہ خیز اور بے معنی ثابت ہو ں گے۔ طلبہ و طالبات کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ وہ جیسے ہی نئے الفاظ سیکھتے ہیں انھیں اپنی گفتگو یا تحریر میں استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اب اگر کوئی طالب علم اوپر دیے ہوئے مترادف الفاظ کی مدد سے چشم، گوش، گل، شکم اور دندان کو استعمال کرے گا تو امکان یہ ہے کہ وہ اس قسم کے جملے بنائے گا۔
۱۔ میری چشم میں کل رات سے درد ہے۔
۲۔ مولوی صاحب نے بے سبب کل میرے گوش کھینچ دیئے۔
۳۔ بچوں نے سارے گل مسل کر پھینک دیئے۔
۴۔ کھانا کھاتے ہی اس کے شکم میں دردشروع ہو گیا۔
۵۔ میرے دندان میں ٹھنڈا پانی لگتا ہے۔
یہ پانچوں جملے قواعد کی رو سے بالکل درست ہیں، فاعل، مفعول ، فعل اور ان کے متعلقات سب اپنی اپنی جگہ آئے ہیں، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ جملے نحوی اعتبار سے غلط ہیں۔ اس کے باوجود یہ جملے جس قدر مضحکہ خیز اور بے معنی ہیں، اس کی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہمارے بعض معلمین زبان کا خاص ذوق یا تدریس کا طویل تجربہ رکھنے کی وجہ سے اس قسم کے جملوں کو درست تو کر دیتے ہیں لیکن طالب علم کو عموماً یہ نکتہ نہیں بتایا جاتا کہ اُن کے استعمال میں کیا خرابی یا غلطی ہے نتیجتاً طلبہ عمر بھر الفاظ کے استعمال میں اسی قسط کی مضحکہ خیز غلطیاں کرتے ہیں، حالانکہ اگر مرادف الفاظ کے ساتھ ساتھ تدریس کے دوران میں اس قسم کی مثالوں سے:
۱۔ نورِ چشم چشم و چراغ
۲۔ گوشِ دل ہوش و گوش
۳۔ رنگِ گُل گل و بلبل
۴۔ دردِ شکم پشت و شکم
۵۔ دندان شکن لب و دنداں
یہ بھی واضح کر دیا جاتا کہ اردو میں یہ الفاظ یا فارسی عربی کے بعض دوسرے الفاظ، تنہا نہیں بلکہ کسی دوسرے عربی فارسی لفظ سے مرکب کر کے استعمال کیے جاتے ہیں تو طلبہ ہمیشہ کے لیے ان کے مضحکہ خیز استعمالات سے بچ جاتے اور آئندہ کے لیے ان کی زباندانی کی بنیاد بھی پختہ ہوجاتی۔
ان مثالوں سے یہ بات واضح کرنی تھی کہ محض مترادف بتا دینے سے الفاظ کی تفہیم کامسئلہ حل نہیں ہوتا ۔ الفاظ کے معانی اور ان کے لطیف و نازک فرق کو پوری طرح ذہن نشین کرانے کے لیے اکثر صورتوں میں مثالی جملوں یا عبارتوں سے مدد لینا ضروری ہے۔
مترادف الفاظ کے سلسلے میں دوسری بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جن لفظوں کو ہم ایک دوسرے کا مترادف سمجھتے ہیں وہ عام طور پر کلیتہً مرادف نہیں ہوتے اس لیے کہ ان کے معنی ایک جیسے نہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انھیں جملوں میں استعمال کر کے دیکھا جاتا ہے تو ان کے معنی کا لطیف و نازک فرق نمایاں ہونے لگتا ہے گویا:
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا (غالبؔ)
صاحب کیفیہ نے الفاظ کی اس پرُ فریبی کو بڑی خوش اسلوبی سے واضح کیا ہے۔ ذیل کے یہ چند الفاظ دیکھیے:
(۱) اُنس (۲) الفت (۳) محبت (۴) عشق
بظاہر ہم معنی ہیں لیکن ذیل کے جملوں سے اندازہ ہو گا کہ ان کے استعمال کے مقامات الگ الگ ہیں، اس لیے اگر انھیں آپس میں بدلا گیا تو صرف یہی نہیں کہ بعض جملے بے معنی ہو جائیں گے بلکہ وہ مضحکہ خیزی کا سبب بھی بنیں گے۔
۱۔ نئے استاد کو اپنے شاگردوں سے جلدی اُنس ہو گیا۔
۲۔ بھائیوں میں ابھی تک تو وہی الفت ہے۔
۳۔ ماں کی محبت کا جواب نہیں۔
۴۔ اسے اپنی بیوی سے عشق ہے۔
اوپر کی مثالیں عربی و فارسی الفاظ کی ہیں اس لیے ممکن ہے یہ خیال پیدا ہو کہ یہ صورت حال صرف انہی تک محدود ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ ذیل کے چند الفاظ دیکھیے۔ یہ ٹھیٹ اردو کے ہیں اور علاقائی زبانوں سے اردو میں آئے ہیں۔
(۱) دُبدا (۲) جھجک (۳) سانسا (۴) کھٹکا (۵) دھڑکا (۶) سہم (۷) ڈر
اب ان کے استعمال کی صورتوں پر غور فرمائیے ، مرادف ہونے کے باوصف ذیل کے جملوں میں انھیں ایک دوسرے سے بدلا نہیں جا سکتا۔
(۱) آپ پوچھتے ہیں کہ میں لاہور کیوں نہیں جاتا میں اس دُبدا میں ہوں کہ ادھر سے میں چل پڑا اُدھر سے وہ روانہ ہو گئے تو۔
(۲) پہلی دفعہ عام جلسے میں بولنے کا موقع ہوا تھا اس وجہ سے شروع شروع میں جھجک رہی۔
(۳) حصے تو خرید سکتا ہوں مگر مجھے سانسا اس بات کا ہے کہ یہی دو ہزار میری کل پونجی ہے۔ کل کو حصوں کی قیمت گر گئی اور روپے کی دوّنی رہ گئی تو میں کیا کروں گا۔
(۴) نوخرید مکان کی مرمت اس لیے نہیں کرائی کہ مجھے شفعہ کا کھٹکا لگا ہوا ہے، میعاد گزر جائے تو مکان میں اپنے ڈھب کا رد وبدل کروں۔
(۵) مشاعرہ تو میں اپنے ہاں کر لوں لیکن دھڑکا حضرت بغلول الشعراء کا ہے، انھیں خبر ہوئے بن رہے گی کہ نہیں اور وہ مع اپنے جزدان کے آموجود ہوں گے تو میں انھیں نکلوا سکوں گا نہیں۔
(۶) لڑکے نے امرود کی ٹہنی جھکائی ہی تھی کہ سامنے سے ماسٹر صاحب آگئے بے چارہ سہم کر گھگھیانے لگا۔
(۷) تمہیں کس کا ڈر پڑا ہے انتخاب کے لیے کھڑے ہو، میں اور میرا جتھا تمہارے ساتھ ہے۔
اوپر دی ہوئی مثالوں سے اندازہ ہوا ہو گا کہ اخذ معانی کے سلسلے میں بچوں کو صرف مرادف یا مترادف الفاظ بتا دینے سے کام نہیں چلتا۔ ہر لفظ کسی دوسرے کا مرادف یا مترادف ہونے کے باوصف، اپنی الگ معنوی حیثیت اور تاثیر رکھتا ہے۔ اس کی اس حیثیت اور تاثیر کو طلبہ پر اجاگر کر نے کے لیے ضروری ہے کہ اخذ معنی کے سلسلے میں مشاہدہ ، مثال، مرادف، مترادف اور جملہ سازی میں سے جس قسم کے وسیلے سے مفید تر نتیجہ نکل سکتا ہو اس سے مدد لی جائے یہی نہیں اس قسم کے وسیلوں پر برابر غور کیا جائے او رالفاظ کی تفہیم میں انھیں برتا جائے جب تک ایسا نہیںکیا جائے گا زبان کی تدریس کا حق ادا نہیں ہو گا۔طلبہ کو زبان کی تدریس کے دوران میں جس قسم کے الفاظ کے معنی بنانے کی اکثر ضرورت ہوتی ہے، وہ عموماً مندرجہ ذیل گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
(۱) مفرد الفاظ مثلاً ابر، بخت، کثرت، قوم اور قائد وغیرہ۔
(۲) مرکب الفاظ مثلاً اقبال مند، کند ذہن، بے باک، گل فروش اور صفدر وغیرہ۔
(۳) محاورات مثلاً آنکھ ملانا، آنکھ چرانا، آنکھ دکھانا، آنکھیں چار کرنا اور آنکھیں لڑنا وغیرہ۔
(۴) روز مرہ مثلاً آئے دن، روز روز، بلا ناغہ، ناحق اور بے وقوف وغیرہ۔
(۵) ضرب الامثال مثلاً ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا، گھرکا بھیدی لنکا ڈھائے اور دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا وغیرہ۔
(۶) تلمیحات مثلاً ید بیضا، چراغ طور، نارنمر ود وغیرہ
