غزلیات


غزل
لہو کا رقص جو دیوار میں نظر آیا
میں اپنے ہونے کے آثار میں نظر آیا

شعاعِ خاک سے حیرت کشید کرتا چراغ
رواقِ شامِ گہر کار میں نظر آیا

وہ سرد رات کا پچھلا پہر، وہ سناٹا
عجیب سایہ سا اشجار میں نظر آیا

کسی نگاہِ خوش اسلوب کے جھروکے سے
ہزار موسمِ گل، خار میں نظر آیا

ہتھیلیوں پہ بہاریں تھیں خیمہ زن کیا کیا
حنا کا رنگ، شبِ تار میں نظر آیا

کھنڈر میں ناچتے سایوں کے آس پاس، عطا
کوئی چراغ، کسی غار میں نظر آیا
عطاء الرحمن قاضی
غزل
پھر تو یہ باغِ تعلق مجھے ویرانہ تھا
آخری بار تری سمت ، مجھے جانا تھا

میں جو ہوں آج بھی دریوزہ گرِ شعلۂ رقص
گردبادِ غزل آہنگ سے یارانہ تھا

اپنے ہی دھیان میں گُم عشرتیانِ نیرنگ
پھر وہی میں تھا وہی سبزۂ بیگانہ تھا

آخرِ کار ٹپکنے لگیں غربال آنکھیں
ہاتھ میں جام نہ تھا درد کا بیعانہ تھا

دل پہ چڑھتا ہی گیا رنگِ ہوائے افسوس
موسمِ جبر چھلکتا ہوا پیمانہ تھا

ناگہاں چائے کی پیالی سے وہ مرغولہ اُٹھا
جو بھی تھا بزم میں ہم رنگِ فسوں خانہ تھا

جا نکلتا تھا عطا اس کی گلی میں سرِ شام
دلِ مرحوم عجب وضع کا دیوانہ تھا
عطاء الرحمن قاضی
غزل
اچھا ہے کسی اور نظارے سے جڑی ہے
دنیا کی طلب یوں بھی خسارے سے جڑی ہے

اس بار کوئی اور تماشا ہے گلی میں
اک آنکھ جو کھڑکی کے اشارے سے جڑی ہے

میں اس لیے دنیا پر بھروسہ نہیں کرتا
مٹی کی یہ دیوار بھی گارے سے جڑی ہے

یہ کشتیوں والے تو یونہی خوف زدہ ہیں
دریا کی تو ہر موج کنارے سے جڑی ہے

ہر در کسی سورج کے تعاقب میں ہے گوہر
ہر رات کسی اور ستارے سے جڑی ہے
افضل گوہر
غزل
نہ جانے کیسی مری جاں میں آگ جلتی ہے
کہ سانس لوں تو گریباں میں آگ جلتی ہے

دکھا رہا ہے مجھے کیوں کسی چراغ کی لَو
ابھی تو دیدۂ حیراں میں آگ جلتی ہے

سنبھال رکھا ہے کیا کسی کا غم میں نے
کہ اشک اشک سے مژگاں میں آگ جلتی ہے

قریب آنے لگے ہیں مری رہائی کے دن
یہ دیکھ دیدۂ زنداں میں آگ جلتی ہے

ہمارے شہر کی حالت نہ پوچھیے صاحب
ہر ایک قلبِ پریشاں میں آگ جلتی ہے

پھسل رہاہے اندھیرا اِدھر اُدھر گوہر
یہ کس کی چشمِ فروزاں میں آگ جلتی ہے
افضل گوہر
غزل
اس سے بڑھ کر اور بہتر خاکداں موجود ہے
کیا کہیں کوئی محبت کا جہاں موجود ہے

ایک عرصے سے ہی ٹھہراؤ کی ہے کیفیت
پاؤں مٹی پر ہیں سر پر آسماں موجود ہے

آب و گِل میں، میرے دل میں یا ستاروں پر کہیں
صورتِ امکاں بتا، آخر کہاں موجود ہے

چاہیے ترمیم تھی اور ہم سمجھتے یوں رہے
خوب ہے اپنی جگہ پر جو جہاں موجود ہے

خواب کی بستی اُجڑنے کا پتہ دیتی ہوئی
راکھ اُڑتی جا رہی ہے اور دھواں موجود ہے

جسم کی دیوار گرنے ہی سے شاید ختم ہو
فاصلہ جتنا ہمارے درمیاں موجود ہے

جاودانی کے لیے کافی ہے بس تیرا جمال
رائیگانی کے لیے عمرِ رواں موجود ہے

سیرِ لیلیٰ کے لیے ہے کہکشاں در کہکشاں
قیس کی خاطر خلائے بے کراں موجود ہے
رفعت اقبال
غزل
زمیں زادوں میں اک خوئے گدائی چا ہیے تھی بس
خدا تھا اس لیے اس کو خدائی چاہیے تھی بس

