الہٰ دین کی چارپائی

علی اکبر ناطق

بابے الہٰ دین کی چارپائی صبح آٹھ بجے ہی گھر سے باہر سڑک کے کنارے دو جڑواں درختوں کی چھاؤں میں بچھ جاتی۔ چار پائی کے ساتھ آٹھ سات موڈھے بھی لگ جاتے۔ ان کے درمیان ایک بڑے حقے کی نَے ہر وقت گھومتی جس کی وجہ سے کڑوے تمباکو کا دھواں تمباکو پینے والوں کو اپنی طرف کھینچتا رہتا۔ چنانچہ بابے الٰہ دین کے پاس روزانہ کے بیٹھنے والوں کے علاوہ آتے جاتے راہ گیر بھی رک جاتے، گھڑی پہر حقہ گڑگڑاتے ، لسی یا پانی کا گلاس پیتے،پھر صافا جھاڑ کر کاندھے پر رکھتے اور آگے چل دیتے۔ یہ دونوں درخت بیری اور کیکر اگرچہ جنس میں الگ الگ تھے مگر ان کے تنے اور شاخیں ایک دوسرے میں اس قدر پھنسی ہوئی تھیں کہ دونوں درخت گھنی چھائوں کا ایک ہی پیڑ دکھائی دیتے جو بابے الٰہ دین کے گھر کے سامنے سے بہنے والی اس کھال کے کنارے پر تھے جو راجباہ سے اس لیے نکال کر گائوں میں داخل کی گئی تھی تا کہ گائوں کی سڑک کے کنارے کھڑے درختوں کو سارا سال پانی دیتی رہے ۔ چنانچہ جڑواں درختوں کی جڑوں میں ہر وقت بہتے ہوئے پانی کی وجہ سے ان کی شاخیں لچکیلی اور شاخوں کے پتے سیاہی مائل سبز اور گھنے ہو گئے تھے جن کے سائے ان کی شاخوں اور پتوں سے بھی زیادہ ٹھنڈے اور گہرے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ دونوں درخت ہرے اور لال گلابی پرندوں سے بھرے رہتے۔ بعض اوقات کسی پرندے کی بیٹ بابے الٰہ دین یا کسی دوسرے کی پگڑی اور کپڑوں پر گر جاتی تو وہ ہا ہا کر کے اسے اڑا دیتے ۔ کھال کے آگے ساٹھ فٹ چوڑی سڑک گزر رہی تھی۔ سڑک اگرچہ کچی تھی لیکن اس قدر ہموار اور صاف تھی کہ وہ بیس لائن کی طرح لگتی۔ جس پر جون جولائی کے دنوں میں گرمی کے سبب زمین سے تیز اور چمکیلے حرارے اس طرح دائروں میں اْٹھتے جیسے دھوپ کے بھوت اْڑ اْڑ کر آسمان کو چڑھ رہے ہوں۔ایسی گرمی اور بخارات میں اگر کوئی ننگے سر چلتا تو چیں بول جاتی۔ البتہ سردیوں میں سفید دھوپ یوں ہلکی ہلکی حرارت پہنچاتی جیسے کوئی تھکے ہوئے کو داب رہا ہو۔ سڑک کے سامنے دوسرے کنارے پر ایک ٹھیلے والا گرمی میں برف اور سکرین ملے گولے بیچتا تھا جبکہ سردی میں پکوڑے اور جلیبی تلنے لگتا۔ اس کے چار قدم آگے اسی ہاتھ ادھیڑ عمر ببر موچی کا چھپر تھا۔ چھپر بھی کیا تھا، کوٹھے کی دیوار کے سامنے دو لکڑی کے موٹے ڈنڈے زمین میں گا ڈ کر اْن پر کپاس کی چھڑیاں رکھ دی گئیں تھیں اور دیواروں کی جگہ ٹاٹ کی بوریاں لٹکا دیں جن پر وقفے وقفے سے پانی کا چھڑکائو کر دیا جاتا تا کہ ہوا ٹھنڈی ہو کر اندر آئے۔ ببر موچی موٹے چمڑے سے دیسی طرز کے جوتے بناتا۔ان جوتوں کے خریدار اس گائوں کے بوڑھے اور ادھیڑ عمر سب لوگ تھے۔ یوں تو ببر موچی کے پاس بھی سارا دن دو چار لوگ بیٹھے رہتے جن میں کچھ جوتوں کے سائز دینے والے اور کچھ یونہی ببر سے گپ شپ کرنے والے۔ لیکن زیادہ تر مجمعہ بابے الٰہ دین ہی کی چار پائی کے گرد جمتا بلکہ ببر موچی بھی جب کام کرتے کرتے تھک جاتا تو سڑک کے دوسری طرف الٰہ دین کے پاس آبیٹھتا ، پندرہ بیس منٹ کے لیے حقہ پیتا اور پھر اٹھ کر اپنے کام میں جْت جاتا ۔اکثر دفعہ نئے جوتے پر کام کرنے سے پہلے الٰہ دین سے مشورہ کرنا اور اسے چمڑا دکھانا ضروری خیال کرتا۔اس کے علاوہ جوتا بنوانے والے بھی ببر موچی سے جوتا لے کر پہلے الٰہ دین کو دکھاتے۔ اور بابا الٰہ دین اس جوتے کی اتنی تعریف کرتا کہ خریدنے والا اور بیچنے والا دونوں خوش ہو جاتے۔ ببر موچی تو ایک طرف گائوں کی بعض عورتیں بھی پھیری والوں سے کپڑے وغیرہ خرید کر سیدھی الٰہ دین کی چارپاِئی کا رخ کرتیں اور کہتیں۔
'' وے الٰہٰ دینا یہ کپڑا تو دیکھ کیسا ہے ؟ پورے آٹھ روپے گز کے حساب سے لیا ہے۔'' ادھر بابا اس کی تعریف میں اس قدر زمین وآسمان کے قلابے ملاتا کہ سننے والوں پر مبالغہ سا ہونے لگتا، کہتا،دھیے، تم نے تو کپڑے والے کو لوٹ لیا ہے۔اتنے سستے داموں اتنا اچھا کپڑا خرید لیا ،اس طرح کا کپڑا تو میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے۔ یوں وہ بھی خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے بغلیں بجاتی چلی جاتیں۔ ایک دفعہ بابے کی بیوی اماں فاطمہ نے اسے کہا ،یہ تم کیا ہر اچھی بری چیز کی تعریفیں کرتے رہتے ہو ؟ حتیٰ کہ بری سے بری شے کو بھی سونے چاندی سے ملا دیتے ہو۔ جوابا ًالٰہ دین نے کہا ،او بھلی لوکے، اس کی تعریف کرنے میں میرا کیا جاتا ہے ،اب جو چیز جس نے خرید لی ہے وہ اسے واپس کرنے سے تو رہا۔ اگر وہ بری بھی ہے تو میرے برا کہنے سے سوائے اس کا دل دکھنے کے اورتو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔اس سے تْو ہی بتا مجھے کیا ملے گا؟ البتہ میری تعریف سے وہ مطمئن اور خوش ہو جائے گی۔اس سے خدا بھی خوش ہوگا ۔
