صرف ایک انتظامی حکم سے اُردو نافذ ہو سکتی ہے
ماہر لسانیات ، استادڈاکٹر نجیب جمال سے ملاقات
ملاقات : محمد اسلام نشتر، سید سردار احمد پیرزادہ، صائمہ یوسف، عظمت زہرا


س : اردو تحریک اس وقت کس صورت حال سے درپیش ہے؟
ج : اردو ہماری قومی زبان ہے اور پورے ملک میں بولی جانے والی زبان ہے ،اس کے اندر وہ جوہر موجود ہے جو بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ یعنی اردو کے صرف و نحو اور قواعد کا بندوبست ، لغت کی قدامت اور سب سے بڑھ کر بولنے والوں کی کثیر تعداد ہے۔ اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک بڑی زبان ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اسے اردوئے معلی کہا جاتا تھا۔ پھر خود اردو کا لفظ گواہی دیتا ہے کہ یہ بازار کی زبان بھی رہی۔لہٰذا شروع ہی سے اس کا رہن سہن محلّات اور گلی کوچوں میں برابر رہا اور یوں عوام و خواص میں یکساں مقبول رہی۔ پاکستان بننے کے بعد اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کا اندازہ یوں کیجیے کہ فرہنگِ آصفیہ میں۷۰ ہزار الفاظ ہیں اور اب جو اردو لغت بورڈ نے لغت مرتب کی ہے، اس میں پوری اسناد کے ساتھ تقریباً چار لاکھ الفاظ شامل ہیں۔ صرف ساٹھ سال کے عرصے میں یہ زبان کہاں سے کہاں پہنچ گئی بلکہ اس میں مزید تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس کے دامن میں کشادگی ہے۔ مختلف زبانوں کے الفاظ اس میں شامل ہو رہے ہیں انگریزی کے بے پناہ الفاظ اس میں شامل ہیں۔ اسی طرح سے یہ زبان دوسرے ملکوں میں بھی گئی کیونکہ انڈوپاک میں بولی جانے کی وجہ سے اس کا پھیلاؤ زیادہ تھا اور جہاں جہاں لوگ پہنچے، اردو زبان کو ساتھ لیتے گئے۔ اب صرف سیکنڈے نیوین ممالک کو لے لیں تو ان ممالک میں بھی اب اردو کی کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ میں امریکہ اور یورپ کی بات نہیں کر رہا۔ یہاں تو بے شمار کتب اور رسائل اردو کے شائع ہو ہی رہے ہیں۔ عرب ممالک میں آجائیں تو آپ کو ہر جگہ اب اردو بولنے والے ملیں گے بلکہ بعض ممالک میں تو اردو کے سائن بورڈ بھی نظر آئیں گے ۔ اس کے علاوہ اردو کی چےئر ز بھی مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ یہ تو اس کا قبول عام ہے۔ مشکلات کی جہاں تک بات ہے ہم سب جانتے ہیں کہ اگر اردو کی طرف ہماری اعلی درسگاہوں میں توجہ دی ہوتی اُن درسگاہوں میں جامع عثمانیہ حیدر آباد دکن کی طرح دارالترجمہ قائم کیے ہوتے ،ٹرانسلیشن کا کام شرع ہو گیا ہوتا تو آپ یقین کیجیے اردو ایک بہت ہی معتبر اور علمی زبان بن سکتی تھی لیکن اب ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ علمی سطح پر اردو کو وہ قبولِ عام نہیں ملا جو اس کا حق تھا۔
س : جیسے آپ نے فرمایا کہ مختلف ممالک میں اردو چیئرزموجود ہیں۔ کیا ان پر صاحبان علم جاتے ہیں ؟
