ساجد صدیق نظامی
 اردو کے لیے لا طینی رسم الخط …؟


زبان اور اس کا رسم الخط جس میں وہ لکھی جاتی ہے، کسی بھی قوم کے تہذیبی سرمائے کا اہم ترین جزو ہوتے ہیں۔ انھیں نظر انداز کر کے تہذیبی شناخت قائم رکھنا نا ممکن ہے۔ اس مسلمہ حقیقت کو سب مفکر اور دانشور تسلیم کرتے ہیں۔ قوم کی یکجہتی میں یہ عناصر بہت زیادہ کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا رسم الخط کے مسئلے کو سادہ اور آسان سمجھنا درست نہیں۔ اردو کے لیے متبادل رسم الخط کی بحث کا پس منظر خاصا پرانا ہے۔ اس کا آغاز برصغیر میں انگریز حکومت کے قیام سے ہوتا ہے۔ ۱۸۸۲ء میں رسم الخط کی تبدیلی پر بھی غور کیا مگر تب سر سید احمد خاں نے جو اس کمیشن کے رکن تھے اس تجویز کی سخت مخالفت کی لہٰذا یہ ممکن نہ ہو سکا۔ بعد ازاں جب بر صغیر میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں تو پھر یہ تجاویز سامنے آئیں کہ پورے ہندوستان کا رسم الخط مشترکہ ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں رومن اور دیونا گری رسم الخط متبادل کے طور پر سامنے آئے لیکن نہ ہندو دیوناگری سے دستبردار ہوئے اور نہ مسلمان اپنے رسم الخط سے۔ اس بحث نے تب پھر زور پکڑا جب مشرقی اور مغربی پاکستان میں مغائرت بڑھنے لگی۔ تب یہ تجویز سامنے آئی کہ پاکستان کے دونوں حصوں کا رسم الخط مشترکہ طور پر رومن کر دیا جائے مگر اسے بھی رد کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ رسم الخط کا تعلق تہذیب اور شناخت کے بنیادی مظاہر سے ہوتا ہے۔ اسے بدلنا یا ترک کرنا آسان نہیں۔ رسم الخط کی تبدیلی کی تجویز تب آنی چاہیے جب آپ کا رسم الخط آپ کی زبان کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر  ہو تو اسے دور کرنے کی فکرکرنی چاہیے نہ کہ سہل پسندی سے کام لیتے ہوئے دوسرے رستے اپنانے چاہیئیں۔ نیز یہ کہ کسی قوم کو احساس کمتری کا شکار ہو کر ترقی یافتہ اقوام کے مظاہر اپنانے سے بدرجہا بہتر ہے کہ ایسے وسائل پیدا کیے جائیں جو اس صورتحال سے عہدہ برآ ہو سکیں۔ ایران میں آج بھی فارسی رسم الخط میں SMSکرنے والے سے رومن رسم الخط میں پیغام رسانی کرنے والوں سے کم اخراجات وصول کیے جاتے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ لاطینی رسم الخط اپنانے سے شرح خواندگی بہت زیادہ بڑھ جائے گی کیونکہ پاکستانی معاشرے میں سوشل میڈیا اور موبائل فونز استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ یہ لوگ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے لاطینی حروف تہجی اپناتے ہیں۔ عرض ہے کہ پاکستان کی اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں سے صرف دس ملین افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ تعداد ساڑھے پانچ فی صد کے آس پاس بنتی ہے یعنی ہر اٹھارہ افراد میں سے ایک فرد سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے۔ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سترہ لوگ اہمیت رکھتے ہیں یا وہ ایک جو سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ جہاں تک ذہانت کو بلند کرنے کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ طالب علم کو اس کی مادری زبان میں پڑھایا جائے تو اس کی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ لاطینی حروف تہجی کی مدد سے کمپیوٹرز اور سمارٹ فونز پر سافٹ ویئرز، موبائل ایپلی کیشنز تیار کر کے دیہات کے طلبہ تک پھیلائے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں دو باتیں عرض ہیں۔ اول کہ دیہات تو دور کی بات بڑے بڑے شہروں کے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار ہمارے سامنے ہے جہاں بنیادی ضروریات بھی مکمل نہیں کجا کہ ان کے لیے سمارٹ فونز، سافٹ ویئرز، ایپلی کیشنز اور اس نوعیت کے پروگرام تیار کیے جائیں۔ اس وقت بھی بآسانی اردو حروف تہجی ہر جگہ لکھے جا رہے ہیں۔ ایک سے زائد قسم کے کئی بورڈز موجود ہیں۔ googleنے اپنے Translator میں اردو کو جگہ دی ہے۔ نیز دنیا کے ہر خطے میں اردو حروف تہجی میں سوشل میڈیا پر لوگ اپنے خیالات کا اظہا رکر رہے ہیں۔ جب آپ کے پاس اپنا سرمایہ موجود ہے تو پھر کسی کی طرف کیوں دیکھیں؟ موجودہ حروف تہجی اور رسم الخط کی ایک خصوصیت جو قابل ذکر ہے وہ یہ کہ اس رسم الخط میں وہ اصوات بھی بآسانی ادا کی جا سکتی  ہیں جو انگریزی، فارسی اور عربی رسم الخط میں ادا نہیں کی جا سکتیں۔ مثلاً ڑ، ڑھ، ڈ، ڈھ، جھ، گ، ژ وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک بہت بڑی خصوصیت ہے جس پر ہمیں فخر ہوناچاہیے۔ نیز یہ کہ ہمارا رسم الخط ایک قسم کا شارٹ ہینڈ ہے جو لکھنے میں کم جگہ گھیرتا ہے اور وقت بھی کم لیتا ہے۔ ہم ض، ز، ظ، ژ استعمال کرتے ہیں اور وہاں صرف  پھر یہ کہ ہمارے رسم الخط میں زیر، زبر ، پیش ، تشدید کے لیے حروف کی جائے حرکات موجود ہیں جبکہ لاطینی حروف تہجی میں اضافی استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ جس رسم الخط میں کسی زبان کا آغاز ہوتا ہے وہ اسے بے حد عزیز ہونا چاہیے۔ رسم الخط کی تبدیلی سے اردو میں موجود پچھلے پانچ سو برس کا علمی، دینی، ادبی سرمایہ اگلی نسل کے لیے بے معنی ہو جائے گا کیونکہ ان ہزاروں کتب کو رومنائز کون کرے اور نہ جانے اس کے لیے کتنی مدت درکار ہو؟ یوں بھی فن خطاطی ہماری تہذیبی میراث میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ فن خطاطی کی تمام تر بنیاد اردو حروف تہجی پر ہے۔ رسم الخط کی تبدیلی سے واقعتاً کوئی قوم اپنے سابقہ علمی و تہذیبی سرمائے سے کٹ جاتی ہے اور خلا میں گم ہو جاتی ہے۔ اس بات کو رجعت پسندی کہیں یا قدامت پرستی، حقیقت یہی ہے جو سب تسلیم کرتے ہیں۔ ترکی کی ایک مثال تو سب کو مل جاتی ہے۔ ترکی کے مقابلے پر روس، چین، بھارت اور جاپان نظر کیوں نہیں آتے جو اپنے اپنے رسم الخط کو اب تک سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور ترقی بھی کر رہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی رسم الخط دنیا کے پیچیدہ ترین رسم الخط میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب وہ رسم الخط کو محفوظ رکھ کر ترقی کر سکتے ہیں تو ہم اس سے آسان رسم الخط کے ہوتے ہوئے کیوں نہیں ترقی کر سکتے؟
(بشکریہ روزنامہ جنگ)