وہ بُت بھی توڑ ڈالا جو مکیں تھا کعبۂ دل میں
مجھے کہنہ عقیدوں سے رہائی چاہیے تھی بس

بہت مضبوط بنیادیں تھیں، گھر بھی خوبصورت تھا
در و دیوار سے کچھ آشنائی چاہیے تھی بس

طلب اُس کو کہاں تھی روشنی کی اور خوشبو کی
اُسے تو کوچۂ گُل تک رسائی چاہیے تھی بس

یہ سچ ہے برف کی سِل بن کے اُس کے سامنے بیٹھے
پگلنے کو تو اُس کی کج ادائی چاہیے تھی بس

کمالِ شوق تک جا کر پلٹ آئی خموشی سے
تجھے تو شاہدہ جیسے جُدائی چاہیے تھی بس
ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ
غزل
مقتل میں جب نام پکارے جاتے ہیں
ہم جیسے ہی اکثر مارے جاتے ہیں

دن بھر خوف فضا میں رکھا جاتا ہے
ساری رات عذاب اتارے جاتے ہیں

سوگ لبادوں میں لپٹے ہیں جانے کب سے
رو رو ماہ و سال گزارے جاتے ہیں

لُوٹا جاتا ہے درویش فقیروں کو
مُردوں کے بھی کفن اتارے جاتے ہیں

اُڑ اُڑ کر آتے ہیں تیر کمانوں سے
پیاسے جب بھی ندی کنارے جاتے ہیں

ٹھہرے جب تو ایک زمانہ رک جائے
گر وہ چلے تو ساتھ ستارے جاتے ہیں

سمجھیں بے شک وہ ہر چال زمانے کی
دل کا کھیل کھلاڑی ہارے جاتے ہیں

ہجرت کا جب کوئی سفر آغاز کرے
ساتھ سکندر درد ہمارے جاتے ہیں
مرزا سکندر بیگ
غزل
میں جب سے نیّتِ کوزہ گراں سمجھتا ہوں
پسِ چراغ ہے کتنا دھواں سمجھتا ہوں

اسی لیے تو مرا بولنا نہیں بنتا
میں احترام غم رفتگاں سمجھتا ہوں
بس ایک خود کو سمجھنے میں دیر کر دی ہے
وگرنہ کون ہے کیا اور کہاں سمجھتا ہوں

یہ کیسا زعم مری ذات میں اُتر آیا
تہ زمیں ہوں مگر آسماں سمجھتا ہوں

اب اس سے آگے کوئی دشت آنے والا ہے
کنارِ آب یہ ریگِ رواں سمجھتا ہوں

یہ بات ٹھیک ہے غالب ہے انتہائے سخن
مگر میں میر کے جیسا کہاں سمجھتا ہوں

بہت دنوں سے میں ترکِ سبو کیے ہوئے تھا
خفا ہے کس لیے پیرِ مغاں سمجھتا ہوں

اُکھڑ رہی ہے مری سانس اس لیے عامی
دل اس جگہ پہ نہیں ہے جہاں سمجھتا ہوں
عمران عامی
غزل
عکس تالاب کے پانی میں نہیں بھی ہوتے
کئی کردار کہانی میں نہیں بھی ہوتے

چاٹ لیتی ہے خزاں جسم کا خوشہ خوشہ
پھول سے زخم نشانی میں نہیں بھی ہوتے

رقص کرتا ہوں تو کرتا ہی چلا جاتا ہوں
کبھی جذبات روانی میں نہیں بھی ہوتے

پسِ دیوار بھی ہو سکتا ہے دل افسردہ
غم کئی آنکھ کے پانی میں نہیں بھی ہوتے

کوزہ گر پہلے ہی مصرع میں بنا، وقت بچا
خال و خد مصرعۂ ثانی میں نہیں بھی ہوتے

وہ بگولے جنھیں دریا کی دعا ہو عامی
ریگِ صحرا کی روانی میں نہیں بھی ہوتے
عمران عامی
غزل
جب منڈیروں پہ چراغوں کی کُمک جاری تھی
لفظ تھے، لفظوں میں احساس کی سرداری تھی

اب جو لوٹا ہوں تو پہچان نہیں ہوتی ہے
کہاں در تھا، کہاں دیوار تھی، الماری تھی

وہ حویلی بھی سہیلی تھی پہیلی جیسی
جس کی اینٹوں میں مرے خواب تھے خود داری تھی

آخری بار کہاں اُس سے ملا یاد نہیں
بس یہی یاد ہے اک شام بہت بھاری تھی

پوچھتا پھرتا ہوں گلیوں میں کوئی ہے کہ کوئی ہے
یہ وہ گلیاں ہیں جہاں لوگ تھے سرشاری تھی

