تسنیم منٹو
مت کر حجاب


جب رابعہ پہلے پہل اُن سے ملی تھی تو بے حد خوفزدہ اور رونکھی ہو رہی تھی۔ سب چہرے اپنے آپ میں فٹ، لیکن آنکھوں میں وحشت، بیگانگی اور ہنسی میں طنز تھا۔ وہ سب کے سب اسے فالتو لگے۔ ایک بے معنی زندگی نے انھیں دبوچ رکھا ہے۔ اس نے سوچا تھا… لیکن رابعہ کی دوست شاہدہ کے اصرار پر رابعہ یہاں اکثر آنے لگی تھی۔ شروع شروع میں رابعہ یہاں آ کر گھبراتی تھی اور اگر کوئی اس سے چھوبھی جاتا تو خوفزدہ ہو جاتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے یہاں آنا دلچسپ لگنے لگا تھا۔ یہاں رابعہ کے لیے، مشاہدات کا ایک جہان آباد تھا۔ اس نے یہاں کے مکینوں سے خود ہی ربط اور تعلق بڑھایا اور محبت پائی۔ وہ سوچتی کہ یہ نفوس جو خود سے، اپنی ذات سے لا پتہ ہوئے اور جو اپنے اپنے مسکنوں سے اسی عالم بے خبری میں اس جگہ لا کر رکھ دیئے گئے ہیں یہ سب ان کے کس گناہ کی سزا ہے۔ نہ معلوم کہ یہ سب حالات کی کن کٹھنائیوں سے گزرے ہیں اور عافیت کی تلاش میں یہ جگہ ان کا مسکن بن گئی۔
یہ گئے سال کی آخری رات ہے۔ رابعہ اور شاہدہ ایک چھوٹے سے کلچرل پروگرام کی ریہرسل کروا کر فارغ ہوتی ہیں۔ یہ کلچرل پروگرام رابعہ اور شاہدہ کے فرزانوں کی تخلیق ہے اور وہ سب اس پروگرام کو پیش بھی کریں گے۔
دونوں دوست ایک نظر سجے ہوئے سٹیج اور ہال پر ڈالتی ہیں دونوں خوش اور مطمئن ہیں۔ شاہدہ رابعہ کا ہاتھ پکڑتی ہے اور کہتی ہے ’’چلو نئے بلاک کا رائونڈ لگا کر آتے ہیں۔ تب تک یہ سب کھانا کھانے سے فارغ ہو جائیں گے…‘‘ ہلکی ہلکی بارش اور گھنے بادلوں میں دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے بارش سے بچتے بچاتے نئے تعمیر شدہ کمرے میں داخل ہوتی ہیں اس بلاک کا فقط ایک کمرہ اپنے مکین سے آباد ہوا ہے۔
کمرے میں لگے بلب کی ہلکی روشنی میں تین خواتین صوفے پہ بیٹھی نظر آئیں۔ وہ تینوں اپنے حلیئے ، خدوخال اور لباس سے خوشحال گھرانے کی دکھائی دیتی تھیں۔ رابعہ اور شاہدہ کو دیکھ کر خواتین رسماً مسکرائیں، تیسری خاتون جو کہ کھڑکی کے پاس والی کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھیں، نے رابعہ اور شاہدہ کو بغور دیکھا ۔ دوسری دونوں خواتین نے انھیں ادارے سے وابستہ ڈاکٹرز سمجھا ۔ انھوں نے کھڑکی کے قریب بیٹھی خاتون کی جانب دیکھا اور بولیں ’’یہ ہماری خالہ ہیں یہ قطعاً بیمار نہیں ہیں۔ انھیں بس گزرا وقت، اس وقت کی باتیں، دوست، احباب، کالج، یونیورسٹی اور اس کے بعد کا گزرا تمام عرصے کا ذکر ہر وقت ان کے لبوں پہ رہتا ہے‘‘۔
کیا یہ تنہا ہیں؟ شاہدہ نے پوچھا۔
نہیں یہ ایسی کچھ تنہا بھی نہیں ہیں۔ کبھی یہ میرے پاس ہوتی ہیں، کبھی دوسری بہن کے پاس اور ہم دونوں کے گھر میں بہت چہل پہل ہے لیکن ان کا اصرار ہے کہ یہ تنہا ہیں۔
ہاں کچھ لوگ ہر چیز کو اپنی ذات کے حوالے اور پیمانے سے دوسروں کو پہچانتے ہیں۔ ان کے بنتے ہیں یا ان کو اپنا بناتے ہیں جہاں یہ حوالہ اور پیمانہ ان کو دستیاب نہیں ہوتا وہاں احساس محرومی کا حصار ان کے گرد گھیرا تنگ کرتا چلا جاتا ہے۔ ہاں تو! کیوں جی! آپ کو کیا یاد آتا ہے؟ شاہدہ نے اس خوبرو خاتون سے دوستانہ لہجے میں بات کرنا چاہی۔
ہاں… یاد آتاہے … بہت کچھ یاد آتا ہے… سب کچھ یاد آتا ہے… نہ معلوم کیوں یاد آتا ہے… میں توکسی کو بھی یاد نہیں کرتی۔ آخری جملے پر خاتون کی آواز بھر اسی گئی اوروہ اپنی کلائی کے گنبد نما ڈیزائن والے کنگن کو گھمانے لگیں۔ جس ہاتھ سے وہ کنگن گھما رہی تھیں اس کی تیسری انگلی میں سفید نگوں والی خوبصورت انگوٹھی تھی… شاہدہ نے صورت حال کو ملول ہوتے محسوس کیا تو فوراً بات کا رخ بدلا… چلو! رابعہ پروگرام شروع ہو چکا ہو گا… پلیز جلدی کرو ذرا بھاگ لو نا!