پہلی قسم کے الفاظ مفرد ہیں اور طلبہ کو زیادہ تر انہی سے سابقہ پڑتا ہے لیکن جب ان کے معنی ایک طریقے سے نہیں بلکہ مختلف طریقوں سے بتائے جائیں اسی وقت طلبہ کے لیے مفید مطلب ہوں گے۔ جہاں تک ہم نے غور کیا ہے ان الفاظ کے معنی بتانے کے لیے مندرجہ ذیل طریقوں سے کام لیا جا سکتا ہے۔
۱۔ بعض الفاظ مثلاً شکل، بخت اور نور وغیرہ کے معنی ان کے مرادف الفاظ یعنی صورت، قسمت اور روشنی کے ذریعے بتائے جا سکتے ہیں لیکن مناسب اور مفید یہ ہو گا کہ جملوں کے ذریعے بھی ان کی وضاحت کر دی جائے۔
۲۔ بعض الفاظ مثلاً قوم، مذہب اور امت وغیرہ کے معنی ، نہ تو مرادف الفاظ کی مدد سے سمجھائے جا سکتے ہیں، نہ ان کی تفہیم میں، مشاہدہ، مثال، ماڈل اور تصویریں زیادہ کام دے سکتی ہیں۔ ان کے اخذ معانی کا مناسب طریقہ ، جملہ سازی ہے، پہلے مثالی جملے پیش کیے جائیں، بعد ازاں طلبہ سے جملے بنوائے جائیں۔ کبھی کبھی نامکمل جملے دے کر خالی جگہوں کو ان الفاظ کی مدد سے پُر کرایا جائے اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی نشاندہی کر کے اُن کے معنی کا انھیں احساس دلایا جائے ۔ یقین ہے کہ کچھ دنوں بعد وہ ان الفاظ کی تہ تک خود بخود پہنچ جائیں گے۔
۳۔ بعض مفرد الفاظ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اگر اُن میں زیر و زبر، پیش کی معمولی تبدیلی کر دی جائے تو اُن کے معنی یکسر بدل جاتے ہیں مثلاً''ملک '' کے لفظ کو لے لیجیے اُردو میں اس کی حسب ذیل چار صورتیں مستعمل ہیں۔
۱۔ مَلِک بمعنی حاکم، جمع مُلوک
۲۔ مِلک بمعنی جائیداد جمع اِملاک
۳۔ مَلَک بمعنی فرشتہ جمع ملائک
۴۔ مُلک بمعنی مملکت جمع مُمالِک
اس قسم کے الفاظ میں سے جب کسی لفظ کے معنی بتانے مقصود ہوں تو بہتر یہ ہوگا کہ اس کے معنی میں اعراب کی تبدیلیوں میں جو فرق پیدا ہو جاتا ہے اسے بھی واضح کر دیا جائے تاکہ طلبہ ان کے استعمال اور مفہوم میں دھوکا نہ کھائیں۔
۴۔ بعض مفرد الفاظ ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً شاہین، خوبانی، گیدڑ، گلاب اور کرم کلا ان میں پہلے لفظ کا تعلق پرندوں سے دوسرے کا پھلوں سے تیسرے کا جانوروں سے چوتھے کا پھولوں سے اور پانچویں کا ترکاری سے ہے، چنانچہ ان الفاظ کے معنی بتانے مقصود ہوں تو ہمارے یہاں اس طور پر بتائے جاتے ہیں۔
۱۔ شاہین ایک قسم کا پرندہ ہے۔
۲۔ خوبانی ایک قسم کا پھل ہے۔
۳۔ گیدڑ ایک طرح کا جانور ہے۔
۴۔ گلاب ایک طرح کا پھول ہے۔
۵۔ کرم کلا ایک قسم کی ترکاری ہے۔
یہ ایک طریقۂ کار نامناسب اور غیر مفید ہے، ان الفاظ کے معنی جملوں میں استعمال کے ذریعے بتائے ہی نہیں جا سکتے۔ جب تک کوئی شخص کسی خاص لفظ کی مدد سے اس چیز کی شناخت نہ کر سکے جس کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا ہے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ استعمال کرنے والا، اس لفظ کے معنی نہیں سمجھتا اوپر کے جملوں کی یہی کیفیت ہے ۔ ان کی مدد سے معنی کا صحیح تصور دلانا نا ممکن ہی نہیں ہے اس قسم کے الفاظ کی تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ اصل چیزیں طلبہ کے مشاہدے میں لائی جائیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتو ان چیزوں کے ماڈل یا تصاویر بنا کر دکھائی جائیں۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم ہر لفظ کے معنی کے سلسلے میں اس چیز کی ظاہری و معنوی خصوصیات اتنی وضاحت سے بتائی جائیں کہ بچے کا ذہن کسی نہ کسی حد تک لفظ کے اصل معنی تک پہنچ جائے اور وہ اسے ذہن میں محفوظ رکھ سکے۔
۵۔ بعض مفرد الفاظ خصوصاً مصدر اور حاصل مصدر کے معنی، نہ تو مرادف الفاظ کے ذریعے واضح کیے جا سکتے ہیں نہ ان کی وضاحت میں ماڈل یا تصویریں کچھ زیادہ معاون ہو سکتی ہیں، ان کی تفہیم میں مشاہدہ ، تجربہ اور عمل سے کام لینا ضروری ہے، مثلاً ٹہلنا اور دوڑنا یا مسکراہٹ اور قہقہہ کے معانی، جملوں یا تصویروں کی بجائے، حرکات و سکنات کے ذریعے زیادہ آسانی سے ذہن نشین کرائے جا سکتے ہیں۔
۶۔ بعض الفاظ ایسے ہیں کہ انھیں مفرد استعمال کرنے سے جو معنی پیدا ہوتے ہیں وہ مرکب کی صورت میں بدل جاتے ہیں۔ مثلاً غریب کے لفظ پر غور کیجیے یہ لفظ عربی سے اردو میں آیا ہے اور مفرد استعمال کی صورت میں اپنے اصل معنی کو کھو بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس کو تنہا استعمال کریں گے تو اس کے معنی اجنبی کی بجائے ''نادار (Poor) کے ہوں گے لیکن جب اسے کہیں دوسرے لفظ کے ساتھ ''غریب الدیار'' یا ''غریب الوطن'' کی صورت میں استعمال کریں گے تو اس کے اصلی معنی ہی لیے جائیں گے ۔ اردو کے معلم کو حسب ضرورت اس قسم کے معنوی فرق کو جملوں کے ذریعے طلبہ پر واضح کر دینا چاہیے۔
۷۔ بعض مفرد الفاظ جن کا تعلق عموماً اسم کیفیات سے ہوتا ہے بظاہر ایک دوسرے کے مرادف یا مترادف نظر آتے ہیں لیکن ہر جگہ اُن کا استعمال مناسب نہ ہوگا۔ مثلاً ذیل کے الفاظ پر نظر ڈالیے:
(۱) آب (۲) دمک (۳) ڈلک (۴) چمک
ہم معنی ہونے کے باوجود مخصوص الفاظ کے ساتھ جملوں میں استعمال کیے جائیں گے۔ ''آب'' کو پانی یا تلوار کے ساتھ ، ''دمک'' کو کندن اور پیشانی کے ساتھ ''ڈلک'' کو ہیرے کے ساتھ اور ''چمک '' کو چاند یا ستاروں کے ساتھ استعمال کرنا ہی درست اور فصیح ہو گا۔ اس کے برعکس عمل کی جائے گا تو بلحاظ قواعد، عبارت درست ہو گی، لیکن روز مرہ اور فصاحت کے لحاظ سے بعض جگہ ان الفاظ کا استعمال غلط اور بعض جگہ بھونڈا ہوجائے گا۔
یہی حال ہے بھبھک ، لہٹ اور مہک کاہے ۔ بھبھک کا استعمال بو کے ساتھ، لپٹ کا عطر کے ساتھ اور مہک کا پھولوں کے ساتھ مناسب اور فصیح ہو جائے گا۔
۸۔ بعض مفرد الفاظ، ایک ہی جنس یا ایک ہی قسم کی بہت سی چیزوں کے ناموں پر حاوی ہوتے ہیں۔ مثلاً پھل، ترکاری اور اوزار وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ کی تفہیم کے لیے مناسب یہ ہو گا کہ اُس جنس کی مختلف چیزیں جمع کر کے ایک ساتھ دکھائی جائیں یا ان کے ماڈل اور تصویریں دکھائی جائیں مثلاً ''پھل'' کے معنی سمجھانے کے لیے سیب، انار، انگور اور سنترہ وغیرہ دکھا کر بتایا جائے کہ یہ سب پھل کہلاتے ہیں۔
۹۔ بعض مفرد الفاظ کے مرادف بتانے کے بجائے اگر اسی معنی کے دوسرے الفاظ کا استعمال کیاجائے اور جملہ سازی کے ذریعے ان کی مشق کرا دی جائے تو الفاظ کے معنی آسانی سے واضح ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ظلم، لطف اور عافیت وغیرہ کے معنی ذہن نشین کرانے کے لیے اس قسم کے جملے زیادہ کار آمد ہو سکتے ہیں۔
