خواجہ حیدر علی آتشؔ


آتش تخلص ، خواجہ حیدر علی نام، باپ دلی کے رہنے والے تھے۔ لکھنؤ میں جا کر سکونت اختیار کی۔ خواجہ زادوں کا خاندان تھا۔ جس میں مسند فقیری بھی قائم تھی اور سلسلہ پیری مریدی کا بھی تھامگر شاعری اختیار کی اور خاندانی طریقے کو سلام کر کے اس میں سے فقط آزادی و بے پروائی کو رفاقت میں لے لیا۔مصحفی کے شاگرد تھے اور حق یہ ہے کہ ان کی آتش بیانی نے استاد کے نام کو روشن کیا بلکہ کلام کی گرمی اور چمک کی دمک نے استاد شاگرد کے کلام میں اندھیرے اُجالے کا امتیاز دکھایا۔
خواجہ صاحب کی ابتدائی عمر تھی اور استعداد علمی تکمیل کو نہ پہنچی تھی کہ طبیعت مشاعروں میں کمال دکھانے لگی۔اس وقت دوستوں کی تاکید سے درسی کتابیں دیکھیں باوجود اس کے عربی میں کافیہ کو کافیہ سمجھ کر آگے پڑھنا فضول سمجھا ۔ مشق سے کلام کو قوت دیتے رہے یہاں تک کہ اپنے زمانے میں مسلم الثبوت استاد ہوگئے اور سینکڑوں شاگرد دامن تربیت میں پرورش پا کر استاد کہلائے۔
چھریرا بدن ، کشیدہ قامت، سیدھے سادے، بھولے بھالے آدمی تھے۔ سپاہیانہ ، رندانہ اور آزادانہ وضع رکھتے تھے اور اس لئے کہ خاندان کا تمغہ بھی قائم رہے ، کچھ رنگ فقیری کا بھی تھا۔ساتھ اس کے بڑھاپے تک تلوارباندھ کرسپاہیانہ بانکپن نباہے جاتے تھے۔ سر پر ایک زلف اور کبھی حیدری چٹیا کہ یہ بھی شاہی بانکوں کا سکہ ہے۔ اسی میں ایک طرہ سبزی کا بھی لگائے رہتے تھے اور بے تکلفانہ رہتے تھے اور ایک بانکی ٹوپی بھووں پر دھرے جدھر چاہتے تھے ، چلے جاتے تھے۔ بالی خاں کی سرائے میں ایک پراناسامکان تھا وہاں سکونت تھی۔ اس محلے کے ایک طرف ان کے دل بہلانے کا جنگل تھا بلکہ ویرانوں میں اور شہر کے باہر جنگلوں میں اکثر پھرتے رہتے تھے۔ اَسّی روپے مہینا بادشاہ لکھنؤ کے ہاں سے ملتا تھا۔ پندرہ روپے گھر میں دیتے تھے باقی غربا اور اہل ضرورت کو کھلا پلا کر مہینے سے پہلے ہی فیصلہ کر دیتے تھے ۔ پھر توکل پر گزارا تھا مگر شاگردوں یا امرائے شہر میں سے کوئی سلوک کرتا تھا تو اس سے انکار نہ تھا۔ باوجود اس کے ایک گھوڑا ضرور بندھا رہتا تھا۔ اسی عالم میں کبھی آسودہ حال رہتے تھے کبھی ایک آدھ فاقہ بھی گزرجاتا تھا۔ جب شاگردوں کو خبر ہوتی ہر ایک کچھ نہ کچھ لے کر حاضر ہوتا اور کہتا کہ آپ ہم کو اپنا نہیں سمجھتے کہ کبھی اظہارِ حال نہیں فرماتے ۔ جواب میں کہتے کہ تم لوگوں نے کھلا کھلا کرہمارے نفس حریص کو فربہ کر دیا ہے۔ میر دوست علی خلیل کو یہ سعادت اکثر نصیب ہوتی تھی ۔ فقیر محمد خاں گویا خواجہ وزیر یعنی شیخ صاحب کے شاگرد کے شاگرد تھے مگر ۲۵ روپے مہینا دیتے تھے ۔ سید محمد خاں رند کی طرف سے بھی معمولی نذرانہ پہنچتا تھا۔