الٰہ دین کی چارپائی کے نیچے بہتی ہوئی صاف پانی کی کھال اور اوپر درختوں کا سایہ گرمی کی حدت کو اتنا کم کر دیتے کہ بابے الٰہ دین کے لیے پوری گرمیوں کا موسم معتدل بنا رہتا۔ الٰہ دین اگرچہ چارپائی سے اٹھ نہیں سکتا تھا کہ دس سال پہلے ٹانگوں پر ہونے والے گٹھیا کے حملے نے اسے چارپائی سے لگا دیا تھا۔ لیکن اس کے چاروں بیٹے اس سے اتنا ڈرتے کہ ہلکی سی آوازپر سہم جاتے اور بات سننے کو دوڑے چلے آتے۔ یوں تو ایک بیٹے کے علاوہ سب بالغ تھے مگر وہ سب الٰہ دین کے حکم کے نیچے ہی تھے۔ جو کچھ کماتے، الٰہ دین کی ہتھیلی پر لا رکھتے اور وقفے وقفے سے چارپائی پر نظر رکھتے۔ ذرا سی دھوپ پڑنے پر اسے اٹھا کر سائے میں کر دیتے۔ دن میں ایک دفعہ ضرور نہلاتے اور کھانا وقت سے منٹ بھر ادھر ادھر نہیں ہوتا تھا۔ منجھ کی کُھری چارپائی پرکپاس کے دھاگے سے بْنی ہوئی دوہر اور تکیہ اتنے صاف اور سفید تھے کہ ان پرچمکتی دھوپ کا گمان ہوتا اور اس پر تکیے کے سہارے بیٹھا ہوا بابا الٰہ دین سفید لٹھے کے لباس اور سفید پگڑی باندھے واقعی کسی نواب کی صورت دکھائی دیتا۔ کوئی نیا آنے والا محسوس نہیں کر سکتا تھا کہ چارپائی پر بیٹھا ہوا شخص معذور یا غریب آدمی ہے۔ حالانکہ گائوں میں ہر کوئی جانتا تھا کہ ان کی معاشی حالت کیا ہے۔ مگر کڑوا تمباکو اور ٹھنڈی لسی پاس بیٹھنے اور ملنے والوں کے لیے ہر صورت مہیا رہتی کہ اس سے بڑھ کردوسری کوئی شے ان دنوں تواضع کے لیے اْس سے بہتر اور سستی نہیں تھی۔ سڑک کچی ہونے کے باوجود اس پر گرد وغبار اس لیے نہیں تھا کہ وہاں ٹریفک نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ دن بھر میں ایک آدھ گڈھ یا کوئی سائیکل پر پھیری لگانے والا گزر جاتا یا پھر پیدل چلنے والے۔باقی الللا الللہ ۔
خیربابے الٰہ دین کو معذور ہوئے کئی سال ہو چکے تھے اور اتنے ہی برس اس چار پائی اور چارپائی کے کے گرد پڑے موڈھوں پر بیٹھنے والوں کو گزر چکے تھے۔ جن میں شریف کھوکھر ،مستا بھٹی، اسماعیل بھٹی ،شیدا بٹیر ،طفیل باجوہ،بابو رجب علی ،جمال بھٹی اور دوسرے دو چار لوگ ایسے تھے کہ ان کو موت ہی ناغہ کروائے تو کروائے۔ الٰہ دین سمیت سب کے پاس اتنے قصے تھے کہ قیامت تک ختم نہ ہو سکتے ، کبھی کوئی اپنا افسانہ سناتا اور کًبھی کوئی اپنی کتھا چھیڑ دیتا۔ جس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی چھیڑ چھاڑ سے وہ کتھا اتنی لمبی ہو جاتی کہ انہیں کچھ دیر کے لیے مشرقی پنجاب میں چھوڑے ہوئے اپنے گھر بار بھول جاتے۔ لیکن یہ ان کے جی بہلانے کا بہانہ تھا یا ہجرت کی یادوں سے دور رہنے کی ایک چال کہ ہر ایک کے پاس سنانے کو پرانے وطن ہی کی داستانیں تھیں۔ ہجرت کوچودہ سال گزر جانے کے بعد بھی نئے دیس کی ان کے پاس کوئی بات نہیں تھی یا وہ سنانا ہی نہیں چاہتے تھے۔بہر حال جو کچھ بھی تھا ،قصے پرانے ہی تھے۔ چنانچہ جمال بھٹی نے بیٹھتے ہی سامنے والے موڑھے کو کھینچ کر آگے کیا اورکاندھے سے پٹکا اتار کر اس پر رکھ دیا۔ پھر سر سے پگڑی اتار کر زانوؤں پر رکھی اورحقے کی نے ا پنی طرف کھینچ کر بولا ، بھئی الٰہ دین وطنوں کے قصے بھی عجیب ہیں ،خدا دشمن کو بھی ان کی یاد نہ دلائے ۔ بھلا اُجاڑے سے پہلے کسی کو پتا تھا کہ یوں دیس دیس مارے پھریں گے ؟۔فیروز پور میں چوری چکاری کا اچھا بھلا کارو بارتھا اور عزت کی روٹی کھا رہے تھے۔ توبہ کر کے کہتا ہوں ان ہاتھوں سے سینکڑوں روپے گنے۔ خدا جھوٹوں کو اٹھنے سے پہلے قبض کرے ،فیروز پور کی پانچ تحصیلوں میں کون تحصیل ایسی ہو گی جہاں سے ڈھور ڈنگر گھیر نہ لائے ہوں۔ اُس وقت چوری مردوں کا گہنا تھی۔ بس بھائی الٰہ دین ساری عزت اور محنت کی کمائی اْجاڑے نے کھا لی ، سب کچھ لٹا کر پلو جھاڑا اور یہاں چلے آئے۔ ہاتھ کی ڈنگوری اور یہ کاندھے کا پٹکا بچا اس تباہی میں۔
