علی عادل اعوان
ہزیمت

''لڑوںگا۔۔۔۔''ساری طاقت لگا کے اتنی زور سے وہ بولا کہ روایتوں کا تقدس لڑکھڑانے لگا۔
''تڑاخ۔۔۔۔''
اور اب کی بار پرندے ایسے اُڑے جیسے اُن کا کوئی ساتھی حلال ہو گیا ہو۔
٭٭٭٭
دونوں بیلوں کے کندھوں پر پنجالی ڈال دی گئی،رسیاں کسیں گئیں۔شکرے کوتودوہی لوگوں نے قابوکرلیا،مگر بجلی قابومیں نہیں آرہاتھا،ہردولمحے کے بعد ایسالگتاکہ ابھی گیاکہ ابھی گیا۔اسپیکرپراعلان ہورہا تھاکہ چوہدری اللہ یار کی جوڑی کے بعدپڑکااختتام ہوجائیگا۔دونوں بیلوںکوپنجالی میں جکڑنے کے بعد ماجُو نے گردن پر پنجالی میں اپناسر ایسے ڈال لیا کہ اُس کا رُخ بیلوں کی طرف تھااورکندھے بیلوں کی گردنوں کے بیچ حائل ہوگئے تھے۔ اُس نے پوری قوت سے چار اور لوگوں کی مددسے بیلوں کو دھکیل کر لائن کے پہلے سرے پر پہنچادیا۔ ماجُوکے پاؤں پوہلی کے کانٹوں سے بھر گئے تھے مگر اس کی اُسے کوئی پروا نہ تھی۔سرے پر پہنچ کرماجُو نے بجلی کی طرف سے پنجالی کا گتہ پکڑا، ماجُو عقب سے ڈنگری پر سوار ہوااور قمرنے سامنے سے بیلوں کو چھوڑدیا،ایک نعرہ بُلند ہوا اور ماجُو نے چار قدم دوڑ کر بجلی کی کمرپرزوردار ہتھڑ مارا، گتہ چھوڑ دیا اورنعرہ لگایا ''شابا پُتر'' ہر چھلانگ کے ساتھ بجلی کو آخری واریادآتا رہااوروہ شکرے کے سنگ انتہائی رفتار سے لائن کے دوسرے سرے سے پارنکل گیا۔ ماجُو کا بیٹا رشید اور اُس کے دوست بھاگ کر نہ پکڑتے تو بیل ملائے نہ ملتے۔ نمبر سنائے گئے تو چوہدری اللہ یار کے بیلوں نے واضع فرق سے مقابلہ جیت لیا۔ لوگ بھنگڑے ڈالنے لگے، مہمانِ خصوصی نے باباسائیں کے مزار کا جھنڈا چوہدری اللہ یار کو دِیا کہ اِس کا ٹھکانہ اب چوہدری کا ڈیرہ تھا۔لوگ اللہ یار کو کندھے پر اُٹھاکر ڈیرے کی طرف نعرے لگاتے ہوئے پہنچے۔
رات دیر تک اللہ یار کے ڈیرے پر بیٹھک جمی رہی۔بیلوں کے ساتھ ساتھ ماجُو کی تعریف بھی ہوتی رہی۔ کچھ نوجوان شِکرے اور بجلی کی مالش میں مصروف رہے۔ قمر نے کہا
''چوہدری صاحب! اپنا ماجُو بھی بیلوں سے کم نہیں ہے، میں نے پہلے سرے پر دو گھڑی کے لیے شکرے اور بجلی کو پکڑا، بابا سائیں کی قسم ابھی تک کمر کی رگیں اکڑی ہوئی ہیں''۔
چوہدری نے ماجُو کی کمر تھپکی اور بولا ''بجلی نے بھی تو اِس کے ساتھ خوب وفا کی نا؟ کیوں ماجُو؟ اس پر سب نے زوردار قہقہ لگاہا۔ چوہدری نے انعام کی رقم میں سے دو ہزار ماجُو کو نِکال دیے۔ ماجُو کے بھائی بلال نے اُنھیں دو ہزار میں سے پانچ سو روپے ماجُو سے لے کر مزار کی تعمیر کے لیے چوہدری اللہ یار کے بیٹے رضوان کو دے دیے جو مزار کمیٹی کا سربراہ تھا، ماجُو نے بُرے دِل سے پیسے تو دے دیے مگر اندر ہی اندر بَل کھا کے رہ گیا۔
