ڈاکٹر انجم حمید
اقبال لاہوری اور ایران


ناصر ریاض اور سیما عارف کا مطبوعہ کالم (ڈان ۴؍ستمبر۲۰۱۱ء ) نظر سے گزرا، جس میں ایران میں علامہ اقبال کی شہرت اور مقبولیت کے حوالے سے مفید معلومات بھی پہنچائی گئی ہے۔ یہاں مذکورہ مقالے کی تلخیص مع اردو ترجمہ اخبار اردو کے قارئین کی نذر کی جارہی ہے :
ایران کی تاریخ ۵۰۰۰سال پر محیط ہے جس کے پاس ایک حیران کن تاریخی و ثقافتی ورثہ ہے۔ یہاں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق وسیع علم موجودہے ۔ اس ملک کے کتب خانے فارسی کتب و جرائد سے بھرے ہوئے ہیں۔ صدیوں پر محیط یہ ایک قیمتی و نادر خزانہ ہے۔ جسے ایرانی دانشوروں اور محققین نے نہایت اعلیٰ طریقے سے محفوظ کر رکھا ہے۔ ایران کے پاس دنیا کا نہ صرف قدیم ترین بلکہ تنہایت جدید علمی ورثہ موجود ہے ۔ یہاں کے افراد علم کے حصول کے لیے کسی دوسری قوم پر انحصار نہیں کرتے ۔ایران مولانا رومی ، فردوسی،حافظ شیرازی اور عمر خیام کی سر زمین ہے۔
پاکستان بھی عالمگیر شہرت یافتہ مشہور و معروف شاعر مشرق علامہ اقبال کی سر زمین کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس مقالے میں ایران کے عام و خاص شہریوں کے علامہ اقبال کے ساتھ گہرے روابط کے بارے میں ایک حیران کن دریافت کے بارے میں بیان کیا گیا ہے ۔ ہمیں کام کے سلسلے میں ایران میں ایک طویل عرصے تک اقامت پذیر رہنے کے سبب ایک بہترین موقع ہاتھ آیا کہ اس ملک کے بہت سے علاقوں کا سفر کیا جائے اور یوں وہاں کے تعلیم یافتہ اور عام شہریوں کے ساتھ گھل مل جانے کے مواقع بھی میسر آئے۔ اسی رابطہ کے دوران نہایت خوشگوار اور حیران کن امر یہ تھا کہ ایران کے معاشرے میں علامہ اقبال بہت مقبول اور جانی پہچانی شخصیت ہیں، بچوں، جوانوں حتیٰ کہ ٹیکسی ڈرائیور سے لے کر اعلیٰ سرکاری حکام تک تقریباََ ہر شخص علامہ اقبال کے کچھ نہ کچھ فارسی کلام کو جانتا تھا۔
یہ معلوم کر کے بہت حیرانی ہوئی کہ مشہد میں ایرانی حکومت کے ماتحت اقبال لاہوری انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز کا م کررہا ہے جس میں سوشل سائنسز اور انجینئرنگ کی تعلیم دی جارہی ہے۔ ایران میں علامہ اقبال عموماََ ’’اقبال لاہوری‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔
تہران یونیورسٹی میں،وہاں کے دانشوروں سے گفتگو کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ اقبال کی شاعری جیسے زبور عجم ۔۱۹۷۹ء کے ایرانی انقلاب میں حصہ لینے والے بہت سے جوان لوگوں کے لیے تحریک کا ایک اہم ذریعہ تھی۔ انہوں نے انقلاب کے دنوں کو بھی یاد کیا جب یہ بات بہت عام تھی کہ لوگ پارکوں اور دوسری جگہوں پر علامہ اقبال کے خون گرما دینے والے کلام کو سننے کے لیے جمع ہوتے تھے۔
ایران میں بہت سے ایرانی اقبال کی ’’اسرار خودی ‘‘ اور ’’بال جبرائیل ‘‘ سے بہت محظوظ ہوتے تھے ۔ مشہد میں دانشگاہ فردوسی کے دانشوروں کا خیال تھا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت دونوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ ان کے پاس علامہ اقبال کے شاعرانہ کلام کی صورت میں کتنا قیمتی سرمایہ محفوظ ہے۔
ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ہم پاکستان میں اپنے قومی شاعر کے ورثے کو کس طرح آگے لے کر چلے ہیں ۔ ہم میں سے کتنے لوگوں کو علامہ کے اشعار زبانی یاد ہیں ۔ کتنے لوگ ان کے کلام سے فیض پاتے ہیں ۔ ہماری جوان نسل اور عام آدمی علامہ کے فلسفے اور پیغام سے آشنا نہیں ہیں۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ علامہ اقبال کے فلسفے کو آسان اور سادہ زبان میں ترجمہ کر کے لوگوں تک پہنچایا جائے ۔
ایرانی عوام ہم پاکستانیوں کے مقابلے میں علامہ اقبال کے کلام سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ وہ علامہ کو رومی، حافظ و سعدی شیرازی کی ردیف میں قرار دیتے ہیں اور ہمیشہ ان کے پیغام سے فیض و الہام پاتے ہیں۔ علامہ کے کلام کو آسان اردو زبان میں ترجمہ و تشریح کر کے اسے عوام تک پہنچانا نہایت ضروری ہے۔
***