مہر محمدخالد

اردو کے فروغ میں شعرا کا کردار

دکن میں اردو کی ابتداء علاء الدین خلجی اور ملک کافور کے حملوں سے ہوئی (۱۳۰۲۔۱۳۱۳ئ) مالوہ، اُجین اور منڈو کو فتح کرنے کے بعد شاہی لشکر نے دکن کا رخ کیا اور دیوگیر (دولت آباد) اور وار نگل پر قبضہ کرتا ہوا راس کماری تک پہنچ گیا۔ خلجیوں کے بعد جونا خان نے اپنے باپ غیاث الدین تغلق کے عہد میں (۱۳۲۱ئ) دیوگیر، وارنگل اور بیدر کو دوبارہ فتح کیا اور وہاں اپنے نائب متعین کر دیے۔ پھر جب جونا خان سطان محمد تغلق کے نام سے دہلی کے تخت پر بیٹھا تو اس نے ۱۳۲۷ء میں اپنا پایہ تخت دولت آباد منتقل کر دیا اور دہلی کے امراء اور عمال ، اہل حرفہ اور تُجار، علماء و فضلا اور شاہی لشکر کو ترکِ وطن کر کے دولت آباد میں سکونت اختیار کرنا پڑی۔ دو سال بعد بادشاہ خود تو دہلی واپس چلا گیا مگر دہلی کے بکثرت باشندے دکن ہی میں آباد ہو گئے۔ اس طرح دکن میں اردو کی داغ بیل پڑی۔ دکن میں اردو کے فروغ کا ایک سبب یہ ہوا کہ حسن گنگو ہی بہمنی نے دکنی اُمراء کی مدد سے ۱۳۴۷ء میں دولت آباد فتح کر لیا اور دہلی سے رشتہ توڑ کر خود مختار بہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی (دکن میں اردو از نصیر الدین ہاشمی، ص ۲۴، لاہور ۱۹۴۰)
بہمنی فرمانرائوں نے اردو کو دفتروں کی سرکاری زبان قرار دیا۔ سید عین الدین گنج العلم حضرت نظام الدین اولیائؒ کے ایک سو مریدوں کے ہمراہ اسی زمانے میں دکن آئے، خواجہ محمد حسین گیسود راز نے بھی اسی عہد میں گلبرگہ میں سکونت اختیا رکی۔ بہمنی دور کے اردو ادیبوں میں سلطان احمد شاہ ثالث (۱۴۶۳ئ۔۱۴۸۲ئ) کاروباری شاعر نظامی قابل ذکر ہے۔ اُن سے ایک مثنوی ''کدم و پدم'' منسوب ہے۔ اردو زبان اور ادب نے تین سو سال تک جتنی ترقی دکن میں کی اس کی نظیر پورے ملک میں نہیں ملتی۔ اسی لیے دکن کے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے پُرکھوں نے اردو کو نکھارا، بنایا، سنوارا اور اس میں ادبی شان پیدا کی تو یہ دعویٰ بے بنیاد نہیں ہے۔ قطب شاہی (گولکنڈہ ۱۵۱۸ئ۔ ۱۶۸۷ئ) اور عادل شاہی (بیجا پور ۱۴۸۹ئ۔ ۱۶۸۶ع) دور میں اردو کو دکن میں بہت فروغ ہوا اور وہ ملک کی مقبول زبان بن گئی۔
دکن پر ایرانی تہذیب کا اثر ہمایوں بہمنی اور محمود شاہ بہمنی کے وزیر خواجہ محمود گاواں کے زمانے ہی میں بڑھنے لگا تھا۔ محمود گاواں بڑا صاحب فضل و کمال تھا اور علم و فن کا قدر دان تھا ایرانی امیروں اور دانش وروں کو وہ خاص طو ر پر نوازتا تھا کیونکہ وہ خود بھی ایرانی تھا۔ چنانچہ گولکنڈہ اور بیجا پور کی فیاضیوں اور علم پروریوں کا شہرہ سن سن کر ایرانی علمائ، شعراء اور امراء دکن میں آتے اور دولت اور عزت سے سرفراز ہوتے۔دکنی شاعروں نے فارسی کی تقلید میں اردو میں غزل کی ابتداء کی۔ اردو کی سب سے قدیم غزل دکنی شاعر مشتاق کی ہے جو سلطان محمد شاہ بہمنی (وفات ۱۴۸۲ئ) کے آخری زمانہ میں تھا۔ غزل کے دو شعر یہ ہیں:
تجھ دیکھتے دل تو گیا ہور بیو اُپَر بے کَل گھڑی
دیکھے تو ہے جیئو کے اُوپر نَیں دیکھے تو کل گھڑی
آب حیات اور لب ترے جاں بخش و جاں پرور اَ ہے
مشتاق بو سے سوں پیا امرت بھری او کل گھڑی
(دکنی ادب کی تاریخ از ڈاکٹر محی الدین زور کراچی، ص۱۶)
لیکن دکنی شاعر عشق کا اظہار ابھی تک عورت کی زبان سے کرتاتھا، محبوب کو سجن، پیا اور پیئو پکارتا تھا اس کے جسم کو چندر بدن اور سورج مکھی سے تشبیہہ دیتا تھا اور سکھی سے دل کا درد بیان کرتا تھا۔
عادل شاہی دور: دسویں صدی ہجری میں اردو شاعری کی روایت
