خبرنامہ
مقتدرہ میں اشفاق سلیم مرزا کی کتاب’’فلسفہ، تاریخ، نو آبادیات اور جمہوریت‘‘ کی تقریب رونمائی


مقتدرہ قومی زبان کے ایوان اردو میں ممتاز دانشور اشفاق سلیم مرزا کی کتاب ’’فلسفہ، تاریخ، نو آبادیات اور جمہوریت (چند نا مکمل مباحث)‘‘کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس کی صدارت ڈاکٹر مبارک علی نے کی جبکہ مہمان خصوصی مقتدرہ کے صدر نشین ڈاکٹر انوار احمد تھے۔تقریب کے صدر ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا ایک بے باک اور بہادر مصنف ہیں ۔ان کا مارکسزم پر پختہ یقین عوام الناس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں بہت مدد دیتا ہے۔ انھوں نے اپنی ساری عمر سماجی موضوعات پر تحقیق کرنے اور لکھنے میں گزاری جن کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ انھوں نے تاریخ، فلسفہ اور جمہوریت کے اصل معنی قاری پر اجاگر کیے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں فلسفہ کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی کیونکہ فلسفہ زندگی کے نئے نئے پہلو دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے جو ان سے مختلف ہوتے ہیں جن میں ہم رہ رہے ہیں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا تمام بڑی علمی شخصیات سے رابطے میں ہیں اور ان کی حیثیت ایک پُل کی سی ہے۔ وہ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے کبھی مصلحت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ ان کی تاریخ مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔ مسعود مفتی نے مصنف کی شخصیت اور تحریر وں پر بات کرتے کہا کہ ان کے ہاں منطق اور خالص دلائل کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔فہمیدہ ریاض نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا ان چند دانش وروں میں سے ہیں جو ہمیشہ اپنے نظریہ سے مخلص رہے اور اسی کے تحت معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔پاکستان سٹڈی سینٹر، جامعہ کراچی کے سربراہ ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ یہ کتا ب تاریخ، فلسفہ اور صوفی ازم کا بے پناہ علم لیے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہا کہ عموماً لکھنے والے اپنی تحریروں کو مکمل بحث سمجھتے ہیں لیکن اشفاق سلیم مرزانے اپنے مضامین کو اس لیے نامکمل چھوڑا کہ اس پر مزید بحث ہو۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ علم وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ بحث ہے کہ ہمارے معاشرے میں جمہوریت کیوں نہیں پروان چڑھ سکی۔ اس موضوع پر مصنف نے بہت سے سماجی رویے اور پہلووں کا ذکر کیا ہے۔حارث خلیق نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ اشفاق سلیم مرزاکا بین الاقوامی سیاست پر نقطۂ نظر ہمیشہ نیا اور بھر پور ہوتا ہے اور جو تمام مصلحتوں سے عاری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر روش ندیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ اشفاق سلیم مرزا کی تحریروں سے نئی بحث شروع ہوتی ہے۔ یہ کتاب بھی نئی نسل کے لیے ہمارے علم و دانش کا ورثہ ثابت ہوگی۔ کتاب کے مصنف اشفاق سلیم مرزا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نویسی ایک منجمد کام نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے۔ آج کے اجنبی یا حملہ آور مستقبل کے مقامی لوگ ہوں گے۔ تعلقات اور واقعات کے پس منظر کے معنی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ تاریخ اور فلسفہ نے مجھے ہمیشہ حیران کیا کیونکہ ہر لمحہ حقیقتیں بدلتی رہی ہیں۔تقریب میں کشور ناہید، امجد اسلام امجداور ملک کے دیگر کے شہروں سے آئے ہوئے ممتاز دانشوروں، سکالروں اور ادیبوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
رپورٹ: جاوید اختر ملک
انجمن اردو کینیڈا کے زیر اہتمام شگفتہ شفیق کے شعری مجموعے ’’میرا دل کہتا ہے‘‘ کی تقریبِ اجراء
