کتاب میلہ

روحی فدایا محمدؐ از: کملی جوہر آبادی
مبصر: احمد
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے
حق کی شان کون بیان کر سکتا ہے۔ حق کی شان حق ہی بیان کر سکتا ہے۔ چند احباب کے دل میں آرزو اور خیالات کی ہم آہنگی کسی نہ کسی صورت میں یا کلام کی صورت میں دلوں کو سکون اور یاد سے وابستہ کر دیتی ہے۔
وجہ ربی کو قیام ہے صورت ایک ہی ہے نام جو بھی ہو۔ ہر زمانے میں نورِ ازلی سینہ بہ سینہ پاک ہستیوں کے ذریعہ زمانہ بہ زمانہ جلوہ فشاں ہوتا رہاہے۔ کہیں اویسی نسبت ہے اور کہیں چشتی اور کہیں قلندرانہ اظہار ہے۔
حضرت بابا تاج الدین ناگپوریؒ کے جلال کاکون اندازہ لگا سکتا ہے۔ حضرت بابا قادر اولیاؒ کے جمال کے سامنے کیسی شفیق القلبی۔ حضرت قبلہ عبیداللہ خان درانی کی ملیح روشنی کے سامنے چاند کیا حقیقت رکھتا ہے۔
یہ ایک صدی پر محیط زمانہ ہے جس کے متعلق وہی کچھ بتا سکتا ہے جس پر حق کی تجلی کم سے کم ایک مرتبہ ضرور ہوئی ہو اور وہ کسی کے کرم سے ہوش بھی برقرار رکھ پایا ہو۔
کہتے ہیں کہ صاحب وقت کا جہاں سے گزر ہو جائے وہاں بزرگان دین کی ارواح آتی جاتی ہیں اور برکات جاری و ساری رہتی ہیں۔ کملی جوہر آبادی کے کلام کا پہلا دفتر ایسی ہی تجلیات کی غمازی کرتاہے۔ اس کتاب کو خلوص دل سے ہاتھ میں لیجیے اور عقیدت سے پڑھیے۔ انشاء اللہ دل کی کلی کھلے گی، بلاشبہ یہ کلام زمانہ حال کے بزرگان دین کی توجہ و برکات سے ظہور پذیر ہوا۔
ملنے کا پتا: ۸۱۔اے، نیو سیٹلائٹ ٹائون، جوہر آباد، خوشاب(پنجاب)
اُردو غزل کا فلسفیانہ پس منظر از: بشریٰ شیریں
مبصر: تبسم کاشمیری
۲۰۰۸ء میں ''بشریٰ'' یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ایم فل اردو کے لیے تحقیقی مقالہ لکھنے کی تیاری کر رہی تھی۔ وہ فلسفہ کی سکالر تھی اور اب ادبیات کا مطالعہ کر رہی تھی۔ اسی مناسبت سے اس کا موضوع ''اردو غزل کا فلسفیانہ پس منظر'' تجویز کیا گیا تھا۔ اس موضوع کو تجویز کرتے وقت یہ بات پیش نظر تھی کہ اردو غزل پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے مگر ایک جہت ایسی بھی ہے کہ جس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے اور وہ ہے اردو غزل میں فلسفیانہ افکار۔
اور اب یہی مقالہ نظرثانی کے بعد شائع ہو رہا ہے۔ بشریٰ شیریں نے عرق ریزی سے غزل کے فلسفیانہ عناصر کی روح کو پیش کرتے ہوئے اسلامی تصوف کی تاریخ کو بھی پیش کیا ہے اور بعد ازاں ان ہی مطالب اور افکار کے پس منظر میں فارسی غزل کی صوفیانہ روایت بیان کر کے دکن اور شمالی ہند کی غزل میں فلسفیانہ اور صوفیانہ عناصر پر تحقیق کی ہے اور یہ سلسلہ اقبال تک قائم کیا گیا ہے۔
