کتاب میلہ

کلیات عطا شاد……اب جب نیند ورق الٹے گی
مرتب: افضل مراد
2 ناشر: فیصل بکس ، کوئٹہ
گل خان نصیر[مئی ۱۹۱۴،دسمبر ۱۹۸۳] کے بعد در حقیقت عطاء شاد [نومبر ۱۹۳۹،فروری ۱۹۹۷]بلوچستان کی دوسری بڑی تخلیقی آواز تھی جو شعلہ بار تھی مگر اسے بڑی محبت اور احترام کے ساتھ پذیرائی ملی۔ عطا شاد طبعی حوالے سے تو شعلۂ مستعجل ثابت ہوا مگر اس کی تخلیقی جوت نے اردو کی شعری روایت میں جذب ہو کر بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔افضل مراد، بے حد متحرک تخلیق کار، مترجم اور محقق ہے۔ اس نے یہ ایک تاریخی کام کیاہے کہ پاکستان کی ثقافتی تاریخ کے ایک بہت توانا مظہر کے کلیات کو مرتب کر دیا جس کے لیے ایک اداس عنوان عطا شاد نے خود تجویز کیا تھا۔ اس کلیات کی ایک خوبی یہ ہے کہ جہاں پاکستان کے اس بے مثال شاعر عطا شاد کے اردو کلیات کے یکجا کر کے بڑے اہتمام سے شائع کیا گیا ہے،،وہاں اس میں عطا شاد کے فن سے متعلق بعض تاریخی تنقیدی مضامین بھی پیش کر دئیے گئے ہیں،سو،ایسی ہی ایک تحریر سابق صدرِ شعبہ اردو،بلوچستان یونیورسٹی کی ہے،میری مراد مجتبیٰ حسین مرحوم سے ہے،وہ لکھتے ہیں،:'اس کے قوی شانوں پر دو سر ہیں،جب ایک بولتاہے، تو دوسرا چپ رہتاہے، پانی، اس کایار ہے تو آگ اس کی سہیلی ۔۔۔،وہ اردوکے نہیں ہیں اردو ،ان کی ہے ،بات صرف اتنی تھی کہ ہم اس طرف نہیں گئے یا نہیں جانا چاہتے تھے، جہاں عطا شاد کی شاعری ہمیں لے جاتی ہے……! گویاعطا شاد نئی واقفیت کے شاعر ہیں'' ۔
سیلاب کو نہ روکیے، رستا بنائیے
کس نے کہاتھا، گھر لبِ دَریا بنائیے

پَارساؤں نے بڑے ظرف کا اِظہار کیا
ہم سے پی اور ہمیں رُسوا سرِبازار کیا

دَرد کی دُھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دِیوار کیا
رات پھولوں کی نمائش میں، وہ خوش جسم سے لوگ
آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا
ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:'' اسی طرح وہ اس شمع کی طرح نہیں ہے جو کلاسیکی شاعری میں اپنی عمرِ طبیعی ہنس کر یا روکر گزار دیتی ہے بلکہ اس دیئے کے مانند ہے جو کبھی تو کسی صحرائی خیمہ کے اندر ٹمٹماتاہے اور کبھی رات کے آسمان میں چاندی کے سکے کی طرح کھنکتا ہے''۔
عطا شاد کے اس کلیات کی شان اس کی غزل اور نظم کی انفرادیت ہے،جو شعری روایت کو اپنے ارضی مزاج سے ثروت مند بناتی ہے،اک غزل اور ایک نظم[گیت] دیکھئے:

مَکیں ادھر کے ہیں، لیکن اُدھر کی سوچتے ہیں
جب آگ گھر میں لگی ہو، تو گھر کی سوچتے ہیں

کہ جب زمیں ہی سَیلِ بلا کی زد میں ہو
تو پھر ثمر کی نہیں، پھر شجر کی سوچتے ہیں

اُڑے تو طے ہی نہ کی ، حدِ آشیاں بندی
اب اُڑ چکے ہیں تو اب بال و پر کی سوچتے ہیں

تو میرا دل تو پرکھ ، میرا انتخاب تو دیکھ
کہ اہلِ حُسن تو حسُنِ نظر کی سوچتے ہیں

یہ دشت ہے تو بگولوں سے کیا ہراسانی
سفر میں کیا، کبھی گرد سفر کی سوچتے ہیں

کہ مہر اپنا اثاثہ ہے ، قہر ان کی اساس
وہ اپنی شب کی ، ہم اپنی سحر کی سوچتے ہیں

ہمیں تو فکر مکاں کی بھی مکیں کی بھی
حضور آپ تو دیوار و در کی سوچتے ہیں

یہ ایک ہم کہ کریں بات ماہ و انجم کی
اور ایک وہ کہ جو تیغ و تبر کی سوچتے ہیں
ایک گیت
وہی ایک دنیا میں، جو مرا شناسا ہے
مجھے سوچتا کیا ہے مجھے جانتا کیاہے

