مسعود اشعر
آئینہ
اور اب چینی زبان بھی پڑھو
نفاذ اردو اور مقتدرہ کی سفارشات


مقتدرہ قومی زبان کے بنیادی فرائض میں نفاذ اردو کے لیے تیاری شامل ہے۔ ان مساعی میں حکومت پاکستان کو سفارشات پیش کرنا ایک نہایت مستحسن سرکاری طریق کار ہے۔ گزشتہ تینتیس سال کا بادی النظر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مقتدرہ نے اس سلسلے میں مختلف ادوار میں مختلف کوششیں کیں۔ ۱۹۸۱ء اور ۱۹۸۲ء میں دفاتر میں بطور سرکاری زبان؛ ذریعۂ تعلیم؛ عدالتوں میں اردو اور پھر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کی بھرپور سفارشات تیار کر کے حکومت پاکستان کو پیش کی گئیں۔ ان سفارشات کی تیاری کے لیے اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹیوں نے طویل غور و خوض کیا تھا۔ بعد ازاں وقتاً فوقتاً بھی اس بات کی یاد دہانی جاری رہی۔ بالآخر ۲۰۰۵ء میں وقت کے نئے تقاضوں اور حالات کے مطابق ایک بار پھر مقتدرہ میں مجلس نفاذ قومی زبان کی مرتب کردہ بھرپور اور جامع سفارشات تیار کی گئیں۔ مجلس نفاذ قومی زبان میں ڈاکٹر جمیل جالبی (صدر مجلس)؛ پروفیسر فتح محمد ملک(کنونیئر)؛ اعجاز رحیم؛ ڈاکٹر آفتاب احمد خان؛ احمد فراز؛ افتخار عارف؛ ڈاکٹر سید الطاف حسین؛ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد؛ ڈاکٹر انور نسیم؛ ایس ایچ ہاشمی؛ جمیل الدین عالی؛ ڈاکٹر عبدالباسط؛ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ڈاکٹر معصومہ حسن جیسے اعلیٰ سطح کے ماہرین اس کے اجلاسوں میں بنفسِ نفیس شریک ہوئے اور دقت نظر سے جامع سفارشات تیار کرنے میں اپنا گراں قدر کردار ادا کیا۔ مجلس کے معتمد کے فرائض محمد اسلام نشتر نے ادا کیے۔
مجلس کی سفارشات کتابچے کی صورت میں شائع ہوئیں۔ سفارشات ۲۰۰۵ء برائے نفاذ اردو کابینہ ڈویژن کو پیش کی گئیں۔ بعد ازاں ۲۰۰۶ء میں یہ سفارشات وزیراعظم پاکستان کی خدمت میں پیش کی گئیں جن پر مزید غور و خوض کے لیے وزیراعظم پاکستان نے عوامی نمائندوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی۔پارلیمانی کمیٹی کے دو اجلاس بالترتیب یکم فروری۲۰۰۷ء اور ۱۸ ستمبر۲۰۰۷ء کو منعقد ہوئے۔ اس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف چوہدری وصی ظفر (کنونیئر)؛ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب محمد علی درانی؛ وفاقی وزیر خصوصی تعلیم و سماجی بہبود محترمہ زبیدہ جلال؛ چیئرمین اعلیٰ تعلیم کمیشن ڈاکٹر عطاالرحمن؛ سیکریٹری کابینہ ڈویژن جناب کامران رسول اور صدرنشین مقتدرہ پروفیسر فتح محمد ملک جیسے وفاقی وزراء اور معزز ارکان شامل تھے۔
مقتدرہ کی حسب ذیل موضوعات پر مبنی سفارشات پر غور و خوض کیا گیا۔
(i)
اردو امتحانات مقابلہ میں
(ii)
اردو بحیثیت عدالتی زبان
(ii)
سرکاری/ استقبالیہ تقریبات میں اردو
(iv)
اردو میں قوم سے خطاب
(v)
افواج میں اردو
(vi)
تقاریب حلف برداری میں اردو
(vii)
تقاریب سول اعزازات میں اردو
(viii)
اردو میں دفتری خلاصہ جات
(ix)
اردو میں کیفیت نگاری و مراسلہ نگاری
(x)