بابا الٰہ دین جو اپنے تکیے سے سہارا لیے بیٹھا تھا ،تھوڑا سا اور سیدھا ہوا اور ہنستے ہوئے بولا ، جمالے شکر کر تْو سلامت چلا آیا ، اس قیامت میں زندہ بچ کے نکل آنا بھی ولی اللہ ہونے کی نشانی ہے۔ جان ہے تو جہان ہے ،قسمت میں لکھا ہے تو پھر فیروز پور میں چلے جائیں گے۔ ویسے اْجاڑے میں جس طرح ٹوکا چلا ہے ، تیری گردن تو اس کی پوری حق دار تھی ۔بابے الٰہ دین کی جمال پر اس پھبتی سے جمال سمیت سب ہنسنے لگے ،پھر ہر ایک اپنی اپنی واردات بولنے لگا۔اسی حقے کی گڑ گڑاہٹ اور قہقہوں کی گونج میں بابا الٰہ دین نے کہا ''چل چھوڑ جمالے ان باتوں کو ، تْو اپنی چوریوں کا کوئی قصہ تو سنا'' ،جمال دین نے ہلکا سا کھنگھار لے کر گلا صاف کیا اور حقے کی نے حیات علی کی طرف کرتے ہوئے بولا'' ایک دفعہ ہوا یہ کہ کافی عرصہ ہمیں کوئی گائے بھینس کھولنے کا موقعہ نہ ملا۔ میں اور اللہ رکھا (خدا اسے رب رسول کے واسطے جنت میں جگہ دے، اجاڑے میں سکھوں کی کرپان کے صدقے چڑ ھ گیا ،) خیر، ہم دونوں ما ل کی تاڑ میں پھرتے پھراتے روحی جا نکلے۔ وہاں ہمیں خچر ہاتھ لگ گئے، الٰہ دین تمھیں تو پتا ہے روحی کے خچروں کا ،کتنے بڑے اور موٹے تازے ، روحی کا چھولیا کھا کھا کے دنبے کی طرح ان کی چکلیاں نکلی ہوئی تھیں۔ لیکن اس وقت ہمیں ان کی وقعت کا اندازہ نہیں تھا۔ میں نے اللہ رکھا سے کہا میاں رکھے ان گدھوں کا ہم کیا کریں گے ،اس نے کہا بھئی چلو جو چار چھ روپے ہاتھ آئیں۔ اب اور کچھ نہیں ملتا تو بھوکے مرنے سے بہتر ہے انہی کو کھول کر لے جائیں۔ چنانچہ ہم وہ خچر لے آئے۔
اب ہمارے لیے مسئلہ پیدا ہوا کہ یہ چوری کے کھوتے کہاں ٹھکانے لگائیں۔ بڑی سوچ بچا ر کی ، شرم کے مارے کسی کو بتاتے بھی نہ تھے کہ لوگ کہیں گے کہ اب جمال کی یہ اوقات رہ گئی وہ کھوتے چوری کرنے لگا، ڈوب کے مر جائے۔ اسی نموشی میں کئی دن گذر گئے۔ پھر ا چانک مجھے ایک طریقہ سوجھا ،میں نے سوچا کہ ہم یہ مال عیسے اور دلاور کو دے دیتے ہیں۔ مال کے بدلے میں مال کے طور پر۔ الٰہ دینا اپنے عیسے اور دلاور کو تو جانتے ہو ،یہ دونوں بھی بڑے کاری گر چور تھے ۔
''ایسے ویسے چور''،'' جمالے میں تھوڑی دیر کے لیے تیری بات کاٹتا ہوں اور ایک چھوٹا سا واقعہ اسی عیسے اور دلاور کا سناتا ہوں ۔اس کے بعد تو اپنی بات سنانا''،''بابے الٰہ دین نے دائیں ہاتھ سے اپنے پاوں پرخارش کرتے ہوئے بات شروع کر دی ''، ان دونوں کا ایک بڑا بھائی شبرعلی تھاجو آج کل لائل پور میں ہے۔ یہ چوری چکاری سے ہمیشہ دور رہتا او ر وائی بیجی کی محنت کر کے کھاتا تھا۔ عیسٰی اور دلاور جب بھی کوئی مال مار کر لاتے ،دو تین دیگیں چاولوں کی پکا کر اللہ کے نام پر لوگوں اور غریب غربا کو کھلاتے۔ اس کے خرچے کا تیسرا حصہ بھائی ہونے کے ناطَے یہ شبر علی سے بھی وصول کر تے۔ اب ان کا مال تو لوٹ مار کا ہوتا مگر شبر بچارے کو اپنے خون پسینے کی کمائی سے حصہ ڈالنا پڑتا۔ دو تین سال تو وہ حصہ بھرتا رہا آخر کب تک ساتھ نبھاتا۔ ایک دن بچارا تنگ آکر کہنے لگا،بھائیوں اگر خدا اسی طرح راضی ہوتا ہے تو میں دوزخ میں ہی اچھا ہوں۔ آئندہ تم اور تمھارے خدا سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ میں اپنے خون پسینے کی کمائی سے تمھارے حرام مال کو حلال نہیں کر سکتا۔ اس طرح اس بچارے نے اپنی جان چھڑائی۔ ''
بابے الٰہ دین کی اس بات پر سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اس کے بعد الٰہ دین نے جمال سے کہا ، جمالے اب تْو اپنی با ت شروع کر۔ جمال بھٹی نے حقے کا ایک تازہ گھونٹ بھر کر بات وہیں سے پھر جوڑ دی۔
''تو میں کہ رہا تھا بھائی اسماعیل ، یہ دونوں بھائی ریاست پٹیالٰہ سے مال چوری کر کے فیروز پور میں لا بیچتے۔ ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی آسانی سے ہمارے کھوتوں کے ساتھ اپنی گائے بھینسوں کا سودا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن ہم نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ برابر برابر ان سے سودا کر لیا۔ یعنی تین خچروں کے عوض تین گائیں ۔ اس کامیاب سودے کے بعد ہم نے روحی کے خچروں پر ہی ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے اور جی میں بڑے خوش کہ ہم عیسیٰ اور دلاور کو دھونی دے رہے ہیں ۔ اب کیا تھا، ہم دونوں روحی کے خچر چوری کر کر کے انہیں دیتے رہے اور وہ ان کے بدلے میں پٹیالہ کی گائیں بھینسیں ہمیں دینے لگے ، یہ کام تین سال تک چلتا رہا اور پورے تین سال تک ہم ان کو اس طرح احمق بناتے رہے۔ ایک دفعہ ہم خچر لے کر آ رہے تھے کہ فاضلکا بنگلہ میں ہمیں ایک کمہار مل گیا۔ اس نے کہا کہ یہ دونوں خچر مجھے بیچو گے؟ ہم نے کہا ، کہیں تو بیچنے ہیں ،تم لے لو۔ وہ بولا قیمت بتاؤ؟ میں نے کہا تم خود ہی بتا دو کتنے دو گے ، اس نے کہا دونوں کے تین سو لے لو۔ لو جی یہ سنتے ہی میرے تو ہوش اڑ گئے۔ اس وقت اچھی سے اچھی گائے بھی پچاس روپے سے زیادہ کی نہیں بکتی تھی۔ اب مجھے پتا چلا کہ خچر جسے ہم گدھا سمجھتے رہے وہ تو دراصل گائے سے تین گنا قیمتی تھا اورعیسیٰ ہمیں بدھو بنا کر کتنا عرصہ ہمارا کباڑہ کرتا رہا ۔