تیرے اہلِ باراں میں، مری کشتِ ویراں کیا
تیری زلف کاسایہ ، مرے دل کا صحراہے

مگر اب بھی وہ قاتل، مگر اب بھی وہ ظالم
جو ستم کا مارا تھا، جو کرم کا پیاسا ہے

جسے دل کی ضَو کہیے، وہ ہے اِک شَرر اب بھی
جو سَحر کی خلقت میں سرِ شب کا تنہاہے

تِر شہر شاداں میں وہی ایک رُسوا ہے
جسے شادؔ کہتے ہیں جو ملول رہتاہے
کلیات کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں جہاں عطا شاد کے منظوم ڈراموں کے غنائی ٹکڑے جمع کر دئیے گئے ہیں،وہاں بلوچی گیتوں کی صنف لاڑوک،ہالو،سپت،لولی، زھیروک، لیِکو، لیلڑی، ڈیہی اور موتک کو اردو میں متعارف کرایا گیا ہے اورخود شاعر سے ایک بامعنی مکالمہ بھی شامل ہے۔
مبصر : انوار احمد
منٹو کا اسلوب(افسانوں کے حوالے سے)
از طاہرہ اقبال
& فکشن ہاؤس لاہور
طاہرہ اقبال افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار کے طور پر اُردو دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ حال ہی میں منظرِ نام پر آنے والی اُن کی کتاب 'منٹو کا اسلوب(افسانوں کے حوالے سے) ' نے ادبی حلقوں میں محقق اور نقاد کے طور پر بھی اُن کی صلاحیتوں کے اعتراف کا راہ ہموار کی ہے۔ یہ کتاب فکشن ہاؤس لاہور سے شائع ہوئی ہے جس کا انتساب منٹو کے اسلوبیاتی تنوع کے نام کرکے طاہرہ اقبال نے دراصل منٹو کی بطور کہانی کار عظمت کاہی اعتراف کیا ہے۔ منٹو شناسی کی روایت پر نظر ڈالیں تو غالباً یہی ایک موضوع ہے جس پر منٹو کے حوالے سے بطورِ خاص کم توجہ دی گئی ، اُن کے افسانوں کے موضوعات ، تکنیک ، کرافٹنگ اور فضا پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن ان سب پہلوؤں سے جڑی ہوئی ایک اور چیز جس سے کسی کہانی کی اثر انگیزی طے پاتی ہے ، اسلو ب ہے اور طاہرہ اقبال نے خود ایک افسانہ نگار ہونے کی وجہ سے اس بات کو خوب سمجھا ہے ۔
'منٹو کا اسلوب(افسانوں کے حوالے سے)' چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلوب کے بنیادی مباحث، اُردو نثر کے ابتدائی اسالیب اور اس کا ارتقاء اور بالخصوص اُردو افسانے کے آغاز سے اب تک اس صنف کے اسلوب کی ارتقائی صورت پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسرا باب 'منٹو بحیثیت افسانہ نگار' کے عنوان سے ہے جس میں سعادت حسن منٹو کے حالاتِ زندگی اور علمی آثار کا اجمالی جائزہ پیش کرنے کے بعد اُن کے اسلوب پر مختلف شخصیات، رجحانات اور تحاریک کے اثرات کی کھوج لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ منٹو کی افسانہ نگاری کو تین ادوار میں تقسیم کرتے ہوئے طاہرہ اقبال نے اُن کے اسلوب کا عہد بہ عہد ارتقاء بھی اسی باب میں پیش کیا ہے۔تیسرا باب اس تحقیقی کام کے موضوع کے اعتبار سے سب سے اہم ہے کہ اس میں منٹو کے اسلوب کے اُن تشکیلی عناصر سے بحث کی گئی ہے جو انفرادیت طے کرنے کی اساس کہے جا سکتے ہیں۔اس باب میں طاہرہ اقبال نے منٹو کی اسلوب سازی میں دیگر زبانوں کے الفاظ کی آمیزش اور استعاراتی و تشبیہاتی نظام سے بحث کرتے ہوئے بیانیہ، خطابیہ اور علامتی اندازِ تحریر کے حامل تمام افسانوں کے اسلوب کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ منٹو کا تخلیقی تجربہ مروج لفظی سانچوں کا محتاج نہیں ہے(ص۱۸۱) گویا طاہرہ اقبال کے خیال میں منٹو نے اپنے اظہار کے لیے مروجہ اندازسے ہٹ کر اختراعات سے کام لیا۔ یہ یقیناکسی بھی تخلیقی آدمی کا ایسا فعل ہوتا ہے جس کی قدر آنے والا وقت طے کرتا ہے اور منٹو کی تخلیقات کے ضمن میں دیکھا جائے تو لفظوں کی اس طورپر کاریگری نے اُن کی کہانیوں کے اسلوب کو بھی آفاقیت عطا کی ہے۔باب چہارم بعنوان 'اسلوبیاتی تنوع کے حوالے سے منٹو کی انفرادیت اور مقام' ایک طرح سے اس کتاب میں درج تمام مباحث کا مجموعی جائزہ کہا جا سکتا ہے جس میں طاہرہ اقبال نے منٹو کے اسلوب پر اُن کی اپنی شخصیت اور پھر اُن کی کہانیوں کے موضوعات نے جو اثرات مرتب کیے ،پرکچھ نتائج اخذ کیے ہیں۔محقق نے منٹو کی شخصیت کے حوالے سے اُن کے مختلف ہم عصروں کی آراء کی روشنی میں یہ بتایا ہے کہ منٹو کا اسلوب ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے بہر حال ایک ایسے مقام کو جلد چھوگیا جہاں اُن کے اسلوب پر فن کی چھاپ دکھائی دیتی ہے، وہ نہ کسی نظریے کا پرچارکرتا ہے نہ کسی مقصد کا داعی ، وہ سماج کی تصویریں دیانت داری کے انتہائی کڑے معیاروں کے ساتھ پیش کرتے ہیں(ص ۲۶۹)، مصنفہ ،منٹو کے موضوعات کو ترفع تک پہنچانے میں اُس سرشاری کی اہمیت کوبھی سامنے لاتی ہیں جو افسانہ نگار کے علامتی اسلوب سے پھوٹتی ہے اور علامت اپنی حیثیت میں آفاقی رنگ اختیار کر جاتی ہے۔اس باب میں منٹو کے اسلوب کا اُن کے ہم عصر افسانہ نگاروں بالخصوص کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی اور اوپندر ناتھ اشک کے اسلوب سے تقابل کرکے انفرادیت اور مقام کے تعین کی بھی سعی کی گئی ہے۔کتاب کے آخر میں درج کتابیات کی طویل فہرست اور خودمصنفہ کا شانداراسلوب اُن کے مطالعے کی وسعت اورمسلسل ریاضت کی طرف اشارہ ہے۔
بحیثیت ِ مجموعی دیکھا جائے تو مصنفہ نے نہایت محنت سے سعادت حسن منٹو پر خالصتاً تحقیقی نوعیت کا جو محنت طلب کام پیش کیا ہے وہ لائق ِ تحسین ہے اور علمی و ادبی حلقوں میں یقینا پذیرائی حاصل کرے گا۔
مبصر: خاور نوازش
پنجابی شاعروں کا جدید تذکرہ
از: ڈاکٹر آصف ریاض قدیر
……دیباچہ……
موجودہ کتاب میری پانچویں کتاب ہے۔ پہلی چاروں کتابیں اردو ادب سے متعلق تھیں جبکہ اس کتاب کا تعلق میری ماں بولی یعنی پنجابی سے ہے۔ پنجابی ادب سے میرا شروع سے ہی گہرا تعلق رہا ہے اور وارث شاہ، بلھے شاہ، سلطان باہو، میاں محمد بخش اور دیگر کلاسیکی شعرا کو پڑھتے ہوئے اب بھی مجھ پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچپن سے ہی ادب سے اس خصوصی رغبت کی اصل وجہ میری والدہ محترہ پروفیسر انوار ریاض قدیر کی تربیت ہے جو انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتی ہیں اور جنھوں نے میرے اس شوق کو مہمیز کیا۔
مجھ میں جو بھی ذرا اُجالا ہے
وہ میری ماں کا ہی حوالہ ہے
بہت عرصے سے میرا خیال تھا کہ ایک ایسی کتاب مرتب کروں جس میں تمام اہم شعرا کا اہم کلام ایک جگہ پیش کیا گیا ہوتا کہ قارئین بہت سی کتابیں پڑھنے کی بجائے ایک ہی کتاب کے ذریعے پنجابی کے بہت سے شعرا کے کلام تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس سلسلے میں قبل ازیں جو انتخابات مرتب ہوئے ہیں، میں نے ان کا بھی بنظرِ غائر مطالعہ کیا اور محسوس کیا کہ ہر کتاب ایک خاص مقصدیت کے تحت لکھی گئی ہے جس کے باعث اس کا دائرہ کارمحدود ہے۔ مثلاً اگر غزل کا انتخاب ہے تو نظم گو شاعر اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔ نظم کے انتخابات میں غزل شامل نہیں ہو سکتی اور اگر جدید شاعری کا انتخاب ہے تو اس میں قدیم شعرا شامل نہیں ہو سکتے۔ علاوہ ازیں ایسے انتخاب میں ضخامت کو مد نظر رکھتے ہوئے مرتب کو پبلشر کی خواہش کا بھی لازماً احترام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں قیمت کے پیش نظر کتاب کی ضخامت کو کنٹرول کرتے ہوئے شعرا کی تعداد بھی محدود رکھنا پڑتی ہے۔ پھر انتخاب کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ سارا دستیاب کلام انتخاب نہیں ہوتا بلکہ انتخاب کے لیے ہر شاعر کے کلام میں سے اپنے مزاج کے مطابق بہترین تخلیقا ت کو الگ کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں میرے نزدیک مولابخش کشتہ کی کتاب ''پنجابی شاعراں دا تذکرہ'' ایک اہم کتاب ہے جس کی افادیت ابھی تک قائم ہے مگر اسے مرتب ہوئے برس ہا برس گزر چکے ہیں چنانچے کلاسیکی اور نو کلاسیکی دور تک کے شعرا تو اس میں موجود ہیں بعد کے شعرا غیر حاضر ہیں جبکہ زمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو نو کلاسیکل دور کے بعد پنجابی شاعری نے بے پناہ ترقی کی اور جدید دور کی پنجابی شاعری تو کسی بھی زبان کی شاعری کے مقابلے میں رکھی جا سکتی ہے چنانچہ اس دور کی شمولیت کے بغیر پنجابی شاعری کے سفر کی داستان مکمل نہیں ہوتی۔ جہاں تک ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی پنجابی کی تاریخ اور قاضی فضلِ حق کی کتاب ''پنجابی علم و ادب میں مسلمانوں کا حصہ'' کا تعلق ہو تے یقیناً یہ بھی بہت اہم کتابیں ہیں مگر ان میں بھی تقریباً نصف صدی قبل تک کے شعرا ہی آ سکے ہیں۔ نیز تاریخ اور شعری انتخاب میں قدرے فرق ہوتا ہے کیونکہ کسی ایک عہد کے سارے شعرا تاریخ کاحصہ ہوتے ہیں جب کہ انتخاب میں مرتب صرف وہی کلام شامل کرتا ہے جو انتخاب کاحصہ بننے کے قابل ہو۔ واضح رہے کہ میں نے اپنی کتاب کانام تو مولا بخش کشتہ کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے ''پنجابی شاعروں کا جدید تذکرہ'' رکھا ہے مگر حقیقت میں شاعری کا ہی انتخاب ہے جس کے ساتھ شعرا کا مختصر کوائف نامہ بھی شامل کر دیا گیا ہے تاکہ پڑھنے والا اس کے عہد اور حالات ِ زندگی یا علاقے کے بارے میں قدرے جانکاری حاصل کر سکے۔