مقالہ نگار نے اپنے کام میں بہت سے مسائل پر غور و فکر کیا ہے۔ انسا ن کیا ہے، کائنات میں انسان کا منصب ، کائنات سے اس کا تعلق، حقیقتِ اولیٰ کا ادراک ، وجود، عدم، ثبات و تغیر ، ہستی و نیستی ، اخلاقیات اور فنا و بقا۔ یہ وہ مسائل ہیں جو اردو غزل کی فلسفیانہ روایت کاحصہ رہے ہیں۔ بشریٰ شیریں نے اردو غزل میں ان مسائل کی فلسفیانہ تعبیر کی ہے اور غزل کے شعری تجربات میں ان کو تلاش کر کے پیش کیا ہے۔ اس طرح سے یہ کتاب اردو ادب کے سکالرز کے لیے غور و فکر کے بہت سے نئے گوشے فراہم کرتی ہے۔ کتاب دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔ توقع ہے اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے بہت مفید ثابت ہو گی۔
صفحات: ۱۷۴ قیمت: =/۳۵۰ روپے
ناشر: دی رائٹرز، لاہور
tw.pub11@gmail.com
نیا سورج نکلتاہے از: از منظور ثاقب
مبصر: ڈاکٹر سعید اقبال سعدی
شعر گوئی ایک تخلیقی عمل ہے اور ہر تخلیقی عمل سے گزرتے ہوئے تخلیق کار کو تکلیف اور درد سے گزرنا پڑتا ہے خواہ یہ تکلیف اور درد قلبی ہو، ذہنی ہو یا جسمانی ہو مگر جب وہ کوئی چیز تخلیق کر لیتا ہے تو پھر اسے راحت کا جو احساس ہوتا ہے وہ تخلیق کار کی ذہنی آسودگی اور خوشی کے لیے لازوال لمحہ ہوتا ہے اور اس خوشی اور آسودگی کا احساس شاعر کو اشعار کی تخلیق پر مجبور کرتا رہتا ہے ۔ منظور ثاقب بھی ایک ایسے ہی تخلیق کار ہیں جو تمام عمر درس و تدریس کے ذمہ دارانہ فرائض انجام دیتے رہے اور طلبہ کو پڑھا کر ذہنی اطمینان حاصل کرتے رہے مگر اپنے قلبی سکون اور ذہنی آسودگی کے لیے شاعری بھی تخلیق کرتے رہے کہ یہ شوق شعرگوئی ان کی فطرت میں شامل ہے اور وہ شاعری کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ وہ کہتے ہیں:
مرا کاغذ مرا مصلّٰی ہے
فکر کی اس جگہ امامت ہے
حرف ہوتے ہیں سجدہ ریز یہاں
یہ میری شاعری عبادت ہے
مجھے ان کا دوسرا مجموعۂ کلام'' نیا سورج نکلتا ہے'' پڑھ کر احساس ہوا کہ انھوں نے واقعی ایک نیا میرمنور تخلیق کیا ہے جو ان کے من میں روشنی بکھیرتا ہے اور ان کی زندگی کے تاریک گوشوں کو منور کرتاہے۔ وہ ڈگر سے ہٹ کر شعر کہنے والے شاعر ہیں۔ انھوں نے اپنی غزلوں اور نظموں میں روایت سے رشتہ قائم نہیں رکھا بلکہ جدید دور میں جدت کے ساتھ رابطہ استوار کیا ہے اور آج کے دور کی ضرورت کے مطابق آج کل کے دور کے اشعار لکھے ہیں۔ ایسی شاعری کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایسی غزلوں اور نظموں کی تخلیق کے لیے بڑی ریاضت اور بہت محنت اور ذہنی مشقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ منظور ثاقب جب اشعار تخلیق کرتے ہیں تو اپنی ذہنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں اور اپنے شعروادب کے کینوس کو پھیلا کر آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق متنوع موضوعات کو اپنی سوچ کا محور بناتے ہیں۔ وہ کسی پچھلے زمانے اور دور کے نہیں آج کے دور کے موضوعات کو اپنی سوچ کی گرفت میں لا کر اشعار تخلیق کرتے ہیں۔ وہ اپنے بے مثال تصورات، تازہ تخلیقات، زندگی بھر کے مشاہدات کو بروئے کار لا کر شاعری کرتے ہیں اور اپنے اشعار کو اپنے فکروخیال کی تہہ در تہہ پرتوں سے گزار کر تخلیق کرتے ہیں اور جب کوئی شاعر اتنی ریاضت اور محنت سے اپنے عہد اور دور کی شاعری کرتا ہے تو وہ بلاشبہ اپنے عہد کا ایک منفرداور اہم شاعر کہلانے کا مستحق ہے اور جناب منظور ثاقب کی نظمیں اور غزلیں اس بات کی گواہ ہیں:
ڈر ایسے شخص کے رد عمل سے تو، جس کے
نہ کوئی پیٹ میں لقمہ نہ گھر دیئے کی لو

پھر لگاتا ہے کوئی دوسرا قیمت میری
بچ نکلتا ہوں اگر ایک خریدار سے میں

جرم اعلان کرتا پھرتا ہے
چپ ہے قانون اور سزا ہے چپ

امیر شہر کو کہتے ہیں جو برا دن بھر
اندھیری رات میں دربار سے نکلتے ہیں

آج محفوظ ہے کہ پہلے تھا
ہم کسی گھر سے پوچھ لیتے ہیں
منظور ثاقب کے اشعار میں خوبصورت تراکیب ، علامتیں اور استعارے آج کی سیاست، معاشیات اور ماحول کے مطابق پائے جاتے ہیں۔ یہ سیاسی اور معاشی مسائل آج کے جدید دور کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ ان مسائل نے انسان کے جذبات، خیالات، تصورات اور انسانی اقدار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور بھائی چارے اور محبت کے جذبات کو نفسا نفسی کے عالم میں بدل دیا ہے آج غربت افلاس اور نا انصافی انسانی معاشرے کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور جناب منظور ثاقب ان مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار بحیثیت شاعر نہایت احسن طریق سے سر انجام دے رہے ہیں۔
مہ و خورشید غیروں کے لیے ہیں
مجھے جگنو پہ ٹالا جا رہا ہے

ایسے حالات میں دشوار ہے مرنا کہ مجھے
زندہ رہنا ہے ابھی میری سزا باقی ہے

گر آپس میں رہے دست و گریباں
ہمیں کوئی سکندر مار دے گا
کوئی صحرا میں مر جائے گا پیاسے
کسی کو یہ سمندر مار دے گا
یقیناً ایک دن آئے گا ثاقب
کہ شاہین کو کبوتر مار دے گا

مجھے یہ زیست قسطوں میں ملی ہے
میں ٹکڑوں پر گزارا کر رہا ہوں

نفرت و کبر و ریا جھوٹ دغا، دم، نفرت
ہم نے ان سات کو آئین سمجھ رکھا ہے

ایک لمحے کے قرض کی ثاقب
ہم نے برسوں ادائیگی کی ہے
صفحات: ۲۰۸ قیمت: ۲۰۰ روپے
ناشر: الحمد پبلی کیشنز، چوک پرانی انارکلی، لیک روڈ لاہور
بیت بازی از: بشریٰ شیریں
مبصر: حسن شہبیر
بشریٰ شیریں کینئرڈ کالج میں اردو کی لیکچرر ہیں۔ اردو شاعری ان کا میدانِ تحقیق ہے۔ جدید اور قدیم اردو شاعری کے محاسن و معائب پر وہ گہری نظر رکھتی ہیں۔
زیر نظر کتاب ان کی تحقیقی و تنقیدی بصیرت سے بہرہ مند ہونے کے لیے ان سے تالیف کروائی گئی ہے تاکہ وہ طلباء و طالبات جو بیت بازی کے مقابلے جیتنے کے خواہشمند ہیں اور سائنسی انداز میں ایسی تیاری کرنا چاہتے ہیں کہ کامیاب و فتح مند ٹھہریں، صرف وہی اشعار یاد کریں جو ٹرمپ کارڈ کی حیثیت رکھتے ہوں۔
بیت بازی جیتنے کے لیے یادداشت میں اشعار کے انبار لگا دینا کافی نہیں ہوتا کہ یہ بے ہنگم اور ضخیم ذخیرہ مقابلے میں اُترنے کے لیے اعتماد تو فراہم کر سکتا ہے، ٹرافی دلانے کے کام نہیں آ سکتا۔ جیتنے کے لیے مخالف کو زیر کرنے کے گُر سیکھنا چاہئیں۔ اُن گُروں میں سے ایک گُر یہ ہے کہ دانستہ طور پر وہ شعر پڑھا جائے جو ایسے حرف پر ختم ہو رہا ہو جس پر ہمارے شعراء نے بہت کم طبع آزمائی کی۔