جمال کی اس بات سے سب ہنس ہنس کر دہرے ہونے لگے۔بابے الٰہ دین نے ہنستے ہوئے پوچھا ''پھر کیا تم نے عیسیٰ سے کوئی حساب کتاب کیا ؟''
''حساب کتاب کیا کرنا تھا میاں الٰہ دین ، جمال بھٹی تأسف سے بولا ''اس کے بعد تو کچھ رہا ہی نہیں، اْجاڑے پڑ گئے اور وہ دونوں بہشتی تحصیل مکھسرمیں سکھڑوں کے ہاتھوں حلال ہو گئے۔ بس بھائی الٰہ دین جس طرح روزے مسلمانوں پر فرض کر دیے گئے ہیں اسی طر ح جب سے میں پیدا ہوا ہوں میری قسمت میں نقصان فرض کر دیا گیا ہے۔ لیکن سچ پوچھیں تو مجھے اپنے لٹنے کا نہیں ان کے مرنے کا بہت دکھ ہوا ، خدا جانتا ہے بڑے جی دار آدمی تھے۔ ایک دفعہ( نورمحمد کو مخاطب کرتے ہوئے) نورے بھائی آپ نے تو عیسیٰ کو خود دیکھا ہے، جھنڈے پور میں لٹھ بازی کے مقابلے میں اس نے پور ے دس لٹھ بازوں کو ہرایا تھا۔ ایک ہی ہلے میں۔( ٹھنڈی سانس بھر کر) ہااااااا، بس رہے نام اللہ کا۔ جمال دین کے ان درد بھرے جملوں سے تھوڑی دیر کے لیے سب ہی رنجیدہ سے ہو گئے اور خاموشی چھا گئی۔اتنے میں سورج ماتھے کے کناروں پر آ چڑھا اور پیڑوں نے اپنی چھاوں سمیٹ کر تنوں سے لگا لی۔ جس کی وجہ سے مو ڑھوں اور بابے الٰہ دین کی چارپائی پر دھوپ کے گرم شیشے پڑنے لگے۔عین اسی وقت بابے الٰہ دین کا بیٹا منیر جو سب سے چھوٹا تھا وہ باہر نکلا اور الٰہ دین کی چارپائی کھینچ کر مزید پیڑ کے نیچے تنے کے ساتھ لگا دی تا کہ بابے پر دھوپ نہ پڑے ۔اس کے بعد ٹھنڈی لسی کا ایک بڑا دونا بھر لایا جس میں سے سب نے ایک ایک گلاس تانبے کا لسی سے بھر کر پیا ۔ اس طرح سب ہی ایک بار مزیدتازہ دم ہو گئے اور نئے سرے سے باتوں کے طوطے مینا اڑنے لگے ۔لہٰذا بابا الٰہ دین نے اپنے باپ کے ایک واقعے سے گفتگو کا دوبارہ آغاز کر دیا ۔
''بابو رجب علی پرانے لوگوں کی کیا بتاوں'' الٰہ دین نے حقے کا ایک لمبا گھونٹ بھر کر اس کی نیَ مستے بھٹی کی طرف سِر کاتے ہوئے کہا'' بس سادہ لوح بندے تھے۔ فائدہ نقصان ان کی ضد میں تھا ،اگر ضد پوری ہو جائے تو فائدہ ہی فائدہ، اگر ضد نہ پوری ہو تو نقصان۔اب میرے باپ خوشی محمد ہی کو دیکھ لو۔ اللہ جنت نصیب کر ے ان کا دماغ بھی اپنا ہی تھا ،مجال ہے کسی کی بات مان جائیں۔ یہ بات اجاڑے سے کوئی آٹھ سال پہلے کی ہے۔اْس دفعہ بارشیں بہت ہوئیں اور روحی میں بارش ہونے کا مطبل تھا کہ غلہ وافر ہو گا اور اس کی بے قدری۔ چنانچہ اس کی وجہ سے روحی میں چنے کی فصلوں کا سیلاب آ گیا۔ اس بار ہماری چنے کی فصل بھی تین ہزار من ہوئی۔ فیروز پور کی منڈی ہم سے کافی دور تھی البتہ تحصیل مکھسر دس کوس پر تھی۔اس وقت دو ہی بیل گاڑیاں ہمارے پاس تھیں۔ جن پر اتنی زیادہ فصل لاد کر لے جانا بہت مشکل تھا۔ ہری چند کھتری میاں جی کے پاس آیا اور ایک روپیہ فی من کے حساب سے پورا غلہ گھر سے اْٹھانے کا سودا کر لیا۔ میاں جی نے کہا کل بتائوں گا۔اس کے جانے کے بعد میاں جی نے منڈی سے ریٹ معلوم کرنے کے لیے بندہ بھیج دیا ، پتا چلا کہ منڈی کا ریٹ ایک روپیہ چار آنے ہے ،بس پھر کیا تھا، میاں جی کا لاٹو گھوم گیا۔انہوں نے کہا ،غلہ میں خود منڈی لے کر جاوں گا ، اس کھتری کو چار آنے کس بات کا منافع دوں؟اب ہزار طرح سے ان کو سمجھانے والے، کہ میاں جی غلہ کھتری کو بیچ کر سر دردی سے بچو۔کس جھنجھٹ میں پڑنے والے ہو۔ مگر ان کی جوتی سْنے۔ بنگلہ فاضلکا میں اس کا بیلی رفیا کمھار تھا ،اس کو بلا بھیجا اور تین آنے فی من کے حساب سے مکھسر کی منڈی میں غلہ پہچانے کا اس سے معاہدہ کر لیا۔ وہ تیسرے دن ہی سو گدھا اور پندرہ بندے لے کر آگیا۔غلے کو گدھوں پر چَھٹیوں کے ذریعے سے مْکھسر کی منڈی میں ڈھونا شروع کر دیا۔اب کیا تھا ،چل سو چل ، پندرہ بندوں کی تین وقت کی روٹی اور سو گدھے کا چارہ بھی ہمارے ذمے تھا اور ساتھ روز کا دس روپے خرچ ۔ سبز چارہ اس وقت تھا نہیں چنانچہ گدھے بھی ہر وقت چنے ہی کھاتے اور بے حساب کھاتے۔ یوں پورے ڈیڑھ مہینے میں پتا نہیں سو گدھوں اور پندرہ بند وں نے کتنے چنے اور کتنی روٹیاں کھائیں اور ہمیں کیا بچا ؟۔بس یہ ہوا کہ میرے والد میاں خوشی محمد کی ضد پوری ہو گئی۔ ڈیڑھ مہینے بعد رفیے کمھار کو تین آنے فی من کی مزدوری اور ایک آنہ فی من کے حساب سے انعام دے کر خوشی خوشی رخصت کیا۔اور بڑ ے فخر سے کہنے لگے۔ دیکھ لو اسے کہتے ہیں عقلمندی ، کھتری خوامخوا میں چار آنے بچا رہا تھا ۔ ۔
