ٹم نیو کومب
مترجم: قاضی محمد عزیز الرحمن عاصم
کتاب سے ماورا کتب خانہ
ہم برسوں سے اس بارے میں سنتے چلے آئے تھے مگر بالآخر کتب سے ماورا لائبریری منصۂ شہود پر آ ہی گئی جس نے آتے ہی کالج کیمپسوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ ڈریکسل یونیورسٹی کی ایسی ہی جدید لائبریری کے ایوانِ علمی میں، جس کا جولائی ۲۰۱۱ء میں افتتاح ہوا۔ کوئی روایتی طبع شدہ نسخہ نہیں بلکہ صرف کمپیوٹر بیک جنبش کلید قطار در قطار پڑے ہیں جن کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان کے ذریعے فلاڈیلفیا یونیورسٹی کی ۱۷۰ ملین الیکٹرانک کتب تک رسائی ہو سکتی ہے۔ اس نئی لائبریری کے موجد سکاٹ ایرڈی کا کہنا ہے کہ اس میں کھلی، لچک پذیر جگہ، حرکت پذیر فرنیچر اور دیواریں ایک بہت بڑے سفید بورڈ کا کام کرتی ہیں جو طلبہ اور عملے کو نہایت تیزی کے ساتھ علم منتقل کرنے کا موجب ہے۔ ایک ایسا تصور جسے ڈریکسل لائبریری کی ڈین ڈینوٹا نائیٹکی (Denuta Nitechi)نے پختہ کیا، کہتی ہیں :
’’
ہم یہاں محض کتابیں نہیں، علم مہیا کرتے ہیں۔ ‘‘
اس رجحان کا آغاز فطری طور پر انجینئروں کی جانب سے ہوا، جب ۲۰۰۰ء میں کنساس کی ریاستی یونیورسٹی کی انجینئرنگ لائبریری کو روایتی کتب سے ماورا لائبریری کا اعزاز حاصل ہوا۔ پچھلے سال، اسٹین فورڈ یونیورٹی نے اپنی نئی انجینئرنگ لائبریری سے تقریباً۱۰۰۰۰ طبع شدہ نسخوں کی چھانٹی کر ڈالی جس سے میزوں اور مطالعہ گاہ کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو گئی۔ ٹیکساس یونیورسٹی سان اینٹونیو میں ۲۰۱۰ء میں جب انجینئرنگ لائبریری قائم کی گئی تو طبع شدہ کتب و رسائل کو ترک کرکے برقیاتی مواد مطالعہ و ملاحظہ کے لیے رکھ دیا گیا۔ اس سلسلے میں انگریزی زبان کے ۱۰۰ بہترین ناول ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کتابیں غائب ہو جائیں تو کیا لائبریری اپنی تعریف کھو دیتی ہے؟ دی ففتھ وٹنیس (The Fith Witness)کا سب سے زیادہ بکنے والا مصنف مائیکل کونیلی (Michael Connelly)کہتا ہے: ’’لائبریری معاشرے کے لیے مرکزی ستون والے خیمہ کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ افکارِ علوم و فنون کی آماجگاہ ہوتی ہے۔ اگر مرکزی ستون ہٹا دیا جائے تو خیمہ گر جاتا ہے۔ کیمپس لائبریری کے حصہ کتب میں آنے جانے کے دوران کتب کے سرسری مطالعہ سے انھیں ایسی تخلیقی تحریک پیدا ہوئی جو انھیں براہ راست تصنیف کی طرف لے آئی۔ انھوں نے سوچا ’’کیا بلا کتب لائبریری میں یہ سب کچھ ہو سکتاہے؟ انھیں یقین نہیں آتا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔
لائبریری کے ڈیزائن کے نقط�ۂ نظر سے ماہرین تعمیرات بے کتاب پن کی جانب فروغ پذیر اس ناگزیر رجحان کے سلسلے میں رنج و غم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ نیویارک سٹی میں کوئیز لائبریری کی نئی شاخ کے ماہر تعمیرات سٹیون ہال کہتے ہیں:’’کتابیں اب بھی کردار سازی میں معاون اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا عمدہ ذریعہ ہیں۔ ڈیجیٹل نظام اور اس کی رفتار کے اعتراف اور کتابوں کی تاریخ اور ان کی عملی موجودگی کی نسبت سے اسے پیش کرنے سے یہ ایک ولولہ انگیز جگہ بن جاتی ہے۔ ہال کہتاہے: ’’کتاب علم کی علامت ہے اور لائبریری میں توازن برقرار رکھنے کا احساس بہت اچھی بات ہے (یہ ای۔کتاب عہد ہے کیوں کہ سب سے زیادہ بکنے والی کتب ڈیجیٹل پر منتقل ہو چکی ہیں)۔
اس کے برعکس ہالینڈ کے ماہر تعمیرات ریم کولہاس (Ram Koolhase)جس نے سیٹل (Seatle)مرکزی لائبریری ڈیزائن کی ہے، کی مانند کئی دیگر ڈیزائن کار دنیا کی بے کتاب لائبریری کے ذریعے درپیش چیلنج سے بہت متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ اس کی گیرائی ’’کتابی پھیلاؤ‘’ میں ایک ملین (دس لاکھ سے زائد) کتابیں سما سکتی ہیں جبکہ تیزی سے ظہور پذیر ذرائع ابلاغ (کتب وغیرہ) کی ’’مساوی نمائش‘‘ کے لیے صرف ابتدائی منزل کی ضرورت پڑتی ہے۔
دوسرے یہ یہ شرطیں بھی بِدرہے ہیں کہ اگر چہ آج لائبریری بلا کتاب نہیں مگر وہ دن ضرور آنے والاہے جب کوئی نہ کوئی لائبریری کو ایسا کر دکھائے گا۔ ماہر تعمیرات نارمن فوسٹر کہتے ہیں: ’’نیویارک لائبریری کی مرکزی شاخ میں عنقریب ہونے والی انقلابی تبدیلیاں الیکٹرانک ڈیجیٹل نظاموں اور روایتی کتب کے متواوی ایک نئی دنیا کی پیش بینی کرتی ہیں جو لچک پذیر جگہ میں ایک دوسرے کی ممدومعاون بنتی ہیں تاکہ وہ نئی تبدیلیوں میں خود کو برقرار رکھ سکیں۔ اگرچہ نارمن فوسٹر نے برلن کی فری یونیورسٹی کی انسانی دماغ کی شکل کی تعمیر کردہ لائبریری کے لیے اپنے ڈیزائن میں مطبوعہ کتب کی متوازی دنیا بھی آباد کر دی ہے۔ بہرحال اس نے جدید خمیدہ عمارت کے عین وسط میں کتابیں رکھنے کے لیے الماریاں بھی بنائی ہیں اور ان کے گردا گرد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہالہ بھی بنایا ہے تاکہ اسے کتاب سے ماورا کل کی دنیا کے مطابق ڈھالنے کی گنجائش موجود رہے۔
بشکریہ ہفت روزہ " ٹائم "