پیڑ تھے چند مکانوں میں زبانوں جیسے
جن کی چھاؤں میں مری سانس کی لَو جاری تھی

بس کوئی خواب تھا اور خواب کے پس منظر میں
باغ تھا، پھول تھے، خوشبو کی نموداری تھی

ہم نے دیکھا تھا اُسے اجلے دنوں میں حمّاد
جن دنوں نیند تھی اور نیند میں بیداری تھی
حماد نیازی
غزل
محبتوں کی نہایت ہی جیسے کوئی نہیں
مرے لیے تو رعایت ہی جیسے کوئی نہیں

کئی برس سے مگن ہے وہ اپنے آپ میں یوں
اسے کسی سے شکایت ہی جیسے کوئی نہیں

تمام شہر وقوعے کی طرح جیتا ہے
کسی کے دل میں روایت ہی جیسے کوئی نہیں

درِ قبول پہ اشکوں کے قافلے چپ چاپ
کھڑے ہوئے ہیں کہ غایت ہی جیسے کوئی نہیں
گزر رہی ہے درختوں سے منہ چھپائے ہوئے
ندی کے پاس حکایت ہی جیسے کوئی نہیں

ملی دعا کی حلاوت تو یوں لگا راضی
بدن میں زہر سرایت ہی جیسے کوئی نہیں
رفاقت راضی
غزل
خود کو خود سے ہی ملانے کے لیے ہوتی ہے
شاعری کوئی زمانے کے لیے ہوتی ہے

کس لیے دل کو بجھاتے ہو کہ دل ہے مشعل
اور مشعل تو جلانے کے لیے ہوتی ہے

قریۂ شعر میں کرتی ہے تحّیر تقسیم
ایک صورت جو فسانے کے لیے ہوتی ہے

چھوڑتا کون ہے بے کار میں دنیا داری
ترک بھی نام کمانے کے لیے ہوتی ہے

روح کا ایک وہ موسم بھی ہے جس میں راضّی
ہر خوشی غم کو منانے کے لیے ہوتی ہے
رفاقت راضی
غزل
کسی کے عشق میں آباد ہونے والا تھا
یہ دل کا شہر پھر برباد ہونے والا تھا

یہ کیا کیا کہ مجھے پھر بھلا دیا تو نے
میں ایسا حرف تھا جو یاد ہونے والا تھا

میں اس کا سوچ کے اپنے بدن میں لوٹ آیا
وہ سانحہ جو مرے بعد ہونے والا تھا

کچھ اس طرح سے وہ تقسیم کر رہا تھا مجھے
کہ اِک عدد سے میں اعداد ہونے والا تھا

ترے وجود کی پہچان مجھ سے تھی اور میں
ترے وقار کی بنیاد ہونے والا تھا

مرے وجود سے لپٹے تھے دھوپ کے منظر
میں شب کی قید سے آزاد ہونے والا تھا
حسن مسعود
چھتیس برس وطن سے دور

جب کالے بادل آتے ہیں
اور گھِر گھِر کے چھا جاتے ہیں
جب تیز ہواؤں کے جھونکے
پتوں کو اڑا لے جاتے ہیں
جب بارش رم جھم آتی ہے
اور رات ڈھلے چھا جاتی ہے
تب نیند سے عاری آنکھوں میں
یادوں کے دئیے جل جاتے ہیں
اور رُوح کے سُونے آنگن میں
کچھ دروازے کھل جاتے ہیں
اِک ہُوک سی اٹھتی ہے من میں
اور بچھڑے ہوئے یاد آتے ہیں

کچھ چہرے اپنے بچپن کے
جو بِھیڑ میں دنیا کی چُھوٹے
کچھ یار پرانے برسوں کے
جو دھرتی سے جلدی روٹھے
کچھ پیکر پری جمالوں کے
جو آج بھی ہیں رُوٹھے رُوٹھے
کچھ بندھن رشتے داروں کے
جو آج بھی ہیں ٹوٹے ٹوٹے
کچھ نام پرانی گلیوں کے
وہ کُوچے جو مجھ سے چُھوٹے
آواز وہ گھر کے آنگن کی
جو آج بھی کانوں میں گونجے

