کتاب میلہ

قلزمِ انوار از: صوفی شاہ محمد سبطین شاہجہانی
کتاب کے مصنف صحافتی، ادبی، سماجی اور طبی خدمات کے علاوہ ایوانِ صدر، نظامت الحج، جدہ اور وفاقی وزارت مذہبی امور میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہیں پر ملک کے معروف نعت گو شاعر، نعت خواں بشیر حسین ناظم سے بھی ان کا تعلق رہا وہ بھی وزارت مذہبی امور میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں، پیش نظر کتاب پر نعت کے حوالے سے ان کا یہ تبصرہ ان کی علمی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
زیر نظر کتاب المسمی '' قلزم انوار '' میرے حبیب لبیب محترم صوفی شاہ محمد سبطین شاہجہانی مد ظلۂ العالی کا نعتیہ مجموعہ ہے جو بلا شبہ عبہرات دلی اور عود و عنبر بحر دلی کی خوشبوئوں سے مملو ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو سبطین پیا حضرت ولی وقت اور صفی عصر حضرت خواجہ حبیب اللہ حاویؒ کے تربیت یا فتہ خلیفہ اکبر و سجادہ نشین ہیں۔ حضرت حاویؒ خود بھی ایک شاعر نعت گو کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور آج بھی ان کے فیوض و برکات جگمگا رہے ہیں۔
نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے عرفی معنی کسی کے اوصاف و محاسن بیان کرنا ہے۔ یہ لفظ قران کریم میں مستعمل نہیں ہوا البتہ احادیث کے مجموعات میں پایا جاتاہے۔ حضرت انسؓ سے منسوب ہے ''وَکَانَ اَنَسُ یَنْعِتُ لَنَا صَلٰوۃُ ٰالنَّبِیِّ'' حضرت انسؓ ہمارے سامنے حضورﷺ کی نماز کی خوبیاں بیان کرتے تھے۔ عربوںمیں یہ چیزمروّج تھی کہ وہ جب کسی شخص کے جملہ اوصاف ، محاسن، محامد، خوبیاں اور اچھائیاں بیان کرتے تو کوزے میں دریا بند کرتے ہوئے اُسے ھُوَ نُعْتَۃُ کہا کرتے جس کا مطلب و معنی یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمہ صفت موصوف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ھُوَ نعْتہ کا حقیقی مصداق محاسن و اوصافِ حضور رَحْمَۃ'' لِلْعٰلمِیْنَ ﷺ کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا اس لیے آپ ہی ممدوحِ خلائق و معنوتِ الٰہ العالمین ہیں، لہٰذا۔
نعت سنتِ ربانی ہے اور ہمہ قرآن در شانِ محمد ﷺحق سچ اور اصدق ترین مقولہ ہے۔ قرآن کریم نے سرورِ انبیاء سر تاجِ مرسلاں ﷺ کی نعت کبھی وما ارسلنک الا رحمت للعلمین کہہ کر کہی، کبھی وما ارسلنک الا کافۃ للناس کہہ کر، کبھی سراجا ًمنّیرا کہہ کر،کبھی طٰہٰ کبھی یٰس کبھی حٰم اور کبھی لقد جاء کم رسول من انفسکم کہہ کر کہی۔
اللہ تعالیٰ کی اس صفت منورہ و مطہرہ کو انبیاء علیہم السلام نے اپنایا اور تقریباً سب کے سب توصیف مصطفیﷺ میں رطب اللسان ہوئے۔ حضرت حافظ مظہر الدینؒ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:
لب ایوبؑ پہ نغمے تری زیبائی کے
دل یعقوبؑ و براہیمؑ میں تیری تکریم
انبیاء علیہم السلام کی سنت کو صحابہ کرامؓ نے اپنایا چنانچہ سرورِ کائناتؐ کی حیات دینوی میں حضراتِ عشرہ مبشرہ سمیت ایک سی اسی (۱۸۰) صحابہ کرام نے نعتِ رسول لکھی اور کاروان نعت کے سالاروں میں اپنا نام لکھوایا ۔ حسان ؓبن ثابت ایسے شاعرِ دربار رسولؐ تھے جن کے لیے منبر پر چادر بچھائی جاتی اور وہ مدحت و نعت رسولؐ بیان فرماتے اور کفار کی ہجویات کا جواب دیتے ۔ حضرت کعب بن زہیرؓ کیسے خوش طالع و اقبال مند نعت گو تھے جنہیں قاسم ارزاق حق ﷺ نے اپنی چادر مطہرہ عطا فرمائی۔
صحابہ کرامؓ کی سنت کو تابعین، ْ اتباع تابعین اولیا و اصفیائے امت نے اپنایا اور تقریباً دنیا کی جملہ زبانوں میں نعت کی شکل میں نعوتِ پیغمبر ارض و سما لکھی گئیں۔ یہاں تک کہ کچھ غیر مسلم شعراء بھی اس سے بہرہ ور ہوئے۔ حضرت سبطین شاہجہانی بھی بتوفیق حق تعالیٰ اور اعتنائے خاص منعوتِ الہٰ العالمین سے قافلہ نعت میں شامل ہیں۔ انہیں اللہ تعالی نے پنجابی اور اردو میں نعت کہنے کی توفیق ِ وافر دی ہے بقول حضرت علامہ حافظ محمد افضل فقیرؒ نعت ہوتی ہی توفیقِ الٰہی سے ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔
کیا فکر کی جولانی کیا عرض ہنر مندی
توصیفِ پیمبر ﷺ ہے توفیقِ خداوندی
اب حضرت سبطین شاہجہانی مدظلہ کی توفیق کی رعنائیاں اور زیبائیاں دیکھیے !۔
دنیا میں تمام مخلوق طوعا و کر ہا عبادت الہٰی میں مصروف ہے اور قرآن کریم اس بات کی تصدیق و توثیق یوں فرماتا ہے یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض ۔ اور پھر جن و انسان کی تخلیق کا مقصد وحید ہی بندگی حق ہے۔ سبطین اپنے الہ مطلق کو مالک و مختار مان کر اس کی بندگی کا اقرار کرتا ہے اور عجیب و حیران کن بات یہ ہے کہ وہ بندگی کا اقرار کرتے ہوئے اپنے عصیان و آثام کے انبار کو بھی تسلیم کرتا ہے یہ بات اسے لاریب تحصیل غفران و مراحم کی طرف لے جاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
الٰہی تو مالک ہے مختار ہے
یہ بندہ سراپا خطا کار ہے
ایک سچے صوفی کی آمال و آرزو میں یہ شامل ہوتا ہے کہ وہ حجلہ دِل و جاں میں شعشعان و لمعان کی فراوانی کے لیے اپنے رب سے التجا کرے۔ کیونکہ ان کے بغیر نہ تو فکر کی تطہیر ہوتی ہے نہ قلب کی تنویر۔ سبطین کا دل مرشد کریم کی توجہ تامہ سے اگرچہ مستنیر ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے پروردگار سے تا بانی دل کی بھیک مانگتا ہے :
ہمیں بخش دے دل کی تابانیاں
عطا کر ہمیں پھر جہاںرانیاں
تُو داتا ہے دے حسنِ علم و عمل
مہکنے لگیں آرزو کے کنول
نعت نگاری کے لوازمات میں عشق رسول، ْ محبت رسول' مودتِ رسول، ْ تطہیر فکر، تنویرِ قلب، شیفتگی وارفتگی، اصابت ایمان، شعشعان ِ عرفان اور لمعانِ ایقان شامل ہیں۔ حبِ رسول ﷺ کا مطلب و معنی اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ حضورﷺ کو جوہرِ کائنات مان کر ان کے فرامین و ارشادات پر دل و جان سے عمل کیا جائے۔ سبطین کو یہ تمام نعمتیں حاصل ہیں۔ وہ صوری لحاظ سے حُبِ نبی ﷺ کو حرزِ جاںبنائے ہوئے ہے اور معنوی (علمی ) لحاظ سے سنتِ مصطفی ﷺ کی پناہ میں ہے ۔ وہ انہی معاذ و امان کے ظل ِ ہمایوں میں نعت کہہ کر قارئین کے قلوب و اذہان کو بھر ماتا اور ارواح کو گرماتا ہے کچھ چنیدہ و چیدہ اشعار قارئین کی روحانی ضیافت کے لیے مندرس و مندرج ہیں!
