انداز نیا اپنایاہے


گزشتہ ایک برس سے مقتدرہ قومی زبان میں مختلف پہلوؤں پر نئے نئے آئیڈیا کے ساتھ کام کرنے کی روایت ڈالی جارہی ہے۔ ان میں سے بیشتر کا ذکر پہلے کی تحریروں میں ہو چکا ہے اب حال ہی میں کتاب کی رونمائی کے لیے نیا انداز اپنایا گیا ۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک کتاب کی رونمائی کے لیے مصنف یا منتظمین کو لمبے چوڑے انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔ مہمانوں کی خاطر داری کے لیے معاشی بوجھ برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ایک کتاب کی تقریب رونمائی پر کم از کم دو سے تین گھنٹے کا وقت بھی صرف ہوتا ہے پھربھی مہمانوں کی ’’آمدی تعداد‘‘ کے بارے میں مصنف اور منتظمین فکر مند رہتے ہیں کہ کہیں کیمرے کی آنکھ بھانڈا نہ پھوڑ دے ۔ مقتدرہ قومی زبان کے صدرنشین محترم ڈاکٹر انوار احمد نے ان تمام مسائل کا آسان حل تلاش کیا وہ ایسے کہ چار کتابیں منتخب کی گئیں اور معززسکالروں ،اساتذہ ،طلبہ اور دیگر مہمانوں کو زبانی اور موبائل پیغامات کے ذریعے تقریب کی اطلاع دی گئی اس ایک تقریب میں چاروں کتابوں کی رونمائی ہوئی جن پر مقررین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مصنفین سے سوالات بھی کیے ۔اس براہ راست مکالمے کے درج ذیل فوائد سامنے آئے:
* ایک ہی تقریب میں چار کتابوں کی رونمائی کے باعث وقت، اخراجات اور دیگر مسائل پر بہت آسانی سے قابو پالیا گیا۔
* ایک ہی تقریب میں چار کتابوں کی رونمائی کے باعث نوجوان نسل اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی جو علیحدہ علیحدہ تقریب ہونے کی صورت میں شاید بار بار نہ آسکتے ۔
* مصنف کے ساتھ براہ راست مکالمے کے باعث کتاب کے حوالے سے مختلف سوالات کے براہ راست جوابات بھی حاصل کیے گئے۔
* ایک ہی تقریب میں چاروں کتابوں کی رونمائی کے دوران چاروں کتابیں بھی اپنے لیے خریدی جاتی رہیں یا دوسروں کو خرید کر تحفے کے طور پر پیش کی جاتی رہیں جن پر مصنف کے دستخط ہونا ایک بونس سے کم نہ تھا۔
* ہر ایک کتاب کے لیے چالیس منٹ مخصوص کیے گئے جس سے چارو ں کتابوں کے تعارف کے لیے یکساں وقت میسر آیا۔
* مہمانوں کی خاطر داری ہمارے کلچر کا اہم حصہ ہے ۔ روایت کے مطابق کتاب کی تقریب رونمائی میں مہمان داری کے اخراجات عموماً مصنف یا منتظمین کو برداشت کرنا پڑتے ہیں لیکن مقتدرہ کی اس تقریب رونمائی میں خاطر داری کا سامان مہمان خواتین اپنے گھروں سے تیار کرکے لائیں۔ جس سے ایک نئی طرح بھی پڑی اور مہمانوں کی سیوا میں اپنائیت کی خوشبو بھی آئی۔
مذکورہ چار کتابوں میں محترمہ ڈاکٹر شاہدہ رسول کی کتاب ’’اقبال کا تصور کشف‘‘، محترم پرتو روہیلہ کی کتاب ’’ غالب اور غمگین کے فارسی مکتوبات، محترم ڈاکٹر صلاح الدین درویش کی کتاب ’’فکر اقبال کا المیہ‘‘اور محترمہ حمیرا اشفاق کی کتاب ’’نثر رشید جہاں‘‘ شامل تھیں۔ کتاب دوستی کی ا س دلچسپ تقریب میں پاکستان کے نامور شاعروں اور ادیبوں کے حوالے سے وڈیو پروگرام بھی دکھائے گئے۔ مقتدرہ قومی زبان نے کتاب دوستی کے لیے انداز وہی اپنایا جو آپ کو بے حد پسند آیا۔ آپ کی رائے ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔یہ مشعل ضرور روشن کیجئے گا۔

سید سردار احمد پیرزادہ