وزیراعظم کے لیے اردو میں اہداف کا تعین
(xi)
سینیٹ/قومی اسمبلی میں اردو
(xii)
تعلیمی اداروں میں اردو
(xiii)
اردو کو کمپیوٹر کی زبان بنانے کا پروگرام
(xiv)
اردو میں فارم
(xv)
قانونی جرائد میں اردو
(xvi)
مردم شماری رپورٹوں میں اردو
(xvii)
سالانہ رپورٹوں میں اردو
(Xviii)
بجٹ تقاریر
(xix)
اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر اداروں میں اردو

کابینہ ڈویژن کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کی منظور کردہ سفارشات مئی ۲۰۰۵ء میں وزیراعظم پاکستان کی خدمت میں دوبارہ پیش کی گئیں۔ اس کے بعد کئی بار یہ مسئلہ مختلف فورموں پر اٹھتا رہا مگر تاحال اس بارے میں وفاقی حکومت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ سرکاری، غیر سرکاری اور عوامی سطح پر مزید لسانی افتراق دیکھنے کو ملتا رہتا ہے اور مختلف طبقات اپنے ہی مقاصد کے تحت اس مسئلے میں نئی نئی موشگافیاں اور درقنطنیاں چھوڑتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں پانچ چھ پاکستانی زبانوں کو اردو کے مقابل قومی زبانیں قرار دلوانے کی کوشش اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ الحمد للہ پارلیمان نے نہایت دانش مندانہ طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا مگر کوششیں جاری ہیں۔یہ طبقات پاکستانی عوام کو اپنے مقاصد کے حوالے سے جس ناگفتہ بہ حالت تک پہنچا چکے ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔ عوام قومی مقاصد کے حصول کے لیے اب مزید انتظار کے موڈ میں نہیں ہیں۔ قوم چاہتی ہے کہ حصول پاکستان کے اصل مقاصد کی جانب جلد از جلد لوٹا جائے ۔ قومی زبان کا نفاذ ان میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ قومی زبان کسی بھی قوم کا امتیازی نشان اور اس کے نظریے کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے۔ زبان غیر سے شرح آرزو کسی کو بھی پسند نہیں ہوتی۔ قوم شعوری طور پر سمجھتی ہے کہ اس کے نصف سے زائد مسائل کاحل قومی زبان کے نفاذ میں مضمر ہے اور وہ حقیقی ترقی کا خواب اپنی قومی زبان کے ذریعے ہی دیکھ سکتی ہے۔
مقتدرہ قومی زبان کو جو ادارہ جاتی ذمہ داری دی گئی، وہ اس نے ہمہ وقت ادا کی۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفاذ اردو کے مسئلے کو حل کرے۔ ایک جمہوری حکومت کے لیے یہ چنداں مشکل نہیں ہے کہ وہ عوام کی خواہشات سے آگاہ اور عوامی طاقت کی پشت پناہی اسے حاصل ہوتی ہے۔ اس سب کے باوجود یہ معاملہ منتظر فردا ہے۔ حکومت پاکستان اگر آج نفاذ اردو کا اعلان کر دیتی ہے تو مقتدرہ کی ذمہ اریاں نئے دور میں داخل ہو جائیں گی اور اسے نئے اہداف کی طرف اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا موقع ملے گا۔ یوں اس ادارے کے اصل مقاصد اور اب تک کی خدمات ثمربار ہو کر قوم کے سامنے آ سکیں گے اور قوم گومگو کی کیفیت سے نجات کر سکے گی۔
میاں محمد مختار، پی ڈبلیو ڈی ہاؤسنگ اسکیم، راولپنڈی
کچھ اندیشے کچھ خدشات
غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک اپنا کلچر ہے، تہذیب ہے جو غیر مسلموں سے مختلف ہے۔ اس لیے ہمارا ایک ساتھ چلنا مشکل ہے۔ چنانچہ مطالبہ ہوا کہ ہندوستان کی دو الگ الگ ریاستیں بنا دی جائیں۔ یہ ۱۹۴۷ء میں بن گئیں۔پاکستان جس جذبے کے ساتھ الگ ریاست بنا، اس کے پہلے گورنر جنرل ( سربراہ مملکت) نے اپنے مختصر ترین دور اقتدار میں جو خدشے ظاہر کیے وہ حیران کن تھے۔ یہ اشارے دے رہے تھے کہ جس تعصب اسلام کی بنا پر اپنے الگ ملک پاکستان میں اپنے آپ کو پاتے ہیں، اس میں متحد، یک رنگ اور فکر و نظر کی یکسانی کو کم کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ قریب یا دور آپ کی آزادی کی کوشش کو استحسان کی نظر سے نہ دیکھنے والے آپ کو پھاڑ دیں، ٹکڑے ٹکڑے کر دیں مگر یہ ہو کر رہا۔ ایک سیاسی پارٹی جو مسلم اتحاد سے پاکستان بننے کو اچھا نہیں سمجھتی تھی، جب پاکستان الگ الگ دو ٹکڑے ہو گیا تو اس نے طعنے دینے شروع کیے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ اسلام آپ کو متحد نہ رکھ سکے گا۔ لسانی کیا اپنی اپنی بولیوں کو الگ الگ تہذیب قرار دو۔ اپنے حقوق پہچانو۔ اپنی اپنی تہذیب کی حدبندیاں کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اردو آپ کو مٹا دے۔ انگریزی بے شک مٹا دے۔انگریزی میں دین نہیں، اردو میں دین ہے۔مبادا اس کی وجہ سے آپ کو اپنی بولی بھول جائے، جو آپ کی علیحدہ تہذیب کا گراں قدر سرمایہ ہے۔
یہی تبلیغ آپ کے اداریے ’’اخبار اردو‘‘ جولائی ۲۰۱۱ء کی ہے۔ یہ پڑھ کر میں کچھ نہیں سمجھا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ قائداعظم کے خدشات لسانی برسر حق ثابت کر رہے ہیں۔ میرے سامنے مقتدرہ قومی زبان کی بہت سی مطبوعات پڑی ہیں، ایک’ اٹھائی تحقیق اور وضع اصطلاحات‘ پر منتخب مقالات، مرتبہ: اعجاز راہی؛ مطبوعہ ۱۹۸۶ء ۔اس کا پہلا مقالہ جسٹس ڈاکٹرتنزیل الرحمن۔ فرصت ہو تو سارے مقالات پڑھیں۔ آپ کی اپنی اردو بہت اچھی ہے۔ شاید ان مقالات میں آپ کو کسی کی اچھی اردو نظر آئے۔دین اسلام سے بیزاری کی بنا پر اسلام کے تسلط کو تنگ نظری کہتے ہیں۔ یہ تبلیغ کچھ ایسی بھی ہے کہ پاکستان میں کئی تہذیبیں اپنی اپنی پہچان کر کے ایک پاکستان کی بجائے کئی ثقافتی تہذیبی اڈے بنا لیں تاکہ اسلام کے منڈلاتے سیاہ بادل کہیں نہ برس سکیں۔
محمد اکرم خان اثر،
سوسائٹی علم و عرفان دھروتی فتح پور تھکیالہ(نکیال) کوٹلی، آزاد کشمیر
اخبار اردو کی اعزازی ترسیل موقوف: مستحسن اقدام
اخبار اردو کی اعزازی ترسیل موقوف کرنے کا اقدام قابل مبارک باد ہے۔ یہ فیصلہ کرنا یقیناً مشکل رہا ہوگا کیوں کہ ہر طرف سے شکایات کے دفتر کھلنے کا خطرہ درپیش ہے۔ بہرکیف، کوئی چیز سدا مفت نہیں ملتی تو اخبار اردو کیوں؟ ہمیں وقت اور حالات کے مطابق چلنا چاہیے۔ ہم سب بخوبی آگاہ ہیں کہ ہمارے ہاں درمیانے طبقہ کا ہر گھر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا سے وابستہ ہو چکا ہے اور اس وقت ۲۰ ملین سے زائد کمپیوٹر صارفین موجود ہیں۔ اس صورت حال میں کسی رسالے کو گھر بیٹھے آن لائن پڑھنا یا حاصل کر لینا چنداں مشکل نہیں رہا۔
