ابن کلیم کے فن پاروں کی نمائشیں اسٹاک ہوم، کوپن ہیگن، دہلی، کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں متعدد بار ہو چکی ہیں
جمالیات کے امکانات اور حسین و جمیل احساسات کو تصور کے دھندلکے میں محسوس تو کیا جاسکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں احاطۂ تصور میں لایا جاسکتا ہے مگر ان جمالیاتی حسیات کو کسی وجودی شکل میں ڈھال کر معرض ہست و بود میں لانا آسان نہیں۔ یہ کارِدارد ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ’’مرقعِ رعنائی ‘‘ میں جمالیات کو سوچ کی حدوں سے نکال کر انھیں الفاظ کا وجود دیتے ہوئے صفحۂ قرطاس پر منتقل کرکے ایک پیکرِ رعنائی کی صورت میں اَمر بنا دیا گیا ہے۔ ابنِ کلیم کی تخلیق ’’خطِ رعنا‘‘ اپنے تمام تر قواعد کی موشگافیوں اور جمالیات کی مکمل مصور حشر سامانیوں اور پوری جلوہ آرائیوں کے ساتھ ’’مرقعِ رعنائی‘‘ میں جلوہ گر ہے۔ اس میں ذوقِ جمال اور فکرِ کمال کے حامل ناظرینِ باتمکین کو دعوتِ نظارہ دیتے ہوئے فکر و نظر کے نئے در وَا کیے گئے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ لکھاریوں، تنقید نگاروں اور مبصرین کو ایک نیا موضوعِ سخن دے دیا ہے۔
ابنِ کلیم احسنؔ نظامی کی تصنیفِ لطیف ’’مرقعِ رعنائی‘‘ یوں تو۱۹۹۳ءء میں تکمیل کو پہنچی اور اس کے چند نسخے پروف ایڈیشن کی شکل میں منظرِ عام پر آئے جو کہ اہلِ نقد و نظر کے لیے برائے تبصرہ و تنقید پیش کیے گئے تھے جس کے نتائج خاطر خواہ نکلے اور صاحبانِ علم و فن سے نقد و نظر کی صورت میں جو رشحاتِ قلم ہمیں میسر آئے وہ قارئین کے نظر نواز کرنا ہمارا مقصود ہے۔
بزمِ ثقافت ملتان، دی پبلک لائبریری باغ لانگے خان کے صدر جناب ڈاکٹر عاشق محمد خان دُرّانی پیش لفظ میں یوں رقمطراز ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کو دین و دنیا میں یقیناًحُسن پسند ہے کیونکہ ربّ العزت نے انسان کو نیک کام کرنے کے عوض جس بہشت میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا ذکر کیا ہے وہ بہشت حُسن سے مالا مال ہے۔مُرقعِ رعنائی جناب ابنِ کلیمؔ کی زندگی بھر کی کاوشوں کا نچوڑ ہے۔ ابنِ کلیم کی زندگی بھر کی محنت کا مُرقعِ رعنائی ایک جامع تھیسز (Thesis) ہے۔ اُن کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ انھوں نے عربی فارسی اردو کی تحریروں میں ایک نئے انداز کو متعارف کرایا ہے جو کہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منفرد نمونہ ہے۔ ان کے مزاج کا حسن ان کی تحریروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ چنانچہ بزمِ ثقافت ملتان نے اُن کی سرپرستی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان کے اس زندگی بھر کے تخلیقی کام بعنوان ’’مرقعِ رعنائی‘‘ کو چھپوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کو اپنے کام میں مزید سرخرو کرے۔ آمین۔ ‘‘
