مشین گردی(افسانے) از: آغا گل
مبصر: شاعر علی شاعر


اچھے اور بڑے افسانہ نگار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے معاشرے کا نباض ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے تلخ و شیریں تجربات کو پیرایۂ اظہار میں لاتاہے بلکہ عمیق مشاہدات کو بھی افاسنوی انداز میں بیان کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ بلوچستان کے نمائندہ افسانہ نگار جناب آغا گل میں بھی اسی قسم کی خوبیاں ہیں کہ وہ اپنے اطراف میں بکھری کہانیوں، داستانوں، سچی حکایتوں، حادثات، سانحات، الم ناک واقعات اور نئی جنم لینے والی کتھائوں کو اپنے افسانوں کے موضوعات بناتے ہیں اور پھر ان موضوعات سے متعلق تمام محاسن و مصائب کو بیان کرتے ہوئے افسانے کی بُنت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بلوچستان کے ماحول، معاشرے اور قبائل کے رسم و رواج کو اپنے افسانوں میں احسن طریقے سے بیان کیا ہے۔ آغا گل ایک نڈر اور بے باک قلم کار ہیں۔ انھوں نے ہر دورِ حکومت میں لکھا اور خوب لکھا ہے، انھوں نے کسی کی چاپلوسی نہیں کی، جو کچھ دیکھا، ٹھیک سمجھا… وہی لکھا۔ اُن کے اکثڑ افسانے بلوچی اور براہوئی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہیں۔ ان کے افسانوں کے عنوانات اور افسانوں میں در آنے والے بلوچی اور براہوئی الفاظ سے افسانوی حسن میں اضافہ ہوا ہے۔ آغا گل نے جس قدر اردو ادب میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اقوام و قبائل کو افسانوں میں متعارف کروایا ہے کوئی دوسرا افسانہ نگار ایسا نہیں کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انھیں بلوچستان کا نمائندہ افسانہ نگار قرار دیتے ہیں۔
ناشر: رنگ ادب پبلی کیشنز، کراچی
پتا: سیل اینڈ سروسز، کبیر بلڈنگ، جناح روڈ ، کوئٹہ
……O……