ج : اردو چےئر ز کی افادیت ہم سب پر عیاں ہے اور ہم اُس سے استفادہ بھی کر رہے ہیں لیکن بعض سفارت خانوں کا اُن چےئرز کے حوالے سے عمومی طور پر ایک ایسا رویہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جو صاحبان علم کے شایانِ شان نہیں ہے جس کی بہت بڑی مثا ل اگر میں دوں تو عبادت بریلوی کی ایک کتاب ہے جس میں ترکی ایمبیسی اور اس کے حوالے سے بھی لکھاگیا تھا۔
س : کیا چےئرز کے حوالے سے حکومت کو توجہ نہیں دینی چاہیے؟
ج : جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے یہ درست ہے کہ کچھ وہاں پر مسائل ہیں اور اُس کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اردو کی جو چےئرز براہِ راست سفارت خانے کے زیر انتظام ہیں اور سفارت خانوں میں جو عام طور پر یہاں ڈپلومیٹک ہیں، اُن کی تربیت کچھ اور طرح سے ہوتی ہے اور جو اساتذہ یہاں سے جاتے ہیں وہ بڑے سینئر اساتذ ہ ہوتے ہیں لیکن تدریس کی دنیا کچھ اور ہے ۔ایک یہ فرق یعنی سفارت خانے کے لوگوں میں اور ہماری چےئرز کے لوگوں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں لیکن یہ منحصر ہے اس بات پر کہ سفیر محترم کس مزاج کے ہیں کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر بیورو کریٹک کی بو ہوتی ہے اور کچھ لوگ شخصی اعتبار سے بہت ملنسار اور بھلے مانس ہوتے ہیں، تو یہ فرق تو ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جو ہمارے پروفیسر حضرات ہوتے ہیں اُن کو ایک نان ڈپلومیٹک سٹیٹس دیا جاتا ہے اور وہ سٹیٹس ہوم منسٹر یا قونصلر کا ہوتا ہے۔ لہٰذا سفارت خانے کو اُنہیں احترام دینا ہوتا ہے اب چونکہ اُن کی ٹریننگ کچھ اور طرح سے ہوتی ہے اس لیے یہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کچھ مسائل اس وجہ سے بھی پیدا ہوتے ہیں کہ ایک ہی شہر میں کئی یونیورسٹیاں ہوتی ہیں اور سکالرز کی تعیناتی کسی خاص یونیورسٹی میں ہوتی ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ باقی یونیورسٹیا ں بھی جب یہ دیکھتی ہیں کہ جو سکالرز ایک زبان کا آیا ہوا ہے وہ سفارت خانے سے درخواست کرتے ہیں کہ اس سکالرز کو کچھ عرصے کے لیے ہمارے پاس بھی بھیجا جائے۔ عام طور پر وہ یونیورسٹیاں جب دعوت دیتی ہیں اور سکالر وہاں جاتا ہے تو پھر ایک غلط فہمی جنم لیتی ہے کہ شاید یہ سکالر وہاں سے بھی کوئی تنخواہ وصول کرتاہے حالانکہ ایسا ہوتا نہیں لیکن اسطرح ہی غلط فہمی پیدا کر دی جاتی ہے جس کی وجہ سے مسائل شدت اختیارکر کے مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن ان پر قابو پایا جا سکتا ہے یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
