اردو زبان کے فروغ کے لیے ایک نئے مکالمے کا آغاز

یہ امر خوش آیند ہے کہ پاکستان کے ایک میڈیا گروپ نے کراچی میں ایک یادگار اور فکر انگیز اردو کانفرنس منعقد کرائی ہے،چند برس پہلے پاکستان کا ایک اہم اخباری گروپ یہ تہذیبی اور جمالیاتی سرگرمی کر چکا ہے،چلیے،مسابقت میں ہی سہی اب اور میڈیا گروپوں کو بھی اس طرف متوجہ ہونا چاہیے،خاص طور پر ڈان،اے آروائی اور دنیا نیوز کو۔
ایسی کانفرنسیں جہاں سراسیمہ اور بے سمت معاشروں میں بعض تہذیبی اور ثقافتی اقدار کی تجدید کرتی ہیں وہاں فکر و نظر کے نئے دروازے بھی کھولتی ہیں۔ اس کانفرنس میں انسان دوستی،امن اور رواداری کی مظہر زبان اردو کی ثروت مندی کے لیے متعدد تجویزیں دی گئی ہیں،جن میں اسے سائنس اور ٹیکنالوجی سے جوڑنے اور اردو دنیا کے آفاقی منظر سے منسلک کرنے کی آرزو مندی نمایاں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے موقعوں پر دانش ور اور تخلیقی فنکار ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر درس گاہیں اور جامعات ایک فکری ماحول بناتی ہیں،تب کہیں جاکر وہ ادارے بھی فعال ہو سکتے ہیں جو اردو زبان کی ترقی اور فروغ کے لیے قائم ہوئے ہیں اور جو سرکاری سطح پر کام کرتے ہیں اور وسائل کی کمیابی کے باوجود اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
مقتدرہ[مرکز] قومی زبان آرزومند ہے کہ اردو کو اس کے حقیقی وارثوں یعنی عام آدمیوں تک لے جائے اور ان لوگوں کی بول چال اور اظہار کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دے تاکہ اردو زبان روشن خیالی اور خردافروزی کا ذریعہ بن سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ’’اخباراردو ‘‘ کے قارئین کے ساتھ ایک ایسے بامعنی مکالمے کا آغاز کرے جو ایک طرف اردو زبان سے محبت کرنے والوں کے حقیقی کردار کو اجاگر کرے اور دوسری طرف اردو زبان و ادب کی خدمت کا دعویٰ کرنے والے سرکاری اداروں کا مزاج بھی تبدیل کر سکے۔
دو اور معصوم پرندوں کی ہجرت
ابھی علمی،ادبی حلقے محمد منشا یاد جیسے زندگی اور معصومیت سے معمور شخص کی اچانک وفات کے صدمے اور سوگ میں تھے کہ لاہور سے حمید اختر جیسے ترقی پسند تحریک کے سرخیل اور ثابت قدم صاحبِ قلم کے آنکھیں موند لینے کی خبر آ گئی ، ایسے معصوم لوگوں کا ہمارے درمیان سے اُٹھ جانا،ان سب لوگوں کے لئے بہت بڑا صدمہ ہے جو پاکستان کی موجودہ شناخت کی جد و جہد اور فکری ارتقا کے مرحلے میں قلم کاروں سے قیادت کی توقع رکھتے ہیں۔محمد منشا یاد بڑے افسانہ نگار اور بہت بڑے انسان تھے اورحمید اختر نے اپنے فکری نصب العین کے لئے وہ ’کال کوٹھڑی‘ دیکھی تھی،جسے تعمیر کرنے والے نظام اور فتویٰ طرازی کو فردِ جرم بنا دینے والی قوت کے بارے میں بنیادی سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ منو بھائی،فرمان فتح پوری،مشتاق یوسفی، انتظار حسین،جمیل الدین عالی،عبداللہ جمال دینی،ضیا جالندھری،شہزاد احمد، بانو قدسیہ،شعیب ہاشمی ،سہیل اختر ایسے ادب و فن کے معصوم پرندوں کی چہکار اس سناٹے میں گونجتی رہے،یہ گھڑی طلب گار ہے کہ ادب و فن کی بارگاہ سے محبت اور توجہ سے بھری آواز میں کوئی کہتا رہے’جاگتے رہو !‘ کون نہیں جانتا کہ ایسی صدا بے آرام نہیں کرتی،بس چھوٹوں،کمزوروں کو دلاسہ سا ہو جاتا ہے کہ کوئی بے آرام رہ کر،آپ کے لئے جاگ رہا ہے ۔

)
انواراحمد)