کتاب میلہ
جذبوں کی ڈالیو ں پر


’’ صورت شکل سے خوشحال خان خٹک کا لشکری دکھائی دینے والا ڈاکٹر فقیرا خان فقریؔ ایک عجیب سوگوارلَے میں جب کہتا ہے :
جذبوں کی ڈالیوں پر
دکھ درد کھل رہے ہیں
فولاد کے بدن بھی
غم سے پگھل رہے ہیں
تو میرا جیسا روایتی ملتانی بھی ٹھٹھک جاتا ہے ، اصل میں شاعر ہونا ہی غم کو گلے لگانا ہے۔ ابن انشاء کیا شگفتہ انسان تھا، آخری وقت مزاح نگار جواں مردی سے لکھا رہا تھا ’ بیمار کا حال اچھا ہے‘ مگر شاعر کہہ رہا تھا کہ ’اب عمر کی نقدی ختم ہوئی ، یا انشا جی ، اٹھو اب کوچ کرو۔
پشاور یونیورسٹی کا یہ قدآور استاد، محقق ، نقاد اور مزاح نگار بھی جب اپنا شعری مجموعہ ایک دل دوز عنوان ’’ ہم دہر کے مردہ خانے میں ‘‘ کے ساتھ لے کر آتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ کوئی سپاہی دکھائی دینے والا زرہ بکتر کھول کر ہمیں اپنے ان گنت زخم دکھا رہا ہے۔
فقریؔ کے ہاں موت اور پھر تدفین کا خوف ، سب سے بڑا تخلیقی تجربہ بن جاتا ہے ، تب اس کا متکلم ایک ڈرا ہوا بچہ بن جاتا ہے ، جو کسی (شاید اپنی ) دکھیا ماں کی آواز میں بین کرتا ہے ، بدقسمتی سے ہمارا یہ خطہ خود اذیتی ، علم کشی اور غیروں کی کفش برداری کے ہلاکت خیز کھیل کی آماج گاہ بن گیا ہے ، اس لیے یہ دہر کا مردہ خانہ دکھائی دینے لگا ہے ، وگرنہ یہ تو حسن وعشق ، سبزہ وگل اور آبِ نشاط انگیز کی صدائے طرب کی نغمہ گاہ تھی ، فقریؔ غریب کیا کرے ، پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑے اور زخموں کی کرچیاں چننے اورانھیں شعر مالا میں پرونے کے سوا؟ ۔۔۔ انوار احمد
مستقبل کاصدمہ
مستقبل کا صدمہ ایلون ٹوفلرکی مشہور زمانہ کتاب The Future Shockکا اردو ترجمہ ہے، جسے مقتدرہ نے شائع کیا ہے۔ نیرّعباس زیدی صاحب نے نہایت خوب صورت انداز میں مصنف کے خیالات کو اردو زبان میں پیش کر کے قارئین کو اس موضوع کی جانب متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ثقافتی صدمہ‘‘ جیسی متوازی اصطلاح پہلے ہی ہمارے مقبول ذخیرۂ الفاظ میں داخل ہوچکی ہے۔ ثقافتی صدمہ دراصل وہ ’’اثر‘‘ ہے جو ایک انجانے مہمان پر کسی انجانی ثقافت میں داخل ہونے پر پڑتا ہے۔ امن کے رضاکاروں کو بورنیو (Borneo) یا برازیل میں اس کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید مارکو پولو کو کیتھی (چین )پہنچنے پر بھی اسی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا ہو۔ ’’ثقافتی صدمہ‘‘ اس وقت درپیش ہوتا ہے جب کوئی مسافر خود کو اچانک ایک ایسے مقام پر پائے جہاں’’ہاں‘‘ کا مطلب ’’ناں ‘‘ ہو، جہاں ’’ایک دام ‘‘ (Fixed Price) پر بھی گفت و شنیدہوسکتی ہو، جہاں دفتر کے باہر انتظار کرنا ہتک کا باعث نہ ہواور اسی طرح جہاں قہقہہ غصے کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ یہ اسی کیفیت کا نام ہے کہ جب کسی فرد کو اس معاشرے میں اپنی کارکردگی دکھانے میں مدد دینے والے شنا سا قسم کے نفسیاتی رمز اچانک اپنی جگہ چھوڑ دیں اور ان کی جگہ اجنبی اور ناقابل بیان رمز لے لیں۔
’’
ثقافتی صدمہ‘‘ کا مظہر زیادہ تر اس اضطراب، مایوسی اور بے سمتی کو ظاہر کرتا ہے جو امریکیوں کو دیگر معاشروں کے افراد کے ساتھ معاملات نمٹاتے وقت درپیش ہوتی ہیں۔ اس سے ابلاغ میں رکاوٹ پیش آتی ہے، حقیقت کا غلط مطلب لیا جاتا ہے اور تعاون و اشتراک کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ تاہم ’’مستقبل کے صدمے‘‘ جیسے شدید اختلال کے مقابلے میں ’’ثقافتی صدمہ‘‘ ہلکا ہوتا ہے۔ ’’مستقبل کا صدمہ بدحواس کردینے والی بے سمتی ہے جو ’’مستقبل‘‘ کی قبل ازوقت آمد کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہی چیز آنے والے کل کا ایک اہم ترین روگ بھی ہوسکتی ہے۔
مستقبل کا صدمہ وقت اور معاشرے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تبدیلی کی شرح کے نتیجے کا مظہر ہے۔ یہ صورت حال پرانی ثقافت پر نئی ثقافت مسلط کر دینے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ یہ صورت حال اپنے ہی معاشرے میں ثقافتی صدمہ ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات انتہائی بدتر ہوتے ہیں۔ امن کے دستوں سے منسلک افراد، خصوصاً سیاح بخوبی یہ جانتے ہیں کہ جو ثقافت وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں وہ وہیں پر موجود رہے گی لیکن مستقبل کے صدمے کا شکار فرد اس بات سے آگاہ نہیں۔
کسی فرد کو اس کی ثقافت سے جداکرکے اچانک کسی ایسے ماحول میں لے جائیں جو اس کے اپنے ماحول سے بالکل مختلف ہو، جس میں اس کے سامنے ردعمل ظاہر کرنے کے لیے مختلف اشارے کنائے ہوں اور جہاں وقت، خلا، کام، محبت، مذہب، جنس اور دیگر تمام چیزوں کے بارے میں مختلف تصورات ہوں اور بعدازاں اس سے کسی شناسا سماجی ماحول میں واپس جانے کی امید بھی چھین لی جائے، اس صورت میں وہ شخص انتہائی شدید تخلل کا شکار ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر یہ نئی ثقافت خود مسلسل کسی افراتفری کا شکار ہو اور اگر ۔۔۔ یہ بدتری کا تسلسل جاری رہے، اس کی اقدار مسلسل تبدیل ہورہی ہوں تو ایسی صورت میں بے سمتی کی نوعیت مزید شدید تر ہوجائے گی۔اگر تبدیل ہوتے ہوئے ماحول سے نبٹنے کے لیے ضروری اشارات (Clues) کے بارے میں متعلقہ افراد کو یہ بتادیا جائے کہ ان حالات/ ماحول میں کس قسم کے رویے کی ضرورت ہے تو شاید یہ متاثرہ افراد کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہو۔
اب کسی ایک فرد کی بجائے پورے معاشرے یا ایک پوری نسل کا تصور اپنے ذہن میں لائیں جس میں اس کے کمزور ترین ،کم ذہین اور انتہائی نامعقول افراد بھی شامل ہوں اور جنھیں اچانک اس نئی دنیا میں منتقل کردیا جائے ۔ اس کا نتیجہ انتہا درجے کی بے سمتی اور بڑے پیمانے پر ’’مستقبل کے صدمے‘‘ کی صورت میں سامنے آئے گا۔
یہ وہ حالات ہیں جن کا آج کل انسان کو سامنا ہے۔ تبدیلی ایک برفانی تودے کی طرح ہمارے سروں پر گررہی ہے اور لوگوں کی اکثریت، بے ڈھنگے انداز اختیار کیے ہوئے ہے او راس تبدیلی کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
۔۔۔ صائمہ یوسف
سعادت حسن منٹو
