عارفہ شمسہ
ریڈیوکہانی: کچھ یادیں کچھ باتیں

ہندوستان کے سننے والوں کے لیے جو پروگرام ہوتا تھا ا سکی اناؤنسر سحاب قزلباش، صفیہ کاظم، نرگس خان، مشہود بھائی (شاہد احمد دہلوی کے بیٹے) کی آوازوں نے ہندوستان میں دھوم مچائی ہوئی تھی۔ صفیہ کاظم اور مشہود بھائی، دونوں خطوں کے جوابات دیتے تھے،یقین کریں اتنے خطوط آتے تھے کے ہر خط کا جواب دینا مشکل تھا بہت سوں کے صرف نام نشر کئے جاتے تھے،ہندوستان سے پاکستان آنے والے صرف نام سن کر ملنے کی خواہش کرتے تھے اس وقت کی ؤوازیں ایس ایم سلیم، عبدلماجدابراہیم نفیس،بعد مین قربان گیلانی لڑکیوں کے آیڈیل تھے۔۔ میں بھی ایکسٹر نل سروس میں بحیثیت ڈرامہ آرٹسٹ اور اناؤنسرز بہت سے پروگرام کرتی تھی َ پروگراموں کے درمیان میں سلیم گیلانی صاحب نے۔۔ جو اس وقت ایکسٹرنل سروس کے ڈائریکٹر تھے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا جس میں حبیب اﷲ بیگ ( عبید اﷲ بیگ)، قریش پور یہ دونوں ایکسٹرنل سروس کے شعبوں میں کنٹریکٹ پر ملازم تھے اور ایک نوجوان افتخار عارف جو نئے نئے لکھنؤ سے آئے تھے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے سوال پوچھتے تھے۔ اسی طرح کاپروگرام بعد میں کسوٹی کے نام سے ٹیلی وژن پر اسلم اظہر نے شروع کیا۔ افتخارعارف ٹیلی وژن سے باضابطہ منسلک ہوگئے تھے۔ آجکل و ہ اسلام آباد میں ہیں اور مقتدرہ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں ۔
اسٹیشن ڈائریکٹرز میں قطب صاحب، رشید احمد، ظفر حسین، حمید نسیم،سلیم گیلانی، عمر مہاجر، عزیز حامد مدنی، ، شمس الدین بٹ، عبدالرب شجیع، طاہر شاہ، بدر عالم، یونس سیٹھی وغیر ہ نے بہت خیال رکھا۔ عزیز حامد مدنی صاحب نامور شاعر اور بہت قابل اور ملنگ شخصیت تھے( انھی کے بھتیجے ظفر سعید سیفی کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں) مدنی صاحب کے تو بڑے دل چسپ واقعات یاد آتے ہیں۔ ایک دن میں ن ان کو ڈھونڈتی رہی پتہ چلا اسٹوڈیو میں ہیں،مجھے ان سے اسکرپٹ کے بارے میں کچھ پوچھنا تھا۔ وہ ریکارڈنگ سن رہے تھے، میں نے ان کو ڈسٹرب کرنا مناسب نا سمجھا، لیکن انہوں نے مجھے دیکھ لیا اور اشارے سے بلایا، جو ریکارڈنگ سن رہے تھے وہ مجھے سنوائی، پھر ہم باتیں کرتے کرتے اسٹوڈیو سے ان کے کمرے تک پہنچ گئے۔ مجھ سے کہنے لگے۔ ۔ آپ آئیں چائے پی کر آپ سے ضروری بات کرنی ہیں، میں ان کے ساتھ کمرے میں بیٹھی رہی وہ فائلیں دیکھنے لگے میں سمجھی کہ مصروفیت سے فارغ ہوکر بات کریں گے، کافی دیر کے بعد میری طرف دیکھااور پوچھنے لگے کے ارے آپ کب آئیں کیا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟ میں گھبرا گئی آخر کیسے کہتی کے آپ خود ہی توساتھ لائے ہیں۔