کسی بھی نوعیت کا انتخاب کرتے ہوئے ہر مرتب کاایک نقطۂ نظر ہوتا ہے جسے پیشِ نظر رکھ کروہ انتخاب کے معیارات طے کرتاہے۔ میں نہ تو بحر نقد و نظر کا شناور ہوں اور نہ ہی راہ تحقیق کامسافر بلکہ پنجابی شاعری کا ایک عام قاری اور اچھی پنجابی شاعری کا عاشق ہوں۔ بلاشبہ شاعری کو اپنے اختصار اور سوزوگداز کے باعث دوسری اصناف پر برتری حاصل ہے۔ میرے نزدیک شعر وہ ہوتا ہے جو انسان کو شعور بخشتا ہے اور ایک خاص آہنگ اور وزن میں لکھا گیا مختصر ترین الفاظ کا وہ ٹکڑا ہوتا ہے جس میں سے ایک لفظ بھی اِدھر اُدھر نہیں کیا جا سکتا چنانچہ میں نے یہ انتخاب اسی نقطۂ نظر سے کیا ہے یعنی جو شعر مجھے اچھا لگا جس میں کوئی دانائی کی بات تھی یا اعلیٰ اخلاقیات کا درس تھا یا جو فنی پختگی کا امین تھا یا حسن و عشق کے جملہ معاملات میں سے کسی ایک معاملے کے جذباتی بیان میں بے مثل تھا یا تخیل کی پرواز، تخلیقی سانچے یا تکنیکی نقوش کے اعتبار میں منفرد تھا یا جس میں تعقل و تدبر کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا یا اظہار و بیان کی تازگی و شگفتگی کا شاہکار تھا۔ میں نے اسے اس کتاب کا حصہ بنا لیا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کتاب میں نے اپنے مخصوص کردہ زاویوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے لیے مرتب کی ہے تاہم اگر اسے خوش فہمی نہ سمجھا جائے تو میرا خیال ہے کہ دوسروں کو بھی میری منتخب کردہ شاعری ضروری پسند آئے گی کیونکہ اس میں بابا فرید سے لے کر آج کے عہد تک کے بے شمار اہم شعرا کا کلام شامل ہے۔ جیسا کہ میں اپنی پچھلی کتابوں میں ذکر کر چکا ہوں کہ شعر وادب پڑھنے کا مجھے زمانۂ طالب علمی سے ہی شوق رہاہے اور جہاں کہیں کوئی شعر 'غزل' نظم میرے دل کو لگتی تھی ۔ میں اسے اپنی ڈائری میں محفوظ کر لیا کرتا تھا۔ اس کتاب میں شامل کچھ کلام تو میری تلاش و جستجو کا نقیب ہے مگر اکثر کلام میری انہی ڈائریوں سے لیا گیا ہے۔ پھر صوفی تبسم اور دیگر شعرا کی صحبت میں رہتے ہوئے مجھے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی شعرا کے احوال جاننے کا موقع بھی ملتا رہا اور ان کی کتابیں بھی دستیاب ہوتی رہیں۔ میں صوفی تبسم کا معالج بھی رہا ہوں اور میں نے ان کی محفل میں کافی وقت گزارا ہے۔ صوفی صاحب نے غالب اور اقبال کے کلام کے باکمال تراجم کیے اور جب ملکہ ترنم نور جہاں نے ان کا ترانہ''ایہہ پُترہٹاں تے نئیں وکدے کیہ لبھنی ایں وچ بزار کُڑے'' گایا تو اس کا مجھ پر بے پناہ اثر ہوا۔
اب جب میں نے اس منصوبے پر کام شروع کیا تو پاکستان سے پنجابی کے کئی ادیب دوستوں سے میرے مسلسل رابطہ رہا۔ اس سلسلے میں پاکستان سے جن دوستوں نے میرے ساتھ علمی و ادبی تعاون کیا اور پنجابی شعری مجموعے اور کتب بھجوائیں۔ میں ان کا بے حد ممنون ہوں کہ ان کی مدد کے بغیر اس انتخاب کا اس انداز میں سامنے آنا ممکن نہ تھا۔ اسی طرح پاکستان سے وقتاً فوقتاً آنے والے ادیب دوست یہاں پر ہی میرا پاکستان بنا دیتے ہیں اور میں ان سے مل کر ان میں رہ کر اپنے آپ کو بے پناہ آسودہ محسوس کرتا ہوں۔ اس موقع پر میں اپنی بیگم محترمہ تحسین حمید قدیر کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے اس منصوبے کی تشکیل و تکمیل میں میری بھر پور حوصلہ افزائی کی اور جن کے تعاون کے بغیر یہ کام مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
موجودہ کتاب میں پاکستان کے علاوہ مشرقی پنجاب ، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں موجود پنجابی کے شعرا کا کلام بھی شامل ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اس میں پنجابی شاعری کا ہر رنگ اور آہنگ سمویا جا سکے چنانچہ اس میں سرائیکی، ہندکو، گوجری، پوٹھوہاری، پہاڑی اور پنجابی کے علاوہ پنجابی کے مختلف لہجوں اور بولیوں میں لکھا گیا کلام بھی شامل ہے جسے پنجابی قارئین بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح میں نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ نظم اور غزل کے علاوہ دیگر اصناف اور موضوعاتی اصناف کے حوالے سے لکھا گیا کلام بھی اس میں شامل ہو تاکہ پڑھنے والے پنجابی شاعری کے جملہ اوصاف سے محظوظ ہو سکیں۔
یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ یہ سطور میں پنجابی کی بجائے اردو میں کیوں لکھ رہاہوں اور شعرا کا تعارف میں نے اردو میں کیوں دیا ہے، تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پنجابی اور اردو میں ماں بیٹی کا رشتہ ہے اور علامہ اقبال سے لے کر فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی تک اہل پنجاب نے گلشن اردو کو اپنے خون سے سینچا ہے۔ اس کے علاوہ اردو ہماری قومی زبان اور لنگوا فرینکا ہے اور چاروں صوبوں میں بہ آسانی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ بابا فرید جو پنجابی کے پہلے شاعر تھے ان کے کلام میں اردو موجود ہے۔ بلھے شاہ کے کلام میں بھی اس وقت کی اردو موجود ہے اور میں نے سوچاجو بابا فرید اور دیگر کئی کلاسیکی شعراء کے پنجابی نہیں پڑھ سکتے وہ بھی پنجابی کلام کی خوشبو اور مہلک سے لطف اندوں ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کتاب کا نام ''پنجابی شاعروں دا جدید تذکرہ'' کی بجائے ''پنجابی شاعروں کا جدید تذکرہ'' رکھا ہے۔ آپ کتاب کے اس نام سے ہی اردو اور پنجابی کی قرابت داری کا اندازہ لگا لیجے کہ صرف ایک لفظ ''دا'' کو ''کا'' کرنے سے ہی یہ اردو کا نام بن گیا ہے۔ جہاں تک مشرق پنجاب اور ہمارے پنجاب کی پنجابی کا تعلق ہے تو گفتگو اور بول چال کی حد تک یہ ایک ہی زبان ہے البتہ سکرپٹ میں فرق ہے۔ یوں سمجھئے دونوں سکرپٹ پنجابی زبان کے جڑواں بچے ہیں۔ انشاء اﷲ اس کتاب کا گور مکھی ایڈیشن بھی جلد ہی شائع ہو گا اور دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم ہوں گے تاکہ پنجابی شاعری کے اس گلدستے کی مہک چار سو پھیل سکے۔
اپنی دانست کے مطابق اس انتخاب کو مزید مفید اور کارآمد بنانے کے لیے میں نے شروع میں ''پنجابی زبان اور اس کا شعری سرمایہ'' کے عنوان سے ایک مضمون بھی لکھ کر اس میں شامل کر دیا ہے۔ اسی طرح آخر میں ضرب الامثال ، محاورات، بجھارتوں، پھٹکل اشعار اور لوک ادب کے نمونوں کے علاوہ پنجاب کی عروف عشقیہ داستاوں کا ایک مفصل خلاصہ بھی پیش کر دیا ہے جو پنجابی ادب سے میرے قلبی تعلق کا امین ہے۔ میں اگرچہ ۳۰ برس سے پاکستان کے حدود اربعے سے دور بیٹھا ہوں مگر میرا دل پاکستان میں ہی دھڑکتا ہے۔ میرے نزدیک پنجابی ادب کی خدمت اپنی ماں، ماں بولی اور مادر وطن کی خدمت کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں آپ میرے ان دو شعروں سے ہی میرے جذبات کا انداوہ لگا سکتے ہیں۔
کبھی یقین میں ہوتا ہوں اور کبھی گمان میں ہوتا ہوں
کسی کو دھیان میں رکھتا ہوں او رکسی کے دھیان میں ہوتا ہوں
اتنے برسوں بعد بھی آصف کیا بتلاؤں تم کومیں
امریکہ بھی رہتا ہوں اور پاکستان میں ہوتا ہوں
کسی بھی انتخاب کا ہر طرح سے مکمل ہونا کسی طور ممکن نہیں چنانچہ اس سلسلے میں، میں اپنی نارسائی، کوتاہی اور عدیم الفرصتی کا اعتراف کرتا ہوں کہ ایک طویل عرصے سے امریکہ میں رہتے ہوئے ہر شاعر اور اس کے کلام تک پہنچنا میرے لیے ممکن نہ تھا تاہم میں نے مقدود بھر کوشش ضرور کی ہے کہ ایک ایسا منفرد و ادبی سرمایہ سامنے لا سکوں جو پنجابی شعری ادب کی اس کمی کو ایک حد تک پورا ضرور کر سکے جس کا ذکر میں قبل ازیں کر چکا ہوں۔
بانگ درا (بہ اعتبارِ زمانہ)
از: عروبہ مسرور صدیقی
Œ شعرا کے کلام کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ان کا ذہنی ارتقا مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ جس سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس طرح کے ماحول میں اور کس زمانے میں شاعر کے خیالات کی صورت گری ہو رہی تھی۔آیا وہ شاعر اپنے وقت سے پیچھے تھا؟ وقت کے ساتھ ساتھ چلنے والا تھا؟ یا اپنے وقت سے دو قدم آگے تھا؟ بعض شعرا کے ہاں یہ خصوصیات فرداً فرداً ملتی ہیں، بعض ان میں سے کوئی دو خصوصیات پر عمل پیرا نظر آتے ہیں؛ لیکن ایسے شعرابہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں جو ان تینوں خصوصیات کو ایک ساتھ لے کر چلیں۔ اردو شاعری میں ابھی تک سوائے علامہ اقبالؒ کے ، کوئی ایسا شاعر نہیں جو بہ یک وقت ماضی، حال اور مستقبل کا بہترین نبّّا ض ہو۔ ایسی ہمہ جہت شاعری کے نشیب و فراز کو سمجھنے کے لیے شاعر کے فنی و فکری ارتقاء کا جائزہ لینا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔
اقبالؒ پر اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ شاعری، شخصیت ، سیرت، ادوار اور ہر اس موضوع پر جو اقبالؒ کے متعلق تھا حتیٰ کہ ہر اس شخصیت پر بھی جس کا اقبالؒ سے براہِ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق رہا تھا۔ ماہرین اقبالیات نے اقبالؒ کے سنین بھی دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان محققین میں ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار، ڈاکٹر صابر کلوروی اور ڈاکٹر گیان چند جین کے نام بہت اہم ہیں۔ ان کے علاوہ باقیاتِ اقبالؒ کے مصنف عبدالواحد معینی نے بھی کسی حد تک کلام اقبالؒ کے سنین پیش کیے ہیں۔ پروفیسر گیان چند جین کی کتاب ابتدائی کلامِ اقبالؒ (بہ ترتیب مہ و سال) اس سلسلے کی اہم ترین کڑی ہے۔ اس تحقیقی کاوش کے سلسلے میں محقق نے بنیادی ماخذ تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور جو تواریخ متعین کی ہیں ان سے متعلق ٹھوس دلائل بھی فراہم کیے ہیں۔ بنیادی مآخذ کے حوالے سے وہ خود لکھتے ہیں:
''……ان کے کتب خانے سے کلام اقبال ، نام کی ایک قلمی بیاض مرتبہ محمد انور خان طالب علم جامعہ اسلامیہ علی گڑھ ۱۹۲۴ء ملی۔ اس میں اقبال کا منسوخ کلام بکثرت ہے…… جنوری ۱۹۸۶ء میں صمد صاحب نے ایک اور رجسٹر نما قلمی بیاضِ اقبال ، لا کر دی۔ انھوں نے اسے عماد الملک سید حسین بلگرامی کے ذخیرے سے خریدا تھا۔ اس میں منسوخ کلام بکثرت تھا''۔ (حرفِ اول، ابتدائی کلامِ اقبال)
گیان چند جین کے مطابق دیگر مآخذ میں انھوں نے اقبالؒ (مولوی احمد دین)، باقیات اقبالؒ (جلد سوم) اور بیسویں صدی کے اوائل کے متعدد رسائل و اخبارات سے مدد لی ہے۔ دیکھا جائے تو بظاہر ڈاکٹر گیان چند کی اس کتاب کی موجودگی میں ''بانگ درا'' کو زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کرنا بے مقصد نظر آتاہے لیکن چند وجودہ ہیں جن کی بنا پر اس کتاب کے لکھنے کی ضرورپیش آئی۔
٭ پہلی بات تو یہ کہ ''ابتدائی کلامِ اقبال'' میں صرف ۱۹۰۸ء تک کا کلام تاریخی ترتیب کے ساتھ ملتا ہے کیوں کہ ان کا مطمح نظر اقبال کا ابتدائی کلام پیش کرنا تھا نہ کہ بانگ درا کی زمانی ترتیب۔ دوسرا یہ کہ گیان چند جین کے اس تحقیقی کام کا اصل محرک ''کلام اقبال'' نام کی ایک خطی بیاض تھی جس میں اقبال کامنسوخ کلام بکثرت موجود تھا اس لیے ان کا مقصد متداول کلام کی تاریخ ترتیب نہیں بلکہ منسوخ و غیر منسوخ کلام اقبال کو پیش کرنا تھا، اسی لیے ان کے بنیادی مآخذ میں وہ مواد بھی شامل ہے جو بانگ درا کی اشاعت سے پہلے کا ہے۔ اگست ۱۹۰۸ء کے بعد چونکہ انھیں منسوخ کلام کم ملا ہے اس لیے انھوں نے اپنی تحقیق کا دائرہ کار ۱۹۰۸ء تک ہی محدود رکھا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے حرفِ اول، ''ابتدائی کلام اقبال'')
دوسری طرف ڈاکٹر صابر کلوروی نے بھی اپنی کتاب میں تواریخ کا اہتمام کیا ہے لیکن ان کابھی بنیادی مقصد محض باقیاتِ اقبالؒ کو مرتب کرنا تھا۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی اور ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار نے کلامِ اقبالؒ کو ادوار میں تقسیم کرکے اقبالؒ کے فنی وفکری ارتقا کا جائزہ لیا ہے۔ یہ تمام کام اپنی جگہ بہت اہم اور قابلِ قدر ہے لیکن باقاعدہ طور پر کلام اقبالؒ کو زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی طرف ابھی تک کسی نے توجہ نہیں کی تھی۔ حالانکہ کسی بھی شاعر کے ذہنی خیالات و ارتقا کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے اس کے کلام کو تاریخ وار مرتب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے حوالے سے یہ بات اور بھی اہم ہو جاتی ہے کیوں کہ اقبالؒ اپنے زمانے کی اہم سماجی، سیاسی ، ادبی اور علمی شخصیت تھے۔ اس لیے ان کے کلام کو بہتر طور سمجھنے کے لیے ان کے کلام کو توقیت کرنا ضرروی تھا۔ علامہ اقبالؒ اپنے کلام کے انتخاب کے سلسلے میں کس قدر محتاط تھے؟ اس کا اندازہ ان کے عزیز دوست مولوی احمد دین کی کتاب ''اقبالؒ'' کی بلا اجازت اشاعت پر رد عمل سے لگایا جاسکتاے۔ بانگِ درا کی پہلی اشاعت (۱۹۲۴ء) چونکہ اقبالؒ کی اپنی نگرانی میں ہوئی تھی اور ممکن ہے کہ اقبالؒ نے اپنی بیاضوں اور اس زمانے میں شائع ہونے والے رسالوں کو سامنے رکھ کر ہی بانگ درا کو ترتیب دیا ہوا اسی لیے اس میں بہت حد تک زمانی ترتیب کا خیال رکھا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں اقبالؒ کا آغاز تا ۱۹۲۴ء تک کا سارا کلام شامل نہیں بلکہ یہ صرف بانگِ درا کی زمانی ترتیب ہے۔ میرا مقصد اقبالؒ کے صرف اس کلام کو تاریخی ترتیب کے ساتھ پیش کرنا ہے جس کا انتخاب خود اقبالؒ نے کیا تھا۔ اس کتاب کی ترتیب اور ماخذ سے استفادے کے ضمن میں درج ذیل اصول و ضوابط اختیار کیے گئے ہیں:
٭ بانگِ درا کے متن کے لیے میں نے اقبالؒ اکادمی کی مرتبہ کلیات اقبال کو پیش نظر رکھنا ہے۔
٭ متن مکمل درج کیا گیا ہے نیز ہر نظم یا غزل کی دریافت شدہ تاریخ کو اس کے متن کے ہم راہ کر دیا ہے اور اسی بنیاد پر متن کی ترتیب قائم کی ہے۔ البتہ جہاں ایک سال کی نظمیں مکمل ہوتی ہیں، اگلے سال کے کلام سے پہلے (……) نشان سے فرق قائم کر دیا ہے۔
٭ قاری کی سہولت کے پیشِ نظر تمام حواشی متن کے ساتھ دیے کئے ہیں اور ایک نظم کے حواشی کے اختتام پر فوراً بعد اگلی نظم دے دی گئی ہے تاکہ تسلسل برقرار رہے۔
٭ علامہ اقبالؒ نے بانگِ درا کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور ان کی ترتیب سنین کے لحاظ سے یوں رکھی:
حصہ اول ۱۹۰۱ء تک
حصہ دوم ۱۹۰۵ء تک
حصہ سوم ۱۹۰۸ء سے……
میں نے تین حصوں کی ترتیب کے وقت بنیادی تقسیم کو ہی پیشِ نظر رکھنا ہے۔ تاہم تاریخ وار مرتب کرنے سے ان حصوں کے سنین میں تھوڑا بہت ردوبدل آ گا ہے۔ چنانچہ اس کی موجودہ تقسیم اس طرح قائم ہوتی ہے:
حصہ اوّل اپریل ۱۹۰۱ء تا دسمبر ۱۹۹۰۵ء
حصہ دوم جنوری ۱۹۰۶ء تا دسمبر ۱۹۰۸ء
حصہ سوم اپریل ۱۹۰۹ء تا دسمبر ۱۹۲۳ء
علامہ اقبال نے بانگ درا کی ترتیب کے وقت سنین کا کافی حد تک خیال رکھا اس کا اندازہ اس کی توقیت سے ہو جاتاہے۔ تاہم کچھ نظمیں ایسی ہیں جن کی ترتیب میں (بعد از توقیت) واضح فرق آیا ہے مثلاً ''نوائے غم'' (دسمبر ۱۹۱۱ء)، ''عاشق ہرجائی'' (جولائی ۱۹۰۹ء) اور ''……کی گود میں بلی دیکھ کر'' (جولائی ۱۹۱۱ء) بانگ درا کے دوسرے حصے میں شامل ہیں لیکن سنین کے اعتبار سے یہ تیسرے دور کی نظمیں بنتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے دور کی غزل (مثال پر توِمے……الخ) ستمبر ۱۹۰۵ء میں لکھی گئی چنانچہ وہ دوسرے دور کی غزل قرار پاتی ہے۔
٭ جن نظموں یا غزلوں کا زمانہ تخلیق دستیاب نہیں ہو سکا انھیں متعلقہ دور کے آخر میں علامہ اقبالؒ کی قائم کردہ ترتیب کے مطابق دے دیا ہے اور آخر میں ز۔ن لکھا دیا ہے جو زمانہ نا معلوم کا مخفف ہے۔
٭ وہ کلام جو ایک ہی وقت میں ایک ہی رسالے میں شائع ہوا اس کی ترتیب اقبالؒ کی اپنی قائم کردہ ترتیب کے مطابق رکھی ہے۔
٭ ایسی نظمیں جن کا زمانہ تخلیق کہیں سے بھی دستیاب نہیں ہو سکا انھیں، اگر سال معلوم ہے تو مذکورہ سال اور اگر وہ بھی معلوم نہیں تو مذکورہ حصے میں سب سے آخر میں جگہ دی ہے۔
٭ اگر دو یااس سے زائد نظمیں ایک ہی ماہ کے ایک یا مختلف رسائل وغیرہ میں شائع ہوئیں تو ترتیب کے وقت ان کے مآخذ کی نوعیت کودیکھا ہے۔ علامہ کی بیشتر نظمیں مخزن میں شائع ہوتی تھیں اور مخزن ہر ماہ کی پندرہ تاریخ کو شائع ہو جاتا تھا ایسی صورت میں جو کلام پندرہ تاریخ سے بعد کا ہے اسے (اگر تاریخ دستیاب ہے تو) ترتیب میں موخر کر دیا ہے اور اگر تاریخ دستیاب نہیں ہوئی تو مقدم کیا ہے۔ کیونکہ ماہ نامے عموماً مہینے کی پہلی تاریخ کو شائع کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر نظم ''درد عشق'' اور ''انسان اور بزم قدرت'' دونوں ستمبر ۱۹۰۳ء کی تخلیق ہیں لیکن اول الذکر ''پنجۂ فولاد'' میں شائع ہوئی جو روزنامہ ہے اور مؤخرالذکر کو مخزن میں جو ماہ نامہ ہے۔ اول الذکر ۲۷ ستمبر ۱۹۰۳ء کو شائع ہوئی تھی اس لیے ترتیب میں ہو ''انسان اور بزم قدرت'' سے بعد رکھی جائے گی کیونکہ ''انسان اور بزم قدرت'' ۱۵ ستمبر ۱۹۰۳ء تک مخزن میں شائع ہو چکی تھی۔ اس ضمن میں ایک بات غور طلب ہے۔ عام طور پر ماہ نامے جس مہینے کو شائع کیے جاتے ہیں اس کا مواد ایک ماہ قبل اکٹھا کر لیا جاتا ہے۔ یوں مذکورہ ماہ نامے میں موجود مواد دراصل اس سے عموماً ایک ماہ قبل لکھا جاتاہے۔ اب ایسی صور ت میں اصل تاریخ کیا ہو گی؟ اس کے بارے میں یقین سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم دستیاب ماہ نامے میں موجود کلام کی تخلیق قیاسی طورپر ایک ماہ پہلے ہی کی سمجھی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر ''خدنگِ نظر'' مئی میں شائع ہوا ہے تو اس میں موجود نظم اپریل میں لکھی گئی ہو گی۔ اس لیے ایسی ہر تاریخ کے ساتھ ''قبل از'' لکھ دیا ہے۔ اس سے بھی مراد لیا جائے کہ وہ اس سے ایک ماہ قبل کسی تاریخ کو لکھی گئی ہو کی۔
٭ ایسی نظمیں جو ایک ہی ماہ میں مختلف ماہ ناموں میں شائع ہوئیں ان میں مخزن والی نظم کو مؤخر کر دیا ہے۔ مثلاً ''ماہ نو'' اور ''نالۂ فراق'' دونوں مئی ۱۹۰۴ء کی نظمیں ہیں۔ اوّل الذکر ماہنامہ ''دورنگ'' مئی کے شمارے میں شائع ہوئی اور موخرالذکر مخزن مئی ۱۹۰۴ء میں۔ یوں ترتیب میں''ماہ نو'' کو اوّلیت دی ہے۔