اسی طرح وزیرِ اعظم پاکستان سید محمد یوسف رضاؔ گیلانی کی تحریر کچھ یوں ہے: ’’خطاطی ہماری ثقافت کی جان ہے۔ اس دور میں جب اسلامی فنون کی ترقی و ترویج سے چشم پوشی کی جارہی ہے مگر ابنِ کلیم مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے نہ صرف یہ کہ خطاطی کی مختلف اصناف اور اسالیب میں کمال پیدا کیا ہے بلکہ ایک نئے اسلوب ’’خطِ رعنا‘‘ کا اضافہ کیا ہے اور ان کی تصنیف مرقعِ رعنائی‘ صاحبانِ علم و فن کے لیے ایک زریں کتاب ہے جس سے صدیوں تک اہلِ علم و فن فیضیاب ہوں گے۔ یہ کتاب فنِ خطاطی کی تاریخ، خطِ نستعلیق اور خطِ رعنا کے رموز اور ان کی تربیت کا پورا پورا سامان لیے ہوئے ہے۔ یہ عظیم کتاب نہ صرف اپنے اندر خطاطی کا ایک جہاں رکھتی ہے بلکہ رنگ و بو میں سکونِ قلب اور آشتی کا سامان بھی رکھتی ہے، ’خطِ رعنا‘ ابنِ کلیم کے لیے ہی نہیں اہلِ وطن کے لیے بھی وجۂ افتخار ہے۔ ‘‘
عصرِ حاضر کا موجد و مخترع کے عنوان سے پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری نے لکھا ہے: ’’جناب ابنِ کلیم صاحب نے خطِ رعنا ایجاد کر کے اسلامی اور مشرقی خطاطی کی روایت میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ خطاطی کی پیش رفت میں بالعموم اور خطِ رعنا کی ایجاد کے ذریعے بالخصوص ابنِ کلیم صاحب نے اس فن کی جو خدمت کی ہے اسے کسی طرح بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ خطاطی کے بارے میں کئی تالیفات کی اشاعت بھی بذاتِ خود ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابنِ کلیم نے، جو بجا طور پر خطاط ہفت قلم کہلاتے ہیں عصرِ حاضر میں اسلامی خطاطی کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ اب جب کہ گذشتہ کئی سالوں کی کاوشِ پیہم سے وہ اپنے نو ایجاد خط ’’خطِ رعنا‘‘ کی نزاکتوں اور باریکیوں کو سامنے لا چکے ہیں اور ایک طرح سے اپنے خط کی جمالیات کو مکمل کر چکے ہیں، بلا مُبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ اُنھوں نے اسلامی خطاطی کی تاریخ میں اپنے لیے ایک انفرادی مقام حاصل کر لیا ہے۔ ’خطِ رعنا‘ جو نسخ اور نستعلیق و غیرہ کے خوبصورت امتزاج کا ایک انوکھا نمونہ ہے،جو جدید اسلامی خطاطی کی مقبولیت کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ابنِ کلیم کے اس کارنامے کو خطاطی کا کم نظر نقاد یا مؤرخ ہی نظر انداز کر سکتا ہے۔ ‘‘
اُردو کے معروف دانشور ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے خطِ رعنا کی حیثیت کو اس طرح تسلیم کیا ہے: ’’اِس زمانے میں جب خطاطی کے فن کی طرف زیادہ توجہ نہیں ہے اور ہم اپنی اس عظیم الشان ثقافتی روایت سے محروم ہوتے جاتے ہیں، ابنِ کلیم نے اس فن میں درجۂ کمال بہم پہنچا کر اس فن کی تجدید کی ہے اور ’’خطِ رعنا‘‘ ایجاد کر کے تاریخ میں اپنی جگہ محفوظ کر لی ہے۔ ان کے نمونے ایک ایسے فنکار کو پیش کرتے ہیں جس نے خونِ جگر صَرف کیا ہے اور اَساتذۂ قدیم کی یاد کو تازہ کر دیا ہے۔ ‘‘
