حسن بیگ(کریکاڈی، اسکاٹ لینڈ)
انصار الدین۔۔۔۔ میرا دوست

نام تو ان کا انصارالدین ابراہیموو تھا لیکن میں ان کو صرف انصارالدین کہا کرتا تھا، کہ ان کے نام کے آخری حصے سے مجھے سویٹ روس کی بدبو محسوس ہو تی تھی۔ بوٹا قد، چہرے پر کچھ داغ جو نمایاں نہیں تھے، گہرے کالے بال اور منہ پر مسکراہٹ، یہ تھے انصارالدین۔
وہ تاشقند انسٹیٹیوٹ اوف اورینٹل اسٹڈ یز میں پڑھاتے تھے۔انہوں نے بابر نامے کے ہندستانی الفاظ پر پی ایچ ڈی کی تھی، اس کے بعد بابری تصانیف کی فرہنگ پر ڈی لٹ۔ آپ نے انہی مو ضوعات پر کتابیں بھی شا ئع کی۔ اس کے علاوہ مقتدرہ نے ان کی اردو ازبک مشترک الفاظ کی ایک لغت ۲۰۰۷ء میں شائع کی تھی۔ اس کے علا وہ ان کے اردو سے ترکی میں اور ترکی سے اردو میں مضامین کے تراجم بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔
میرا ان سے ،ان کی زندگی بھر، زیادہ تر رابطہ برقیاتی رہا۔ ظاہر ہے وہ تاشقند کے باسی اور میں کریکاڈی کا رہنے والا۔ لیکن ان سے ملاقاتیں تین مختلف اوقات میں رہیں ہیں۔ لیکن ا ن سے تعلق قائم ہو نے کا سہرا اخبار اردو کو جاتا ہے کے مارچ۲۰۰۲ کے شمارے میں ان کا ایک مضمون بابر نامے کے جاپانی تنقیدی متن کے تعارف نے مجھے مجبور کیا کہ ان سے رابطہ کروں۔اس کے بعد بابر کی تحقیقی جستجو کے سلسلے میں ان کے ساتھ تعلق ، ان کیاِس سال انتقال تک قایم رہا۔ اس میں نکھار ۴۰۰۲ میں آیا جب مجھے ازبکستان جانے کا اتفاق ہوا۔ تاشقند میں پہلی ملاقات بابر فنڈ کے دفتر میں ہوئی۔ ان کی سشتہ اردو سن کر دل باغ باغ ہوگیا۔ مجھے ازبکستان کے ترکی زبان کے سمندر میں ایک شہتیر کا سہارہ مل گیا۔ دفتر میں تاشقندی کیک نوش جان کرتے ہوئے مفصل گفتگو کا موقعہ ملا۔ ان کی اردو کی تعلیم دبستان لکھنو کی مرہون منت تھی۔ دیکھیں ہندوستانی سیا سی روابط، کس طرح ازبکستانی اڑ کر پاکستان کے اوپر سے ہوتے ہوئے اردو سیکھنے ہندستان چلے جاتے ہیں۔ ہم مذہب ، ہم زباں اورہم تہذیب ہوتے ہوئے بھی ہم ان سے دور ہیں۔ ان کی اردو بات چیت کے دوران یہ احساس با لکل نہیں ہوتا تھا کہ کوئی غیر ملکی اردو بول رہا ہے۔ ہاں اردو کی املا کچھ بچکانہ ضرور تھی اور یہ میں نے تاشقند کے او رینٹل انسٹیٹیوٹ کے زیادہ تر استادوں میں دیکھا ہے۔ تاشقند میں انہوں نے پاکستانی سفارت خانے سے اپنے روابط ٹھیک ٹھاک قائم کر رکھے تھے۔ ہر تقریب اور ہر جلسے میں جاتے تھے۔ اپنے یاروں اور دوستوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ چنانچہ دوسرے ہی دن مجھے بھی ایک تجارتی تقریب میں سفارت خانے لے گئے اور سفیر کبیر سے تعارف کرایا۔ اس طرح نہ صرف میرا وہاں تعا رف ہوا ، ساتھ ساتھ ایک پنتھ دو کاج کے مثل سفیر صاحب کے کان کی تکلیف بھی میرے پیشہ ورانہ مشورے سے مستفید ہوئی۔
تاشقند کے تفریحی اور تاریخی مقامات تو ہمارے سیا حی گماشتے نے دکھادیئے تھے لیکن مجھے تاشقند کا شاندار نوا ئی ٹیوب اسٹیشن اور کسی تاشقندی کا گھر دیکھنے کا شوق تھا جو انصار الدین نے پورا کیا۔ اس کے بعد ہم وہاں سے کچھ دور پیدل چل کر نوائی کے عجائب گھر گئے، کہ یہاں سعید بیگ حسنوو سے ملاقات کرنی تھی۔ سعید بیگ صاحب نے بابر نامے پر کافی کام کیا ہے،ترکی کریلک بابر نامہ اور ان کی ہی مرہون منت ہے۔ ان سے گفتگو انصار الدین کے تفیل ہی ہوئی کہ سعید بیگ صاحب انگریزی اور اردو سے نا بلد اور میں ترکی میں صفر۔ یہ چھٹی کا دن تھا اور عجائب گھر بند تھا لیکن سعید بیگ صاحب نے خاص طور پر ایک کارندے کو ساتھ کیا اور پورا عجائب گھر دیکھا۔