ایسا نہیں تھا کہ ماجُو کو بابا سائیں کے مزار سے عقیدت نہیں تھی، وہ ہر سال میلے سے پہلے کچھ رقم میلہ انتظامیہ کو دیتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اکثر مزار پر دِیا جلا کر دُعا بھی مانگتا تھا۔ لیکن اُسے ہمیشہ شک رہتا کہ رضوان رقم میں ڈنڈی مارتا ہے۔ مگر اِس کا ذکر وہ کسی سے نہ کرتا کہ لوگ اُسے بُرا کہیں گے کیونکہ اکثر لوگ رضوان کی ایمانداری کے قائل تھے۔ اور وہ چوہدری کی نظر میں بُرا بھی نہیں بننا چاہتا تھا حالانکہ اب وہ چوہدری سے بھی چڑھنے لگاتھا۔ وہ چوہدری کا کمّی تھااور سارا سال چوہدری کے بیل دوڑاتا، اُن کو سنبھالتا اور اِس کے عوض کچھ مَن گندم لیتاجودوماہ میں ہی ختم ہو جاتی۔ اِس بات پر اُس کے دوست بھی اس کا مذاق اڑاتے کہ وہ اپنی جان چوہدری کے بیلوں سے ساتھ لگا دیتا ہے اوراُس کے بدلے میں اتنی کم مزدوری ملتی ہے،اگر اتنی محنت اپنا بیل خرید کر کرے تو چند ماہ میں لاکھوں کما لے۔ پہلے تو وہ یہ سب پاتیں کانوں میں مارتا رہا مگر اب اُس کو کچھ اور سوجھی تھی۔
ماجُو گھر پہنچا ، بوڑھی ماں سے دُعائیں لیں۔ ابھی لیٹا ہی تھا کہ اُس کا بھائی بلال بھی آگیا۔ باتوں باتوں میں ماجُو نے بھائی سے حطار گاؤں کے مالکوں کے بیل کا ذکر کیا تو بلال نے اُسے بتایا کہ اُس بیل کے دوڑنے کے دن گئے، وہ توآج ملکوں کے نئے بیل کے ساتھ بھی نہیں دوڑ پایا۔ مگر ماجُو بضد تھا کہ اگر اُس کی خدمت کی جائے تو وہ بجلی اور شکرے کو بھی پیچھے چھوڑ دے۔ بلال نے اُس سے پوچھا کہ وہ اُس بیل کے بارے میں کیوں اِتنا فکرمند ہے تو ماجُو نے اُسے بتایا کہ آج اُس نے پِڑ پر ہی اُس بیل کا سودا کر لیاہے اور وہ صبح اپنی گوری گائے بیچ کر اور کچھ اُدھار لے کر بیل لے آئیگا،اُس کی خوب خدمت کر یگا اور اگلی دوڑ پرمقابلے میں اتاریگا اور پھرمنہ مانگی قیمت پر بیچ دیگا۔ یہ سُن کر بلال نے سر پکڑ لِیا اور ماجُو سے کہاکہ ''بتاؤ بھلا ملکوں سے زیادہ بیلوں کی خدمت کون کرتا ہے؟ اگر اُن کے پاس رہ کر بھی جھارا کچھ نہیں کر سکا تو اب کیا کریگا؟''۔ جس پرماجُو کو غصہ آگیااور بولا ''تُو چوہدری کا وکیل ہے بس وکیل ہی رہ۔مَلکوں کے پاس صرف دولت ہے اور بیلوں کے لیے دولت کے بجائے عقل کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور دیکھنا گرمیوں کے میلے میں یہی جھارا بجلی اور شِکرے کے آگے پیچھے ہوگا''۔ بلال نے بھائی کو بہت سمجھایا کہ عقل سے کام لے مگر ماجُو نہ سمجھنا تھا نہ سمجھا۔ اگلی صبح گائے بیچ کر باقی ملکوں سے اُدھار کرکے، جھارا لا،اپنے گھر باندھ لیا۔
اَب ماجُو چوہدری کے بیلوںکو پہلے جیسا وقت نہ دیتا چوہدری کے بیلوں کے کام کو بیگار سمجھتا اور اونے پونے اُن کو چارہ ڈال، ہلکی پھلکی مالش کر کے جلد ہی چوہدری کے ڈیرے سے بھاگ کھڑا ہوتااور اپنے بیل کو بھوکے پیٹ ورزش کرواتا،پھر چارا ڈالتا اور خوب مالش کرتا۔چوہدری نے توماجوکے اِس بدلاؤ نظر انداز کر دیا۔ لیکن رضوان سے یہ
بات ہضم نہ ہوئی۔ روز جب ماجُو شکرے کی مالش میں مصروف ہوتا تو رضوان پاس آ بیٹھتا اور ماجُو کے بیل کا مذاق اُڑاتا اور کہتا ''اوئے ماجُو! تجھے اور کوئی بیل نہیں مِلا تھاعلاقے میں جو جھارا اُٹھا لایا؟ٹڈی جیسا تو اِس کا سَر ہے ہاہاہاہا۔۔۔ اوے یہ وہ ہی جھارا ہے نا جو پچھلے میلے پر آدھی لائن بھی نہیں دوڑ پایا تھا؟''