۱۔ رعایا پر ظلم و ستم کرنے والا حاکم ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے میں امتحان میں کامیاب ہو گیا۔
۳۔ والد صاحب کی خیر وعافیت دو ہفتے سے نہیں معلوم ہوئی۔
۱۰۔ بعض مفرد الفاظ کے معنی بظاہر ایک ہی ہوتے ہیں لیکن مختلف چیزوں کے ساتھ جب ان کا استعمال کیا جاتا ہے تو ان کے معنی بعض موقعوں پر تضاد کی حد تک بدل جاتے ہیں، مثال کے طور پر ان جملوں میں:
(الف) یہ آدمی بہت چالاک ہے۔
(ب) گھوڑا ایک چالاک جانور ہے۔
لفظ چالاک کو لے لیجیے۔ اس کا استعمال کسی آدمی کے ساتھ کیا جائے گا تو برائی کے معنی میں سمجھا جائے گا اور اگر گھوڑے کے لیے استعمال ہو تو خوبی کے معنی میں تصور کیا جائے گا۔ بہتر یہ ہو گا کہ الفاظ کے استعمال کی ان مختلف النوع صورتوں کو طلبہ پر واضح کر دیا جائے ورنہ معنی جاننے کے باوجود وہ ان کے استعمال میں غلطی کریں گے۔
۱۱۔ بعض مفرد الفاظ کا تعلق کسی قسم کی آواز سے ہوتا ہے مثلاً (الف)دھاڑنا، چنگھاڑنا، ہنہنانا، بھونکنا اور بلبلانا وغیرہ
(ب)گرج، ٹاپ، تھاپ، ٹن ٹن اور کھٹر کھٹر وغیرہ
(س) کائیں کائیں، کٹر کٹر، بھن بھن، چوں چوں اور چٹ چٹ وغیرہ
شق الف کی آوازوں کا تعلق جانوروں سے ہے، ب کا تعلق اشیاء سے ہے اور س کا تعلق پرندوں سے ہے۔ ظاہر ہے کہ ان آوازوں کی تفہیم مرادف الفاظ کے ذریعے نہیں کرائی جا سکتی۔ اس لیے ہر جانور، ہر شے اور ہر پرندے کے تعلق سے الگ الگ اس قسم کے جملے بنا کر دکھانے اور بنوانے ضروری ہوں گے۔
(الف) ۱۔شیر دھاڑتا ہے۔
۲۔ہاتھی چنگھاڑتا ہے۔
۳۔گھوڑا ہنہناتا ہے۔
(ب) ۱۔بادل کی گرج سے بعض بچے ڈر جاتے ہیں۔
۲۔گھوڑے کی ٹاپ سُن کر سپاہی چوکنے ہو گئے۔
۳۔طبلے کی تھاپ سنتے ہی سونے والے جاگ اٹھے۔
(س) ۱۔کوؤں کی کائیں کائیں بعض وقت بڑی نا گوار گزرتی ہے۔
۲۔مرغیاں ہر وقت کُڑ کُڑ کرتی رہتی ہیں۔
۳۔مکھیوں کی بھن بھن سے بڑی الجھن محسوس ہوتی ہے۔
لیکن اس قسم کے جملوں پر کلیتہً بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، یہ الفاظ ایسے ہیں کہ اپنی تفہیم کے لیے مشاہدے اور تجربے کا عمل چاہتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے جو آوازیں طلبہ کے مشاہدے یا تجربے میں آ چکی ہیں، ان کے مفہوم تک وہ پہنچ جائیں گے لیکن جن آوازوں سے انھیں کبھی واسطہ نہیں رہا ۔ محض جملہ سازی کے ذریعے ان کی رسائی اصل معنی تک نہیں ہو سکتی۔ اس لیے مناسب یہ ہو گا کہ مختلف قسم کے جانوروں ، پرندوں اور اشیاء کی آوازوں کا صحیح تصور لانے کے لیے طلبہ کو ان کی آوازیں سنوانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ بندر اور سانپ کا تماشا دکھانے والوں کی طرح بعض لوگ مختلف قسم کے جانوروں اور پرندوں کی آوازیں نکالنے میں بھی خاص مہارت رکھتے ہیں اور آوازوں کا تماشا دکھا کر روزی کماتے ہیں۔ اگر اس قسم کے تماشا دکھانے والوں کو کبھی کبھی مدرسے میں بلایا جائے تو طلبہ کے لیے دلچسپ تعلیمی مشغلہ مہیا ہو جائے گا اور طلبہ اس قسم کی آوازوں سے بہت جلد آشنا ہو جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ طلبہ کو کبھی کبھی اس قسم کے چڑیا گھروں کی سیر کرائی جائے جس میں مختلف قسم کے پرندوں اور جانوروں کی آوازیں سننے کا انھیں موقع مل سکے۔
۱۲۔ کچھ مفرد الفاظ، جو اسم جمع کے طو رپر بولے جاتے ہیں بظاہر ہم معنی ہوتے ہیں اور اردو کے معلمین ان کے مرادف بتا کر آگے بڑھ جاتے ہیں، یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔ اسم جمع کے بہت سے الفاظ بظاہر ہم معنی یا مرادف ہونے کے باوجود اپنے اپنے استعمال میں مخصوص ہیں اور انھیں کسی اور جگہ استعمال کرنا غلطی ہو گی۔ مثلاً یہ الفاظ:
(۱) جماعت (۲) حلقہ (۳) بھیڑ (۴) دستہ (۵)د ل (۶) ٹولی
اس کے معنی سمجھانے کے لیے حسب ذیل انداز کے جملے بنا کر دکھا نے اور طلبہ سے بنوانے ضروری ہیں۔
۱۔ طلبہ کی ایک جماعت لاہور سے کراچی آئی ہوئی ہے۔
۲۔شاہ صاحب کے مریدوں کا حلقہ بہت بڑا ہے۔
۳۔میلے میں اتنی بھیڑ تھی کہ نکلنا مشکل تھا۔
۴۔پاکستانی سواروں کادستہ آگے بڑھا تو دشمن کے سپاہی بھاگ نکلے۔
۵۔ٹڈی دل سے اس سال فصلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔
۶۔بدمعاشوں کی ٹولی نے سارے محلے کو پریشان کر رکھا ہے۔
۱۳۔ بعض الفاظ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کی تفہیم کے وقت اسی قبیل کے دوسرے الفاظ بھی بتا دیئے جائیں تو درس سے طلبہ کی دلچسپی بھی بڑھ جائے گی اور ان کے ذخیرۂ الفاظ میں توسیع بھی ہوتی رہے گی۔ مثلاً جس وقت طلبہ کویہ بات بتائی جائے کہ بکری کے بچے کو ''میمنا'' کہتے ہیں۔ اسی وقت بعض دوسرے جانوروں اور پرندوں کے بچوں کے ناموں کی نشاندہی بھی ضمناً شامل کر لی جائے اور مثالاً واضح کر دیا جائے کہ کتے کے بچے کو پِلّا، مرغی کے بچے کو چوزہ اور ہرن کے بچے کو چکارا کہتے ہیں۔
۱۴۔ بعض مفرد الفاظ کئی کئی معنی رکھتے ہیں اور مختلف موقعوں پر مختلف معنوں میں استعمال کیے جاتے ہیں مثلاً چاک اور حق وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ کے معنی کی تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ ان کے جتنے معنی ممکن ہو سکتے ہیں جملوں کے ذریعے حسب ذیل طریقے سے سب واضح کر دیے جائیں۔
(الف)۱۔کمہار اپنے چاک پر برتن بنا رہا ہے۔
۲۔کانٹے سے الجھ کر اس کا دامن چاک چاک ہو گیا۔
۳۔تختہ سیاہ پر سفید چاک سے لکھنا بہتر ہے۔
(ب) ۱۔حق بات کہنے میں کبھی پس و پیش نہ کرنا چاہیے۔
۲۔باپ کی جائیداد میں سارے بیٹے بیٹیوں کا حق ہوتا ہے۔
۳۔دعا کیجیے کہ حق تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔
اس سے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ اس قسم کے الفاظ جب دوسرے معنوں میں کسی اور جگہ آئیں گے تو معلم کو دوبارہ ان کے تفہیم کی زحمت نہ اٹھانی پڑے گی۔ دوسرے یہ کہ اس طریقہ کار سے طلبہ اپنے اندر ایک قسم کا تجسس، حیرت اور خوشی کی لہر محسوس کریں گے اور یہی لہر ایک دن ان میں زبان اور زبان کے مسائل سے گہری دلچسپی پیدا کر دے کی۔
۱۵۔ بعض مفرد الفاظ کے معنی ذہن نشین کرانے میں مرادف سے زیادہ ان کے متضاد الفاظ معاون ہو سکتے ہیں مثلاً عالم کے معنی جاہل کی مدد سے اور تیرگی کے معنی، روشنی کی مدد سے واضح کیے جا سکتے ہیں۔