دیکھو شاہدہ اگر پروگرام نے طول کھینچا تو میں بیچ میں اٹھ جائوں گی۔ تمہیں معلوم ہے نا میں نے علی الصبح پانچ بجے کی فلائیٹ سے جانا ہے۔
ہاں بھئی معلوم ہے کہ تم بیٹی کے پاس امریکا جا رہی ہو۔ لگتا ہے بش تمہارا کزن ہے جو اس شوق سے جارہی ہو۔ شاہدہ نے رابعہ کو چھیڑا۔
بہار ہے بھی اور نہیں بھی عجب سناٹا اور اداسی سی ہے۔ شاہدہ نے اپنے آفس میں بیٹھے بیٹھے گویا اپنے دل سے بات کی۔ ایک لمبی جمائی لی۔ ہاتھ بڑھا کر میز کے دوسرے کونے پہ رکھی فائل کو اپنی جانب گھسیٹا اور خود سے بولی۔ اس کام کو تو میں آج نپٹا ہی لوں تو اچھا ہے…
رابعہ گیٹ میں داخل ہوئی تو تذبذب میں تھی کہ دائیں جانب مڑے یا بائیں طرف پہلے جائے۔ دائیں جانب سے بہت زور سے ناخوشگوار آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔اس نے بائیں جانب ہی جانا مناسب سمجھا۔ شاہدہ کے دفتر کی جانب جاتے چھوٹے سے راستے میں رنگ برنگے پھول کھلے تھے لیکن فضاء کی ذرا سی تپش میں رابعہ کو جھکے جھکے پھول ایسے لگے جیسے خمار میں کوئی اپنی قامت کو کوتاہ کر لے اور وجود اور شخصیت کی ایستادگی کو کھو دے۔ … شاہدہ کی کرسی کے پیچھے والا دروازہ کھٹ سے کھلا اور کھلکھلاتی ہوئی رابعہ شاہدہ کے گلے لگ گئی۔
تم کب آئیں؟ کیوں امریکا میں دل نہیں لگا۔ کوئی فون شون بھی نہیں کیا !!
بس میں نے سوچا دو ایک روز میں خود ہی ملاقات ہو جائے گی۔ رہی دل لگنے کی بات تو میرا دل سوائے اپنے گھر کے کہیں نہیں لگتا… لیکن تم کچھ بجھی بجھی سی کیوں ہو؟…
کچھ نہیں یار! بس ایسے ہی موسم ذرا بدل رہا ہے نا! شاہدہ نے آنکھیں چراتے ہوئے جواب دیا۔
تو گویا موسم بدلا رت گدرائی…! نہیں یار اپنی زندگی میں ایسے موسم کب آتے ہیں۔ البتہ اہل جنوں سے اپنا رابطہ برسوں سے استوار چلا آ رہا ہے! شاہدہ نے خوامخواہ کاغذوں کو الٹ پلٹ کیا۔
فرزانے اچھے ہیں؟ رابعہ نے پوچھا۔ ہاں جتنے اچھے وہ ہو سکتے ہیں اس قدر ہیں۔ شاہدہ نے قدرے اکتاہٹ کا اظہار کیا… کیا پیو گی؟ چائے، ٹھنڈا؟ نہیں کچھ بھی نہیں۔ تھوڑی دیر بعد سوچیں گے۔
رابعہ! میں تمہیں بہت مس کر رہی تھی۔ اچھا ہوا تم آ گئیں۔ ورنہ میں دو ایک روز میں چھٹی لینے والی تھی۔ کیوں ایسی کیا خاص بات ہوئی، بتائو نا؟ رابعہ نے بے چینی کا اظہار کیا۔
کچھ نہیں بھئی ہونا کیا ہے۔ لوگ مرتے ہیں بلکہ ہر روز مرتے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں۔ اچانک بیمار ہو جاتے ہیں اور بس۔ پر مرنا ورنا میں نے اپنی جاب کے دوران اور ویسے بھی اپنی زندگی میں بہت دیکھا ہے۔ لیکن اس کی موت کا دکھ مجھے کچھ اندر سے ہلا گیا ہے۔ میری بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔ شاہدہ نے گلا کھنکار کر اپنی بھرائی ہوئی آواز پہ قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔ اور بولی۔
تمہیں یاد ہے نا؟ نئے سال کے طلوع سے ایک رات پہلے، جب فرزانوں کا ڈراما ہونا تھا اور نیا بلاک بھی بنا تھا۔ اسی رات تمہیں اپنی بیٹی کے پاس امریکا جانا تھا!! یاد ہے نا؟ ہاں … ہاں… یاد ہے۔ اس نئے بلاک کے نئے تعمیر شدہ کمرے میں دو فیشن زدہ سی خواتین، ایک خوبصورت اور مہذب سی خاتون کو ہمارے پاس داخل کروانے آئی تھیں۔ شاہدہ نے رابعہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا! ہاں! ہاں ! وہ خوبصورت سی خاتون، مخمل کے معرون رنگ کا سوٹ ایک ہاتھ میں بھاری گنبد نما سا کنگن۔ دوسرے ہاتھ میں جگمگاتی خوبصورت انگوٹھی۔ دیدہ زیب، خوش رو، خوش لباس سی خاتون تھی نا، مجھے اس کا پورا سراپا یاد ہے۔ تو کیا ہوا انھیں؟ رابعہ نے عجلت میں سوال کیا!