ا لہ دین کے اس واقعہ سنانے پر سب نے اپنی اپنی رائے کا مزید نمک ڈالا۔ اور سادہ لوح بزرگوں پر مزید کئی قصے سنائے گئے اور ان کی نیک روحوں پر رحمتوں کی دعائیں کی گئیں۔اس طرح کئی گھنٹے نکل گئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔ اتنے میں بابے کے منجھلے بیٹے نے باہر آکر کہا ، میاں جی روٹی تیار ہوگئی ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ دوپہر کے سورج نے عصر تک چھٹی کا گھنٹہ بجا دیا۔ چنانچہ سب اْٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو چل پڑے جبکہ الٰہ دین کا بیٹا اسے اْٹھا کر گھر میں لے گیا۔ اور چار بجے سہ پہر تک محفل برخاست ہو گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے گائوں میں نہ تو کسی کے پاس ریڈیو تھا اور نہ ہی اخبار کی آمد ، لیکن گائوں شہر کے نزدیک تھا۔ اس لیے روزانہ کوئی نہ کوئی خبر پہنچ جاتی۔ جس پراس وقت تک گفتگو چلتی جب تک اگلی خبر نہ پہنچ جاتی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان بنے ابھی بارہ تیرہ سال ہوئے تھے اورگائوں بھی شہر کے مضاف میں تھا جہاں برلہ ٹیکسٹائل مل کی وجہ سے سرخ انقلاب کی باتیں شہر کے گلی محلوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ چنانچہ بابے الٰہ دین کے مجمعے میں بھی اکثر اس کے متعلق خبریں پہنچتیں۔ جو زیادہ تر راؤ اصغرعلی ہی کی زبانی بیان ہوتیں۔ راو ٔاصغر علی کا وقت بابے الٰہ دین کے پاس آنے کا ٹھیک چار بجے سہ پہر کا ہوتا۔ اس کی ہر خبر کو اس لیے مستند سمجھا جاتا کہ ایک تو وہ پوری آٹھ جماعتیں پڑھا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس گائوں میں چینی کا ڈیپو تھا۔ اس سلسلے میں اسے اکثر شہر جانا ہوتا۔ جہاں وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کے ضرور کوئی نہ کوئی خبر لے ہی آتا اور جلدی سے بابے الٰہ دین کے گھر کا رخ کرتا۔ راؤ صاحب گڑگائوں کے رہنے وا لے تھے ، نجانے پوری برادری سے کٹ کر کیسے اس گائوں میں آ بیٹھے۔
ابھی سب لوگ اپنے موڑھوں پر دوبارہ آ کر بیٹھے ہی تھے کہ دور سے راو اصغر علی دائیں ہاتھ سے اپنی دھوتی کے پلو اڑستا ہوا آتا دکھائی دیا۔ دھوتی کیا دو گز کی لنگی تھی جو ہمیشہ گھٹنوں سے اوپر ہی اوپر رہتی ۔ پاؤں میں ٹائر کے جوتے جو دورسے ہی کھٹ کھٹ بجتے آ رہے تھے۔ پاس آکر کرتے کی آستین سمیٹی اور ایک موڈھے پر ٹک گیا ، اس کے بعد حقے کے تین چار کش لیے ،ایک بھرپور نظر ادھر اْدھر بیٹھے لوگوں پر ڈالی اور پھر بابے الٰہ دین کی طرف منہ کر کے بولا، میاں الٰہ دین! بس اب کچھ ہی دن رہ گئے گریبوں کی تقدیر بدلنے کے۔ روس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان میں لال جھنڈا اب لگا ہی دیا جائے۔ روس کے صدر نے خط لکھا ہے کہ جلدی سے گریبوں کو دن میں تین مرتبہ روٹی اور گھر دے دو ورنہ ہم چار مہینوں کے بعد خود آ کر حکومتاں کریں گے۔ بس کچھ دن اور تنگی کاٹ لو۔ پھر تو ہر شے مفت راشن میں آئے گی۔ میاں الٰہ دین ان ڈاکووں اور سرمایہ داروں سے جان چھوٹ جائے گی
راو صاحب یہ ہر روز جو آپ سرمایہ دار سرمایہ دار کرتے رہتے ہو۔آخر یہ ہے کیا بلا؟ مشتاق جلاہے نے حیرانی سے سوال کیا''میں نے بھی آخر بڑی دنیا پھری ہے ،فیروز پور ، لدھیانہ، منٹگمری ،ہر جگہ گیا ہوں اور پتن پتن کا پانی پیا ہے لیکن اس جانور کو نہیں دیکھا ۔''
اس سے پہلے کہ راو اصغر مشتاق کے اس سوال سے چکرا جاتا ، اسی لمحے مہنگا درزی غیر متوقع طور بول پڑا ،،لو جی اس کودیکھو ، مشتاق بھائی تْو بھی جلاہے کا جلاہا ہی رہا۔اب جس کو سرمایہ دار کا نہیں پتہ پھر اسے اپنے سر کا پتہ ہے۔ سر کا معنی، سر، اور مایا کا معنی پیسہ ، اور دار کھوتے کو کہتے ہیں۔ مطبل یہ کہ جس گدھے کے سر پر پیسے کی گٹھڑی ہو اسے سرمایہ دار کہتے ہیں ۔ مہنگے درزی کی اس وضاحت پر سب اسے تحسین سے دیکھنے لگے حتی کہ راؤصغر بھی اس کی اس بات پر حیران رہ گیا اور مہنگے درزی کی بھرپور تائید میں سر ہلا دیا ۔