حسن شوقی:ولادت ۹۴۸ھ وفات ۱۰۴۲ھ اور ۱۰۵۰ھ کے درمیان متعین کی جاسکتی ہے۔جولائی ۱۹۲۹ء میں مولوی عبدالحق مرحوم نے رسالہ ''اردو'' میں پہلی بار ایک قدیم شاعر کا تعارف شائع کیا اور اس کے ادبی کارناموں پر روشنی ڈال کر اس کی دو مثنویوں اور تین غزلوں سے اردو دان طبقے کو روشناس کرایا۔ شاعر کا نام حسن شوق تھا، اس کے بعد آج تک ہر تاریخ و تذکرہ میں اس شاعر کا ذکر کیا جاتارہا ہے۔ شہنشاہ اکبر کی فتح گجرات کے بعد وہاں کے اہل علم و ادب بھی انھیں دو سلطنتوں میں تقسیم ہو گئے۔ زوال کے بعد حسن شوقی بھی نظام شاہی سے عادل شاہی سلطنت میں چلا آیا۔ شوقی کا ذکر نہ کسی قدیم تذکرہ میں آتا ہے اور نہ کسی تاریخ میں۔ ہمارے پاس جو کچھ سرمایہ ہے وہ اس کی دو مثنویاں اور تیس غزلیں ہیں۔ شوقی نے اپنی غزل کے ایک مقطع میں اپنے نام کا اظہار قافیہ کی ضرورت سے اس طرح کیا ہے:
جن یو غزل سنایا جلتیاں کو پھر جلایا
وہ رند لا اُبالی شوقی حسن کہاں ہے
ابن نشاطی نے ''پھول بن''(۱۰۶۶ھ) میں شوقی کا ذکر کیا ہے:
حسن شوقی اگر ہوتے تو فی الحال
ہزاراں بھیجتے رحمت مُجہ اُپرال
سید اعظم بیجا پوری نے ''فتح جنگ'' میں اس کی سلاست بیانی کی تعریف کی اور نصرتی نے ''علی نامہ'' کے ایک قصیدہ میں اپنی شاعری کے قد کو حسن شوقی کی شاعری کے قد سے ناپ کر اپنی عظمت کا اظہار کیا:
دس پانچ بیت اس دھات میں کے ہیں تو شوقی کیا ہوا
معلوم ہوتا شعر گر کہتے تو اس بستار کا
ان شواہد کی روشنی میں شیخ حسن اور شوقی تخلص ٹھہرتا ہے۔ ان حوالوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں مسلم الثبوت استاد کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کے مرنے کے بعد دکن کی ادبی فضائوں میں اس کا نام گونجتا رہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمد قلی قطب شاہ اور جگت گرو و جانم سے پہلے نظام شاہی سلطنت میں اردو کتنی ترقی کر چکی تھی۔ موجود مواد کی روشنی میں حسن شوقی ایک مثنوی نگار اور غزل گو کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتا ہے۔
حسن شوقی کی غزلیں اس روایت کا ایک حصہ ہیں جس کے مزار پر ولی دکنی کی غزل کھڑی ہے۔ ان غزلوں کو جدید معیار سے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن یہ غزلیں اپنے مزاج کے اعتبار سے جدید غزل کی ابتدائی روایت اور رنگ روپ کا ایک حصہ ہیں۔ حسن شوقی کے ذہن میں غزل کا واضح تصور تھا۔ وہ غزلوں کو عورتوں سے باتیں کرنے اور عورتوں کی باتیں کرنے کا ذریعہ اظہار سمجھتا تھا۔ سب غزلوں میں بنیادی تصور یہی ہے۔ محبوب کے حسن و جمال کی تعریف کرتاہے اور عشقیہ جذبات کے مختلف رنگوں اور کیفیات کو غزل کے مزا ج میں گھلاتا ملاتا نظر آتا ہے۔ اس کے ہاں غزل کے خیال، اسلوب، لہجہ اور طرزِ ادا پر فارسی غزل کا اثر نمایاں ہے۔شوقی نہ صرف اس اثر کا اعتراف کرتا ہے بلکہ ان شاعروں کا ذکر بھی کرتا ہے جن سے وہ متاثرہوا ہے یہاں خسرو و ہلالی بھی ملتے ہیں اور انوری و عنصری بھی:
حسن شوقی نے بھی فارسی غزل کے اتباع میں سوز و ساز کو اردو غزل کے مزاج میں داخل کیا اور آج سے تقریباً چار سو سال پہلے ایک ایسا روپ دیا کہ نہ صرف اس کے ہم عصر اس کی غزل سے متاثر ہوئے بلکہ آنے والے زمانے کے شعراء بھی اسی روایت پر چلتے رہے۔
ولی کی غزل روایت کے اسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ اپنی غزلوں میں مٹھاس اور گھلاوٹ پیدا کرنے کے لیے شوقی عام طور پر رواں بحروں کا انتخاب کرتا ہے۔ شوقی کی غزل میں تصور عشق مجازی ہے۔ حسن شوقی کی غزل میں ''جسم'' کا احساس شدت سے ہوتا ہے، وصال کی خوشبو اڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ محبوب اور اس کی ادائیں حسن و جمال کی دل ربائیاں، آنکھوں کا تیکھا پن، خدوخال کا بانکپن ہوتا ہے، دانت، کلیوں جیسے ہونٹ، ہیرے کی طرح تل، سر و قدی، مکھ نور کا دریا، دل عاشق کو پھونک دینے والا سراپا اس کی غزل کے مخصوص موضوعات ہیں۔