زمانے نے ان کی تصاویر مضمون کی قدر ہی نہیں کی بلکہ پرستش کی مگر انہوں نے اس کی جاہ و حشمت سے ظاہر آرائی نہ چاہی۔ نہ امیروں کے درباروں میں جاکر غزلیں سنائیں نہ ان کی تعریفوں میں قصیدے کہے۔ ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں ، جس پر کچھ چھپر سایہ کیے تھے، بوریا بچھا رہتا تھا۔ اسی پر ایک لنگ باندھے صبروقناعت کے ساتھ بیٹھے رہے اور عمر چند روزہ کو اس طرح گزاردیا جیسے کوئی بے نیا زوبے پرواہ فقیر تکیے میں بیٹھا ہوتا ہے۔ کوئی متوسط الحال اشراف یا کوئی غریب آتا تومتوجہ ہو کر باتیں بھی کرتے تھے۔امیر آتا تو دھتکار دیتے تھے۔وہ سلام کرکے کھڑا رہتا کہ آپ فرمائیں تو بیٹھے۔ یہ کہتے کیوں صاحب ! بوریئے کو دیکھتے ہو کپڑے خراب ہو جائیں گے ؟ یہ فقیر کا تکیہ ہے یہاں مسند تکیہ کہاں ؟ اور یہ حالت شیخ صاحب کی شان و شکوہ کے بالکل خلاف ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عالم میں مقبول خلائق ہوئے ۔علم والے شاعروں سے پہلو بہ پہلو رہے۔ امیرسے غریب تک اسی فقیرانہ تکیے میں آکر سلام کر گئے۔
اے ہما پیش فقیری سلطنت کیا مال ہے
بادشاہ آتے ہیں پا بوس گدا کے واسطے
۱۲۶۳ ؁ء ہجری میں ایک دن بھلے چنگے بیٹھے تھے یکا یک ایسا موت کا جھونکا آیاکہ شعلے کی طرح بجھ کر رہ گئے ۔ آتشؔ کے گھر میں راکھ کے ڈھیر کے سوا اور کیا ہونا تھا ۔ میر دوست علی خلیل نے تجہیزو تکفین کی اور سوم ماتم بھی بہت اچھی طرح اداکیں۔ بی بی اور ایک لڑکا لڑکی خردسال تھے۔ ان کی بھی سرپرستی وہی کرتے رہے۔ میر علی اوسط رشک نے تاریخ لکھی ۔
تمام عمر کی کمائی جسے حیات جاودانی کا مول کہنا چاہئے ایک دیوان غزلوں کا ہے جو ان کے سامنے رائج ہوگیا تھا۔ دوسرا تتمہ ہے جو پیچھے مرتب ہوا۔ جو کلام ان کا ہے حقیقت میں محاورہ اُردُو کا دستور العمل ہے اور انشاپردازی ہند کا اعلیٰ نمونہ ۔ شرفائے لکھنؤ کی بول چال کا اندازاس سے معلوم ہوتا ہے ۔جس طرح لوگ باتیں کرتے ہیں۔
اسی طرح انہوں نے شعر کہہ دیے ہیں۔ ان کے کلام نے پسند خاص اور قبول عام کی سند حاصل کی اور نہ فقط اپنے شاگردوں میں بلکہ بے غرض اہلِ انصاف کے نزدیک بھی مقبول اور قابل تعریف ہوا۔ دلیل اس کی اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ بار بار چھپ جاتا ہے اور بک جاتا ہے۔ اہلِ سخن کے جلسوں میں پڑھاجاتا ہے اور عاشقانہ غزلیں موسیقی کی تاثیر کو چمکا کر محفلوں کو گرما تی ہیں۔
وہ شیخ امام بخش ناسخ کے ہمعصر تھے۔ مشاعروں میں اور گھر بیٹھے روز مقابلے رہتے تھے۔ دونوں کے معتقد انبوہ تھے۔ جلسوں کو معرکے اور معرکوں کو ہنگامے بناتے تھے مگر دونوں بزرگوں پر صدرحمت ہے کہ مرزا رفیع اور سیّد انشاء کی طرح دست و گریباں نہ ہوتے تھے۔ کبھی کبھی نوکا چوکی بھی ہو جاتی تھی کہ وہ قابل اعتبار نہیں۔ چنانچہ خوا جہ صاحب نے جب شیخ صاحب کی غزلوں پر متواتر غزلیں لکھیں تو انہوں نے کہا۔