مثلاً، حرف'ث' پر شعر ختم کرنے سے مخالف ٹیم کو آپ اس مشکل میں ڈال دیں گے کہ وہ اس حرف سے شروع ہونے والا شعر پڑھے۔ ظاہر ہے کہ اس حرف سے شروع ہونے والے اشعار کی تعداد بہت کم ہے۔ وہ شعر کو تلاش کرنے میں وقت ضائع کر دیں گے۔ یوں آپ اپنے مخالف کو پچھاڑ دیں گے۔
دوسری جانب، اگر مخالف یہی تکنیک آپ پر آزمانے کی کوشش کرے تو اس کتا ب میں اس حرف اور اس قبیلے کے تمام حروف سے شروع ہونے والے اشعار کی بہت بڑی تعداد کو شامل کیا گیا ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ مشکل حروف سے شروع ہونے والے اشعار ختم بھی مشکل حرف پر ہی ہوں تاکہ آپ مخالف کا یہ وار ناکام بنائیں اور اسے اپنے حروف کے جال میں پھنسائیں اور بازی جیت جائیں۔
صفحات: ۲۶۸ قیمت: =/۳۴۹روپے
ناشر: دی رائٹرز، لاہور
tw.pub11@gmail.com
یادوں کے جگنو از: نبیلہ رفیق
مبصر: ثمن شاہ
سخن کے اس جہاں میں ہمیں ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں بھی جا بجا ملتی ہیں جو کبھی آنکھوں میں چبھتی ہیں کبھی تعبیروں کے سفر میں مگن پیروں کو لہولہان کرتی نظر آتی ہیں۔ جیسے یہ اشعار جذبات کا بڑا انوکھا اظہا رکرتے ہیں:
نوجواں ہرنیوں کی آنکھوں میں
وحشتیں نوحے گنگناتی ہیں
خشک آنسو ٹکے ہیں پلکوں پر
سسکیاں روح تھپتھپاتی ہیں
نبیلہ رفیق کا پہلا مجموعہ کلام ان کی شاعری کے تابناک مستقبل کی گواہی بھی ہے۔ ان کے کلام کو پڑھتے ہوئے مجھے ان کی باطنی کیفیت میں چھپی ایک بے قرار روح بھی دکھائی دیتی ہے جو احساس کی شدت اور سوچ کی حدت کی مظہر ہے۔ خود اعتمادی کا عنصر بھی بڑا واضح ہے جو کسی بھی شاعر کو بہت جلد منزل کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک انوکھی کیفیت بیان کرتے ہوئے یہ اشعار قاری کے دل و دماغ پر بہت گہرا تاثر چھوڑتے ہیں:
خزاں کے پتوں کی زرد آہیں
میرے من میں ماتم مچا رہی ہیں
سوئی بہاروں کے نیم خوابیدہ
ذہن کو جھنجھنا رہی ہیں
نبیلہ رفیق مزاحیہ انداز سخن بھی رکھتی ہیں۔ جتنی بار مشاعروں میں آپ کو سننے کا اتفاق ہوا، بے حد لطف آیا۔ اشعار میں بلا کی بے ساختگی ہے اور زندگی کے رنگوں کو جس طرح بیان کرتی ہیں، محفل زعفران کر دیتی ہیں۔
جدید نسل کی یہ شاعرہ ایک الگ لب و لہجہ اور اسلوب اپنائے ہوئے ہے اور کلام میں روانی بھی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ اپنی قوت تخیل سے اپنے کلام کو نئے پیرہن پہناتی رہے گی اور ادب کی دنیا میں اپنا مقام بنانے میں ضرور کامیاب ہو گی۔
صفحات: ۱۵۲
ناشر: یونیٹک پبلی کیشنز، پنجاب، بھارت
گوجری لوک بار تے اردو ترجمہ از: رانا فضل حسین
مبصر: غلام سرور رانا
اقبالؒ نے جموں و کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد کے تناظر میں کہا تھا …
جس خاک کے خمیر میں ہو آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
