کلام اقبالؒ اور شریف کنجاہی از: صبح میر
مبصر: انور سلیم کنجاہی

''کام'' یوں تو ایک معمولی سا لفظ ہے لیکن یہ اپنے اندر جس قدر گہرائی سموئے ہوئے ہے اس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ روز مرہ کے معمولات بھی ''کام'' میں شمار ہوتے ہیں۔ موجودہ دورِ پُرآشوب میں زندگی سے الجھے ہوئے مسائل سے نبرد آزما ہونا بھی ایک کام ہے لیکن کچھ کام وہ ہوتے ہیں جنھیں بڑا کام کہا جا سکتا ہے۔ بڑا کام کرنے کے لیے کسی شخصیت کا خود قد آور اور جسیم ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ بڑا کام سر انجام دینے کی سعادت کسی ایسی شخصیت کو بھی نصیب ہو سکتی ہے جو خود اپنی ذات میں بہت ہی مختصر ہو۔ چھوٹی سی عمر اور کمزور سی جسامت اور پتلے پتلے بازوئوں کی مالک پیاری بیٹی عزیزہ صبح میر نے اتنی چھوٹی عمر میں جو بہت ہی بڑا گرانقدر اور شاندار کام کیا ہے، اس کی ایک زندہ مثال اُن کی ترتیب دی ہوئی کتاب ''کلام اقبال اور شریف کنجاہی '' ہے جو میرے سامنے موجود ہے۔
جہاں تک شاعر مشرق مصور پاکستان حضرت علامہ سر محمد اقبالؒ کی ذات کا تعلق ہے وہ ملت اسلامیہ کا وہ ستون ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ امت مسلمہ، ملت اسلامیہ کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے چن لیا تھا جس کا ثمرہ ہمیں انھوں نے پاکستان کی شکل میں ایک آزاد اور خود مختار ملک دیا ہے۔ ان کے فلسفۂ خودی ، افکار اور آفاقی شاعری کے علم کو آسان، سلیس اردو اور پنجابی سلیس زبان میں ترجمے کے لیے بھی راقم الحروف اور عزیزہ صبح میر کے استاد محترم جناب پروفیسر شریف کنجاہی کی ذات کو چنا۔ تو انھوں نے بھی اس ذمے داری کو بڑی کامیابی کے ساتھ نبھایا جو کہ انہی کاحصہ تھا۔ اور کوئی شخصیت اس کام کو ذمے داری، خوش اسلوبی اور علمی قابلیت اور ذہانت سے سر انجام نہیں دے سکتی تھی۔
میں عزیزہ پیاری بیٹی صبح میر کی اس کاوش کو اردو اور پنجابی ادب کے طالب علموں کو یہ گرانقدر اور انمول مواد فراہم کرنے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ مجھے امید ہے انشاء اللہ موجودہ کتاب ''کلام اقبال اور شریف کنجاہی'' بلاشبہ تحقیقی ادب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے لیکن حتمی فیصلہ ناقدین و قارئین اور آنے والا وقت ہی کرے گا۔
تقریباً ایک سو سال سے زیادہ کی ادبی تاریخ اور اپنے مشاہیروں کی فکر اور مثبت سوچ اور فلسفے کی پوتھیوں کو کھنگالنا اور آلات غوطہ زنی کے بغیر سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر اپنی قوم کے سامنے کتاب کی صورت میں پیش کرنا بڑی اہمیت کی بات تھی۔ یہ چیز توفیق خداوندی کے ساتھ ساتھ قومی جذبہ، لگن اور محنت کا بھی کام تھا۔ جس نے انہونی کو ہونی میں بدل دیا۔ اس سارے کام کے دوران ہماری بیٹی صبح میر کو کن کن دشواریوں اور کتنے صبر آزما حالات سے نبردآزما ہونا پڑا۔ اس کا ہم اندازہ نہیں کر سکتے۔ میرے بڑے ہی قابل احترام عزیز دوست جناب عارف علی میر بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی تربیت نے بیٹی کو یہ کام مکمل کرنے کی صلاحیت بخشی۔
ناشر: المیر ٹرسٹ لائبریری، بھمبر روڈ، گجرات
……O……