شیخ صاحب :
ایک جاہل کہہ رہا ہے میرے دیواں کا جواب
بو مسیلم نے لکھا تھا جیسے قرآں کا جواب
خواجہ صاحب :
کیوں نہ دے ہر مومن اس ملحد کے دیواں کا جواب
جس نے دیواں اپنا ٹھیرایا ہے قرآں کا جواب
شیخ صاحب کے معتقد خواجہ صاحب کے بعض الفاظ پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ جب اُنہوں نے یہ شعر پڑھا۔
دختر رزمری مونس ہے مری ہمدم ہے
میں جہانگیر ہوں وہ نور جہاں بیگم ہے
لوگوں نے کہاِ حضور ! بیگم ترکی لفظ ہے اہلِ زبان گاف پر پیش بولتے ہیں اور زبانِ فارسی کا قاعدہ بھی یہی چاہتا ہے۔ یہ اس وقت بھنگیائے ہوئے بیٹھے تھے۔کہا کہ ہونہہ ! ہم ترکی نہیں بولتے ، ترکی بولیں گے تو بیگُم کہیں گے۔
اسی طرح جب اُنہوں نے یہ مصرع کہا ’’اس خوان کی نمش کف مار سیاہ ہے ‘‘ لوگوں نے کہا کہ قبلہ ! یہ لفظ فارسی اور اصل میں نمشک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فارس میں جائیں گے تو ہم بھی نمشک کہیں گے۔ یہاں سب نمش کہتے ہیں۔ تو نمش ہی شعر میں باندھنا چاہئے۔
پیشگی دل کو جو دے لے وہ اسے تحصیلے
ساری سرکاروں سے ہے عشق کی سرکار جدا
حریفوں نے کہا کہ پیشگی ترکیب فارسی سے ہے مگر فارسی والوں کے استعمال میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا محاورہ ہے۔
یہاں تک تو درست ہے مگر بعض مواقع پر جوان کے حریف کہتے ہیں تو ہمیں بھی لاجواب ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ دیوان میں ایک غزل ہے ، صاف ہوا، معاف ہوا، خلاف ہوا اس میں فرماتے ہیں :
زہر پرہیز ہو گیا مجھ کو
درد درماں سے المضات ہوا
اس ٹھوکر کھانے کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام کے تلفظ میں المضاف بولا جاتا ہے ، وہ اس کی اصلیت کے دھوکے میں رہے۔
خواجہ صاحب شاید حلوا کو حلوہ سمجھے ، جو فرماتے ہیں۔
لعل شکر یار کا بوسہ میں کیونکر نہ لوں
کوئی نہیں چھوڑتا حلوہ بے دود کا
کفارہ کو بھی عوام بے تشدید بولتے ہیں چنانچہ خواجہ صاحب نے بھی لکھ دیا۔
رنگ زردہ و لب خشک و مژہ خون آلود
کشتہ عشق ہیں ہم، ہے یہ کفارہ اپنا
لکھے ہیں سرگزشت دل کے مضموں ایک قلم اس میں
تماشا قتل گہ کا ہے مطلع میرے دیواں کا
کشا کش دم کی مارآستیں کا کام کرتی ہے
دل بے تاب کو پہلو میں اک گرگ بغل پایا
مخالف کہتے ہیں کہ بغلی گھونسا اردو کا لفظ ہے مارا آستین فارسی کا محاورہ ہے۔ گرگ بغل کے لئے فارسی کی سند چاہئے ، بے سند صحیح نہیں۔
چار ابرو میں تری حیراں ہیں سارے خوشنویس