حسن شوقی کو احساس ہے کہ وہ غزل کی روایت کو نیا رنگ دے کر آگے بڑھا رہاہے۔ ان کے اشعار کے مطالعے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ اردو غزل کی روایت کے وہ ابتدائی نقوش ہیں جہاں غزل کی روایت جم کر ، کھل کر پہلی بار اس انداز میں اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔
دسویں صدی کے تین اور شاعروں کے نام ہم تک پہنچتے ہیں جن کی استادی کا اعتراف ان کے بعد کی نسل نے کیا ہے۔ میری مراد محمود، فیروز اور ملاخیالی سے ہے جن کا ذکر محمدقلی قطب شاہ نے اپنی غزلوں میں کیا ہے۔ فیروز، محمود اور ملاخیالی گولکنڈہ کے شاعر تھے۔ حسن شوقی کی زندگی ہی میں یہ تینوں شعراء وفات پا چکے تھے۔ حسن شوقی نے ان کی روایت کو آگے بڑھایا۔ یہ باقاعدہ روایت بن کر شاہی، نصرتی، ہاشمی اور دوسرے شعرا سے ہوتی ہوئی ولی دکنی تک پہنچتی ہے۔ یہیں سے غزل کی ایک مخصوص روایت بنی ہے۔
حسن شوقی کا یہ شعر پڑھیے:
تجہ نین کے انجن کوں ہو زاہداں دوا نے
کوئی گوڑ ، کوئی بنگالہ کوئی سامری کتے ہیں
حسن شوقی کی زبان اس زمانے کی دکن کی عام بول چال کی زبان ہے۔ اس میں ان تمام بولیوں اور زبانوں کے اثرات کی ایک کھچڑی سی پکتی دکھائی دیتی ہے جو آئندہ زمانے ایک جان ہو کر اردو کی معیاری شکلیں متعین کرتے ہیں۔
یہ ہے قدیم اردو غزل کی روایت کا وہ دھارا جس کے درمیان شوقی کھڑا ہے۔ وہ اپنے اسلاف سے یہ اثر قبول کرتا ہے اور اسے ایک نیا اسلوب دے کر آنے والے شعرا تک پہنچا دیتاہے۔ یہی وہ اثر ہے جو حسن شوقی کو قدیم ادب میں ایک خاص اہمیت کا مالک بنا دیتا ہے۔
شوقی کی غزل میں مشتاق، لطفی، محمود، فیروز اور خیال کے اثرات ایک نئے روپ میں ڈھلتے ہیں اور پھر یہ نیا روپ شاہی، نصرتی ، ہاشمی، اشرف، سالک، یوسف، تائب، قریشی اور ایسے بہت سے دوسرے نامعلوم وگمنام شعراء کے ہاں ہوتا ولی کی غزل میںرنگ جماتا ہے۔
اسی رنگ کو دیکھ کر میں اردو کو پاک وہند کی ساری زبانوں کا ''عاد اعظم مشترک'' کہتا ہوں۔ (ادبی تحقیق از ڈاکٹر جمیل جالبی)
قطب شاہی دور: قلی قطب شاہ (۱۴؍اپریل ۱۵۶۵ء ۔ ۱۰ دسمبر ۱۶۱۱ئ)
آزاد نے ''آب حیات'' میں کیونکہ ولی کو اردو شاعری کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ اس لیے مدتوں تک غزل کی روایت /تاریخ اس سے شروع ہوتی رہی لیکن بعد کی تحقیقات نے اس کو غلط ثابت کیا، چنانچہ اب گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کے حکمران ابوالمظفر محمد علی قطب شاہ کوپہلا صاحب کلیات (۱۰۲۵ھ) شاعر سمجھا جاتا ہے۔ یہ گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کا پانچواں فرمانروا تھا۔ اس کا عہد حکومت ۵ جون ۱۵۸۰ء سے ۱۰ دسمبر ۱۶۱۱ء تک رہا۔ اس نے دکھنی کے علاوہ فارسی اور تیلگو میں ملا کر کل نصف لاکھ اشعار کہے۔ ڈاکٹر سیدہ جعفری نے لکھا ہے محمد قلی کا کلام اردو ادب میں جنسی شاعری کا پہلا نمونہ ہے۔ محمد قلی نے اپنے اشعار میں اپنی محبوبائوں اور پیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خصوصیات کو ظاہر کرنے اور ان کی شخصیت کے خدوخال کو واضح کرنے کے لیے جنسیات کی بعض اصطلاحوں سے مدد لی ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کی شاعری پر جس طرح غزل غالب ہے اسی طرح اس کی غزل پر عورت غالب ہے۔ اس کی شاعری ہندوانہ رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ عورت کے حسن اور جسم سے وہ کرشن کی طرح کھیلتا ہے۔ اُس کی غزلیں یا غزل نما نظمیں اپنے مجموعی تاثر کے لحاظ سے ہمارے خیال کو تھوڑی دیر کے لیے عرب شاعری کے تصور محبوب کی جانب لے جاتی ہیں۔ جس میں جسم وجنس کے عنصر کے غلبے کے ساتھ ساتھ کھل کر نام لینے کی روایت بھی ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کا تینتیس سالہ دور اپنی ادبی سرگرمیوں، علمی کاوشوں اور فنی و تخلیقی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد گار رہے گا۔ قطب شاہی کا یہ زریں دور ہے۔ جس پر اردو و تلنگی شاعری کی تاریخ ہمیشہ فخر کرتی ہے۔ محمد قلی ایک پُرگو اور اردو زبان کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہے۔ تاریخی و تہذیبی اہمیت سے ہٹ کر محمد قلی کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں اس کی دلچسپی کے د و مرکز نظر آتے ہیں۔ ایک مرکز ''مذہب'' ہے اور دوسرا ''عشق'' ہے۔ مذہب اس لیے عزیز ہے کہ اس کی مدد سے زندگی، حکومت، دولت ، عروج اور دنیوی اعزاز حاصل ہوا ہے اور عشق اس لیے عزیز ہے کہ اس سے زندگی میں رنگینی اور لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے عشق و مذہب دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
صدقے نبیؐ کے قطب شاہ جم جم کرو مولود تم
حیدر کی برکت تھی سدا جگ اُپر فرمان کرو

در نظر سامنے نہیں ہے یار
نین پانی تیرتا دلدار
شاعری کی حیثیت سے وہ حسن کا پرستار ہے، قدرتی مناظر کا حسن، عورتوں کا حسن و جمال اور مختلف رسومات کے حسین پہلو اس کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔
اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ
دکن ہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ بھی اسی علاقے کی تھی۔ اس ضمن میں نصیرالدین ہاشمی لکھتے ہیں:
''اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ'' ماہ لقاچندا (۱۱۸۱ئ۔ ۱۲۴۰ئ) سمجھی جاتی تھی۔ اس کا دیوان پہلی مرتبہ (۱۲۱۳ھ۔ ۱۷۹۸ئ) میں مرتب ہوا ہے جو انڈیا آفس لندن کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔
شفقت رضوی نے ''دیوان ماہ لقاچندا بائی'' مرتب کر کے شائع کر دیا ہے۔ (لاہور: ۱۹۹۰ئ) چندا اپنے وقت کی امیر ترین خواتین میں شمار ہوتی تھی۔ فن موسیقی، رقص اور محفل آرائی کے فن میں طاق تھی، عمر بھر شادی نہ کی، شاعری ، تاریخ، شہ سواری، تعمیرات سے خصوصی شغف تھا۔ نواب میر نظام علی خان آصف جاہ ثانی کی منظور نظر تھی۔ اس لیے چھوٹے موٹے کو منہ نہ لگاتی۔ الغرض تمام دکن میں اس کی شہرت تھی۔ حیدرآباد میں اپنا مقبرہ خود تعمیر کروایا۔ چنانچہ انتقال کے بعد اس میں دفن ہوئی۔
چندا کا دیوان ۱۲۵ غزلوں پر مشتمل ہے اور ہر غزل میں پانچ پانچ اشعار ہیں اور یہ مختصر دیوان اس کی تخلیقی شخصیت کا عکاس ہے۔ غزل حسب رواج مردانہ انداز و اسلوب میں کہتی تھی لیکن کبھی کبھی اشعار میں نسوانیت بھی آ جاتی ہے مگر ریختی والی کجرو نسوانیت نہیں۔
ثابت قدم ہے جو کوئی چندا کے عشق میں
صفت میں وہ عشق بازوں کے سالار ہی رہا
ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی
چاہتے ہیں جو بار بار شراب
ملایا کر تو اس کی انکھڑیوں سے آنکھ کم نرگس
نہ کر یوں دیدہ و دانستہ اپنے پرستم نرگس
اب جدید انکشاف سے پہلی صاحب دیوان شاعرہ لطف النساء امتیاز قرار دی جانی چاہیے کیونکہ اس کا دیوان ۱۲۱۲ ھ میں یعنی چندا کے دیوان سے ایک سال پہلے مرتب ہوا ہے۔ لطیفہ یہ کہ تخلص کی بنا پر پہلے اسے مرد سمجھا جاتا رہا لیکن بعد میں اس کی مثنوی ''گلشن شعرائ'' کی دستیابی سے علم ہوا کہ امتیاز عورت ہے۔
نصیرالدین ہاشمی کے بقول امتیاز کے شوہر کانام اسد علی تمنا تھا۔ یہ وہی شاعر ہے جس نے ''گل عجائب '' کے نام سے ''تذکرہ شعرائ'' ۱۱۹۴ھ میں مرتب کیا۔ دیوان کے بارے میں نصیرالدین ہاشمی نے یہ معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ ۱۵۶ صفحات پر مشتمل دیوان میں ۹۵ صفحات پر غزلیں ہیں۔ غزل کی زبان صاف اور مضامین روایتی ہیں جبکہ بات مردانہ لب و لہجہ میں کی جاتی ہے شاید اسی لیے پہلے اسے مرد جاناگیا۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہو!