٭ تواریخ کے تعین کے لیے سب سے مستند مآخذ اقبالؒ کی خطی بیاضیں ہیں۔ رسائل کے ضمن میں سب سے زیادہ اہمیت رسالہ ''مخزن'' کی ہے کیونکہ اس میں اقبال کا ابتدائی کلام شائع ہوتا رہاہے۔ بانگ درا کی پہلی نظم ''ہمالہ'' بھی اسی رسالے میں شائع ہوئی۔ علاوہ ازیں وہ تمام ادبی اور دوسرے رسائل جن میں اقبالؒ کا کلام وقتاً فوقتاً شائع ہوتا رہاتھا، میں نے ان سب سے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مطلوبہ رسائل کے تمام شمارے دستیاب نہیں ہوئے، بہت سے دستبردِ زمانہ کی نظر ہو چکے ہیں لیکن جو دستیاب ہیں ان سے بھی کلام کے زمانہ تاریخ کے تعین میں بہت حد تک مدد ملتی ہے۔ اقبالؒ کا بہت سا ابتدائی کلام خصوصی طو رپر انھی رسائل(خصوصاً رسالہ مخزن) کے لیے لکھا جاتا رہا یا جو نظمیں علامہ اقبالؒ انجمن حمایت اسلام کے اجلاس میں پڑھتے تھے بعد ازاں وہ انھی رسائل میں شائع ہو جاتیں، اس لحاظ سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا یہ کہ جو کلام جس سال یا مہینے کے رسالے میں شائع ہوا اس کی تخلیق بھی اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی ہوئی ہو گی کیونکہ عام طو ر پر اقبالؒ اپنا تازہ کلام ہی ان رسائل میں چھپنے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ مثال کے طو رپر ''ہمالہ'' مخزن کے پہلے شمارے اپریل ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی، یہ نظم علامہ اقبالؒ نے اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی لکھی تھی۔ اس کا تفصیلی ذکر شیخ عبدالقادر نے بانگ درا کے دیباچے میں کیا ہے۔ ان کے بیان سے اس نظم کے زمانۂ تخلیق سے متعلق کافی راہنمائی ملتی ہے۔ باقی ماندہ تاریخوں کا تعین بھی اسی اصول پرکیا ہے۔
٭ وہ مآخذ جو بنیادی تو نہیں لیکن ان کے راوی ایسے ہیں جو دنیائے اقبالیات میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں، خالص تحقیقی اصطلاح میں، وہ لو گ جو روایت کے اصولوں پر پورا اترتے ہیں، کی روایتوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ وہ لوگ جنھیں اقبالؒ کو قریب سے دیکھنے، ان کی محبت سے فیض یاب ہونے اور ان سے براہ راست روابط کا موقع ملا جیسے سید نذیر نیازی، مولانا غلام رسول مہر، عبدالمجید سالک، مولوی احمد دین، مولوی محمد شفیع ، سید سلیمان ندوی، شیخ اعجاز احمد اور بیگم عطیہ فیضی وغیرہ۔ اس کے علاوہ اخبارات و رسائل کے وہ مدیران جن کے اقبالؒ سے قریبی روابط تھے ان میں شیخ عبدالقادر، منشی محمد دین فوق، جسٹس شاہ دین ہمایوں کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان اشخاص کی روایات کو اہمیت دی گئی ہے۔
٭ بنیادی مآخذ کے ضمن میں اقبالؒ کی خطی بیاضوں اور خطوط سے استفادہ کیا ہے۔ مکاتیب اقبالؒ میں اکثر اوقات اقبالؒ کی تازہ اور دیگر نظموں کے حوالے سے مل جاتے ہیں، خصوصاً وہ مکاتیب جو انھوں نے مولانا گرامی، مہاراجہ کشن پرشاد، بیگم عطیہ فیضی اور مختلف رسالوں کے مدیران کے نام لکھے تھے۔ ان سے کلام اقبالؒ سے متعلق کافی معلومات ملتی ہیں۔ مکاتیب کے وہ مجموعے جو خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں:
اقبالؒ بیگم عطیہ فیضی
اقبالؒ بنام شاد عبداﷲ قریشی
اقبالؒ نامہ (اول) شیخ عطا اﷲ
اقبالؒ نامہ (دوم) شیخ عطا اﷲ
روحِ مکاتیبِ اقبالؒ عبداﷲ قریشی
خطوط اقبالؒ رفیع الدین ہاشمی
کلیاتِ مکاتیب اقبالؒ(اول) سید مظفر حسین برنی
کلیاتِ مکاتیبِ اقبالؒ(دوم) سید مظفر حسین برنی
مکاتیبِ اقبالؒ بنام گرامی عبداﷲ قریشی
مکتوباتِ اقبالؒ سید نذیر نیازی
٭ ثانوی ماخذ کے سلسلے میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔ اگر کسی ماخذ میں ایک تاریخ بھی ایسی ملی جو دوسرے شواہد کے مطابق غلط ثابت ہوتی تھی تو جب تک کسی دوسرے مآخذ سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی اس پر بھروسہ نہیں کیا۔ مثلاً ''زندہ رود'' میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی سے اقبالؒ کی ملاقات کے واقعے کی تاریخ۱۹۱۲ء درج ہے۔ ۱؂
حالانکہ اس کا واضح ثبوت اقبالؒ کا وہ خط ہے جو انھوں نے بیگم عطیہ فیضی کے نام ۷ جولائی ۱۹۱۱ء کو لکھا تھا۔ ۲؂ یہ تاریخی اختلاف ہے اور اسے سہوِ کتابت سے بھی تعبیر کیا جاسکتاہے لیکن ''عروج اقبال'' کی بعض تاریخوں میں بھی اختلاف پایا جاتاہے اور یہ اختلاف محض تاریخی نہیں بلکہ واقعاتی سطح پر بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر اقبالؒ نے نظم ''سوامی رام تیرتھ'' سوامی جی کی وفات پر لکھی تھی جیسا کہ اس کے اشعار سے ظاہر ہوتا ہے۔ ''عروجِ اقبال'' کے مصنف نے کتاب کے صفحہ ۹۸ پر لکھا ہے:
''۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء کو وہ غار سے نکل کر گنگا میں نہانے کے لیے اترے اور آناً فاناً غرق ہو گئے'' ۳؂ اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ۲۰۷ پر لکھا ہے:
''۱۹۰۶ء کی ایک نظم سوامی رام تیرتھ……'' ۴؂
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ ۱۹۰۷ء میں غریق دریا ہوئے ہیں تو نظم ۱۹۰۶ء کی کیسے ہو گئی؟
یہاں اصل اختلاف سوامی جی کی تاریخ وفات کا ہے۔ سوامی جی کی وفات کے بارے میں گیان چند جین نے بہت تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ سوامی رام نومبر ۱۹۰۶ء کو دیوالی کے دن دریا میں غرق ہوئے تھے ۵؂ ڈاکٹر اکبر حسین قریشی نے اس واقعے کی تاریخ ۲۰ ؍اکتوبر ۱۹۰۶ء دی ہے ۶؂ لیکن قرین قیاس نومبر ۱۹۰۶ء ہی ہے کیونکہ دیوالی کا دن تھا اور اس کا ثبوت درشن سنگھ کا وہ شعر ہے جو گیان چند نے ''ابتدائی کلام اقبال'' میں لکھا ہے:
کس کو ملتے ہیں بھلا ایسے خوش اقبالی کے دن
زندگی ، سنیاس اور نروان دیوالی کے دن ۷؂
گویا یہ نظم نومبر دسمبر ۱۹۰۶ء میں لکھی گئی اور جنوری ۱۹۰۷ء کے مخزن میں شائع ہو کئی۔ نومبر ۱۹۰۶ء کی کس تاریخ کو دیوالی تھی ؟ اس کا علم تو نہیں ہو سکا لیکن نظم دسمبر ۱۹۰۶ء کی ہو سکتی ہے اس لیے کہ اگر یہ نومبر میں لکھ لی تھی تو پھر دسمبر ۱۹۰۶ء کے مخزن میں شائع ہو جاتی کیونکہ تعزیتی کلام عموماً فوری طو رپر شائع کر دیا جاتا ہے۔ یوں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ''عروج اقبال'' کے مصنف سے اس نظم کی تاریخ کے ضمن میں سہو واقع ہو ہے۔
٭ ایسی نظمیں جن کے بارے میں مستند مآخذ سے کوئی معلومات نہیں ملتیں لیکن کسی کمزور مآخذ میں تھوڑی بہت معلومات مل جاتی ہیں تو دستیاب مواد پر ہی اکتفا کر لیا ہے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ مثلاً نظم ''وطنیت'' کی تاریخ ''فروغ اقبال'' میں ۱۹۱۰ء درج ہے ۸؂ لیکن اس کا کوئی مآخذ نہیں بتایا گیا اس کے متعلق مزید کوئی معلومات بھی نہیں ملتیں لہٰذا دستیاب تاریخ کی بنا پر اور نظم کے موضوع کو سامنے رکھتے ہوئے اسے ۱۹۱۰ء کی تخلیق ہی سمجھا گیا ہے۔
٭ رسائل کے علاوہ علامہ کی نظموں کے بیشتر حوالے ان کے مکاتیب میں بھی ملتے ہیں۔ مثلاً ''سیرِ فلک'' کا حوالہ کسی رسالے یا بیاض وغیرہ میں نہیں ملتا لیکن اس کے زمانۂ تخلیق کا اندازہ اقبالؒ کے اس خط سے لگایا جا سکتاہے جو انھوں نے ۱۷ اپریل ۱۹۰۹ء کو بیگم عطیہ فیضی کے نام لکھا ۹؂ اس خط میں اقبالؒ نے ایک خواب کا ذکر کیاہے۔ اس خواب کی کیفیت بالکل وہی ہے جو اس نظم میں بیان ہوئی ہے۔ خواب میں فرشتوں کا یہ جواب کہ یہاں ہر شخص اپنا ایندھن اپنے ساتھ لاتا ہے اور اس نظم کے آخری شعر کا موضوع ایک ہی ہے:
اہلِ دنیا یہاں جو آتے ہیں
اپنے انگار ساتھ لاتے ہیں
اس لیے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اقبالؒ نے یہ نظم سترہ اپریل ۱۹۰۹ء کے بعد یا اس کے قریبی زمانے میں لکھی ہو گی۔
٭ اسی طرح نظم ''حضور رسالت مآبؐ میں '' چھے اکتوبر ۱۹۱۱ء کو شاہی مسجد لاہور میں پڑھی گئی تھی اور ''غرۂ شوال یا ہلال عید'' مخزن کے اکتوبر ۱۹۱۱ء کے شمارے میں شائع ہوئی اس طرح ''حضور رسالت مآبؐ میں'' کو تقدیم حاصل ہوتی ہے لیکن ''غرۂ شوال'' کے بارے میں زیادہ واضح ثبوت اقبالؒ کا وہ خط ہے جو انھوں نے اکبر الہٰ آبادی کے نام چھے اکتوبر ۱۹۱۶ء سے قبل ہی لکھ چکے تھے یوں یہ دونوں نظمیں چھے اکتوبر ۱۹۱۱ء سے قبل کی بنتی ہیں لیکن زیادہ واضح ثبوت چونکہ ''غرۂ شوال'' کا منشا ہے اس لیے ترتیب میں اسے مقدم کر دیا ہے۔
٭ وہ کلام جس کی تاریخ کسی قسم کے بنیادی مآخذ سے نہیں مل سکی لیکن کسی ثانوی مآخذ میں اس کا ذکر ملتا ہے تو اس ضمن میں معلومات پر اعتبار کرنے سے پہلے راوی کی حیثیت اور مقام و مرتبہ دیکھا گیاہے۔ مثال کے طور پر نظم ''ستارہ'' جولائی ۱۹۰۹ء کے مخزن میں شائع ہوئی تھی۔ مخزن کا یہ شمارہ مجھے نہیں ملا لیکن اس بات کا ذکر غلام رسول مہر نے ''مطالب بانگ درا'' میں کیا ہے ۱۱؂ یہاں راوی کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اس روایت کو قبول کر لیا ہے۔
٭ جس کلام سے متعلق معلومات کسی ثانوی مآخذ میں بھی نہیں ہیں ان کے متن کو سامنے رکھتے ہوئے موضوعات سے واقعات اور زمانے کی کڑیاں ملا کر ان کی تواریخ اخذ کرنے کی کوشش کی ہے جو یقیناً قیاسی ہے۔ مثال کے طو رپر نظم ''موٹر'' کی واضح تاریخ معلوم نہیں ہو سکی تاہم جس موقع پر یہ نظم لکھی گئی غلام رسول مہر نے ''مطالب بانگ درا'' میں اس کا ذکر کیا ہے ۱۲؂ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبالؒ نے یہ نظم سرذوالفقار علی خان کی موٹر پر لکھی تھی۔ اس کی شہادت نظم کے پہلے شعر سے بھی مل جاتی ہے:
کیسی پتے کی بات جگندر نے کل کہی
موٹر ہے ذوالفقار علی خاں کا کیا خموش
غلام رسول مہر لکھتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کے سر ذوالفقار علی خاں کے ساتھ تعلقات ۱۹۱۰ء……۱۹۱۱ء کے دوران شروع ہوئے تھے۔ یوں اس نظم کو اسی عرصے کی تخلیق سمجھا گیا ہے۔
٭ ایسی کتب جن کا حوالہ بار بار آ یا ہے ان کا پورا نام دینے کے بجائے مخففات بنا لیے ہیں جو درج ذیل ہیں:
عنوان کتاب
مصنف
مخفف
Kابتدائی کلام اقبالؒ بہ ترتیب مہ و سال
%ڈاکٹر گیان چند جین
ابتدائی کلام
)اقبالؒ کی طویل نظمیں
-ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
طویل نظمیں

