غزلیات

غزل
بن کے آوازۂ دنیا، مجھے زندہ کر دے
وادیٔ مرگ میں ہوں، آ مجھے زندہ کر دے

جانی پہچانی کچھ آوازوں تلے دفن ہوں میں
اب کوئی اجنبی لہجہ مجھے زندہ کر دے

اب ترے طشت میں مرجھایا ہوا پھول جو ہوں
کیسے یہ بادِ تمنا مجھے زندہ کر دے؟

کیا خبر چاند قریب آئے مرے روزن سے
اور کرنوں کا تماشہ مجھے زندہ کر دے

جس کے اک لمس نے مارا تھا وہ آئے تو سہی
شاید اس بار کا چھونا مجھے زندہ کر دے

اس کا کہنا ہے سجائے گا خدوخال نئے
یوں کہ وہ دوسرا چہرہ مجھے زندہ کر دے

بے مزاجی کا یہ عالم ہے کہ ڈر لگتا ہے
یہ نہ ہو کوئی تقاضا مجھے زندہ کر دے
جب بھی سوچوں کہ بس اب حشر تلک سونا ہے
اپنے ہونے کا یہ دھڑکا مجھے زندہ کر دے

آسمانوں سے اُتر کر تو نہ آیا کوئی
آدمی کوئی زمیں کا مجھے زندہ کر دے

جس نے بکھرایا ہر اِک سمت مرے ٹکڑوں کو
شاید اب کے وہ مسیحا مجھے زندہ کر دے

اس محبت میں پڑی رہتی ہوں بس یخ بستہ
جبکہ اک رنج کا شعلہ مجھے زندہ کر دے

کب سے اس عشق ازل! تیری گزر گاہ پہ ہوں
پھر رواں ہو مرے دریا! مجھے زندہ کر دے

اعتماد ایسا ہے اُس آنکھ میں، بس ایک نظر
گر مجھے دیکھ لے، گویا مجھے زندہ کر دے

جینا مرنا مرا مشروط ہے اس دھرتی سے
میرے اس خواب کا جلوہ مجھے زندہ کر دے
……O ……
کوئی بھی فرق نہ منظر میں پڑا میرے بعد
شام کا چہرہ ہی اُترا تھا ذرا میرے بعد

لوگ مصروف رہے شہر رہا پُررونق
صرف خاموشی رہی نوحہ سرا میرے بعد

خوابِ خوش رنگ! مری چشم کم مت چھوڑ، تجھے
کون دیکھے گا مری طرح بھلا میرے بعد

اشک تھے آنکھ میں یا پھر کوئی حیرانی تھی
اس طرح شہر میں وہ پھرتا رہا میرے بعد

تجھ پہ کیا گزرے گی اے ہجر کی بجھتی ہوئی شام
جب بھی اس بام پر اک دیپ جلا میرے بعد

آئینہ توڑ کے دیکھوں، کوئی مجھ سا تو نہیں
کون پھر ہو کے گیا چہرہ نما میرے بعد

اس طرح پیچھے سے اک موجۂ خوشبو آیا
جیسے اس شاخ پر اِک پھول کھلا میرے بعد
پھر کسی شاخ سے اُلجھی نہ ستوں سے لپٹی
دم بخود بیٹھی رہی بادِ صبا میرے بعد

گیلے رستے پہ یہ قدموں کے نشاں کیسے ہیں
مجھ سے پہلے کوئی آیا کہ گیا میرے بعد

کام آئے وہ پرندوں سے مراسم اک دن
میرا نغمہ تھا جو دنیا نے سنا میرے بعد

شاعروں نے کبھی افسانہ نگاروں نے لکھی
میری گمنام تمنا کی کتھا میرے بعد

میں نے اس عکس کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
آئینہ سوچ کے حیران ہوا میرے بعد

کون پہنے گا یہ کانٹوں بھرا پیراہنِ دل
کون اوڑھے گا مرے غم کی ردا میرے بعد

اب اگر آ بھی گئی دھوپ تو کیا دیکھے گی
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا میرے بعد

کیسا حیران ہے گلدان میں نرگس کا پھول
میری تصویر کے نزدیک رکھا میرے بعد

وہ جو لیلیٰ سے تھی منسوب کوئی وحشتِ دل
یہ زمانہ اسے ڈھونڈا ہی کیا میرے بعد

کیسا بے رنگ ہے آنسو کی نظر آتا نہیں
جو کسی آنکھ سے ہرگز نہ بہا میرے بعد

زرد پتوں کی اُداسی سے یہی لگتا ہے
باغ میں موسمِ گل بھی نہ رہا میرے بعد

اپنی تخلیق پہ حیراں ہو کہ نازاں ہو، یہی
سوچتا رہ گیا پھر میرا خدا میرے بعد

یہ تو طے ہے کہ مری روح نہیں مر سکتی
کیسا پہنے گی بھلا جسم نیا میرے بعد
ثمینہ راجہ
……O ……