سعادت حسن منٹو بڑا افسانہ نگار تھا۔ یہ بات تو آج اس ذہنی رویے کے حامل افراد نے بھی تسلیم کر لی ہے جنھیں کل تک منٹو کے یہاں سے مین میخ نکالنے سے فرصت نہ تھی۔ لیکن اپنی ادبی اور سماجی صورت حال کے اس مرحلے پر ہم جن سوالوں سے دو چار ہیں، وہ قطعی طور پر مختلف ہیں اور ان میں کوئی منٹو کی ادبی حیثیت یا اس کے تخلیق کردہ ادب کی قدرو قیمت کی بابت کوئی اشتباہ پیدا نہیں کرتا ۔ اس لیے کہ اب یہ سب باتیں فروعی نوعیت کی ہو چکی ہیں۔ منٹو ،آج مسلمہ طور پر بڑا افسانہ نگار ہے اور اس کی نگارشات اردو کے ادب عالیہ کا وقیع حصہ۔منٹو کا فن ایک مسلسل پیکار سے عبارت ہے ایک ایسی پیکار جس کا سامنا اس نے اپنی داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر متواتر اور تادم آخر کیا۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں، اس لیے کہ اس جیسے دل و دماغ کے لوگوں کی قسمت یہی ہوتی ہے۔ ان کا Creative-selfاپنے عہد اور اس کے انسانی اور سماجی سیاق و سباق میں ان کے Social selfکے لیے تصادم کی صورت حال پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ وجوہات بہت سی ہوتی ہیں لیکن سب سے اہم وجہ ان کا non -confirmistرویہ ہوتاہے، جو انھیں ہمیشہ سچائی کو پانے اور اس کا اظہار کرنے پر اکساتا ہے ،خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ہو۔
ذاتی زندگی سے ادبی طرزِ حیات تک سعادت حسن منٹو کے یہاں تغیر و ارتقا کی چاہے جتنی بھی صورتیں اور شہادتیں ہمیں نظر آئیں لیکن ایک چیز میں کسی تبدیلی کا سراغ نہیں ملتا، وہ اپنی جگہ محکم اور قائم بالذات نظر آتی ہے اور وہ ہے اپنے کام سے اس کی سچی اور پرخلوص وابستگی ،وفاداری بشرط استواری ۔
اردو افسانے کے تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اختصاص اور انفرادیت کے ایک سے زائد حوالے منٹو کی تخلیقی شخصیت رکھتی ہے۔ ان میں سے ایک اہم حوالہ منٹو کے فن کا تخمین و ظن ہے ۔ اپنی تنقید سے ہمیں بہت سی شکایتیں ہیں، اس کی ناکردہ کاری یا پھر یوں کہیے کہ کم کردہ کاری پر ہم شاکی رہتے ہیں مگر منٹو کے سلسلے میں دیکھا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ کمی کوتاہی کے باوجود ہماری تنقید نے جتنی توجہ منٹو پر دی ہے ، اردو کے کسی دوسرے افسانہ نگار کے حصے میں نہیں آئی۔ حتیٰ کہ ان کے حصے میں بھی نہیں جو ایک زمانے میں ناقدین کرام کے جلوِ میں نظر آتے تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جن پر اٹھانے والوں نے قلم اٹھایا اور اپنے تےءں بڑا اعزاز دلایا، وہ بھی اس میدان میں منٹو کے سامنے جمتے نظر نہیں آتے ۔ اس لیے کہ کسی ظاہری ضرورت کی تکمیل کے لیے لکھنا لکھانا اور ہوتا ہے اور کسی داخلی مطالبے پر مطالعہ و محاکمہ چیزے دگر ۔منٹو کے حصے میں یہی چیزے دگر سب سے زیادہ آئی ہے۔ منٹو پر تنقیدی مقالات کے اس انتخاب کے بارے میں ہمیں صرف ایک بات کہنی ہے ، وہ یہ کہ ہمارے پیشِ نظر بنیادی تفتیش یہ تھی کہ ہماری تنقیدنے اپنے مختلف ادوار اور رجحانات کے تحت منٹو کا مطالعہ کس کس نہج پر اور کس کس زاویے سے کیا ہے اور اس مطالعے کے نتیجے میں منٹو کی ہمارے عصری ادب سے کیا relevanceقائم ہوتی ہے ۔ اسی سوال پر یہ طے ہو سکتا ہے کہ منٹو ہمارے ادب کا آج بھی زندہ تجربہ ہے یا پھر ادبی سوال آرکائیوز کا حصہ ۔ چنانچہ مقالات کے انتخاب میں خیال رکھا گیا کہ مختلف افکار و نظریات کے ناقدین کو شامل کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کو شش کی گئی کہ اس عرصے میں جو تین نسلیں منٹو سے معاملہ کرتی ہیں، ان تینوں ہی کی ممکنہ حد تک نمائندگی ہو سکے۔ تاہم اس مرحلے پر یہ احساس بھی دامن گیر ہے کہ ہر انتخاب کے اپنے محدودات ہوتے ہیں اور اس کا معاملہ ہمیشہ ذاتی پسند اور ترجیحات کا ہوتا ہے ،لہذا اس ضمن میں اختلاف اور رد قبول کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ بعض قارئین کے نزدیک اس کتاب میس کوئی اہم تحریر شامل ہونے سے رہ گئی ہو اور کوئی غیر اہم شامل ہو ۔ کسی کی ایسے کسی بھی اعتراض پر ہمیں قطعی کوئی اعتراض نہیں ۔ اگر یہ کتاب آج کے کسی قاری کے اندر کسی بھی درجے میں صرف منٹو کو دوبارہ پڑھنے اور سمجھنے کی خواہش پیدا کر سکے تو ہم سمجھیں گے ،محنت وصول ہوئی۔
۔۔۔ مبین مرزا
اداس مت ہو
منیر راہی ’ اداس مت ہو ‘ خود کلامی ہے ، تب بھی اور مخاطبت ہے جب بھی ، ان دنوں اچھا مشورہ ہے ۔ میری دانست میں انھوں نے اب ’ سنجیدگی ‘ سے کوئی کام کرنا شروع کیا ہے تو ادبی اور علمی حلقے بھی؂اُن پر سنجیدگی سے توجہ دیں گے۔ اب اُن کے لیے آسان نہیں ہوگا کہ اپنے تخلص کو تبدیل کرسکیں، وگرنہ بہتر یہ تھا کہ اُن کے ایسے مقطع/ مصرعے منیر نیازی کے معروف مصرعوں کے سائے میں نہ رہتے۔ ؔ
۔۔۔ انوار احمد
اردو میں اشاریہ کی روایت اور مطالعہ فیض کے مآخذات
انڈکس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نشان دہی کرنا (TO pointout)ہے لہذا انڈکس ایسی معلومات فراہم نہیں کرتا جن کو تلاش کرنے کی ضرورت ہو بلکہ یہ ان معلومات کے بارے میں بتاتا ہے کہ کہاں سے مل سکتی ہیں۔ نیز اشاریہ صرف فہرست پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ فہرست مضامین ،کتاب اور رسائل کے مضامین پر مشتمل ہوتی ہے۔
اے ایل اے گلوسری آف لائبریری ٹرمز میں اشاریے کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ ناموں اور موضوعات کی ایک فہرست جو کسی ایک یا ایک سے زائد کتابوں میں درج ہو ان صفحات کے نمبروں کے ساتھ جن پر ان کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہوں۔ ’’کشاف اصطلاحاتِ کتب خانہ ‘‘ میں اشاریہ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے ’’ کسی کتا ب یا کتب میں مذکورہ مضامین، اشخاص ،مقامات یا ناموں وغیرہ کی مفصل الفبائی یا ابجدی فہرست ہے اور حوالہ صفحات جہاں انہیں استعمال کیا گیا ہو۔ ‘‘ محتصر یہ کہ اشاریہ کتاب ،مضمون یا اندراج کی پور ی جزئیات کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کے ذریعے کم سے کم وقت میں مطلوبہ مواد تک رہنمائی ہو جاتی ہے ۔ ’’کتاب کا اشاریہ‘‘ لائبریری کیٹلاگ ،کتابوں کے اشاریے،رسائل کے اشاریے رسائل کے مضامین کا اشاریہ ،اخباری مضامین کے اشاریے اور موضوعاتی اشاریے ،اشاریے کی اقسام ہیں۔