ایسے موقوںپر ماجُو بہت مشکل سے اپنا غصّہ قابو کرتا۔ ایک دن رضوان بولا ''اوے ماجو! یار شکرا بیمار ہے میرا نہیں خیال کہ اِس دوڑ تک وہ تیار ہوگا میں سوچ رہا ہوں کہ بجلی کا جوڑا تیرے جھارے سے کر دوں کیا کہتا ہے تُو؟'' ماجُو اپنے دل کی آواز سُن کر خوشی سے پھول گیا لیکن اگلے ہی لمحے رضوان نچلا ہونٹ لٹکا کربولا ''لیکن پھر سوچتا ہوں کہ جھارے کی گردن پِڑ کے باہر سے کون اُٹھا کر لائے گا''۔ اب ماجُو کی قوّت برداشت جواب دے گئی اور وہ چوہدری سے شکایت لگانے چل دیا۔
چوہدری نے رضوان کو ڈانٹا اور ماجو کو پاس بٹھا کر کہنے لگا ''ویسے یار کہتا تو وہ بھی ٹھیک ہے، اوے جھلیا! جھارے کے گٹّے گوڈوں میں واقعی ہی جان نہیں ہے۔ تونے بیل ہی خریدنا تھا تو مجھ سے مشورہ کیا ہوتا۔ ایک سے ایک اچھا بیل گاؤں میں موجود ہے۔اور بجلی اور شکرا بھی تو تیرے اپنے ہی بیل ہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ تُو اِن پر اب توجہ نہیں دیتا''۔ یہ سننا تھا کہ ماجُو تڑپ اُٹھا اور بولا ''دیکھ چوہدری اپنی نصیحتیں پاس رکھ ، جھارا مجھے پسند تھا میں لے آیا ۔ اُس کے گٹّے گوڈوں میں کتنی جان ہے وہ پِڑ پر پتہ چلے گا، اور اگر میں تمہارے بیلوں پرتوجہ نہیں دیتا تو کوئی اور ڈھونڈ لو۔ میں ایک دوڑ پر نہیں گیا تھا تو بجلی تم سے چھروا گیاتھا، میں بھی دیکھتا ہوں پِڑ پر بجلی کو ماجُو کے علاوہ کون قابو کرتا ہے۔ اور ہاں اگر میں ملکوں سے بیل لے سکتا ہوں تو وہ مجھے جوڑا بھی دے دینگے۔ اور اب کے بابا سائیں کے مزار کا جھنڈا ماجُو کے ڈیرے پر لہرائے گا۔ رب راکھا''۔ ماجُو اُٹھ کر چل دیا۔ رضوان غصے میں بولا ''بس ابّااِس کے بھی گوڈوں میں شام تک جان نہیں رہے گی''۔چوہدری نے غصّے سے رٖضوان کو گھورا اور بولا ''حرام کی اولاد خبردار جوتونے کچھ بھی اُلٹا سیدھا کیا ۔ جلدی سے قمر اور جیدے کو بُلوا''
جب دونوںآگئے تو چوہدری نے حقّے کی نے منہ سے ہٹائی اور بولا ''کیوں بھئی تم میں سے بھی کوئی چوہدری اللہ یار سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے؟'' جیدا بولا ـچوہدری صاحب کیسی باتیں کرتے ہیں آپ، ہماری یہ مجال؟'' چوہدری بولا '' یاد رکھو آگے سے بھلا بجلی اور شکرا ایک چھلانگ نہ لگائیں مگر اس بار باباسائیںکا جھنڈا میری حویلی پر نہ لہرایا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔اور بھلے چار لوگ فالتو لگا لینا لیکن اگر اس بار بجلی پِڑ پر تم لوگوں سے چھڑوا گیا تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا۔اور اوے جیدے خبردار جو تونے ملکوںکے بیل پر سواری کی ۔ اور یاد رکھنا تمہارے علاوہ بھی گاؤںسے کوئی ماجُو کے بیل کو ہاتھ نہ لگائے۔ماجُو ماجُو ماجُو پتہ نہیں ماجُو نہ ہو گیا کوئی بلا ہو گئی۔ میں بھی دیکھتا ہوں کون لہراتا ہے بابا سائیں کا جھنڈا اِس حویلی کے سوا کہیں اور''۔