ایک تو شگفتہ کی شخصیت بہت دلکش تھی۔ دوسرے اپنے رویے سے وہ ذہنی طور پر کچھ زیادہ متزلزل نہیں تھیں۔ ہم دونوں کی آپس میں کچھ دوستی سی ہو گئی۔ وہ میرے پاس آ کر بیٹھ جاتیں، اپنی فیملی ، کالج، یونیورسٹی کی باتیں سناتیں، فرزانوں کے بارے میں پوچھتیں کہ کون کیسے یہاں تک پہنچا وغیرہ وغیرہ تو پھر؟ رابعہ نے بات کو آگے بڑھانے کے لیے، بے چینی سے پوچھا! جس غرض سے انھیں یہاں لایا گیا تھا اس کے لیے دوائیاں وغیرہ دینے سے وہ کافی سنبھل گئیں۔ لیکن کچھ ہی دن بعد کہنے لگیں شاہدہ! میں اندر سے کچھ ٹھیک محسوس نہیں کرتی ہوں۔ دل میں اضطراب مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے اور شام میں بخار، بخار سا محسوس ہوتا ہے تمہیں اس لیے نہیں بتایا کہ تم مجھے مزید دوائیوں پہ ڈال دوگی… میں نے دو چار روز بخار کی دوائی وغیرہ دی۔ لیکن بخار نہیں اترا۔ نہ معلوم کیوں میں ایسے محسوس کرنے لگی کہ شگفتہ سے محبت کرنا اور اس کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ اسی خیال کے پیش نظر میں نے اس کے تمام ضروری ٹیسٹ اور الٹرا سائونڈ کروائے۔ یعنی جو کچھ جس ڈاکٹر نے کہا کرتی چلی گئی۔ آخر میں پتا چلا کہ وہ ہزار پائے کی گرفت میں ہیں۔ شاہدہ نے بات کرتے کرتے خوامخواہ میں سمٹتی فائلوں کو دوبارہ سمیٹنا شروع کر دیا۔
پھر؟ چند لمحوں بعد رابعہ نے بمشکل اپنے گلے سے آواز نکالنے کی کوشش کی۔ پھر… پھر کیا! پھر ایک روز میں نے ہمت کر کے بتا دیا۔ سب سن کر شگفتہ نے میری جانب کچھ ایسی نظروں سے دیکھا کہ جن میں دیوانگی سے مشابہت رکھتی ملی جلی ہنسی تھی۔ اس میں دکھ تھا اور آنکھوں میں استفسار کہ اچھا! ہم جیسوں کے ساتھ مزید یوں بھی ہو سکتا ہے۔
بیماری کی تفتیش کے دوران ان کی بہنوں سے رابطہ رہا! شاہدہ نے ہاتھ میں پکڑے پین کو اپنی ہتھیلی پہ بجایا۔ بہنیں آئیں اور انھیں بڑے ہسپتال میں داخل کروا گئیں۔ رابعہ! نہ معلوم مجھے ان لمحوں میں کچھ ایسا لگا کہ جیسے کوئی کسی کنڈم مال کو گودام میں داخل کروا دے۔ البتہ بہنوں نے یہ فراخدلی ضرور دکھائی کہ علاج کے لیے پیسوں کی فکر نہ کرنی پڑی کہ انھوں نے ایک بھاری رقم جمع کروا دی۔ اور اس معذرت کے ساتھ واپس چلی گئیں کہ ہماری مجبوریاں ہیں کہ وہاں اپنے گھروں میں ہماری اپنی زندگی ہے۔ اسے بھی تو گزارنا ہے وغیرہ وغیرہ۔
پھر؟
بس پھر ڈاکٹروں نے ان کی زندگی کا حاصل ضرب تقریباً تین ماہ نکالا اور روٹین کا علاج بھی شروع کر دیا۔ وہی کیمو تھراپی، ریڈی ایشن مارفیا کے انجکشن اور نہ معلوم اور کیا ، کیا! شگفتہ نے بڑے سکون سے اپنی زندگی کا یہ سارا تماشا دیکھا۔ شاید انھوں نے سمجھ لیا تھا کہ ان کی زندگی کا منطقی انجام اور حقیقت یہی ہے … ہسپتال میں تم ان سے ملنے جاتی تھیں؟ رابعہ نے بے صبری سے سوال کیا۔
ہاں بھئی کیوں نہیں جانا تھا میں نے؟ وہ میری دوست تھی۔ ایک روز گئی تو کہنے لگیں! شاہدہ! مجھے ایک چھوٹے سائز کا کیسٹ پلیئر اور چھوٹے ہی سائز کے ٹیپ چاہئیں۔
کیا کریں گی آپ؟ بھئی کچھ نہیں میں باتیں کروں گی۔ ٹیپ سنتا رہے گا۔ مجھے ہنسی آ گئی۔ بھئی آپ میری بجائے ٹیپ سے باتیں کریں گی۔ یہ تو کوئی دوستی نہ ہوئی خیر اگلے ہی روز میں نے ان کی فرمائش پوری کر دی۔
