ڈاکٹرامتیاز وحید(جامعہ نگر ،بھارت)

مالیگائوں اردو کتاب میلہ

اردو زبان کی تعلیم و تدریس، اردو ذریعہ تعلیم اور زندگی کے عام تقاضوں سے ہم آہنگ ہوئی اردو کے حوالے سے ملک کی واحد مراٹھی ریاست مہاراشٹر اردو زبان کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔ یہ ایک کروڑ سے زائد اردو بولنے اور سمجھنے والوں کا مسکن ہے۔ یہاں عصری اور دینی علوم و فنون، سکول اور تکنیکی تربیتی مراکز کاایک جال بچھا ہوا ہے جہاں اردو ذریعہ تعلیم ہے اور جہاں سے فارغ طلبہ و طالبات مراٹھی اور انگریزی میڈیم کے شانہ بشانہ اپنا مستقبل سنوارتے ہیں۔ اردو میڈیم کے فارغین کثیر تعداد میں میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہیں اردو میڈیم سے تعلیم پانے والے حضرات بیرون ممالک بھی کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ اردو مہاراشٹر میں ایک تہذیبی استعارہ ہے جو عملاً مسلمانوں اور ملی تشخص سے وابستہ شناخت تصور کی جاتی ہے۔ 'موسم' ندی کے دونوں کناروں پر آباد شہر مالیگائوں کا مشرقی حصہ مسلم اور مغرب میں غیر مسلم آبادی پر مشتمل ہے جس کی کل آبادی چھ لاکھ ہے۔ مسلمانوں کا تناسب اسی(۸۰) فی صدی ہے۔ یہاں اردو روز مرہ کی ضروریات کی زبان ہے۔ بنیادی اعتبار سے مالیگائوں محنت کش مزدوروں کا شہر ہے جو پارچہ بافی (Power Loom) صنعت کے لیے معروف ہے۔ تاہم وہ مزدور اردو کے شیدائی ہیں، اپنے بچوں کو نہ صرف اردو پڑھاتے ہیں بلکہ اردو میڈیم سے تعلیم بھی دلاتے ہیں۔ یہاں ۳۶ اردوہائی سکول اور ۳۶ اردو پرائمری سکول کے ساتھ ۱۲ اردو لائبریریاں ہیں، انگریزی میڈیم کے برعکس اردو میڈیم سکول والدین کی اولین ترجیح ہے۔ جہاں داخلہ کے لیے اعلیٰ سطحی سفارشیں چلتی ہیں۔ اردو سکولوں نے اپنا معیار قائم رکھا ہے۔ ان کے پس پردہ مالیگائوں میں ریٹائرڈ اساتذہ اور پرنسپل کی ایک منظم جماعت ہے جو اردو مراکز کی ترویج ، فروغ اور اس کی نگہداشت میں مصروف عمل ہیں، قومی کونسل کے اس اردو کتاب میلے کو وہاں کی دو تعلیمی اور ادبی تنظیموں (مالیگائوں سوسائٹی آف ایجوکیشن ممبئی اور پاسبان ادب ممبئی) نے سنبھال رکھا تھا، جو شہر کی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان بھارت نے مہاراشٹر کے مالیگائوں کو تیسرے علاقائی اردو کتاب میلے کے لیے منتخب کیا اور اس انتخاب نے اردو کتابوں کی فروخت، نشرواشاعت کے حوالے سے پائی جانے والی تمام غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا۔ اس میلے کی کامیابی نے ثابت کر دیا کہ اردو کے شیدائی اب بھی کم نہیں ہوئے ہیں اور کتاب کا قاری آج بھی پورے دم خم کے ساتھ موجود ہے۔
۳ جنوری تا ۱۲ جنوری ۲۰۱۴ء تک جاری اس اردو کتاب میلے نے ۸۷ لاکھ روپے کی کتابوں کی فروخت کا ریکارڈ قائم کیا، جو قومی کونسل کے ذریعے منعقد ہونے والے کتب میلے میں فروخت ہوئی کتابوں کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔
مالیگائوں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی آبادی پر مشتمل شہر ہے جس کے اطراف بسے دھولیہ، شہادہ، چوپڑا، اورنگ آباد اور جلگائوں، بھونڈی اور ممبئی اور اردو بولنے ، پڑھنے اور اردو کو ذریعہ تعلیم کے طو رپر استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی آبادی پائی جاتی ہے۔ دس روز تک شہر مالیگائوں کے قلب میں واقع جے اے ٹی کیمپس اور اے ٹی ٹی کیمپس میں منعقد اس اردو کتاب میلے میں نہ صرف کتابوں کی خریدوفروخت پر زور دیا گیا بلکہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ اردو ثقافت کی محفلیں بھی آراستہ کی گئیں۔