شور صحرا میں مرے آنے کی کچھ دھوم سی ہے
عمل قیس کے اُٹھ جانے کی کچھ دھوم سی ہے
منہ پہ جب زلف کج خمدار جھکا
صبح روشن پہ گویا ابر گہر بار جھکا
ولی دکنی
ولی تک آتے آتے اردو شاعری کی روایت تین سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہو چکی تھی۔ ولی دکنی اردو شاعری کے نظام شمسی کا وہ سورج ہے جس کے دائرہ کشش میں اردو شاعری کے مختلف سیارے برسہا برس گردش کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ ولی دکنی کو اردو شاعری کا باوا آدم کہاگیا۔ جو بھی آیا اس نے ولی کو خراج تحسین پیش کیا جس نے دیوان دیکھا لہلوٹ ہو گیا۔ جس نے پڑھا اس کی عظمت کا قائل ہو گیا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی ولی محمد کو اصل نام تسلیم کرتے ہیں، جائے پیدائش اورنگ آباد اور سنہ ولادت ۱۶۶۸ء تسلیم کیا جاتا ہے۔ ۱۱۱۹ھ میں بمقام حیدر آباد انتقال کیا۔ ۱۳۳۳ سے ۱۳۳۸ھ کے درمیان ہے۔ جب ولی نے غزل کو اظہار کا ذریعہ بنایا اس وقت کم و بیش ساری دکنی روایت میں غزل کا تصور یہ تھا کہ اس سے صرف و محض عورتوں سے ''باتیں کرنے'' یا ان کی باتیں کرنے کا کام لیا جاتا تھا، حسن و جمال، نازوادا، اٹھکھیلیاں، رنگ رلیاں، اقرار و انکارِ وصل، جنس و جسم ، خارجی پہلو ہی عام موضوعات تھے۔
ولی سے پہلے کسی گہرے تجربے، احساس یا حیات و کائنات کے شعور کا غزل میں پتہ نہیں ملتا۔ شاہی ، نصرتی اور ہاشمی کے ہاں بھی یہی عمل نظر آتا ہے اور محمد قلی قطب شاہ، وجہی، عبداللہ اور غواصی کے ہاں بھی یہی تصور ہے۔ لے دے کے محمود اور حسن شوقی کے ہاں اس تصور میں تبدیلی کا احساس ہوتا ہے اور موضوعات کے حوالے سے ذرا تنوع پیدا ہو جاتا ہے۔ ولی نے اس روایت کو اپنا کر اس میں زندگی کے رنگا رنگ تجربات، تنوع اور داخلیت کو سمو کر غزل کے دائرے کو پوری زندگی پر پھیلا دیا۔ ولی نے قدیم روایت کے بہترین اور زندہ اجزاء کو اپنی شاعری میں سمیٹ لیا اور ان تمام آوازوں کو اپنی آواز میں جذب کر لیا۔ غزل کی یہ روایت جو آئندہ دور میں اپنے عروج کو پہنچی۔ اس کا سرچشمہ ولی کی غزل ہے۔اس کی غزل میں خارجیت اور داخلیت دونوں کا امتزاج ہے۔
ولی کے ہاں عشق میں ایک شائستگی ہے یہاں اردو غزل میں پہلی بار تصور عشق علوی سطح پر ابھر کر سامنے آتاہے۔ ولی کے تصور عشق میں وفاداری بشرطِ استواری کا عقیدہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔
غرض کہ ولی کی شاعری میں اتنے پہلو، اتنے موضوعات ، اتنے تجرباتِ زندگی سمٹ آتے ہیں کہ جس پہلو سے اردو غزل کو دیکھیے اس کی واضح ابتداء ولی سے ہوتی ہے۔ ولی کی غزل میں اردو غزل کی کم و بیش وہ ساری آوازیں سنائی دیتی ہیں جو سراج سے لے کر داغ تک مختلف شاعروں کی انفرادیت کی نشانیاں بنیں اور جن سے آج تک بزم معنی کی شمع روشن ہے۔ اردو شاعری کے قدرتی راگ کو دریافت کرنے میں بھی اولیت کا سہرا ولی ہی کے سر بندھتا ہے۔ ولی عاشق مزاج اور جہاں گشت انسان تھا اور تمام دکھن کی سیر کے علاوہ دو مرتبہ دہلی میں بھی آیا۔ حسن پرستی اور آزادی اس کے خمیر میں تھی۔ حسن و جمال کی شاعری، ولی کی شاعری میں حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر سید عبداللہ نے ولی کو ''جمال دوست'' شاعر کا لقب دیا ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی لکھتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں ایک خاص شاطیہ رجحان پایا جاتا ہے جو کبھی بھی حد سے تجاوز نہیں کرتا۔ اُن کے ہاں خارجیت کا بھی ایک بھرپور نظارہ ہے۔ جہاں جہاں اُن کے دیدہ بینا کے لیے سامان نظارہ ملتا ہے۔ وہ لطف و سرور حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں اُن کی شاعری عراقی طرز کے زیادہ قریب ہے۔ ولی کے ہاں معاملات عشق کے بیان کی بجائے احساسات حسن کا بیان زیادہ ہے۔ ولی کا تصور محبوب بھی مختلف ہے۔ جو اسے مختلف ناموں سے پکارتا ہے۔ کبھی ''ساجن'' کہتا ہے اور کبھی پیتم پیارے کبھی ''لالن'' کہہ کہ پکارتا ہے تو کبھی ''من موہن'' کبھی ''محشر نازوادا'' کا خطاب دیتا ہے تو کبھی ''فتنہ'' رنگین ادا کا، اس سے والہانہ محبت اور وارفتگی عشق کا پتہ دیتاہے ۔سراپانگاری، خوبصورت تشبیہات، زبان کی سلاست، شگفتگی اور ترنم اور تصوف کے موضوعات ولی کی غزل میں ایک خاص رنگ میں آتے ہیں جو اس سے پہلے کے شعرا کے ہاں موجود نہیں تھا۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہو!