اُدھر ماجُو نے چوہدری اللہ یار کے حریفوں حطار گاؤں کے ملکوں سے اپنے بیل کا ورا کرلِیا۔ ماجُو کے بیٹے رشید نے گاؤں بھر میں ہنگامہ کھڑا کر رکھا تھا کہ چوہدری کے بیل میرے باپ کی وجہ سے جیتتے تھے اب چوہدری کو لگ پتہ جائیگا۔ ماجُو کے بھائی بلال نے خطرے کو بھانپ لِیا اور بھتیجے کو شہر اپنی بہن کے گھر بھیج دیا۔اور بھائی کو سمجھایا کہ ہمارا چوہدری سے کوئی مقابلہ نہیں ہے ہم مشکل سے گزارا کر رہے ہیں اور وہ چوہدری ہے۔اُس کی ملکوں کے ساتھ پرانی دشمنی ہے، اور ملک داؤد تجھے چوہدری کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔مگر ماجو نہ مانا۔بالآخر بلال کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور اس نے بھائی کو یقین دلایا کہ وہ اسکے ساتھ ہے۔ اب میلے میں ہفتہ باقی تھا۔
آج میلے کا آخری دن تھا اور بیلوں کی دوڑ تھی۔ پِڑ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔باری باری جوڑیاں دوڑ رہی تھیں۔اسپیکر پر اعلان ہوا کہ ملک داؤود اور مجاہد کی جوڑی آخر میں دوڑے گی۔اُدھرجیدے اور قمر چوہدری اللہ یار کے بیلوں کو پکڑے پہلے سرے پر کھڑے تھے۔ بیلوں پر پنجالی ڈال دی گئی،بجلی کو قمر نے نتھ سے قابو کیا ہوا تھا۔ پہلے سرے پر جب جھنڈی گری تو ایک نعرہ بلند ہوا ''آیا بجلی'' اور سب کی نظریں اُدھر ٹِک گئیں۔ بجلی اور شکرا دیکھتے ہی دیکھتے لائن کی دوسری طرف سے نیکل گئے۔ رضوان ماجُو کے سامنے کھڑا ہو کر تڑاتڑ ہوائی فائر کرنے لگا۔ ملک داؤود ماجُو کو پکڑ کر دوسری طرف لے گیا۔ جوڑیاں ایک کے بعد ایک دوڑتی رہیں لیکن بجلی اور شکرے والا مزہ کسی نے نہ دیا۔دوڑ ختم ہونے میں اب کچھ دیر تھی۔ ماجُو اپنا بیل پکڑ کر پہلے سِرے پر کھڑا تھا۔ ملک داؤود کا بیل پاس لایا گیا، پنجالی گردن پر ڈال کررسیاں کسیں گئیں،ایک نعرہ بلند ہوا ''ہلاآآآآ'' ماجُو نے چار قدم دوڑکر ہتھڑ مار کر اپنے بیل کا گتّہ چھوڑ دیا۔لیکن گتّہ چھوڑنا تھا کہ بیل لائن سے ہٹ کر لوگوںکی پالی کی جانب دوڑ کھڑے ہوئے۔ لوگ بھاگ کر اِدھر اُدھر ہو گئے اور بیل پڑ سے دورنکل گئے ۔ماجُو سر پر ہاتھ رکھ کر پگڈنڈی پر بیٹھ گیا۔
نمبر سُنائے گئے تو چوہدری اللہ یار گاؤں سوک کے بیلوں نے پھر میدان مار لیا۔ سارا گاؤں ڈھول کی تھاپ پر رقصاں تھا۔
چوہدری نے ماجُو کو ڈیرے پر بلوایا مگر ماجُو ساری رات مکان کی چھت پراکیلا بیٹھا رہا۔ صبح ماجُو دیر سے اُٹھا تو دروازے پر دستک ہوئی، ماں نے ماجُو کو آواز دی وہ چھت سے نیچے آیاتو چوہدری اللہ یار چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ ماجُو سامنے والی چارپائی پر آبیٹھا۔ چوہدری اُٹھا اور ماجُو کے پاس آکربولا ''اوئے یار اتنا غصّہ نہیں کرتے ۔'' ماجُو نے خالی نگاہ چوہدری پر ڈالی تو چوہدری بولا ''دیکھ نا یار! جھارا ہار گیا تو کیا ہوا؟ اوئے پگلے! شِکرا بھی تو تیرا بیل ہے۔ شِکرا جیت گیا تو سمجھ تو جیت گیا۔ چل کر دیکھ صبح سے ایک تنکا بھی نہیں کھایا اُسے چل کر دیکھ یار کیا مسئلہ ہے''
ماجُو نے نظر اُٹھا کر اپنے مکان کی چھت پر دیکھا جو جھنڈے سے خالی تھی۔
٭٭٭٭