کل ہند اردو کتاب میلہ کا افتتاح وزیر برائے اقلیتی امور کے۔ رحمان خان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقعے پر کاروانِ اردو، کے نام سے شہر بھر میں سکول اور مدارس کے طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے اردو جلوس نکالا اور عوام و خواص میں میلے اور اردو کے تئیںبیداری کے مقصد کو واضح کیا۔ جلوس کی قیادت مرکزی وزیر کے رحمان خان، ظہیر آئی قاضی، اردو کونسل کے ذمہ داران، ڈائریکٹر خواجہ اکرام الدین، وائس چیئرمین، پروفیسر وسیم بریلوی، مالیگائوں کی مقامی سر کردہ شخصیات، معروف عالم دین مولانا غلام محمد وستانوی، فلم و ڈرامہ آرٹسٹ ٹام الٹر، پاسبان ادب کے قعال کنوینئر امتیاز خلیل اور مالیگائوںسوسائٹی آف ایجوکیشن کے جملہ بہی خواہاں نے فرمائی۔
افتتاحی تقریب کی نظامت امتیاز خلیل نے کی۔ مالیگائوں کے قیصر خالد نے پاسبان ادب کی نمائندگی کرتے ہوئے شہر اور قرب و جوار کی اردو دوستی پر روشنی ڈالی۔ ریٹائرڈ پرنسپل انصاری محمد سر نے شہر کی اردو دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے اردو میڈیم سکول میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے اردو کتاب میلے کے تعلق سے جوش و خروش کا ذکر کیا اوراردو برادری کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ قومی کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین نے مالیگائوں کو زندہ دل لوگوںکی بستی بتایااور اردو تحریک کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے امتیاز خلیل کی کوششوں کی ستائش کی۔کتاب میلے کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات زوردے کر کہی کہ ''ہم اہل کتاب ہیں اور کتابوں کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں ۔'' یہ ہمارے ملک کی وراثت ہے۔ انھوں نے کہاکہ کتاب میلوں کے ذریعے ہم اپنی تہذیب اور وراثت کو آگے بڑھارہے ہیں ۔ انھوںنے دھولیہ ،جلگائوں ، اور نگ آباد جیسے علاقوں سے آئے عاشقان اردو کی بھی ستائش کی اور کہا کہ اب تک کے میلوں کی تاریخ میں سب سے بڑا اردوجلوس مالیگائوں میں دیکھا گیا ہے جس پر ہم فخر کر سکتے ہیں۔ انھوں نے این سی پی یو ایل کی سکیموں سے استفادۂ عام کی بھی گزارش کی۔
مالیگائوںکے لیے میلے کو تاریخی قدم بتاتے ہوئے انھوں نے مالیگائوں کی قدیم اردو لائبریری کو قومی کونسل کی جملہ مطبوعات بھی تحفتاً دینے کا اعلان کیا۔ اس موقعے پر اردو کونسل کے وائس چیئرمین پروفیسر وسیم بریلوی نے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اردو کو ہندو ستانیت سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو وہ زبان ہے جس نے ہندوستان کی سات سو سالہ مشترکہ تہذیب کی تاریخ مرتب کی ہے۔ اہلیان مالیگائوں کی ستائش کرتے ہوئے انھوں نے شہر کو 'اردو گائوں' سے مخاطب کیا۔ انھوں نے بیٹیوں کی تعلیم کو لازمی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی گود میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر شاہد لطیف نے انگریزی کے علاوہ اردو کے بشمول تمام زبانوں پر منڈلا رہے خطرات سے آگاہ کیا اور اردو کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے والی اردو کونسل کی حالیہ قیادت کی ستائش کی۔ صدر انجمن اسلام ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی نے اردو سکولوں کا معیارِ تعلیم بلند کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سرکاری امداد پر زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے، مالیگائوں میں نکلے کاروانِ اردو کا نظارہ کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ میں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ اردو کا مستقبل تابناک ہے اور یہ زبان چلے گی نہیں بلکہ دوڑے گی۔ معروف فلم ادا کار ٹام الڑ نے اردو میں انجیل کی پانچ آیتیں پڑھیں اور کہا کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ انھوں نے اردو کی شیرینیت کی ستائش کی اور بتایا کہ ''اردو زبان کو ہماری ضرورت نہیں بلکہ ہمیں اردو کی ضرورت ہے۔''