جس دل میں بھی محبت خیر الانام ﷺ ہے
دوزخ کی آگ اس پہ یقینا حرام ہے
ہم میں تا حشر رہے ایسی جماعت آقا
تازہ کرتی رہے جو آپ کی سنت آقا
گویا سارے کا سارا نعتیہ کلام ھمعاتِ عطا اور شعآبیبِ رحمت نظر آتاہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے پذیرائی و مقبولیت کی سند عطا فرمائے۔
سبطین شاہجہانی کا نام فروغِ ادب اور جملہ اصناف ِ سخن میں نیا نہیں ہے۔ اس میدان میں وہ ۴۴سال سے رخشِ کلک و قلم دوڑا رہے ہیں اور ان کا شبدیز قلم کبھی بھی صراط ِ راست سے جانبِ چپ نہیں مڑا ا لیے ان کے اشعار میں سلاست، بلاغت اور حلاوت پائی جاتی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عالمی یوم امدادِ باہمی ۱۹۶۷ء کے موقع پر نظم کا مقابلہ ہوا جس میں اس وقت کے مقتدرو مستند شعراء نے حصہ لیا۔اس میں پہلا انعام ۲۸ سالہ سبطین شاہجہانی کو ملا۔
ملنے کا پتا : دبستان ِ شاہجہانی پی او بکس ۱۱۹۳ اسلام آباد
مبصر: الحاج بشیر حسین ناظم
ابلاغی حکمت عملیـ ۔سیرت طیبہ کی روشنی میں از ڈاکٹر عابدہ پروین
ناشر: شعبہ تصنیف تالیف و ترجمہ ، جامعہ کراچی
ابلاغ انسانی رابطے کا ایک لازمی جزو ہے۔مخاطب ومطلوب تک اپنی بات ،خیالات ،احساسات پہنچانے کے لیے انسان کو ابلاغ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ انسانی زندگی کے وجود کی دلیل ہے۔انسانی ابلاغ کا عمل حضرت آدم کی تخلیق سے شروع ہوا اور ابدتک جاری رہے گا۔تاہم فی زمانہ ابلاغ کا عمل ارتقائی منازل طے کرتا آرہاہے اور اس وقت فرد سے افراد اور انفرادی سے گروہی ابلاغ کا عمل ایک فن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔اسی تناظر میں صحافت جو ابلاغ ہی کی صورت ہے ،اور اپنے وسیع اسباب و ذرائع کے ساتھ ابلاغ عامہ کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔اس وقت ابلاغ عامہ کے ادارے ایسا ہتھیار بن چکے ہیں کہ ماضی میں جو قومیں جنگ و جدال کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کیاکرتی تھیں اب ابلاغ عامہ کے جدید ذرائع کے استعمال سے کسی حد تک وہی مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔مغربی ممالک میںاپنی متعین کردہ حکمت عملی کے تحت اپنے خاص ایجنڈے کے حصول کے لیے ابلاغ عا مہ کے ان جدید ذرائع کو استعمال کیا جارہاہے۔پاکستان چونکہ اسلامی ریاست ہے اور مسلمان کے لیے ہرکام میں اپنے مذہب اسلام سے رہنمائی لینا فرض ہے۔ ابلاغ ایک فطری عمل ہے اور اسلام دین فطرت ہے لہٰذا اس بات میں رتی برابر شک نہیں کہ ابلاغ کا تصور روز اول ہی سے انسان کے خمیر میں ڈال دیا گیا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لیئے اس کے مقرر کردہ انبیاء اور پیغمبر دنیا میں تشریف لاتے رہے ہیں جو اپنے اپنے دور کے بہترین مبلغ تھے اور نبی آخرالزمان حضرت محمد ؐ سب سے بڑے مبلغ اور ابلاغ کار تھے۔آپ ؐ کی بول چال نشست و برخاست اور زندگی کے جملہ پہلو ابلاغ ہی میں شمار ہوتے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب ـ ـ''ـ ابلاغی حکمت عملیـ،سیرت طیبہ کی روشنی میں'' ڈاکٹر عابدہ پروین کی صحافت اور ابلاغ کی کتب میں اردو زبان میں ایک منفرد تصنیف ہے ۔مصنفہ شیخ زید اسلامک ریسرچ سینٹر،جامعہ کراچی میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے زیر اہتمام طباعت کی جانے والی ا س کتاب میں ابلاغ کی فطری حکمت عملی کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ۲۲۸ صفحات پر مشتمل اس تحقیقی کتاب میں چھ ابواب قائم کیے گئے ہیں۔پہلے باب میں ابلاغ کی اہمیت و ضرورت پر بحث کی گئی ہے۔ابلاغ و صحافت کے معنی اور تعریف کے ساتھ ساتھ ابلاغ کی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس باب میں ابلاغ کے زرائع اور ابلاغ کے عمل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے باب میں اسلامی نظریہ ابلاغ کے قرآن مجید اور سنت نبی کی روشنی میں اصول بیان کیے گئے ہیں اور معاشرتی و ثقافتی اقدار پر بحث کی گئی ہے۔اس کے علاوہ باب ہذا میں تبلیغ و دعوت کے اصولوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔تیسرے باب میں اسلامی تصور ابلاغ کے مطابق اسلامی ریاست کے مقاصد اور آزادی اظہار کے حدود کا تعین کیا گیا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اسلامی ریاست میں کس طرح ابلاغ کار فرما ہونا چاہیے۔اس باب میں ریاست کی تعریف کے ساتھ ساتھ مغربی ریاست، اشتراکیت اور جمہوریت کا بھی تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اسلامی ریاست کی تشکیل پر بھی روشی ڈالی گئی ہے۔چوتھے باب میں مختلف ابلاغی نظریات پر بحث کی گئی ہے اور مائیک کوئیل کے ابلاغ عامہ کے چار نظریات کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ عوام کو ان کی مرضی کے مطابق صحیح اطلاعات فراہم کرنے کے لیے کس طرح ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جانا چاہیے اور آزادانہ نظریات کے فروغ میں اور جمہوری معاشرے کے قیام میں ذرائع ابلاغ کی کیا اہمیت ہے؟