انٹرویو: عظمت زہرا

ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا سے ایک ملاقات

سوال: اس سال ہم اپنا ۶۵ واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ اس موقع پر ہم اردو کا مقدمہ کس طرح پیش کر سکتے ہیں؟
جواب:اردو کے لیے ہم دو قسم کے مقدمے لڑ رہے ہیں ایک سرکاری سطح پر اور دوسرا عوامی سطح پر۔ سرکاری سطح پر اسے اتنی پذیرائی نہیں ملی جتنی ملنی چاہیے تھی کیوں کہ اردو کو قومی زبان بنانے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ قومی زبان کے معاملے پر ہی مشرقی پاکستان کے سانحے کی کچھ بنیادیں قائم ہوئیں، حالانکہ اس کا راستہ تلاش کیا جاسکتا تھا کہ مغربی پاکستان میں بنگالی اور مشرقی پاکستان میں اردو کس درجے پر پڑھائی جاتی، اگرچہ وہاں اردو کی بنیاد موجود تھی لیکن یہاں یعنی مغربی پاکستان میں بنگالی زبان کی کوئی واضح بنیاد موجود نہیں تھی۔ اس بات کا تعین کیا جاسکتا تھا کہ کتنے سالوں کے لیے یہ دونوں زبانیں ان علاقوں میں پڑھائی جاتیں کہ ان کی بہتر ترویج ممکن ہوسکتی اور دونوں زبانوں کو برابری کا درجہ دیا جاسکتا تھا۔ جو تیر کمان سے نکل چکا ہے وہ واپس نہیں آسکتا۔ اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ علاقائی زبانوں کو فوری طور پر رائج کیا جائے لیکن یہ اتنا سہل نہیں کیوں کہ پاکستان کے موجود رقبے میں کسی بھی ایک علاقے میں صرف ایک علاقائی زبان نہیں بولی جاتی۔ بلکہ کسی ایک علاقے میں بھی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں جیسے خیبرپختونخواہ میں ہندکو اور پشتو، پنجاب میں پنجابی، سرائیکی، پوٹھوہاری اور اسی طرح کوئٹہ کے علاقے میں براہوی اور پشتو بولنے والے آباد ہیں۔ پنجاب میں بھی شاید ایک طرف پنجابی کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سرائیکی زبان کا اور اگر سرائیکی کا مطالبہ مان لیا گیا تو یہ معاملہ اور شدت اختیار کرے گا۔
سوال: کیا سب بڑی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دے دیا جانا چاہیے؟
جواب:ایک قومی زبان کی جگہ دوسری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ کیسے دے دیں؟ اس سلسلے میں بھی ایک غلط فہمی ہے۔ اگر آپ لاہور سے کراچی کی طرف سفر کریں تو یہ سفر پنجابی زبان سے شروع ہو کر اردو زبان تک کی منازل طے کرے گا۔ راستے میں سرائیکی علاقہ بھی آئے گا۔ سندھ میں بھی سرائیکی اور سندھی بولنے والے بستے ہیں۔ سندھ کی اپنی ایک روایت ہے عملی طور پر اب بھی وہاں اردو کا درجہ بلند ہے۔ کراچی میں اردو بولنے والے آباد ہیں۔ درحقیقت پنجابی، سرائیکی اور سندھی میں کچھ خاص فرق نہیں۔ یہ تینوں زبانیں بولنے والے افراد باآسانی اردو بول سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں میرا قیام رہا، چین میں جو زبان بیجنگ میں بولی جاتی ہے وہ شنگھائی میں نہیں بولی جاتی۔ وہاں اسکولوں میں زبان کے حوالے سے جو تعلیم دی جاتی ہے وہ ایک ہے۔ وہاں آپ جس طرح چاہیں بولیں لیکن جب لکھیں گے تو اسی Dialect میں جو کہ سرکاری سطح پر منظور شدہ ہے۔
سوال: پنجاب میں لوگوں نے اپنی مادری زبان کو چھوڑ کر اردو زبان کو اپنا لیا ہے کیا اس سے پنجابی زبان کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے؟
جواب:اردو اور پنجابی میں اتنا ہی فرق ہے کہ شنگھائی اور بیجنگ میں بولی جانے والی زبانوں میں فرق ہے۔ اس سلسلے میں میرا بہت سے لوگوں سے مکالمہ رہا ہے۔ بچہ جب کوئی بھی زبان سیکھتا ہے تو سو یا ڈیڑھ سو الفاظ لے کر گھر سے نکلتا ہے۔ میں یہ سوال کرتا ہوں کہ آخر کیوں؟ سو سال میں سب سے بڑا شاعر، افسانہ نگار پنجاب ہی میں پیدا ہوا۔ تمام بڑے کری ایٹو رائٹرز ( Creative Writers )یہاں ہی سے ابھرے۔ اگر آپ پنجابی نہیں بولتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کی زندگی سے نکل گئی۔ وہ عورت جو گاؤں سے شہر کام کرنے آتی ہے۔ وہ ایک ہفتے میں اردو بولنا سیکھ جاتی ہے۔ اس لیے ان دونوں زبانوں کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
سوال: اساتذہ اور علم سے وابستہ لوگوں نے زبان کو کس حد تک فروغ دیا؟