مرکزی وزیر کے، رحمان خان نے اردو سے جذباتی وابستگی کے ساتھ حقیقت پسندانہ محاسبے پر زور دیا اور دستور ہند میں زبان کے تعلق سے دستیاب قانونی دفعات سے فائدہ اٹھانے کی بات کی۔ انھوں نے مادری زبان میں بنیادی تعلیم کے حصول کی اہمیت پر زور دیا اور اس کو اردو کی سچی خدمت بتایا۔ اپنے صدارتی خطاب میں کے رحمن خان نے کہا کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و تمدن کی وارث ہے۔ اردو کو پسند نہ کرنے والے بھی اس زبان کی تعریف کرتے ہیں۔ اردو کے ساتھ نا انصافیاں بھی ہوئی ہیں، اساتذہ اور بچے برابر نہیں آتے، ہمیں اردو کے لیے زمیتی سطح سے محنت کرنے کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ صرف مشاعروں اور جلوسوں سے اردو کا فروغ نہیں ہو گا بلکہ اردو ذریعہ تعلیم اور اردو کتابوں کے مطالعہ سے اردو پروان چڑھے گی، زبان کے فروغ کا بنیادی حق دستور ہند میں بھی دیا گیا ہے۔ مادری زبان کی حفاظت اور اس کی ترویج و اشاعت کے لیے دستور ہند نے لنگوسٹک کمیشن بھی تشکیل دیا ہے۔ مرکزی وزیر نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے اس ادارے کے وائس چیئرمین اور ڈائریکٹر کو مبارکباد دی۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں مسلمان تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ضرور ہیں لیکن ذہنی قابلیت کے اعتبار سے اقلیت میں ہرگز نہیں ہیں، انھوں نے مثبت طرز فکر اختیار کرنے پر زور دیا۔ مالیگائوں سے جڑے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مالیگائوں میں ایک خود کفیل یونیورسٹی کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔
پچاس ہزار سے زائد طلبہ، طالبات، اساتذہ اور اردو سے محبت کرنے والے جم غفیر کے ساتھ اردو کتاب میلے کا جو افتتاح ۳ جنوری کو عمل میں آیا تھا وہ جوش و خروش دوسرے دن بھی دیکھا گیا۔ میلے میں پورے ملک کے۸ ۳ ناشروں کے ۶۲ سٹال لگائے گئے تھے۔ میلے میں ملک کے مختلف گوشوں سے شریک کتب فروشوں کے چہروں پرخوشی اور طمانیت دیکھی گئی اور مجموعی طو رپر کتب فروشوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے منعقدہ اس اردو کتاب میلہ کو کتب خریداری کے حوالے سے اب تک کا تاریخی قدم بتایا۔ میلہ میں شامل مقامی شخصیات نے افتتاحی تقریب میں کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین کے مالیگائون اردو لائبریری کو کونسل کی جملہ مطبوعات کو تحفہ میں دیے جانے کے اعلان کو مستحسن قدم بتاتے ہوئے اس فلاحی کام کے لیے خود کو پیش کیا۔ مفتی محمد اسماعیل نے ایک ٹی وی نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے مدرسوں کی لائبریری کو ایک لاکھ روپے کی کتابیں خرید کر تحفتاً دینے کے عزم کا اظہار کیا، وہیں اعجاز عمر نے ان غریب بچوں میں پچاس ہزار روپے سے زائد کی کتابیں خرید کر تقسیم کرنے کی بات کہی جو مالی دشواری کے سبب کتب کی خریداری سے قاصر ہیں۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین جناب عرفان علی عابد علی نے ہزار کھولی کی لائبریری کو اردو کتاب میلے سے پچاس ہزار روپے سے زائد کی کتابیں خرید کر دینے کا وعدہ کیا۔ قومی کونسل کے میلہ انچارج شاہنواز خرم نے مالیگائوں اور قرب و جوار کے اردو حضرات کی کتاب دوستی کی تعریف کرتے ہوئے اس میلے کو نئی نسل کی قوت خرید، ان کے مطالعہ کی عادت اور حکومت کی شرح خواندگی کے ہدف کی سمت میں ایک اہم پیش رفت بتایا۔ کتاب فروش الحسانات بکس لمیٹڈ کے شہزاد عالم نے بتایا کہ ''ہم نے میلے کے افتتاحی دن ممبئی کی ریکارڈ فروخت کو پیچھے چھوڑا ہے، ہمیں بے حد خوشی ہے۔