۱۶۔ بعض مفرد الفاظ مثلاً دست، دندان اور گوش وغیرہ کی تفہیم میں صرف مرادف الفاظ بتا دینے سے کام نہیں چلے گا، جیسا کہ ابتدائی سطور میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کے استعمال کی مناسب مشق نہ کرائی گئی تو ، طلبہ اپنی تحریر یا تقریر میں ان الفاظ کا صحیح مصرف نہ کر سکیں کے۔ ان کے مرادف علی الترتیب، ہاتھ، دانت اور کان ضرور بتائے جائیں۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ضرور بتایا جائے کہ یہ الفاظ اور اس طرح کے بعض دوسرے الفاظ تنہا نہیں بلکہ عموماً عربی فارسی کے کسی دوسرے لفظ سے مرکب کر کے استعمال کیے جاتے ہیں جیسا کہ ذیل کی مثالوں سے ظاہر ہے۔
(الف) آج کل میں بے دست و پا ہوں۔
(ب) حامد نے محمود کو دندان شکن جواب دیا۔
(س) بڑوں کی بات گوشِ دل سے سنو اور عمل کرو۔
اس قسم کے الفاظ کا تعلق اگر ثانوی مدرسوں کے بڑی جماعتوں کے نصاب سے ہو تو مناسب یہ ہو گا کہ جملہ سازی کے ساتھ ساتھ انہی کی کتابوں سے یا کہیں اور سے ان الفاظ کے سلسلہ میں ممتاز ادیبوں اور شاعروں کے مثالی جملے، مصرعے یا اشعار بھی پیش کر دیئے جائیں تاکہ ان میں زبان و ادب کے مطالعے کا شوق تیز تر ہو جائے۔ مثلاً نویں دسویں جماعت کے طلبا کو اوپر دیئے ہوئے الفاظ کے متعلق یہ مصرعے سنائے جا سکتے ہیں۔
(الف) گدا دست ِاہل کرم دیکھتے ہیں (غالبؔ)
(ب) کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا (غالبؔ)
(س) میری سنو جو گوش حقیقت نیوش ہے (غالبؔ)
۱۷۔ اب تک جن الفاظ کے معنی سمجھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا ہے وہ اسم یا فعل سے تعلق رکھتے ہیں، اگر ''حرف'' اور اس کی اقسام کے تحت آنے والے الفاظ مثلاً پر۔ کو۔سے۔ میں لیکن: اِلّا۔ مگر،بلکہ۔جُز وغیرہ کے معنی سمجھنا مقصود ہو تو جملہ سازی کے سوا اور کوئی طریقہ کار مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مفید ہو گا کہ متعدد نا مکمل جملے لکھ دیئے جائیں اور طلبہ سے کہا جائے کہ وہ حروف کی مدد سے انھیں مکمل کریں۔ اس قسم کی مشق سے وہ بہت جلد حروف کے استعمال پر قابو پا جائیں گے اس لیے کہ ہمارے یہاں روز مرہ کی تقریر و تحریر میں جو حروف استعمال ہوتے ہیں اُن کی تعداد ، اسم اور فعل یا صفت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔
مفردالفاظ کے معنی کی تفہیم کے سلسلے میں جو مفید صورتیں سمجھ میں آئی ہیں۔ وہ اوپر درج کر دی گئی ہیں۔ اردو کے معلمین حسب ضرورت ان سے مدد لے سکتے ہیں، لیکن تفہیم معنی کی یہ صورتیں، مسئلے کے حل میں حرف آخر کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ذہین، محنتی، لائق اور زبان سے گہری دلچسپی رکھنے والے استاد اس سلسلے میں نئی راہیں نکال سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اردو کے معلمین اپنی ذاتی اُپج ، معلومات اور تجربات و مشاہدات کی مدد سے اخذ معانی کے وسائل میں اضافہ کریں گے۔
مرکبات
مرکبات جمع ہے مرکب کی اور مرکب کے معنی ہیں ترکیب دیا ہوا۔ اس جگہ مرکب سے مراد ایسا لفظ ہے جس میں دو لفظ اس طرح مل گئے ہوں، یا ملا دیئے گئے ہوں کہ ان سے ایک ہی معنی لیے جاتے ہوں۔ اردو میں استعمال ہونے والے مرکب الفاظ عموماً دو طرح کے ہیں۔
(الف)ایسے مرکب الفاظ جو دو مختلف مفرد لفظوں سے مل کر بنتے ہیں لیکن اس انداز سے کہ ہم ان کے اجزاء کو انفرادی حیثیت سے بھی بآسانی شناخت کر سکتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ان مرکبات میں دو لفظ معنوی طو ر پر ایک ہو کر بھی ظاہر صورت میں الگ الگ رہتے ہیں۔ ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ دونوں الفاظ الگ الگ با معنی ہوتے ہیں اور اردو میں مفرد بھی استعمال ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان الفاظ کے درمیان قواعد یا گرامر کا کوئی واضح رشتہ نہیں ہوتا بلکہ زبان کا صحیح ذوق، موقع محل کے لحاظ سے، ان میں ایک مخصوص رشتہ تلاش کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مرکبات کبھی اسم فاعل، کبھی اسم مفعول اور کبھی اسم صفت کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس قسم کے مرکبات میں جو دو لفظ شامل ہوتے ہیں، وہ ٹھیٹ اردو یا ہندی کے بھی ہو سکتے ہیں، عربی کے بھی ہو سکتے ہیں، فارسی اور ترکی کے بھی ہو سکتے ہیں اور باہم ایک دوسرے سے مخلوط بھی۔ اردو میں ہر قسم کے دو لفظوں سے بنے ہوئے مرکبات مستعمل ہیں۔ ذیل کے الفاظ دیکھیے:
۱۔ اندھیر کھاتا،رام لیلا، جنم پترا، چڑی مار، نیبو نچوڑ، مکھی چوس، دیا سلائی، بھاگ دوڑ، بھلے مانس، ان داتا، کرن پھول، راجپوت، راج ہٹ، سر چڑھا، منہ لگا، بن باسی، بن مانس، جوڑ توڑ، بھلا چنگا، چاند گرہن، چاند رات، گئو ہتھیا، نین سکھ۔ بیل گاڑی، ہٹ دھرم، ٹھک بدیا، آکاش بیل وغیرہ صرف دو ہندی لفظوں کے ملاپ سے بنے ہیں۔
۲۔ برق رفتار،شہر بدر، تنگ دست، آہو چشم، بیدار مغز، مینا بازار، موم روغن، گل روغن، سرخاب، تند خو، آب و ہوا، زبان دراز، گل دم، شہرپناہ، شادی مرگ وغیرہ صرف دو دو فارسی الفاظ سے مرکب ہیں۔
۳۔ عمر قید، بقرعید، جمعہ مسجد، عالی شان، عالی ظرف، صاحب ذوق، صاحب جمال، خیر مقدم، صاحب سلاست، عالی نسب، غریب صورت، کاہل وجود، وعدہ خلاف، قبول صورت، حاصل مصدر، صدر مقام، طفل تسلی وغیرہ میں دونوں لفظ عربی زبان کے ہیں۔
۴۔ نیک چلن، گلاب جامن، گھڑ سوار، تار گھر، جگت استاد، سبزی منڈی، چور دروازہ ، کوڑ مغز، تاڑی خانہ، منہ زور، موم پھلی وغیرہ میں ایک لفظ ہندی کا ہے اور ایک فارسی کا۔
۵۔ امام باڑہ، بارہ وفات، بال صفا، عجائب گھر، جیب گھڑی، کفن چور، چور محل، عمر پٹہ، عید ملن، موتی محل، موتی مسجد وغیرہ عربی اور ہندی الفاظ کے ملاپ سے وجود میں آئے ہیں۔
۶۔ فاقہ مست، گل عذار، کورباطن، تنک مزاج ، تنگ نظر، پاک طینت، عالی خاندان، فراخ حوصلہ ، سبز قدم، نازک خیال ، نمک حرام، نمک حلال، زن مرید، نازک طبع ، درد شریک، فضول خرچ، شرما حضوری، غرض آشنا، دستخط ، صاحب دل، حرام مغز وغیرہ میں ایک لفظ عربی کا ہے دوسرا فارسی کا۔
۷۔ ریل گاڑی، جیل خانہ، اردو بازار، اردو محل، قورمہ پلائو، باورچی خانہ، قرق امین، مرغ پلائو وغیرہ ایسے مرکبات ہیں جن میں فارسی ، عربی اور ہندی کے ساتھ ترکی اور انگریزی کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔
مرکب کی جو تعریف و تشریح کی گئی ہے، یہ مثالیں عین اس کے مطابق ہیں۔ ان میں آپ کو عربی، فارسی اور ہندی ہر قسم کے الفاظ کے مخلوط وغیرمخلوط ایسے جوڑے مل جائیں گے جن میں دو مفرد لفظوں نے باہم مل کر جدا گانہ لفظ کی صورت اختیار کر لی ہے لیکن ہر لفظ مفرد بھی اردو میں مستعمل ہے۔ ان لفظوں کے درمیان کوئی اصولی رشتہ بھی نہیں، پھر بھی ہمارا ذوق، تجربہ، قیاس اور ماحول ہمیں ان کے درمیان ایک خاص قسم کے رشتے اور رشتے کے ساتھ خاص معنی کا احساس دلاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کے معلمین ، تدریس کے وقت ان کی بناوٹ کی طرف طلبہ کی توجہ مبذول کرائیںاور الفاظ سازی کے اس دلچسپ طریقہ کار کا احساس دلائیں جس کے ذریعے طلبہ آگے چل کر اپنی ضرورت کے مطابق الفاظ ڈھال سکیں یا جب اس انداز کے دوسرے الفاظ ان کے سامنے آئیں تو وہ ان کے معانی متعین کر سکیں۔ اوپر جو مرکب الفاظ دیئے گئے ہیں، وہ مفرد لفظوں کے معانی کے لحاظ سے مشکل نہیں ہیں۔ بیشتر طلبہ ان الفاظ کے معانی سے واقف ہوں گے۔ اس لیے معانی سے کہیں زیادہ الفاظ کی بناوٹ اور الفاظ کا درمیانی رشتہ ان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ اگر وہ ان کی بناوٹ اور رشتے کو سمجھ گئے تو ان کے استعمال میں غلطی نہ کریں گے۔
اس قسم کے مرکبات کے تحت بہت سے ایسے مرکبات بھی آتے ہیں جن میں دو کلمے یا دو لفظ پورے پورے نہیں آتے بلکہ ان میں سے کسی ایک لفظ میں کچھ کمی بیشی کر دی جاتی ہے مثلاً اس جملے کو دیکھیے۔
لڑکوں نے کتے کو مار مار کر ادھ مرا کر دیا
''ادھ مرا'' بناوٹ کے لحاظ سے اسی طرح کا مرکب ہے جس طرح کے مرکب کی مثالیں اوپر دی گئی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اس میں دونوں جزو یا لفظ پورے پورے نہیں ہیں۔ بلکہ ایک جزو''آدھا'' کو ''ادھ'' کر لیا گیا ہے ۔ اخذ معنی کے وقت اگر طلبہ کی توجہ اس تبدیلی کی طرف مبذول کرائی جائے اور نامکمل جزو کو مکمل کر کے ان کے سامنے دونوں لفظ رکھ دیئے جائیں، تو انھیں ان کے معنی اور ان کی شناخت دونوں کو ذہن نشین کرنے میں سہولت ہو جائے گی۔ اردو میں اس طرح کے مرکبات ایک دو نہیں ، بہت سے ہیں۔ چند الفاظ دیکھیے:
۱۔ ادھ موا (آدھا+موا)، ادھ کچرا (آدھا+کچرا)، آمرس (آم+رس)
۲۔ بگ ٹٹ (باگ+ٹوٹ)، بھلے مانس (بھال +مانس)
۳۔ ترنگا (تین +رنگ )، تکونا (تین +کون)، پچرنگ (پانچ+ رنگ)، پچکون (پانچ +کون)
۴۔ پن چکی (پانی+چکی)، پن گھٹ (پانی+گھاٹ) ، پھلجھڑی (پھول+جھڑی)
۵۔ چڑی مار (چڑیا+مار)، مکھی مار (مکھی+مار)، تیس مار (تیس+مار)
۶۔ کنٹوپ (کان+ٹوپ)، کن کٹا(کان +کٹا)
۷۔ گھڑ دوڑ (گھوڑا+دوڑ)، گھڑ سوار(گھوڑا+سوار)، گھڑمنہ (گھوڑا+منہ)
۸۔ نکٹا (ناک +کٹا)، نک چڑھا (ناک+چڑھا)
۹۔ ہتھکڑی (ہاتھ+کڑی)، ہتھ چھٹ(ہاتھ +چھٹ)
ان الفاظ کی تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ لفظ کے نامکمل جزو کو مکمل کر کے تختہ سیاہ پر اس طرح پیش کیا جائے، جیسے اوپر قوسین کے اندر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سے صرف یہی نہیں کہ معنی کی تہ تک پہنچنے میں طلبہ کو آسانی ہو جائے گی بلکہ بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ان میں الفاظ سازی اور الفاظ کی تحقیق کا شوق پیدا ہو گا ساتھ ہی وہ اس نکتے تک بھی پہنچ جائیں گے کہ کسی مرکب لفظ میں کوئی خاص معنی کیونکر پیدا ہو جاتے ہیں۔
جس قسم کے مرکبات کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، ان میں ایک خاص طرح کے مرکبات اور بھی شامل ہیں۔ ان میں دو لفظوں میں سے چونکہ صرف ایک لفظ معنی دیتا ہے اور دوسرا بظاہر بے معنی ہوتا ہے، اس لیے وہ پہلے لفظ کا تابع کہلاتاہے مثلاً:
۱۔ پانی وانی، روٹی ووٹی، کھانا وانا
۲۔ بات چیت، دوڑ دھوپ، سودا سلف، دانہ دنکا
۳۔ ٹھیک ٹھاک، ٹال مٹول، ڈیل ڈول، لوگ باگ
۴۔ آس پاس، ادلا بدلا، آمنے سامنے
پہلے تین گروہوں کے مرکبات کا دوسرا لفظ بے معنی یا پہلے لفط کا تابع ہے۔ چوتھے گروہ کے مرکبات کا پہلا جزو بے معنی یا دوسرے لفظ کا تابع ہے۔ اس طرح ان میں صرف ایک لفظ مستقل اور بامعنی ہے اور دوسرا جزو بے معنی لیکن یہ بے معنی جزو، معنی دار لفظ سے مل کر ایک نئے معنی کو جنم دیتا ہے۔ جو بامعنی لفظ کے اصل معنی پر اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ تدریس کے دوران جہاں کہیں اس قسم کے مرکبات آئیں ان کی تفہیم کے وقت بہتر یہ ہوگا کہ اس قبیل کے چند اور مرکبات طلبہ کے سامنے پیش کر دیئے جائیں اور انھیں اس نکتے کی طرف توجہ دلائی جائے کہ روزمرہ کی گفتگو میں ایک معنی دار لفظ کو کس طرح الٹ پلٹ کر بے معنی بنا لیا جاتا ہے اور پھر وہ ایک معنی دار لفظ کے ساتھ نتھی ہو کر کس طرح ایک نیا معنی دار لفظ بن جاتا ہے دو چار لفظوں کی وضاحت کے بعد طلبہ اس قسم کے مرکبات کی تخلیق اور ان کے معانی کا ادراک خود ہی بڑی آسانی سے کر لیں گے اور مہمل الفاظ کے معانی تلاش کرنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں کے۔
(ب) دوسری قسم کے مرکبات وہ ہیں جن میں کسی با معنی لفظ سے پہلے یا بعد میں کوئی دوسرا لفظ، یا لفظ کا جزو، کوئی علامت، یا کوئی حرف زائد کر دیا جاتا ہے۔ یہ زائد لفظ یا جزو کبھی کبھی معنی دار ہوتا ہے لیکن اکثر صورتوں میں بے معنی یعنی اردو میں تنہا یہ لفظ یا جزو نہ استعمال ہوتا ہے نہ تنہا کوئی معنی دیتا ہے۔ با معنی الفاظ سے پہلے آنے والے الفاظ یا اجزاء قواعد میں ''سابقے'' اور الفاظ کے بعد آنے والے اجزاء ''لاحقے'' کہلاتے ہیں۔ ذیل کے چند الفاظ دیکھیے:
(۱)پُر: پُر مغز، پر جوش، پر درد، پر لطف، پر اثر۔
(۲)خوش: خوش رنگ، خوش مزاج، خوش دل، خوش حال، خوش ذائقہ۔
(۳) صاحب: صاحب اختیار، صاحب جمال، صاحب عقل، صاحب شعور، صاحب دل، صاحب خانہ۔
(۴) خلاف: خلاف عقل، خلاف مزاج،خلاف شرع، خلاف مرضی، خلاف امید، خلاف توقع۔
(۵)کم: کم زور، کم عقل، کم نظر، کم اصل۔
(۶)خوب: خوب صورت، خوب رو، خوب شکل۔
(۷) اہل: اہل دل، اہل فن، اہل کمال، اہل نظر، اہل علم۔
(۸)پاک: پاک طینت ، پاک سیرت، پاک دامن۔
(۹)میر: میر منشی، میر کارواں، میر مطبخ، میر آتش۔
(۱۰)نیک: نیک طبیعت، نیک مزاج، نیک دل۔
(۱۱)مہا: مہا دیو، مہاجن، مہا بھارت، مہابلی۔
(۱۲)تنگ: تنگ نظر، تنگ دل۔
ان میں اصل لفظ سے پہلے جو سابقے استعمال کیے گئے ہیں ان میں سے تقریباً سبھی با معنی مفرد الفاظ ہیں اور اردو میں تنہا بھی مستعمل ہیں۔ صرف یہ کہ دوسرے با معنی الفاظ سے مل کر انھوں نے ایک نئے معنی کو جنم دیا ہے۔ ان کی تفہیم کے وقت اگر مرکب کے دونوں اجزاء کو الگ الگ کر کے طلبہ کو دکھایا جائے اور ہر جزو کے معنی واضح کر دیئے جائیں تو اکثر طلبہ مرکبات کے اصل معنی تک خود بخود پہنچ جائیں گے۔