دہلی کے خطاط امان اللہ صدیقی ’’مرقعِ رعنائی‘‘ میں خطِ رعنا کی پذیرائی یوں کرتے ہیں: ’’ابنِ کلیم کی تخلیقات میں مروّجہ تمام خطوط کے بہت خوبصورت اور دلکش کتبات کے علاوہ ایک جدید خط ’’خطِ رعنأ‘‘ میں لکھے ہوئے کتبات بھی ہیں جس کے موجد ابنِ کلیم ہیں۔ اساتذۂ متقدمین کی طرح خطِ رعنا کی ابتدائی تختیاں اور اس کے اُصول و ضوابط کو بھی ابنِ کلیم صاحب نے تحریر فرما دیا ہے۔ یہ سب کچھ وہی کر سکتا ہے جس کو اپنے آپ اور اپنے فن پر پورا اعتماد اور عبور حاصل ہو اور اس میں کلیم صاحب پوری طرح کامیاب ہیں۔ میں خود بھی اس فن سے متعلق ہوں اس لیے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل کا مؤرّخ اگر خطاطی کی تاریخ لکھے گا تو ابنِ کلیم صاحب کا نام سرِ فہرست ہوگا۔ میں دل کی گہرائیوں سے دعاگو ہوں اللہ تعالیٰ ان کو تمام پریشانیوں اور الجھنوں سے دُور رکھے تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کو بُروئے کار لا سکیں۔ ‘‘
خطاطِ اعظم ہندوستان جناب محمد خلیق ٹونکی سربراہِ شعبۂ خطاطی غالب اکیڈمی نیو دہلی نئی خطِ رعن�أکو کس حیثیت سے جانا اور مانا ہے۔ اُردو ادب کی جو حسین روایاتِ عالیہ فروغ پذیر ہیں، ان میں دوسرے کے علم و فن پر فراخدلی کے ساتھ بغیر کسی لگی لپٹی کے تحسین و تعریف کے کلماتِ خیر اور اپنے لیے کمال انکساری کی روایت خلیق ٹونکی صاحب کی اس تحریر میں نمایاں ہے۔وہ لکھتے ہیں: ’’اس میں شک نہیں کہ اساتذۂ فن نے خطِ نستعلیق کو لطافت و نزاکت کے ساتھ باضابطہ بنانے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا، اسی لیے خطِ نستعلیق کے بعد صدیوں سے کسی خط کی ایجاد عمل میں نہیں آسکی۔ خطِ نسخ میں ابنِ مقلیٰ کے ایجاد کردہ خطوط کے بعد بے شمار فنکاروں نے اپنے خونِ جگر سے ان ششگانہ خطوط کے چمن کی آبیاری کرکے ان کو باضابطہ جوڑ پیوند دے کر بامِ عروج پر پہنچایا ۔ تاہم صدیوں سے اس چمن میں کسی نہ کسی گُل کی کمی تھی ، لہٰذا میرے فاضل و فنکار دوست جناب حافظ محمد اقبال ابنِ کلیم ملقب بہ ہفت قلم (متوطن ملتان ۔ پاکستان ) نے پیہم جہد و سعی و دماغ پاشی سے بے حد قلیل مدت میں ایک خط ’’خطِ رعنا‘‘ کے نام سے ایجاد کرکے نہ صرف اس گل کی کمی کو پورا کیا بلکہ اس خط کو گل رعنا کی سی لطافت و حسن دیتے ہوئے مفردات ، مرکبات ، مقطعات، رباعیات ، مضامین اور طغریٰ وغیرہ کے ہمہ طرز نگارش کا ایک ذخیرہ جمع کرکے اس فنِ خطاطی کے ساتھ اپنے والہانہ شغف و دیدہ ریزی کاثبوت دیا ہے۔ اس خطِ رعنا کے جوڑ و پیوند، نشست و کرسی ، دور و سطح کے اصول ترتیب دے کر نہایت سہل اور مفید عام بنادیا ہے ۔ اَللَّھُمَّ زِد فَزِ د !۔ یوں تو موصوف ( ابنِ کلیم ) خطِ کوفی ، نسخ ، ثلث ، دیوانی ، رقعہ ، نستعلیق یعنی خطوطِ ششگانہ کے مسلّمہ ماہر ہیں لیکن خطِ رعنا کی ایجاد کے ذیل میں انھیں ہفت قلم کے خطاب سے مشرف کیا گیا ہے ۔ غالب اکیڈمی ، بستی حضرت نظام الدین ؒ ( نئی دہلی میں موصوف کی ہفت قلمی ہمہ طرزِ نگارش پر مشتمل نمائش کی کامیابی پر میں دلی پُر خلوص مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اپنی بے بضاعتی کا احساس کرتے ہوئے رشک کے ساتھ یہ شعر پڑھتا ہوں :‘‘
