اعتراف (شخصی خاکے) از: سعید اکرم
مبصر: ڈاکٹر بشیر منصور


ہم کہ جو بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں؛ جن کے پاس اپنے پُرکھوں کو یاد کرنے کا بھی وقت نہیں؛ جو اپنے ماضی سے کٹتے چلے جا رہے ہیں؛ جن کے پاس پلٹ کر دیکھنے کی فرصت نہیں؛ جنھیں اپنی ذات کے سوا کچھ یاد نہیں … ہمارے درمیان سعید اکرم کا وجود غنیمت ہے کہ جو اپنے اسلاف کو یاد کرتے ہیں؛ اپنے اساتذہ کی داستان سناتے ہیں؛ گئے زمانوں کا قصہ کہتے ہیں؛ ماضی سے کلام کرتے ہیں … مجھے یقین ہے کہ سعید اکرم کی یہ کتاب پڑھ کر سب علم بانٹنے والوں کے من میں یہ خواہش ضرور جنم لے گی کہ کاش ان سے کسب فیض کرنے والوں میں بھی کوئی ایک تو سعید اکرم ہو؛ جو انھیں یاد کرے؛ ان کا قصہ کہے؛ جو بہت سا وقت گزر جانے کے بعد ایک بار پھر ان کی ذات کا اعادہ کرے؛ جو ان کی محنتوں کا اقرار کرے؛ جو ان کی محبتوں پہ ان کا شکر گزار ہو۔
سعید اکرم کی یہ کتاب خراج عقیدت ہے۔
یہ خراج عقیدت ہے ان ہستیوں کو جن کی ذات خلوص سے عبارت تھی؛ جو خود غرضی کے مفہوم سے نا آشنا تھے؛ جو سچے تھے، کھرے تھے؛ جن کے دم قدم سے ہمارا معاشرہ سکھ کا سانس لیتا تھا؛ جن کے دلوں میں سب کے لیے پیار بستا تھا؛ جنھوں نے ارد گرد موجود لوگوں کو اپنوں اور پرائیوں میں بانٹ نہیں رکھا تھا؛ وہ سب کے اپنے تھے اور سب ان کے اپنے تھے؛ اپنائیت ہی ان کی پہچان تھی؛ محبت ہی ان کا نشاں تھی… آفرین ہے سعید اکرم کے لیے کہ جنھوں نے ان ہستیوں کو یاد رکھا کہ ''زندگی ان کے تصور سے جِلا پاتی تھی۔''
سعید اکرم اس کتاب میں اپنے اساتذہ کو یاد کرتے ہیں مگر ان کا انداز ایسا ہے کہ افراد کے پردے میں ہمیں پورے ایک عہد سے روشناس کرا دیتے ہیں۔ وہ گئے دنوں کی کہانی سناتے ہیں؛ گزرے وقتوں کا احوال بیان کرتے ہیں۔ ان کا موضوع بظاہر تو افراد ہیں مگر وہ افراد محض چند افراد نہیں … وہ ایک عہد ہیں … وہ ہمارا خوبصورت ماضی ہیں … اور سعید اکرم ان افراد کے آئینے میں اس خوب صورت ماضی کی کتھا سناتے ہیں۔
سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
مہکتے میٹھے دریائوں کا پانی
نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصر
دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی
اور سعید اکرم نئی دنیا کے ہنگاموں میں دب جانے والی آوازوں کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ وہ اس عہد کا قصہ سناتے ہیں جس کی معاشرت کا سارا حسن ہی ''سانجھ'' کے تصور پر مبنی تھا … سانجھے سکھ، سانجھے ویہڑے، سانجھی مائیں … وہ لکھتے ہیں:
''ہر گھر ہمارا اپنا گھر تھا۔ ہم میں سے کسی کو گھر پہنچنے میں دیر ہو جاتی تو کبھی ایک چھت، کبھی دوسری چھت سے آواز آتی ''ابھی … نہیں آیا''۔ ہم میں سے کوئی بیمار ہو جاتا تو ساری مائیں اس پر چھاں کر لیتیں۔ ہم میں سے کسی کو گھر سے ڈانٹ پڑتی، وہ رونے لگتا تو اس کی کوئی دوسری ماں اسے پکڑ کر اپنے گھر لے جاتی۔ سارے ویہڑے ایک ساتھ سانس لیتے۔
کبھی گائوں میں اپنے اک گلی تھی
کبھی چھت ایک تھی سارے گھروں کی''
سعید اکرم اس ماضی کا قصہ کہتے ہیں جب گائوں کے گھروں کے دروازے نہیں ہوتے تھے کہ سرِ شام بند کر دیے جائیں۔ دیواریں نہیں ہوتی تھیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ کر دیں۔ بس چھتیں ہی چھتیں ہوا کرتی تھیں کہ جو سب کے سروں کو زمانے کے گرم سرد سے یکساں بچایا کرتی تھیں … سعید اکرم کی تحریروں میں یہ عہد سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔
سعید اکرم کی یہ کتاب خوبصورت یادوں کا مرقع ہے۔ ایسی یادیں جو اس عہد کے کم و بیش ہر فرد کے دل میں بسی ہوئی ہیں مگر جنھیں الفاظ کا روپ دے کر محفوظ کرنے کی سعادت سعید اکرم کے حصے میں آئی۔
ناشر: دارالنوادر، الحمد مارکیٹ، اردو بازار، لاہور
……O……