مہلت ہی کتنی تھی۔ دن رات جھپا جھپ گزرنے لگے۔ کبھی بہت اہتمام اور شوق سے ڈریس اَپ ہوتیں تو لگتا کہ سنبھل جائیں گی … بہرحال وہ دن بدن سکڑتی جا رہی تھیں۔ دو چار روز کے لیے مجھے اسلام آباد میں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے جانا پڑا … واپس آئی۔ ملنے گئی تو دل کو زبردست دھچکا لگا۔ وہ ہسپتال کے معمول کے لباس میں تھیں۔ ان کا وجود ایک دم سے سکڑ گیا تھا۔ میں پلنگ کی پٹی پہ بیٹھ گئی۔ ان کے پیروں پہ سوجن تھی۔ پوچھنے لگیں۔ یہ پائوں کیوں سوج گئے ہیں؟ کچھ نہیں یہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ میں نے قدرے تجاہل کا اظہار کیا۔ انھوں نے پیروں پہ یوں ہاتھ مارا جیسے کوئی گرد جھاڑے۔ بے اعتباری اور طنز بھری نگاہوں سے میری جانب دیکھا اور ہلکا سامسکرا دیں۔ نرس کو بلایا، کمرے کی الماری میں سے ایک بیگ نکلوایا۔ مجھے دیا۔ اور کہنے لگیں۔ یہ بند ہے یہ میری جانب سے آپ کے لیے تحفہ ہے اسے کھولنے کا آپ کو اختیار ہے۔ پھر میری جانب دیکھا اور پوچھا ہم دونوں دوست تھے نا؟؟ بس یہ چھوٹا سا تالا ہے۔ توڑا جا سکتا ہے۔ تھوڑی دیر تک میں ان سے اوپری اوپری باتیں کرتی رہی۔ یعنی جھوٹ بولتی رہی۔ نرس ٹیکا لگانے آئی تو ہم دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ دبایا ان کی آنکھیں نمناک تھیں۔ میں منہ پھیر کر چلی آئی …تین روز بعد صبح سویرے ہسپتال سے فون آیا۔ جی وہ آپ کی دوست شگفتہ بی بی … جی…جی… وہ چلی گئیں… یعنی کہ… اچھا! کہہ کر میں نے فون بند کر دیا۔ مجھے ان کے جن رشتہ داروں کے فون یا ایڈریس معلوم تھے۔ میں نے سب کو اطلاع کر دی… تم بھی پہنچ گئیں؟ رابعہ نے پوچھا۔ نہیں رابعہ! میں نہیں گئی۔ میرا جی ہی نہیں چاہا۔ میرا دل، میرا ذہن بلکہ میرا تمام وجود خالی سا ہو گیا، میرا ایک آنسو نہیں نکلا۔ اس روز میں نے دن بھردفتر میں ڈٹ کر کام کیا دیکھو نا! ہے نا عجیب سی بات! یہ کہتے کہتے شاہدہ کی آواز ٹوٹ گئی اور ساتھ ہی موٹے موٹے آنسو آنکھوں سے گرنے لگے۔ چند لمحوں بعد وہ سنبھلی، کھنکاری اور رابعہ سے پوچھا… تمہیں گھر جانے کی جلدی تو نہیں؟ کیوں؟ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ تمہیں کچھ دکھانا تھا۔ ہاں! ہاں دکھائو نا! مجھے بالکل جلدی نہیں میں سب سمیٹ سماٹ کر آئی ہوں۔
شاہدہ نے اپنی رائیٹنگ ٹیبل کی دراز کھولی اور کالے چمڑے کے بیگ میں سے اخروٹ کی لکڑی سے بنا ہوا ایک چوکور ڈبہ نکالا۔ ڈبے پہ چنار کا پوری ہتھیلی جیسا چوڑا پتا اپنے ارد گرد کے تمام کٹائو کے ساتھ کھدا ہوا تھا۔ چند ہی لمحوں میں رابعہ کو قائداعظم ریزیڈنسی کا چنار کا وہ درخت یاد آ گیا جس کی بڑی بڑی مضبوط ٹہنیاں اپنے فطری جھکائو میں جھکتی چلی گئی تھیں۔ دھوپ میں سورج کی شعاعوں سے بنے دھیمے دھیمے شعلوں جیسے رنگ ان پتوں پر برستے تھے۔ تو ماحول عجیب خوابناک سا لگتا۔
کیا ہوا؟ تم کیا سوچ رہی ہو۔ کچھ نہیں بھئی! بعض اوقات ذہن خوامخواہ قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔
یہ وہی ڈبہ ہے؟ رابعہ نے پوچھا ۔ ہاں یہ وہی تحفہ ہے شاہدہ نے آہستگی سے جواب دیا۔
تھوڑی سی کوشش کے بعد تالی کھل گئی۔ ڈبے میں بڑے سلیقے سے وہی مناسا ٹیپ ریکارڈر اور ٹیپیں تھیں۔ شاہدہ نے رابعہ سے کہا تم ذرا اخبار دیکھو۔ میں رائونڈ لگا کر آتی ہوں۔ شاید کوئی گانا ہو یا کوئی ڈائری نما چیز ہو۔ خیر تم انتظار کرو میں آدھ پون گھنٹہ میں آتی ہوں۔ پھر دونوں سنتے ہیں۔
زندگی کی گمبھیرتا اور حالات کا کھوکھلا پن جب کسی فرد کی زندگی میں در آتا ہے اور وہ اس کیفیت کو بامعنی بنانے کی سعی کرتا ہے تو وقت کا جھکڑ اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ میں ذہنی طو رپہ خود کو ذرا سنبھال سمیٹ لوں تو بات آگے چلے۔
کسی بھی کہانی کا جنم بڑے جتنوں کا مرحلہ ہے۔ حالات کی واقعاتی بد شکلی و بدزیبی کو بھی پیش کرنے میں حسن سلیقہ درکار ہوتا ہے خیر! مجھے اتنی گہری باتوں سے کیا لینا دینا میں تو کچھ بولنا چاہتی ہوں سنانا چاہتی ہوں… جب بیتتی ہے تو کتنی لمبی لمبی بیتتی ہے، جب سمیٹنے لگو تو کس قدر مختصر سی ہوتی ہے۔