اس کے علاوہ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مغربی نظریات ابلاغ کیا ہیں؟ ان کا ارتقاء کیسے ہوا ؟ علاوہ ازیں ان نظریات کا اسلامی نظریہ ابلاغ سے تقابل بھی کیا گیا ہے۔پانچویں باب میں اسلامی اخلاقیات کی روشنی میں ابلاغی اخلاقیات کاجائزہ لیا گیا ہے اور مختلف ادوار میں تشکیل پانے والے ضابطہ ہائے اخلاق پر بحث کی گئی ہے۔جس سے مغربی ابلاغی نظریات اور اسلامی ابلاغی نظریہ کے موازنے سے ابلاغی اخلاقیات کا تعین ہوا ہے ۔ چھٹے باب میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ایک ابلاغ کار کو اسلامی نظریات اور اخلاقیات کی روشنی میں کس طرح ابلاغی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے اور اسلامی ذرائع ابلاغ کی حکمت عملی کے اصول کیا متعین کیے گئے ہیں۔کتاب کے اختتام پر محاکمہ دیا گیا ہے اور اسلامی اصولوں کے پیش نظر قومی ابلاغی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے سفارشات پیش کی گئیں ہیں۔ ابلاغیات کے موضوع پر جہاں اردو زبان میں نہایت کم مواد دستیاب ہے،ایسے میں پیش نظر کتاب ایک بہترین اضافہ ہے۔جس میں اردو زبان و محاورہ کا خاص خیال رکھا گیاہے۔کتاب ہذانہ صرف صحافت و ابلاغ سے متعلق طالب علم کے لیے مفید ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی اتنی ہی فائدہ مند ہے۔
مبصر:شعیبہ معید
زرِخزاں از: ڈاکٹر بدرمنیر
ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
قیمت: =/۳۰۰ روپے
اقلیمِ شاعری میں غزل ایک منفرد اور از حد مشکل صنفِ اظہار و بیان ہے۔ غزل کی شاعری کو انتہائوں کی شاعری کہا جاتا ہے۔ انتہائیں موضوعی بھی اور معروضی بھی ہوتی ہیں۔ انتہائیں عمودی بھی اور افقی بھی ہوتی ہیں اور انتہائیں کلاسیک سے جدیدیت کی جانب بھی اور جدیدیت سے کلاسیک کی طرف بھی ہوتی ہیں۔ ان انتہائوں میں فکری اور تخلیقی آوارگی کا ذوق و شوق اور حوصلہ و استقامت ایک غزل گو کے لیے بنیادی جوہر ہے۔ کیونکہ یہی انتہائیں وہ جولاں گاہیں ہیں جن میں تشکیک، تحیر، تجسس اور تفکر کے مشاہدات و تجربات شاعر کا طرزِ احساس وضع کرتے اور اس کے اسلوبیاتی خدوخال تراشنے کے عمل میں اس کو تاثیر کا نسخہ بتاتے اور دوام کے رستہ پر بھی ڈالتے ہیں۔ غزل کا شاعر ایک انتہا کی جانب لپکتے ہوئے ایک مصرع کہتا اور دوسری انتہا میں اترتے ہوئے دوسرا مصرع کہتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ غزل کے شعر کا ایک مصرع صریرِ خامہ میں اور دوسرا مصرع نوائے سروش میں ادا ہوتا ہے۔ گویا انتہائوں کے افقی نشیب و فراز اور عمودی نزول و صعود کے ادراک و وجدان میں وہ معجزہ بسیراکرتا ہے جو مشابہ، مماثل اور موافق کے علاوہ متخالف اور متضاد کو بھی ہموار، ہمرنگ اور ہم آہنگ کر کے دو مصرعوں کو غزل کے ایک شعر کی اکائی میں اس طرح ڈھال دیتا ہے کہ غزل کا شاعر معجزہ نگار ہو جاتا ہے۔
عین ممکن ہے یہ زحمت بھی اٹھانی پڑ جائے
باتوں باتوں میں کوئی بات چھپانی پڑ جائے
……
مرا یقین کہیں تھا، مرا گمان کہیں
میں کھو گیا انہی دونوں کے درمیان کہیں
اسی لیے تو کبھی مجتمع نہ ہو پایا
مرا زمان کہیں تھا مرا مکان کہیں
غزل گو ڈاکٹر بد رمنیر ہیں جن کی غزلیات کا مجموعہ ''زرِ خزاں'' میرے زیر مطالعہ رہا ہے۔ ۱۹۸۱ء میں مجھے چین جانے کا موقع ملا۔ شنگھائی سے ریل کے ایک گھنٹہ کے سفر پر ایک شہر ہے۔ شہر کا نام ''سوچو'' ہے۔ اس میں ایک چار سو برس پرانا باغ ہمیں دکھایا گیا۔اس باغ سے ایک منظر میری آنکھ نے اٹھا لیا تھا، جواب تک میرے ساتھ چلا آتا ہے۔ یہ منظر اس مضمون کی تختی سے شروع ہوتا ہے: ''خزاں کے موسم سے لطف اندوز ہونے کا تختہ''۔ یہ عنوان پڑھ کر میں نے صرف ایک لمحہ اس حیرت میں گزارا کہ لطف آور تو صرف موسم بہار کتابوں میںلکھا ہے اور جو سامنے زمین پر لکھا تھا اس میں قدم قدم سوکھی ہوئی پیلی پیلی سی گھاس، زرد پتے، بے برگ و بار شاخیں، ٹنڈ منڈ اشجار، نیم جان بیلیں، مرجھائے ہوئے پھول اور اُدھر سے اِدھر اور اِدھر سے اُدھر کے رحم و کرم پر اڑتے پھرتے پیلے زرد اور خاکی پتے تھے۔ بے قاعدہ راہداریوں اور ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں میں میرے آگے آگے جس شاہانہ انداز میں خزاں چل رہی تھی، اس کے کروفر سے میں نے یہ جانا کہ دنیا کی تمام زبانوں کی شاعری کا دامن موسم بہار کی شگفتگی سے کہیں زیادہ موسمِ خزاں کی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔
زرِ خزاں کے اوراق پر ملاحظہ کیجیے:
فصلِ گُل سے زرِ خزاں تک ہے
عمر دونوں کے درمیاں تک ہے
……
یہ کس طرح کی زمیں پہ ہم نے بنائے شہرِ وصال رکھی
یہاں پہ کوئی گلاب موسم اتر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