آتش چنار ایک ایسی مزاحمتی علامت ہے جس کی حدت نے تاریخ کے کسی موڑ پر بھی یہاں کے باسیوں کے جذبہ حریت کو سرد نہیں ہونے دیا۔ بابائے گوجری رانا فضل حسین (تمغۂ پاکستان) کی تالیف کردہ یہ گوجری لوک باریں بھی اقبال کے اسی شعر کی تفسیریں ہیں۔ اس شہر آشوب میں مغلوں، سکھوں، ڈوگروں اور افغانوں کے مظالم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ اُس عہد کے لوگوں کے عقیدوں، ٹونے ٹوٹکوں، وہموں، رسموں رواجوں، موسموں، لباسوں، قبیلائی و نسلی منافرت و امتیازات کو بھی نمایاں کیا گیا ۔ لوک باروں میں نتھیا دید ڑ اور ڈھینڈی گجرانی کی محبت کے لا زوال جذبہ کو بیان کیا گیا ہے۔ نتھیا اور ڈھینڈی کی رومانی داستان کو اجاگر کرنے کے لیے اس کتاب میں ممتاز محقق دانشور اور شاعر پروفیسر یوسف حسن کا مضمون شامل کیا گیاہے۔ روح اللہ سانگو اور اُن کے جرنیل بیٹوں کی بہادری کو بھی بڑی عمدگی سے اجاگر کیا گیا جس سے اس عہد کے پونچھ اور راجوری کے تہذیبی و معاشرتی رکھ رکھائو کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔ معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر رفیق انجم گوجری کے قدیم ادب کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں ''گوجری میں جو لوک باریں ہیں ان کا تعلق سیاسی سماجی نابرابری کے خلاف جدوجہد اورسودی اور مہاجنی نظام کے خلاف احتجاج سے ہے جو ڈوگرہ حکمرانوں کے دور میں کسی بھی غریب قوم خصوصاً گجروں کے ساتھ عام تھا''۔ کردار نگاری کے اعتبار سے یہ ایک شاہکار تصنیف ہے۔
لوک باروں کی انفرادیت اس کے داستانی تسلسل سے ہے۔ کہیں بھی تشنگی کا احساس نہیں ہوتا۔ بابا جی کی معجز نگاری نے اسے امر کر دیا ہے۔ داستانوں کا تعارف و پس منظر باب کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ مہاراجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کی شاطرانہ چالوں کو ''مہاراجہ گلاب سنگھ اور مسلم راجواڑے '' کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے لومڑی کے خصائل رکھنے والے اس شاطر حکمران کے کردار کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ لوک باروں کا ایک اور اہم باب ''جموں و کشمیر کے پانچ شمس'' ہے۔ دراصل یہ ذکر ہے اُن پانچ سر فروشوں کا جو پیر پنجال کی وادیوں میں مختلف وقتوں میں دادِ شجاعت دیتے رہے ۔ ان گمنام ہیروز کے مجاہدانہ کردار کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔
ریاست جموں و کشمیر کی ان گوجری لوک باروں کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے ڈوگروں، افغانوں، سکھوں اور مغلوں کے حکومتی ادوار کو سمجھنے کے لیے ذیل کا چارٹ پیش نظر رکھنا ہو گا۔
٭ مغل خاندان کی حکومت ۱۶۶ برس ۱۵۸۶ء تا ۱۷۵۲ء
٭ افغان دورِ حکومت ۶۶ برس ۱۷۵۲ء تا ۱۸۱۹ء
٭ سکھ دورِ حکومت ۲۷ برس ۱۸۱۹ء تا ۱۸۴۶ء
٭ ڈوگرہ دورِ حکومت ۱۰۱ برس ۱۸۴۶ء تا ۱۹۴۷ء
