ٹھوکا از: جاوید اختر چودھری
مبصر: زاہد ہمایوں

جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ ''ٹھوکا'' اپنی فضا بندی، کردار کی سیرت کشی، اُسلوب اور اپنے عنوان کے حوالے سے اردو افسانے کی روایت میں ایک ٹھوکا ہوا مجموعہ ہے۔ اُن کا یہ مجموعہ مارچ ۲۰۱۲ء میں منظرِ عام پر آیا، جو ۱۵افسانوں پر مشتمل ہے۔ تمام افسانے اُن کے گہرے مشاہدے ، لگن اور جذباتی وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ جاوید چودھری نے پاکستان اور یورپ کی تہذیب میں ایک عمر بسر کی ہے۔ دونوں تہذیبوں کے تصادم سے ان کی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ وطن سے محبت کے جذبات اور معاشرتی اصلاح ان کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ ان کے تمام افسانے معاشرے کے کسی نہ کسی طبقے کی زندگی کے حقائق پیش کرتے ہیں۔ دولت کمانے کی ہوس کس طرح انسان کو اپنے دیس سے دور لے جاتی ہے اور پھر کیسے اس کی زندگی گزرتی ہے۔ یہ سب کچھ وہ بڑی خوب صورتی سے بیان کرتے ہیں۔ ایک ایک جملہ احساس سے لبریز ہے۔ بلاشبہ اس مجموعے کا پہلا افسانہ ''باشٹر'' ایک کامیاب افسانہ ہے۔
افسانہ ''زلزلے کے بعد'' بھی ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت پر مبنی ہے۔ مصیبت کے لمحات میں کس طرح مجبوریوں کافائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ زلزلے سے بہت سے گھر زمین بوس ہو گئے۔ خیموں کی ضرورت بڑھ گئی۔ تو کس طرح حاجی اسلام دین خیموں کی قیمت دوگنا کر دیتے ہیں اور پھر اس پر کیسے مطمئن نظر آتے ہیں۔ انسانی ہمدردی سے عاری ایسے واقعات ہمارے معاشرے میں روز افزوں جنم لے رہے ہیں۔ جاوید اختر چودھری بڑی خوب صورتی سے ان واقعات کو کہانی کاروپ دیتے ہیں۔
ان کا طرز اسلوب نہایت دلکش اور دلفریب ہے۔ سادگی اور سلاست ان کے اسلوب کی جان ہے۔ وہ زندگی کافلسفہ بیان کرتے ہیں مگر بڑی خوش اسلوبی سے۔ کہیں بھی ان کا لہجہ ثقیل نہیں پڑتا۔ بڑے دھیمے لہجے میں بڑی بڑی باتیں کر جاتے ہیں۔ افسانہ ''عطرِ حیات'' میں وہ بیان کرتے ہیں:
''شہر کا غیر مسلم تاجر اپنے دہی کے ڈبوں پر حلال لکھوا کر کامیاب کاروبار کر رہا ہے۔ اس کا تیار کردہ دہی مسلمانوں میں خاصا مقبول ہے۔ ایسے ہی مچھلی کی فروخت میں حلال مچھلی/ حرام مچھلی، کا معاملہ بھی ہے۔ میں نے ایک گھر میں خانہ کعبہ کی تصویر کے نیچے گرو نانک کی شبیہ لٹکی ہوئی دیکھی ہے۔ سادہ لوح گھر والے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی پہنچے ہوئے مسلمان پیر کی تصویر ہے۔ ایسے مسلمانوں کی اکثریت لکیر کی فقیر ہے۔ جو بلاتحقیق پیڑھیوں سے چلے آتے علاقائی رسم و رواج کو اسلامی عقیدے کاحصہ مان کر انھیں بجا لاتے ہیں۔''
(افسانہ ''عطر حیات'' ص نمبر ۱۳۴)
