اپنی زبان میں تعلیم جاپان کی ترقی کا راز ہے
کسی بھی ملک کے باشندوں کا ایک نصب العین پر سوچنے کے لیے ایک زبان کا ہونا ضروری ہے
ٹوکیو یونیورسٹی ، شعبۂ اردو کے استاد پروفیسرمامیاکین ساکُوسے گفتگو
شریک گفتگو:سید سردار احمد پیرزادہ، صائمہ یوسف، عظمت زہرا، جاوید اختر ملک

س : جاپان میں شعبہ اردو کے حوالے سے کچھ بتائیں گے؟
ج : جاپان میں اردو کے شعبے کو قائم ہوئے سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس شعبہ میں اس وقت ایک پاکستانی استاد اور دو جاپانی اساتذہ ہیں جبکہ پندرہ سولہ جاپانی طالب علم اردو کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
س : ہر سال کتنے طالب علم اُردو کے مضمون میں داخلہ لیتے ہیں ؟
ج : ہر سال تقریباََ پندرہ سے سولہ طالب علم داخلہ لیتے ہیں۔
س : آپ کو اردو سیکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟
ج : میں بنیادی طور پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی ایک زبان کا انتخاب کرنا چاہتا تھا۔ میں نے پشاور اور وادی ہنزہ کے بارے میں ٹی وی پروگرام دیکھے جن سے یہاں کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں معلومات ہوئیں تو مجھے اردو سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جاپان میں کسی بھی دوسری زبان کے لیے خاص ماحول نہیں ہے۔
س : آپ نے سندھی بھی سیکھی ہے ۔ اس میں آپ کو مشکل پیش نہیں آئی؟
ج : چونکہ میں نے ایم ۔فل سندھ یونیورسٹی جامشورو سے کیا ہے جو استاد ہمیں پڑھاتے تھے وہ سندھی زبان سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس لیے اپنے دو سال کے قیام کے دوران میں نے اُن سے سندھی پڑھنا شروع کر دی ، پڑھنے پر معلوم ہوا کہ سندھی زبان ایک پیچیدہ زبان ہے۔
س : کیا آپ سرائیکی زبان بھی جانتے ہیں؟
ج : سندھی اور سرائیکی زبان میں ایک تعلق ضرور ہے لیکن میں سرائیکی نہیں جانتا ۔
س : جاپان نے اپنی قومی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم اختیار کر کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جو نمایاں ترقی کی ہے اُس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ انگریزی زبان کی وجہ سے جاپانی طلباء بین الاقوامی سطح پر کن مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں؟
ج : انگریزی زبان کی وجہ سے بہر حال ہمیں دقت کا سامنا ہے ہمارے وہ طلباء جو اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ انگریزی سیکھتے ہیں لیکن تمام مقالات جاپانی زبان میں ہی تحریر کیے جاتے ہیں ۔اصطلاحات کا ترجمہ جاپانی زبان میں کیا جاتا ہے جو کہ کافی حد تک رائج ہے۔ بین الاقوامی طورپر رائج اصطلاحات کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ اب جاپان میں بھی انگریزی زبان کو سیکھے بغیر ملازمت نہیں ملتی ۔ اگرچہ جاپان میں جاپانی زبان ہی میں تدریس ہوتی ہے اور جاپانی لوگ انگریزی زبان سیکھنے کے لیے کوئی واضح رجحان نہیں رکھتے لیکن اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے کے لیے انھیں انگریزی زبان سیکھنا پڑتی ہے۔
ّس : اُردو کا مشینی ترجمہ کس حد تک مؤثر ہے؟
ج : اب تک کسی بھی زبان میں مشینی ترجمے کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ جاپان میں بھی مشینی ترجمہ کیا جا رہا ہے لیکن وہ کوئی خاص مؤثر نہیں ہے۔
س : کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں قومی زبان کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟
ج : کسی بھی ملک کے لوگوں کو ایک مقام پر اکھٹے ہونے اور ایک نصب العین پر سوچنے کے لیے ایک زبان کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ ہمارے ملک جاپان میں ایک ہی زبان یعنی جاپانی زبان بولی جاتی ہے ۔لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اُردوزبان کے علاوہ دیگر زبانیں یعنی پشتو، سندھی ، سرائیکی ،بلوچی اور پنجابی وغیرہ بھی بولی جاتی ہیں ۔اُردو زبان ان تمام زبانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے ا ور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ان تمام زبانوں کے لوگو ں کا اُردو زبان پر متفق ہونا ضروری ہے ۔ ایک زبان پر متفق ہوئے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
س : اُردو کے جاپانی زبان میں تراجم کے سلسلے میں کچھ بتائیے؟
ج : اُردو زبان سے جاپانی زبان میں تراجم کے سلسلے میں یقیناکچھ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اب تک تقریبا سو کے قریب تراجم کیے جا چکے ہیں۔ جن میں کہانیاں اور ناول وغیرہ شامل ہیں۔ جاپانی زبان سے اُردو میں تراجم کی تعداد نہایت کم ہے۔ زیادہ تر تراجم جاپانی زبان سے انگریزی میں کیے جاتے ہیں اور پھر وہ اُردو میں ترجمہ کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک رسالہ نوائے ٹوکیو اردو میں نکلتا تھا۔ ایک اخبار پاک شین بون بھی اُردو میں نکلتا تھا لیکن وہ اب بند ہو چکا ہے وجوہات مجھے معلوم نہیں۔ اس کے علاوہ ریڈیوجاپان پر اردو میں پروگرام نشر ہوتے ہیں کیونکہ تین چار ہزار پاکستانی جاپان میں رہتے ہیں لیکن اب یہ تعداد کم ہو گئی ہے۔ کوئی پچیس سال پہلے ۱۹۸۸ء کے لگ بھگ جاپان میں آنے والے پاکستانیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی کیونکہ اس وقت ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی تو چھوٹے موٹے کارخانوں میں مزدور طبقے کے لوگ جا کر کام کرتے تھے۔ لیکن اب ویزا کی پابندیوں کے باعث یہ تعداد کم ہو کر رہ گئی ہے۔ اب وہاں کچھ پاکستانیوں نے جاپانی لڑکیوں سے شادیاں کر لیں اور وہیں مقیم ہو گئے ۔ بہت سے الفاظ جاپانی اور اردوزبان میں مشترک بھی ہیں۔ اردو کے کچھ الفاظ جاپانی میں آچکے ہیں۔ مثلا رکشہ ایک جاپانی لفظ ہے جو اُردو زبان میں مستعمل ہے اور مذہبی حوالے سے دیکھا جائے تو جاپانی زبان میں داننا شوہر کو کہتے ہیں جبکہ اردو میں دینا جاپانی زبان کے ساتھ مماثلت رکھتا ہے۔
س : یہ بتایئے کہ اردو زبان کتنے عرصے میں سیکھی جا سکتی ہے؟
ج : اگر آپ کوشش کریں تو ایک ماہ کے ا ندرآپ اردو زبان میں اپنا نام لکھنا سیکھ سکتے ہیں۔لیکن قواعد کو سیکھنے میں ایک ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے۔ ہمارے لیے مذکر اور مؤنث سیکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ ایسے سوالات کا جواب کوئی نہیں دے سکتا ۔ مثال کے طورپر یہ کتاب اچھی ہے ۔ اس کتاب کا عنوان مذکر ہے یا مؤنث ۔ میں بھی صحیح طور پر کبھی کبھی مذکر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکر بولتا ہوں۔ جس طر ح جاپانی میں کھا اور تھا کا فرق نہیں ہے اس لیے اردو زبان کے لفظ کھا اور کا فرق جاپانیوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔
س : آپ کے خیال میں کیا زبان دو ملکوں کو قریب لاتی ہے؟
ج : ہاں زبان سیکھنے اور سمجھنے سے آپس میں بات کر سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں خاص طور پر اردو زبان سیکھنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔
س : اردو کا رسم الخط آپ کو کیسا لگتا ہے؟
ج : اردو کا رسم الخط مشکل ہے دیکھنے میں خوبصورت ہے لیکن لکھنے میں مشکل ہے ۔ خاص طور پر اخبار پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
س : بیرونی ممالک میں اردو چےئر کے حوالے سے آ پ کیا کہیں گے کہ اس کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
ج : بیرونی ممالک میں اردو چیئر قائم کرنے سے بہت فائدہ ہو گا۔ جیسے جاپان میں ہوا۔ اس سے دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت کو سمجھ پائے اور دونوں ملکوں کے مابین بہتر روابط قائم ہو ئے۔