اسماعیل بھٹی جس کے دو ہی کام تھے ، پانچ مرتبہ مسجد میں جا کر نماز پڑھنا اور دوسرا شوق سے پائے کا شوربہ پینا، اس نے راو اصغر علی کی بات سن کر پہلے سر سے پگڑی اتار کر زانو پر رکھی پھر تسلی سے شفاف ٹنڈ پر اپنی انگلیوں سے خارش کی اورپگڑی کو درست کر کے پھر سے سر پر رکھا اور بولا ''راؤ صاحب یہ ساری بات تو تیری ٹھیک ہے پر سْنا ہے یہ روس والے پکے کافر ہیں ،اگر آ گئے تو مسجدیں بند کر دیں گے،نماز پڑھنے والوں کو کوڑے ماریں گے۔ اسماعیل کی بات سن کر ایک دفعہ سب گھبرا گئے اور فکر مندی سے بابے الٰہ دین کو دیکھنے لگے ، اگرچہ الٰہ دین کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا لیکن سب جانتے تھے کہ اس کے بارے میں صحیح بات الٰہ دین ہی جانتا ہے۔چونکہ راو اصغرالٰہ دین کی اس بارے میں بے خبری کی مجبوری کو جانتا تھا چنانچہ فورا ہنستے ہوئے بولا ''لے بھائی الٰہ دین اور سن لو ( پھر اسماعیل کی طرف منہ کر کے) بھائی اسماعیل تمھیں کس نے کہہ دیا وہ کافر ہیں ؟ تم بھی کاٹھ کے اْلو رہے ،بس شورہ پی لیا اور لیٹ گئے۔او بھلے لوگا بھائی الٰہ دین سے پوچھ ، روس والے مسلمان ہیں یا کافر؟ (پھر الٰہ دین کی طرف منہ کر کے )الٰہ دینا بتا اسماعیل کو روس والے کیا ہیں؟ او بھائی ''وہ مسلمان ہیں مسلمان، گوشت کھاتے ہیں ، سر پر ٹوپیاں رکھتے ہیں اور یہ جو سرخ جھنڈا ہے یہ علم ہے علم۔امام حسین کا جھنڈا پہلے لال ہوتا تھا ، پر تجھے کیا پتا ؟ اب دوسرے لوگوں کو بھی کچھ حوصلہ ہوا اور وہ بھی اسماعیل کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے ۔ الٰہ دین جو معذوری کے سبب چارپائی پر سیدھا ہو کر نہیں بیٹھ سکتا تھا تکیے کا ہلکا سا سہارا لے کر پائیں کی جانب سرکا ، اسماعیل سمیت سارا مجمعہ بابے الٰہ دین کی بات سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو گیا۔'' سائیں لوکا''الٰہ دین حقے کی نے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا۔ مجھے یہ بتا اگر وہ مسلمان نہ ہوتے تو انہیں کیا ضرورت تھی غریبوں کو کھانا اور گھر دینے کی ، جو جو ہمارے نبی نے کہا ہے وہ پورا پورا تول کر وہی کچھ تو کر رہے ہیں ،اسی لیے تو امام حسین کا علم کا نشان لال جھنڈا ان کے پاس ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ کافر ہوتے تو ایران کا بادشاہ ان کے ساتھ کیوں صلح صفائی سے رہتا ؟
حیات دین جو ساری بات غور سے سن رہا تھا اس نے ہلکے سے خدشے کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ''پر میاں الٰہ دین پرسوں شیخ غلام کہہ رہا تھا کہ وہ شراب بھی پیتے ہیں ''۔
اس سے پہلے کہ اس کی اس بات سے لوگ دوبارہ روس سے بد ظن ہوتے، راو اصغر پھر ہنستے ہوئے بولا،،حیاتے اگرتْو سال سال بغیر نہائے اور دن رات افیم کھا کھا کر مسلمان رہ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں مسلمان رہ سکتے۔
راو اصغر کی اس پھبتی پر سب نے زور دار قہقہ لگایا اور حیا ت خاں کھسیانا سا ہو کے حقہ پینے لگا۔ اس کے بعد کافی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتیں رہیں اور پھر راو اصغر اٹھ کر چلا گیا۔ابھی وہ تھوڑی دور ہی پہنچا تھا کہ شیدا بٹیر ایک بٹیرے کو مٹھلاتے ہوئے آن بیٹھا۔اس کے ایک کندھے پر تکونی رومال تھا جسے وہ روزانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ۔اور کاندھے پر ڈال لیتا لیکن دوسرے کپڑے ہفتے بعد ہی بدلتا۔ باپ سے آٹا پیسنے کا خراس وراثت میں ملا تھا جس کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی تھی۔ پتھر کے پْڑ گھس گھس کر آدھے رہ گئے تھے اور اونٹ خوراک کی کمی کی وجہ سے اس طرح ہڈیوں کا پنجر بن گیا تھا کہ جسم کے ہر حصے پر کوہان نکل آئے تھے۔اس کا سبب یہ تھا کہ شیدے کو سوائے بٹیروں کے کسی با ت سے علاقہ نہیں تھا۔بس چلتا تو رہا سہا خراس بیچ کر اس کے بھی بٹیر خرید لیتا لیکن مصیبت یہ تھی کہ ایک تو چھوٹا بھائی اس میں رکاوٹ تھا دوسرا یہ کہ اب اس کا کوئی خریدنے والا نہیں تھا ۔ چھوٹا بھائی شریف آدمی تھا ورنہ یہ خراس بھی کب کا اْجڑ چکا ہو تا اور شیدا برسوں پہلے تھڑے پر آ جاتا۔ یوں تو بابے الٰہ دین کے پاس آ کر بیٹھنے والا ہر شخص اپنی ذات میں عجوبہ تھا لیکن شیدے بٹیر کی بات ہی کچھ اور تھی۔اسے دیکھ کر ہر شخص چہک اٹھتا اور ایک دوسرے کی طرف سے خوب چٹکلے چھوڑے جاتے۔ شیدا بٹیر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ اتنے میں چراغ ارائیں آ گیا۔چونکہ دونوں کی خوب لگتی تھی اس لیے محفل خوب گرم ہو جاتی۔ بابے الٰہ دین نے شیدے سے اس کے بٹیرے کا حال احوال پوچھا اور ابھی وہ جواب دینے ہی لگا تھا کہ چراغ بول پڑا ،الٰہ دین بٹیرے کا حال کیا ہو گا۔اس بچارے کی جان تو اس کے ہاتھوں کی بد بْو سے ہی قبض ہوئی رہتی ہے۔''
