ڈاکٹر منور ہاشمی

اردو کی تعلیم کیوں؟

میرے خیال میں تدریسِ اردو کے مسائل پر بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ تدریسِ اردو کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ میں نے اعلیٰ ثانوی درجے کے طلبہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب ہمیں انجنیئر یا ڈاکٹر بننا ہے تو پھر اردو کی تدریس میں کیوں الجھایا جا رہا ہے۔ گویا ثانوی درجہ پاس کرنے کے بعد اردو کو بحیثیت مضمون بوجھ سمجھا جاتا ہے ۔اس کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مگر سب سے بڑی وجہ شاید یہی ہے کہ انجینئرنگ یا ڈاکٹری کی پیشہ ورانہ تعلیم میں زبان مددگار ثابت نہیں ہوتی ۔ ان دونوں یا اس طرح کے دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں صرف انگریزی زبان ہی عمل دخل رکھتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں پیشہ ورانہ تعلیم کا نصاب ان کی اپنی زبانوں میں موجود ہوتا ہے۔ سالہا سال کی محنت سے ان ملکوں کے مختلف ادارے نصابی کتب کو دوسری زبانوں سے اپنی زبان میں منتقل کر کے اپنی زبان کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرواتے ہیں۔ ایسے ادارے ہمارے ملک میں بھی موجود ہیں اور اس نوع کے کام میں مصروف بھی ہیں مگر عملاً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو زبان کو انگریزی کی جگہ لانے میں ان کا کردار اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا ۔یہ ادارے اپنی جگہ پر سفارشات بھی پیش کرتے ہیںمگر ملک کے مقتدر ادارے ان سفارشات کو کسی سطح پر نافذ کرنے کے قابل نہیں سمجھتے اور نہ ہی اردو کے لیے کام کرنے والے اداروں کو مضبوط اور مستحکم ہونے دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں بھی اردو کوثانوی حیثیت میں پسماندگی کا شکار دیکھتے ہیں۔ اعلیٰ ثانوی درجوں میں صرف ایسے طلبہ ہی اردو پڑھنا پسند کرتے ہیں جو اپنے گھریلو ماحول کی وجہ سے اس میں دلچسپی پیدا کر چکے ہوتے ہیںیا ثانوی اور ابتدائی درجوں میں بعض مخلص اور قومی درد رکھنے والے اساتذہ کی شخصیت اور کردار سے متاثر ہو کر اردو پڑھنے کا شوق پیدا کر چکے ہوتے ہیں باقی طلبہ محض اس لیے اردو پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے تمام مضمونوں میں مجموعی طور پر زیادہ نمبر حاصل کر کے پیشہ ورانہ کالجوں میں داخلے کے لیے میرٹ بنانا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہو ں کہ یہ صورت ِ حال ہماری قومی زبان کے ساتھ ایک طرح کے ظلم کے مترادف ہے۔ اور اس ظلم میں حکمران طبقوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ ابتدائی اور ثانوی درجوں میں اردو کی تدریس لازمی قرار پاتی ہے ، مگر اس کے معلوم مقاصد صرف یہ چار ہیں۔
۱۔ اردو بولنا
۲۔ اردو پڑھنا
۳۔ اردو لکھنا
۴۔ اردو سمجھنا
ان چار مقاصد کے حصول کے لیے ایک بچہ جماعت اول سے جماعت دہم تک تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔ گویا دس سال میں وہ اردو بولنے، پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کے قابل ہوتا ہے اور پھر اسے کافی سمجھتے ہوئے اعلیٰ ثانوی درجوں میں وہ اردو کی تعلیم سے گریزاں نظر آتا ہے۔ اور انگریزی کو اپنی قومی زبان پر ترجیح اور فوقیت دینے پر مجبور ہوتا ہے، قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم اردو ہوتو پھر صورتِ حال یکسر بدل جائے طالبِ علم جوں جوں آگے پڑھے گا اردو میں اس کی دلچسپی بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ ابتدائی درجوں سے زیادہ ثانوی درجوں میں اورثانوی سے زیادہ اعلیٰ درجوں میں طلبہ اردو کی تعلیم کو زیادہ ضروری سمجھنے لگیں گے۔ گویا اردو کی تدریس میں درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے جس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اردو کی تدریس میں دوسرا بڑا مسئلہ ہمارا نظامِ تعلیم ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ
میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
اس کی بنیاد ہی ہمارے قومی نظریات سے متصادم ہے اس کے حوالے سے حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اس نظامِ تعلیم نے طبقاتی کشمکش کو جنم دینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کو وجود میں آئے ۶۵ برس ہو چکے ہیں مگر ہم اب تک اس خرابی کی صورت کو رفع نہیں کر سکے اور دین و مروت کے خلاف سازش کو بظاہر سمجھنے کے باوجود ختم نہیں کر پائے۔ طبقاتی نظام کے باعث اردو کی تدریس و تعلیم صرف ایک طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ طبقہ وسیع ہونے کے باوجود کمزور اور بے اختیار ہے جو اس نظامِ تعلیم کے شکنجے سے نکلنے کی خواہش رکھنے کے باوجود بے بس اور مجبور ہے۔ ہم نے اب تک جتنے بھی تجربات کیے ہیں اس نظام کے اندر رہتے ہوئے کیے ہیں۔ نصابِ تعلیم کئی مرتبہ تبدیل ہوا ہے مگر تبدیلیاں ایک خاص طرح کے خاص دائرے سے باہر نہیں ہوتیں اور ان تبدیلیوں کے لیے صرف اسی نصابِ تعلیم کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ایک کمزور اور بے اختیار طبقے کے لیے رائج ہے۔ ملک کا طاقتور طبقہ اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے غیر ملکی آقائوں کی زبان اور افکار پر مبنی نصابِ تعلیم رائج کر کے حکمرانہ ذہنیت پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اس طرح ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو آزاد ہونے والے ملک کے اندر ہی غلامی اور آزادی کے واضح تصورات پروان چڑھ رہے ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کا تصور عالمِ اسلام کے مفکرِ اعظم نے پیش کیا تھا اور جس کے قیام کا محرک دو قومی نظریہ تھا۔ اگر ہم نظریہ پاکستان کے تشکیلی عناصر پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ نظریہ دو اجزاء کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے ایک ہمارا دینِ اسلام اور دوسرا ہماری زبان اردو۔۔۔۔ اگر دونوں میں سے ایک کو اس نظریے سے خارج کر دیا جائے تو اس کی عمارت منہدم ہو جائے گی۔ لہٰذا ہمیں ان دونوں عناصر کا تحفظ کرنا ہو گا۔
اور یہ تحفظ ایک نئے انداز کے نصابِ تعلیم کو مرتب کیے بغیر ممکن نہیں ایک ایسا نصابِ تعلیم جس میں اردو بولنے، پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کو نظریہ کی تفہیم و تحفظ کا ذریعہ بنایا گیا ہو۔ ابتدائی درجوں میں جب ایک بچہ الف ب سے آگے بڑھے گا تو اس کے دینی اور حب الوطنی کے تصورات بھی اس کی ذہنی استعداد کے ساتھ ساتھ آگے بڑھیں گے۔ الف سے اللہ کہنے والے چار پانچ سال کے بچے کو یہ معلوم ہو جائے گاکہ اس کا کوئی خالق ہے جس کی پوری کائنات پر حکومت ہے۔ یہ پہلا سبق اگر اس کی سمجھ میں آ گیا تو اپنے دین سے دور نہیں جا سکے گا۔ چھوٹے بچے کو ابتداء ہی سے اردو کی اہمیت سے آشنا کیا جائے اور غیر محسوس طریقے سے یہ باور کرایا جائے کہ اردو سے محبت اصل میں وطن سے محبت ہے۔ نصابی کتب کی تیاری کے وقت یہ خیال رکھا جائے کہ اسے کس سطح کے بچوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت عام تعلیمی اداروں میں اردو اعلیٰ ثانوی درجوں تک ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے۔ اگر اس مضمون کی نصابی کتابوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا یہ کتب انتہا ئی عجلت میں بغیر سوچے سمجھے مرتب کی گئی ہیں۔ کسی ایک کتاب کے مکمل مطالعے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آخر ساری کتاب پڑھانے کا مقصد کیا ہے۔ جماعت نہم کے لیے اردو کی ترتیب دی ہوئی کتاب پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا کہ ۱۴/۱۳سال کے بچے کو ایک استاد کس طرح بتائے گا کہ غزل کیا ہوتی ہے۔ غزل کے لفظی معنی اور اس کے مضامین کی وسعت کوکیسے سمجھا سکے گا۔ جب کہ یہی بات ایم اے کی سطح پر پڑھانے والا ایک استاد بھی کما حقہ نہیں سمجھا پاتا۔ اس کتاب میں بہت سے مقامات ِ آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ کتاب کا آغاز سرورِ کائنات ﷺ کی سیرت کے حوالے سے ایک مضمون سے ہوتا ہے۔ اس مضمون سے کچھ فاصلے پر مرزا کے عادات و خصائل کے عنوان سے مولانا حالی کی تحریر ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غالب رمضان المبارک میں ایک روزہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ اس مقام پر نویں جماعت کا ایک معصوم طالب علم یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا مرزا غالب مسلمان نہیں تھے؟ استاد اس سوال کا جو جواب بھی دے بچہ اس سے مطمئن نہیں ہوتا۔ اسی طرح کے تضادات اور الجھنیں اس وقت رائج تمام نصابی کتابوں میں ملتی ہیں۔ اعلیٰ ثانوی درجوں کے لیے نیشنل بک فائونڈیشن کی تیار کی ہوئی کتاب سرمایہ ِ اردو کا حال یہ ہے کہ ہر صفحے پر املا کی اور کمپوزنگ کی غلطیاں ہیںاور کتاب میں ایسے اسباق شامل ہیں جن کی وجہ سے واقعی ایک سائنس کا طالب علم اردو کو اپنے لیے بارِ گراں سمجھنے لگتا ہے۔ ایک نجی ادارے کی شائع کردہ آٹھویں جماعت کے لیے اردو کی کتاب اگرچہ اس لحاظ سے قابل ِ تحسین کوشش ہے کہ وہ ایک نظریاتی ملک کی کتاب محسوس ہوتی ہے مگر اس کے مضامین ِ نظم و نثر آٹھویں جماعت کے طلبہ کی ذہنی استعداد سے کہیں زیادہ بوجھل ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں میر انیس کی رباعیات بھی شامل ہیں۔ ایسی نظمیں شامل ہیں جو ایک عام قسم کا شاعر بھی صحت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔ بہت زیادہ مشکل الفاظ اور تراکیب کی وجہ سے اس کتاب کے مضامین نظم و نثر بچوں کی ذہنی استعداد سے مطابقت نہیں رکھتے۔
میری ان گزارشات کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو بچہ سمجھا جائے اور اس کی ذہنی استعدادکا خیال رکھتے ہوئے اس کے لیے نصاب مرتب کیا جائے ورنہ وہ اسے بوجھ سمجھتے ہوئے راہِ فرار اختیار کرے گا۔ نصابی کتابوں میں تحریک ِ پاکستان سے متعلق تو اکا دکا مضامین نظر آ جاتے ہیں مگر تاریخ ِ پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ مثلاً ۱۹۷۱ء میں پاکستانی قوم ایک ایسے سانحے کا شکار ہوئی جو پوری دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ عبرت ناک تھا۔ اس سانحے اور اس کے اسباب کا کسی درسی کتاب میں ذکر نہیں ملتا۔ اس طرح ہمارے آبائو اجداد کے درخشاں کارناموں کو بھی بہت کم جگہ دی گئی ہے۔ اس طرح قومی زبان کی تدریس و تعلیم کو غیر ضروری اور مشکل بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔ بلا شبہ ہماری درسی کتب طلبہ میں اردو کی تعلیم کا شوق پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔
اس طرح ہمارے اساتذہ کے رویوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی اس کارِ خیر میں شریک نظر آتے ہیں۔ طلبہ کے لیے اپنے استاد کی شخصیت ایک نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ وہ غیر معیاری اداروں کی شائع کی ہوئی غیر معیاری گائیڈز کا خود بھی مطالعہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی مشورہ دیتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے لیے بظاہر آسانی پیدا کر لیتے ہیں مگر ان کے اس عمل سے طلبہ میں اپنی قومی زبان سے محبت کے جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔ وہ ایک بے گار سمجھ کر محض امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے حسبِ ضرورت اردو پڑھتے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کا سبب تدریسِ اردو کے مقاصد کا غیر واضح ہونا اور قومی تقاضوں سے ان کی عدم ہم آہنگی ہے۔ میں آخر میں یہ گزارش اور سفارش کروں گا کہ نئی نسل کو اردو پڑھانے کے مقاصد کو قومی تقاضوں کے مطابق از سرِ نومتعین کیا جائے۔ اس سلسلے میںمحترم ڈاکٹر فرمان فتح پوری سے اتفاق کرتے ہوئے تدریسِ اردو کے مقاصد کے چیدہ چیدہ نکات پیش کرتا ہوں۔
۱۔ طلبہ کو اردو بولنا، پڑھنا اور لکھنا سکھانا۔
۲۔ اردو کے ذریعے ان میں صحیح اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کرنا۔
۳۔ اظہارِ خیال کے ذریعے بچوں کی نفسیاتی تسکین اور طمانیت کا سامان فراہم کرنا۔
۴۔ اظہارِ خیال پر قابوپانے کے لیے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنا۔
۵۔ غور و فکر اور مشاہدہ ومطالعہ کا شوق پیدا کرنا۔
۶۔ اردو زبان و ادب کی قدرو منزلت کا احساس پیدا کرنا۔
۷۔ طلبہ کے اندر چھپی ہوئی تخیلی، تخلیقی اور استحسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا۔
۸۔ پاکستانیت، آزادی اور سا لمیت کا تحفظ کرنا۔
۹۔ پاکستانیوں کو باہم تبادلہ خیال کے لیے مشترکہ ذریعہ مہیا کرنا۔
۱۰۔ مشترکہ ذریعہ اظہار کے توسط سے سیاسی و قومی یکجہتی پیدا کرنا۔
۱۱۔ عام معاشرتی زندگی میں سہولتیں پیدا کر کے کامیاب زندگی گزارنے کارستہ دکھانا۔
۱۲۔ ہم زبانی و ہم خیالی کے ذریعے پاکستانی قومی کردار کی تشکیل کرنا۔
۱۳۔ اساسی قدروں اور روایات کو محفوظ رکھنا اور فروغ دینا۔
۱۴۔دینی علوم کی ترقی و اشاعت میں آسانی پیدا کرنا۔
۱۵۔ موجودہ علمی ، ادبی تخلیقی و تحقیقی سرمائے کو محفوظ رکھنا اور اس میں روز بروز اضافہ کرنا۔
۱۶۔ زبان و خیال میں ہم آہنگی پیدا کر کے حصولِ تعلیم کو آسان بنانا۔
۱۷۔بلند پایہ مفکر، ادیب، شاعر، سائنسدان، ڈاکٹر ، انجینئیر، ریاضی دان اور ماہرین پیدا کرنا۔
۱۸۔ اپنی چیزوں کی اہمیت کا احساس دلا کر ذہنی غلامی سے نجات دلانا۔
۱۹۔ وطن ، قوم اور مذہب کی اہمیت کا احساس دلانا اور ان کی خاطر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنا۔
۲۰۔ ملک و قوم کو روحانی اور مادی ترقی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مہذب اور شائستہ بنانا۔
ایک نظریاتی ملک میں یہی تدریسِ اردو کے مقاصد ہیںاور یہی ہمارے قومی تقاضے ہیں۔ بہر حا ل میں جو مزید کہنا چاہتا ہوں علامہ اقبال کے ان اشعار کے ذریعے عرض کرتا ہوں۔
زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے، علم ہے سوزِ دماغ
علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ
اہلِ دانش عام ہیں کم یاب ہیں اہلِ نظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ
٭٭٭٭