میرے خیال میں مقتدرہ کا اگلا قدم اخبار اردو کے تیس سالہ شماروں کی عکس برآری کر کے پی ڈی ایف میں مقتدرہ کی ویب گاہ پر لانا ہو سکتاہے۔ اس سے دنیا کے کسی بھی خطے، حصے یا مقام پر کوئی بھی فرد ان سے استفادہ کر سکتا ہے۔ اخبار اردو کے گزشتہ شمارے کمپیوٹر فائلوں پر ہونا چاہئیں۔ وہ شمارے جو کمپیوز شدہ حالت میں نہیں، انھیں از سر نو کمپوز کر کے آن لائن کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح محققین مقتدرہ کی خدمات سے بہتر طور پر مستفیض ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ مطلوبہ حوالہ جات اور مقالات و مضامین کوبآسانی حاصل کر سکیں گے۔
مقتدرہ قومی زبان فروغ قومی زبان کے سلسلے میں گراں قدر خدمات انجام دے چکا ہے لہٰذا اسے مزید وسعت دینے کے لیے جدید تر ٹیکنالوجی اور تکنیکی سہولیات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس طرح کسی مناسب وقت پر مقتدرہ کی کتابوں کو بھی آن لائن کر کے دستیاب کیا جا سکتاہے۔ فروغ اردو کی خاطر یہ ایک انقلابی قدم ہو گا۔
محمد عبدالحمید
mahameed40@gmail.com
پہلے تو یقین نہیں آیا کہ یہ جو ٹی وی اسکرین پر پٹی چل رہی ہے وہ سچ ہے یا آنکھوں کا دھوکا ہے۔ سوچا،آج کل اتنے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں، ان میں سے ہی کوئی ایک شوشہ ہو گا ،کوئی نیا شگوفہ ۔ مگر صبح کو اخبار میں بھی وہی خبر پڑھی تو تعجب بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی ۔اگلے سے اگلے سال سے سندھ کے تمام اسکولوں میں چینی زبان پڑھائی جائے گی۔
اور یہ زبان چھٹی جماعت میں لازمی ہو گی ۔ سبحان اللہ، کوئی مذاق تو نہیں سوجھا تھا ،سندھ حکومت کو کہ یہ تماشا شروع کردیا ۔ آخر کس کے دماغ کی اپج ہے یہ ؟ کیا پہلے ہی سندھ کے اسکولوں میں تین زبانیں ،اردو ،سندھی اور انگریزی نہیں پڑھائی جا رہی ہیں کہ بچوں پر ایک اور زبان کابوجھ لاد دیا جائے ۔ بچے زبانیں ہی سیکھتے رہیں گے یا علم بھی حاصل کریں گے ۔ زبانیں اور وہ بھی چینی زبان جس کے ساتھ ہمارے بچوں کا دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ چینی نسل کی زبانیں خواہ وہ چینی ہو ،جاپانی ہو ،کورین ہو یا تھائی زبان ،دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں سے ہیں۔ اول تو چینی زبان کا رسم الخط سمجھنا ہی جان جوکھوں کا کام ہے۔ چینی رسم الخط میں حروف نہیں ہوتے تصویریں یاعلامتیں ہوتی ہے۔ اور یہ علامتیں ہزراوں میں ہیں۔ چینی زبان سیکھنے کے لیے کم سے کم دو ہزار علامتیں یاد کرنا تو لازمی ہیں۔ چینی زبان کا بڑا عالم وہ ہوتا ے جسے کم سے کم پانچ ہزار علامتیں ازبر ہوں ۔ پھر چینی زبان کے کئی لہجے ہیں۔ جو زبان عام طور پر رائج ہے، وہ مینڈرین کہلاتی ہے۔ تیس پینتیس سال پہلے جب ہم چین گئے تھے تو وہاں لہجوں کے اس فرق کا اندازہ ہواتھا۔ ہمیں چینی زبان کا ایک ڈراما دکھایا گیا ۔ ہم نے دیکھا کہ ڈرامے کے اداکار چینی زبان میں ہی مکالمے بول رہے ہیں لیکن اسٹیج کے دائیں بائیں کونوں پر چینی زبان میں لکھی ہوئی تحریر اوپر سے نیچے کی طرف جارہی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ٹیلی ویژن پر پٹی چلتی ہے۔ ہم نے اپنے ساتھ بیٹھی خاتون ترجمان سے پوچھا کہ یہ کیا لکھا جا رہا ہے؟ اس نے بتایا کہ چینی رسم الخط تو ایک ہی ہے، اس لیے اداکاروں کے مکالمے تمام علاقوں کے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتے ۔ اس لیے مکالمے ساتھ ساتھ دکھائے جا رہے ہیں۔