چراغ کی پھبتی پر الٰہ دین سمیت وہاں بیٹھے ہوئے سب ہنس پڑے لیکن شیدے بٹیر نے فوراً ہی ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ چراغ ارائیں کی بولتی بند ہو گئی ،بولا''دیکھ الٰہ دین اس تھوم خور کو سمجھا، جس کی بیوی صرف اس لیے طلاق لے گئی کہ یہ رات کو پا دیں مارمار کر اس کو ہیضہ کر دیتا اوربچاری کو ساری رات سونے نہیں دیتا تھا۔اسی لیے اس کی بیماری نہیں جاتی تھی۔ شوہدی سارا دن حواس باختہ باولی باولی پھرتی رہتی ۔ آخراْس نے سوچا ،جان ہے تو خاوند بہت لہٰذا چھوڑ کر چلی گئی مگر اس ڈھیٹ کو ابھی تک شرم نہ آئی۔اسی بٹیرے کی قسم ،میں ہوتا تو وہیں نیلا تھوتھا کھا کے مر جاتا مگر میں بھی کس کو کہہ رہا ہوں ؟ یہ باتیں تو غیرت مندوں کے لیے ہیں ۔
شیدے کے جوابی حملے پر سب کی طرف سے زور دار قہقہہ لگا اور چراغ ارائیں بچارا بجھ سا گیا۔ بہرحال حقے کے ساتھ باتوں اور قصہ گوئی کے پرے جمے ہوئے تھے۔ انہی قصوں ، آپ بیتیوں اور جگ بیتیوں میں کبھی کبھی بابو رجب علی کی شاعری چل پڑتی جس پر خاص کر مشتاق جلاہا جھوم جھوم کر واہ وا کرتا۔شام چھ بجے چونکہ لوگ اپنے کام کاج نپٹا کر فارغ ہو جاتے تھے اس لیے پورے دن کے معمول سے آٹھ دس لوگ اور بڑھ جاتے اور یہی وقت بابو رجب علی کی شاعری کا ہوتا۔ بابو رجب علی کا دادا پہلے پہل مسلمان ہوا تھا اس لیے لہجہ ابھی تک خالص سکھ تھا جس میں رجب علی کمشری پڑھتے ہوئے لہریں لیتا نظر آتا۔ اسے سننے کے لیے دوسرے راہگیر بھی رک جاتے ۔ اس کے ساتھ ہی شریف کھوکھر ،مستا بھٹی ،اسماعیل بھٹی ،شیدا بٹیر ،طفیل باجوہ ،جمال بھٹی اور دوسرے دو چار آدمی بھی خوب داد دیتے۔ بابو رجب علی ساٹھ کے پیٹے میں تھا اور مشرقی پنجاب میں اس کی شاعری کی شہرت گھر گھر تھی۔ فیروز پور کی ایک بستی کالا ٹبہ سے اٹھ کر اس گائوں میں چلا آ یا ۔اب چونکہ یہاں کوئی سننے والا نہیں تھا اس لیے یہی چارپائی ان کو غنیمت تھی۔آج ہی کوئی نئی چیز لکھی تھی ،بھاگے ہوئے چلے آئے اوربیٹھتے ہی حقے کے دو چار گھونٹ لیے ، جیب سے رومال نکال کرماتھے کا پسینہ پونچھا ،پھر رومال کو تہہ کر کے جیب میں رکھا اور دوسری جیب سے گورمکھی میں لکھا ہوا کاغذ نکال کر تھوڑا سا ادھر ادھر بیٹھے ہووں پر نظر ماری اور بولا ، لو مترو سنو، بالکل سجری کویتا لکھی آ، سن کے جی ٹھر جاوْ گا۔ تب الٰہ دین سمیت سب ہمہ تن گوش ہو گئے اور انہوں نے قصہ شاہ داؤد سنانا شروع کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میاں جی کو چارپائی پر پچیس سال ہو گئے تھے۔اس عرصے میں ان کے ساتھ والے کئی پنچھی ایک ایک کر کے اْڑ گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ، وہ منگل وار آٹھ جولائی کا دن تھا۔ گرمی سے زمین کا سینہ تپ کر ایسا جیسے آگ پر تانبا چڑھا ہو اور سورج کی شعاعیں آدمی تو کیا پانی کا کلیجہ چیر رہی تھیں۔۔ میاں جی کی چارپائی معمول کے مطابق میں خود پیڑوں کی چھاؤں میں رکھ کر اور موڑھے بچھا کر کام پر چلا گیا۔ اس دن مجھے رینالہ جانا تھا اور نذیر ہمیشہ کی طرح آج بھی گھر پر نہیں تھا جبکہ اماں رفیق کے ساتھ اس کے سسرال گئی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ میں دوپہر تک لوٹ آوں گا مگر لیٹ ہو گیا۔ میاں جی کی مجھے فکر تو کافی تھی لیکن ترد ّد اس لیے زیادہ نہیں تھا کہ آس پاس بیٹھنے والے اس کی خبر رکھیں گے۔ لیکن میں جو تین بجے سہ پہر وہاں پہنچا توکلیجہ دہل کر رک گیااورجگرجل کر بھن گیا۔ کیا دیکھتا ہوں، میاں جی اکیلے چارپائی پر بیٹھے ہیں۔ کوئی آدم زاد وہاں موجود نہیں اوروہ چارپائی پر بیٹھے دھوپ کی کڑاہی میں جل رہے ہیں۔ دھوپ ایسی کہ خدا بھی اس سے پناہ مانگے۔ جولائی کی اس سخت دھوپ میں معذور اور اْٹھنے سے لاچار میاں جی اپنے پسینے کے پانی میں بار بار بھیگ رہے تھے اور بار بار سورج کی آگ اس پانی کوبھاپ بنا کر اْڑا رہی تھی۔