کچھ بھی نہیں بس عام دنوں جیسا ایک دن تھا۔ سہ پہر بھی روز جیسی سہ پہر تھی کہ میں نے پڑھتے پڑھتے تھکن محسوس کی تو اپنی کزن کے گھر چلی گئی۔ وہاں کوئی اور ہی سین تھا کہ جیسے کوئی اہم مہمان آنے والے ہوں۔ مجھے سمجھ تو آگئی اور میں کھسیانی سی ہو گئی کہ میں غلط وقت پر اور کسی غلط جگہ پر آگئی ہوں۔ مختصر یہ کہ میری شادی نے کسی اور کو حیران کیا ہو یا نہیں لیکن میں ششدر تھی کہ یہ قطعی ایک فلمی شادی تھی جسے ایک اوسط درجے کے ڈائریکٹر نے ڈائریکٹ کیا ہو۔ جب میرا رشتہ طے ہو رہا تھا تو اس وقت بھی میرے لاشعور میں عمل مکافات کا لفظ اپنے لغوی معنی کے علاوہ بہت سے دیگر نازک احساسات و امکانات کے ساتھ موجود تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں کسی نا انصافی کی مرتکب ہوئی ہوں ایسی نا انصافی جو اگلے کے دل کو اندر تک چیر دے۔ نا انصافی کرنے والا آنے والے وقت میں خود یا اس کی آنے والی نسل میں سے کوئی نہ کوئی اس نا انصافی کو بھوگتا ہے۔ اور یہ نا انصافی کرنے والا میرا گورا چٹاوجود تھا جو تمہیں بھاگیا۔ سو میں نے اسے بھگتا اور یہی عمل مکافات ہے۔ میرے خاندان کی لڑکیاں خوش شکل تھیں میرے لیے بھی شادی کوئی مسئلہ نہیں تھی۔ تم باوجود اپنے منگول خدوخال، ان منجھے تانبے کی رنگت، لیکن متناسب جسم اور اونچی قامت کے مجھے دلکش لگے، تمہاری سسرال یعنی میرے گھر میں اور سہیلیوں میں تمہیں آبنوس کہا جانے لگا……
جمنا میں کل نہا کے اس نے جو بال باندھے
ہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے
تم الماری میں سے کپڑے نکالتے ہوئے گنگنا رہے تھے۔ میں چونکی۔ یہ تومصحفی ہیں۔ آپ کا شعر سے کیا تعلق؟ ہم انجینئر ہیں، کباڑیئے تو نہیں ہیں۔ اب اگر کسی کے خوبصورت بال حیران کر دیں پھر مصحفی ہی یاد آئیں گے نا۔ تم نے بہت بشاشت سے جواب دیا تھا۔ اس ستائش بے محابا سے میں گلنار ہو گئی تھی میرے حیران ہونے پہ مزید کہا کہ واقعی میں نے ایسے خوبصورت اور لمبے بال کسی اور خاتون کے نہیں دیکھے۔ میں اپنی کلائی کا کنگن گھما کر رہ گئی۔ ہماری شادی کو اس روز صرف پندرہ روز ہوئے تھے اور ہم مری، سوات وغیرہ گھوم گھام کر ایک رات پہلے گھر واپس پہنچے تھے۔ عجب سرشاری کے شب و روز تھے تیز دھوپ میں مجھے نرم گرم بادلوں کا احساس رہتا اور بارش اور بادل کا گمبھیر موسم مجھے ہلکی خوشگوار تمازت کا احساس بخشتا۔ نہ تمہارے ہاتھ اور بازو دم لینے دیتے نہ میرے پائوں زمین پہ ٹکتے۔ سارا وجود ہوا کے ایک لطیف سے جھونکے کی لپیٹ میں رہتا… یہ ساری کیفیتیں میرے اندر تھیں۔ باہر تو سب کچھ اپنی روٹین رفتار سے چل رہا تھا …
تمہیں بھی یاد ہو گا کہ تمہاری سالگرہ تھی اور میں تمہیں سر پرائز گفٹ دینا چاہتی تھی اور وہ گفٹ سویٹر تھا جو میں خود بننا چاہتی تھی … سمن میری بہن اس سرپرائز میں میری ہمراز تھی۔ ایک دوپہر اس نے تمہیں باتوں میں لگایا اور مجھے تمہاری پشت کی لمبائی کو بالشت سے ناپنے کا اشارہ کیا۔ تمہیں دوسری ہی بالشت پر سمجھ آ گئی۔ ’’یہ محبت کا نیا انداز ہے؟‘‘ یہ کہتے ہوئے مجھے کلاوے میں لے لیا۔ بھئی اگلے وقتوں میں بہت سوں نے ہمارے ناپ ہمارے رو برو کھڑے ہو کر لیے ہیں۔ تمہارے منہ سے یہ سن کر شاید لمحہ بھر کو میرا کوئی رنگ بدلا ہوگا تو تم نے کہا تھا نہیں اب ایسا نہیں ہو گا اور میں نے بھی دل میں یہ دعا کی تھی کہ بختیار وہ وقت تمہارا تھا جو ہوا سو ہوا لیکن اس موجود لمحہ سے آنے والے زمانوں تک یقیناً ایسا نہیں ہو گا۔ ساتھی بن سکتا ہے، ساتھ چل سکتا ہے تو گویا سب چلے گا۔ میں نے اپنے دل کے ساتھ کچھ عہد نما سی بات کی …!!