اندجان (ازبکستان)، اوش (کرغیز ستان) اور خجند (تاجکستان) کے تلاش بابر کے سفر کے بعد جب تاشقند واپسی ہوئی تو انصارالدین کو اپنے انتظار میں پایا۔ ہوٹل میں ملاقات ہوئی دیر تک مشترک مشاغل پر باتیں ہوتی رہیں۔ ان کی خالہ کا گھر بھی ہوٹل کے پاس ایک گلی میں تھا۔ تاشقند کے لوگوں کا رہن سہن مغربی اور عادات مشرقی آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گی۔ سویٹ روس نے نام، زبان کا رسم الخط، پینے پلانے کے انداز بدل دیے لیکن مذہب اور عادات کو ختم نہ کرسکے۔
ازبکستان اور تمام ترکی علاقے روٹی خور ہیں، ویسے بھی اشتراکی معاشرے میں روٹی کی اہمیت سے کون واقف نہیں، یہاں کے نان عمدہ ہوتے ہیں۔ یہ گھر میں تندور پر بنائے جاتے ہیں، خواتین ان کو گھر میں تیار کرکے سڑک پر گاڑیوں میں لاکر فروخت کرتی ہیں۔ اگر آپ مہمان بن کر کسی گھر میں جائیں تو میزبان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کے نان، جو موٹے اورشیر مال سے مشابہ ،لیکن گھی میں لت پت نہیں، کو توڑ کر میزبان کے سامنے رکھے۔ بعض علاقوں میں مخصو ص جگہ نانوں کی مارکیٹیں مشہور ہیں، میری خواہش کے بموجب انصارالدین مجھے ایک ایسی ہی مارکیٹ میں لے گئے جہاں کے عمدہ نان میں نے گھر کے لئے چلتے وقت خریدے۔
انصار الدین کا خیال تھا کہ وقائع بابر کو کسی پاکستانی سرکاری علمی ادارے سے شائع کیا جائے، اور اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان ایمبیسی سے رابطہ بھی کیا۔ کیونکہ مجھے پاکستانی سرکاری اداروں اور ان میں استحقاق کی قدر کا ذاتی تجربہ تھا اس لئے میں نے ان کی اس خواہش کو بڑھا نے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اپنی تصانیف اور کئی ترکی اور روسی زبان کے مضا مین کا اردو ترجمہ کرکے بھی میرے تاشقند سے روانگی سے پہلے ہی مجھے دے دئیے۔
اگست ۲۰۰۸ء میں اندجان میں بابر کی ۵۲۵ ویں سالگرہ منا ئی گئی۔ اس وقت تک وقائع بابر شائع ہو چکی تھی۔ انصارالدین سے دو روزہ مجالس کے دوران بات چیت رہی لیکن میں نے ان کی طرف سے ایک کھچا ؤ محسوس کیا۔ بعد میں مجھے علم ہوا کہ وقائع بابر میں ازبکستان کے تنقیدی پہلوں کو یہاں فرغ دلی سے قبول نہیں کیا گیا، لیکن ان اجلاسوں کے دوران بھی بابر شناسی اور پیشہ ورانہ تبادلہ خیال میں کوئی کمی نہیں آئی۔
اکتوبر ۲۰۱۱ء میں وہ بطور استاد ترکی زبان کا کورس کرانے کیمبرج آئے۔ ملاقات کے لئے کورس کے بعد ایڈنبرا تشریف لائے۔ اور میرے پاس قیام کیا۔ اس کے علاوہ ان کو ترکی بابر نامہ مخطو طہ ایڈنبرا دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ یہ بابر نامہ بہت کم استعمال ہوا ہے۔ اس کے لئے وقت مقرر کیا گیا۔ بزم اردو اسکاٹ لینڈ کی طرف سے ان کے اعزاز میں ایک مجلس منعقد کی گئی جس میں انہوں نے ازبکستان میں اردو کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ویک اینڈ کے دوران میری کتب اور مخطو طات سے لطف اندوز ہوئے۔ اس دوران با بر یات اور بابر شناسی پر تفصیلی گفتگو رہی۔ ایڈنبرا سیاحی مقامات کی سیر ہوئی۔ ازبکستان واپسی کے کوئی مہینے کے اندر اندران کے جگر نے جواب دے دیا۔ اﷲ تعالی ان پر رحم کرے اور ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
٭٭٭٭