کیا بتاوں ، اس دن تیرے دادا کو یوں دھوپ کے آگے لاچار دیکھ کر میری کیا حالت ہوئی۔ دل دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ جی چاہا سڑک پر ٹکریں ماروں۔ اور ایسا پاگل پن چھایا کہ سڑک پر کھڑے ہو کر گائوں والوں کو بیہودہ گالیاں بکنے لگا کہ کیا میاںجی دھوپ میں بیٹھے ہوئے کسی کو نظرنہ آئے؟حرامزادے دیکھ کر گزرتے رہے اور کسی نے چار پائی اْٹھا کر سائے میں نہیں کی۔ اسی غصے اور باولے پن میں کئی گالیاں میاں جی کو بھی دے گیا کہ اس نے کسی راہگیر کو کیوں نہیں کہا کہ چارپائی اٹھا کر سائے میں کر دے۔ میاں جی سر نیچا کیے مسلسل چپ بیٹھے میری بلند بانگ گالیاں سنتے رہے اور کچھ منہ سے نہ بولے۔ خیر اسی غصے میں میں نے ان کو اْٹھا یا اور گھر کی طرف لے کر بھاگا۔ انہیں اٹھاتے ہی ایسے لگا جیسے میں نے آگ کے کوئلے پکڑ لیے ہوں ۔ جسم اس قدر گرم تھا۔ جلدی سے لے جا کر نلکے کے نیچے بٹھایا اور ٹھنڈا پانی اوپر پھینکنے لگا۔ بس پانی پھینکتا جاتا تھا اور لوگوں کو گالیاں دیتا جاتا تھا۔اس بے انتہاغصے کے عالم میں میرے منہ سے جھاگ بہ رہی تھی۔ میں سچ بتاوں اگر تب کوئی گھر کا فرد گھر میں ہوتا،اور میاں جی کے ساتھ ایسا واقعہ ہو جاتا تو میں اسے مار مار کر ادھ موا کر دیتا۔ لیکن اب تو گھر میں نہ ہونے کی وجہ سے جتنا گھر والے قصور وار تھے اتنا ہی میں بھی تھا۔اسی وجہ سے آج زندگی میں پہلی دفعہ میں نے میاں جی کے سامنے نہ صرف دلیری سے لوگوں کو گالیں دیں بلکہ خود میاں جی پر بھی برس گیا تھا۔اور وہ خلاف توقع چپ سنتے رہے۔ نہلانے کے بعد میں نے انہیں گھر میں موجود شہتوت کے نیچے بٹھا یا اور پھر بڑی دیر تک دستی پنکھا جھلتا رہا۔ ساتھ ساتھ بڑبڑاتا بھی رہا۔ اس کے بعد مٹی کی کوری چاٹی سے پیتل کے دو گلاس ٹھنڈی لسی کے بھر کر پلائے۔ اور کھانا کھلایا۔اس سارے عرصے میں وہ بالکل بھی نہیں بولے۔ اتنے میں پانچ بج گئے اور اماں بھی آ گئی۔ میں اس قدر شرمندہ تھا کہ اماں سے آنکھیں نہیں ملا رہا تھا۔ اماں جو سارا دن میاں جی کی پل پل خبر رکھتی ،آج ہی گھر نہ تھی تو اس کہ یہ حالت ہو گئی۔ خیر اس کے آنے کے بعد میں خاموشی سے گھر سے با ہر نکل گیا۔ لہٰذا اماں جی کو کچھ پتہ نہ چلا کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ دوسرے دن میں صبح اذان کے وقت اْٹھا تا کہ میاں جی کا حقہ تازہ کر دوں کیونکہ صبح کاذب کے حقہ تازہ کرنے کا کام برسوں سے میرے ہی ذمے تھا۔ جب میں نے حقے پر چلم رکھ کران کی چار پائی کے پاس رکھی تو انہوں نے مجھے کہا،، پتر بشیر ایک منٹ یہاں بیٹھو۔ اب چونکہ میرا کل والا جوش ٹھنڈا ہو چکا تھا اور پورے حواس میں تھا اس لیے ڈرنے لگا کہ اب میاں جی پتا نہیں کیا کہیں گے۔ خیر ڈرتے ڈرتے ادوائن کی طرف بیٹھ گیا۔ اب وہ آہستہ سے بولے ، بیٹا مجھے ایک بات بتا تم لوگوں نے میری کتنے سال خدمت کی ہے؟
میں چپ رہا اور کچھ جواب نہ دیا حتیٰ کہ آنکھیں بھی نیچے کیے رکھیں ۔آخر کچھ لمحوں کے بعد وہ خود ہی بولے ''دیکھ پتر آج اس چار پائی پر مجھے پچیس سال ہو گئے ،اس سارے عرصے میں تم نے اور تمھاری ماں اور بھائیوں نے میری خدمت کا حق ادا کر دیا۔جس کا اجر خدا ہی کے پاس ہے۔ لیکن دنیا کانچ کے پیڑ کی طرح ہے جس کا نہ تو سایہ ہے اور نہ ہی اس کا پھل ہضم ہوتا ہے۔ اب اگر کل میں کسی پاس بیٹھنے والے یا راہگیر کو کہہ دیتا کہ میری چارپائی چھاؤں میں کر دے۔ وہ چارپائی تو چھاؤں میں کر دیتا لیکن اس کے ساتھ ہی سارے گائوں میں کہتا پھرتا '' دیکھو بھائی کیا خون سفید ہو گیا ہے ،الٰہ دین کے پانچ بیٹے ہیں لیکن وہ بچارا دھوپ میں لاچار پڑاجل رہا تھا،کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔میں نے اس کی چارپائی اٹھا کر سائے میں کی اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ بس خدا کسی کو نافرمان اولاد نہ دے اور معذور ہونے سے پہلے ہی اْٹھا لے۔
پتر مجھے بتا، پھر تمھاری ساری عمر کی خدمت اور میری عزت بازاروں میں کس بھاؤ بکتی اور پاس آ کر بیٹھنے والوں کے آگے میرا کیا وقار رہتا۔؟لیکن کل میں اس لیے چپ رہا کہ غصے میں آدمی کا دماغ کسی بات کو نہیں مانتا۔
میاں جی کی اس بات میں ایسی شفقت اور محبت تھی کہ میرے آنسو نکل آے اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔اسی حالت میں انہوں نے میرا سر اپنی گود میں رکھ لیا جس میں پوری کا ئنات کا پیار بھرا تھا۔
اس کے بعد میرے والد نے دادا کی قبر کی مٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولے'' بس بیٹا اس واقعے کے چوتھے دن ہی تیرے دادا کی چارپائی اْٹھ کر اس قبرستان میں آ گئی لیکن یاد رکھنا اس قبر میں تیرے داد کی چارپائی دفن نہیں ہوئی بلکہ ایک پوری تہذیب دفن ہوگئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے میرا بازو پکڑا اور قبر کے پہلو سے اْٹھ کھڑے ہوئے پھر میرا سہارا لے کر چلنے لگے۔ اسی لمحے میں نے محسوس کیا کہ میرے والد صاحب کے ساتھ بھی ایک تہذیب وابستہ ہے۔اوراب وہ بھی کافی بوڑھے ہو گئے ہیں۔٭٭٭