سی طرح ایک دفعہ مجھ کو نغماتی غنائیہ میں کورس گانے کے لیے کنٹریکٹ پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ میں مدنی صاحب کے پاس گئی او ر شکائت کی کے اب یہ حال ہوگیا ہے کہ مجھ سے کورس کرایا جارہا ہے ابھی میں نے یہ ہی کہا تھا کہ۔۔ جلدی سے بولے۔ آپ ناراض نہ ہوں آپ ہی اس کورس کو لیڈ کریں گی۔ آپ کا نام لیا جائے گا اوروں کو ساتھی کہیں گے میں نے ہنس کر کہا کہ مجھے تو گانے کی الف ب بھی نہیں آتی تو ایکدم پریشان ہوگئے میں پھر خودہی بولی مدنی صاحب آپ نے مجھے نجم آرا سمجھ کر بک کرنے کو کہا ہوگا۔۔ ہاں ہاں۔ اوہ آپ تو انکی بہن ہیں۔
۔ ایسے ایسے بے شمار واقعات نہ صرف مدنی صاحب بلکہ ریڈیو کی دنیا کی شخصیات کے یاد آتے ہیں۔ ایک بہت بڑا نام شان الحق حقی صاحب کا ہے، ان کے بھولنے کے بارے میں بھی بڑے لطیفے بنائے گئے،حقی صاحب کا ایک واقعہ کی تو میں چشم دید گواہ ہوں، اختر آپا (اختر عاصم)کے گھر پر موسیقی کی محفل تھی اس میں حقی صاحب اور ان کی بیگم، سلمہ آپا بھی آئی ہوئی تھیں ،رات گئے، جب محفل ختم ہوئی سب گھروں کو روانہ ہوگئے، عاصم بھائی جب کمرے میں گئے تو دیکھا زیبا(حقی صاحب کی بیٹی)جو اس وقت بہ مشکل چھ سال کی ہوگی سورہی ہے، اس زمانے میں موبائل تو تھے نہیں، اختر آپا اور عاصم بھائی تھوڑے پریشان ہوگئے،تقریبن آدھ گھنٹے بعد وہ لوگ اپنی بیٹی کو لینے آئے بسے بھول گئے تھے،ذیبا حقی صاحب کی اکلوتی بیٹی تھی اس کی شادی خواجہ حسن نظامی کے پوتے، علی بھائی کے چھوٹے بیٹے وصی نظامی سے ہوئی تھی اﷲ مغفرت کرے بہت اچھی تھی کینسر ایسے مرض سے اسکا انتقال ہواوہ لوگ ٹورینٹو کینیڈا شفٹ ہوگئے تھے، وصی بھی بیمار رہتے ہیں ، بیٹی کی شادی زیبا نے اپنے سامنے کردی تھی ، دو بیٹے کینیڈہ میں زیر تعلیم ہیں ابھی کچھ دن قبل میرے بھتیجے رضوان الحق کے چھوٹے بیٹے فرحان کی شادی میں اوٹاوا گئے تھے، انٹرنٹ پر تصویریں دیکھ کر اچھا لگا، رضوان کی بیوی گل رعنا خواجہ حسن نظامی کی صاحبزادی ہیں۔
ہاں تو بات شروع ہوئی تھی ریڈیو سے وابستہ لوگوں کے قصوں کی توا یک اور واقعہ مجھے یاد آیا، اس زمانے میں احمد حمدانی(اردو ادب کا بڑا نام)ڈیوٹی افسر ہوا کرتے تھے،دفتر سے چھٹیاں لے کر میرٹھ ،ہندوستان گئے تھے، واپس آئے تو پتا چلا کے شادی کرکے ہندوستان سے دلہن لائے ہیں، وﷲ عالم بلصواب، ایک دن ایک صاحب نے کہا کے انہوں نے حمدانی صاحب کو انکے دفتر میں شادی کی مبارکباد دی تو وہ اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور گھبرا کر کہا شادی ہاں شادی اور بھاگے وہ صاحب حیران پریشان کے حمدانی صاحب