3کلیاتِ باقیات شعرِ اقبالؒ
#ڈاکٹر صابر کلوروی
کلیات باقیات
;حیات ِ اقبالؒ کی گم شدہ کڑیاں
عبداﷲ قریشی
گم شدہ کڑیاں
9اقبالؒ اور انجمن حمایت اسلام
حنیف شاہد
!اقبالؒ اور انجمن
باقیات اقبالؒ
%سید عبدالوحد معینی

‚اقیات
+روزگارِ فقیر، جلد اول
'سید وحید الدین فقیر
روزگار ، اول
)روزگار فقیر، جلد دوم
'سید وحید الدین فقیر
روزگار ، دوم
مطالب بانگ درا
غلام رسول مہر
مطالب
نوادرِ اقبالؒ
عبدالغفار شکیل
نوادر
;کلیاتِ مکاتیب اقبالؒ، جلد اول
%سید مظفر حسین برنی
!کلیات مکاتیب اول
9کلیات مکاتیب اقبالؒ، جلد دوم
%سید مظفر حسین برنی
#کلیاتِ مکاتیب دوم
V امید کرتی ہوں کہ یہ تحقیقی کاوش تحقیقات اقبالؒ میں ایک اچھا اضافہ شمار ہو گی اور اس سے بعض ایسے نتائج حاصل ہو سکیں گے کہ اقبالیاتی تحقیق کے قدم ہنوز جن تک نہیں پہنچے ہیں۔
''دھرتی کا تاج''(ماریشس کا سفر نامہ)
از: اختر ہاشمی
Gناشر: اکبر لاہوری فاؤنڈیشن ، لاہور
سفر نامہ اب ادبی صنف کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر چکا ہے۔کیونکہ مغرب ابھی تک ہمارے لیے ''نئی دنیا'' ہے اس لیے آج بھی زیادہ تر سفر نامے مغرب کی سیاحت پر ہی مشتمل ہوتے ہیں اور بعض اوقات ان اسفار کو دلچسپ بنانے کے لیے ان میں رنگینی بھی شامل کر دی جاتی ہے۔ حالیہ کتاب ''دھرتی کا تاج'' میں دو خوبیاں بالکل سامنے کی ہیں۔ ایک تو ماریشس جیسے ایک چھوٹے سے جزیرے پر سفر کا احوال تحریر کرنا بجائے خود ایک اہم بات ہے اور دوسرا یہ کہ سفر نامے کو دلچسپ و عجیب بنانے کے شوق میں ''بیرونی عناصر'' پر انحصار نہیں کیا گیا۔ اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حقیقی صورت حال ہی اس قدر دلچسپ اور معلومات افزا ہے کہ مصنف کو ایسا کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔ کتاب کے آغاز میں ہی بتا دیاجاتاہے۔ کہ
''۔۔۔ ماریشس کے رہن سہن اور کرداری اطوار سے آگاہ کردوں تاکہ جب آپ اس کتا ب کی وساطت سے ماریشس کی سیر کو نکلیں تو ذہنی طور پر محظوظ ہو سکیں اور اس سفرکے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں''۔
ماریشس بحر ہند کے انتہائی جنوب میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے ۔ ماریشس کے ارد گرد بھی بہت سے چھوٹے چھوٹے جزائر موجود ہیں ۔ قدرتی حسن سے مالا مال اس جزیرے نے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ حاصل کی ہے اور سیاحت ہی اس ملک کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ اردو دان طبقے کے لیے اس سفرنامے کو ٹورسٹ گائیڈ کہا جا سکتا ہے ۔
مبصر: صفدر رشید
محنت کشوں کے نام شاعری
ê یہ کتاب محنت کشوں کے موضوع اور اُن کے ظاہری و باطنی احوال پر لکھی گئی نظموں اور اشعار کا ایک مؤثر اور جامع انتخاب ہے۔ یوں گویا یہ کتاب محنت کشوں کے لیے ایک نوعیت کا خراجِ تحسین ہے۔ عمومی خیال یہ ہے کہ سماج اور مزدور کے لیے آواز ترقی پسند ادباء او رشعراء نے اٹھائی اور اُن کی تخلیقات اس سلسلہ میں سنگ میل ہے۔ موجودہ انتخاب اس مفروضے کو غلط ثابت کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں ترقی پسند شعرا ء کے ساتھ دیگر ایسے شعراء کی نمائندہ نظموں کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے خیال ، فکر، موضوع اور کُلی مزاج میں عوام دوست ہیں اور معاشرے کے نظر انداز اور مظلوم افراد کے حق میں ایک بھر پور آواز ہیں۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد اس کتاب کے مدون ہیں جو جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ موجودہ کتاب اُن کے وسعت مطالعہ، بے تعصبی، فراخ دلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ نظمیں اپنی کُلی وحدت میں ایک نئے زاویۂ نگاہ کی مطالبہ کرتی ہیں۔یہ نظمیں حقیقت نگاری اور فرد کے داخلی اور خارجی جذبات کا بہترین اظہاریہ ہیں۔
یہ کتاب اس حقیقت کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اردو شعراء تاریخ کے کسی دور میں بھی اپنے سماج اور اُس کے کرداروں سے لاتعلق اور بے خبر نہیں رہے۔ اس کتاب میں شامل نظمیں اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تخلیقی تجربہ بہ ذاتِ خود ایک نوعیت کا ذہنی کرب اور مسلسل ریاضت کا حاصل ہے۔ کتاب کے مدون ڈاکٹر سید جعفر احمد اس کتاب کی اشاعت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
مبصر:عمران ازفرؔ
تذکرۂ علما
از : شمس العلما مولوی محمد حسین آزاد مرتب:ڈاکٹرارشد محمود ناشاد
6 الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی
ہماری علمی تاریخ میں رجال اور تذکرہ نویسی کی روایت بہت مستحکم رہی ہے۔ اگر چہ یہ مسلمانوں کی تاریخ نویسی کے فن واصول کے تحت اس کا لازمہ رہی لیکن بطور ماخذ یہ دونوں، تاریخ نویسی اور تذکرہ نویسی ، ایک دوسرے کے لیے معاون رہے ہیں۔ تذکرہ نویسی ایک انفرادی یا افراد کی تاریخ ہے۔ تاریخ نویسی نے تذکرہ نویسی کے لیے بنیادیں فراہم کیں اور تذکرہ نویسی نے تاریخ نویسی کو بنیادی مواد فراہم کیا۔ چناں چہ ان دونوں کا ارتقأ یا سفر متوازی اور مشترکہ ہر دو صورتوں میں ساتھ ساتھ رہا ہے۔ تاریخ نویسی کی کوئی مبسوط مثال شاید ہی ایسی ہو جس میں رجال یا تذکرہ درونِ متن یا بصورتِ باب یا بصورت ضمیمہ شامل نہ ہو۔ ہندوستان کے عہدِ اسلامی میں جو تاریخیں لکھی گئیں، بالخصوص ضخیم و مبسوط تاریخیں ، ان میں یا تو متعلقہ رجال کا ذکر درونِ متن ہی دیکھا جا سکتاہے یا علیحدہ باب کی صورت میں یہ موجود ہیں۔ طبقاتِ اکبری (نظام الدین ہروی) ، منتخب التواریخ (عبد القادر بدایونی) اور مراۃ العالم (محمد بختاور خاں) وغیرہ اس نوع کی جامع مثالیں ہیں۔
تاریخ نویسی سے قطعِ نظر، خود تذکرہ نویسی نے بذاتہٖ بھی خاصا فروغ پایا ۔تذکرہ نویسی کی اس مستقل نوعیت نے تاریخ نویسی کے متوازی یا ساتھ ساتھ ہی ارتقأ حاصل کیا اور یہ بالعموم عرب دنیا کے معاشرتی نظام میں قبیلوں و خاندانوں کے شجروں اور احوال سے شروع ہو کر عمومی و تاریخی نوعیت کے افراد کے حالات کی جمع آوری تک پہنچی، جسے عرب دنیا سے باہر بالخصوص ترکی و ایران اور شمالی افریقہ میں زیادہ فروغ حاصل ہوا اور پھر ذوق و شوق اور بڑی حد تک ضرورتوں نے صوفیہ و مشائح اور علمأ و مصنفین اور شاعروں کے تذکرے لکھنے کا ایک عام رجحان پیدا کر دیا، جس کی ایک بہت مستحکم روایت نے ایران و ہندوستان میں حد درجہ مقبولیت حاصل کی۔اس روایت کے تحت ہندوستان میں ایسے تذکے بھی لکھے گئے جن میں ، صوفیہ و مشائخ کے تذکروں سے قطع نظر، کہ جو بالعموم صرف ان ہی کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ مشترکہ صورت میں علمأ و مصنفین اور شاعر بیک وقت شامل ہیں اور ساتھ ہی سیاست داں ومدبرین اور دانش ور بھی۔مائر الامرأ (شاہ نوازخاں)، فرحت الناظرین (محمد اسلم پسروری) اور مائر الکرام (آزاد بلگرامی) ایسے تذکروں میں نمائندہ ہیں جو اٹھارویں صدی میں لکھے گئے۔ ان میں مؤخر الذکر کے مؤلف غلام علی آزاد بلگرامی نے اس وقت تذکرہ نویسی کی جانب توجہ دی اور نہایت اہم تذکرے تصنیف کیے جب یہ روایت ہندوستان میں بہت مستحکم ہو چکی تھی اور اردو میں بھی تذکرہ نویسی کا آغاز ہو گیا تھا۔ آزاد بلگرامی کے دیگر تذکروں سروِ آزاد(شعرائے بلگرام و دیگر) ، یدِ بیضا (شعرائے فارسی) ، خزانہ عامرہ (شعرائے ہندو ایران)میں شاعروں کا تذکرہ ہے، جب کہ سبحتہ المرجان جزوی طور پر اور مائر الکرام مکمل طور پر علمأ و فضلأ کے لیے مخصوص ہیں۔ اس آخر الذکر نوعیت کے تذکرے، شعرأ کے تذکروں کی نسبت کم لکھے گئے ہیں لیکن یہ قسم اردو میں تو، کہیں جزوی اور کہیں کلی صورت میں، ایک عرصے بعد خاصی مقبول ہوئی۔ انیسویں صدی کے اختتام، یا محمد حسین آزاد کے زیر نظر تذکرہ علمأ کی تصنیف تک، علمأ کے متعدد چھوٹے بڑے، اہم غیراہم ، تذکرے لکھے گئے، جن میں سے اکثر شائع بھی ہوئے۔ یہاں یہ بات ، اس تذکرے کے فاضل مرتب ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ کے مطابق واضح ہے کہ آزاد بلگرامی کا تذکرہ مائر الکرام ہی بڑی حد تک محمد حسین آزادؔ کے اس تذکرے کا محرک اور بنیادی ماخذ معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح مائر الکرام ، کچھ تو اپنی نوعیت اور موضوع کے تحت اور کچھ آزار بلگرام کی عالمانہ شخصیت و حیثیت کے زیرِ اثر بعد میں نہ صرف علمأ کے تذکروں کے لکھنے کے لیے ایک محرک ثابت ہوا بلکہ خود اس زیر نظر تذکرے کے لیے بھی ایک مثال بنا ہے۔
محمد حسین آزادؔ نے اپنی دیگر تصانیف : سخندانِ فارس، دربارِ اکبری اور آبِ حیات میں تذکرہ نویسی کے اپنے رجحان ، دل چسپی اور ذوق وشوق کا اچھا خاصا مظاہرہ کیا تھا، جو ان کے متعلقہ منصوبوں کے لیے ایک حد تک ضروری تھا۔ ممکن ہے کہ وہ اس ضمن میں علمأ کا بھی ایک تذکرہ ، شاید ایک مستقل حیثیت میں لکھنے کے خواہاں رہے ہوں اور اس کے لیے مواد یکجا کرتے رہے ہوں جو اس موجودہ حالت میں اس حد تک ایک شکل بھی اختیار کر چکا ہو۔ بظاہر اس میں شامل علمأ میں پہلا نام مسعود سعد سلمان کا اورآخری نام آزاد بلگرامی کا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اسے وہ زمانی اعتبار سے مرتب کرنا چاہتے تھے لیکن آزاد بلگرامی (متوفیٰ ۱۷۸۶ء) پر پہنچ کر رک گئے اور مزید اپنے دور تک نہ بڑھ سکے۔ یہاں یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے یہ تذکرہ، بلکہ ایک دو مزید کتابوں کے ساتھ، اپنی زندگی کے آخری عرصے میں، حالتِ جنون میں ، جو ۱۸۸۴ء سے وقفوں وقفوں سے ان کی وفات ۱۹۱۰ء تک بسیط ہے، تحریر کیا۔ اس طرح کم از کم پچھلی ایک صدی کے علمأ کی شمولیت بھی اس تذکے میں ان کے پیش نظر رہی ہوگی، جس کے اس منصوبے کی حد تک پیشِ نظر نہ رہنے کا کوئی جواز بھی بظاہر نظر نہیں آتا اور کوئی وجہ بھی نہیں کہ وہ اپنے اس تذکرے کو محض آزاد بلگرامی کے ذکر پر ختم کر دیتے۔
زیرنظر تذکرے کے فاضل مرتب ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد ؔ نے اس کی ترتیب کے دوران ضروری تحقیق و جستجو کے عمل سے گزرتے ہوئے یہ کھوج لگایا ہے کہ آزادؔ نے اپنے اس تذکرے کو تحریر کرتے ہوئے دراصل مائر الکرام کو بنیاد بنایا ہے اور اس کی انھوں نے بہت واضح شہادتیں بھی پیش کی ہیں، جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ واقعتاً آزادؔ نے یہی کیا اور اس کی تحریر تک مزید زیادہ جستجو نہ کی یا جستجو نہ کرسکے اور دیگر مآخذ سے استفادے اور اس تذکرے کی تکمیل کا انھیں موقع یا مہلت نہ مل سکی۔ ورنہ وہ شاید ایسا ضرور کرتے۔
ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ کے اس انکشاف سے یہ امر بھی سامنے آتا ہے کہ خود ڈاکٹر ناشادؔ نے اس کو مرتب کر نے کے لیے کس حد تک جستجو کی ہے کہ آزادؔ کے اصل مآخذ تک پہنچنا بھی انھوں نے ضروری سمجھا، جو ایک حقیقی مرتب و مدون کا دیانت دارانہ فریضہ ہے۔ یہ ممکن تھا اور بہت آسان بھی، کہ جیسا بالعموم مرتبین کا طریقۂ کار ہے کہ متن کو، اگر وہ منحصر بہ فرد ہے، تو بعینہٖ نقل کر دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ اس پر چند حواشی اور اگر وہ کچھ زیادہ مستعد بھی ہے تو کچھ تعلیقات کا اضافہ کر دیا جائے اور بس۔ لیکن متن کی ، اگر وہ منحصر بہ فرد ہو تب بھی، امکانی صحت اور متن کے مطالب ،ان کی اصل و بنیاد، مآخذ وغیرہ کی جستجو ، تلاش اور دید و دریافت اصول و فنِ تحقیق کے اعتبار سے ایک اچھے مرتب و محقق کے پسندیدہ اعمال و وظائف ہیں۔