ہندوستان کی بہ نسبت پاکستان میں اشاریہ سازی کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے اور بہت بڑے پیمانے پر یہاں یہ کام انجام دیا گیا ہے ۔ ہر موضوع پر الگ الگ ببلو گرافیاں تیار کی گئی ہیں۔ نیشنل بک سنٹر آف پاکستان نے ۷۳۔۱۹۷۲ء میں عالمی سال کتاب منایا۔ اسی موقع پر مختلف موضوعات کے تحت پاکستان میں شائع ہونے والی تمام کتابوں کی ببلو گرافیوں کا بھی ایک جامع منصوبہ بنایا گیا اور ہر موضوع پر الگ الگ ببلو گرافی تیار کی گئی ۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں اب تک مندرجہ ذیل موضوعات پر ببلو گرافیاں تیار کی جا چکی ہیں جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہیں۔
تنقید اور تاریخ ادب، شاعری کی کتابیں ،تاریخ کی کتابیں، سیرت رسول ﷺ ،بچوں کی کتابیں ،سائنس ،انجینئر نگ اور ٹیکنالوجی ،زراعت مرغبانی مویشیات ،پنجابی کتابیں ،بلوچی و براہوئی کتابیں ،پشتو کتابیں،فارسی کتابیں عربی کتابیں ،سندھی کتابیں،تاریخ ،سوانح،ناول،افسانہ،ڈرامہ،خلفائے راشدین،ہنر اور پیشے،قرآن و حدیث و تفسیر، پاکستان میں عادات مطالعہ،فقہ تصوف،مباحث، علمی کتابیں اول و دو م ،طبی کتابیں،حوالہ جاتی کتابیں،ارکان واصول اسلام،پشتوشاعروں کی ڈائریکٹری کے علاوہ انگریزی میں سولہ ببلو گرافیاں اور ڈائریکٹریاں تیار کرائی گئی ہیں۔
’’
مقتدرہ قومی زبان ‘‘ پاکستان نے بھی حوالہ جاتی امور کی طرف خصوصی توجہ دی ہے اور اپنے مخصوص منصوبوں کے تحت مختلف موضوعات پر حوالہ جاتی کتب شائع کی ہیں۔ مقتدرہ کی جانب سے اس کتاب کے علاوہ اب تک درج ذیل حوالہ جاتی کتب شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں:کتابیات قواعد اردو،کتابیات اردو املا اور دوسرے مسائل، کتابیات اردو تفاسیر، اردو میں زرعی کتب، کتابیات اردو مطبوعات ۱۹۸۳ء ، ۸۴، ۸۵ قران کریم کے اردو تراجم (کتابیات)کتابیات تراجم اول و دوم ،کتابیات اردو، فارسی اصطلاحات سازی ،کتابیات تعلیم،کتابیات قانون اردو، احادیث کے اردو تراجم ،کتابیات پاکستان کے اردو اخبارات و رسائل ،پاکستان کے اردو اخبارات و رسائل ،اول و دوم ،پاکستان میں مخطوطات کی فہرستیں ،فہرست کتابیات اسلام،اردو میں سائنسی ادب کا اشاریہ ،ہمارے کتب خانے ،کتابیات لغات اردواور کتابیات وحید وغیر ہ شامل ہیں۔
فیض احمد فیض اردو کے عظیم اور آفاقی شاعر ہیں۔ ترقی پسند شاعری کے حوالے سے ان کاجو مقام و مرتبہ ہے اس سے سب لوگ اور اہل نقد و نظرواہل علم وقلم واقف ہیں جو خواص و عوام دونوں میں مقبول ترین ہیں اس حوالے سے وہ بلا شبہ عہد ساز شاعر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فکرو فن پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ ۲۰۱۱ء کو فیض صدی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں ان کے بارے میں سیمینار منعقد ہو رہے ہیں وہاں ان پر نہ صرف کتابیں شائع ہو رہی ہیں بلکہ رسائل اور اخبارات کے نمبر اور خصوصی شمارے بھی منظر عام پر آرہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی فیض صاحب پر خاصا تحقیقی و تنقیدی کام ہوا ہے اور پاکستان اور ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں ان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ فیض کی تخلیقی شخصیت کے علاوہ اس سال ’’شاعر خوشنوا۔ فیض‘‘ کے نام سے میری دوسری کتاب شائع ہوئی ہے اور جدید شاعری کو حوالے سے میں نے فیض کو ایم اے کی سطح پر پڑھایا بھی ہے۔ اس لیے مجھے یہ خیال آیاکہ فیض صاحب پر لکھی گئی نگارشات کا موضوع وار اشاریہ بنایا جائے تاکہ ان پر مزید تحقیقی و تنقیدی کام کرنے والوں کے لیے آسانی پیدا ہوسکے۔
یہ کام آسان نہیں تھا تا ہم میں نے کوشش کی اور کتب کے ساتھ ساتھ رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین و مقالات کی فہرست تیار کرنا شروع کی اور ’’مطالعہ فیض کے مآخذات‘‘ کے نام سے مقالہ لکھا اور اس میں موضوع و ار اندراج کر کے اسی میں ایک اشاریہ بنایا جو ادبیات کے فیض نمبر ۲۰۰۹ ء میں شائع ہوا اور اہل علم نے اس کی بہت پذیرائی کی اس دوران میں مزید موادبھی جمع کرتا رہا اور اسے ہر طرح سے مکمل کرنے کی کاوش میں لگا رہا ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کوئی اشاریہ بھی مکمل نہیں ہوتا اس لیے اس پر برابر کام کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ لمحہ موجود میں ، میں نے اسے ۲۰۱۱ء تک محیط کیا ہے اور اسے موضوعی حوالے سے مرتب کیا ہے۔ آغاز میں جو ترتیب درج ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس بات کا بھی کہ یہ کتنا دقت طلب کام ہے۔ تاہم میرے استادوں ،دوستوں شاگردوں اور مجھ سے محبت کرنے والوں نے علمی تعاون کیا اور ان کی مدد کے ذریعے میں اسے بڑی حد تک مکمل کرنے میں کامیاب ہوا اگرچہ مجھے یہ بات دہرانے میں کوئی تأمل نہیں کہ کوئی اشاریہ بھی مکمل نہیں ہوتا۔
۔۔۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی
ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں
ڈاکٹرغلام مصطفی خاں کے احوال و آثار پر مشتمل کتاب پی ایچ ڈی اردو کی سکالر محترمہ زینت افشاں نے لکھی ہے جسے مقتدرہ قومی زبان نے ’’مشاہیر اردو‘‘ سلسلے کی ایک معاصر اور اہم کڑی کے طو رپر شائع کیا ہے۔ منصوبے کے نگران ڈاکٹر راشد حمید ہیں۔ واضح رہے کہ اس سلسلے کی چار کتابیں قبل ازیں شائع ہو چکی ہیں اور انھیں اہلِ قلم نے قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
پیش نظر کتاب میں ڈاکٹر غلام مصطفی خاں کی متعدد علمی و ادبی جہتوں اور خدمات پر مختصر مگر بہت جامع انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی کثیر جہتی شخصیت اور خدمات کا اتنی مختصر سی کتاب میں احاطہ کرنا مشکل کام تھا مگر سکالر نے اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
تین ابواب میں سے پہلے باب میں احوال، دوسرے میں آثار اور تیسرے میں ڈاکٹر صاحب کی اردو کے لیے خدمات کا بہت عمدہ طریقے سے جائزہ لیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے تمام پہلو اجمالی طور پر خوب صورتی کے ساتھ پیش کر دیے گئے ہیں۔ مصنفہ نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے نہ صرف شخصی، علمی اور ادبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے بلکہ روحانی حوالوں کو بھی بہت احتیاط کے ساتھ مگر عقیدت سے بیان کیا ہے۔ زینت افشاں کی جانب سے ڈاکٹر غلام مصطفی شناسی کے ضمن میں یہ ایک کامیاب کوشش ہے۔