مسند گل منزل شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدۂ بیدار کا
ہزار لاکھ خوباں میں سخن مرا چلے یوں کہ
ستاروں میں چلے جیوں ماہتاب آہستہ آہستہ
ولی اس گوہرکان حیا کی کیا کہوں خوبی
مرے گھر اس طرح آتا ہے جیوں سپنے میں راز آوے
پھر میری خبر لینے وہ صیاد نہ آیا
شاید کہ مرا حال اسے یاد نہ آیا
پہنچی ہے ہر اک گوش میں فریاد ولی کی
لیکن وہ صنم سننے کو فریاد نہ آیا
پروفیسر محمد خان اشرف ولی کی شعری زبان کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے : ولی الفاظ کا نبض شناس تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ الفاظ کی صحت جسمانی اور معنوی ساخت صوتی خوبصورتی اور مدت حیات سے بخوبی واقف تھا۔
سراج اورنگ آبادی(۱۱مارچ ۱۷۲۱ ء وفات)
سراج ولی کے بعد اور دورِ میر و سودا سے پہلے کے درمیانی عرصے کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ جن کی پرگوئی، جوشِ طبع اور رنگ سخن کو کوئی دوسرا نہیں پہنچتا۔ سراج کے کلام سے یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ یہ ''آواز'' اردو شاعری میں پہلی بار سنی جا رہی ہے۔ اس میں ایک ایسی خود سپردگی اور ایک ایسی سرشاری ہے جو اب تک کسی شاعر کے ہاں اس طرح سمٹ کر، جم کر سامنے نہیں آئی تھی۔ ولی کے بعد سراج کا نام دکنی غزل کے سلسلہ میں لیا جا سکتا ہے۔ اپنے زمانے کے مقبول شاعر تھے۔ راہ سلوک پرگامزن رہے اور کچھ برس جذب و مستی کے عالم میں گزرے۔ میر نے تذکرہ نکات الشعراء میں انھیں سید حمزہ کا شاگرد لکھا ہے۔
پوری اردو شاعری کے پس منظر میں سراج کی شاعری کو رکھ کر دیکھا جائے تو وہ اردو شاعری کے راستے پر ایک ایسی مرکزی جگہ کھڑے ہیں جہاں سے میر، درد، مصحفی، آتش، مومن، غالب اور اقبال کی روایت کے راستے صاف نظر آ رہے ہیں۔ سراج ولی کی روایت کو بھی اپنے جذبہ عشق سے اتنا آگے لے جاتے ہیں کہ اُن کی شاعری کو پڑھتے وقت ہمیں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ہم ولی کے فوراً بعد کی نسل کے شاعر کا کلام پڑھ رہے ہیں۔ سراج کے کلام میں ولی سے زیادہ اچھے عشقیہ اشعار کی تعداد ملے گی۔ اگر اس کا مقابلہ دوسرے شعراء کے کلام سے کیا جائے تو سراج پھر بھی ہمیں مایوس نہیں کرتے۔
موضوعِ سخن کچھ ہو، عشق کی لہر سب میں یکساں دوڑ رہی ہے۔ اسی نے ان کے کلام میں گداختگی اور سوز کو جنم دیا ہے اور والہانہ پن نے اظہار بیان کی اس سادگی، بے ساختگی اور شگفتگی کو پختہ تر کیا ہے جو ولی سے شروع ہوتی ہے اور میر کے ہاں کمال کو پہنچتی ہے۔ سراج انگریزی شاعر لینگ لینڈ (Lang Land) کی طرح اردو شاعری میں مخصوص عشقیہ روایت کے بانی ہیں۔ سراج کی زبان عشقیہ شاعری کی فطری زبان ہے۔ انھوں نے اردو شاعری کو ایک بڑا ذخیرہ الفاظ اور انھیں استعمال کرنے کا سلیقہ دیا ہے۔ سراج نے اردو شاعری کو ایک نیا معیار دیا اور عشقیہ شاعری کی روایت کو ولی سے لے کر میر تک پہنچا دیا۔ گلشن بے خار (اور بعض اور تذکرات میں بھی) لکھا ہے کہ سراج ہندو دوشیزہ پر عاشق ہو گئے۔ شادی کیونکہ ممکن نہ تھی لہٰذا آتش عشق میں جلتے رہے حتیٰ کہ جذبہ رنگ لایا اور شادی ہو گئی مگر ''تاب وصل'' نہ لاسکے اور شب زناف میں انتقال کر گئے۔ اس صدمہ سے نوبیاہتا بھی چل بسی مگر مستند حقائق اس کی تردید کرتے ہیں۔ ''منتخب دیوانہا'' ۱۱۶۹ء کے دیباچہ میں انھوں نے اپنے بارے میں جولکھا وہی قابل توجہ ہے۔ سراج کا دیوان ۵۳۔۱۱۵۱ھ میں عبدالرسول خان نے مرتب کیا جبکہ عبدالستار سہروردی نے کلیات سراج مرتب کی۔ اشعار ملاحظہ ہو:
اے سراج ہر مصرع درد کا سمندر ہے
چاہے سخن میرا آگ میں جلا یجیے
میں چاہتا ہوں کہ ہوشیار ہوں
اب اس خواب غفلت سے بیدار ہوں
سراج الدین کی وفات پر سارے شہر میں سوگ منایا گیا۔ خاصی تعداد میں ان کے شاگرد موجود تھے جن میں ضیاء الدین پروانہ، مرزا محمود خان نثار ، محمد عطا ضیاء ، مرزا مغل کمتر، لالہ جے کشن بیجان، میرمہدی متین معروف ہیں۔