ادبی و ثقافتی پروگرام کے تحت'اردو ذریعہ تعلیم… مسائل اورحل' پر ماہر تعلیم پروفیسر عبدالعزیز انصاری کی صدارت میں دو اجلاسوں پر مشتمل ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ اور طالبات کے علاوہ کثیر تعداد میں شہر واطراف کی ذی علم شخصیات اور خواتین شریک ہوئیں، نظامت ڈاکٹر اقبال برکی نے کی۔ مولانا عبدالعزیز فلاحی نے 'مکارم اخلاق' کے موضوع پر گفتگو کی۔ عتیق شعبان نے بھی اظہار خیال کیا۔ پروگرام میں قومی کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر امتیاز وحید نے اردو کتاب میلہ میں اردو سے محبت کرنے والے مالیگائوں کے طلبہ، طالبات، اساتذہ اور عوام کے جوش و خروش کو سراہتے ہوئے مالیگائوں اور برادری کو قومی کونسل کی جملہ فلاحی سکیموں سے جوڑنے اور انھیں کونسل کے ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پروگرام کے دوسرے اجلاس کی صدارت پی اے انعامدار نے فرمائی جس میں محمد رضا سر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی اور کریم سالار نے خصوصی مہمان کے طو رپر شرکت فرمائی۔ میلہ میں بی بی سی کے نمائندہ یاور عباس نے بھی شرکت فرمائی۔
اردو کتاب میلے کا تیسرا دن کتب شیدائیوں کے جوش و خروش سے شروع ہوا۔ اتوار کی فرصت کا فائدہ اٹھا کر دھولیہ، اکل کوا، شہادہ، جل گائوں، امَل نیر، ٹاسک سٹی، بھیونڈی اور ممبئی سے لوگوں نے میلے میں شرکت کی، کتابوں کی خریداری کے حوالے سے یہ دن اس اعتبار سے خاص رہا کہ مولانا وستانوی نے لائبریریوں کے لیے ۳ لاکھ ۶۰ ہزار روپے کی کتابوں کی خریداری کی۔ مرزا بک ڈپو کے روح رواں مرزا عبدالقیوم ندوی نے بتایا کہ ''میلے کا ہر دن گزشتہ دن سے بہتر ہے اور ہمیں مزید خوب سے خوب کی توقع ہے۔ کتب فروشوں کو یقین نہیں تھا کہ مالیگائوں کے لوگ اس کثرت سے خریداری کریں گے، کوئی بھی شخص بغیر کتاب لیے واپس نہیں جا رہاہے۔ میں نے قومی کونسل کے بچوں کا رسالہ ماہنامہ 'بچوں کی دنیا' کی اب تک ہزار کاپیاں فروخت کر دی ہیں۔'' وہیں رحمانی پبلی کیشن کے رحمانی سلیم نے خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کتاب میلہ کو مستحسن قدم بتایا۔ بچوں پر مشتمل ان کی مطبوعات کافی تعداد میں خریدی گئیں۔ میلے میں دہلی سے آئی ھنی بُکس کی ناظمہ کتاب فروش کی حیثیت سے کسی کتاب میلے میں پہلی بار شریک ہوئیں۔ ادب اطفال پر مشتمل ان کی مطبوعات محض دو دنوں میں ہی ختم ہو گئیں۔ مقامی پبلشر نوبل بک ایجنسیز نے پہلی بار کسی کتاب میلہ میں شرکت کی ہے۔ انھوں نے نونیت پبلی کیشن کو گزشتہ دو سالوں کی مسلسل محنت کے بعد اردو کتب کی اشاعت پر قائل کیا ہے۔ انھوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ قومی کونسل کو یہ کتاب میلہ مالیگائوں میں جلدی دوبارہ پھر منعقد کرنا چاہیے۔
ادبی، لسانی اور ثقافتی پروگرام کے تحت 'اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں مدارس دینیہ کا کردار' کے موضوع پر ایک علمی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا، اس کی صدارت مولانا عبدالحمید ازہری (صدر مولانا آزاد اسلامک سینٹر مالیگائوں) نے فرمائی۔ مفتی محمد جعفر ملی رحمانی (صدر مفتی جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا) نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اردو زبان کے حوالے سے مدارس کی خدمات پر آٹھ مقررین نے اظہارِ خیال کیا اور مدارسِ اسلامیہ کو اردو زبان کی حفاظت کا مضبوط قلعہ بتایا۔ انھوں نے تفصیل سے ان امور کی نشاندہی کی کہ کس طرح مدارس میں تلفظ کی ادائیگی ماہانہ، سہ ماہی اردو رسائل اور مجلات ، قلمی رسائل اور دیواری پرچوں کی قدیم و مضبوط روایت رہی ہے۔ ملک کی بڑی یونیورسٹیوں کے بالمقابل مقررین نے مدارس کو اردو کا بے غرض خادم بتایا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ علما نے ہر دور میں اردو کی خدمت کی ہے۔ ملک کے تقریباً تیس ہزار مدارس میںسے نوے فیصد مدارس میں اردو تدریس اور رابطہ کی زبان ہے۔ زبان کا حسنِ صحتِ الفاظ اور صحت تلفظ میں مضمر ہے، مدارس نے جس کا ہمیشہ پاس رکھا ہے۔ علما نے اپنی تقاریر اور خطبات کے ذریعے اردو زبان کو ثروت مند بنایا ہے۔ مولانا علی میاں کی تصانیف کلاسیکی ادب میں درجہ پانے کے لائق ہیں۔ اس موقع سے مقامی استاد عبدالرحیم فاروقی کے 'قرآنی قصے' اور نعیم الظفر ندوی کی مرتب کردہ مولانا محمد حنیف صاحب قاسمی ساقی کے مجموعہ کلام 'نقوشِ کلام ساقی' کا اجرا بھی صدر مجلس کے ہاتھوں انجام پایا۔ ثقافتی اور علمی پروگرام کا دوسرا سیشن'کیریئر گائیڈنس پروگرام' کے لیے مختص رہا، جس کی صدارت جناب لئیق انصاری سر نے فرمائی، اس میں مالیگائوں کی ۱۱۰ سالہ قدیم اردو لائبریری کے ذمہ داروں نے اردو کتاب میلہ میں شرکت فرمائی اور بک سٹالوں سے تقریباً ایک لاکھ روپے کی کتب کی خریداری کی۔
چوتھے دن کتب خریداروں اور میلے میں شرکت کی غرض سے آئے قرب و جوار کے اساتذہ اور طلبہ کی قبل از آمد کے سبب میلہ مقررہ وقت سے پہلے ہی شروع کر دیا گیا۔ قومی کونسل کے تحت منعقد ہونے والا کتاب میلہ اس حوالے سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ میلہ کتب کی خریداری اور شرکا کی تعداد کے لحاظ سے ہر دن اپنے سابقہ دن سے بہتر ثابت ہوا۔ دہلی سے شریک ہونے والے اردو بک ریویو کے روح رواں عارف اقبال نے کہا کہ ''قومی کونسل کے اس کتاب میلہ میں ناشروں کے شکوک و شبہات رفع ہو گئے۔ بیشترناشر خود بھی پریشان ہیں کہ ان کا سٹاک ختم ہو گیا ہے۔ ان کی کتابیں ختم ہو گئیں ہیں۔ این سی پی یو ایل کا یہ میلہ اپنی نوعیت کا سب سے منفرد میلہ ہے۔ مالیگائوں کے طلبہ اور اساتذہ میں بے پناہ اخلاص اور علم سے دلچسپی ہے۔ یہاں لوگ مزدور پیشہ ہیں تاہم ان میںجو تعلیمی بیداری ہے اس کا پورے ملک میں کوئی مقابلہ نہیں۔
میلے میں قومی کونسل کے تحت چلنے والے ثقافتی پروگراموں میں اہل ذوق محبانِ اردو نے گزشتہ دنوں کی طرح کثیر تعداد میں شرکت کی اور غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اے ٹی ٹی کیمپس میں منعقد ادبی و ثقافتی پروگرام شہر مالیگائوں کی علمی و ادبی کارگزاریوں پر محیط تھا۔ 'اردو ادب میں مالیگائوں کاحصہ' کے موضوع یہ پروگرام پروفیسر عبدالعزیز کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی اور ڈاکٹر اشفاق انجم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے تاریخی ترتیب سے مالیگائوں کی نثری و شعری سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا اور اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں شہر مالیگائوں کو بجا طور پر دہلی، رام پور، لکھنؤ اور عظیم آباد کی طرح اردو کا مسکن بتایا۔ اب شہر مالیگائوں کو دبستان کی حیثیت حاصل ہے۔ اردو میڈیم سکولوں کا وسیع جال بچھا ہوا ہے۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات کی اکثریت تعلیم پا رہی ہے۔ اس پروگرام میں بزم اطفال کے معروف قلم کار جناب اسحاق خضر نے مالیگائوں میں بچوں کے ادب کی صورتِ حال اور سرگرمیوں پر مبنی ایک پرمغز مقالہ پیش کیا۔ قومی کونسل کے تحت چلنے والے اس پہلے سیشن میں اردو دوستی اور مالیگائوں کی ادبی و علمی سرگرمیوں پر جس انداز سے گفتگو ہوئی اس سے یقینی طور پر مالیگائوں کو اردو کے مستقبل کا گہوارہ اور دبستان کہا جا سکتا ہے۔
اردو کتاب میلے کا پانچواں دن سابقہ دنوں کی طرح محبانِ اردو کے جوش و خروش کے ساتھ شروع ہوا۔ جس میں طالبات اور خواتین کی کثیر تعداد بک سٹالوں پر نظر آئیں۔
ادبی و ثقافتی پروگرام کے تحت پہلا سیشن'معاشرتی بیداری میں اردو صحافت کا کردار' پر مشتمل تھا جس کی صدارت معروف صحافی شمیم طارق نے فرمائی۔ جبکہ مقامی صحافی عبدالحلیم صدیقی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ شعیب خسرو اور شکیل رشید مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک محفل تھے۔