اب مندرجہ ذیل مرکبات پر نظر ڈالیے:
(۱) الف (کلمہ نفی): اچل (ا+چل، چلناسے)۔ اٹل (ا+ٹل، ٹلنا سے)۔ امر (ا+مر، مرنا سے)۔
(۲)ان۔(کلمہ نفی): ان بن (ان +بن، بننا سے)۔ انجان (ان+ جان، جاننا سے)۔ ان پڑھ (ان +پڑھ، پڑھنا سے)۔ ان تھک (ان+تھک، تھکنا سے)۔ ان مول(ان+مول، بمعنی قیمت)۔
(۳)بے(کلمہ نفی): بے پروا، بے عقل، بے بس، بے بھائو وغیرہ۔
(۴) لا (کلمہ نفی): لامذہب، لا ابالی، لا وارث، لاچار، لا علم، لا حاصل وغیرہ۔
(۵) نا(کلمہ نفی): ناحق، ناوقت ، نااہل، نالائق ، ناراضی، نا امید، نافرمان وغیرہ۔
(۶) غیر(کلمہ نفی): غیر حاضر، غیر ممکن، غیر آباد، غیر موزوں وغیرہ۔
ان مرکبات کے ابتدائی جزو یعنی سابقے اردو میں مفرد الفاظ کی حیثیت سے استعمال نہیں کیے جاتے لیکن دوسرے لفظ سے مل کر یہ اصل لفظ کو معنی کے اعتبار سے بالکل الٹ دیتے ہیں۔ ایسے مرکبات کے معنی بتاتے وقت، اگر بطور لاحقہ استعمال ہونے والے اجزا کو الگ کر کے دکھا دیا جائے، نیز یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ یہ الفاظ جن الفاظ سے پہلے آتے ہیں، ان کے معانی کی نفی کر دیتے ہیں تو طلبہ اس قسم کے مرکبات کی روح تک بآسانی پہنچ جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر نئے الفاظ بھی تراش لیں گے لیکن ان کے محل استعمال کو سمجھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہو گا کہ ان الفاظ کو جملوں اور عبارتوں میں استعمال کرنے کی مشق کرائی جائے، ورنہ معانی جاننے کے باوجود غلطی کا امکان باقی رہے گا۔
سابقوں سے بننے والے مرکبات کی چند مثالیں اور دیکھیے:
۱۔ با: با وصف، باوجود، باخبر، با اثر وغیرہ۔
۲۔باز: باز پرس، بازگشت، بازخواہ، باز دعوٰی وغیرہ۔
۳۔پس: پس انداز، پس ماندہ، پس خوردہ ، پس پا وغیرہ۔
۴۔پیش: پیش بندی ، پیش قدمی، پیش خیمہ، پیش کار وغیرہ۔
۵۔زود: زود ہضم، زود نویس، زود آشنا، زود اثر وغیرہ۔
۶۔ذی: ذی قدر، ذی جاہ، ذی شان، ذی شعور، ذی فہم وغیرہ۔
۷۔خود: خود نما، خود پسند، خود رائے، خود پرست وغیرہ۔
۸۔در: درپردہ، درمیان، درپیش، درانداز، درخواست وغیرہ۔
۹۔شہ: شہ زور، شہ ناز، شہ سوار، شہتوت، شہ رگ وغیرہ۔
۱۰۔ سر: سرگرم، سر بلند، سر زنش، سرحد، سرسبز وغیرہ۔
۱۱۔زیر: زیر دست، زیر بار، زیرلب، زیر نگین وغیرہ۔
۱۲۔نیم: نیم باز، نیم حکیم، نیم ملا، نیم جان، نیم راضی، نیم بسمل وغیرہ۔
۱۳۔نو: نو آباد، نوجوان، نو آموز، نووارد، نونہال وغیرہ۔
۱۴۔ہم: ہم آغوش، ہم رنگ، ہم نام، ہم جماعت ، ہم پلہ وغیرہ
۱۵۔یک: یک رنگ، یک لخت، یکتا، یک شنبہ، یک جہتی وغیرہ۔
اس قسم کے مرکبات کی تدریس کے وقت مناسب ہو گا کہ جملہ سازی کے ساتھ ساتھ الفاظ سازی سے بھی مدد لی جائے، اس لیے کہ اس قسم کے بیشتر مرکبات کے معنی جملے کے ذریعے واضح نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ ''ہم نام'' کے معانی سمجھاتے وقت صرف اس انداز کا جملہ:
''حامد میرا ہم نام ہے''
پیش کر دینے سے کوئی مفید نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اگر جملوں ہی کے ذریعے اس قسم کے معنی واضح کرنے ہوں تو پھر حسب ذیل انداز کے جملے بنائے جائیں۔
۱۔ میرا نام بھی محمود ہے۔
۲۔ آپ کا نام بھی محمود علی ہے۔
۳۔ یعنی میں اور آپ ہم نام ہیں۔
لیکن سب سے اچھا طریقہ یہ ہو گا کہ اس قسم کے مرکبات کی تفہیم کے وقت سابقوں کی مدد سے اسی نوعیت کے متعدد الفاظ بنا کر دکھائے جائیں اور طلبہ سے بنوائے جائیں، نیز مرکب کے دونوں اجزا کو الگ الگ تختہ سیاہ پر واضح کیا جائے اور ان کے ربط سے پیدا ہونے والے معانی کا احساس دلایا جائے۔ اس میں استاد کو زیادہ زحمت نہیں کرنی پڑے گی بلکہ طلبہ چند مثالوں کے بعد خود بہت سے مرکبات بنا لیں گے اور اس طرح سے دوسرے مرکبات کا مفہوم خود ہی اخذ کر لیں گے۔
اوپر جس قسم کے مرکب الفاظ کی مثالیں دی گئی ہیں وہ سابقوں کی مدد سے یعنی اصل لفظ سے پہلے کسی لفظ یا علامت کا اضافہ کر کے بنائے گئے ہیں لیکن بے شمار مرکبات ایسے بھی ہیں جو لاحقوں کی مدد سے یعنی اصل لفظ کے بعد کوئی لفظ یا علامت کے اضافے سے وجود میں آتے ہیں۔ یہ بھی اپنی بناوٹ کے لحاظ سے دو خاص گروہوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ ایک وہ جو اصل لفظ کے بعد کسی خاص علامت یا ایسے لفظ کے اضافے سے بنتے ہیں جو تنہا اپنے کوئی معانی نہیں دیتا لیکن معنی دار لفظ کے بعد اپنی معنویت کو ثابت کر دیتا ہے۔ مثلاً ذیل کے الفاظ دیکھیے:
۱۔پن: لڑکپن (لڑکا+پن)، احمق پن، بچپن، دیوانہ پن، پاگل پن وغیرہ۔
۲۔آر: لوہار (لوہا+آر)، سُنار، چمار، خریدار، گنوار وغیرہ۔
۳۔آنہ: انگشتانہ (انگشت+انہ)، ہرجانہ، دستانہ، مردانہ، زنانہ، مختانہ وغیرہ۔
۴۔بان: فیل بان (فیل+بان) ، میزبان ، نگہبان، گاڑی بان، گلہ بان وغیرہ۔
۵۔پا: دیر پا(دیر+پا)، سیخ پا، چراغ پا، گریز پا وغیرہ۔
۶۔پتی: لکھ پتی(لاکھ+پتی)، ہزار پتی، کروڑ پتی، سینا پتی وغیرہ۔
۷۔تر: کم تر (کم +تر)، بہتر ،خوشتر وغیرہ۔
۸۔چہ: صندوقچہ (صندوق+چہ)، باغیچہ، نہالچہ، دیگچہ، بیلچہ وغیرہ۔
۹۔چی: صندوقچی (صندوق+چی)،غلیلچی، خزانچی، باورچی، طبلچی، نشان چی، بندوقچی وغیرہ۔
۱۰۔خانہ: آئینہ خانہ (آئینہ+خانہ)، کارخانہ، پاگل خانہ، قید خانہ وغیرہ۔
۱۱۔دان: پاندان (پان+دان)، خاندان، گلدان، روشن دان، آتش دان، سرمہ دانی، چائے دانی، مچھر دانی وغیرہ۔
۱۲۔زار: سبزہ زار (سبزہ+زار)، گلزار، کارزار، مرغزار، خارزار وغیرہ۔
۱۳۔ستان: گلستان(گل+ستان)، بوستان، چمنستان، پاکستان، ترکستان وغیرہ۔
۱۴۔سر: خود سر (خود+سر)، ہم سر، سبک سر، شوریدہ سر وغیرہ۔
۱۵۔فام: گلفام(گل+فام)، لالہ فام، سیاہ فام، سرخ فام، مشک فام وغیرہ۔
۱۶۔کار: خطا کار(خطا+کار)، شاہکار، مختار کار، پیش کار، فن کار وغیرہ۔
۱۷۔کدہ: بتکدہ(بت+کدہ)، آتش کدہ، غم کدہ، میکدہ، صنم کدہ وغیرہ۔
۱۸۔گار: خدمتگار (خدمت+گار) ، ستم گار، گنہ گار، ساز گار، پروردگار وغیرہ۔
۱۹۔گر: کارگر(کار+گر)، سوداگر، جادوگر، رفوگر، بازی گر وغیرہ۔
۲۰۔گوں: نیل گوں(نیل+گوں)، گونا گوں، میگوں، گل گوں، شب گوں وغیرہ۔
۲۱۔گین/ین:شرمگین (شرم+گین)، غمگین، سنگین، رنگین، اندوہگین وغیرہ۔
۲۲۔مند: احسان مند(احسان+مند)، عقل مند، درد مند، غرض مند، رضا مند وغیرہ۔