چہ نادانی کہ فنِ خوش خطی راہِ سہل می دانی
کمالِ کسب باید ایں ہمہ جِدّت طرازی را
ڈاکٹر سریندرا بھوٹانی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عرب کلچرل سنٹر نیو دہلی بھارت کی تحریر خطِ رعنا کے جلی الفاظ میں یوں ہے: ’’ہمارے عرب کلچرل سنٹر نیو دہلی میں ابنِ کلیم کے فنِ خطاطی کی نمائش ایک عجوبہ سے کم نہیں، ان کی فنی مہارت نے ہمیں حیران کر دیا ہے۔ دیگر حضرات کے علاوہ ہم تمام عرب اور اسلامی دُنیا کے تمام سفراء ابنِ کلیم کے فن سے بہت متأثر ہوئے ہیں۔ یہاں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس خطِ رعنا کی نمائش کا تمام اسلامی ممالک میں اہتمام کیا جائے اور اس ایجادِ نو سے مسلمانوں کو رُوشناس کرایا جائے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ابنِ کلیم اپنے مشن میں آگے بڑھتے رہیں گے۔ ہم دُعاگو ہیں کہ وہ مستقبل میں کامیاب و کامران ہوں‘‘۔
ملک کے معروف ماہرِ لسانیات جناب ڈاکٹر مہر عبدالحق کی ماہرانہ رائے ہے : ’’خطِ رعنا علاقائی زبانوں کے لیے بھی مفید ہے اور ہماری قومی زبان اُردو اور عربی و فارسی تحریروں کے لیے بھی انھیں ایک لازوال حسن عطا کرتا ہے۔
ہونہار نوجوان شاعر محمد مختار علی مقیم جدہ نے ’’کلیم رقم‘‘ کے عنوان سے خوبصورت نظم لکھی ہے جو ’’مرقعِ رعنائی‘‘ میں شامل ہے۔
بڑھا ہے جن کے ہنر سے وقارِ خطاطی
انھیں قلم کے قرینے سلام کرتے ہیں
متاعِ لوح و قلم ہیں وہ اہلِ فن جن سے
حروف، دائرے نقطے کلام کرتے ہیں
ہے جن کی زیست برائے فروغِ فن مختار
ہم اُن کے ذوقِ لطافت کو عام کرتے ہیں
ہے جس کی لَو سے منوّر دیارِ خطاطی
ہم اُس کلیمِ قلم کو سلام کرتے ہیں
اسلام آباد سے ادارہ الشوریٰ کے صدر نشین جناب سلطان محمود شاہین نے تحریر کیا ہے :’’جب اللہ تعالیٰ کو اپنے علم کے خزانوں سے دُنیا پر کچھ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے خاص استعداد اور قابلیت کا حامل بندہ زمین پر پیدا فرماتا ہے اور اُسے اپنی کسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے شرفِ نیابت عطا کرتا ہے۔ اسی طرح حریمِ ذات کا ارادہ ہوا کہ وہ عالمِ ہستی کو ایک نئے رسمُ الخط سے سعادت مند کرے۔ تب وہ ابنِ کلیم صاحب کے ذریعے خطِ رعنا ظہور میں لایا۔ تخلیقِ انسان حقیقت میں تخلیق حق ہے۔ چونکہ انسان اس وقت مادے کا اسیر ہے اس لیے ہر چیز کو ظاہری پیمانے سے ماپتا اور مادی زاویۂ نگاہ سے دیکھتا ہے، حالانکہ بعض چیزوں کی حقیقت رُوحانی اور لافانی ہوتی ہے جن کا تعلق معرفتِ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ خطِ رعنا کی قدر و منزلت بھی تمام انسانوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کیونکہ یہ ایک آفاقی دولت ہے۔