دوسرے سوال کے متعلق یہ کہ اردو چےئرز ظاہر ہے یونیورسٹیوں میں ہوتی ہیں اور وہا ں چےئرز ہونے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سکالرز کا رابطہ اس یونیورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ ہو جاتا ہے ۔ پھر یہ بھی کہ وہا ں خاص کر اگراردو کی چےئرز پر کوئی پروفیسرہے تو اردو کی طرف آنے والے طالب علم کی تعداد کتنی ہے ۔ میں اتفاق سے مصر میں تھا تو وہاں عربی بولنے والے طالب علم تھے ۔ جامع ازہر میں یہ تھا کہ ہر طالب علم کو کسی ایک غیر ملکی زبان کو لازماًسیکھنا اور پڑھنا پڑتا ہے ۔ا س طرح سے بہت سے طالب علم اردو زبان کو اختیار کرتے تھے ۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ اردو کا جو سکرپٹ ہے وہ عربی کے قریب ہے ۔پھرجب پڑھنے لگتا ہے تو زیادہ تیزی سے سمجھ بھی آنے لگتا ہے۔ دو یا تین ماہ کے اندر آپ یقین کر یں کہ بچے اردو بولنے اور سمجھنے لگتے ہیں تو اس وجہ سے وہاں بہت بڑی تعداد تھی۔ صرف بی اے کے طالب علموں کے لیے کئی سیکشن اردو کے ہمیں بنانے پڑتے تھے۔ پھر ہم نے اردو کو پی ایچ ڈی کی سطح پر بھی متعارف کرایا۔ پھر یہ بھی ہے کہ جو طالب علم اردو سیکھتے ہیں اُن کی محبت پاکستان کے لیے خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔
س : اردو کے نفاذ میں سب سے بڑی روکاوٹ کیا ہے؟
ج : اگر صرف نفاذ کی بات ہے تو اردو کا نفاذ تو پچھلے ایک عرصے سے ہو چکا ہے اور اردو کو جو مقبولیت ہے اُس سے شاید ہی کوئی انکار کرے گا ایک اور بات یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی آپ کو اردو بولتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو وہ گویا نمائندہ ہوتاہے پوری تہذیب کا لیکن آپ کا غالباََ سوال ہے سرکاری سطح پر اردو کے نفاذ کا۔ سرکاری سطح پر توابھی تک ہم وعدوں پر ہی بہلائے گئے ہیں۔ مشکل کوئی نہیں ہے ۔ ایک جو انتظامی حکم ہوتا ہے اس کے ذریعے سے اردو کا نفاذ ہو سکتا ہے ۔ مگر میرا خیال یہ ہے کہ ہماری جو افسر شاہی ہے وہ چونکہ سمجھتے ہیں کہ جو انگریزی خواں طبقہ ہیں اس ملک میں کم ہے اور اقتدار کم لوگوں کے پاس ہی رہے تو بہتر ہے ۔غالباََ اس وجہ سے اردو کا آج تک سرکاری سطح پر نفاذ نہیں ہوا ہے ۔لیکن یہ اتنی تشویش کی بات اس لیے نہیں ہے کہ اردو زبان ہر د ور میں کسی نہ کسی ابتلا میں مبتلا رہی ہے ۔ پھر ہم سب نے دیکھا ہے کہ اردو زبان ہمیشہ طاقت کے ساتھ ابھری اور زندہ رہی ۔ کئی دفعہ ایسا ہوا مثلاََ مجھے ایک واقعہ محسن الملک کا یاد ہے ایک زمانے میں انہوں تقریر کی تھی اردو کے دفاع کے لیے اور کہا تھا کہ اگر انگریز حکومت اردو کی جگہ ہندی رائج کرنا چاہتی ہے اور اردو رسم الخط کی جگہ دیونا گری کو جاری کرنا چاہتی ہے تو وہ شوق سے کرے مگر ہم بھی اردو کا جنازہ اتنی دھوم سے اٹھائیں گے کہ دنیادیکھے گی اور ہم اس جنازے کو گومتی کے دریا میں دفن کردیں گے اور خود بھی اس کے ساتھ دفن ہو جائیں گے وہ نوبت تو نہیں آئی مگر زبان اُتنی ہی تحرک کے ساتھ ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔
س : مقتدرہ قومی زبان میں سائنسی درسی کتب کے حوالے سے اردو زبان میں کچھ تراجم ہوتے رہے ہیں ، اب جو بنیادی سوال ہے کہ ان درسی سائنسی کتب کے تراجم کو کس طرح مؤثر بنائیں کہ طلبا کا بڑا طبقہ اُن کی طرف متوجہ بھی ہو سکے اور بہتر انداز سے سمجھ سکے؟
ج : بہت اچھا سوال ہے کیونکہ اس کا تعلق خود میری ذات سے بھی ہے کیونکہ میں ایک ایسے ادارے کا نمائندہ ہو ں جو کہ اعلٰی درس گاہ ہے۔ دیکھیے میں تو ہمیشہ یہ کہتا رہا ہوں کہ یونیورسٹیوں میں دارالترجمہ کی طرز پہ ادارے قائم ہونے چاہئیں اور ان اداروں کا حکومت کے ان اداروں کے ساتھ رابطہ ہونا چاہیے جو اردو کے فروغ کے لیے قائم کیے گئے ہیں اور آپ کا جو ادارہ ہے خاص طور پر مقتدرہ وہ صرف اور صرف اردو زبان کو ایک علمی زبان بنانے کے لیے ۔ اردو زبان کو دفتری زبان بنانے کے لیے ۔ عدالتوں کی زبان بنانے کے لیے اور ادبی اظہار میں معاونت کے لیے بنایاگیا ہے ۔اب آپ سائنسی کتب کتب کی بات کرتے ہیں تو اس حوالے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کی تعریف کی جانی چاہیے کہ آپ کا ادارہ اور اردو سائنس بورڈ اس طرف متوجہ ہیں اب اس کے معیار کوکس طرح بہتر بنایا اورلوگوں تک پہنچایا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ یونیورسٹیوں کے ساتھ اور ترجمے اور طباعت کے جو ادارے ہیں ان کے ساتھ تعلق قائم کیا جائے اور اپنا کام ان تک پہنچائیں ۔پھر ہماری مختلف یونیورسٹیوں میں زبان کے ماہرین کا ایک پینل ترتیب دیا جا سکتا ہے اور پھر وہ ترجمہ شدہ کتاب ان کے سامنے پیش کی جائے اور ان کے مشورے سے مستفید بھی ہوں اور جب وہ پینل کتاب کو منظور کر لے پھر اُسے یونیورسٹیوں میں طلباء کے لیے دے دی جائے ۔ تاکہ یونیورسٹیوں کی لائبریریوں تک بھی وہ پہنچے اگر ایسا ہو جائے تو معیار خود بخود بہتر ہو جائے گا۔
س : ڈاکٹرصاحب تراجم کرتے ہوئے عمومی طور پر ہمارے ہاں چند مخصوص زبانوں کو ہی سامنے رکھا جاتا ہے لیکن جس طرح ایک جدید شعور ڈویلپ ہورہا ہے اور تمام زبانیں آگے بڑھ کر آرہی ہیں تو کیا ہماری دیگر زبانیں جیسے ہماری سندھی،بلوچی ،پشتو،پنجابی وغیرہ سے بھی تراجم کرنے چاہئیں؟
ج : اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ہمارے ملک کی زبانیں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی اردو زبان اہم ہے کیونکہ اردو کا وجود اب ان زبانوں کی وجہ سے ہے لہذا ہمیں ان زبانوں کو بھی ترقی دینی ہو گی تب ہی اردو کی ترویج ہو سکے گی۔یہ طے شدہ بات ہے۔اسی لیے ہماری بعض یونیورسٹیاں علاقائی زبانوں کے بھی مختلف کورسز متعارف کروا رہی ہیں ۔تراجم بھی ہورہے ہیں ۔اگرچہ ان میں تیزی آنی چاہیے۔ یہ بھی طے ہے کہ زبان کے حوالے سے ترقی معکوس کا عمل نہیں ہوتا ۔یہ آگے ہی بڑھتا ہے۔ اس لیے ماڈرن لینگوئج یونیورسٹی قائم ہو چکی ہے جس کے دوسرے شہروں میں بھی کیمپس بن چکے ہیں ۔جہاں دنیا بھر کی زبانیں پڑھائی جارہی ہیں وہاں تراجم بھی ہوں گے ۔ لہٰذا اردو بہت کچھ آگے چل کربھی دوسری زبانوں سے لے لے گی۔ اگرچہ ترجمہ جلی ہوئی سٹرابری کی طرح ہوتا ہے لیکن کئی جگہ تو ایسے لگتا ہے کہ وہ اصل سے بھی بہتر ہے ۔میرا خیال ہے کہ ترجمے کا کام ہمارے ہاں بہتری کی طرف جا رہا ہے۔