بدرمنیر ایک غیر معمولی شاعر ہے۔ جس کے مجموعہ کلام ''زرِ خزاں'' میں خزاں اُمید کا استعارہ بن کر ورق ورق پر قاری کے ساتھ چلتا ہے۔ اس کا دل ہر لحظہ اگرچہ اس بدقسمتی پر خون روتا رہتا ہے کہ اس کا وطنِ عزیز تہذیبی، ثقافتی، مذہبی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی جبرِ ناروا کے آفاقی محاصرے میں ہے مگر وہ اپنے موروثی تہذیبی رویوں کے سائبان تلے لفظ کو معنی کا اعتبار دینے کی اپنی شاعرانہ کمٹمنٹ پر ثابت قدم ہے۔
بوڑھے کمزور والدین کے ساتھ
جی رہا ہوں میں کتنے چین کے ساتھ
اس کے ہاں لفظ''ماں'' اپنی ہیئت نہیں بدلتا بلکہ قومی و ملی شعور سے منور اور معطر ہو کر ارضِ وطن کی بابرکت وسعت اختیار کر لیتا ہے۔
مجھ کو اس بات کا ہر لحظہ یقیں ہو، آمین
میں جہاں پائوں دھروں اپنی زمین ہو، آمین
جب بھی کھینچے مجھے غیروں کی کشش اپنی طرف
میرے ہونٹوں پہ نہیں صرف نہیں ہو، آمین
اس کی مٹی سے نمی لے کر جو پروان چڑھے
میرے حصے میں وہی نانِ جویں ہو، آمین

اس کی دھرتی پہ جو سجدوں میں ہوا مجھ کو نصیب
باعثِ فخر یہی نقشِ جبیں ہو، آمین
سال صدیوں میں بدل جائیں مگر ارضِ وطن
لمحہ لمحہ تری عظمت کا امیں ہو، آمین
مبصر: اسلم کمال(مصورِ اقبال)
اُداسی کے رنگ از: الطاف صفدر
ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
شاعری دل کے ایسے ان کہے جذبوں کی گواہ ہوتی ہے جو یوں ہی کبھی کبھی دل کی رفتار کو، آنکھوں کی چمک کو بڑھا دیتے ہیں۔ خصوصاً اس وقت جب باغوں میں کوئی بھونرا پھولوں سے چھیڑ خانی کر رہا ہو یا رنگ برنگ تتلیاں اڑتے اڑتے اچانک پھولوں کے منہ چوم لیتی ہوں یا برستی بوندوں کی رم جھم میں برہا کی ماری کوئل اپنے پی کو صدا دے رہی ہو۔ یہ خود رو جذبے استعاروں کی مدد کے بغیر امڈتے اور دل میں گھر گھر کر آتے ہیں ، شاعران کی خوب پہچان رکھتا ہے، انہیں دیکھتا ہے ، چن لیتا ہے اور پھر اپنے شعروں میں پرو کر گیت مالا بنا لیتا ہے۔
شاعر جذبات کی یورشوں سے لزرتے ناتواں دل کی ترجمانی تو کرتا ہے برمحل اشعار اس کے قلم سے نکلتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاعر کا اپنا ایک مخصوص شخصی رنگ، قرینہ ٔفکر اور طرز لحن بھی ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اس کے تحریر کردہ شعروں میں سر اٹھائے نظر آتے ہیں۔
الطاف صفدر ایک خاص انداز کے شاعر ، ڈیرہ اسمعٰیل خان کی ایک معروف اور مستند ادبی شخصیت اور ایک جانے مانے ماہر تدریس تھے۔ وہ ادب ، مذہب اور حالاتِ حاضرہ کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔ شہر میں وقتاً فوقتاً برپا ہونے والی ادبی محافل میں باقاعدہ شریک ہوتے اور اپنی نگارشات سے حاضرین کو مستفید کرتے اکثر یہ ادبی سرگرمیاں شہر کی ایک معروف انجمن ''اربابِ قلم پاکستان'' کے زیر انتظام ہوا کرتی تھیں شروع شروع میں وہ ''الطاف حیدری'' لیکن جلد ہی ''الطاف صفدر'' کا نام مستقلاً اپنا کر شعرگوئی کرنے لگے۔
الطاف صفدر نے شاعری کی ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے یعنی حمد، نعت، منقبت، نظم ، غزل اور قطعہ یہ سبھی کچھ ان کے ہاں ملتا ہے اور انھوں نے بالالتزام اس بات کا اہتمام رکھا کہ جو کچھ کہا بالکل سیدھے سادھے انداز میں کہا لیکن ایک چیز جو بالکل قدرتی طور پر ان کی شاعری میں در آئی وہ ہے اُن کے باطن کی سچائی اور سرائیکی مٹی سے نمو پانے والا کھراجذبہ۔ ان دونوں چیزوں کو انھوں نے شعر در شعر پرو کر اپنی شاعری میں ایک خاص لحن اپنایا۔ اردو اشعار میں سرائیکی کے مٹھاس دار لحن کا راقم الحروف نے پہلی بار ذائقہ لیا اور دل میں اتارا۔ چند مثالیں دیکھئے:
جس کی باڑ نہ ہو اس کھیت میں چرواہا
چھوڑ کے ڈنگر ڈھور کھُلے، سستاتا ہے
پنگھٹ اداس، پائلیں چپ، راستے ملول
نہروں میں بہہ گیا ہے سبھی روپ چاہ کا
نکھار دوں گا تمنّا کی گرد گرد فضا!
نہیں سحاب تو کیا ، دل سا جاں سپار تو ہے
شاعر نے ایک اور دوآتشہ کام یہ کیا ہے کہ اپنے زیر نظر مجموعے کے دوسرے نصف حصے کو اپنی ماں بولی یعنی سرائیکی زبان کی شاعری سے سجایا ہے۔ یوں انھوں نے قاری کے لیے ایک خاص قسم کے دوہرے مزے کا خوب بندوبست کیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب دونوں زبانوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر اُنہیں ایک فنی ، لسانی اور تہذیبی وحدانیت کے رشتے میں باہم جوڑ دیتی ہے اور اپنی افادیت بڑھاتی ہے۔
الطاف صفدر جب اپنی ماں بولی میں شعر کہتے ہیں تو ان کا قلم بہت روانی سے چلتا ہے اور اُن کی بے کنار فنکارانہ وارفتگی اور برجستگی کے سامنے بچھ بچھ جاتا ہے۔ شاعر کے فکر کی روانی قلم کی رفتار سے اور شعر کی تنگنائے سے بہت آگے بڑھ جانا چاہتی ہے یوں ہمیں شاعر کا اصل رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ چند مثالیں
بس صفدرؔ پیار دے بوٹے کوں پھل لگدا ہے قربانی دا
ڈے پہلے جان دا نذرانہ، پچھے منھ ونج ڈیکھیں جانی دا

محبت دا خزانہ گال بیٹھاں
بھرے جگ وچ تھیا کنگال بیٹھاں

میڈی آس دیاں سُکیاں کلیاں، تیڈیاں زخمی تھی گئیاں تلیاں
چماں چھالے پیراں والے، ہُن لب چول تاں سہی!
