غزلیات

نعت مبارک
دل کے نگر میں گنبد خضرا ہے ضو فشاں
ان کے کرم سے آنکھ میں کعبہ ہے ضو فشاں

شعلے میں رنگ رنگ میں شعلہ ہے ضو فشاں
ہر آنکھ میں بہار تماشا ہے ضو فشاں

بن کر خدا کا نور جو آئے جہاں میں
نورِ ازل کے صدقے میں کیا کیا ہے ضو فشاں

اس نور لم یزل کی عطائیں تو دیکھے
تاریک تر جہان کو ''دیکھا''ہے ضو فشاں

یہ کہکشاںبہار یہ گُل مہر و مہتاب
آئے میرے کریم تو کیا کیا ہے ضو فشاں

اے ضو! تجھے خبر ہے کہ تجھ سے بھی پیش تر
اس سرزمینِ پاک کاذرہ ہے ضو فشاں

یہ روشنی تو ان کی گلی کی زکوٰۃ ہے
جس سے خزاںبہار ہے کانٹا ہے ضو فشاں

ادنیٰ سے اعلیٰ ہوگئی اس کی ہر اک روّش
جس دل نگر میں اسم معلی ہے ضو فشاں

اے روشنی تو ناز نہ کر اپنے وقت پر
ان کے کرم سے تیرا ہے ہر لمحہ ضو فشاں

ان کے طفیل ہوگئے امصار نور نور
وہ آگئے تو قریہ و کوچہ ہے ضو فشاں

تاریکیوں کو شان ملی جگمگا اٹھیں
دیکھو کرم کریم کا کیسا ہے ضو فشاں

اُس کاتبِ رحیم کی رحمت کی حد نہیں
تاریک تر عمل کو بھی لکھا ہے ضو فشاں

سبطین چھٹ گئیں شب یلدا کی ظلمتیں
تاریکیوں میں اجلا اجالا ہے ضو فشاں
پروفیسر شاہ محمد سبطین شاہجہانی
……O……
غزل
کوچۂ جاں سے دل گزرتا ہے
یہ تو جیتا ہے اور نہ مرتا ہے

کس طرح کی ہے رسم دنیا کی
کوئی کرتا ہے ، کوئی بھرتا ہے

یاد رکھتا ہے بات بات مگر
کر کے وعدہ بھی تو مکرتا ہے

وہ جو تیرہ نصیب ہیں، ان کے
چاند آنگن میں کب اترتا ہے

عشق کی دین ہے تو ایسا ہے
حسن ورنہ کہاں سنورتا ہے

تیرے خوابوں کے دیپ روشن ہیں
پل تری یاد میں نکھرتا ہے
عامر طفیل
……O……
غزل
رُکے رکے سے تصور ، تھکے تھکے سے خیال
بنوں میں جیسے مسافر ، دلوں میں ایسے خیال

پہاڑجیسی سیہ رات، انتظار کی رات
سلگتے اشک مثرہ پر ، ڈرے ڈرے سے خیال

یہ جدتوں کا زمانہ ہے ، اب نہیں چلتے
گھسے پٹے سے سلیقے، لگے بندھے سے خیال

ہر اک چوراہا مضامین نو کا اک انبار
ہجوم شہر سے لائو، چُنے چُنے سے خیال

کن الجھنوںمیںہے شاکرکہ ان دنوں بکھریں
دھنک کے رنگ لئے یہ ملے جلے سے خیال
ارشاد شاکر اعوان
……O……
غزل
وہی نازکجِ ادائی وہی طعن کم نگاہی
میرا ضبط کررہا ہے تیرے غم سے داد خواہی
کیوں چاک ہو گر یباں بنے شوق کا تماشا
نہ ہوغم کا گر سلیقہ تو ہے عشق روسیاہی

مجھے کوہ طور لے چل 'مجھے ہم کلام کردے
''مجھے یوں دکھائی دے تو کہ نظر بھی دے گواہی
(علامہ اقبال)
پتھر تیری نظر ہے مجھ سے تو بے خبر ہے
مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے تو نہ رہ نشیں نہ راہی

مجھے باندھ بھی ہے رکھا مجھے چھوڑ بھی دیا ہے تو بتا کہاں سے سیکھے یہ رموز خیر خواہی۔
ڈاکٹر عدیلہ رحمان
سکو ن کی مقدار
خاکی لفافے بچھوکے ڈنک کی طرح ،
ہوا میں جھولتے ہیں ،
پھوٹنے والی دھارسر پر کیڑے لادے چل رہی ہے
سکون کی مقدار حد درجہ گر گئی ہے
گفتگو ایک تارپر لٹکی ،لمبی جھول گئی ہے،
نتیجہ موقعہ واردات سے بھاگ کر،
جھاڑیوں میں چھپ گیا ہے ،
حاضر روح پرانی پیڑھی سے بندھی ،
کئی گھنٹے سے ماری ماری پھر رہی ہے ،
پیشاب کرنا ، ایک بنیادی حق ہے جسے
آئین نامی کی کتاب میں بھی درج کیا گیا ہے،
اونچی آواز یں ، دوسروں کو دخل کا موقعہ فراہم کرتی ہیں
موصول ہوئے لفافے کے مندرجات میں،
سب کو جانے کی جلدی ہے ،
معتبر الفاظ ، بہہ کر ختم ہی نہ ہو جائیں،
کالی بلی پچھلی دیوار سے
کود کر بھاگ گئی ہے،
میں خود آئینے کے سامنے کھڑا حیران ہوں
شاہد زبیر
……O……
سفر
مری تشنہ روح
آج بھی
مانوس آہٹوں
پیارکی ٹھنڈک
محبت کی چاندنی کی تلاش میں
محو سفر ہے
نسیم سکینہ صدف