ٹورنٹو کی قدیم ’انجمن اردو کینیڈا‘ کی خصوصی دعوت پر پاکستان سے تشریف لانے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار شگفتہ شفیق کے اعزاز میں ایک شاندار محفلِ مشاعرہ اور ان کے شعری مجموعہ’’میرا دل کہتا ہے‘‘ کی تقریب اجراء کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت ادبی اسکالر تسلیم الہیٰ زلفی نے کی جبکہ مہمان خصوصی شاعرہ اور افسانہ نگار زیب النساء زیبی تھیں۔ تقریب کے منتظم محمد علی صدیقی نے تمام شرکائے محفل کو خوش آمدید کیا۔ اس کے بعد انجمن کے ڈائریکٹر جمال انجم نے کتاب کے تعلق سے اظہار خیال کیا جبکہ تسلیم الہیٰ زلفی نے مصنفہ کے فن و شخصیت کے حوالے سے گفتکو کی۔ آخر میں شگفتہ شفیق نے اظہار تشکر کیا اور اپنا تازہ کلام سنایا۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں ایک شاندار محفل مشاعرہ منعقدہ ہوئی جس کی صدارت تسلیم الہیٰ زلفی اور نظامت جمال انجم نے کی اور مشاعرہ میں جمال انجم، طاہرہ مسعود، شکیلہ طاہر، کفیل احمد، رفیق مغل، اسماء وارثی، درخشاں صدیقی، انور کمال رضوی، اثر اکبر آبادی، زیب النساء زیبی، شگفتہ شفیق اور تسلیم الہیٰ زلفی نے کلام سنایا۔
مقتدرہ اور فرہنگستان کے مابین مفاہمتی یادداشت سے دو ملکوں میں لسانی اور ثقافتی تعلقات فروغ پائیں گے۔ ڈاکٹر انوار احمد
مقتدرہ قومی زبان اور فرہنگستان زبان و ادب ایران لسانی اور ثقافتی تعلقات کومضبوط بنانے کے لیے مستقبل قریب میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے۔ یہ بات گزشتہ دنوں پاکستان میں متعین ایرانی ثقافتی قونصلر آقاء علی نوری اور صدرنشین مقتدرہ قومی زبان ڈاکٹر انوار احمد کے درمیان مقتدرہ قومی زبان کے صدر دفتر میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمیں سماجی اور لسانی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینا چاہیے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے پروگرام کے تحت تربیتی کورسوں، فنی تربیت، کتب، معلوماتی مواد، تربیت دینے والے ماہرین اور سمعی و بصری مواد کا باہمی تبادلہ کریں گے۔ یہ بات بھی زیر غورآئی کہ مفاہمتی یادداشت میں اس بات کو بھی شامل کیا جائے گا کہ اردو اور فارسی کے کلاسیکی ادب پر مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کیے جائیں اور سیمینار کا انعقاد ہو۔ مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ پاکستان میں فارسی ادبیات کے فروغ سے ہمارے معاشرے میں روا داری بڑھے گی۔ کچھ دہائیاں قبل ہمارے طالب علم شیح سعدی، مولانا رومی اور حافظ شیرازی کو پڑھا کرتے تھے تو معاشرے میں اعتدال پسندی پائی جاتی تھی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں علمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ تعاون ہونا چاہیے تاکہ ثقافتی تعلقات میں ماضی جیسا فروغ ہو نیز فرہنگستان زبان و ادب اور مقتدرہ قومی زبان ذو لسانی لغات پر مشترکہ طو رپر ایسے کام کر سکتے ہیں جو مقتدرہ کی ویب گاہ پر دستیاب ہوں اور اردو زبان کے طالب علموں، اساتذہ اور سکالروں کے لیے مفید ثابت ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اصطلاحات سازی میں مقتدرہ قومی زبان فرہنگستان زبان و ادب کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے۔
مقتدرہ کے تعاون سے گجرات یونیورسٹی میں بہت جلد اردو تحقیقاتی شعبہ قائم کیا جائے گا۔ ڈاکٹر نظام الدین
اردو زبان صوبائی ہم آہنگی اور باہمی محبت کی زبان ہے، جو پاکستان کے ہر خطے میں سمجھی اور رابطے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقتدرہ کے دورے پر آئے ہوئے مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور دیگر صاحبان نے کیا۔ علمی شخصیات میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک ، کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر قاسم پیرزادہ ،گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نظام الدین اور ہائر ایجوکیشن کے مرتضیٰ نور شامل تھے۔ انھوں نے مقتدرہ قومی زبان کے سکالروں اور افسران سے خطاب بھی کیا۔ ان حضرات کو خوش آمدید کہتے ہوئے مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ جب تک ہم قومی زبان کے تہذیبی ورثے کو پوری طرح رائج نہیں کریں گے ہمیں معاشرتی مشکلات کا سامنا رہے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ معاشرے کی ایسی شخصیات سے مکالمہ ہوتا رہے تو ادارے چلتے رہتے ہیں۔ ورنہ ان کی حیثیت ایک سرکاری جزیرے کی ہو کر رہ جاتی ہے۔ ڈاکٹر قاسم پیرزادہ نے اس موقع پر کہا کہ مقتدرہ قومی زبان نے اب تک اس حوالے سے اتنا کام کر لیا ہے کہ اگر اردو کو فوری طور پر رائج کر دیا جائے تو کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ جہاں اردو ایک علمی اور معاشرتی اعتبار سے بہت اہم ہے وہاں اس کا ہمارے ساتھ رشتہ ضرورت کا ہے۔ اگر کوئی شخص باہر سے چترال میں جا کر یا تربت میں بات کرے تو اسے اردو زبان کا ہی سہارا لینا پڑے گا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ اردو زبان میں اتنا علمی خزانہ موجود ہے کہ وہ دور جدید کے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ پاکستان کی دوسری تمام زبانیں اس دور کی آبیاری کرتی ہیں جبکہ اردو دیگر پاکستان زبانوں کی ترقی کا باعث ہے۔ گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ مقتدرہ قومی زبان کے تعاون سے گجرات یونیورسٹی میں بہت جلد اردو کا تحقیقی شعبہ قائم کی جائے گا۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہ پیش کش بھی کی ہے کہ گجرات یونیورسٹی کے پاس جدید ترین پرنٹنگ پریس موجود ہے اور گجرات یونیورسٹی علمی اداروں کی اہم کتب شائع کرنے کے لیے تیار ہے۔ مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور اس موقع کو مقتدرہ کے لیے یاد گار لمحہ قرار دیا۔
اردو اور سندھی اہل علم اور اساتذہ کا ارتباط مشترکہ ثقافت اور پاکستانی زبانوں کی ترقی کا باعث ہو گا۔ ڈاکٹر انوار احمد
صدرنشین مقتدرہ قومی زبان ، ڈاکٹر انوار احمد نے کہاہے کہ سچل سرمست اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سرزمین پر اردو اور سندھی اہل علم اور اساتذہ کا محبت بھرا تال میل تحقیق و تنقید کے جو جراغ روشن کر رہا ہے وہ مشترکہ ثقافت اور پاکستانی زبانوں کے فرورغ میں رہنما بن سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بات دورۂ سندھ کے دوران شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں سے مخاطب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈاکٹر یوسف خشک اور ڈاکٹر صوفیہ یوسف نے صدرنشین مقتدرہ سے ملاقات میں کہا کہ مقتدرہ اردو زبان و ادب، سماجی اور انسانی علوم میں تحقیق اور تربیت کے امکانات اور ان کی صلاحیت کار کو بڑھانے کے سلسلے میں اہم کردار اداکر سکتاہے۔ اس سلسلے میں مقتدرہ کے لیے ہماری خدمات پیش ہیں۔ ڈاکٹر انوار احمد نے دورۂ سندھ کے دوران سچل کانفرنس میں بھی شرکت کی۔
پاک ترک بین الاقوامی سکول و کالج لاہور میں اساتذہ کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ
پاک ترک بین الاقوامی سکول و کالج رائیونڈ روڈ لاہور میں گزشتہ دونوں ایک دو روزہ بربیتی ورکشاپ برائے تدریس زبان و ادب کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت حسنین نازش ، صدر شعبہ اردو پاک ترک بین الاقوامی سکول و کالج اسلام آباد نے کی۔ اس تربیتی ورکشاپ میں پاک ترک بین الاقوامی سکول و کالج لاہور کی تمام شاخوں کے تمام مرد و خواتین اساتذہ نے شرکت کی۔ تربیتی ورکشاپ میں ابتدائی اور ثانوی درجے کی تدریس بالخصوص ابتدائی جماعتوں کی تدریس سے منسلک اساتذہ کے لیے خاص موضوعات اور سرگرمیاں شامل کی گئیں۔ تربیتی ورکشاپ کا اولین مقصد اساتذہ کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ اپنی فنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے طلبأ و طالبات کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور کردار سازی میں بہترین کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر تدریسی کارکردگی کی اس دور وزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران صدر معلم حسنین نازش نے مختلف موضوعات پر ملٹی میڈیا کے ذریعے لیکچر دیے جبکہ پرنسپل جناب آدم آکگیدک نے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کو کامیاب بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔
خواجہ غلام ربانی مجال انتقال کر گئے
تحریک پاکستان کے کارکن، اخبار اردو کے دیرینہ مضمون نگار اور بنیادی تعلیم و تدریس کی متعدد کتابوں کے مصنف خواجہ غلام ربانی مجال گزشتہ دنوں مختصر علالت کے بعد اکاسی سال کی عمر میں راولپنڈی میں دارفانی سے کوچ کر گئے۔ اردو لسانیات کے موضوع پر ان کے مضامین اخبار اردو کی زینت بنتے رہے جنھیں وسیع حلقوں میں پذیرائی نصیب ہوئی۔ آسان اردو قاعدہ؛ آسان روزمرہ حساب اور آسان انگریزی ریڈر مختلف اسکولوں میں درسی کتابوں کے طو رپر رائج رہا۔ ان کے مقالات جامعات کے تحقیقاتی جرائد کی زینت بھی بنتے رہے۔ ۱۹۳۰ء میں امرتسر میں پیدا ہونے والے خواجہ غلام ربانی مجال آخری دنوں میں دیگر علمی منصوبوں کے علاوہ اردو مصادر پر کام کر رہے تھے۔ انھوں نے کئی تکنیکی کتابوں کے تراجم بھی کیے۔