الطاف صفدر کا کلام، اردو ہو یا سرائیکی پاکستان سے اٹوٹ محبت کے گیتوں سے بھرا ہے۔ انھوں نے بالا لتزام اقبال اور قائد اعظم کی عظمت کو اپنے محبت بھرے اشعار کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا ہے اور جب جب انھوں نے حمد، نعت اور منقبتیں لکھیں اپنی عاجزانہ محبت میں ڈوب کر لکھیں۔
ممکن ہے کہ فن کے باریک بیں حضرات اس کتاب میں کچھ ایسے اشعار بھی ڈھونڈ نکالیں کہ جو اُن کی طبعٔ نازک والے معیار پر پورے نہ اترتے ہوں لیکن راقم الحروف کو فنّی باریکیوں کے ''فلٹر'' سے ماورا۔ اردو ۔ سرائیکی کے ایک اٹوٹ خواہرانہ اور اپنائیت کے گہرے رنگ میں تربتر دیکھتا ہے۔ سرائیکی کے بہت سے الفاظ اردو زبان میں ایک عرصہ سے مستعمل چلے آ رہے ہیں۔ تاریخِ ادب گواہ ہے کہ اردو نے سرائیکی کے صوفیانہ کلام سے لسانی خوشہ چینی کے علاوہ اس کی وارفتگی کو بھی بہت پسند کیا ہے۔ اور اس نے خود کو پنجاب کے اس منفرد سے خطے کی شعری حلاوتوں اور قدیم تہذیبی بوقلمونیت سے آشنا کیا اور بلا تکلف اس کے رنگ اپنائے۔ سو راقم الحروف کی نظر میں یہ کتاب ہر دو زبانوں کی آشنائی کے راستے کے لیے ایک گراں قدر پل کا کام دیتی نظر آتی ہے۔
الطاف صفدر ، معروف شاعر شہاب صفدر کے والد گرامی ، اس دنیائے فانی سے منھ موڑ چکے لیکن مذکورہ بالا کتاب کی صورت میں وہ ہمارے سامنے ہیں اور بہ زبان شعر ہم سے مخاطب ہیں۔
کتاب کا کاغذ ، ٹائٹل، مشینی لکھائی، طباعت اور جلد بندی بہت معیاری اور دیدہ زیب ہے اور شہاب صفدر کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ضخامت قریباً ڈیڑھ سو صفحات اور اس میں ان کے قریباً نوے (۹۰) شعری شہ پارے (اردو وسرائیکی) شامل ہیں۔ قیمت اڑھائی سو روپے۔ مثال کتاب گھر، صابریہ پلازا، گلی نمبر ۸، منشی محلہ، امین پور بازار فیصل آباد سے مل سکتی ہے۔
مبصر: محمد طارق علی
قائم دین…افسانے از: علی اکبر ناطق
ناشر: آکسفورڈیونیورسٹی پریس، کراچی
زکریا خاں کا میں ممنون ہوں کہ ان کی وساطت سے مجھے افسانوں کا مجموعہ ''قائم دین'' پڑھنے کو ملا۔ پہلا افسانہ ''شریکا'' پڑھا۔ فنی پختگی پر حیرت ہوئی جو ہر افسانے کے بعد بڑھتی گئی اور کتاب ختم ہونے پر میں نے سوچا کہ اگر میں اواگون کا قائل ہوتا تو بے اختیار مان لیتا کہ یہ پریم چند کا دوسرا جنم یا کرشن چندر کا اوتار ہے۔ یہ بات کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ ''قائم دین '' کے سارے افسانے مکمل طو رپر بے عیب اور کلاسیکل افسانے سے قریبی جڑت رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت پسندی کے شاہکار افسانے ہیں اور ہر دوسرا پہلے سے بڑھ کر ہے۔ میں نے طوالت کے خوف سے صرف دو افسانوں پر اپنی رائے دی۔ اختلاف کا حق ہر قاری کو ہے۔
پہلا افسانہ ''شریکا'' تقسیم کے پس منظر میں ہے۔ شریکا اور برادری پنجاب کے کلچر میں دو اصطلاحیں ہیں جن کے اپنے مخصوص مفہوم میں اور کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔ ''شریکا'' منفی معنوں میں مستعمل ہے۔ اس سے مراد ایک دادا کی اولاد کے مابین جذبہ حسد و مسابقت ہے جس کی جڑیں زمین جائیداد کی وراثتی تقسیم کے عمل میں چھپی ہوتی ہیں اور فریقین ایک دوسرے کی ڈھکی چھپی ''کاٹ'' کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے کی کامیابیوں کو دل سے قبول کرتے ہیں نہ خوش ہوتے ہیں بلکہ جل بھن کر کباب ہو جاتے ہیں اور شریکا کھلی دشمنی میں بدل جائے تو خاندانوں کی تباہی و بربادی کا ذریعہ بن جاتا ہے ورنہ ڈھکی چھپی ''کاٹ '' چلتی رہتی ہے اور یہ ادھار ہوتاہے جو چڑھتا اترتا رہتا ہے۔ ''برادری'' مثبت معنوں میں لی جاتی ہے اور اس سے مراد وہ قبیلہ ہے جس میں آبائو اجداد کا ایک ہونا شرط ہے۔ بعض مواقع پر دوسری برادری سے مسابقت آن پڑے تو برادری کا تعصب مان کے لاشعور میں چھپے قبائلی عصبیت کی طرح ثابت ہوتاہے۔
مختصر افسانے ''شریکا'' کا کینوس تقسیم ہند کا ہے وہ کہتا ہے ''اچانک تقسیم کا عذاب آ پڑا۔ ساری فاختائیں اُڑ گئیں''۔ سکھ گھرانے کا فرد شیر سنگھ، اپنی محبت شیداں کی وجہ سے اسلام قبول کر کے عاقل خان ہو جاتا ہے، بہن، بھائیوں، ماں کو تج کر دیتاہے جو ہجرت کر گئے لیکن بوجہ ''غیرت'' اسے شیداں کا رشتہ نہیں دیا جاتا اور اسے چودھری شوکت نامی شخص سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ عاقل خان اور شیداں چھپ کر ملتے رہے پھر ہمت اور بڑھی تو بات چار سو پھیل گئی تو عاقل خان کو سبق سکھانے کا پروگرام بن گیا۔ اس تپتی صورت حال میں چودھریوں کا شریکا عاقل خان کو مدد کا یقین دلاتا ہے۔ عاقل خان طاقتور ہے، گرانڈیل ہے جو اپنے مزارع کے احتیاط کے مشورہ کے جواب میں کہتا ہے''شوہدی کی خاطر تو میں نے واہگرو سے بے وفائی کی، دین دھرم بدلا اور ساری برادری سے لعنتیں لے کر مسلا ہوا۔ جب سارا قبیلہ لدھیانے چلا گیا تو میں نے اس کی خاطرگائوں نہ چھوڑا اور شیرسنگھ سے عاقل خان بنا، بے بے روتی پیٹتی چلی گئی''۔ کہانی اٹھ رہی ہے یوں جیسے جوانی اٹھتی ہے۔ تصادم ہوتا ہے، عاقل خان زخمی ہوا، مقدمے چلے، صلح ہوئی، عاقل خان مستقلاً لنگا ہو گیا۔ جوانی کا زور ڈھلا۔ محبوبہ ثانوی ہوئی۔ اپنا قبیلہ، ماں باپ یاد آئے تو زمین بیج سرحد پار جانے کا ارادہ کیا تو چودھریوں کا شریکا چوہدری احمد بخش زمین کا خریدار ٹھہرا لیکن کچہری میں زمین چودھری لے گئے جس پر احمد بخش کے اعتراض پر عاقل خان نے کہا'' … چاچا اب تو ہی بتا میں شیداں کی بات کیسے ٹال دیتا''۔ شیداں جو چودھریوں کی عزت وغیرت کے نشان کے طور پر پینٹ ہوئی تھی کہاں جا استعمال ہوئی!