۔۔۔ ڈاکٹر راشد حمید
گفتگو نما
’’گفتگو نما ‘‘ ڈاکٹر راشد حمید کی مرتب کردہ نئی کتاب ہے، اس سے قبل ان کی پانچ کتابیں مکالمہ نما ،زندہ رود کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ، جاوداں اقبال ،اقبال کا تصور تاریخ اور فیض بہ نام افتخار عارف منظر عام پر آچکی ہیں۔ گفتگو ، نا معلوم کو معلوم کرنے کے لیے بہت ہی اہم مکا شفاتی عمل ہے۔ پیش نظر کتاب ’’گفتگو ‘‘ میں انھوں نے ڈاکٹر آفتاب احمد خان ،افتخار عارف ، اجمل وجیہہ، سرور انبالوی ،پروفیسر سجاد احمد شیخ ، اعزاز احسن ،پروفیسر طلہ خان ،ظفراکبر آبادی ، نجمہ صدیقی ،پروین فنا سید ، اختر ہوشیار پوری ، ڈاکٹر طیب منیر ،احمد فراز ،ڈاکٹر جمیل جالبی،پروفیسر فتح محمد ملک ،جسٹس (ر) جاوید اقبال ،پروفیسر محسن احسان ، فہمیدہ ریاض ،آفتاب اقبال شمیم جیسی پچپن شخصیات سے ہونے والی ملاقاتوں کو قلمبند کر کے محفوظ کیا ہے۔ یہ انٹرویو انھوں نے نوائے وقت کی ادبی اشاعتو ں کے لیے وقتاََ فوقتاََ کیے جو من و عن شائع ہوتے رہے۔ یہ کتاب پورب اکادمی ،اسلام آباد نے شائع کی ہے۔
۔۔۔ عباس جعفر
فضا اعظمی ۔سخن اور مطالعۂ سخن
فضا اعظمی اس وقت ادب کی دنیا میں ایک معتبر مقام رکھتے ہیں۔ ’’جو دل پہ گزری ہے ‘‘،’’مر ثیہ مرگِ ضمیر ‘‘،’’ مثنوی زوال آدم ‘‘ سمیت اب تک ان کی درجن کے قریب کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔فضا اعظمی کی انفرادیت کو دوسرے پہلوؤں سے بھی سمجھا اور دیکھا جائے لیکن ان کی انفرادیت کا ایک پہلو تو اتنا صاف اور نمایاں ہے کہ اس کا اندازہ پہلی ہی نظر میں لگایا جا سکتا ہے اور وہ ہے ان سنجیدہ اور فکری موضوعات سے لگاؤ ۔ غزل کے بارے میں ویسے تو کلیم الدین احمد سے لے کر آج تک بہت لے دے ہوتی رہی ہے اور جتنا اس صنفِ سخن کو مطعون کیا گیا ہے ادب کی کسی د وسری صنف کو اس کے عشر عشیر کے برابر نہیں کیا گیا ہو گا۔ کتاب کے مرتب سلیم یزدانی نے کتاب میں سخن فضا اعظمی کے فن کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی شاعری کواپنے رنگ وآہنگ یاپھر اسلو ب بیاں اور طرز ادابلکہ فکریات اور موضوعات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو معاصر شعری منظر نامے اور تخلیقی فضا میں ایک خاصی مختلف چیز ہے۔ کسی تخلیق کار کی عظمت اور اس کے مقام و مرتبہ کا تعین فوراََ نہیں ہو سکتا ،اس کی عظمت کا مرحلہ تو اس کے جانے کے بھی کم و بیش تیس سال کے بعد طے ہو سکتا ہے۔ فضا اعظمی کی شاعری کو بھی وقت اور آزمائش کے ان مراحل سے گزرنا ہوگا۔ تبھی وہ اپنا لوہا منوا سکتی ہے اور اپنی منزل سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔اپنی کتاب ’’مرثیہ مرگ ضمیر‘‘ میں فصا اعظمی نے باقی دنیا سے توجہ ہٹائی اور صرف اپنے ملک اور معاشرے کو توجہ کا مرکز بنا لیا۔ اگر اردو شاعری کو اس کے تاریخی ادوار میں تقسیم کر کے اس کے فکری پہلوؤں اور فنی خصوصیات کا جائزہ لیا جائے تو فضا اعظمی کو یقیناًاکیسویں صدی کے اردو شعراء کی صف میں شامل کیا جائے گا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ایک وجہ تو یہ ہے کہ انھو ں نے نظم کواپنا ذریعۂ اظہار بطور خاص بنایا ہے جو دراصل عہدِ جدید اور عہدِ حاضر کی سب سے بڑی صنفِ سخن ہے ، دوسری بات یہ کہ انھوں جن موضوعات پر توجہ دی ہے وہ آج کے انسان اور اس کی صورت حال سے تعلق رکھتے ہیں جیسے انسانی تہذیبوں کاسفر، اعلیٰ انسانی اقدار کا زوال ، ٹیکنالوجی کی ترقی ، اخلاقی دیوالیہ پن وغیرہ، ان کی شاعری کے بنیادی محرک ہیں۔ ان سارے موضوعات کو انہوں نے عالمی انسانی تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ سیاسی مسائل اور حکمرانوں نے جو گل کھلائے اس حوالے سے ایک نظم کے کچھ مصرعے پیش خدمت ہیں۔
یہ قصہ خیر و شر کا ہے
یہ قصہ ہے رقابت کا ،یہ قصہ ہے وراثت کا
یہ قصہ ہے زمینوں کا، یہ قصہ ہے مکانوں کا
یہ قصہ ہے رعونت کا ،یہ قصہ ہے غریبی اور امیری کا
یہ قصہ ہے حقوق آدمیت کا
کہانی کا وہی خاکہ جو پہلے تھا ،سو اب بھی ہے
وہی شطرنج اور چوسر کی بازی اب بھی پھیلی ہے
وہی رعیت سسکتی ،بلبلاتی ،صبر کی ماری
کہانی بے ضمیری کی شروع اور ازل سے ہے
معروف دانشور استاد پروفیسر فتح محمد ملک نے لکھا ہے کہ فصا اعظمی ایک ایسے وقت میں قومی و ملی شاعری کی روایت کو تازگی بخشنے میں مصروف ہیں جب قومی و ملی وابستگی ہمارے ہاں رجعت پسندی کی دلیل ٹھہری ہے، زمانے کا الٹ پھیر بڑا معنی خیز ہے کہ حالی سے اقبال تک جو ملی طرزِ احساس اور جو قومی طرزِ فکر اردو شاعری کی سر سبزی و شادابی کا سرچشمۂ فیضان تھا۔آج اس سے روگردانی ہماری ادبی دنیا کا سکۂ رائج الوقت ہے جبکہ ایسے میں فضا اعظمی اس مقبول عام چلن سے انحراف اور قومی و ملی شعری روایت کے اثبات کے شاعر ہیں۔ ان کی شاعر ی کا رشتہ حالی کے ’’مسدس‘‘ اور اقبال کے ’’شکوہ‘‘ و ’’جواب شکوہ‘‘ سے زندہ و پائندہ ہے۔ چنانچہ’’عذاب ہمسائیگی‘‘ اور ’’کرسی نامۂ پاکستان‘‘ سے لے ’’مرثیۂ مرگ ضمیر‘‘اور ’’آواز شکستگی‘‘ تک ان کی مقصدی نظموں نے اردو میں قومی و ملی شاعری کی جدید روایت سے ہماری عصری شاعری کا ٹوٹا ہوا رشتہ پھر سے جوڑ دیا ہے۔
کتاب میں فضا اعظمی (عقیل احمد ) کے فن اور شخصیت کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: اعظم گڑھ چھوڑنے کے بعد کم سے کم میرے علم و اطلاع کی حد تک ڈاکٹر صاحب یا ان کے گھر والوں سے ہمار ا کوئی ربط نہیں رہا اور وہ جو کہا جاتا ہے کہ دنیا بہت چھوٹی سی ہے تو اس کا ثبوت مجھے ۱۹۶۳۔۱۹۶۴ء میں ملا جب میں الہ آباد میں بر سرِ کار تھا اور اچانک ایک صاحب کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کی بیگم اور بچے میرے گھر سے بہت کم دوری پر ایک بنگلے میں رہتے ہیں ۔ اس طرح کوئی بیس سال بعد ہمارا ربط پھر قائم ہو ا۔فضا اعظمی جو اس زمانے میں ہم لوگوں کے لیے عقیل بھائی تھے ،حکومت ہند کے محکمہ خارجہ میں اچھے عہدے پر تھے اور اکثر اپنی والدہ اور بھائی بہنوں سے ملنے الہ آباد آیا کرتے تھے۔ عقیل بھائی اس وقت شاعر نہ تھے۔ ان کے دو چھوٹے بھائیوں جمیل و جلیل اور ان کی بہن ذکیہ سے ہم لوگوں میں بہت خلا ملا ہو گیا۔ اماں جی اس وقت زندہ تھیں اور جب ہم لوگ ان کے یہاں جاتے تو وہ ضرور دیوان خانے میں تشریف لا کر مجھ سے اور میری بیوی سے ملتیں ۔ مدتوں بعد جب میں ان کی شاعری سے شناسا ہوا تو وہ سب باتیں دل میں پھر سے زندہ ہو گئیں۔ مجھے کئی بار خیال آیا کہ عقیل بھائی کے شعری کارناموں کے بارے کچھ لکھنا چاہیے لیکن ارادے کو قوت سے فعل میں آنے کے لیے جس بہانے یا موقعے کی تلاش تھی وہ ہاتھ نہ آ تا تھا۔ اب جب ’’ روشنائی ‘‘ کے مدیراحمد زین الدین نے منصوبہ بنایا کہ عقیل بھائی پر ایک خاص نمبرنکالا جائے تو میں نے بھی موقع غنیمت جان کر اور گاہے گاہے باز خواں کے طور پر پرانی یادیں تازہ کر کے عقیل بھائی کی شاعری کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے قلم اٹھا ہی لیا۔ یوں تو میں نے ان کی تقریبا تمام کتابیں دیکھی ہیں لیکن اس وقت میں ان کے (غالبا ) پہلے مجموعے ’’ جو دل پہ گزری ہے ‘‘ ۱۹۹۶ پر کچھ اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں، خاص کر اس وجہ سے کہ اس میں انھوں نے اپنی سوانح حیات کا بھی مختصر اََ بیان کیا ہیں اور اس طرح ان کی شخصیت کا تعارف ہو جاتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس چھوٹی سی کتاب پر کچھ اہم لوگوں نے اظہار خیال کیا ہے، مثلا فرمان فتح پوری ،پروفیسر سحر انصاری ،پیرزادہ قاسم اور جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ ۔ ظاہر ہے کہ جس کتاب نے ایسی شخصیتوں کو متاثر کیا ہو ،اس میں دل کشی کی کیا کمی ہوگی۔
عقیل بھائی پر اظہار خیال کرتے وقت تقریباً تمام ناقدین نے ان کے یہاں حسرت اور جگر کے اثرات کی تلاش کی ہے۔ یہ بات بڑی حد تک صحیح ہے لیکن انھوں نے اپنے پیش لفظ میں ان غیر رسمی محفلوں کا ذکر کیا ہے جو شبلی منزل یعنی دارالمصنفین میں منعقد ہوتی تھیں۔ جن میں کبھی کبھی مولانا سید سلیمان ندوی بھی تشریف لے آیا کرتے تھے۔ عقیل بھائی کے والد مرحوم یعنی ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اس وقت، بلکہ اس کے بعد بھی مدتوں تک شبلی منزل کی تہذیب کی نفاست ،شستگی اور شائستگی ہر آنے جانے والے کا دل موہ لیتی تھی۔ عقیل بھائی کی شخصیت اور شاعری میں جو شائستگی اور اشرافیت ہے،اس میں شبلی منزل کی ان محفلوں کا حصہ ضر ور ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں حسرت اور جگر کے رسومیاتی عشقیہ اشعار کی جھلک کے ساتھ ساتھ زبان اور مضمون دونوں میں ایک متانت اور احتیاط ملتی ہے :
یہاں آتے ہوئے شامِ اجل کے پاؤں جلتے ہیں
جواس ویرا نہء غم میں سحر آتی تو کیا ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈوب رہی تھی کشتی الفت ڈوب ہی جاتی اچھا تھا
تم نے یہ اچھا نہ کیا آواز جو دے دی ساحل سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روتے روتے تھم گئے آنسو فراقِ یار میں
اختتامِ بحرِ ناپید کنارا آ ہی گیا
یہ کتاب گیارہ حصوں پر مشتمل ہے جس میں شمس الرحمان فاروقی کے علاوہ انیس احمد ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ،جنرل (ر)اسلم بیگ، پروفیسر سحر انصاری ،ڈاکٹر قاسم پیرزادہ ،پروفیسر اسلوب احمد انصاری ڈاکٹر انور سدید ،ڈاکٹر وزیر آغا ،ڈاکٹر اسلم فرخی ،ڈاکٹر محمد علی صدیقی، ڈاکٹر معاشق عاشق ،پروفیسر فتح محمد ملک ، باقر نقوی اور سید مظہر جمیل جیسی شخصیات کے فضا اعظمی کے فن اور شخصیت کے حوالے سے مضامین شامل ہیں۔ یہ کتاب اکادمی بازیافت کراچی نے شائع کی ہے۔
۔۔۔ تجمل شاہ
ساختیات(منتخب مضامین)
ساختیات اور ساختیاتی تنقید کے مکتب نے اردو تنقید میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ پاکستانی جامعات کے نصابات میں اسے شامل کر لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیرّ کی مرتب کردہ اس کتاب میں اس موضوع پر اردو میں لکھے گئے اہم مقالات کو یکجا کر دیا گیا ہے۔نیز اہم اصطلاحات او ر بنیاد گزاروں کا مفصل اور جامع تعارف کروایا گیا ہے اور ساختیاتی تنقید کے عملی نمونے بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر وزیر آغا، گوپی چند نارنگ، ضمیر علی بدایونی، فہیم اعظمی اور ناصر عباس نیرّ کے مضامین کا انتخاب کیا گیا ہے۔یہ کتاب پورب اکادمی، اسلام آباد نے شائع کی ہے۔
تخلیق، تنقید اور نئے تصورات
شمس الرحمن فاروقی
شمس الرحمن فاروقی اردو تنقید کا ایک معتبر نام ہے۔ آپ کی تنقید نے بہت سے مباحث کو جنم دیا ہے۔ زیر نظر کتاب کے مرتب محمد حمید شاہد نے پانچ موضوعات کے تحت آپ کے نمائندہ اور اہم مضامین کو یکجا کیا ہے۔ اس مجموعے میں فاروقی کے ہماری کلاسیکی غزل، جدید شعری جمالیات، ارسطو کا نظریۂ ادب، تعبیر کی شرح، قرأت، تعبیر، تنقید، کیا نظریاتی تنقید ممکن ہے؟ آج کا مغربی ناول، ادب کے غیر ادبی معیارجدیدیت کل اور آج، افسانے کی حمایت میں ، جیسے معرکتہُ الآراء مضامین شامل ہیں۔ کتاب پورب اکادمی، اسلام آباد نے شائع کی۔
۔۔۔ صفدر رشید
مخزن ۔ ۱۰
برطانیہ میں مقیم معروف پاکستانی افسانہ نگار ،ادیب اور صحافی مقصود الٰہی شیخ کی ادارت میں شائع ہونے والے مخزن کے دس شمارے جناب مقصود الٰہی شیخ کی ادبی وصحافتی محنت ومشقت کے ساتھ ساتھ اردو زبان وادب سے ان کی بے لوث اور مخلصانہ دوستی اور عشق کی غمازی کرتے نظر آتے ہیں۔ مخزن کے اس ادبی سلسلے کے حوالے سے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جناب مقصود الٰہی شیخ کا مقصد برصغیر پاک وہند سے باہر اردو دوست طبقے کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو برصغیر پاک وہند میں روشناس کرانا مقصود تھا اور ان کے خیالات واحساسات کو ہم تک پہنچانا بھی اور ہمیں یہ باور کرانا بھی مقصود ہے کہ برصغیر پاک وہند سے باہر دوردراز ممالک میں بھی اردو زبان وادب سے تعلق رکھنے والے اردوزبان کی خدمت میں کسی طرح بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور ان کی تخلیقات کا معیار بھی برصغیر پاک وہند کے قلمکاروں کی تحریروں سے کسی صورت کم نہیں ہے۔بلامبالغہ یہ اردو زبان کی ایک ایسی خدمت ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔
دنیا بھر کی تہذیب ومعاشرت کی نمائندہ تخلیقات سے مزین یہ ادبی جریدہ’’مخزن ۱۰‘‘ اپنی مثال آپ ہے۔’’مخزن ۱۰ ‘‘ جناب مقصود الٰہی شیخ کی شب وروز کی ریاضتوں کا ثمر ہے اور یہ ایک ایسا ادبی جریدہ اور ایک ایسی ادبی تحریک ہے جس نے اردو ادب کے دامن کو وسیع کرکے پاکستان ،ہندوستان ،بنگلہ دیش ،عرب ممالک، برطانیہ ،امریکہ ،کنیڈااور دیگر یورپی ممالک کے اردو دوست طبقہ تک بڑھا دیا ہے۔