ابنِ کلیم کے مشمولہ فن پاروں کی نمائشیں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم، ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن، بھارت کے دارالحکومت دہلی (غالب اکیڈمی میں) اور وطنِ عزیز میں امریکن سینٹر کراچی، گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کراچی، الحمراء آرٹس سنٹر لاہور، شاکر علی میوزیم لاہور، نیشنل آرٹ گیلری اسلام آباد، میں کئی بار ہوچکی ہیں۔
’’
مرقعِ رعنائی‘‘ میں شیخ حفیظ الرحمن سابق سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب؛ سابق کمشنر ملتان حسن رضا پاشا؛ عظیم خوشنویس و آرٹسٹ عبدالحمید دہلوی (کراچی)؛ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی و صدرنشین مقتدرہ قومی زبان؛ سابق وزیر جاوید ہاشمی؛ معروف شاعر اعزاز احمد آذر؛ ڈاکٹر عنوان چشتی پروفیسر جامعہ اسلامیہ نیو دہلی؛ انوار انجم اُردو سروس آل انڈیا ریڈیو؛ بی کے نارائن بیتابؔ کرنل (ریٹائرڈ) بھارت؛ ڈاکٹر خالد سعید بٹ ڈائریکٹر جنرل ادارہ ثقافت پاکستان؛ سید فخر الدین بلے ملتان؛ پروفیسر حسین سحرؔ مرتب منظوم مترجم قرآنِ مجید؛ زوار حسین آرٹسٹ؛ سابق گورنر پنجاب مخدوم محمد سجاد حسین قریشی اور دیگر کی خطِ رعنا کے حوالے سے مؤثر تحریریں بھی شامل کی گئی ہیں۔
اس کے بعد تیسرا حصہ ہم ’’اسماء الحسنی�ئ ربِ کریم بخطِ رعنا ابنِ کلیم ‘‘ کو قرار دیتے ہیں۔ اس حوالہ سے صرف ایک تحریر جو معروف شاعر و ادیب جناب عاصی کرنالی نے رقم کی ہے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :’’جنابِ ابنِ کلیم دین، ثقافت، علم، ادب اور تہذیب کی جانب سے اجتماعی شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے جدید خطاطی کے حوالے سے ہمارے عہد میں اِن اقدار کی تفہیم و ترسیل کا ایک مؤثر اور دِل نشیں وسیلہ اختیار کیا ہے۔ عربی، فارسی اور اُردو میں ان کے طغرے، کتبے، قطعے اور دوسرے نقوش و آثار ہمارے زمانے کے اہلِ طلب پر واضح کرتے ہیں کہ دینِ اسلام اور اُس کی تہذیب و ثقافت میں کتنی بے کراں جمالیات موجود ہیں اور یہ جمالیات اس خطاطی کے حوالے سے ہمارے اَذہان و قلوب میں اُتر کر ہمارے ایمان، ہمارے معتقدات اور ہمارے افکار و اعمال میں انوار و تجلّیات بھر دیتی ہیں۔ ‘‘
اس کے بعد جو باب ہے اس کانام ہے ’’خطِ نستعلیق‘‘ شروع کے دو صفحات پر اس خط کی ایجاد کے حوالہ سے تاریخی پس منظر اور تختئ اول خط نستعلیق مع قواعد و ضوابط و قوانین مروّجہ بوضاحتِ قط۔ اس سے آگے ہر صفحے پر دو ، دو جوڑ پیوند کی تختیاں چھ صفحات میں دی گئی ہیں۔ چونکہ خطِ رعنا نستعلیق کے سات سو برس بعد ایجاد ہوا اور یہ فخر ملتان پاکستان کو حاصل ہے اس لیے مذکورہ دونوں خطوں کی مکمل معلومات کتاب میں دے دی گئی ہیں۔
آخری حصے میں ’’مرقعِ رعنائی‘‘ کے حوالہ سے چند مفصل مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
ان کے فن پاروں کی دو روزہ نمائش منعقدہ۲۲اگست ۱۹۹۷ء (بمقام غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین اولیاءؒ ) میں شرکت نہ کر سکنے کا بے حد ملال رہا۔ کیونکہ موصوف کے گزشتہ دو دَوروں میں ان کے فن پاروں کی ہر نمائش میں محض شرکت نہیں شریکِ احساسات بھی رہا ہوں۔ اس وقت تکلیف کی نوعیت ہی ایسی ہے جس نے معذور رکھا۔