کو کیا ہوگیا، بعد میں معلوم ہوا کے اپنی بیگم کو ساتھ لیکر شاپنگ کے لئے نکلے تھے بس میں وہ آگے خواتین کی سیٹ پر بیٹھی تھیں، حمدانی صاحب حسب عادت ریڈیو اسٹیشن والے بس اسٹاپ پر اتر آئیے اور دفتر آگئے، مبارکباد دینے پر بیگم یاد آئیں اور بھاگے چونکہ بیگم صاحبہ کو تو کراچی کا کچھ پتا ہی نہ تھا، بیچاری بیگم بس کے آخری اسٹاپ ٹاور پر اتاردی گئیں ، وہیں سے حمدانی صاحب انکو ڈھوندھ کر لائے۔
ڈیوٹی افسران میں اسلم فروخی صاحب، شریف عنائت اﷲ (انور عنائت اﷲ)،خورشید احمد، مصطفی قریشی (فلمی دنیا کا بڑا نام) تابش دہلوی اور بہت سی نا مور شخصیات ایسے تھیں جن کی صحبت سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ، میں نے صرف پانچ روپے ایک پروگرام کے وصول کرنے سے پروگرام شروع کئے تھے۔
امین الرحمان صاحب کے لیے کہا جاتا تھا کے جب ہیڈ کورٹر سے کسی افسر کا فون آتاتو وہ کرسی سے کھڑے ہوکر بات کرتے تھے، اپس ایم شاہ صاحب جن کو سب لمبے شاہ کہا کرتے تھے، وہ جب موسیقی پروگرام کے انچارج ہوئے تو صفائی کی خاطر طبلوں کو بھی دھلوادیاتھا
جب اسکول براڈکاسٹ کے پروگرام شروع ہوئے تو الطاف علی صاحب انچارج تھے۔ حیدر آباد سے محمد علی نئے نئے کراچی آئے تھے ان کا قد خاصا لمبا تھا۔پھر اس وقت دبلے بھی خاصے تھے۔ ہمارے ساتھ بولنے میں مائک کا ایڈ جسٹمنٹ مشکل ہوتا تھا۔ وہ ہمیں چڑاتے کہ چھوٹے قد کی لڑکیاں ہیں۔ اس پر خوب جھگڑے ہوتے۔
کچھ عرصہ بعد فضل احمد فضلی نے ہمارے گھر کے برابر والے ڈاکٹر بنت عباس کے گھر دبستان کو کرائے پر لے لیااور وہاں انھوں نے اپنی فلم چراغ جلتا رہا کا اعلان کیا جس میں زیبا، محمدعلی، دیبا، پہلی مرتبہ جلوہ افروز ہوئے۔ اس میں گانے کے لیے بھارت سے طلعت محمود کو بلایا گیا تھا ا جنھوں نے دو گانے ریکارڈ کرائے تھے فضلی صاحب کی غزل۔ ۔ کچھ ہوا حاصل نہ ہم کو کوشش ناکام سے۔ ۔ بہت مشہور ہوئی ایم کلیم جو ریڈیو پاکستان کراچی کے شعبہ انجینئرنگ سے وابستہ تھے۔ پہلی مرتبہ انھوں نے بھی اسی فلم میں گانا گایا جس کی باز گشت اب تک گونجتی ہے۔ آئی جو اُن کی یاد تو آتی چلی گئی۔۔ ہرنقش ما سوا کو مٹاتی چلی گئی۔ سنا ہے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بیٹوں کے پاس امریکہ شفٹ ہوگئے۔۔ افسوس نہ جانے کتنے لوگ اپنے ہی وطن کو ناقدری کے باعث چھوڑ کر تارکِ وطن ہوگئے ۔ ہاں تو بات ہورہی تھی فضلی صاحب کی ان کے دوست اور مشیر خاص مغنی صاحب ''چراغ جلتا رہا'' کے مینیجر تھے۔ پڑوسی ہونے کے علاوہ ابا سے واقفیت کے سبب پورا پورا فائدہ اُٹھاتے۔ اکثر چائے وغیرہ منگواتے۔ طلعت محمود آئے تو چھوٹی آپا کو خاص طور پر بلایا گیا تھا۔