انتخاب از دیباچہ: معین الدین عقیل
فرہنگنامہ اقبال لاہوری
از : ڈاکٹر سید عون ساجد نقوی
d ناشر: مرکز تحقیقات زبان فارسی ، ایران و پاکستان؛
پورب اکادمی، اسلام آباد
فکر اقبال ایک ایسا بین المکاتب لائحہ عمل ہے جس سے ہر مکتب فکر مستفید ہو سکتا ہے۔شعر اقبال فکر اقبال کا آئینہ ہے ، اقبال کی شاعری چشم و ابرو کی شاعری نہیں بلکہ زندگی کے حقائق پر ایک منفرد نقطہ نظر کا تاثر انگیز بیا ن ہے ، خصوصا اقبال کے فارسی اشعار ان کے فلسفہ زندگی کے حقیقی نمائندہ ہیں ، لہٰذا ان کی فارسی شاعری کی تفھیم ،ان کے فکر و فلسفہ سے آگاہی کے لیے از بس ضروری ہے۔ فارسی سے مختصر آشنائی رکھنے والے طالب علم جب اقبال کے کلام کو پڑھتے ہیں تو ان کا سامنا کئی ایسی فارسی تراکیب و لغات سے ہوتا ہے جو سادہ نہیں ہیں بلکہ اپنے اندر معانی کا ایک بڑا ذخیرہ رکھتی ہیں،فلسفہ و کلام ، تصوف و عرفان، سیاسیات و دینیات اور ادب کی مروجہ اصطلاحات کے علاوہ اقبال کی اپنی اختراعی اصطلاحات نے ان کے کلام کو جہاں انفرادیت بخشی ہے وہیں ان کے کلام کی تفھیم کو کسی حد تک دشوار بھی بنا دیا ہے۔ اقبال کے دور کی فارسی جو فارسی کے اسالیب میں '' سبک ہندی '' کے نام سے معروف ہے آج کی جدید فارسی سے کسی حد تک مختلف تھی ،اس کے بہت سے کلمات متروک ہو چکے ہیں۔ اس بات نے بھی مشکلات کلام اقبال میں کچھ اضافہ کردیا ہے، اس سے قبل مختلف شروحات میں بعض کلمات کی وضاحت کی گئی اور فارسی سے اردو میں فرہنگ بھی مرتب کی گئی ، لیکن فارسی زبان کے مزاج کی انفرادیت اور وسعت کو اردو کی تنگ دامانی کا سامنا رہا، لھٰذا ضرورت اس امر کی تھی کہ ایک ایسی فرہنگ مدون کی جائے جو جدیدفارسی میں مطالب اقبال کی وضاحت کرے اورفکر و شعر اقبال کی فہمایش میں طلبا کی ممد و معاون ہو۔ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے ڈاکٹر سید عون ساجد نقوی نے ''فرہنگنامہ اقبال لاہوری ''کے عنوان سے ایک فرہنگ (فارسی سے فارسی) مرتب کی ہے جسے '' مرکز تحقیقات زبان فارسی ، ایران و پاکستان '' جیسے طویل علمی و تحقیقی پس منظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارہ نے پورب اکادمی اسلام آباد کے تعاون سے طبع کیا ہے ۔
اس کتاب کے مطالعہ سے پہلے ان نکات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ اس کتاب سے استفادہ کے لیے فارسی سے ابتدائی آشنائی لازم ہے ، گو کہ اس فرہنگ کا مقصد مشکل کلمات کی تشریح ہے اور بہت سے سادہ کلمات کی وضاحت شاید غیر ضروری نظر آئے لیکن چونکہ اس کے مخاطب فقط فارسی اور اردو دان حضرات نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی خطہ اور کسی بھی زبان کے جویندگان فکر اقبال ہیں، جن کے لیے وہ سادہ الفاظ بھی دشوار ہیں، اسی بنا پر ان کلمات کو اس تالیف میں جگہ دی گئی ہے۔مزید برآں اسی قسم کے نکات کی وضاحت مقدمہ میں کردی گئی ہے، اس لیے مقدمہ پڑھے بغیر فرہنگ کا مطالعہ بے سود ہو گا۔امید ہے یہ کتاب جہان قلم و قرطاس میں ایک مفید اضافہ ثابت ہو گی۔
مبصر:نبی احمد
سلیم احمد
(مشاہدے، مطالعے اور تاثرات کی روشنی میں )
از: خو اجہ رضی حیدر
Z ناشر: ایوان محدث سورتی نشرح فاؤنڈیشن، کراچی
دانشور ، نقاد ، صحافی اور شاعر سلیم احمد کی شخصیت سازی میں دو افراد کا کردار نہایت اہم ہے یعنی پروفیسر کرار حسین اور محمد حسن عسکری۔
خواجہ رضی حیدر ایام جوانی میں سلیم احمد کی صحبتوں سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں ۔ سلیم احمد کا حلقہ بہت وسیع تھا خصوصاً ادبی اور مذہبی شخصیات کا ان کے ہاں ہمہ وقت جھمگٹا رہتا تھا ۔اس کتاب میں سلیم احمدکی پوری شخصیت کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سلیم احمد ہندوستان سے نقل مکانی کر کے کراچی آئے تھے ۔یہاں آتے ہی انھوں نے اپنی ادبی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تخلیقی ادب میں سلیم احمد نے شاعری اور ڈرامہ میں طبع آزمائی کی اور تنقید تو ان کا اوڑھنا بچھونا تھی ہی۔ سلیم احمد کا مطالعہ اور حافظہ حیرت انگیز تھا ۔اسلام اور پاکستان سلیم احمد کے دو بنیادی جذباتی مسئلے تھے۔ اس کے علاوہ کون سا ایسا موضوع تھا جس میں سلیم احمد غوطہ زن نہ ہوئے ہوں۔ انھوں نے اپنی تخلیقی بصیرت سے لکھنے ، پڑھنے والوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ ان کے چاہنے والے انھیں سلیم بھائی کہتے تھے۔ سلیم احمد سے فیض یاب ہونے والے بہت سے افراد کی یادداشتوں اور تاثرات کی جمع آوری سے بھی اس کتاب کی اہمیت دوبالا ہو گئی ہے۔
مبصر:صفدر رشید
اُردو تنقید میں پاکستانی تصورِ قومیت
از: ڈاکٹر روبینہ شہناز
H ناشر:مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد
سالِ اشاعت:۲۰۰۷ء
اُردو تنقید میں پاکستانی تصورِ قومیت، ڈاکٹر روبینہ شہناز کی پی ایچ۔ ڈی کا تحقیقی مقالہ ہے جو ڈاکٹر رشید امجد کی زیرنگرانی لکھا گیا۔ پروفیسر فتح محمد ملک (سابق صدرنشین مقتدرہ قومی زبان) نے پیش لفظ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
''اُردو تنقید میں پاکستانی تصورِ قومیت اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ اِس کتاب کی اہمیت تحقیقی اور تنقیدی بھی ہے اور قومی و ملی بھی۔ ڈاکٹر روبینہ شہناز نے نامور اور رجحان ساز افسانہ نگار، معتبر نقاد اور ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر رشید امجد کی نگرانی میں تجزیہ و تنقید اور تحقیق و تفتیش کا حق ادا کر دیا ہے۔ ''
حرفِ آغاز میں مصنفہ نے وضاحت کی ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت ترقی پسند تحریک زوروں پر تھی۔ دوسری طرف حلقۂ اربابِ ذوق تھا۔ حلقے کے نقاد، فلسفہ اور نفسیات کی مدد سے تنقیدی اُصول وضع کرتے تھے۔ ان کے پیش نظر ایسا غیر ملکی اَدب تھا جسے ترقی پسند حلقے آسانی سے قبول نہ کرتے تھے لیکن قیامِ پاکستان کے بعد زندگی کے مختلف شعبوں میں سیاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اثرات بھی نمایاں ہونے لگے۔ایسے میں پاکستانی ادب کی الگ شناخت کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسلامی ادبی تحریکوں کا آغاز ہوا یہ تحریکیں تو زیادہ برقرار نہ رہیں لیکن نئی فکر کا ایک ایسا بیج بو گئیں جس نے قومی طرزِاحساس کو اُجاگر کیا۔
قدیم ادوار میں ہمیں تنقید کا کوئی خاطر خواہ سرمایہ نہیں ملتا تاہم سر سیّد کے زمانے میں اَدب میں تنقید کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے۔ انقلاب روس نے دُنیا کو ایک نئے شعور کا احساس دیا۔ برصغیر میں ترقی پسند نظریے کے پھیلاؤ نے تنقید کے حلقے میں وسعت پیدا کی لیکن اُن کے ہاں خارجیت پر اتنا زور دیا جاتا ہے کہ داخلیت دَب کر رہ جاتی۔ انسانی نفسیات اور جمالیات کا پہلو دَب کر رہ گیا۔ ایسے میں حلقہ اربابِ ذوق (۱۹۳۹ء ) کی اَدبی خدمات سامنے آتی ہیں۔ اِن لوگوں نے ادب میں ایسے تجربات کیے جن میں داخلی عناصر کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔
ہر زبان کے اَدب میں اِس مخصوص قوم کی تہذیب و ثقافت، سیاسی و سماجی حالات اور قومی مزاج کے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں یعنی ہر ملک کے اَدب پر وہاں کے حالات کی گہری چھاپ موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستانی اور ہندوستانی اَدب کے خدوخال میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بقول رشید امجد ''پاکستانی ادب کے پچاس سال اِس کی تاریخ بھی ہیں اور شناخت بھی'' بلاشبہ پاکستان میں بولے جانے والی اُردو میں پنجابی، سندھی، بلوچی اورپشتو کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں جبکہ بھارت میں بولی جانے والی اُردو یکسر مختلف ہے۔ یہ لسانی اور ثقافتی اثرات پاکستانی اَدب کو الگ تشخص عطا کرتے ہیں۔ قومیت کا یہ تصور اُنیسویں اور بیسویں صدی میں اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ جب سامراجی ممالک اپنی صنعتوں کے پھیلاؤ کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں یہ جذبہ اُبھار رہے تھے۔ کسی ایک خطے میں رہنے والے افراد کا وہ گروہ جو ایک نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک قوم کہلاتا ہے لیکن سر سیّد نے اسلام کو مسلم قومیت کی بنیاد قرار دیا۔ سر سیّد جدید تعلیم کے خواہاں تو تھے لیکن ساتھ ہی وہ مسلم قوم کی مذہبی، تہذیبی اور لسانی شناخت اور اُن کے سیاسی مفادات کو بھی ایک سمجھتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو جدید تعلیم ہی نہیں جدید طرزِ فکر کی طرف بھی لائے۔ پھر جنگ طرابلس اور جنگ بلقان نے ہندوستان کے مسلمانوں میں قومی شعور کو اُجاگر کیا اور تحریکِ خلافت اور تحریکِ ترک موالات جیسی سیاسی تحریکوں نے مسلم قوم کو سیاسی بیداری عطا کی بعد ازاں اِقبال نے وطنیت کے محدود تصور کو جھٹلا کر اِسلام کے اصلی اور دائمی تصورِ ملت کو پیش کیا اور ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سر زمین کی ضرورت کو محسوس کیا۔ اِس طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مشترکہ سیاسی جدوجہد کے باوجود قومیتوں کا اپنا اپنا تصور برقرار رہا پھر قائداعظم اور علامہ اقبال کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا لیکن تقسیم کے المناک واقعات نے انسانی اقدار کو بری طرح پامال کیا۔ اس کا تذکرہ اِس عہدکے اَدب میں جابجا موجود ہے۔ جب آزادی کی تحریک نے مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کو ایک اہم موڑ پر لا کھڑا کیا تو قیامِ پاکستان کے بعد پاکستانی اَدب کی تحریک ادبی سطح پر قومیت کو اُبھارنے والی ایک اہم تحریک بن گئی جو بنیادی طور پر اَدب کا نیا فکری پس منظر تلاش کرنے کی متمنی تھی۔ اس کی کوکھ سے تحریک اَدب اسلامی نے جنم لیا۔ یہ ترقی پسند تحریک کے مخالف تھے کیونکہ اُن کے خیال میں ترقی پسندی کا فروغ مذہبی اقدار کونقصان پہنچا رہا تھا۔ اس لیے ایسے اَدب کی ضرورت کو محسوس کیا گیا جو مذہبی اقدار کا حامل اور اخلاقی اصلاح کا باعث ہو۔ ایسے میں تقسیمِ ہند کے ساتھ حسن عسکری کے خیالات ہر پاکستانیت کی چھاپ غالب نظر آنے لگی۔ معاصرین نے شدید مخالفت کی کہ اگر اُردو ادب میں اسلامی روح کی شراکت لازمی ہوگئی تو اَدب میں غیر مسلموں کا کیا مقام ہوگا؟ لیکن ڈاکٹر آفتاب احمد جیسے دانشوروں نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ مسلمان ادیبوں کے ہاں مسلم طرزِ احساس کے عناصر کا آ جانا قدرتی عمل ہے۔ اِس طرح نقادوں کا ایک گروہ پیدا ہوا جن کی فکر کا منبع مولانا مودودی کے افکار ہیں۔ ۔ پاکستانی اَدب نے فسادات کے بعد ۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کے واقعات اور ۱۹۵۸ء کی مارشل لاء کے جو اثرات قبول کیے اُس نے تنقیدی عمل کو قدرے سست کر دیا لیکن یہ بات طے شدہ تھی کہ پاکستانی ادب کو سمجھنے کے لیے ہندی مسلمانوں کے طرزِ احساس کو سمجھنا ہوگا کیونکہ پاکستان جس تہذیبی روایت کے تحفظ کے لیے وجود میں آیا ہے اس کا تعلق برصغیر میں مسلمانوں کی ہزار سالہ تاریخ سے ہے۔ اِس طرح پاکستانی تہذیب کی ایسی تشریح سامنے آتی ہے جس میں فکر تو مذہب سے آئی ہے لیکن طرزِ حیات کے مخصوص پہلو برصغیر کی مخصوص فضا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء کے بعد نقادوں نے معاشیات کو بھی بنیادی عامل قرار دیا کیونکہ مذہبی تصورات سے ثقافتی تصورات تک ہر جگہ جاگیردارانہ ذہنیت کار فرما نظر آتی ہے علاوہ ازیں پاکستانی اَدب میں آغاز ہی سے قومی شعور کا احساس غالب نظر آتا ہے، اُردو زبان و ادب نے بھی اپنا ایک مخصوص مقام بنا لیاتھا۔ ایسے میں پچاس کی دہائی میں جو نئی نسل وجود میں آئی وہ اپنی روایات سے تو منحرف نہیں لیکن مروجہ زبان میں اپنی تخلیقی شخصیت کے اظہار میں دشواری محسوس کرنے لگی۔ لسانی تشکیلات کی تحریک نے نئے عہد کے تقاضوں کو مد نظر رکھا اور زیادہ بہتر نظریہ سازی کی۔ وزیر آغا جیسے لوگوں نے شعر و ادب کی اساس اپنی دھرتی اور ثقافت سے منسلک کر دی اور پاکستانی اَدب کی جڑیں تلاش کرنے کے بعد تخلیقی عمل کے ذریعے ایک نمایاں سمت وضع کی۔