یہ افسانہ انسانوں کے جذبوں چاہے وہ مثبت ہوں یا منفی کے اتار چڑھائو اونچ نیچ اور معروضی حالات کا بھرپور عکاس تو ہے لیکن ذرائع معاش کس طرح غالب آ کر غیرت جیسے جذبے جس میں قتل و غارت گری بھی ہوتی ہے ، کو بلڈوز کر دیتے ہیں۔ ذرائع معاش ہی بنیادی حقیقت ہیں یہی ہمارے رویوں کا تعین کرتے ہیں لیکن انسان مانتا کب ہے؟ لاکھ جواز پیش کیے جائیں مطلق حقیقت یہی ہے۔ اس افسانے میں علی اکبر ناطق نے اسی حقیقت کو پینٹ کیا ہے لیکن ترتیب و تناسب اتنا خوبصورت ہے کہ اس کے اچھوتے قلم کی ایک لکیر بھی نہ زائد نہ کم۔ اس افسانے میں ناطق کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ قاری سانس لینا بھول جائے۔ اختتام پڑھے تو سانس سینے سے آزاد ہو اور سکون کا سانس آئے جسے کہتے ہیں 'a seigh of releif"۔ اس افسانے پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ مختصراً اتنا کہ یہ اردو ادب میں ترقی پسند افسانے کی توسیع extensionہے جو اسے کلاسیکل افسانے کے قریب لے آئی ہے اور یہ جڑت بالکل فطری اور بے عیب ہے۔
''قائم دین'' یہ وہ مرکزی افسانہ ہے جس سے افسانوں کے مجموعہ کونام دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مصنف کے نزدیک یہ اس کا شاہکار افسانہ ہے یا اس کی ترجیحی تخلیق ہے۔ اپنی بنت اور طوالت کے لحاظ سے اسے طویل مختصر افسانے کے زمرہ میں شمار کرنا چاہیے۔ گو کہانی میں سسپنس انجام سے پہلے ٹوٹ جاتا لیکن اس کے باوجود یہ مکمل اور شاندار افسانہ ہے۔ مصنف نے چھوٹے چھوٹے واقعات، جو واقعاتی ساخت میں نہیں ہیں، سے افسانے کے کردار تشکیل کیے اور مہارت یہ ہے کہ اس نے واقعات خود بیان بھی نہیں کیے۔ مصنف کے اس کرداری تخلیق کے عمل کے بیچ قدرت نے اپنے بنائے کردار اس کی کہانی میں پرو دیے ہیں کہ افسانہ ایک سحر انگیز پینٹنگ کی شکل اختیار کر گیا ہے جس میں محبت نفرت، لالچ ایثار، خود غرضی اور خلوص، لا غرضی و غرض مندی، مختصراً یہ کہ اس نے انسانی جذبوں کے تمام رنگ یوں ابھارے ہیں کہ قاری کا وژن حیرت سے مصنف کی مہارت کو تکتا ہے۔
قائم دین سرحد پار سے مویشی چوری کر کے لانے والا ایک مضبوط قد و کاٹھ کا ایک جرأت مند اور ماہر چور ہے جس میں نیکی کا عنصر سودا فروخت کرتے ہوئے اور ضرورت مندوں کو ادھار دیتے ہوئے ظاہر ہوتاہے۔ اس کے کردار کے یہ پہلو چھوٹے چھوٹے واقعات سے ماخوذ ہیں۔ مولوی کا کردار ایک لمحے کو ظاہر ہوتا ہے اور سرحد پار مال چوری کرنے کو جہاد قرار دے کر مسجد کا حصہ مانگ کر غائب ہو جاتا ہے۔ اس افسانے میں مظاہر قدرت جیسے دریا ہے ، ہوا ہے، پانی ہے، درخت ہیں غرض خالق مطلق کی تمام مخلوقات مجسم کردار کی شکل میں ڈھل کر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس دوران قدرت سیلاب جیسے جیتے جاگتے کردار کو داخل کر دیتی ہے۔ یہ مصنف کا کمال ہے کہ اس نے سیلاب کے کردار کی لفظوں میں تصویر کشی اور قائم دین کے ڈوبتے لوگوں کو بچانے کے عمل پیہم کی عکاسی اس مہارت سے کی ہے کہ قاری خود کو بند پر بیٹھے محسوس کرتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ وہ اس سارے سین کاحصہ ہے۔ سیلاب گزر گیا، حالات معمول پر آتے گئے پھر ایک لمحے کو ارشاد علی ظاہر ہوتا ہے جس پر قائم دین نے احسان کیا اور وہی اس کا مخبر بن جاتا ہے۔ رینجرز اسے سرحد پار مویشی چوری کے واقعات کی وجہ سے گرفتار کر لیتے ہیں۔ یہاں رینجرز اور تھانہ بے حس کردار ہیں جہاں انسانی احساسات کو کوئی دخل نہیں وہ اقرار جرم کے لیے بے پناہ تشدد سہتا ہے اور جب موت سے بدتر ہوتا ہے تو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بوجہ تشدد وہ ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ معاشرتی بے حسی اور جہالت اسے درخت سے بذریعہ آہنی زنجیر بندھوا دیتی ہے۔ پچیس سال بعد سیلاب دوبارہ کہانی میں داخل ہوتا ہے اور بندھے ہوئے قائم دین کو نگل جاتاہے۔ افسانہ میں مصنف نے دیہی معاشرہ کی عمومی زندگی کی تصویر کشی اتنی باریک بینی کے ساتھ کی ہے کہ یاد آتا ہے کہ زندگی ایک سٹیج ہے جس پر کردار آتے ہیں اور اپنا اپنا رول ادا کر کے چلے جاتے ہیں اور آخر میں سٹیج خالی رہ جاتا ہے اور کوئی ویرانی سی ویرانی ہے جو باقی رہ جاتی ہے۔ قاری یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتا کہ مصنف نے کب اور کیسے اس کے ذہنی قرطاس پر یہ ویرانی پینٹ کر دی اور پینٹ کرنے والا خود کہاں چلا گیا!