۲۳۔ناک: درد ناک (درد+ناک)، غمناک، دہشت ناک، المناک، عبرتناک وغیرہ۔
۲۴۔ور: بہرہ ور(بہر+ور)، طاقت ور، دانش ور، سخن ور، دیدہ ور وغیرہ۔
۲۵۔ وار: قصور وار (قصور+ور)، خطا وار، سوگوار، سزا وار وغیرہ۔
یہ مرکبات جن لاحقوں کی مدد سے بنائے گئے ہیں وہ تنہا اپنے کوئی معنی نہیں رکھتے لیکن مرکبات میں آ کر ان کے معنی کا اثر صاف نمایاں ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس قسم کے مرکبات کی تشریح کے وقت طلبہ پر یہ بات واضح کی جائے کہ جن الفاظ کے بعد کدہ، ستان ، گاہ، زار، دان، خانہ وغیرہ آتے ہیں وہ اسے اسم ظرف یعنی جگہ کے معنوں میں بدل دیتے ہیں چنانچہ بت کدہ کے معنی ہوں گے بت کی جگہ، میخانہ کے معنی ہوں گے شراب کی جگہ، گلزار کے معنی ہوں گے پھولوں کی جگہ، پاندان کے معنی ہوں گے پان رکھنے کا برتن ، اسی طرح جن الفاظ کے بعد گار، وار، مند، کار، ناک وغیرہ کا اضافہ کیا جائے گا وہ اسم فاعل میں بدل جائیں گے۔ چنانچہ خدمتگار کے معنی ہوں گے خدمت کرنے والا۔ قصور وار کے معنی ہوں گے قصور کرنے والا، خرد مند کے معنی ہوں گے عقل والا، خطا کار کے معنی ہوں گے خطا کرنے والا۔ المناک کے معنی الم والا یعنی الم دینے والا۔فام اور گوں کے لاحقوں کے متعلق یہ واضح کر دینا چاہیے کہ یہ جن الفاظ کے ساتھ آتے ہیں ان میں اسی رنگ کا مفہوم پیدا کر دیتے ہیں، چنانچہ نیلگوں کے معنی ہوں گے نیل کے رنگ کا اور گل فام کے معنی ہوں گے پھول کے رنگ کا، اسی طرح چہ اور چی کے سلسلے میں یہ بتانا چاہیے کہ یہ اسم تصغیر اور اسم فاعل بنانے کے کام آتے ہیں۔ یعنی جس لفظ کے ساتھ ان کا استعمال کیا جاتا ہے اس میں ''چھوٹے پن'' یا کام کرنے کی اہلیت کے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ صندوقچہ کے معنی ہوں گے چھوٹا صندوق، تو پچی کے معنی ہوں گے توپ چلانے والا۔ غرض یہ کہ اس طرح کے مرکبات کے معنی ذہن نشین کرانے کے لیے مفید طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے دونوں اجزاء الگ الگ کر کے دکھائے جائیں۔ پھر ان کو ملا کر ان کے معنی واضح کیے جائیں بعد ازاں اسی قبیل کے دوسرے الفاظ بنوا کر جملوں میں استعمال کرنے کی مشق کرائی جائے۔
لاحقوں کی مدد سے بننے والے مرکبات کی ایک صورت اور ہے۔ اکثر الفاظ کے آخر میں کسی فارسی مصدر کے امر کا اضافہ کرنے سے مرکب بن جاتا ہے اور یہ مرکب کبھی کبھار اسم مفعول اور اکثر اسم فاعل کا کام کرتا ہے یعنی جس مصدر کے امر سے یہ بنتا ہے اسی مصدر کے معنی کا حامل بن کر فاعلی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مثلاً گلفروش کو لے لیجیے، جو دراصل گل+فروش ہے۔ فروش لاحقہ ہے جس کا ''گل'' پر اضافہ کرکے مرکب لفظ بنایا گیا ہے ''فروش '' فارسی مصدر فروختن یعنی بیچنا سے مشتق ہے۔ فروختن کا مضارع ہوا فروشد، مضارع کی ''د'' حذف کرنے سے امر برآمد ہوتا ہے، اس لیے فروش ، فروختن کا امر ہوا۔ گل سے مرکب ہو کر اس نے فاعلی صورت اختیار کر لی۔ چنانچہ گلفروش کے معنی ہوئے پھول بیچنے والا اور میوہ فروش کے معنی ہوئے میوہ بیچنے والا۔ اردو میں استعمال ہونے والے مرکبات میں ایسے مرکبات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بے شمار الفاظ پہلے سے موجود ہیں اور آئے دن بنتے رہتے ہیں۔ اس جگہ مختلف مصدروں کے امر سے بننے والے مرکبات کی کچھ مثالیں دی جا رہی ہیں۔ ہر مرکب کے ساتھ اس کے لاحقے کے مصدر کے معنی کی نشاندہی بھی قوسین کے اندر کر دی گئی ہے تاکہ ایسے معلمین جو فارسی سے ناواقف ہیں وہ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور بعد ازاں طلبہ کی رہنمائی کر سکیں۔
۱۔ آرا (آراستن بمعنی سجانا) جہاں آرا، جلوہ آرا، بزم آرا، صف آرا وغیرہ۔
۲۔ آزما (آزمودن بمعنی آزمانا) صبر آزما، صلہ آزما، زور آزما اور زور آزمائی وغیرہ۔
۳۔ آشوب (آشوبیدن اور آشفتن بمعنی پریشان کرنا) شہر آشوب، چشم آشوب وغیرہ۔
۴۔ آفریں(آفریدن بمعنی پیدا کرنا) جان آفریں، غم آفریں، نشاط آفریں، نکتہ آفریں وغیرہ۔
۵۔ افروز یا فروز (افروختن یا فروختن بمعنی روشن کرنا) رونق افروز ، جلوہ افروز، خیال افروز، دل افروز وغیرہ۔
۶۔ افزا یا فزا(افزودن یا فزودن بمعنی بڑھانا، زیادہ کرنا) روح افزا ، نشاط افزا، راحت افزا، غم افزا وغیرہ۔
۷۔ افشاں یا فشاں(افشاندن یا فشاندن بمعنی پھیلانا، بکھیرنا) نور افشاں، گوہر افشاں، گل فشاں وغیرہ۔
۸۔ افگن یا فگن (افگندن یا فگندن بمعنی پھینکنا، ڈالنا) نور فگن، سایہ فگن، شیر افگن وغیرہ۔
۹۔ آلود (آلودن بمعنی لت پت ہو جانا) خون آلود، گرد آلود، غبار آلود، غم آلود وغیرہ۔
۱۰۔ آموز (آموختن بمعنی سکھانا، سیکھنا) نو آموز، عبرت آموز، سبق آموز، مصلحت آموز وغیرہ۔
۱۱۔ آمیز (آمیختن بمعنی ملانا)کم آمیز، شرارت آمیز، مصلحت آمیزی، رنگ آمیزی وغیرہ۔
۱۲۔ انداز (انداختن بمعنی ڈالنا، پھینکنا) خلل اندازی، قرعہ اندازی، رخنہ اندازی، تیر انداز وغیرہ۔
۱۳۔ اندوز(اندوختن بمعنی جمع کرنا) لطف اندوز، شرف اندوز وغیرہ۔
۱۴۔ اندیش (اندیشیدن بمعنی فکر کرنا) دور اندیش، مصلحت اندیش، عاقبت اندیش وغیرہ۔
۱۵۔ انگیز (انگیختن بمعنی ابھارنا) غم انگیز، عمل انگیز، لشکر انگیز، وحشت انگیز وغیرہ۔
۱۶۔ آور(آوردن بمعنی لانا) دست آور، دلاور، نشاط آور، نامور، زور آور وغیرہ۔
۱۷۔ باز (باختن یا بازیدن بمعنی کھیلنا)کبوتر باز، پتنگ باز، جلد باز، جاں بازی وغیرہ۔
۱۸۔ باش (باشیدن بمعنی رہنا) خوش باش، شادباش، یارباش وغیرہ۔
۱۹۔ بخش (بخشیدن بمعنی بخشنا) مولا بخش ، صحت بخش، مسرت بخش، فرحت بخش وغیرہ۔
۲۰۔ بر(بردن بمعنی لے جانا) راہ بر، نامہ بر، پیامبر، پیغامبر، دلبر وغیرہ۔
۲۱۔ بند (بستن بمعنی باندھنا) ہتھیار بند، نظر بند، گلوبند، کمر بند وغیرہ۔
۲۲۔ بوس (بوسیدن بمعنی چومنا) فلک بوس، قدم بوسی، دست بوسی، پابوس وغیرہ۔
۲۳۔ بیز(بیختن بمعنی چھاننا) عطر بیز، گہر بیز، نوربیز وغیرہ۔
۲۴۔ بین(دیدن بمعنی دیکھنا) مصلحت بین، دور بین، تماش بین، باریک بین ، ظاہر بین وغیرہ۔
۲۵۔ پذیر (پذیر فتن بمعنی قبول کرنا) دل پذیر، ترقی پذیر، اثر پذیر وغیرہ۔
۲۶۔ پاش (پاشیدن بمعنی چھڑکنا) گلاب پاش، عطر پاش، نمک پاش ، آبپاشی وغیرہ۔
۲۷۔ پرواز(پرداختن بمعنی مشغول ہونا ۔ سنوارنا) افترا پرداز، انشاپرداز، کار پردازی وغیرہ۔
۲۸۔ پرست (پرستیدن بمعنی پوجنا) صورت پرست ، بت پرست، قدامت پرست ، خود پرست وغیرہ۔