تاہم میرے عزیزِ گرامی متأسِف نہ ہوں۔ یقین کیجئے میں نے اس نمائش میں بھی شرکت کی ہے۔ یہ شرکت رسمی بصری نہیں، بصیرتی نوعیت کی ہے۔ یعنی انعقاد کے وقتِ معینہ پر۴اور۵بجے کے درمیان پیش کردہ کتاب ’’مُرقعِ رعنائی‘‘ کو سامنے رکھا اور قوی تصور میں خود کو تقریب میں حاضر کیا۔ پھر مُرقعِ رعنائی کے اَوراق کو اُلٹتا گیا اور ایک ایک فن پارہ کو بنظرِ غائر اسی طرح دیکھا جیسے نمائش میں آویزاں فن پاروں کو دیکھا جاتا ہے۔
۱۸سال قبل (پہلے دَورہ کے وقت) خطِ رعنا لڑکپن کی منزل سے گزر کر عنفوانِ شباب کی منزل میں قدم رکھ رہا تھا شوخی اور رعنائی اس وقت بھی عیاں ہو رہی تھی، دو سال بعد دوسرے دورہ میں مزید نکھار نظر آیا اور اب یہ خط ’’مرقعِ رعنائی‘‘ کے اَوراق پر بھرپور شباب کے ساتھ ایک حسین پیکرِ رعنائی کی صورت میں نظر نواز ہے۔
کتاب کو فن پاروں کے علاوہ صوری محاسن (نفیس طباعت، اعلیٰ قیمتی کاغذ اور سادگی میں بھرپور پُرکاری کے مظہر ٹائٹل) نے بھی بہت وقیع اور دیدہ زیب و دِلکش بنا دیا ہے۔
حکیم محمد سعید بانی ہمدرد فاؤنڈیشن نے جمالیاتی ذوق سے ’’مرقعِ رعنائی ‘‘ پر کہا: ’’ اسلامی فنون میں خطاطی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اور اگر ہم کسی ایک فن کو اسلامی ثقافت کی روح سے تعبیر کرنا چاہیں تو وہ یقیناًخطاطی کا فن ہی ہوگا، جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے زیادہ زور علم پر دیا ہے اور حصولِ علم کا کوئی تصور تحریری کتابت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کتابت کی اس اہمیت کے پیشِ نظر مسلمان فنکاروں نے خطاطی میں نت نئے کمالات کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسلمان حضرات کی مسلسل تخلیقی کاوشوں کے نتیجے میں چھ مختلف اسالیبِ خطاطی یعنی خطِ کوفی، خطِ نسخ، خطِ ثلث، خطِ دیوانی، خطِ رقعہ اور خطِ نستعلیق وجود میں آئے اور بتدریج ارتقا کے تمام مراحل طے کیے۔ ابنِ کلیم صاحب کے خلاقانہ ذہن نے ایک نیا اسلوبِ خطاطی ایجاد کیا، انھوں نے پہلے مروّجہ اسالیبِ خطاطی میں کمال پیدا کیا اور آخر کار ایک نیا اسلوب ایجاد کیا جسے وہ ’’خطِ رعنا‘‘ کہتے ہیں۔ ان کی اس ایجاد نے فنِ خطاطی میں قابلِ قدر اضافہ کیا ہے۔ اس نئے اسلوبِ خطاطی کے نمونے ’’مرقعِ رعنائی ‘‘ کے نام سے شائع ہوگئے ہیں۔ ابنِ کلیم صاحب کا یہ کارنامہ فنِ خطاطی میں انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ امر نہایت دل خوش کن ہے کہ ’’مرقعِ رعنائی ‘‘ نہایت نفاست اور خوش سلیقگی سے شائع کی گئی ہے جس پر میں جنابِ ابنِ کلیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ‘‘
اس کے بعد چار انگلش کے مضامین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں :
1. "KHATTAT-E-MASHRIQ (CALLIGRAPHER OF THE EAST)" By: Dr. Muhammad Fakhar Abbas
2. "ALBUM OF (INSCRIBED) BEAUTY" By: S. Amjad Ali (Author of the book "The Painters of Pakistan").