میں فطرتاً Sense & Belongingمیں بڑی شدت کے ساتھ یقین رکھتی تھی۔ میں ہر دو جانب سے ایک ہی جیسی سطح کی Relationshipکا خواب دیکھتی تھی۔
رلّی کا چھاپا خواہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو لیکن اوڑھنے پر پتا چلے کہ یہ تو کچے رنگوں سے سجائی گئی ہے دل دکھتا ہے اور تمام کی تمام رلّی دھبے دھبے ہو جاتی ہے۔ میں اپنے اور تمہارے درمیان رنگوں کی رُت میں ہی جینا چاہتی تھی دھبوں میں نہیں۔
گھر سے ہم دونوں ہنستے کھیلتے نکلے۔ ادھر اُدھر کے چھوٹے موٹے کام کیے، لیکن جب میں اور آپ بائبل سوسائٹی سے ڈکشنری خرید کر باہر نکل رہے تھے کہ توصیف مجھ سے ٹکرایا۔ توصیف بھی فلسفے کا طالب علم تھا لیکن وہ کہیں ملازمت بھی کرتا تھا، اس لیے کلاس میں کم کم آتا۔ وہ ایک ہنس مکھ اور دوست قسم کا لڑکا تھا۔ اس کی سب لڑکیوں اور لڑکوں سے دوستی تھی اور ہم سب لڑکیاں اس سے ایسے ہی ہنسی مذاق کرتی تھیں، جیسے وہ بھی لڑکی ہی ہو۔ جب وہ مجھ سے ٹکرایا اور ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا تو بے ساختہ ہنس دیئے۔ یوں اچانک ملنے پر ہم دونوں کو خوشی بھی ہوئی، جو ہمارے چہروں پہ چھائی ہوئی تھی۔ میں تم سے دو چار قدم آگے تھی۔ تم کائونٹر پہ ادائیگی کر کے ہمارے قریب آتے جارہے تھے۔ توصیف نے ایک نظر تمہیں دیکھا اور آہستگی سے کہا۔ ’’اچھا ! تو اس گلفام کی خاطر تم نے اپنا ماسٹر زمکمل نہیں کیا اور شرارت سے ہلکا سا آنکھ کو دبایا۔ تم نے یہ سب دیکھ لیا۔ باقی کے مفروضے تمہارے اپنے ذہن کی ترتیب و تدوین تھی۔ اس واقعہ نے ہمارے پیروں کے نیچے بچھی زمین کو انھیں لمحوں میں پاٹ دیا تھا یعنی ’’نہ گلفام ہی رہا نہ پری رہی۔‘‘
یہ بھونچال تم نے کمال نفاست سے اپنے ہاتھ پہ روک لیا، لیکن یہ بھونچال ہم دونوں کی زندگیوں میں گاہے گاہے نا معلوم طور پر نقب زنی کرتا رہا۔ نتیجتاً میں سہمی سہمی رہنے لگی اور میرا اور تمہارا رشتہ مالک اور غلام کی صورت اختیار کرتا چلا گیا۔ تمہیں یقیناً یاد ہو گا کہ اس واقعہ کے تھوڑے دنوں بعد میں نے اپنی پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کی، تم نے کمال تحمل سے سنا اور جواب میں یہ کہا تھا’’آپ اس واقعہ کو بھول جائیں لیکن میں۔ میں، ولیوں، پیغمبروں اور مجذوبوں میں سے نہیں ہوں کہ اپنی ذات کو فراموش کر دوں۔ لا محالہ آپ سے التفات کے لمحوں میں یہ واقعہ میرے ذہن میں در آئے گا۔ میں کوشش کرتا رہوں گا کہ ذہن کو قابو میں رکھوں…‘‘ زندگی خود نہیں چل رہی تھی بلکہ ہم دونوں اس کی انگلی پکڑ کر اسے قدم چلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ … کہ ایک اور دھماکہ ہو گیا۔
میری دوست فائزہ نے اپنے گھر پہ چار، چھ لوگوں کی پارٹی کی۔ اس نے ہم دونوں کو بھی بہت شوق سے بلایا۔ تمہارے لیے خاص طو رپہ تاکید بھی کی لیکن تم جانا نہیں چاہتے تھے۔ سو کوئی بہانہ بنا لیا اور نہ گئے۔ مجھے فائزہ کے گھر ڈراپ کر کے تم گھر آگئے۔ واپسی کے لیے میں نے کہا کہ کوئی بھی گھر پہ اتار دے گا یہ واقعہ میں نے تمہیں تب بھی سنایا تھا، آج پھر سے دہراتی ہوں۔ جس طرح سے یہ وقوع پذیر ہوا وہ یوں تھا۔ خدا حافظ کہتے کہتے سب فائزہ کے گھر سے باہر نکل گئے لیکن فائزہ کی امی کو میں شادی کے بعد پہلی مرتبہ مل رہی تھی۔ انھوں نے مجھے شگن کے طو رپر کچھ نقدی دینی چاہی میں نہ نہ کرتی رہی اور انھوں نے زبردستی رقم میرے بٹوے میں ڈال دی۔ یقین جانو بس اتنی ہی دیر ہوئی تھی لیکن جب میں گاڑی کے پاس پہنچی تو پچھلی سیٹ پر میری تینوں دوستیں بیٹھ چکی تھیں۔ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی اور گاڑی چلا رہاتھا توصیف… میرے پاس سوائے ساتھ بیٹھ جانے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ راستہ بھر میں سانس رو کے بیٹھی رہی کہ خدانحواستہ تم کہیں گھر کے گیٹ پر موجود نہ ہو … لیکن تم گیٹ پر میرے انتظار میں موجود تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ میں گھر کے اندر کن قدموں سے چل کر گئی … بہرحال اب کوئی بھی ہم دونوں کے درمیان کسی مفاہمت کی کوشش کرتا تو یقیناً ناکام رہتا… گھر میں سناٹوں کی دیواریں مزید تہہ در تہہ ہوتی چلی گئیں۔ اور میرا وجود بھر بھری مٹی کی ڈھیری میں ڈھل گیا کہ جو کوئی بھی صورت اختیار نہیں کر پاتا …