’’
مخزن ‘‘کی تاریخ تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔اردو زبان میں سب سے پہلے مخزن کے نام سے ایک رسالہ ۱۹۰۱ء میں شیخ عبدالقادرکی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا۔سوسال پورے ہونے پر اسی مخزن کی یاد میں قائداعظم لائبریری لاہور کی انتظامیہ نے ایک رسالہ ’’مخزن‘‘کے نام سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا، ڈاکٹر وحید قریشی کی ادارت میں اکیسویں صدی کے آغاز پراس کا اجرا عمل میں لایا گیا۔اسی دوران لاہور میں قائداعظم لائبریری کا رسالہ ’’مخزن‘‘ کے نام سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا جارہا تھا۔ لندن سے رسالہ ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر مقصود الٰہی شیخ نے ایک علمی وادبی جریدے ’’مخزن‘‘ کا ڈول ڈالا۔
مقصود الٰہی شیخ نے’’ مخزن‘‘ کا پہلا شمارہ بریڈ فورڈ سے جولائی ۲۰۰۱ء میں جاری کیا ۔۲۰۰۱ ء سے ۲۰۱۱ء تک مخزن کے ۱۰ شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ ’’مخزن ‘‘ کی اشاعت کا مقصدامریکہ ،برطانیہ ،یورپ ،سعودیہ ،متحدہ عرب امارات اور دوسرے دوردراز علاقوں میں اردو تخلیق کاروں کی سوچ، طرزِ فکر ،ادبی رجحانات ومیلانات سے برصغیر پاک وہند میں رہنے والے اردو دان طبقے کو روشناس کرانا ہے۔حصول روزگار کے سلسلہ میں دوردراز ممالک میں مقیم اردو بولنے والوں کی تخلیقات میں نئے دور کے مسائل ،نفسیاتی الجھنیں، چیلنجز اورانسانی معاشرہ کے کئی روپ سامنے آتے ہیں ۔ان کی تخلیقات میں جدید دور کے مسائل سے آگہی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔
مقصود الٰہی شیخ نے ’’آخری شمارہ کا ابتدائیہ ‘‘کے عنوان سے اداریہ مخزن کے آخری شمارے کی ترتیب وتدوین کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔بلا شبہ ’’مخزن ‘‘ پچھلے دس سال سے بیرون ملک اردو زبان وادب کی اہمیت ،اس کے دفاع اور تحفظ کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔مقصود الٰہی شیخ نے مخزن کو اردو دنیاؤں کے اہل قلم کے مابین عالمی تعارف اور ادبی رابطے کی ایک تحریک بنانے میں فعال کردار اداکیا ہے۔
’’
مخزن ۱۰‘‘ دسویں شمارے کومقصود الٰہی شیخ نے آخری شمارہ قرار دیا ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو اور مخزن کے مزید شمارے زیور طباعت سے آراستہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اتنی ہمت، استقامت اور وسائل عطا فرمائے کہ وہ اس تواناادبی تحریک کو جاری رکھ سکیں۔
۔۔۔ ڈاکٹر محمد اشرف کمال
اسلامی معاشر ے میں غیر مسلموں کے حقوق و فرائض
اسلامی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ تاریخ کے ہر دور میں یہ اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ میثاق مدینہ ہو، خلافت راشدہ ہو یا اس کے بعد کے ادوار، شام و بغداد ہوں، مصر و ہسپانیہ ہوں یا ترکی و ہندوستان۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں غیرمسلموں کو بڑی حد تک وہی انسانی حقوق حاصل تھے جو مسلمانوں کو تھے۔ غیرمسلموں کی جان و مال کا نہ صرف احترام کیا جاتا تھا بلکہ انھیں قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جاتا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے لیے کسی غیرمسلم پر جبر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اپنے مذہب پر عمل، اپنی عبادت گاہیں قائم کرتے، ایک خاندان تشکیل دیتے، کھیتی باڑی ، تجارت یا کوئی اور کاروبار کرتے۔ ریاست کی فراہم کردہ بہتر سہولتوں سے فائدہ اٹھانے سمیت ان کے تمام حقوق تسلیم کیے جاتے تھے۔ مشہور مصری عالم و فقہہ الشیخ یوسف عبدالقرضاوی، نے عربی زبان میں اسی موضوع پر غیرالمسلمین فی المجتمع الاسلامی ، تصنیف کی تھی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ جناب قیصر شہزاد نے کیا ہے اور ۱۲۹ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔
اسلامی شعریعت: مقاصد اور مصالح
غور و فکر کرنے والے علماو فقہا نے ہمیشہ احکام الہٰی کے درمیان ربط تلاش کیا ہے اور ان کی حکمتوں اور غایتوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں پہلے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے وقت کے ساتھ زندگی کے ڈھنگ اور تقاضے بدلتے رہتے ہیں۔ ہر دور میں انسان کو بعض ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی نظیر نہیں ہوتی۔ احکام دین سے واقفیت اور ان پر عمل کرنے کی خواہش رکھنے والے اصحاب ان مسائل کے بارے میں رہنمائی کے متلاشی ہوتے ہیں جو اہل علم کی تحقیق اور ان کے باہم تبادلہ خیال کے نتیجے میں فراہم کی جاسکتی ہے۔ آج کے علماء و فقہا کی یہ ذمہ داری ہے کہ مقاصد و مصالح شریعت کے بارے میں غوروفکر کرتے ہوئے موجودہ دور کے معروضی حقائق کو بھی پیش نظر رکھیں تاکہ ان کی فکری کاوش آج کی زندگی کے ربط و تعلق اور اس کے مسائل اور تقاضوں کے ادراک کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ بامعنی اور فائدہ مند ثابت ہو۔ موجودہ کتاب ممتاز ماہر علوم شرعیہ یوسف حامدالعالم، المقاصد العامتہ شریعہ الاسلامیہ کا ترجمہ ہے۔ جناب محمد طفیل ہاشمی نے یہ خوبصورت ترجمہ کیا ہے اور ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد نے اسے شائع کیا ہے۔
فقہ اسلامی، دلائل و مسائل جلد سوم
فقہ اسلامی دین اسلام کا وہ لباس ہے جس سے مسلمان نصوص شریعت کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو آراستہ کرتے ہیں اور اپنی عبادت ، معاملات اور باہمی روابط و تعلقات میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ یہ علم امت مسلمہ کے ثقافتی ارتقا کا نقطہ آغاز بھی ہے اور مسلمانوں کی زندگیوں کو استحکام اور عزت و وقار بھی فراہم کرتا ہے۔فقہ انتہائی دقیق علم ہے جو کتاب و سنت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر عہد کی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کرتاہے۔ اس میں ہر حکم کی واضح دلیل ہوتی ہے۔ یہ حکم براہ راست نص پر مبنی بھی ہوسکتا ہے اور مختلف قانونی نصوص یا نصوص سے مستنیط قواعد بھی اس کی بنیاد ہوسکتے ہیں۔ ان قواعد میں مصلحت عامہ کی رعایت یا فرد، معاشرے اور امت کو نقصانات اور مقاصد سے تحفظ فراہم کرنا وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ ان قواعد کا ادراک فقہ کو مدلل بناتا ہے۔دس جلدوں پر مشتمل ڈاکٹر وہب الزحیلی کی اس تالیف کا اردو ترجمہ محمدطفیل ہاشمی نے کیا ہے جسے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔
دیوان غالب اردو، نسخہ عرشی و نسخہ حیمیدیہ کا تقابلی مطالعہ
غالب نے اردو شاعری کو مضامین میں رنگارنگ سے نوازا ہے۔ غالب کا اردو دیوان متعدد بار زیور طباعت سے آراستہ ہونے کے باوجود آج تک استناد سے محروم رہا۔ اس لیے کہ اس کے متن کو مرتب کرنے والوں نے تدوین کے معیاری اصولوں کی بجائے خودساختہ طریقوں سے اسے مرتب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عرشی اور حمیداحمدخان جیسے غالب شناس بھی کلام غالب کی تدوین کا حق ادا نہ کرسکے۔ حمید احمد خان نے نسخہ حمیدیہ میں اس نسحۂ بھوپال (۱۸۲۱) کے متن کی ازسرنو بحالی کی کوشش کی ہے جس کا مخطوطہ ان کے سامنے موجود ہی نہیں تھا۔ تدوین کے اس عمل کو کیا نام دیا جائے جہاں اساسی متن مدون کے پاس موجود ہی نہ ہو اور وہ بازیاب کرنے کا دعوے دار ہو۔ عرشی جیسے غالب شناس سے توقع تھی کہ وہ کلام غالب کی تدوین کے ضمن میں جتنے رخنے اور رکاوٹیں دور کرسکتے تھے وہ انھوں نے کردیے ہوں گے۔ دونوں نسخوں کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عرشی اور حمید احمدخان، دونوں حضرات غالب کا ایسا کلام پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جسے مستند اور معیاری کلام کا درجہ دیا جاسکے اور جو اردو تحقیق و تدوین کی روایت میں منفرد مقام رکھتا ہو۔ اس تحقیق و تقابلی مطالعہ کو ادارہ تالیف و ترجمہ ، پنجاب یونیورسٹی لاہور نے شائع کیا ہے۔
زُہَیر کنجاہی، بحیثیت ناول نگار
انسانی شخصیات سراپا، چہرہ مہرہ، خدوخال، چال ڈھال، بول چال، انداز گفتگو، زبان و بیان، نشست و برخاست، طور طریقوں، انداز بودوباش، رویوں، رجحانات اور روابط کے اعتبار سے متنوع انداز میں ڈھلتی نظر آتی ہے۔ کہیں ایک چہرے پر کئی چہرے سجے ہیں کہیں اندر کا تلاطم بھی صاف دکھائی پڑتا ہے۔ کوئی حوصلہ ہمت اور پروقار اعلیٰ کردار کا نمونہ ہے۔ خیالات کا سیلاب امڈا چلا آتا ہے لیکن کدھر سے آیا کدھر گیا وہ کیا جانے۔ شاید خدا کی پہچان آسان ہو لیکن آدمی کا آدمی کا پہچاننا معاذاﷲ ، کبھی سبحان اﷲ۔ آنکھیں بھی دھوکہ کھاتی اور کلر کرتی ہیں۔ لیکن یہ شاعر ادیب اور یہ فن کار ترے آزاد بندے دوسروں کی نقاب کشائی میں خود آشکار ہونے والے افکار سامنے آتے ہیں۔محترمہ فرزانہ تاج کا تحقیقی مقالہ ایم اے (اردو) ہے جس میں انھوں نے نہ صرف زہیرکنجاہی کی ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے بلکہ ان کی ادبی زندگی اور خدمات پر بھی سیرحاصل گفتگو کی ہے۔ ۱۱۸ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو انجم پبلشرز، راولپنڈی نے شائع کیا ہے۔
فرہنگ منتخب ارشاد الاریب
فرہنگ منتخب ارشاد الاریب، ڈاکٹر اسد اریب نے مرتب کی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس میں اردو کے چیدہ چیدہ الفاظ کے درست تلفظ، اعراب، صوتیے اور لہجے فک اضافت متشابہ حروف اصطلاحات قواعد و انشا علائم و رموز اصول اور تکلمات اور صحت تلفظ سے متعلق بتایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صحت تلفظ اور محل استعمال کے لیے سند کے طور پر ان شعراء کے اشعار دیے گئے جنھیں اساتذہ کا درجہ حاصل ہے اور جن کے تلازمہ کی تعداد بلامبالغہ سینکڑوں تک ضرور ہے۔ آغاز متشابہ الفاظ سے کیا گیا ہے بعض جگہ تلفظ میں زبردست ٹھوکر بھی کھائی ہے۔
بلی ؔ بلی کے معانی دیے ہیں بانس، اونچی لکڑی ، پرانے زمانے کا ہتھیار بانس، اونچی لکڑی کی حد تک معانی درست ہیں۔ دلی کے محلہ کا بلی ماراں کو بلی ماراں میں دینے کی بجائے بلی میں دیا ہے۔
بلی مار:بلی مارکا معنی لکڑی بطور ہتھیار استعمال کرنے والے لوگ ۔ حالانکہ بلی مار ملاح کو کہتے ہیں۔ اردو بورڈ کراچی کی لغت سمیت کسی بھی لغت نے بلی مار کا مطلب لکڑی بطور ہتھیار استعمال کرنے والے لوگ نہیں دیا۔ اسداﷲ غالب نے دلی کے اس کا نام محلہ بلی ماراں یعنی ملاحوں کا محلہ تھا۔ غالب نے اپنے کسی خط میں یہ ذکر کیاکہ وہ ملاحوں کے محلہ کے مکین ہیں۔ اردو لغت بورڈ کی لغت میں بھی ’’خطوط غالب‘‘ سے درج ذیل فقرہ دیا گیاہے۔ بلی ماروں کے دروازے کے پاس کئی دکانیں ڈھاکر راستہ چوڑا کیا گیا۔
اس طرح بیڑا بمعنی کشتی ناؤ وغیرہ الف کی بجائے ہ سے دیا گیا یعنی بیڑہ۔ یہ تلفظ بھی غلط ہے پھر اسی لفظ کو بیڑا بمعنی پان دیا گیا حالانکہ بیڑا بھی ’’ا‘ ‘ کے ساتھ ہی لکھا جاتا ہے۔ پلیٹس سے لے کر کراچی بورڈ کی لغت تک سب نے بیڑا ہی لکھا ہے۔ اس کے بعد فک اضافت سے متعلق الفاظ دیے ہیں۔پھر متبادل الفاظ والے الفاظ دیے ہیں یعنی ایسے الفاظ جو دونوں طرح لکھے جاسکتے ہوں مثلاً گلستان کو گلستان (گل +ستان) گلستان (گ +ل+س+تان)
اس کے بعد روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ کا صحیح تلفظ دیا ہے یعنی اس تمام کتاب کو مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کیا گیا۔
مصنف کی اچھی کوشش ہے اور یہ کہ اس سے اپنی املا، تلفظ وغیرہ درست کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ اپنی افادیت کے لحاظ سے کتاب اس قابل ہے کہ ہر کتاب خانے کی زینت بنے۔
)
قاضی عزیرالرحمان عاصم (
فلسۂ تاریخ، نو آبادیات اور جمہوریت
اشفاق سلیم مرزا ہمارے عہد کے ایک اہم دانشور ہیں۔ انھوں نے اپنی فلسفیانہ سوچ کی بنیاد مارکسی نظریات پر استوار کی ہے۔ اس سلسلے میں ان کے کئی مضامین انگریزی اور اور اردو اخبارات میں چھپتے رہے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’فلسفہ تاریخ ،نوآبادت اور جمہوریت ‘‘انھی منتحب مضامین کا مجموعہ ہے۔ جسے انھوں نے ’’چند نامکمل مباحث ‘‘کہا ہے ۔ ان مضامین میں انھوں نے کھل کر سماج ،معاشرے اور مسلط کردہ جبر پر اپنے نظریات کا اظہار کیا ہے ۔جہاں کہیں انھیں اپنے مارکسی نظریات کے کسی پہلو سے اختلاف ہے وہ بھی بلا جھجھک سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے ’’ تاریخ ،نوآبادت اور جمہوریت ‘‘ کے پیدا کردہ پیچیدہ مسائل اور ان سے پھوٹنے والے معاشی جبر کے خلاف یہ آواز ہے جو اشفاق سلیم مرزا کے دل کی بھی آرزو ہے۔ تحریر رواں اور موضوع انتہائی سنجیدہ ہونے کے باوجود دلچسپ بھی ہے۔ گیارہ ابواب پر مشتمل اس کتاب میں انھوں نے پاکستان کے اندر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی قوتوں کی جد جہد کے ساتھ ساتھ ان کے فلسفے اور نظریات پیش کیے ہیں ۔ریاست میں آمریت سے جنم لینے والے نام نہاد استحصالی طبقے اس کتاب کا موضوع ہیں۔ بحر حال یہ کتاب ایک اہم دستاویز ہے جسے اہل دانش کا پڑھنا بہت ضروری ہے ۔ یہ کتاب ’’سانجھ پبلیکیشن لاہور‘‘ نے شائع کی ہے ۔(علی اکبر ناطق (