س : ہمیں بتائیے کہ پاکستان میں غیر ملکی طالب علموں کے لیے اردو زبان کے حوالے سے کس طرح بہتر تدریس کا بندوبست کر سکتے ہیں؟
ج : یہ بہتر سوال ہے ۔اس میں ہمارے ہاں زبانوں کے سیکھنے کے حوالے سے کوئی زیادہ پروگرام کے ماڈل نہیں ہیں انگریزی زبان کے تو بہت سے پروگرام موجود ہیں لیکن ہمارے بولی جانے والی خاص طور پر اردو زبان کے پروگرام کم دکھائی دیتے ہیں۔ میں جب مصر میں تھا تو میں نے عربوں کے لیے اردو زبان سیکھنے کا پروگرام خودترتیب دیا تھا۔ اس میں میں نے مکالمے کی طرز پر دس باب بنائے تھے۔ پھر میں نے ریڈیو سے آوازیں لیں اور ان آوازوں سے میں نے عربی کا حصہ ایڈیٹ کروایا۔ اردو زبان میں نے خود بول کر ایڈیٹ کروایا ، اس طرح یہ ایک اچھا پروگرام بن گیا ۔جس نے بہت تاثر پیداکیا ۔لیکن یہ کام تواتر سے نہیں ہورہا ۔یہ بڑا مسئلہ ہے۔ مثلاََمختلف تہذیب اور ثقافت کے حوالے سے یہ پروگرام مختلف ممالک میں ترتیب دیے جائیں۔ جیسا کہ میں نے مصر کی تہذیب اورثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے اردو کا پروگرام ترتیب دیا تھا ، تاکہ زیادہ دلچسپی بھی رہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہم اردو زبان میں دوسرے ممالک کی تہذیب کے حوالے سے ان کے لیے طالب علموں کے پروگرام اور تدریس کا موادسامنے رکھیں تب جا کے یہ مسئلہ حل ہو گا۔
س : زبان کو بہتر بنانے کے سلسلے میں مقتدرہ قومی زبان کے دیگر یونیورسٹیوں کے ساتھ کن بنیادوں پر روابط قائم کیے جا سکتے ہیں؟
ج : دیکھیں مقتدرہ کی کتابیں پاکستان کی ساری یونیورسٹیوں میں موجود ہیں۔ اسی طرح تراجم کے تمام سیٹ ان کی لائبریریوں میں موجود ہونے چاہئیں۔ دوسرے رابطے کی صورت یہ ہے کہ زبان کے حوالے سے سکالروں اور ماہرین کو کبھی کبھی جمع کیا کریں ۔اس طرح بہت رابطہ پیدا ہوتا ہے۔
س : اخبارِ اردو کے حوالے سے قیمتی تجاویز دیں کہ کیسے اسے بہتر بنائیں ؟
ج : اخبارِ اردو کے تازہ شمارے کو میں نے دیکھا تو ایک بڑی خوشگوار تبدیلی کا تاثر پیدا ہوا۔ چونکہ آپ کا ادارہ اردو کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے اس لیے اس کا بڑا حصہ اردو کے حوالے سے ہی ہونا چاہیے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں آپ کو تراجم کی طرف بھی آنا چاہیے ۔ تراجم کے لیے تحریک کے طور پر بھی اسے استعمال کریں ۔ عالمی ادب کی ایک یا دو چیزیں لازی ترجمہ کروا کے شائع کریں ۔ سوئم یہ کہ لٹریچر کے ساتھ لینگوسٹک کے حوالے اور کلچر کے حوالے سے بھی لکھیں ۔ مثلاََ ما بعد جدیدیت کے مباحث کو بھی اس میں جگہ دیں۔ تاکہ اس کی دنیا کے ادب کے ساتھ کمپیریٹولی (Comparatively) پیدا ہو سکے ۔