نازمین گل

اردو زریعہ تعلیم، قحط الرجال سے نجات حاصل کرنے کی اولین شرط

 

ہم اپنے بچپن ہی سے پاکستان میں ذریعہ تعلیم کے بارے میں مباحث مسلسل سنتے آ رہے ہیں۔ جہاں تک ہمیں معلومات حاصل ہیں، ہماری پچھلی نسل کا بچپن نہ سہی، شعوری زندگی اور اس کے بعد کی عمر بھی کم از کم انہی مباحث کے درمیان گزری ہے۔ تاہم افسوناک امر یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ طے نہیں کر سکے کہ ہمیں کون سا ذریعہ تعلیم اپنانا ہے۔ اس صورت حال کو فکری غلامی ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر کے دانشور اس نکتہ پر متفق ہیں کہ کسی قوم کی محض سیاسی غلامی اس کے لیے اس قدر تباہ کن نہیں ہوتی، جس قدر ہلاکت خیز اس کی ذہنی غلامی اور فکری مرعوبیت ہوتی ہے۔
ہم جس استعمار کی غلامی میں قریباً ایک صدی تک رہے ہیں، اس نے ہمیں ایک ایسا نظام تعلیم دیا جس نے صرف او رصرف غلام ہی پیداکیے۔ ایسے غلام جو محض حکم ماننے والے ہوں لیکن ان میں سوچنے سمجھنے والی صلاحیت بالکل نہ ہو۔ و ہ اچھائی اور برائی کی تمیز نہ کر سکیں ۔ لارڈ الفنسٹن نے اپنے دیئے ہوئے نظام کے مقاصد کھل کے بیان کر دیئے تھے کہ ہمارا مقصد ان کالجوں کے ذریعہ سے لوگوں کا ایک ایسا گروہ تیار کرنا ہے جو اپنے ذہن و اخلاق کے اعتبار سے ہندوستان میں برطانیہ کی سو ل ایڈمنسٹریشن میں ملازمت کے اہل ہوں۔
یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہم نے اس نظام تعلیم کو آنکھیں بند کے اختیار کر لیا اور آج تک اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ برطانوی استعمار سے نجات حاصل کیے ہمیں چھ عشروں سے زائد عرصہ بیت چکا ہے لیکن آج بھی اس نظا م میں پل رہے ہیں۔ اس نظام سے گزر کر اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے والوں کی ذہنی استعداد اس قدر ''شاندار'' ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی ملک اور اپنی ہی قوم کے بارے میں بنیادی معلومات نہیں رکھتے ۔ سی ایس ایس کرنے والوں کے انٹرویوز کا احوال ہر سال ہمارے اخبارات کے توسط سے ساری دنیا جا ن لیتی ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آبادہے۔یہ امر بھی افسوناک ہے کہ ایسے ہی لوگ ہمارے امور مملکت سنبھالتے ہیں۔ یہ لوگ تو لارڈ الفنسٹن کے بیان کردہ مقصد کو بھی پورا کرنے کے اہل نہیں، کجا کہ وہ اس قوم کو لیڈر شپ فراہم کرنے کے اہل ہوں۔ ان لوگوں کے اندر محض اتنی سی اہلیت ہوتی ہے کہ وہ آج بھی برطانوی استعمار کی پالیسیوں کو لے کرآگے چل رہے ہیں اور مغربی تہذیب و تمدن کی ترویج کے لیے کام کرتے ہیں۔
ہم تاریخ کے مختلف ادوار میں دیکھتے ہیں کہ جب طلبائے علم کو قومی تقاضوں کے مطابق تشکیل دیئے جانے والے نصاب کے تحت او رخود اپنی زبان کے ذریعہ سے تحصیل علم کے مواقع حاصل رہے، انھوں نے زندگی کے ہر میدان میں پہنچ کر شاندار کارنامے سرانجام دیئے ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ فنون اور صنعت و حرفت نے بھی بے مثال ترقی کی ۔ حکمران، فقیہہ، منتظم، جرنیل، کیمیا دان، محقق، جغرافیہ دان، خطیب، شاعر اور ادیب ، غرضیکہ قوموں کو ایک سے بڑھ کے ایک بلند مرتبت انسان مہیار ہے۔ہمارے ہاں برصغیر میں بھی ایسا نظام تعلیم رائج رہا جس کی افادیت اور اہمیت بعض دیانت دار مغربی مفکرین نے بھی تسلیم کی۔ مثلاً سر ڈبلیو ہنٹر کہتے ہیں:''ملک (برصغیر پاک و ہند) ہمارے ہاتھوں میں آنے سے پہلے مسلمان نہ صرف سیاسی اعتبار سے بلکہ ذہن وفراست کے اعتبار سے بھی ہندوستان میں بڑی قوت رکھتے تھے۔ ان کا نظام تعلیم اعلیٰ درجہ کی ذہنی تربیت دے سکتا تھا، اس لیے مسلمانوں کا نظام ہندوستان کے تمام دیگر نظاموں سے بدر جہا فائق تھا''۔ جنرل سیلی مین نے کہا تھا '' دنیا میں ایسی قومیں بہت کم ہوں گی جن میں ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ تعلیم کا رواج عام ہو۔ ہر وہ شخص جسے ۲۰ روپے ماہانہ کی ملازمت حاصل ہوتی ہے، عام طور پر اپنے بیٹوں کو کسی وزیر اعظم کے (بیٹے) کے برابر تعلیم دلواتا ہے۔ جو کچھ ہمارے لڑکے یونانی اور لاطینی زبانوں کی وساطت سے سیکھتے ہیں، یہاں کے نوجوان وہی باتیں عربی اور فارسی کے ذریعہ سیکھتے ہیں۔ سات سالہ مطالعہ نصاب کے بعد یہاں کا مسلمان نوجوان علم کی شاخوں : قواعد ، بلاغت، منطق وغیرہ سے قریب قریب اتنا ہی واقف ہو جاتا ہے جتنا آکسفورڈ کا کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ بھی اسی طرح سقراط، ارسطو، افلاطون، بقراط، جالینوس اور بوعلی سینا کے متعلق بڑی روانی سے گفتگو کر سکتا ہے''۔