اردو کتاب میلے کا چھٹا دن نہایت کامیاب رہا۔ شہر اور اطراف کے متعدد سکولوں کے طلبہ ، اساتذہ اور ذمہ داروں نے کتاب میلے میں شرکت کی اور کتب کی خریداری کی۔ مقررین نے مالیگائوں کے اس اردو کتاب میلے کو اب تک کا یہ سب سے کامیاب میلہ بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ اس میلے نے ممبئی کو بھی مات دے دی، یہاں ہر عمر کے لوگ آ رہے ہیں۔ خواتین بڑی تعداد میں آ رہی ہیں۔ اردو کتاب میلے کے ادبی و ثقافتی پروگرام کے تحت مقابلہ شعر خوانی کا انعقاد کیا گیا۔اس میں محمد عبید اعظمی ، ظہیر انصاری اور آصف سبحانی بطور جج شریک تھے۔ اس پروگرام میں شہر مالیگائوں کی مقتدر شخصیات کے ساتھ شہر کی کارپوریٹر محترمہ پونم دیپک نے اردو میلے کی رونق بڑھائی۔ انھوں نے کہا کہ یہ کسی ایک کمیونٹی کا پروگرام نہیں بلکہ ''ہم آپ کا'' پروگرام ہے۔ میں میلے میں مسلم بیلٹ کی کارپوریٹر کی حیثیت سے نہیں بلکہ اردو سے محبت کرنے والی کی حیثیت سے آئی ہوں۔ اس موقع پر گڈبک پبلشر نے انھیں ہندی میں تحفتاً قرآن کی کاپیاں دیں۔ جب ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے قومی کونسل کے دفتر میں پڑے اردو اخبار کو اٹھایا اور پڑھنا شروع کر دیا اور کہا کہ ''دیکھ لیا مالیگائوں میں اردو سے ہماری محبت۔'' مالیگائوں کا اردو کتاب میلہ کتابوں کی خریداری، مشترکہ تہذیبی وراثت اور اردو دوستی کے جذبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
میلہ وقت مقررہ پر شروع ہوا جس میں لوگوں نے میلے میں اب تک پچاس لاکھ کتب کی خریداری پر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی، کثیر تعداد میں محبان اردو نے اپنی فعال حاضری درج کرائی۔ اس روز بھی ہزاروں طلبہ و طالبات کے ساتھ اساتذہ پر مشتمل ہزاروں کی تعداد نے اردو کتاب میلے میں شرکت کی۔ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے تحت ساڑھے دس بجے احمد سردار ہال میں مالیگائوں کے معروف خطاط رمضان فیضی کی صدارت میں ''اردو خطاطی'' پر ایک دلچسپ پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلم کرتپوری(ممبئی)، احمد ونو(ممبئی) اور ڈاکٹر ریحان (بھیونڈی) چیف گیسٹ اور نثار پینٹر، رشید آرٹسٹ، فاروق تشنہ ، محمد غوث ، گل ایوبی کے ساتھ سراج دلار صاحب، جمال ہاشم، جمیل احمد (سمکسیر)، سراج انجم، آصف سبحانی اور احمد شفیق صاحبان نے اردو ادب میں خطاطی کی اہمیت پر اظہار خیال کیا اور اردو تحریر میں خطاطی کو تحسین تحریر کا ایک آلہ قرار دیا۔ ڈاکٹر ریحان اور اسلم کرتپوری کے ''فیض نستعلیق' کے عملی مظاہرے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اردو میں''فیض نستعلیق' نے اردو مشینی کتابت کو ایک نئی کشش اور جہت فراہم کی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے بین السطور Space کی جو دشواریاں تھیں اس پر بھی اس نوٹ کے ذریعے قابو پانا ممکن ہو پایا ہے۔ اس سلسلے کی تکنیکی پیش رفت ہنوز جاری ہے۔ ثقافتی پروگرام کا دوسرا اجلاس انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اردو کے موضوع سے متعلق تھا جس کی صدارت ڈاکٹر منظور حسن ایوبی اور نظامت علیم فیضی نے انجام دی۔ پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے فیصل فاروقی ، ڈاکٹر سعید کے ساتھ دیگر مہمانان میں ڈاکٹر ریحان انصاری، اسلم کرتپوری، کتب الدین شاہد، فوزان مالیگائوں اور مسعود پینٹر مالیگائوں کے ساتھ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی مالی تعاون سکیموں پر میلے میں قومی کونسل کے میڈیا کو آرڈینیٹر ڈاکٹر امتیاز وحید نے تفصیلات پیش کیں اور قومی کونسل کی مالی تعاون سکیم کا کتابچہ بھی تقسیم کیا۔ اس موقع پر انجم حسین کی کتاب ''انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع'' کا اجرا کیا گیا۔ ثقافتی پروگرام کے تحت آخری پروگرام میں مالیگائوں کی فلمی صنعت ''مالی وڈ'' سے وابستہ مشہور و معروف فنکاروں نے اپنے فن کامظاہرہ کیا اور عوام و خواص کو محظوظ کیا۔