شاہ قاسم علی قاسم جن کا انتقال بارھویں صدی کے اواخر میں ہوا ایک پرگو شاعر تھے یہ دیکھنے کے لیے کہ ولی اور سراج کے بعد روایت ریختہ نے کتنی ترقی کی، قاسم کے دیوان کا مطالعہ ضروری ہے۔ قاسم کے زمانۂ حیات میں دکن کے معروف شعراء ایک طرف اور شمالی ہند کے آبرو، حاتم، آرزو، یک رنگی، ناجی، مظہر جانجاناں وغیرہ دوسری طرف نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہ اب ایک زبان ہو رہے ہیں۔ اب گجرات میں بھی معیار سخن وہی ہے جو دکن اور شمال میں ہے۔ فارسی کا رواج تیزی سے کم ہو رہا ہے اور اب برعظیم کی تہذیب اس زبان کی طرف رجوع کر رہی ہے جسے اس نے اسی سر زمین پر اپنی صدیوں کی تخلیقی صلاحیتوں سے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ آج جب ہم میر، درد، غالب یا مومن کے اشعار پڑھیں اور پھر قلی قطب شاہ، نصرتی یا ہاشمی کے کلام کا مطالعہ کریں تو ہمیں احساس ہو سکتاہے جسے ''آغاز'' اور ''انتہا'' سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن سطحی مطالعہ سے ہٹ کر ژرف نگاہی سے دکھنی ادب اور بالخصوص دکھنی غزل کا جائزہ لینے پر یہ واضح ہو گا کہ اس عہد کے ادب کی حیثیت محض تاریخی یا لسانی نہیں بلکہ وہ اس قابل ہے کہ جداگانہ مقام متعین کر کے انفرادی حیثیت میں اس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
شمالی ہند(۱۰۵۰ئ۔۱۵۲۵ئ)
اردو شاعری میں امیر خسرو نے ایک طریقہ تو یہ اختیار کیا کہ ایک مصرع فارسی لکھا اورایک مصرع اردو۔ دوسرا طریقہ یہ کہ آدھا مصرع فارسی اور آدھا مصرع اردو رکھا۔ تیسرا طریقہ یہ کہ دونوں مصرعے اور کے لائے۔ اسی طرح بہت سی پہیلیاں، کہہ مکرنیاں اور انملیاں بھی اُن سے منسوب ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر خسرو کا یہ شعر درج ہے:
گوری سووے سیج پہ اور مکھ پہ ڈارے کیس
چل خسرو گھر اپنے سانج بھئی چوندیس

آئی آئی ہماری بیاری آئی
ماری ماری براہ ماری آئی
ان اشعار ریختہ کو پڑھ کر زبان و بیان کے لہجے، آہنگ، طرز اور ساخت سے واضح طور پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دو کلچر ایک دوسرے کے گلے مل رہے ہیں اور اس امتزاج سے ایک ''تیسرے کلچر'' کی بنیادیں استوار ہو رہی ہیں۔ اردو زبان کے خدوخال بھی اس کے ساتھ اجاگر ہوتے ہیں۔
حسن دہلوی (وفات ۱۳۳۷ئ)
ڈاکٹر جمیل جالبی نے ''تاریخ ادب اردو'' (ص ۳۵) میں امیر خسرو کے ایک ہم عصر اور پیر بھائی امیر حسن، حسن دہلوی کی ایک غزل نقل کی ہے جس میں امیر خسرو کے انداز پر فارسی اور ہندوی کو ملایا گیا ہے۔ غزل کا ایک شعر پیش نظر ہے:
بس حیلہ کر دم اسے حسن بے جاں شدم از دم بدم
کیسے رہوں تجھ جیئو بن تم لے گئے سنگ لائے کر
مسعود سعد سلمان(۱۰۴۶ئ۔۱۱۲۱ئ)
ہندوی کے پہلے شاعر لاہور ہی کے رہنے والے ہیں۔امیر خسرو کی فارسی مثنوی ''تغلق نامہ'' میں ایک فقرہ''ہے ہے تیر مارا'' ملتا ہے جو ہندوی رنگ ڈھنگ ظاہر کرتا ہے اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسعود سعد سلمان کی زبان ہندوی سے خسرو کون سی زبان مراد لیتے ہیں۔ یہ بات مسلم ہے کہ ''اردو کا قدیم ترین نام ہندی یا ہندوی ہے''۔
مسعود سعد سلمان کا ہندوی دیوان ناپید ہے۔ اگر یہ دستیاب ہو جاتا ہے تو لسانی مسائل کی بہت سی گتھیاں سلجھ جاتیں اور اردو کی نشوونما اور رواج کی گمشدہ کڑیاں مل جاتیں۔
خواجہ مسعود سعد سلمان نے اپنے فارسی دیوان میں کت، مارا مار اور برشکال کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
امیر خسرو ابو الحسن یمین الدین (۱۲۵۳ئ۔ ۱۳۲۵ئ)
امیر سیف الدین کے بیٹے ابو الحسن خسرو کی پیدائش ضلع ایٹہ قصبہ ٹپیالی(یوپی) میں ہوئی۔ انہیں بلاشبہ عہد ساز شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید خاص تھے۔
اس انداز کی ایک اور مثال بابا فرید گنج شکر (متوفی ۱۲۲۹ئ) کے کلام سے پیش کی جا سکتی ہے:
وقت سحر وقت مناجات ہے
خیز رراں وقت کہ برکات ہے
باتن تنہا چہ روی زیر زمین
نیک عمل کن کہ وہی سات ہے
سید محمد فراقی(۱۶۸۵ئ۔ ۱۷۳۱ئ)
بنیادی طور پر دکنی زبان کا شاعر ہے جس کے پیرائیہ اظہار پر ریختہ نے اتنا اثر ڈالا کہ وہ آج بھی آسانی کے ساتھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ فراقی کی شاعری کی زبان ولی کے دورِ اول کی زبان سے مزاجاً قریب ہے۔ غزلوں میں عشق و محبت اور پند و نصائح کا عنصر پایا جاتا ہے۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو:
فراقی کشتہ ہوں اس اَن کا جس دم کہ وہ ظالم
کمر سوں کھینچتا خنجر، چڑھاتا آستیں آوے