ترجمہ توضیحات و ترتیب : پرتو روہیلہ
یوں تو غالبؔ کے مکاتیب اردو میں ہوں یا فارسی میں بذاتِ خود نثری ادب میں ادب عالیہ کا مرتبہ رکھتے ہیں لیکن ایک دوسری بڑی اہم بات یہ بھی ہے کہ ان کے اکثر مکتوب الیہم بھی اپنے دور کے مشاہیر میں تھے۔ ان میں البتہ حضرت سید علی غمگینؔ ؒ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ باوجود اپنی شہرت کے اردو ادب کے قارئین سے بطرزِ بایست متعارف نہ ہو سکے لیکن ماضی قریب میں غالب ؔ اور حضرت سید علی غمگینؔ ؒ کے مکاتیب کی دریافت نے اردو ادب میں غالب شناسوں کے لیے ہی نہیں طریقت میں دل چسپی رکھنے والوں کے لیے بھی علم و آگہی کا ایک نیاباب کھول دیا ہے ۔ غالبؔ کو نظر میں رکھا جائے تو یہ دس ( ۱۰ ) فارسی خطوط ایسے ہیں جو غالب ؔ کے فارسی مکتوبات کے کسی متداولہ مجموعے میں نہیں پائے جاتے۔ اس لحاظ سے ان مکاتیب کی یہ ایک سب سے بڑی فضیلت ہے۔ غالبؔ کے ضمن میں دوسری ان خطوط کی بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے غالبؔ اپنے دینی و مذہبی نظریات کے ساتھ کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ان کی شخصیت کے وہ گوشے جو رو و رعایت، احترام و مروّت کے طفیل نسبتاََ جھٹپٹے میں تھے اب کلیتاََ روشن ہو گئے ہیں اور وہ ایک رند مشرب، آزادہ رو، عقلیت پسندانسان کی صورت سے سامنے آئے ہیں جن کی قامت پر کسی دین و مذہب کا کوئی لباس موزوں نہیں ہوتا۔
اُدھر حضرت غمگین ؔ ؒ کے خطوط نے طریقت کے سلسلوں میں بہت سے ریاضات اور اُن ریاضات کے نتیجے میں وہ روحانی تجربات جو ہمیشہ’’راز‘‘ سمجھے جاتے تھے اور جن کا اظہار سختی سے ممنوع تھاپہلی بار کھل کر بیان کر دیے ہیں۔ اور یہ چار خطوط ملفوضات کے نوادر میں آتے ہیں۔چنانچہ اپنے اظہارات و مطالب کے لحاظ سے بھی یہ چودہ مکتوبات یعنی(دس غالبؔ کے اور چار حضرت غمگینؔ ؒ کے)قارئین اُردو ادب کے لیے ایک نایاب و نادر تحفہ ہیں۔
ممتاز ترقی پسنددانشور،ادیب اور کالم نگار حمید اختر بھی چل بسے
ممتازدانشور،ادیب، کالم نگاراور انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کے جنرل سیکریٹری حمید اختر انتقال کر گئے۔ انھوں نے صحافت ، ثقافت اور قلم و ادب کی نامور شخصیات کے ساتھ مختلف ادوار میں کام کیا ۔ وہ شاعر اور افسانہ نگار بھی تھے ۔وہ راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار بھی رہے۔ ان کی نمایاں کتابوں میں کال کوٹھری(جیل میں گزرے دنوں کا احوال)، لامکاں(افسانوں کا مجموعہ)، روئیدار انجمن (۴۷۔ ۱۹۴۸ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین شاخ بمبئی کے ہفتہ وار جلسوں کی روئیداد)، پرشش احوال(کالموں کا انتخاب)، احوالِ واقعی (کالموں کا انتخاب)شامل ہیں۔ انھوں نے تراجم کے حوالے سے بھی کئی اہم کام کیے جن میں آغا خاں کی سوانح، ایلون اور ہائیڈی ٹرفلرکی معروف کتاب کا ترجمہ اور چیکوسلواکیہ کے مصنف اگنات ہرمن کے ناولٹ کا اردو ترجمہ شامل ہے۔ ادبی دانشوروں کی اس نسل میں ہمارے بڑے بڑے لکھنے والے شامل رہے جنھوں نے نہ صرف ہمارے ادب میں قابل فخر باب کا اضافہ کیا بلکہ انسانی صورت حال کو بامعنی وسعت بھی دی۔ اس قافلے میں حمید اختر شامل تھے۔
صدارتی ایوارڈ یافتہ ممتاز ناول نگار اور مصنف منشا یاد انتطال کر گئے
ملک کے ممتاز ناول نگار، ڈرامہ نگار اور افسانوں کی درجنوں کتابوں کے مصنف صدارتی ایوارڈ یافتہ محمد منشا یاد ۵؍اکتوبر۲۰۱۱ء بروزہفتہ اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ وہ علمی، ادبی حلقوں میں بڑے احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کا ایک اپنا منفرد اسلوب، اپنا انداز اور اپنا الگ انداز نگارش تھا۔ ان کے افسانوں میں زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ دھڑکتی تھی۔ محمد منشا یاد کی شخصیت اور فن پر بڑی اہم کتابیں بھی لکھی گئیں۔ جھوٹ کی نگری، گھپلا، تماشا، قبرستان اور یہ دنیا ان کے نہایت معروف افسانے ہیں۔ ان کے انتقال سے علمی ادبی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ وہ سی ڈی اے سے بھی وابستہ رہے۔ سابق چیئرمین سی ڈی اے سید علی نواز گردیزی مرحوم کے درومیں بھی انھوں نے بطور پی ار او فرائض انجام دیے۔ تاہم وہ چونکہ انجینئر تھے اس لیے وہ ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس کے طور پر ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ مرحوم کو ایچ ایٹ قبرستان اسلام آباد میں سپرد خاک کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ادبی حلقوں کی جانب سے منشا یاد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے صبر و جمل کی دعا کی۔
شفاانٹرنیشنل ہسپتال کے بانی ڈاکٹر ظہیراحمد انتقال فرما گئے
شفاانٹرنیشنل ہسپتال کے بانی‘صدر‘چیف ایگزیکٹو آفیسر اور تعمیر ملت فاؤنڈیشن کے بانی وچیئرمین ڈاکٹر ظہیر احمد گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے۔انہوں نے قومی خدمت کے لیے تعلیم اور صحت کے میدانوں کا انتخاب کیا اور بلاشبہ قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح کا ہسپتال اور ملک گیر تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا۔۱۹۸۷ء سے بیک وقت شفاانٹرنیشنل ہسپتال اور تعمیر ملت فاؤنڈیشن کی بنیادڈالنے سے آخر دم تک وہ ساری زندگی صحت اور تعلیم کے فروغ کے لیے چوبیس گھنٹے کوشاں رہے ۔انھوں نے ’’تعمیر ملت‘‘ اور ’’شفا نیوز‘‘ کے نام سے دو رسالے بھی جاری کیے، جن کے وہ مدیر اعلیٰ بھی تھے۔ محنت، خدمت اور تخلیقیت ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی ملی خدمات کے عوض انہیں اجر عظیم سے نوازے۔(آمین (
***