کس قلم کا قطعہ ہے یہ کاتب تقدیر کا
یہاں چارابرو بمعنی چہرہ لیا ہے، محاورے میں چارابرو کا لفظ بغیر صفائی کے نہیں آتا۔جس سے مراد ہے کہ آبرو اور ریش و بروقت کو چٹ کر دیں ۔ وہ بے نواؤں اور قلندروں کے لئے خاص ہے نہ کہ معشوق کے لئے۔ سید انشاء نے کیا خوب کہا ہے۔
سید انشاء :
اک بے نوا کے لڑکے پہ مرتے ہیں شیخ جی
عاشق ہوئے ہیں واہ عجب لنڈ منڈ پر
آتشؔ :
بہار گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے
ایک دفعہ میری تقی ترقی کے ہاں مشاعرے میں خواجہ صاحب نے غزل پڑھی کہ شکم کے مضمون میں ’’موج بحر کا نور‘‘ باندھا تھا۔ طالب علی خاں عیشی نے وہیں ٹوکا۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ میاں ابھی مدت بہت چاہیے ، دیکھو تو سہی جامی کیا کہتا ہے۔
دو پستانش بہم چوں قبہ نور
حبا بے خاستہ از بحر کافور
ساتھ ہی میر مشاعرہ سے کہا کہ اب کی دفعہ یہی طرح ہو۔
یہ بزم وہ ہے کہ لاخیر کا مقام نہیں
ہمارے گنجفہ میں بازی غلام نہیں
وہ بے چارے بھی کسی کے متنبی تھے۔ اسی مطلع کو یار لوگوں نے شیخ ناسخ کے گلے باندھا۔ کتب تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ شعرا جو شاگرد انِ الہی ہیں مجازی استادوں کے ساتھ ان کی بگڑتی چلی آئی ہے۔ چنانچہ ان کا بھی استاد سے بگاڑ ہوا۔ خدا جانے بنیاد کن جزئیات پرقائم ہوئی ہوگی اور ان میں حق کس کی طرف تھا ۔آج اصل حقیقت دور کے بیٹھنے والوں پر کھلنی مشکل ہے مگر جہاں سے کھلم کھلا بگڑی اس کی حکایت یہ سنی گئی کہ شیخ مصحفی ابھی زندہ تھے اور خواجہ صاحب کی طبیعت بھی اپنی گرمیاں دکھانے لگی تھی۔جو مشاعرے میں طرح ہوئی۔ دہن بگڑا ، سمن بگڑا اس میں سب نے غزلیں لکھیں۔ خواجہ صاحب نے غزل لکھ کر شیخ مصحفی اپنے استاد کو سنائی اور جب یہ شعر سنائے۔
امانت کی طرح رکھا زمیں نے روزمحشر تک
نہ اک مو کم ہوا اپنا نہ اک تار کفن بگڑا
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
نشے کے سرور میں آکر کہا کہ استاد اس ردیف قافیہ میں کوئی شعر نکالے تو کلیجہ نکل پڑتا ہے انہوں نے ہنس کر کہا ہاں میاں سچ کہتے ہو اب تو کسی سے ایسے شعر نہیں ہو سکتے۔ بعد اس کے شاگردوں میں سے ایک نو مشق لڑکے کی غزل کو توجہ سے بنایا اور اس میں انہی دو قافیوں کو اس طرح باندھا ۔
لکھا ہے خاک کوئے یار سے اے دیدہء گریاں
قیامت مَیں کروں گا گر کوئی حرف کفن بگڑا
نہ ہو محسوس جو شے کس طرح نقشے میں ٹھیک اُترے
شبیہہِ یار کھچوائی کمر بگڑی ، دہن بگڑا