گوجری لوک باروں کو اردو ترجمہ کے ساتھ شائع کرنے سے اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے، ان صاحبان کے لیے جو گوجری لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تراجم سے ان کی کتاب کے مطالعے میں دلچسپی بڑھے گی۔ تراجم سے گوجری اور اردو کا لسانی تعلق بھی واضح ہو گا کیونکہ ماہرین لسانیات کے نزدیک گوجری اور اردو کا تعلق ماں اور بیٹی کا ہے۔ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ ایک کٹھن کام ہے۔ زبان و بیان پر دسترس نہ ہو تو یہ ایسا بھاری پتھر ہے جس کو چوم کر اٹھانا تو درکنار ہلانا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ ایک زبان کے مفاہیم کو دوسری زبان میں ڈھالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
''گوجری لوک بار تے اردو ترجمہ'' صوبہ جموں کے تہذیبی، تمدنی اور تاریخی منظر نامے سے آگاہی کا موقعہ فراہم کرے گا۔
بابا جی ایک عرصے سے لوک ادب کے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ لوک گیتوں، کہانیوں، داستانوں، کہاوتوں کو جمع کرنے میں انھوں نے خاصی تگ و دو کی ہے۔ مسودے کی صورت میں مرتب کر کے لوک ورثہ کے قومی ادارے کو دیا جہاں یہ کافی عرصہ تک اشاعت کا منتظر رہا۔ ان لوک باروں کے منتخب حصے آزاد کشمیر ریڈیو تراڑ کھل، مظفر آباد اور میر پور کے اسٹیشنوں سے نشر ہوتے رہے ہیں۔ کشمیری زبان میں جس طرح حاتم تیلی نے داستان گوئی کی روایت کو قائم کیا اسی طرح بابا جی نے گوجری میں داستان گوئی کو بڑی خوبی اور عمدگی سے نبھایا ۔ آئی یو جرال نے انہیں گوجری زبان کا قطب نما قرار دیا ہے ۔
ناشر: گوجری ادبی سنگت ، اے ۔ ۴ ۱ ، سی ۱۳،
میرپور، آزاد کشمیر
خوش بیانیاں از: ڈاکٹر انعام الحق جاوید
مبصر:اصغر عابد
ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو قدرت نے شعر گوئی کی بے حساب قدرت عطا کر رکھی ہے۔ اُن کی سنجیدہ شاعری کے قارئین اُن کے فکری ترفع، شعری جمالیات اور سہولت اظہار سے بخوبی آگاہ بھی ہیں اور مانوس بھی۔ زبان و بیان کا ملکہ اُنہیں دوسروں سے ممیز کرتا ہے اور اپنے عہد کے بے حد ذہین، بیدار مغز اور نمایاں شعراء کی فہرست میں بلندو بالا سطح بھی دیتا ہے۔ انہوں نے اپنی تازہ تصنیف ''خوش بیانیاں'' میں اسی فنی دسترس کو بروئے کار لاتے ہوئے پند ارِ ہنر کی تشکیل کی ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق کا رازِ صداقت یہی ہے کہ ان کے قلم سے آوازِ صداقت لبِ قرطاس پر پھلجھڑیوں کی صورت پھوٹتی محسوس ہوتی ہے ۔زیر نظر مجموعہ میںشامل پہلی ہی نظم بہ عنوان ''طنزو مزاح '' اس صنفِ اظہار پر ایک مربوط اور بڑا جامع منظوم تبصرہ ہے۔ ڈاکٹر انعام نے ذہانت اور دانشمندی کے ہیروں سے درِ ایوان سخن کو شاعرانہ تزئین کے مکمل لوازمات اور کمالات سے سجایا ہے۔
ظرافت کے لبادے میں سبق ہیں علم و دانش کے
مزاح و طنز کے پردے میں دانائی کی باتیں ہیں
اگر اک قہقہے سے ایک پائو خون بڑھتا ہے
تو سیدھی سیدھی اعصابی توانائی کی باتیں ہیں