مبصر: پروفیسر رائو شفیق احمد
جنگ، محبت او رکہانی از: عابد میر
ایک ایسا سماج جہاں صدیوں سے طویل قبائلی جنگوں کی روایت ہو اور عشروں سے مقتدر قوتیں اپنا اقتدار قائم کرنے کی غرض سے بے دریغ طاقت استعمال کرنے کی روش پر گامزن ہوں، جہاں پورا معاشرہ جنگ زدہ ہو وہاں محبت، پیار اور دلیری کے تصورات پیدا ہونا مشکل ہو جاتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسے ماحول میں بھی محبت کہیں نہ کہیں ضرور پنپتی ہے اور جب محبت اپنا اثبات کرائے تو کہانی تو جنم لے گی ہی ۔ سو کہانی نے یہاں بھی اپنا وجود کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھا ہے۔ اور اس بار وہ جنگ ، محبت اور کہانی کے روپ میں جلوہ گر ہوئی ہے ۔ جی ہاں! یہی عنوان ہے عابد میر کی ان کہانیوں کا۔ عابد میر بلوچستان کا ایک حساس لکھاری ہے۔ چنانچہ جب وہ کہانی لکھنے لگا تو وہ اپنے معاشرے اور اس کے دکھوں سے خود کو دور کیسے رکھ سکتا تھا بلکہ اس نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ان تمام حالات وواقعات کو بے کم و کاست اپنی کہانیوں میں پیش کر دیا جو اس کے ساتھ اور اس کے ہموطنوں کے ساتھ آئے دن پیش آتے ہیں۔
آپ اس کے انداز نظر سے اختلاف کر سکتے ہیں اس کی جملہ سازی او رکہانی کے پلاٹ پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن آپ اس کی محبت اور اس کے خلوص سے جو اسے اپنی دھرتی اور اس کے باسیوں سے ہے اس سے آپ انکار نہیں کر سکتے ۔ اس مجموعے میں کل تیرہ کہانیاں شامل ہیں ۔ اور ذرا ان کہانیوں کے عنوانات ملاحظہ کیجئے مثلا ًکہانی رنگ بدلتی ہے ، سچائی سے پاگل پن تک ، گھر کو آگ لگی! شرم نہیں آتی، آگ اور پانی ، سرخی، کہانی سے نکلے ہوئے کردار ، ایمان کی سلامتی کا سفر، کہانی لاپتہ، سوتے رہنا بھائیواور جنگ محبت اور کہانی جو اس مجموعے کا نام بھی ہے۔ کیا یہ عنوانات بلوچستان اور ملک کے ایک اہم خطے کا بدترین نقشہ نہیں کھینچتے ۔ اگر آپ بلوچستا ن کے موجودہ منظر نامے سے ذرا تفصیلا آگاہی چاہتے ہیںتو اس مجموعے کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔ اس میں بلوچستان کا اجتماعی منظر نامہ بھی ہے اور فرد کی پریشان کن صورتحال کا عکاسی بھی ۔
مبصر: فیصل احمد گوندل
مسافتوں کی داستاں از: اسلم سحاب ہاشمی
ناشر: روہی پبلی کیشنز، فرید ٹائون، ساہیوال
عمدہ تخلیق کاری مراکز کی مرہون منت نہیں ہوتی۔ سچے تخلیق کار کو میڈیا کی چکا چوند میں وقتی طور پر فراموش بھی کر دیا جائے تو اس کا فن مستقبل میں اپنی شناخت پیدا کر لیتا ہے ۔ اگر تحریر میں تخلیق کا ''رس '' ہو تو وہ ہر صور ت میں خود کو تسلیم کرالیتی ہے۔ اس لحاظ سے اگر اسلم سحاب ہاشمی کی شاعری اور افسانہ نگاری کا مطالعہ کریں تو وہ ''کم عیار'' نہیں ثابت ہوئی۔ اسلم سحاب کی شاعری ''پہلا خواب'' کے نا م سے چھپ چکی ہے۔ اس میں ایک شعر ہے:۔
داستاں ہے مسافتوں کی رقم
پائوں کے ان پر آب چھالوں میں
مسافتوں کی داستاں رقم کرنے کا جو احساس تحت الشعور میں خوابیدہ رہا اس نے بالآخر ایک شاعر کو افسانہ نگار بنا دیا۔ پائوں کے پر آب چھالوں کو روشنائی میں تبدیل کر لیا اور ''ہم سب افسانہ ہیں '' کی صورت میں معاصر زندگی کی مرقع نگاری کے اسلوب ہیں۔ یہ تو آغاز ہے ۔ مزید فنی ریاضت سے اسلم سحاب ہاشمی شاعری اور افسانہ نگاری میں تخلیق کے گل بو ٹے کھلائیں گے۔ اور یوں ساہیوال کا یہ قلم کار ملک کے صاحبِ اسلوب قلم کاروں کی صف میں اپنا مقام متعین کر الے گا۔
مبصر: ڈاکٹر سلیم اختر
پاکستان، ایک نظریہ یا تحریک از: ڈاکٹر عطش درانی
ناشر: مکتبۂ عالیہ ، لاہور
ڈاکٹر عطش درانی''پاکستانی اردو'' کے موضوع پر اپنا ایک مخصوص نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ وہ زبان و ادب اور لسانیات کے ماہر ہیں۔ اصطلاحات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ بے شمار کتابوں کے مصنف اور کئی ملکی اور بین الاقوامی علمی منصوبوں سے منسلک ہیں، ان کی علمی خدمات پر انھیں حکومت پاکستان نے تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا ہے۔ ''پاکستان۔ایک نظریہ یا تحریک'' کے عنوان سے ان کی نئی کتاب سامنے آئی ہے۔ کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے قیام پاکستان کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے ۔ وہ پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
نظریۂ پاکستا ن کے موضوع پر اگر یہ پہلی کتاب نہیں تو یقیناً اس سے پہلے اس پہلو سے کسی نے کتاب لکھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ اسے لکھنے کا بنیادی مقصد اور مسئلہ یہ تھا کہ نظریۂ پاکستان اپنے خالق کے نقطۂ نظر سے سامنے آ سکے جسے تشریح و توضیح کے بزرجمہرں نے تحریروں کے انبار میں دفن کر دیا ہے اور اہلِ سیاست نے دو انتہائوں پر لے جاکراسے ٹھہرا دیا ، جبکہ بطور آئیڈیالوجی بقول حضرت قائداعظم یہ صرف مندرجہ ذیل گیارہ نکات پر مشتمل ہے:
۱۔اسلامی تشخص و قومیت کی اساس۲۔جداگانہ تہذیبی تصور ۳۔دو قومی نظریہ ۴۔قرآنی اصول و احکام کی حکومت ۵۔غیر اسلامی نظاموں سے بیزاری ۶۔جمہوریت ۷۔ مساوات اور معاشی انصاف ۸۔قومی اتحادویک جہتی ۹۔اُردو زبان ۱۰۔اقلیتوں کا تحفظ ۱۱۔پاکستان کا دفاع
ان نکات کی روشنی میں جب ہم نظریۂ پاکستان کا کُلّی جائزہ لیتے ہیں تو اس کے تین پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ایک تصور یا تھیوری، دوسرے تحریک یا تاریخی ارتقائ، تیسرے قیامِ پاکستان کا مقصد یا آئیڈیالوجی۔
تصوراتی پہلو پر ہم تاریخی و سیاسی پس منظر میں دیکھتے ہوئے بآسانی مختلف قومی تصورات اور تجاویز کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ دو قومی نظریے کی صحیح تشریح اور تعبیر حاصل کر سکتے ہیں۔ تحریک میں اسلامی وطنیت ایک عام عنصر کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے لیے ہندوستان کے مختلف علاقوں، سیاستدانوں اور عالموں کا کردار نظریے کی تشریح کے لیے جانناضروری ہے۔ رہا قیامِ پاکستان کا مقصد تو اسے آئینی کوششوں، نفاذِ اسلام کی تحریکوں اور مختلف تشریحوں کی روشنی میں پیش کیا جا سکتاہے۔ نیز تحریک کی پوری تاریخ نظریے کی سیاسی سمت کو سمجھنے میں معاون بنتی ہے۔ اس کتاب میں انھی امور کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ امر بھی ملحوظ رکھا گیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود کسی کی دلآزاری نہ ہو اور مزید بحث و تحقیق کی گنجایش رہے۔ اسلوبِ بیان کو عمومی رکھنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اگر علمی و تحقیقی رنگ بھرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو '' نظریۂ پاکستان کے ماخذ'' کی صورت میں ایک تحقیقی پیش کش کی اشاعت کی جاسکے۔