اگرچہ اِن شعروں میں اور اُن شعروں میں جو نسبت ہے وہ ان جواہرات کے پرکھنے والے ہی جانتے ہیں لیکن مشاعرے میں بہت تعریف ہوئی۔ پھر چونکہ لڑکے کے منہ پر شعر کھلتے نہ تھے۔ اس لئے تاڑنے والے تاڑ گئے کہ استاد کی استادی ہے۔ خواجہ صاحب اسی وقت اُٹھ کر شیخ مصحفی کے پاس جا بیٹھے اور غزل ہاتھ سے پھینک کر کہا کہ یہ آپ ہمارے کلیجے میں چھریاں مارتے ہیں۔ نہیں تو اس لونڈے کاکیا منہ تھا جو ان قافیوں میں شعر نکالتا۔خیر اس قسم کی باتیں استاد کے ساتھ بچوں کی شوخیاں اور لڑکپن کے ناز ہیں جو کہ سننے والو ں کواچھے معلوم ہوتے ہیں اور طبیعتوں میں جوش ترقی پیدا کرتے ہیں لیکن سعادت مند شاگردکو استاد کے مرتبے اور اپنی حد کا اندازہ واجب ہے تاکہ خاقانی اور ابوالعلائی گنجوی کی طرح دونوں طرف سے کثیف اور غلیظ ہجوؤں تک نوبت نہ پہنچے۔ نہیں تو قیامت تک دونوں رسوائے عالم ہوتے رہیں گے۔چنانچہ خواجہ صاحب کی شرافت ونجابت جس نے اُنہیں اس آئین کا پابند رکھااس معاملے میں قابل تعریف ہے۔
میر مہدی حسن فراغ سے ان کے نہایت گرم و پسندیدہ اشعار ایسے بھی سنے گئے جو کلیات مروجہ میں نہیں ہیں۔ سبب یہ معلوم ہوا کہ ایک صاحب اس زمانے میں نہایت خوش مذاق اور صاحب فہم تھے جو خود شاعر تھے اور ان کے ہاں بڑی دھوم دھام سے مشاعرہ ہوتا تھا۔ خواجہ صاحب بھی جاتے تھے۔ اور مشاعرے میں غزل پڑھ کر وہیں دے آتے تھے۔ بعد انتقال کے جب شاگرد دیوان مرتب کرنے لگے تو بہت سی غزلیں انہیں میر مشاعرہ سے حاصل ہوئیں۔ خدا جانے سہواً یا ان کی بے اعتنائی سے بعض اشعار دیوان میں نہ آئے لیکن چونکہ وہ شاگرد شیخ ناسخ کے تھے اس لئے بدگمانی لوگوں کو گنہگار کرتی ہے۔
جب شیخ ناسخ کا انتقال ہوا تو خواجہ صاحب نے ان کی تاریخ کہی اور اس دن سے شعر کہنا چھوڑدیاکہ کہنے کا لطف سننے اور سنانے کے ساتھ ہے۔ جس شخص سے سنا نے کا لطف تھا جب وہ نہ رہا تو اب شعر کہنا بکواس ہے۔
حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت کی آزادی اور کلام کے کمال نے ظاہر آرائی کے ذوق شوق سے بے پرواہ کردیا تھا مگر مزاج میں ظرافت ایسی تھی کہ ہر قسم کا خیال لطائف و ظرافت ہی میں ادا ہوتا تھا۔
لطیفہ : ایک شاگرد اکثر بے روزگاری کی شکایت سے سفر کا ارادہ ظاہر کیا کرتے تھے خواجہ صاحب اپنی آزادہ مزاجی سے کہا کرتے تھے کہ میاں کہاں جاؤگے؟ دوگھڑی مل بیٹھنے کو غنیمت سمجھو اور جو خدا دیتا ہے اس پر کرو۔ ایک دن وہ آئے اور کہا کہ حضرت رخصت کو آیا ہوں ۔فرمایا: خیر باشد، کہاں؟ انہوں نے کہا کل بنارس کو روانہ ہوں گا۔ کچھ فرمائش ہوتو فرمادیجئے ۔ آپ ہنس کر بولے اتنا کام کرنا کہ وہاں کے خداکو ذرا ہمارا بھی سلام کہہ دینا۔ وہ حیران ہوکر بولے کہ حضرت ! یہاں اور وہاں کا خدا کوئی جدا ہے؟ فرمایا کہ شاید یہاں کا خدا بخیل ہے وہاں کا کچھ سخی ہو ۔ انہوں نے کہا معاذاللہ آپ کے فرمانے کی یہ بات ہے ؟ خواجہ صاحب نے کہا بھلا سنو تو سہی جب خدا وہاں یہاں ایک ہے تو پھر ہمیں کیوں چھوڑ تے ہو جس سے وہاں جا کر مانگو گے اسی سے یہاں مانگو وہاں دے گا تو یہاں بھی دے گا۔ اس بات نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ سفر کا ارادہ موقوف کیا اور خاطر جمعی سے بیٹھ گئے۔