شاعری ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا عشق ہے اور یہ زرِ عشق ان کی شگفتگی سے لبریزتجوریوں میں کسی غیبی برکت کی طرح کبھی کم نہیں ہوتا۔ ان کے شگفتہ کلام کے مصرعے مصرعے میں ان کے گہرے مشاہدے ،وسیع علمی مطالعے اور دلوں کو گداز کر دینے والے تجزیے، ان کے اعتبارِ قلم کی مثال بن کرہر قاری کو ہمنوا بناتے ہیں۔ ایک ایک شعر اُن کے کروڑوں قارئین کے لیے کروڑوں کے انعام سے کم نہیں ۔ان کی تخلیقی توانائیوں اور طنزو مزاح کی جولانیوں پر پہلے حیرت اور پھر رشک آتا ہے مگر ایسا ہر اُس فنکار کے لیے سہل اور ممکن ہے جس کے سر پر قدرت کا دستِ عطا رہتا ہے۔ انہوں نے دعوے تو دائر نہیں کیے مگر شگفتگی کے عسکری فائر ضرور کیے ہیں اور آبرو مندانہ ہنرکاریوں سے سچائیوں کو پورے وثوق کے ساتھ پینٹ کیا ہے۔ شاعر نے ایک حسنِ ترتیب کے ساتھ معاشرے کی تصویر کشی کی ہے اور اپنے موضوعات میں سماجی رویّوں کو زیر بحث لاتے ہوئے ایک مثالی اور فلاحی معاشرے کی تشکیل کو اپنی فکر کا خواب بنایا ہے۔
ہمارے ہاں کسی درجے کا سرکاری ملازم ہو
وہاں ہر گز نہیں ہوتا جہاں ہونا ضروری ہے

اگر تو نوکری سرکار کی کرنی ہو آخر تک
تو پھر انسان کا بالکل ہی "گاں" ہونا ضروری ہے
ملاوٹ ،بدنیتی ، کھوٹ، رشوت خوری، سُود خوری، بے ایمانی ،نا انصافی ،لوٹ کھسوٹ ،دھوکہ دہی، تشدد پسندی ،انسانی حقوق ،فرائض کی انجام دہی ،تجارت میں بے اعتدالی، امورِ خانہ داری، ہمسایہ داری سمیت کو ن سا سماجی گوشہ ہے جسے اُن کے قلم نے نہ چُھوا ہو۔
ہے کیسے لُو ٹنا اس کا تو سارا علم رکھتے ہیں
بخوبی جانتے ہیں کس نے کتنی جیب بھرنی ہے
مگر افسوس ہر گز بھی کبھی سوچا نہیں ہم نے
کہ یہ جو ملک ہے اس کی حفاظت کیسے کرنی ہے
''خوش بیانیاں'' میں فنی محاسن اور شعر ی تموج کی خوش سامانیاں اس مجموعہئِ سخن کی توقیر بڑھاتی ہیں۔ قافیہ بندی، تشبیہ سازی، مصرعوں کی ساخت ، الفاظ کا دروبست، جدّت اظہار، مروجہ محاوروںسے نئے محاورے بنانے کا عمل، شعری لسانیات کے قابلِ تحسین تجربے اس کتاب کے محاسن ہیں۔ ان کے قطعات میں امیجری بھی ہے اور تصویریں بھی بن کر سامنے آجاتی ہیں۔ نمکین غزلیں ہوں یا طویل نظمیں، ان سب میں انہوں نے تاریخ کے بھید کھولے مگر تاریخ کو بھید بھی رہنے دیا۔ انہوں نے عالمی معیشت دانوں کی ساہو کا رانہ فتنہ گریوں کا براہ راست پردہ چاک کرتے ہوئے قومی اور ملی دردمندی کا اظہار کیا ہے ۔
نہ ہو ایک اک اینٹ مقروض جس کی
یہا ں ایسی کوئی عمارت نہیں ہے
مجموعی طور پر ''خوش بیانیاں '' بہاریہ فضا بندی میں معاشرے اور معاشرتی زندگی کے کرداروں اور ان کے باطن میں مثبت و منفی سوچ کی لہریں بناتا ہوا شعری مکالمہ ہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت کا جو چہرہ آج عوام الناس دیکھ رہے ہیں اُسے شاعر نے اپنے دلچسپ پیرائے میں'پیشگوئی'' کے عنوان سے قطعہ بند کیا ہے۔
بنے گا ایک دن جی ہاں بنے گا
یہ بچہ کامیاب انساں بنے گا
ابھی سے دے رہا ہے سب کو چکر
بڑا ہو کر سیاستداں بنے گا
ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا یہ تازہ شعری گلدستہ گھٹن ، خوف، تشدد اور بے سمتی کے ماحول میں شگفتہ روی، بے خوفی ،امن و آشتی اور انفرادی و اجتماعی سطح پر ایک سمت دکھانے والا سخندان ہے، یہ ایک ایسا جہان ہے جہاں زندگی اور معاشرے کا مثالی سنگم میسر آتا ہے۔
ناشر: دوست پبلی کیشنز ، پلاٹ ۱۱۰،گلی نمبر۱۵ ، آئی
۹/۲،اسلام آباد
قیمت: ۔/۲۷۵روپے
سہ ماہی ''نئی کتاب'' بھارت
نئی دہلی بھارت سے جاری ہونے والا پیش نظر مجلہ نمبر ۲۱۔۲۲ طویل غیر حاضری کے بعد شائع ہوا۔ اس تاخیر کی وجہ مدیر نے اپنی دونوں آنکھوں کا آپریشن ظاہر کیا ہے۔ بھارت اردو اخبارات، رسائل اور فلموں کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور کوششوں کے باوجود بھارت کی فلمی صنعت اردو کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکی اور نہ ہی وہاں اردو کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس شمارے میں 'اقبال کااقبال' شمس الرحمان فاروقی کا (تنقیدی مضمون)، ڈاکٹر معین الدین عقیل کا میرتقی میر کی ایک گمشدہ بیاض کی دریافت، ڈکٹر سید یحییٰ نشیط کا ''غالب کی مثنوی، بیان معراج کا تنقیدی جائزہ'' شمیم حنفی کا ''منٹو اور نیا افسانہ'' زبیر رضوی کا ''اردو افسانے کا چوتھا بادنما۔عصمت چغتائی''، پروفیسر عبدالستار دہلوی کا ''اقبال اور عطیہ بیگم فیضی ''پروفیسر وہاب قیصر کا '' دیوار چین سے بت خانۂ چین تک'' اور ڈاکٹر محبوب اقبال کے مضمون ''فیض کی شاعری کا لفظیاتی نظام جیسے کئی علمی مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں نعت اور غزلوں کے علاوہ تجزیاتی تبصرے اور شخصیات کے حوالے سے مضامین، طنزومزاح ،افسانے ، نئی نسل کی تحریریں اور ''جائزے'' میں کتابوں پر تبصرے بھی شامل اشاعت ہیں مگر اغلاط بے شمار ہیں جس کی وجہ شاید مدیر محترم کی آنکھوں کا آپریشن ہونا ہو۔ تاہم مضامین کا انتخاب بہتر طریقے سے کیا گیا ہے۔ رابطے کے لیے ای میل:
naikitabpublshers@gmail.com
ماہنامہ ''ساحل'' برطانیہ
دیار غیر سے شائع ہونے والے اردو کے رسائل نہ صرف اردو زبان بلکہ ہماری روایات اور ثقافت کے بھی ترجمان ہیں۔بیرون ممالک ذرائع ابلاغ کے ذریعے پاکستانیت کو فروغ دینے والے رسائل میں برطانیہ سے شائع ہونے والا رسالہ ''ساحل'' ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ اس کے مدیر تنویر اختر ہیںجبکہ مشاورتی بورڈ میں ظہور بٹ، ذکیہ زبیری، عدیل یوسف صدیقی اور پاکستان سے بانو قدسیہ شامل ہیں۔ زیر نظر مارچ ۲۰۱۳ء کے شمارے میں'' قرار داد پاکستان ۱۹۴۰''، برطانوی اردو دان ڈیوڈ میتھیوز، جموں و کشمیر، قرار دادپاکستان کے حوالے سے مضامین ، ادبی حصے میں غزلیں اور بیرون ملک ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کوخبروں اور تصاویر کی صورت نمایاں اور خوبصورت انداز میں شائع کیا گیا ہے جبکہ انگریزی زبان میں مضامین بھی شامل اشاعت ہیں۔ ای میل:
editorsahil@yahoo.com
مبصر: تجمل شاہ