انگریزوں کے دیئے ہوئے نظام تعلیم میں الجھ کر ہم آج بحیثیت قوم بالکل بانجھ ہو کے رہ گئے ہیں اور ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے اہل بچوں کونااہل انسانوں میں بدلنے والانظام تعلیم بھی اختیار کیا اور آج بھی اسی پر اصرار کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پر بھی ماتم کناں ہیں کہ ہمارے ہاں قحط الرجال ہے۔ اسی نظام تعلیم کے کرشمے ہیں کہ آج لوگ جعلی ڈگریاں لے کر امور مملکت سنبھالنے میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔ انہی جعلی ڈگریوں والوں نے مملکت کو ایسا نظام عطا کیا ہے جس میں کوئی دیانت دار اور اہل فرد کام نہیں کر سکتا ہے، دروازے کھلتے ہیں تو صرف جعل سازی کرنے والوں کے لیے۔ کون نہیں جانتا کہ آج ہمارے معاشرے میں سینکڑوں نہیں ہزاروں میڈیکل ڈاکٹرز ایسے میڈیکل کالجز اور میڈیکل یونیورسیٹوں سے سند تحصیل حاصل کر کے لوگوں کا علاج کر رہے ہیں کہ جن کالجز اور یونیورسٹیوں کا اس دنیا میں وجود تک نہیں ہے۔ یہ اسی نظام تعلیم کا اعجاز ہے کہ پورا معاشرہ اخلاقی قدروں سے محروم ہو چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نظام تعلیم میں اخلاقیات کا کوئی شعبہ ہی نہیں ہوتا۔
اگر ہم قحط الرجال کی اس کیفیت سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں ذریعہ تعلیم کو قومی بنانا ہوگا۔ اس کے بغیر ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر کے ماہرین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ قومی زبان سے زیادہ مؤثر ذریعہ تعلیم کوئی غیر زبان نہیں بن سکتی۔ وہ تمام ممالک کو سیاسی، معاشی اور عسکری اعتبار سے اس دنیا کی بڑی طاقتیں کہلاتے ہیں، اپنے بچوں کو اپنی ہی قومی زبان میں تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے یہ خیال مکمل طور پر غلط ہے کہ انگریزی تعلیم ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ فرانس، جرمنی، چین، روس، جاپان، کوریا اور اسرا ئیل ایسے ممالک ہیں جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ یہاں کی اقوام انگریزی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ ایسے ممالک ہیں جہاں انگریزی ذریعہ تعلیم ہے کیونکہ یہ ان کی قومی زبان ہے۔ ایران ماضی میں ایک بڑی طاقت رہا ہے اور آج بھی وہ دنیامیں سر تان کے کھڑا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایرانیوں کو اپنے فارسی بان ہونے پر سب سے زیادہ فخر ہے۔ ان کے ملک میں امریکی صدور سمیت مغربی مفکرین کی کتابیں انگریزی میں نہیں بلکہ فارسی زبان میں ترجمہ ہو کر داخل ہو سکتی ہیں۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عبرانی زبان ختم ہو چکی تھی۔ تاہم اس سے محبت کرنے والے یہودیوں نے اسے ایک بار پھر زندہ کر کے دنیا میں کھڑا کر لیا۔ انھوں نے اس گم شدہ زبان کے آثار تلاش کیے اور پھر جوڑ جمع کر کے اسے باقاعدہ پوری زبان کی صورت عطا کردی۔ اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اسے سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ ۱۸۹۰ء میں عبرانی زبان کے احیاء کے لیے قائم کیے جانے اولے ادارے ''مجلس عبرانی زبان ''کو اسرائیل میں ''عبرانی اکادمی'' کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ ادارہ آج ایک مقتدر اور مختار کل کی حیثیت کا حامل ہے۔ آج پورے اسرائیل میں سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت تمام علوم کی تعلیم عبرانی زبان میں دی جا تی ہے بالخصوص سائنسی تحقیق کے شعبے میں اسرائیل دنیا کے صف اول میں آچکا ہے۔ عبرانی زبان میں ادب تخلیق کرنے والے اور علم کیمیا میں خدمات سرانجام دینے والے نوبل انعام حاصل کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج آبادی کے اعتبار سے دنیامیں سب سے زیادہ فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کرنے والے اسرائیل کے باسی ہی ہیں۔ عبرانی زبان ان سب کا اوڑھنا بچھونا ہے۔
ہمارے یہاں بڑی مشکل سے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ اردو زبان کے فروغ کے لیے مقتدرہ قومی زبان اور اسی طرح کے متعدد ادارے قائم ہوئے۔ تاہم حکمرانوں کی بدنیتی کے باعث یہ ساری کوششیں اور ادارے اپنی موت آپ مر گئے۔ اگر آج بھی ہماری قوم کے کرتا دھرتا اردو کے ذریعے تعمیرو ترقی حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیں اور خلوصِ نیت سے اس کے لیے حکمت عملی تیار کریں تو یہ قوم بہت جلد قحط الرجال سے نکل کر بہترین اور باصلاحیت افراد سے مالا مال ہو جائے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس، ۱۹؍اگست۲۰۱۲ء )
٭٭٭٭