ٹھیک ہے ،چین اس وقت ایشیا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں تیزی سے ترقی کر تا ہوا ملک ہے اور ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی وہ دینا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ اور اس کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی بہت گہرے ہیں ۔لیکن بچوں کو چھٹی جماعت سے چینی زبان پڑھا کر ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا ہمارے بچوں کو چین میں نوکریاں مل جائیں گی ؟چین کی اپنی آبادی کیا کم ہے کہ وہ باہر کے لوگوں کو نوکریاں دے گا۔ اب یہ خیال کہ پورا چین ہی امیر کبیر ہوگیا ہے ایک مبالغہ ہی ہو گا۔ وہاں اب بھی غریب ہیں۔ امیر غریب کا فرق وہاں بھی موجودہے۔ اس کی کافی بڑی آبادی کو آج بھی روزگار کی تلاش رہتی ہے۔ اب رہی مختلف شعبوں کے ماہرین کی بات تو چین کو جس شعبے میں بھی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ اسے بلا لیتا ہے ۔ ابھی ایک مہینہ پہلے ہمارے جاننے والوں میں سے ایک نوجوان چین گیا ہے۔ وہ آئی ٹی کا ماہر ہے۔ اسے چینی سیکھے بغیر ہی نوکری مل گئی ہے۔ وہ وہاں چینی زبان سیکھ لے گا۔ ہمار ا ایک عزیز کوریا کے ایک بڑے ٹیلی کمیونیکیشن کے ادارے میں کام کر رہا ہے ۔ اس نے سیول جانے کے بعد ہی کورین زبان سیکھی ہے۔ رہا چین کے ساتھ کاروبار ،تو ہمارے کاروباری چین کے ساتھ کاروبار کرہی رہے ہیں۔ دنیا بھر کی منڈیاں چینی سامان سے بھری پڑی ہیں۔ ہمارے بازار بھی بھرے ہوئے ہیں چینی سامان سے ،لیکن چین اپنا سارا کاروبار انگریزی میں کر رہا ہے۔ زبانیں ،اور خاص طور سے بڑی زبانیں،ضرور سیکھنی چاہیں لیکن اس کے لیے ایک وقت ہوتا ہے ۔چین میں ہمار جو سفارتی عملہ ہے اس میں سے اکثر نوجوانوں کو ہم نے چینی زبان میں باتیں کرتے دیکھا ہے۔
وہاں یونیورسٹی یا دوسرے اداروں میں جو اساتذہ اردو پڑھا رہے ہیں، وہ بھی خوب چینی جانتے ہیں لیکن انھوں نے بچپن سے یہ زبان نہیں پڑھی۔ بعد میں جب ضرورت پیش آئی تو سیکھی ۔ مقصد یہ ہے کہ زبانیں سیکھنا ہوں تو کسی وقت بھی سیکھی جا سکتی ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں اور خاص طور سے نمل میں یہ زبانیں پڑھائی ہی جارہی ہیں۔ اب بے چارے بچوں پر بوجھ لادنا کیا ضروری ہے۔ ان بچوں کو پہلے آپ اپنی زبانیں تو پڑھالیجیے ۔ حالت تو یہ ہے کہ ہمارے گریجویٹ تو گریجویٹ ایم اے کرنے والے بھی صحیح اردو یا صحیح انگریزی نہیں لکھ سکتے ۔ آپ اپنے ٹیلی ویژن ہی دیکھ لیجیے ،کس قسم کی زبان بولی اور لکھی جارہی ہے، آپ اسی سے ہمارے زبانوں کے علم کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)