پکوان وہ ماں کے ہاتھوں کے
آواز ملائم نانی کی
چنار و صنوبر کے سائے

وہ خوشبو رات کی رانی کی
وہ باپ کا چہرہ پیار بھرا
وہ ٹیڑھی عینک دادی کی
سنگلاخ فضائیں پربت کی
گل بینر ہوائیں وادی کی
وہ چاند ، چکوروں کے نغمے
وہ جھیل پہ چادر چاندی کی
نوروز کے میلے کے جُھولے
وہ مُورت زیارت وادی کی

کچھ جھرنے ٹھنڈے میٹھے سے
کچھ کھنڈر ویراں ویراں سے
اِک سایہ چلمن کے پیچھے
دو نیناں حیراں حیراں سے
اِک دنیا چھوٹی چھوٹی سی
کچھ قسمت روٹھی روٹھی سی

وہ لوگ گئے ، وہ وقت گیا
اور ایک زمانہ بِیت گیا
اب رونا کیسا ساگر جی
جو بِیت گیا ، سو بِیت گیا

اک عمر گزاری ہے میں نے
پردیس کے اس ویرانے میں
کچھ کھویا ہے ، کچھ پایا ہے
کچھ جانے میں ، انجانے میں
اب سوچ رہا ہوں جیسے یہ
سب جیون یونہی بیت گیا

اک بازی کھیلی تھی میں نے
میں ہار گیا ، یا جیت گیا؟
اے وقت ، مجھے یہ بتلا دے
کیا ہار گیا ، کیا جیت گیا؟
سرور ساگر ؔ (امریکہ )
یہ درد کا زوا ل ہے

نہ کچھ سکو ں کا سلسلہ
نہ بے کلی کی با ت ہے
یہ زند گی کی بے کسی
تو زند گی کے سا تھ ہے
اصول، ضابطے، کئی
نہیں، تو دردِ دل نہیں
جو سوچ ہے نجا ت کی
وہ ہے پہ مستقل نہیں
کریں تو کیا کہ ہر طرف
بیان بے مثال ہے
یہ عشق کی جہت نہیں
یہ درد کا زوال ہے
اشفاق عامر
نظم
رات پھر کسی گمنام راستے کی اور
کسی انجان منزل کی تلاش میں
پر اذیت خار دار راستوں پہ بڑھتے ہوئے
گمنامی اور ذات کے سمندر کو سر کرتے ہوئے
اندھیرے میں تلاشتے ہوئے وہ نقش پا
جس کے وجود سے تصور کی دنیا
لامحدود معنویت سے آشنا تھی
اور اندھیرا فقط وہ خیال جہاں
تسخیر نامعلوم ارادوں کی پابند
بالآخر وہ منزل آ ہی گئی
اجالا جہاں محض آگ کا ایک ہالا
اور سپرد نار میں بے تاریکی کی نجات
مصعب اقبال(بھارت )
آدم زاد کی تشکیک
آگہی کے آئینوں کے سامنے
ہم نے یہ دیکھا کہ ہم موجودہیں
مسجود ہیں
اپنے تعقل کے جسے
تاریخ کی رفتار نے معنی دیے ہیں
نوبہ نو
ہم وہ مسافر
چل پڑے تھے بے ارادہ ہی زمستانِ ازل سے
اپنے اپنے خواب کی گٹھڑی اُٹھائے
خوف کی بارش کو سہتے، بھیگتے
یہ آسماں، سورج ، ستارے
خاک، دریا اور پہاڑ
ہم نے ہر جا نذرِ جاں دی
ایک دن پہنچے یہاں
اس معبدِ ادراک میں
جس کے ستوں
بے روغنِ الہام ہیں
ہم نے یہ جانا کہ ہم موجود ہیں
مسجود ہیں
اصل شہود و شاہد و مشہود ہیں
لیکن یقیں آتا نہیں ہے
آئینوں کو ٹوٹنے میں دیر تو لگتی نہیں
رفعت اقبال
مات
بہت دنوں کے بعد
آج جو میسر ہیں
چند لمحے فرقت کے، فراغت کے
چلو حود سے ملتے ہیں
وہ بے ہنگم، بے ترتیب بکھری ہوئی سوچیں
وہ بکھرے ہوئے جذبات
جو شکست خوردہ لفظوں میں
ڈھل کر کبھی تیری
زبان سے نکلے تھے
جنھوں نے میری روح تک کو
احساس وفا دیا تھا
کئی ماہ و سال بیت گئے
مگر
آج بھی وہ یوں شگفتہ ہیں
میرے ذہن و روح میں
کہ انھیں بارہا میں نے
مٹانے کی، ہٹانے کی
سعی لا حاصل کی ہے
فقط اتنا ہو سکا مجھ سے
کہ ہر بار
خود سے لڑتے لڑتے
ہار گئی میں !
(نثری نظم ) افشاں کرن
****