جواب:اس بات کا تعلق اس امر سے ہے کہ حکومت کل فیصلہ کردے کہ کون سی زبان یہاں رائج ہونی چاہیے، تو اساتذہ وہی پڑھانا شروع کر دیں گے۔ ایک بات طے ہے کہ اس ملک میں انگریزی زبان کی ترویج اس طرح نہیں ہوسکتی جیسی اردو زبان کی، دونوں زبانوں کا رسم الخط آپس میں نہیں ملتا تلفظ ایک نہیں، گرائمر مختلف ہے۔ انگریزی سیکھنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ بڑے سے بڑا ملک صرف اپنی زبان میں ترقی کر سکتا ہے۔ بیرونی رابطے کے لیے ہمیں چند ہزار ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو انگریزی زبان سے واقفیت رکھتے ہوں۔ ہمیں اب یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ کیا پوری قوم کو انگریزی پر عبور حاصل ہونا چاہیے؟ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب انگریزی، اردو اور علاقائی زبانوں کے تناسب کا فیصلہ نہ کر لیا جائے۔
سوال: اس وقت بہتر مواقع کن لوگوں کو حاصل ہیں؟
جواب:اس وقت بہتر مواقع انگریزی میڈیم کے لیے ہیں کہ ہر بلند سطح پر انگریزی رائج ہے۔ مقابلے کے امتحانات انگریزی ہی میں ہوتے ہیں۔ دقت سب سے زیادہ یہ ہے کہ ہم اپنے ذہنوں کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ جو لوگ اربابِ اختیار ہیں ان کو انگریزی سے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ اعلیٰ عہدے ان کو ہی ملتے ہیں۔عام آدمی کو یہاں کوئی نہیں پوچھتا۔ ان کے لیے کوئی منصوبہ ترتیب نہیں دیا جاتا۔ برطانوی دور میں ایک انگریزی مڈل اور ایک اردو مڈل ہوا کرتا تھا۔ اگر اردو مڈل میں کوئی بچہ لائق ہوتا تو اس کو انگریزی پڑھاتے۔ اس طرح غریب کے بچے کو مواقع مل جاتے۔ اگر قابلیت سے لوگ آگے آجائیں گے تو اس میں مضائقہ نہیں۔
بیگم خواجہ زکریا
سوال: آپ لاہور کالج میں صدر شعبہ اردو رہی ہیں۔ اس حوالے سے کچھ بات کیجیے؟
جواب:بچیوں سے متعلق ایک بات میرے مشاہدے میں ہے کہ وہ انگریزی اور اردو کو ملا کر بات کرنا پسند کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بچیوں کی مائیں یہ بات بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ میری بچی کو اردو نہیں آتی حالانکہ اگر اسے انگریزی نہیں آتی تو وہ اس بات کا ذکر نہیں کرتیں۔
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب۔ ایک بات جو مجھے اس وقت یاد آرہی ہے کہ ایک بار اشفاق احمد مرحوم نے کہا کہ میرے بچے میری تحریریں نہیں سمجھ سکتے کیوں کہ وہ اس طرح کی اردو نہیں جانتے اور مشتاق احمد یوسفی نے بتایا کہ کسی نے میرے بچے سے کہا کہ آپ کے والد بہت مشہور آدمی ہیں تو اس نے کہا کہ Yes he writes some kind of titbits.میرے بچے بھی انگریزی میڈیم میں پڑھے ہیں لیکن انھیں اردو بھی بہت اچھی آتی ہے کیوں کہ کسی بھی شخص کے لیے دو یا تین زبانیں سیکھنا کوئی مشکل بات نہیں۔ اور یہ تصور کہ دوسری زبانیں سیکھنے سے برا اثر پڑتا ہے، غلط ہے۔ ہر علاقے کی اپنی زبان ہوتی ہے اس میں تھوڑے بہت شیڈ مختلف ہوسکتے ہیں۔
سوال: اردو کے نفاذ کے حوالے سے مقتدرہ کے کردار پر روشنی ڈالیے۔
جواب:اس حوالے سے ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کہتے تھے کہ مقتدرہ کا کام یہ ہے کہ وہ اردو کے نفاذ کی تیاری کرے۔ تیاری سے مراد قواعد و ضوابط، ماخذ ، لغات کی تیاری ہے ۔عملی نفاذ سے پتا چلتا ہے کہ اصل دشواریاں کیا ہیں۔
ٹکسالی اردو نہ اب دہلی، لکھنؤ میں رہی ہے اور نہ ہی اب اس کا تقاضا ہے۔ کیوں کہ زبان ہمیشہ پھلتی پھولتی رہتی ہے۔ زبانیں اسی وجہ سے زندہ ہوتی ہیں جب ان میں نئی نئی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ نئے حالات اور نئے مراحل میں اردو کو تمام زبانوں سے استفادہ کرنا ہے۔ اگر قوم میں اردو کے حوالے سے Consensus نہیں تو اردو کو چھوڑ دیں۔ مباحثہ کروائیں اور اتفاق رائے کی کوئی صورت پیدا کی جائے۔
سوال: اردو کے حوالے سے آپ کا پیغام؟
جواب:اگرچہ میں اس بات سے پریشان ہوں کہ ہماری قوم نعروں میں زندہ رہتی ہے لیکن اردو کے حوالے سے میرا یہی پیغام ہے کہ اردو بولو، اردو پڑھو، اردو لکھو۔ دوسری زبانیں بھی لکھو پڑھو لیکن بولو اپنی زبان۔
٭٭٭٭