اردو کتاب میلے کا آٹھواں دن معمول کے مطابق جوش و خروش کے ساتھ شروع ہوا۔ اس روز بھی ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ اور طلباء نے اور دوسرے لوگوں نے شرکت کی اور کتابوں کی خریداری کی۔ تاہم قومی اردو کونسل کا اضافی سٹاک بھی آناً فاناً ختم ہو گیا۔ اسی طرح دوسرے ناشرین کی کتابیں بھی کافی تعداد میں نکل چکی تھیں اور ان کا دوسرا سٹاک بھی ختم ہونے کو تھا۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے والدین نے کتابیں خریدنے کے لیے بچوں کو زیادہ سے زیادہ رقم فراہم کی اور بچوں نے بھی اس رقم سے کتابیں خریدیں۔ یہ قابل قدر جذبہ ہے۔ اس دن ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے تحت مقابلہ حمد خوانی کا انعقاد بھی عمل میں آیا۔ پروگرام کی صدارت صوفی غلام رسول اور نظامت جناب اعظمی محمد یٰسین نے انجام دی۔
اردو کتاب میلے کا نواں دن نہایت کامیابی اور خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ آج کا دن خواتین کے لیے مختص تھا۔ میلے کے جملہ ۶۲ سٹالوں پر خواتین اور طالبات کا ہجوم دیکھا گیا۔ خواتین نے نظم و ضبط کی پوری پابندی کی اور نہایت شائستگی کا مظاہرہ کیا۔ شہر اور قرب و جوار کی گرلز کالج کی طالبات نے کثیر تعدا دمیں حصہ لیا۔
اس روز ادبی اور ثقافتی پروگرام کے تحت پہلے اجلاس کا پروگرام 'خواتین اور اردو ادب' کے موضوع کے لیے مختص تھا، جس کی صدارت ممتاز پیر بھائی ، پونہ نے کی۔ گل پوشی اور تعارف بی او ایس چیئرپرسن یونیورسٹی آف پونے کی ڈاکٹر انصاری فہمیدہ نے پیش کیے جبکہ نظامت کے فرائض صبا انصاری نے انجام دیے، اس پروگرام میں تین مقالے پیش کیے گئے، 'نسوانی فنکار اور نسائی حسیت' کے موضوع پر ڈاکٹر مسرت فردوس (اورنگ آباد، بی او ایس ممبر اور ریسرچ گائیڈ) نے مقالہ پیش کیا، انھوں نے اردو ادب میں خواتین ناول نگاروں کی مستحکم روایت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور ان میں نسائی حسیت ، عورت کی مظلومیت ، عصری زندگی، مسائل ، تعلیم اور دیگر متعلقہ گوشوں کو نشان زد کیا۔ انھوں نے معاصر خواتین ناول نگار واجدہ تبسم، فہمیدہ ریاض ثروت، صادقہ نواب سحر، ترنم ریاض، بانو قدسیہ، جمیلہ ہاشمی، صالحہ عابد حسین، خدیجہ مستور کے ساتھ عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کے ناولوں پر گفتگو کرتے ہوئے 'اصلاح النسا' کی ناول نگار رشیدۃ النسا بیگم کو اولین خاتون ناول قرار دیا جن کا تعمیری اور اصلاحی ناول ۱۸۸۱ء میں شائع ہوا تھا۔
ڈاکٹر انصاری فہمیدہ نے ''چند اہم خواتین شاعرات ، شاعرۂ امروز… پروین شاکر' کے خصوصی حوالے سے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا اور بیسویں صدی کے نصف آخر کی ایک نمائندہ نسائی آواز، پروین شاکر کی شعری کائنات پر پُر مغز گفتگو کی۔ انھوں نے پروین شاکر کو بغاوت اور سرکشی کے بجائے نسوانی خود سپردگی کے اظہار کی توانا آواز بتایا اور کہا کہ پروین شاکر نے مشرقی اقدار کی حرمت کا پاس رکھا، وہ 'تقدسِ بدن' کی قائل تھیں۔ ان کی شاعری عرفان ذات اور کرب ذات کی شاعری ہے۔ اس پروگرام کا تیسرا مقالہ 'کنہیالال کپور اور فن طنز و مزاح' پر پڑھا گیا جسے ڈاکٹر شرف النسا (ایچ او ڈی ڈاکٹر رفیق زکریا کالج، اورنگ آباد اور ریسرچ گائیڈ) نے پیش کیا اور کنہیالال کپور کی تحریروں میں طنز کی نشاندہی کرتے ہوئے کپور کے اس قول کو پیش کیا کہ ''بھارت کو مزاح کی نہیں طنز کی ضرورت ہے''، انھوں نے معاشرتی نظام میں فکاہی سرمایۂ ادب کی معنویت کو اجاگر کیا اور کپور کی تحریروں میں انسانی ہمدردی کی تائید کی۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے انصاری راشدہ محمد ہارون نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں اظہار تشکر انصاری لُبنیٰ نے پیش کیا۔