نصرتی:(م۱۰۸۵ھ) دکنی ادب کا عروج
دکنی غزل کے مزاج کے عین مطابق نصرتی کی غزل کا موضوع بھی عورت ہے جس سے وہ غزل کے اشعار میں اپنے عشق و محبت کے جذبات و خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔
چند غزلیں، ہندوی شاعری کی روایت میں ایسی بھی ہیں جن میں عورت اپنے عشق کی کیفیات کا اظہار کرتی ہے۔ نصرتی کے ہاں جسم کو چھونے اور اس سے لطف اندوز ہونے کی حسرت ہے جو شاہی کے ہاں نہیں۔ نصرتی کے ہاں جسم کو چھونے اور اس سے لطف اندوز ہونے کی حسرت ہے جو شاہی کے ہاں نہیں۔ نصرتی اور شاہی کے قریبی تعلقات تھے۔ وہ صرف اس کے دربار کا ملک الشعرا تھا بلکہ اس کا جلیس بھی تھا۔ نصرتی سلطنت بیجا پور کے آخری دور کا سب سے بڑا شاعر ہے جس نے تین بادشاہوں محمد عادل شاہ، علی عادل شاہ ثانی شاہی اور سکندر عادل شاہ کا دور حکومت دیکھا ہے۔
نصرتی کی زبان معیاری دکنی تھی جس کا اظہار بیان کا ایک نیا معیار ''شعر تازہ'' کے نام سے خود نصرتی نے قائم کیا تھا۔
اگر دکن کی یہ سلطنتیں قائم رہتیں اور دکنی اردو کا یہ روپ قائم رہتا تو آج بھی نصرتی قدیم اردو کا سب سے بڑا شاعر قرار پاتا لیکن ہوا یہ کہ مغلوں کی فتح کے بعد شمالی ہند کی زبان دکنی ادب کی روایت پر غالب آ گئی اور تیزی سے سارے برعظیم میں ادبی اظہار کا واحد معیار بن گئی۔ تاریخ کی ستم ظریفی نے نصرتی کو چھوٹا اور ولی کو بڑا بنا دیا۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہو!
غزل فرمائے پر شاہی کھیا اے نصرتی جئوں توں
جگت گرپن پسند کرنے کوں کر کوشش اپس س سوں

یہی بات کر شکر حق لیا بجا
کھڑا رن پہ وہ شادیانے بجا
حوالہ جات
۱۔ فیروز اللغات از الحاج مولوی فیروز الدین
۲۔ ادبی تحقیق، ڈاکٹر جمیل جالبی
۳۔ اردو کی مختصر ترین تاریخ، ڈاکٹر سلیم اختر
۴۔ پنجاب میں اردو، حافظ محمود شیرانی
۵۔ دکن میں اردو، نصیرالدین ہاشمی
۶۔ آب حیات، مولانا محمد حسین آزاد
۷۔ تاریخ ادب اردو، ڈاکٹر جمیل جالبی
٭٭٭٭
پنجاب یونیورسٹی میں کتابوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ مادر علمی کی مامتا کتاب اور خواب کی صورت میں انقلاب کی آواز ملتی ہے اور انقلاب کئی قسموں کے ہوتے ہیں۔ جیسے آدمی زندگیاں گزارتا ہے۔ تبدیلی اور انقلاب میں فرق ہے مگر ہم صرف فرقہ واریت میں مبتلا رہتے ہیں۔ کئی برسوں سے کتاب میلہ پنجاب یونیورسٹی میں لگتا ہے اور ہر برس پہلے سے مختلف منظر نامہ لے کے آتا ہے۔ پچھلے برس اردو صحافت کے افتخار، بہادر اور بے باک انسان ڈاکٹر مجید نظامی نے افتتاح کیا تھا۔ وہ کتابوں کے ہر سٹال پر گئے۔ کتابوں اور کتابی چہروں کا ایک کارواں تھا جو ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ وہ بہت دیر تک یونیورسٹی میں رہے۔ اس برس وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر آئے۔ دوستانہ انداز کوئی وزیر اختیار نہیں کر سکتا جسے کتاب سے رابطہ نہ ہو۔ وہ دیر تک گورنمنٹ کالج لاہور کو یاد کرتے رہے۔ ہمارا زمانہ ایک ہی تھا۔ میں نے کہا کہ آپ ممبران اسمبلی کے لیے لازم کروا دیں کہ وہ زندگی میں ایک کتاب ضرور پڑھیں اور پوری پڑھیں۔ وہ کہنے لگے کہ میں خوش ہو گیا تھا کہ تم کہہ رہے ہو ممبران اسمبلی سے کتاب لکھوائیں۔ یہ تو آسان کام ہے وہ کوئی نہ کوئی کتاب کسی نہ کسی سے لکھوا لیں گے۔ البتہ ان کی جگہ کوئی دوسرا کتاب نہیں پڑھ سکتا۔ میرے پاس بیٹھے ہوئے ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد نے کہا کہ پھر ان کتابوں کو پڑھے گا کون؟ اس بار انتظامات میں ڈاکٹر زاہد نے بڑی دلچسپی لی اور صورتحال بہتر ہو گئی۔ رونق بھی بہت تھی۔ رونق تو ہمیشہ بہت ہوتی ہے۔
کتابوں کے ۱۶۰ سٹال لگے اور تین دنوں میں ایک لاکھ ۵۴ ہزار کتابیں فروخت ہوئیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کتاب دوست وائس چانسلر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کردار سازی اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے۔ مہنگائی کے دور میں کتاب تو سستی کرو۔ حکومت اس حوالے سے بھی خصوصی انتظامات کرے۔ اس کتاب میلے میں چھٹی کے دن لڑکے لڑکیوں کا ہجوم اور شہر کے باذوق خواتین و حضرات کی دلچسپی دیکھ کر حوصلہ ہوا کہ ابھی کتاب کلچر موجود ہے۔ (بشکریہ روزنامہ نوائے وقت)