میں نے تم سے باتیں کرتے ہوئے کہیں پہ عمل مکافات کا لفظ بولا ہے۔ یہ لفظ میرے اندر کھب گیا ہے۔ اس احساس کا ایک پس منظر ہے یہ پس منظر میری کزن کی بیمار والدہ کی وہ نگاہ ہے جس روز انھوں نے تمہاری موجودگی میں مجھے بھی وہاں موجود پایا۔ ان کی نگاہوں میں لکھا بالکل صاف پڑھا جا رہا تھا کہ میں نے ان کے گھر میں ڈاکہ ڈالا ہے اس سب کے باوجود میں وہاں موجود رہی حالانکہ میرے خاندان میں لڑکیوں کی شادی کوئی مسئلہ نہیں تھی کہ تمام لڑکیاں خوش شکل و خوب رو تھیں۔ بہرحال میری پسند کی زندگی عمل مکافات کی نذر ہوتی رہی اور مختلف حالات و واقعات سے اس کی تشریح در تشریح بھی ہوتی چلی گئی۔
بختیار! یہاں ہاسپٹل  میں مجھے اپنی ایک تائی جی بہت یاد آ رہی ہیں … خاندان میں کسی کی شادی تھی میری اماں اور تائی جی کو جانے کیا سوجھی کہ دونوں نے لڑکیوں سے ڈھولک لی، تائی جی نے اپنی لرزتی آواز اٹھائی اور آبرو سے میری اماں کو بھی آواز ملانے کا اشارہ کیا۔ گانے کے بول تھے:
اُچیاں لمیاں ٹاہلیاں اوئے
وچ گجری دی پینگ وے ماہیا
پینگ چوٹیندے دو جنے اوئے
عاشق تے معشوق وے ماہیا
چوٹیندے چوٹیندے ڈِگ پئے اوئے
ہوگئے چکنا چور وے ماہیا
سسی نے پاسا پرتیا اوئے
پنوں تے ہے نئیں نال وے ماہیا
اور! ’’پنوں تے ہے نئیں نال وے ماہیا‘‘ کی تکرار کرتے کرتے ان دونوں خواتین کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے میں خود اس وقت پانچویں کلاس میں تھی لیکن یہ رنجیدہ لمحات میرے منے سے ذہن میں لفط ’’پنوں‘‘ کی تکرار کے سات نقش ہو گئے … دیکھو بختیار! میں کوئی بہت سوجھ بوجھ نہیں رکھتی لیکن پھر بھی تم میری بات اور سوچ کو سراہتے تھے سو آج، اس وقت تک میں یہی سمجھ پائی ہوں کہ ، ہوشمندی، عقل، دانش، شعور، اِدراک، تقریباً ایک ہی جیسے معانی کے سب الفاظ اور پھر وہی اشتباہِ نظر کا حصار، مشاہدہ، گمان، یقین اور پھر ایمان … یہ زمانے، یہ فاصلے ، سوچ، فکر کی تمام مسافتیں کب طے ہوتی ہیں، ایک وقت میں سب کچھ جگمگ اور پھر شور مچاتا سناٹا اور ہر سو گھپ اندھیرا… نہ معلوم کتنی زندگی اور ، یاس ، شعور، اور لا شعور کے زیرو زبر میں مبتلا… اپنے اندر کے گھنے جنگل میں خود کو تلاشتا ہوا، ایک وجود بنا مرکز کے، کبھی کسی مزار پر، کبھی کسی درویش  کے دربار میں ، کبھی کسی پیس ہائوس میں اور آخر کار مہلک بیماری کے جنرل وارڈ میں، گزرے زمانے کی گزری آہٹ کو ذہن میں محفوظ کیے، موجود وقت کی قربان گاہ پر چڑھ جانے کے لیے، تیار… میں بہت دانش نہیں رکھتی لیکن زندگی کی کڑواہٹ دل کو سکیڑ دیتی ہے۔
برسوں پہلے میری تائی جی کی زبان سے نکلی گانے کی یہ ایک سطر حقیقت بن کر میرا سایہ بن گئی ہے اور آج میں یہ سوچتی ہوں کہ میری تائی جی کا پنوں بھی ان کی زندگی کا کوئی آدرش کوئی پرایا جو اپنا نہ بن سکا، کوئی دوست، کوئی ماں جایا … بختیار! محبت کے سو رنگ ہیں، نہیں جانتی تھی کہ محبت کا گاڑھا اور گوڑا رنگ ایک ہی ہے اور اس کے ساتھ انا کا خار بھی ہے کہ دو انسانوں کے درمیان ایک کی انا دوسرے انسان کے ہوش و حواس کی فناء ہے۔ تمام گلیاں، در، دروازے بند نظر آنے لگتے ہیں۔ زندگی اندھا کنواں بن جاتی ہے … ہر چاہت جس میں سچائی ہے، گہرائی ہے، یہ سب ’’پنوں‘‘ ہیں۔ آج مجھے اپنی تمام چاہتیں، ساری محبتیں یاد آ رہی ہیں جو ایک بڑے خاندان کی صورت میں پیچھے چھوڑ آئی تھی۔