خواجہ صاحب کی سیدھی سادی طبیعت اوربھولی بھالی باتوں کے ذکر میں میر انیس مرحوم نے فرمایا کہ ایک دن آپ کو نماز کا خیال آگیا۔کسی شاگرد سے کہا کہ بھئی ہمیں نماز سکھاؤ وہ اتفاقاََ فرقہ سنت جماعت سے تھے۔ اس نے ویسی ہی نماز سکھا دی اور یہ کہہ دیا کہ استاد ! عبادات الٰہی جتنی پوشیدہ ہو اتنی ہی اچھی ہوتی ہے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو یہ حجرے میں جاتے یا گھر کا دروازہ بند کر کے اسی طرح پڑھا کرتے ۔ میر دوست علی خلیل ان کے شاگردخاص اور جلوت وخلوت کے حاضر باش تھے۔ ایک دن انہوں نے بھی دیکھ لیا ۔ بہت حیران ہوئے یہ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ استاد ! آپ کا مذہب کیا ہے؟ فرمایا شیعہ ہیں یہ کیا پوچھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نماز سنیوں کی! فرمایا ! بھئی میں کیا جانوں فلاں شخص سے میں نے کہا تھا اس نے جو سکھا دی سو پڑھتا ہوں ۔ مجھے کیا خبر کہ ایک خدا کی دو نمازیں ہیں۔ اس دن سے شیعوں کی نماز پڑھنے لگے ۔ جتنے شاگرد انہوں نے پائے کسی استاد کو نصیب نہیں ہوئے۔ ان میں سید محمد خاں رند، میر وزیرعلی صبا، میر دوست علی خلیل، ہدایت علی خلیل، صاحب مرزا شناور، مرزا عنایت علی بسمل، نادرمرزا فیض آبادی نامور شاگرد تھے کہ رتبہ استادی رکھتے تھے۔
از:قاصی محمد عزیز الرحمن عاصم
انشا جی نے ۱۱ جنوری ۱۹۷۸ء کو لندن میں وفات پائی۔ آپ کی وفات پر قتیل شفائی نے آپ کی غزل’’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ کی طرز پر ایک نظم لکھی تھی جس کا عنوان تھا ’’ابن انشا کے لیے چند اشعار‘‘ ابن انشا کی غزل اور قتیل شفائی کی نظم دونوں قارئین کے لیے پیش ہیں :
غزل
انشا جی اٹھو اب کوچ کرواس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جو گی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب گیا زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جس دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانہ کیا
اس کو بھی جلا دکھتے ہوئے من ایک شعلہ لال بھبھوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیایوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جابسرام کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
۔۔۔۔۔۔ابن انشا