۲۹۔ پرور (پروردن بمعنی پالنا) بندہ پرور،غریب پرور، کنبہ پرور، روح پرور وغیرہ۔
۳۰۔ پسند (پسندیدن بمعنی پسند کرنا) خود پسند ، ترقی پسند، قدامت پسند، دل پسند وغیرہ۔
۳۱۔ پوش (پوشیدن بمعنی چھپانا) عیب پوش، خطا پوش، کمبل پوش، میز پوش وغیرہ۔
۳۲۔ تراش(تراشیدن بمعنی تراشنا) قلم تراش، جیب تراش، سنگ تراش وغیرہ۔
۳۳۔ جو (جستن بمعنی تلاش کرنا) جنگجو ، چارہ جوئی، دل جوئی، عیب جو، صلح جو وغیرہ۔
۳۴۔ چیں (چیدن بمعنی توڑ لینا) گل چیں، نکتہ چیں ، خوشہ چیں وغیرہ۔
۳۵۔ خراش (خراشیدن بمعنی چھیلنا) دل خراش، جگر خراش ، سمع خراشی وغیرہ۔
۳۶۔ خرام (خرامیدن بمعنی ناز و ادا سے چلنا) خوش خرام، نازک خرام، سبک خرام، آہستہ خرام وغیرہ۔
۳۷۔ خوار یا خور (خوردن بمعنی کھانا) رشوت خور، غم خوار،سودخور،خوں خوار، شراب خور وغیرہ۔
۳۸۔ خواہ (خواستن بمعنی چاہنا) دل خواہ ، تنخواہ، قرض خواہ، خیر خواہ، داد خواہ وغیرہ۔
۳۹۔ خواں (خواندن بمعنی پڑھنا) قرآن خوانی، مولود خواں، مرثیہ خواں، قصہ خوانی وغیرہ۔
۴۰۔ دار (داشتن بمعنی رکھنا) دمدار، طرح دار، تحصیل دار، رشتہ دار، سرمایہ دار، پھول دار، مال دار وغیرہ۔
۴۱۔ دان (دانستن بمعنی جاننا، مضارع دارد) حساب دان ، سائنس دان، ریاضی دان وغیرہ۔
۴۲۔ دوز (دوختن بمعنی سلنا ، چھیدنا، مضارع دوزد) آبدوز، جگر دوز، زمیں دوز وغیرہ۔
۴۳۔ ران (راندان بمعنی چلانا، ہانکنا، مضارع راند) حکم ران، جہاز ران، کام ران وغیرہ۔
۴۴۔ رس(رسیدن بمعنی پہنچنا، مضارع رسد) نکتہ رس، داد رس، فریاد رس وغیرہ۔
۴۵۔ رو(رفتن بمعنی چلنا، مضارع رود) کم رو، تیز رو، میانہ رو، سبک رو، خود رو وغیرہ۔
۴۶۔ رساں (رسانیدن بمعنی پہنچانا، مضارع رساند) چٹھی رساں، خبر رساں، فیض رساں ، ضرر رساں وغیرہ۔
۴۷۔ ریز (ریختن بمعنی بکھیرنا، گرانا، مضارع ریزد) گل ریز، گہر ریز، خوں ریز، اشک ریز وغیرہ۔
۴۸۔ زن(زدن بمعنی مارنا، مضارع زند) تیغ زن ، رہزن، طعنہ زن، شمشیر زن وغیرہ۔
۴۹۔ ساز (ساختن بمعنی بنانا، مضارع سازند) دندان ساز، جعل ساز، گھڑی ساز، دم ساز وغیرہ۔
۵۰۔ سرا (سرائیدن بمعنی گانا، گنگنانا، مضارع سرائد) نغمہ سرا، مدح سرا، ہرزہ سرائی وغیرہ۔
۵۱۔ سنج (سنجیدن بمعنی تولنا، مضارع سنجد) نغمہ سنج، شکوہ سنج، بذلہ سنج، سخن سنج وغیرہ۔
۵۲۔ سوز(سوختن بمعنی جلانا، جلنا، مضارع سوزد)دل سوز، جان سوز وغیرہ۔
۵۳۔ شکن(شکستن بمعنی توڑنا، ٹوٹنا، مضارع شکند) دل شکن، بت شکن، عہد شکن، قانون شکن وغیرہ۔
۵۴۔ شناس (شناختن بمعنی پہچاننا، مضارع شناسد) سخن شناس، مزاج شناس، حسن شناس وغیرہ۔
۵۵۔ شمار (شمردن بمعنی گننا، مضارع شمارد) مردم شماری، اختر شماری، رائے شماری وغیرہ۔
۵۶۔ طراز (طرازیدن بمعنی نقش کرنا، مضارع طرازد) مضمون طراز، سخن طراز، عشوہ طراز وغیرہ۔
۵۷۔ طلب (طلبیدن بمعنی طلب کرنا، مضارع طلبد) آرام طلب، غور طلب، تحقیق طلب وغیرہ۔
۵۸۔ فرسا(فرسودن بمعنی گھسنا، مضارع فرساید) روح فرما، خامہ فرسائی وغیرہ۔
۵۹۔ فروش(فروختن بمعنی بیچنا، مضارع فروشد) گل فروش ، سبزی فروش، عطر فروش وغیرہ۔
۶۰۔ کَش(کشیدن بمعنی کھینچنا، مضارع کشد) فاقہ کش، دلکش ، محنت کش وغیرہ۔
۶۱۔ کُش(کشتن بمعنی مارنا، مضارع کشد)خود کشی، مردم کش، محسن کش وغیرہ۔
۶۲۔ کُشا (کشادن بمعنی کھولنا، مضارع کشاید) دلکشا، مشکل کشا، غنچہ کشا، روزہ کشائی وغیرہ۔
۶۳۔ کَن(کندن بمعنی کھودنا مضارع کند) گورکن ، جا نکنی، کان کنی وغیرہ۔
۶۴۔ کُن(کردن بمعنی کرنا، مضارع کند) خوش کن، کارکن وغیرہ۔
۶۵۔ کوش (کوشیدن بمعنی کوشش کرنا، مضارع کوشد)سخت کوش، جفا کوش ، وفا کوش وغیرہ۔
۶۶۔ گُداز (گداختن بمعنی پگھلانا، مضارع گدازد) دلگداز، جاں گداز وغیرہ۔
۶۷۔ گرد (گشتن بمعنی گھومنا، پھرنا، مضارع گردد) جہاں گرد، آوارہ گرد، کوچہ گرد وغیرہ۔
۶۸۔ گُو(گفتن بمعنی کہنا، مضارع گوید) نعت گو، سخن گو، خوش گو، قصہ گو، پُر گو وغیرہ۔
۶۹۔ گیر (گرفتن بمعنی پکڑنا، مضارع گیرد) کف گیر، گداگیر، دلگیر، دست گیر، ماہی گیر وغیرہ۔
۷۰۔ مال (مالیدن بمعنی ملنا، مضارع مالد )گوش مالی ، شیر مال، رومال، پامال وغیرہ۔
۷۱۔ نشین (نشستن بمعنی بیٹھنا، مضارع نشیند) دل نشین، تہ نشین، بالانشین وغیرہ۔
۷۲۔ نگار (نگاشتن بمعنی لکھنا، مضارع نگارد) نامہ نگار، مضمون نگار، واقعہ نگار وغیرہ۔
۷۳۔ نویس(نوشتن بمعنی لکھنا، مضارع نویسند) مضمون نویس، ناول نویس وغیرہ۔
۷۴۔ نما (نمودن بمعنی دکھانا، ظاہر کرنا، مضارع نماید) حق نما، جلوہ نما،جہاں نما، رونمائی وغیرہ۔
۷۵۔ نواز(نواختن بمعنی نوازنا، مضارع نوازد) غریب نواز، بندہ نواز ، مہمان نواز وغیرہ۔
۷۶۔ نوش (نوشیدن بمعنی پینا، مضارع نوشد) مے نوش، بلا نوش، دریا نوش وغیرہ۔
۷۷۔ نورد (نور دیدن بمعنی طے کرنا، مضارع نور دد) صحرا نورد، راہ نورد، دشت نوردی وغیرہ۔
اس طرح کے ''لاحقے'' بے شمار ہیں۔اوپر فارسی کے صرف چند مصدروں سے نکلنے والے لاحقوں کی مثالیں دی گئی ہیں۔ اگر اردو کے معلمین کی نظر فارسی کے سارے مصدروں اور ان کے ''امر'' پر ہو تو وہ اس قسم کے مرکبات کی تشریح بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ آج کل کے معلمین عموماً فارسی سے ناواقف ہیں۔ پرانے اساتذہ چونکہ کسی نہ کسی حد تک فارسی اور عربی بھی ضرور جانتے تھے اس لیے وہ اس طرح مرکبات کی تشریح بڑی خوش اسلوبی سے کر دیا کرتے تھے۔ ہمارے عہد کے معلمین کو چاہیے کہ اگر وہ فارسی نہیں جانتے تو کم از کم اردو فارسی کے لغا ت اور قواعد کی کتابوں سے مدد لینے کی عادت ڈالیں، محنت اور توجہ سے ہر چیز آسان ہو جاتی ہے۔ جب تک وہ خود زبان کے سلسلے میں اپنی معلومات نہ بڑھائیں گے اور زبان دانی کے عام اصولوں پر نظر نہ رکھیں گے، تدریس زبان سے عہد برآ نہ ہو سکیں گے۔ اگر معلم اپنے مضمون پر حاوی ہو، اس کے رموز و نکات کو سمجھتا ہو اور لغات الفاظ کا وافر ذخیرہ اپنے پاس رکھتا ہو، تو پھر اسے اپنی بات دوسروں کے ذہن میں اتارنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ صاحب علم، صاحب ذوق اور محنتی معلم تفہیم کے لیے نئی نئی مثالیں اور نئے نئے طریقے خود ایجاد کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر معلم زبان کے مسائل سے معمولی واقفیت رکھتا ہو اور تدریس میں محنت اور دلچسپی سے بھی کام نہ لیتا ہو، تو تدریس زبان کے سارے اصول اور سارے قاعدے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کاش ہمارے معلمین اس طرف توجہ کریں۔
٭٭٭٭