غزل
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں سب کے سب ان سے پیار کریں
کیا ان سے بھی منہ پھیرو گے یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی
کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی یہ کیسر کیا ری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے ان کو نہ رلاؤ انشا جی
تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی اک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں اس دیس نہ جاؤ انشا جی
بکھراتے ہو سونا حرفوں کا ، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر ان میں اپنے زخموں کا ، مت زہر ملاؤ انشا جی
اک رات تو کی وہ حشر تلک، رکھے گی کھلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی
نہیں صرف قتیل کی بات یہاں، کہیں ساحر ہے، کہیں عالی ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی
۔۔۔۔۔۔قتیل شفائی
غزل
اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا
آفتاب عتیق ہے آفاق میں رکھا ہوا
زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا
زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا
نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے
ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا
بلوۂ باطل میں حق کی خامشی کا ساتھ دو
یہ بھی نکتہ ہے مرے میشاق میں رکھا ہوا
میں نے دیکھا میرا قاتل مبتلائے خوف ہے
سر میرا تھا جس گھڑی اطباق میں رکھا ہوا
لَو نہ مدھم ہو گی منظر نہ پائے گا کبھی
یہ دیا ہے سینۂ عشاق میں رکھا ہوا
۔۔۔۔۔۔ منظر نقوی
غزل
آثارِ جنوں بے سروساماں نہیں ہوتے
ہم شہر تحیر میں پریشاں نہیں ہوتے
رستے میں طلسمات بچھی جاتی ہیں ہر دم
ہم خوئے سفر صورتِ حیراں نہیں ہوتے
ماضی کے طنابوں سے لگے درد کے خیمے
کیا جانیے کیوں دیدۂ امکاں نہیں ہوتے
خوابوں کی حویلی سے رواں شورِ مسلسل
آوازِ جرس کے لیے زنداں نہیں ہوتے
ہم ضبط کی تاریخ کے ہیں باب، رشیدی
ہم ضبط کی تاریخ میں پنہاں نہیں ہوتے
۔۔۔۔۔۔معید رشیدی(بھارت)
غزل
بے نیازی نے تیری قربتِ اغیار تو دی
تلخئیِ جام نے شیرینیءِ گفتار تو دی
سانپ اک بیٹھا ہے سر پر ترے کنڈلی مارے
اور تو خوش ہے کہ اس نے تجھے دستار تودی
بھیڑمیں ہو گیا گم ایک شناساچہرہ
نام لے لے کے صداہم نے کئی بار تو دی
عشق میں کس کو یہاں گوہرِ مقصود ملا
ہاں مگر اس نے ہمیں فرصتِ بے کار تو دی
یاد جب بھی کیا اس پردہ نشیں نے ہم کو
ہم نے خلوت میں اسے سرخیءِ رخسار تو دی
لفظ سے ہم نے تراشے ہیں کئی قصر خراؔ م
خوش خیالی نے ہمیں خوبیءِ معمار تودی
۔۔۔۔۔۔ خرم خراؔ م صدیقی
______________
وام
میں ان شبوں میں
سپاہِ لمحات کی صفوں میں
تجھے تلاشوں
مگر مرے ہاتھ کچھ نہ آئے
یہ اک سیاہی جو میرے جذبوں پہ چھاگئی ہے
اسے کہاں تک میں ساتھ رکھوں
مرے تصور کے آئینوں میں
نہ جانے کتنے ہی عکس دھندلاگئے ہیں
لیکن
ترا ہیولا
اسی کنارے سے اپنا بازو ٹکائے
کب سے کھڑا ہوا ہے
میں سوچتا ہوں
یہ تیرا سایہ ،کہیں تو ہو ہم کلام مجھ سے
یہ غزوۂ ذات جس نے
میرے حریف شانوں کو شل کیا ہے
مجھے بھی شاید تھکا نہ ڈالے
مجھے بھی تجھ سے ہرا نہ ڈالے
۔۔۔۔۔۔ سید تصنیف حیدر(دہلی)
______________