دوسرے ادبی و ثقافتی پروگرام کے تحت 'ہماری اردو لائبریری' کے موضوع پر مولانا آزاد ہال میں ایک نشست رکھی گئی جس کی صدارت اعظم کیمپس کے چیئرمین جناب منور پیر بھائی نے انجام دی۔ یہ پروگرام بنیادی طور پر تعلیمی اور سماجی نظام میں لائبریری اور کتب خانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا جس میں جمال عارف ندوی نے 'اسلامی کتب خانوں کی تاریخ' پر ایک پر مغز مقالہ پیش کیا اور مسلم عہد میں شاہی کتب خانے، ہارون رشید کے دارالعلم کے تحت 'بیت الحکمہ' میں قدیم کتب خانہ کی روایت کی نشاندہی کی، مہاراشٹر کالج ممبئی کے پروفیسر عبدالماجد نے پی پی ٹی سلائڈ کی مدد سے 'مستقبل کی ڈیجیٹل لائبریری' کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کے فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے ڈیجیٹل لائبریری کو بے تحاشہ معلومات اور بیش بہا آگہی کا خزانہ بتایا اور اس کے متعلقہ مسائل اور تقاضوں پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر اقبال برکی نے 'سکول لائبریری:مسائل اور حل' پر گفتگو کرتے ہوئے سکولوں میں لائبریری اور ریڈنگ روم کے لیے علیحدہ کمروں کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں ٹرینڈ لائبریرین ہونی چاہیے جو طلبہ کی ذہنی استعداد اور معیار کا لحاظ رکھتے ہوئے 'لائبریری کلچر' کو فروغ دے، انھوں نے اردو سکولوں میں لائبریری کی بنیادی سہولتوںکے فقدان پر اظہار افسوس کیا۔ ان کے علاوہ شام نسواں کا انعقاد کیا گیا۔
دس روزہ اردو کتاب میلہ تاریخی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جو جوش و خروش کتاب میلے کے پہلے دن دیکھا گیا وہ آخر تک برقرار رہا۔
اختتامیہ جلسۂ تقسیم انعامات کی تقریب کی صدارت منور پیر بھائی نے فرمائی جبکہ اس میں مہمانان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر عتیق اللہ، حفظ الرحمن انجینئر، پروفیسر امان اللہ خان، جناب پرسادہیرے، پرشانت دادا ہیرے، جناب اقبال درانی، جناب سنیل کڈاسنے اور جمیل زروالے شریک تھے۔ اس موقع پر قومی کونسل کے ڈائریکٹر جناب خواجہ محمد اکرام الدین نے مالیگائوں سوسائٹی آف ایجوکیشن کو اردو عربی سینٹر کے قیام کے لیے مدعو کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری سکیموں کے تحت ان اردو/عربی مراکز کے لیے درخواست دیں۔ مالیگائوں اردو لائبریری کو قومی کونسل نے اپنی جملہ دستیاب مطبوعات دینے کا جو وعدہ کیا تھا، اس کی دفتری کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے، وہ کتابیں جلد ہی لائبریری کو مہیا کرا دی جائیں گی۔ مالیگائوں میں صحافت کی تربیت اور خطاطی کی نمائش، بھی قومی کونسل کے ضابطے کے مطابق زیر غور ہے۔
مالیگائوں میں اردو کی خدمت پر مامور لائبریریوں کو ہم مدعو کرتے ہیں کہ وہ ہمارے یہاں مفت کتابوں کی سکیم کے تحت درخواست دیں ، ہم حسبِ ضابطہ کتب کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ ہم اور ہماری ٹیم نے ممکن حد تک قومی کونسل کی سکیموں کا جو تعارف مالیگائوں میں پیش کیا ہے، اس کی جملہ معلومات ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں، مزید ہم نے کونسل کی بیشتر کتب کو بھی اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے اس سے بھی آپ حضرات مستفید ہو سکتے ہیں۔
قومی کونسل کے تحت اس کتاب میلے میں اب تک کی سب سے تاریخی فروخت( ۸۵ لاکھ روپے سے زائد) پر خوشی کا اظہار کیاگیا۔ دس روزہ کتاب میلہ کُل ہند مشاعرہ کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔
٭٭٭٭