3. "CALLIGRAPHIC HISTORY & SERVICES OF IBN-E-KALEEM" By: Atiq Ahmed Arshad
4. "KHATE-E-RA'ANA CALLIGRAPHY SCRIPT INVENTED BY IBN-E- KALEEM" By: Maj (R) S.A.J. Sherazi
آخر میں چار صفحات پر مشتمل آرٹسٹ و خطاط ابنِ کلیم احسنؔ نظامی صاحب کا تفصیلی تعارف دیا گیا ہے۔ ’’مرقعِ رعنائی‘‘ ۱۳۰گرام میٹ پیپر پر بڑے سائز کے ۱۸۲صفحات پر مشتمل ہے۔ رنگین سرورق طباعت سے مزین ہے۔ سرورق پر ابنِ کلیم صاحب کا کینوس پر تخلیق کردہ ۴235۶فٹ سائز کا مصورانہ خطاطی کا فن پارہ لگا ہوا ہے جو کہ کالے ربن کی صورت میں خطِ رعنا کے اندازِ تحریر میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ ہے جبکہ خالی رقبے بڑے حسین انداز میں ہیں۔ کتاب بزمِ ثقافت ملتان دی پبلک لائبریری باغ لانگے خان ملتان، اور دبستان فروغِ خطاطی رجسٹرڈ وحید پلازہ حسن پروانہ روڈ ملتان سے میسر ہے۔

یہ ہنر بے ادب نہیں آتا
فہمیدہ ریاض کی کلیات ’’ سب لعل و گہر ‘‘ کا سفیما میں افتتاح تھا۔ ہم سب نے وہ زمانے یاد کیے جب فہمیدہ کی کتابیں ہر بک اسٹال سے غائب کر دی گئی تھیں۔ ہندوستان میں جو شخص بھی اس سے ملتا تھا پاکستان کا سفارت خانہ فوراََ اس کی شکایت کر دیتا تھا۔ اب فہمیدہ چونکہ ۶۶ برس کی ہو چکی ہیں اس لیے اردو لغت بورڈ نے انھیں فارغ کر دیا ہے ۔ اس طر ح فخر زماں ، افتخار عارف اور کئی دانشوروں کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہی آرڈر دیے ہیں۔
دنیا کے کسی ملک میں ایسا قانون نہ سائنس دان پر لاگو ہوتا ہے اور نہ دانشوروں پر کہ یہ لوگ تو جتنے عمر میں بڑھتے ہیں اتنے ہی ذہنی تناوری کی جانب بڑھتے ہیں ،پختہ ہوتے ہیں اور نت نئے موضوعات پر تحقیق کرتے ہیں۔ دانشوروں کو تو یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے اور نوجوان نسل کو پڑھانے کے لیے تلاش کر کر کے مقرر کیا جاتاہے کہ نئی نسل ان کی ذہنی پرداخت اور علمی تجربے سے فائدہ اٹھا سکے مگر ہمارے ملک میں کوئی تو بتائے کہ ان عالمانہ شخصیات پر اس قانون کو لاگو مت کریں۔
اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے کہ ادبی اداروں کی جانب کوئی افسرملتفت ہی نہیں ہو رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ چاہے اردو لغت بورڈ ہو کہ اکیڈ می آف لیٹر ز،سب پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ چونکہ یہاں کوئی افسر آنا نہیں چاہتا ۔کسی کو بھی یہاں کسی قسم کی جاذبیت نظر نہیں آتی ہے۔ اس لیے نومبرگزشتہ سے اب تک چےئر مین اور ڈی جی اکیڈمی میں تقرری نہیں ہوئی ہے ،سارا کام ٹھپ پڑا ہوا ہے ۔ دفتر میں خاک اڑتی نظر آتی ہے ۔ جب وہاں کوئی ادیب نہیں۔ اس لیے ادیب بھی وہاں جا کر پھٹکتے نہیں۔ اب تو کوئی مرزا یار بھی نہیں ہے جو کہ سونی گلیوں میں پھرتا ہے۔ کشو ر ناہید
)
بشکریہ روزنامہ جنگ راولپنڈی (