پنجاب سیکنڈ نیوین لسانی سانجھ کا اردو ترجمہ
از: شریف کنجاہی ترجمہ: صبح میر
مبصر: پروفیسر یٰسین بیگ مرزا

 


صبح میرؔ نے جس عالمانہ مہارت سے پروفیسر شریف کنجاہی صاحب کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ یہ بذات خود ایک ادبی کمال کا کارنامہ ہے۔ الفاظ کے برجستہ استعمال پر دنیا کے ادب میں جن لوگوں کو فضیلت حاصل تھی ان میں میر تقی میر، غالب اور سودا کے علاوہ مولانا ظفر علی خان، میرانیس اور نظیر اکبر آبادی نمایاں تھے۔ ترجمہ کے معاملے میں شریف کنجاہی صاحب اور اسی حلقہ کے ممتاز ادبی سکالر ڈاکٹر مظفر حسن ملک بھی کلاسیکی ادب کو اردو میں منتقل کرنے کی ماہرانہ کاوش کر چکے ہیں۔ صبح میر نے اس منفرد کتاب کو اردو میں منتقل کرنے کے علاوہ پس منظر Perspectiveکی مطابقت کو اپنے صحیح پیرائے میں بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
صبح میر کی یہ کاوش یقیناً قابل ستائش ہے۔ یہاں ان کے ایک اور انکشافاتی ادبی کارنامہ کا ذکر بھی ضروری ہے جو انھوں نے ''کلام اقبال اور شریف کنجاہی'' کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ دراصل علم و ادب کے بعض شعبوں میں تحقیق کے لیے نئی طرح کی سہ طرفی Dimensionsمیں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان میں Philologyاور Etymologyکے شعبے نہ صرف تاریخی بلکہ جغرافیائی کے ساتھ ساتھ تمدنی اور تہذیبی معلومات میں بھی اچھی خاصی دسترس کا تقاضا کرتے ہیں۔ تحقیق کا یہ انداز استقرائی کھوج استخراجی نتائج سے حاصل شدہ معلومات کے حوالہ جات سے مرتب ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی بھی تحقیق کے فن کو تخلیقی عمل قرار دیتے ہیں۔ صبح میر کو بھی کئی طرح کے تقابل مترادف اور متضاد ذخیرہ الفاظ سے گزرنا پڑا۔ ان کے پاس المیر ٹرسٹ لائبریری ، Encyclopediasاور ریفرنس بکس اور Al-Manacs کے علاوہ آئی۔ ٹی کا جدید اور وسیع Mediaبھی معاونت فراہم کرتا رہا۔ گوگل، یاہو اور یوٹیوب ایسے کھوج لگانے والے میکانزم ہیں جو موجودہ دور کے ریسرچ سکالرز کے لیے محرک ثابت ہوئے ہیں۔ صبح میر کی ان ذرائع تک رسائی یقیناً ترجمہ کے عمل میں ممد ثابت ہوئی ہو گی۔
صبح میر نے ترجمہ کرتے ہوئے حسن ترتیب کو حسن بیان سے مربوط کرتے ہوئے ناروی الفاظ، سویڈنی الفاظ، ڈنمارکی الفاظ، آئس لینڈی الفاظ، فنی یوگری یعنی ایستونی الفاظ کے ساتھ ساتھ فنِ الفاظEtymologyکا ادراک کرتے ہوئے وہ الفاظ جو ماخوذ ہیں یا جن کا استخراج جغرافیائی صورت حال سے وابستہ ہے۔ اس ترتیب کا بھی خیال رکھا ہے۔ ماہرین ارضیات نے گنگا اور جمنا کا بحر ہند میں گرنااور انسانوں کے مسکن کا صحرائے تھر سے حوالہ بظاہر تو عجیب سا لگتا ہے مگر یہ بھی تو دیکھا جائے چار ہزار ملین سال پہلے یہ کرہ ارض کون کون سی جغرافیائی تبدیلیوں سے گزرا اور پھر Ecological نقطہ نظر سے انسان کے لیے کون سے حالات استوار ہوئے اور پھر کیا انسان کی کوکھ بقول پروفیسرDr. Warnerاور Prof. Ryhsشمال جرمنی یا سیکنڈنیویا سے تھا۔ پروفیسر شریف کنجاہی نے تجریدیت کو مدلل انداز میں علم philologyکو مدنظر رکھتے ہوئے مقرون اور واضح صورت میں پیش کیا ہے اور تحقیقی تراکیب کی جس ماہرانہ انداز میں صبح میر نے ترسیل کی ہے یہ ماہرین لسانیات کو مزید تحقیق کے لیے متحرک کرنے کی ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ چند صدیوں میں ارتباط میں فعالیت کی وجہ سے زبانوں کے اشتراک اور حلول کی نسبت سے تبدیلیاں آئیں۔ بہت سے الفاظ متروک ہوئے اور ان کی جگہ نت نئے الفاظ نے جنم لیا جو لب و لہجہ اور کلچرل ضروریات کے تحت زبانوں نے نہ صرف قبول کیے بلکہ ان میں جذب بھی ہوگئے۔ تاہم یہ بات تو کلیدی اہمیت کی حامل ہے کہ لسانی ترقی تہذیب و تمدن کی ترقی سے وابستہ ہے اور اس کے لیے لچک یا الفاظ و تراکیب کی قبولیت ہی ترویج کا باعث بنتی ہے۔ صبح میر نے ترجمہ کے ذریعے ایک ایسی روشنی کی کرن دکھا دی ہے جس سے مزید کئی طرح کی شعاعوں کے انکشافاتی عمل کا ظہور ہوگا۔
ناشر: المیر ٹرسٹ لائبریری و مرکز تحقیق و تالیف بھمبر روڈ، گجرات
……O……