پروفیسر فتح محمد ملک کے ہاں بھی تنقیدی شعور میں قومی طرزِ احساس کاعنصر غالب نظر آتا ہے۔ اُن کی ادبی روایت میں جوسیاسی سفر سامنے آتا ہے وہ شاہ ولی اﷲ سے شروع ہو کر سر سیّد تحریک سے گزرکراِقبال تک پہنچتا ہے۔ فتح محمد ملک اُردو اَدب کو ہندی مسلمانوں کی تہذیب کا خوبصورت مظہر سمجھتے ہیں۔ خلیفہ عبد الحکیم، ڈاکٹر سیّد عبد اﷲ، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر انور سدید سبھی کم و بیش اِس قسم کے نظریات کے حامل نظر آتے ہیں پھر بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کو جدید اَدب کے آغاز کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ جدیدیت کے رجحان نے پہلی زبان کو مسترد کر کے نئی زبان وضع کرنے کی کوشش بھی کی۔ پرانی اقدار کو بھی مسترد کر دیا لیکن یہ تحریک کوئی منشور یا ضابطہ مہیا نہ کر سکی۔ نئی نسل کا یہ نیا رویہ مخصوص حالات کی پیداوار ثابت ہوا، بیسویں صدی کے آغاز تک پرانی قدریں اور نئے رویے، نئے حالات کی زد میں آگئے۔ ایسے میں ترقی پسند مصنّفین کی انجمن نے اپنا ایک منشور بنایا جس کا مقصد ایسا انقلاب تھا جو غیر طبقاتی معاشرہ پیدا کر سکے۔ اس تحریک نے مارکسی نظریات کو فروغ دیا اور حقیقت نگاری کا رجحان پیدا کیا۔ ایسے میں لوگ حلقہ اربابِ ذوق کی طرف مائل ہوئے جو مختلف الخیال لوگوں کا ایک پلیٹ فارم تھا اِس طرح نئے ترقی پسند رویے سامنے آئے۔ ۱۹۷۷ء میں مارشل لاء کے دوران مزاحمتی اَدب کی اصطلاح سامنے آئی۔ یہ اصطلاح فوجی حکومتوں کے اَدوار میں استعمال ہوئی ستر کی دہائی میں جمہوریت کی شدید خواہش نے ایک بڑی عوامی تحریک کو جنم دیا۔ جس کی وجہ سے نظریاتی تصادم بھی پیدا ہوا۔ سیاسی مخالفین اور جمہوریت پسندوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ ایسے میں بھٹو کی پھانسی نے مزاحمتی رویے کے ایک نئے دور کا آغاز کیا اورغزل میں محبوب نے ایک نئی معنویت اختیار کر لی۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے وسط تک مزاحمت کا یہ رویہ مضبوط اور توانا دِکھائی دیتا ہے۔ غزل کے علاوہ نظم میں بھی دبی دبی چیخوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ۱۹۷۸ء میں مزاحمتی افسانے کا پہلا مجموعہ ''گواہی ''شائع ہوا۔ اِس میں جبروتشدد کی کیفیت کے ساتھ نفسیاتی مسائل اور معاشرتی گھٹن کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ اعجاز راہی نے دیباچے میں لکھا ہے کہ: ''قدروں کے زوال کی صورتِ حال…… پرانے رویوں سے بغاوت کے ایک نئے رجحان کی علامت بھی بنا۔''
اِن حالات میں سوال یہ پیدا ہوا کہ پاکستان کا تحفظ کیسے ممکن ہو؟ کچھ لوگوں کے نزدیک اِس تحفظ کی ضمانت نظریہ ٔ پاکستان میں پوشیدہ تھی اسی بناء پر ادیبوں اور شاعروں نے نظریہ پاکستان اور اسلام کو پاکستانی اَدب کا محور و مرکز بنانے کی ترغیب دی۔ پاکستانی اور اسلامی اَدب کی تحریکیں پروان چڑھیں اگرچہ یہ تحریکیں زیادہ دیر برقرار نہ رہیں لیکن تنقید اور اَدب پر دیر پا اثرات چھوڑ گئیں۔
مبصر: ڈاکٹر ارشد خانم
اقبالیاتی مکاتیب (اوّل)
از: ڈاکٹرخالدندیم
š ڈاکٹر خالد ندیم کی مرتب کردہ کتاب ''اقبالیاتی مکاتیب بہ نام رفیع الدین ہاشمی'' چھپ گئی ہے۔ اس کتاب میں نام ور اقبال شناس ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے نام مشاہیر اور عصر حاضر کے اہل قلم کے ایسے خطوط شامل ہیں جو حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت اور فن کے مختلف گوشوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ جن شخصیات کے خطوط اس کتاب میں شامل ہیں ان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ، نذیر نیازی،پروفیسر حمید احمد خاں، محمد عبداﷲ چغتائی، میاں محمد شفیع، ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی، ڈاکٹر سید عبداﷲ، بشیر احمد ڈار، ڈاکٹر جاوید اقبال، احمد ندیم قاسمی، شیخ اعجاز احمد، جگن ناتھ آزاد، آل احمد سرور،مشفق خواجہ، رشید حسن خاں، ڈاکٹر گیان چند جین، داؤد رہبر، ڈاکٹر سعید اختر درانی، ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی اور ملک حق نواز خاں شامل ہیں۔
ڈاکٹر خالد ندیم نے بیالیس مشاہیر کے سو خطوط مع حواشی و تعلیقات کے ساتھ فراہم کر کے غیر معمولی علمی اثاثہ قارئین کے سپرد کر دیا ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اقبالیات کے بے بدل عالم ہیں اور ہمہ وقت اقبالیات کے لیے غیر معمولی منصوبوں پر کام جاری رکھتے ہیں۔ جس قدر محنت ڈاکٹر صاحب کرتے ہیں اور اقبالیات کے موضوع پر جیسی نظر ان کی ہے یقینا ان کا کوئی متبادل نہیں۔ ڈاکٹر صاحب اقبالیات کے کھوج میں دنیا بھر کے علم و ادب سے دل چسپی رکھنے والوں سے مربوط رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اقبالیاتی اثاثے کی نسبت سے ایک تحریک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن شخصیات کے خطوط ان کے نام اس پہلی جلد میں موجود ہیں۔ ان کے تنوع سے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب۹ کے تحرک، توجہ، محنت، محبت اور نظر کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
ڈاکٹر خالد ندیم بے حد محنتی سکالر ہیں اور وہ اس بار ایک بیش بہا علمی خزانہ قارئین کے لیے سامنے لائے ہیں۔ جس کے لیے وہ داد کے مستحق ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ اس سلسلے کے باقی حصے بھی ڈاکٹر خالد ندیم مرتب کر کے منظر عام پر جلد لائیں گے۔ یقینا یہ اثاثہ اقبالیاتی ادب میں بے حد اہم اضافہ ثابت ہوگا۔ تین سو صفحے کی پیش نظر کتاب الفتح پبلی کیشنز، راول پنڈی نے شائع کی ہے۔
مبصر:راشد حمید
رسائل پر تبصرہ
سیپ ،کراچی
| اُردو زبان وادب کے فروغ میں رسائل کے کردار کی اہمیت مسلم ہے، تخلیق، تنقید، تحقیق غرض ہر شعبۂ ادب کی تازہ مہک قاری تک پہنچانے میں رسائل ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ''سیپ'' کا شمارہ ۷۹ اور ۸۰ شائع ہوئے۔ جمیل نقش کے سرورق سے مزین شمارہ ۷۹ میں کیا کچھ ہے۔ آغا گل اور طاہرہ اقبال کے افسانے نے طبیعت بشاش کر دی۔ محمود مرزا کا طویل مختصر افسانہ ''نوکرانی'' خوب ہے۔ مرتضیٰ برلاس، شبی فاروقی، جان کا شمیری، کرامت اﷲ غوری نے غزل سرا کو خوب آباد کیا ہے۔ مضامین اور جائزے اس ترنگ میں نہیں جو آج کل مخصوص تنقیدی تحقیقی رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ مختار کریمی، صبا اکرام، احمد رئیس، شاہدہ تبسم، افسر منہاس کی نظموں نے خوب جم کر نئی نظم کی نمائندگی کی ہے۔ شبی فاروقی کے گیتوں اور طاہر سعید ہارون کے دوھے، ماہیے دل جیت رہے ہیں۔ نظر امروہوی، مختار کریمی، عین سلام، اشتیاق طالب، اقبال پیرزادہ، شہاب صفدر کی غزلیں کلاسیکی اور جدید غزل کا بہترین امتزاج ہیں۔
شمارہ ۸۰ میں قاضی جاوید کا''روشن خیالی: چند ابتدائی باتیں'' عامر سہیل کا ''اقبال اور عجمی تصوف'' فکری روایت کی بامعنی توسیع ہیں۔۱۲۲۷ اشعا ر پر مبنی جان کشمیری کی طویل غزل فنکاری اور تخلیقی صلاحیت کا شاندار نمونہ ہے۔
مسعود مفتی کا افسانہ'' طعنہ''، رشید امجد کا ''دشتِ خواب''، محمد سعید شیخ کا ''تلاش''، قاری کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ظفر اقبال کی غزلوں میں تھکاوٹ اور ٹھہراؤ نے دل بوجھل کیا مگر انور شعور کی غزلوں کی رمزیت اور شاہین عباس کی غزلوں کی تازگی و ندرت نے غزل گھر کی خوب تزئین و آرائش کی ہے۔ عبد اﷲ جاوید کی نظم قلو پطرہ، شبی فاروقی کی فرار، صبا اکرام کی سبز بنجر بلا رہا ہے، شائستہ مفتی کی شب تنہائی، نئی نظم کے خیال، پیکر تراشی اور دھیمی لَے کے اثر سے بھرپور ہیں۔
مبصر:عمران ازفرؔ
کتابی سلسلہ تناظر کا پہلا شمارہ
Ü سماجی ادبی جریدے تناظر گجرات کا پہلا شمارہ چھپ گیا ہے۔ اس کے مدیر ایم خالد فیاض ہیں۔ مجلس ادارت میں زاہد اعوان ، شیراز احمد، راشد محمود، ریحان ساہی اور خاور ممتاز شامل ہیں۔ یہ کتابی سلسلہ سو سیلٹریری فورم گجرات کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے۔
''سماجی علوم میں مطالعے'' کے عنوان سے قائم کیے گئے گوشے میں(۱) تاریخ ، تہذیب ، نظریہ اور مستقبل،(۲) پاکستان میں سماجی علوم کی صورت حال، (۳) مارفیت کا مغربی فلسفہ اور افریشیائی تشخص، (۴) تاریخ فہمی میں رکاوٹیں،(۵) مغرب کے بارے میں مسلمانوں کی ذہنی الجھنیں، (۶) قدریں: اضافی یا مطلق؟، (۷) تعلیم اور مظلوم عوام شامل ہیں۔ تخلیقات کے عنوان سے قائم گوشے میں ماپاساں، گیل ہیروین اور ڈبلیو ایچ آڈن کی انگریزی نظموں کے اردو تراجم شامل ہیں۔
''مضامین'' کے عنوان سے قائم گوشے میں گارشیا مارکینر: سیاست اور شر ، استیفان ملارمے: عمیق علامتوں کا شاعر اور جارج ایلیٹ کے موضوعات پر انگریزی مضامین کے اردو تراجم شامل کیے گئے ہیں۔
''خصوصی تحریر'' کے عنوان سے ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کا مضمون ''تھیوری کے بعد'' شامل ہے۔ اس طرح حوزے سارا ماگو کے حوالے سے خصوصی گوشہ شامل کیا گی اہے جس میں متعدد تحریریں حوزے کی شخصیت اور فن کے بارے میں شامل ہیں۔ اردو ادب کے عنوان سے قائم حصے میں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا مکالمہ شامل ہے جب کہ افسانے، نظمیں، غزلیں اور مضامین بھی اس جریدے میں شامل ہیں۔ آگ کا دریا اور ن ۔م ۔راشدکی نظم کا اسلوبیاتی مطالعہ بھی اس جریدے کا حصہ ہے۔
آرٹ ، فلم، کتاب گھر اور آپ کے خیال میں کے عنوانات تلے بھی وقیع نگارشات شامل ہیں۔ متعدد کتابوں پر تبصرے بھی جریدے کا حصہ ہیں۔ ادبی جرائد کے بحران کے اس دور میں تناظر کی اشاعت ادبی دنیا کے لیے بہت خوش کن خبر ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ ادبی حلقوں کو چاہیے کہ تناظر کی غیر معمولی پذیرائی کریں تاکہ ادبی جرائد کی عدم موجودگی سے پیدا ہونے والا خلا پر کیا جاسکے۔
مبصر:راشد حمید