حرفِ سبز از: محسن چنگیزی
مبصر: شمس ندیم

محسن چنگیزی بلوچستان سے اردو غزل میں ابھرتا ہوا ایک نامور شخص ہے۔ اس کے تمام مجموعے ملکی سطح تک علمی حلقوں میں مقبول ہوئے ہیں۔ وہ یقیناً ایک سنہرا نام ہے جسے بلوچستان میں ہمیشہ قابل قدر نگاہ سے دیکھا جائے گا ۔ حال ہی میں ان کا تازہ مجموعہ کلام حرفِ سبز ادبی حلقوں میں سراہا جانے لگا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
بوند بھر پانی سمندر میں نہ تھا
یا کہ پھر میرے مقدر میں نہ تھا
سننے والوں سے سنا ہے کہ سکوں
شہر بھر کے ایک گھر میں بھی نہ تھا
منفرد خیالات اور خوب صورت لب و لہجہ رکھنے والا محسن چنگیزی اپنے معاشرتی اتار چڑھائو سے بھی بے خبر نہیں۔
اس شہر میں پہلے کبھی اچھے دنوں کی بات ہے
یہ زندگی تھی زندگی اچھے دنوں کی بات ہے
یہ ماجرا ہے آج کا رسوائے آب و نان ہیں
کرتے تھے دل کی نوکری اچھے دنوں کی بات ہے
آج کے افراتفری کے عالم میں جہاں دنیا بھر کے انسان خوف زدہ ہیں وہاں محسن چنگیزی جیسا شاعر تو اور بھی حساس ہو کر فکر مندی کے عالم سے گزرتا ہے شاعر کا دل ہی ہے جو تمام عالم کے غم میں دھڑکتا ہے۔
ٹپک رہا ہے لہو روز و شب کی مُٹھی سے
یہ عہد بیت رہا ہے کسی سزا کی طرح

ضمیر مار دیا ہے تو کیوں پریشاں ہو
کہ اس کے قتل کا کوئی گواہ تھوڑا ہے
ہجر و فراق کی پریشانی ہر انسان کے لیے ایک المیہ ہے اور شاعر کے لیے تو یہ ایک مستقل غم ہے۔ اس پریشانی کے رد عمل میں شاعر صرف شعر لکھ سکتا ہے اور اپنے غم کو دنیا پر عیاں کرتا ہے۔ محسن کے یہ شعر دیکھیں:
کچھ بھی تو ہم نے پسِ انداز نہ گھر پر رکھا
ایک دل تھا سو تیری راہ گزر پر رکھا
اپنا اک ہاتھ ہلاتے رہے ہم وقتِ وداع
اور اک ہاتھ کو اس دیدہِ تر پر رکھا
خوب صورت خیالوں کے شاعر محسن چنگیزی اپنے ہر شعر میں فکر کے ساتھ ساتھ الفاظ کی شائستگی بھی ادا کرتے ہیں جو دل میں اتر جاتے ہیں۔ ان کا یہ منفرد انداز اسے ممتاز بنا کر نامور کر دیتا ہے۔
یہ کیسی اڑتی حیرانی مرے حصے میں آئی ہے
کہ تتلی کی پریشانی مرے حصے میں آئی ہے
یہ ٹوٹی کشتیاں میری دریدہ بادباں میرے
کہ ہر دریا کی طغیانی میرے حصے میں آئی ہے
محسن چنگیزی کے اشعار میں زندگی کے نشیب و فراز اور غمِ جاناں اور غم دوراں دونوں نے اپنا اثر جھوڑ دیا ہے۔ اس لیے محسن کے اشعار میں غم کا بھرپور تاثر ملتا ہے۔
مٹی کے اختتام پہ پانی کے بعد بھی
گھر مل سکا نہ نقل مکانی کے بعد بھی

دل کبھی تیز دھڑکتا ہے کبھی آہستہ
آنکھ ہو جاتی ہے نمناک دعا سے پہلے
محسن چنگیزی یقیناً ایک بے بہا اثاثہ ہے ان کی منفرد غزلیں شعری دنیا میں اردو زبان کے لیے خوب صورتی کا باعث ہیں۔
روح میں اتری نمی سے گرد ساری دھل گئی
دھیمی دھیمی بارشوں میں بھیگنا اچھا لگا
گو کہ اک دن اور میری زندگی سے کم ہوا
شام کو سورج کا لیکن ڈوبنا اچھا لگا
……O……