توصیف کانام ہم دونوں کی زندگیوں میں بہت گہرا اتر گیا۔ اسے ذہن سے جھٹکنا ہمارے بس کی بات نہ رہی، میں گوارا کر بھی لیتی، لیکن میں تمہیں عذاب میں مبتلا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ ہم دونوں بد دیانت نہیں تھے۔ تم میری ذات کا مکمل Possessionچاہتے تھے جبکہ میں ہر دو جانب سے Belongingکی خواہش رکھتی تھی۔ شب و روز گزارنے ایسے تھے کہ جیسے جہنم کے عذاب میں مبتلا… سو بتانے والوں نے بتایا کہ ایک رات اچانک میں نے چیخنا چلانا اور اپنے سنبھالنے والوں کو دھکے مارنا شروع کر دیا تو مجھے ہاسپٹل لے جایا گیا جب دو روز بعد میں سنبھل کر گھر آئی تو تم گھر پر نہیں تھے۔ معلوم ہوا کہ تمہارا بلڈ پریشر بہت اونچا چلا گیا تھا۔ تمہیں بھی ہاسپٹل داخل کروانا پڑا۔ اس روز کے بعد سے ہم ایک دوسرے کی صورت نہ دیکھ پائے کہ دو روز بعد تم برین ہیمرج کا شکار ہوئے… تنہائیوں اور سناٹے کی آگ نے مجھے بھسم کر دیا ۔ میں رونے اور چیخنے کے عمل سے بار بار گزرنے لگی۔ میرا ذہن کچھ ایسے اوپر تلے ہوا کہ لوگوں نے مجھے دیوانہ سمجھ لیا لیکن بختیار! سنوتو! میں دیوانی تو نہیں تھی۔ میں تو فقط تمہارے ساتھ گزرے خوبصورت وقت کو اور تمہیں یاد کرتی تھی۔ تمہاری یاد نے مجھے تماشا بنا ڈالا۔
شاہدہ نے نئی ٹیپ لگائی۔ آواز آئی۔ معلوم ہوتا ہے نرس آج مجھے مارفیا کی ڈوز زیادہ دے گئی ہے تاکہ درد قابو میں آئے اور میں سوسکوں۔ مجھے واقعی نیند آ رہی  ہے۔ ہان یاد آیا سونے سے پہلے میں تمہیں جلدی سے بتا دوں کہ جمنا کا پانی سوکھ گیا ہے اور ریڈی ایشن نے میرے بال نوچ لیے ہیں۔ کتنا خوبصورت شعر تھا جو تمہاری زبان سے میرے لیے پہلی بار نکلا۔ میرا وجود ڈھیلا پڑتا جا رہا ہے اب مجھے واقعی نیند آ رہی ہے… ٹیپ خالی چلتی چلی گئی آخر ٹِک کی آواز سے پتا چلا کہ آگے ساری ٹیپ خالی ہے۔ شاہدہ نے کمرے سے نکلتے ہوئے رابعہ سے کہا۔ اب اٹھو۔ میں جا رہی ہوں۔ یہ ڈبہ دراز میں رکھ دینا۔ رابعہ جواب میں کچھ نہ بولی۔ اس نے میز پر ٹکا سر اٹھایا۔ آنکھوں کے دھندلے پن کو دوپٹے سے صاف کیا اور فرزانوں کے کامن روم کی جانب چل دی۔ وہاں ایک ہنگامہ تھا۔ آیائیں مختلف رپورٹیں دے رہی تھیں، روبینہ ہر کسی کو مکے مار رہی تھی اور مسلسل ہنسے جا رہی تھی۔
عاشی بال نہیں کاٹنے دیتی۔
ثمینہ سر میں جوئیں مارنے کی دوائی نہیں لگانے دے رہی۔ آسیہ نے نہانے سے انکار کر دیا ہے۔ ماجد بھائی سحری کے وقت سے برآمدہ ناپ رہے ہیں یہ ماجد بھائی ہیں کیونکہ یہ پچھلے تیس سال سے یہاں ہیں۔ شاہدہ یہ سب معاملات طے کرنے کی کوشش میں ہے … رابعہ خلق خدا کی اس مجہولیت پہ دکھی اور نادم ہے لیکن اس وقت اس کے اندر ان فرزانوں سے ایک لا تعلقی پیدا ہو گئی ہے۔ وہ کمرے کے ہنگامے سے نکل کر برآمدے میں آگئی اور ستون سے ٹیک لگائے خالی ذہن ادھر ادھر دیکھنے لگی دفعتاً اس کے ذہن کی ایک پرت کھلی تو دور بہت دور …برسوں دور کا ایک منظر… گرمی سے گلے ملتا موسم۔ عمر رسیدہ درختوں سے سجے بڑے بڑے لان، آم کا تناور درخت، پھل کے بور سے بوجھل، اسی آم سے ذراہٹ کر کین کی کرسیوں پر بیٹھے بچپن کے تین دوست زندگی کی جنگ جیتے ہوئے۔ من و تو سے سرخرو… شام کی چائے کا وقت وہ یونیورسٹی سے آج دیر سے گھر آئی تھی ۔ عزیزچائے کی ٹرالی اندر لایا تو اس نے عزیز سے کہا ’’مجھے بھی چائے دے دو اور یہ کاغذ تم کیوں اٹھا لائے ہو؟ میں تو نہیں لایا بی بی جی۔ اس کاغذ کے لکھے پر ہمارے صاحب اور ولایت والے صاحب بہت اونچی آوازوں میں بول رہے تھے۔ رابعہ نے اس کاغذ پہ لکھا جو برسوں پہلے پڑھا تھا آج، اس لمحے اس کے ذہن میں سکول کی دعائیہ اسمبلی میں پڑھی جانے والی نظم کی طرح از بر تھا۔
تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں
اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنسائو!
اجل! یہ سب انسان منفی ہیں
منفی زیادہ ہیں، انسان کم
ہو ان پر نگاہِ کرم
اجل ان سے مت کر حجاب
اجل، ان سے مل
اجل، اجل
رابعہ کو اطمینان قلبی محسوس ہوا کہ اسے یقین تھا کہ مخلوق خدا کے لیے اس نے دعائے خیر مانگی ہے … اس نے بیگ کو کندھے پہ لٹکایا اور شاہدہ کو بتائے بغیر پیس ہائوس سے باہر نکل آئی … اس کے دماغ میں کوئی اجل …اجل بولے جا رہا تھا۔
٭٭٭٭