مصنف نے کتنے سلیس اور سلجھے ہوئے لہجے میں کج فہم طبقے کی ترجمانی کی ہے۔ جاوید اختر چودھری اپنی کہانیوں میں خیالی یا فرضی کردار نہیں پیش کرتے بلکہ ان کے کردار گوشت پوست کے انسان ہوتے ہیں۔ جو سماج کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنے کردار برطانوی اور ایشیائی تہذیبوں سے منتخب کرتے ہیں۔ ان کے کردار سماجی برائیوں اور ناہمواریوں کو پوری آب و تاب سے پیش کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کے افسانے فنی طور پر چابک دست ہوتے ہیں۔ ان کانہ تو پلاٹ ڈھیلا ہے اور نہ ہی فضا بے ہنگم ۔
جاوید اختر چودھری نہ صرف کامیاب افسانہ نگار ہیں بلکہ اچھے مضمون نگار اور پختہ شاعر بھی ہیں۔ ''حصارِ ذات''، اِک فرصت گناہ''، ''سوہاوہ میری بستی کے لوگ''، ''حرفِ دعا''، ''شیرازہ''، ''ہم صورت گر کچھ خوابوں کے'' اور ''ٹھوکا'' ان کی تصانیف ہیں۔ وہ ایک عرصہ سے برمنگھم (برطانیہ) میں اردو شعر و ادب کی آب یاری کر رہے ہیں۔
''ٹھوکا'' ہر لحاظ سے ان کا کامیاب افسانوی مجموعہ ہے۔ وہ بڑی مہارت سے اپنی تہذیب، اپنے وطن کی زندگی اور دیار غیر میں گزرنے والے روز و شب سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔
اپنے افسانہ ''ٹھوکا'' میں انھوں نے ایک بڑھئی امام بخش کی کہانی بیان کی ہے۔ ذرا جملوں کا کرب ملاحظہ فرمائیں:
''آپ کو تو معلوم ہے پنجاب میں بڑھئی کو حقارت سے ''ٹھوکا'' کہتے ہیں۔ محض ایک گرا پڑا انسان… کمی کمین… لوگوں کی منجھیاں اور پیڑھیاں ٹھوکنے والا … معمولی آدمی … دوسرے دن میں نے اپنے آفس میں باہر ''رحیم بخش ٹھوکا'' لکھوا لیا۔ اب لوگ مجھے ٹھوکا صاحب کہنے لگے ہیں۔''
''رحیم بخش ٹھوکا'' کا باپ امام بخش ایمان دار اور رزق حلال کمانے والاتھا۔ منجھیاں پیڑھیاں ٹھوک کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتا ہے۔ تاکہ اپنے باپ کا نام روشن کریں۔ کیسے معمولی لوگ غیر معمولی کاوشوں سے اپنے بچوں کو کامیاب اور مثالی بنا دیتے ہیں۔ افسانہ نگار نے بڑے مؤثر پیرائے میں اس کہانی کو سینچا ہے۔ یہ افسانہ افسانوی ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔
محنت کسی کی جاگیر نہیں ہوتی۔ جب ہمارے ماں باپ ہمارے اعلیٰ منصب کے لیے خود کو قربان کر دیتے ہیں تو اعلیٰ عہدہ ملنے پر ہم اپنے اجداد کے پیشے کو ظاہر کرنا کیوں کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ نام نہاد تعلیم یافتہ طبقے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ احساس، کرب، طنز اور جذباتیت سے لبریز ہے یہ افسانہ۔
جاوید اختر چودھری کے افسانوں میں رچی بسی صداقت اور لہجے کی بے ساختی انھیں کامیاب افسانہ نگار بناتی ہے۔ جس سے ان کا اسلوب دل کش ہوتا ہے۔ بلاشبہ ان کے تمام افسانے بہترین ادب کی آب یاری کرتے ہیں۔
برقی پتا: jachoudhry@yahoo.com.uk
……O……