مبصر:نوازش علی کلُّو
احسان اللہ طاہر کی پانچ کتابیں
علاقائی زبانوں بالخصوص پنجابی زبان میں تنقید اور تحقیق کا رواج چل پڑا ہے مگر نئی آنے والی کتابوں کو ابھی اس طرح پذیرائی نہیں ملی جس طرح ملنی چاہیے، بہت کم تعداد میں رسالے اور مجلے جو ان کتابوں پر تبصرے شائع کر گئے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں پنجابی زبان و ادب کے حوالے سے کتابیں خال خال شائع ہوتی تھیں مگر پہلے کی نسبت اب صورتحال قدرے بہتر ہے اور اب سالانہ شائع ہونے والی کتابوں کی اوسط دس کتابوں سے بڑھ کر ڈیڑھ سو تک جا پہنچی ہے۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر، ادیب استاد احسان اللہ طاہر پنجابی زبان و ادب کے سلسلے کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہیں وہ شاعری کے علاوہ نظم اور نثر کے حوالے سے کام کر رہے ہیں خاص کر لوک گیتوں کے حوالے سے ان کا کام نمایاں ہے۔
لوگ گیت ہر زبان کے ادب میں موجود ہیں۔ یہ لوک گیت اس دھرتی کے وسنیکوں کا چہرہ ہوتے ہیں۔ ان میں ان علاقوں کی تہذیب اور ثقافت کے سارے رنگ موجود ہوتے ہیں۔ جہاں یہ گیت پروان چڑھتے اور سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں کو منتقل ہوتے ہیں۔ پنجابی زبان و ادب پر نظر دوڑائیں تو ہمیں اس ادب کا بے شمار ذخیرہ ملتاہے۔ پاکستانی لوک گیتوں کے حوالے سے احسان اللہ طاہر کے اردو اور پنجابی زبان میں اب تک مختلف مضامین اور کتابیں سامنے آ چکی ہیں۔ ''دھرتی نوں پُھل لگ گئے'' ان کے لوگ گیتوں کے حوالے سے تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ہے۔اس کتاب کو فروغ ادب اکادمی گوجرانوالہ نے شائع کیا۔
ان کی دوسری کتاب''اول حمد ثنا الہٰی'' میں لوگ گیتوں میں حمدیہ عناصر، کلاسیکی ادب میں حمدیہ رنگ، پنجابی داستان میں حمد نگاری، پنجابی غزل میں حمدیہ عناصر، پنجابی نظم میں حمد نگاری، بچوں کے ادب میں حمد اور غیر مسلم شاعروں کی شاعری میں حمد پر پنجابی زبان میں مضامین لکھے گئے ہیں۔ یہ کتاب بھی فروغ ادب اکادمی گوجرانوالہ نے شائع کی۔
جبکہ تیسری کتاب ''چانن دا ونجارا'' استاد، محقق، صحافی اور پچاس کے قریب اردو پنجابی کتابوں کے مصنف محمد اقبال نجمی کے فکر و فن اوران علمی حوالے سے لکھے گئے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے۔اس کتاب کو وارث پریت پروار، گوجرانوالہ نے شائع کیا۔
جبکہ پیش نظر ان کی چوتھی کتاب''بولے بولیاں جو وارث شاہ میرا''شاہ صاحب کے اقوال اور ان کی پنجابی شاعری کے حوالے سے ہے۔یہ کتاب فروغ ادب اکادمی گوجرانوالہ سے شائع ہوئی۔
ان کی پانچویں کتاب ''جائزے'' میں مختلف پنجابی زبان و ادب کے حوالے سے شائع ہونے والی کتابوں کا تعارف شامل ہے۔یہ کتاب پاکستان پنجابی فکری سانجھ لاہور نے شائع کی ہے۔
مبصر: تجمل شاہ
رسائل پر تبصرہ
مہرنامہ بلوچستانی ادب کا پیش کاو
عابد میر ایک ہنگامہ پرور شخص ہے۔ اتنی کم عمر میں اس نے اتنے بڑے بڑے کام کیے ہیں کہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے۔ صحافی، افسانہ نگار، کالم نگار، مضمون نگار، مرتب، مدیراور ناشر اور میں سوچ رہا ہوں کہ اس کی ادبی شخصیت کی کوئی جہت میں بھول تو نہیں گیا۔ اتنے بہت سارے کام اور عمر یہی کوئی لگ بھگ تیس برس۔ سال دو کم ہوں گے زیادہ نہیں اور جو کام بھی کیا اس میں ایک معیار کو مدنظر رکھا۔ اب جو اس نے مہر نامہ کے نام سے ادبی جریدہ نکالا ہے جس کا اعزازی مدیر دانیال طریر ہے تو اس کا پہلا شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے جسے دیکھ کر یقین آتا ہے کہ بہت جلد یہ بلوچستان سے نکلنے والے ادبی جریدوں میں ممتاز مقام حاصل کرے گا۔ اس پہلے شمارے میں بلوچستانی ادب کے حوالے سے کیا نہیں ہے؟ بلوچستان کی کس زبان کے ادب کے مختلف اجزاء شعر و ادب اور تنقیدی مباحث کی شکل میں اس میں شامل نہیں؟ اگر ترتیب واردیکھا جائے تو پہلے'' میرا تخلیقی عمل ''کے عنوان سے بلوچی ادیب اے آرداد نے اپنے تخلیقی عمل کی وضاحت کی ہے اور لکھنے کے محرکات اور نظم و نثر میں لکھنے کے انتخابات سے بحث کی ہے ۔ اس کے بعد گوشہ خاص کے تحت بلوچستان کی عمر کے لحاظ سے خاصی سینئرشاعرہ سائرہ خاں سارہ کی غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔ سارہ کے کلام کی خصوصیت ایک بھر پور اور زند ہ نسوانی وجود کا احساس ہے جو اس کی غزلوں اور نظموں کے قاری سے ہمکلام ہوتا ہے۔ اور یوں اپنے وجود کا اثبات کراتا ہے۔ اس کے بعد مباحث کے ذیل میں چھ تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ پہلا مضمون ڈاکٹر شاہ محمد مری کا ہے جو ''بلوچی ناول اور منیر بادینی کا فن '' کے عنوان سے ہے۔ دیگر مضامین میں معاصر پشتو شاعری پر وجودیت کے اثرات ، گل خان نصیر بحیثیت براہوی شاعر، عصر حاضر اور عطا شاد ، بلوچستانی شاعرات کا المیہ اور معاصر تھیوری او ر تعین قدر شامل ہیں۔ ان تنقیدی مضامین کے بعد مختلف بلو چستانی زبانوں کے ادبیات کے الگ الگ گوشے بعنوانات بلوچی دریچہ ، پشتو دریچہ ، براہوئی دریچہ، ھزارگی دریچہ اور اردو دریچہ اس ادبی جریدہ کے مطالعہ کا بنیادی مواد فراہم کرتے ہیں اور اسے پاکستان کے دیگر ادبی جریدوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم با ت یہ ہے کہ ان تمام زبانوں کے دریچے میں دیا گیا تمام تر تخلیقی مواد تراجم کی صورت اردو زبان میں ہے اور ان سے اردو کے قارئین فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور اس کے ذریعے بلوچستانی زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب کے مختلف اسالیب اور رحجانات سے روشناس ہو سکتے ہیں۔ اعلیٰ ادبی اور تنقیدی معیار پر اگر ان زبانوں کے ادب کو پرکھنے سے گریز کیا جائے تو کم از کم بلوچستان شناسی کے حوالے سے یہ ادب اہم ہو سکتا ہے۔ اس شمارے کے آخری حصے میں بلوچستان سے شائع ہونے والی جن کتب پر تبصرہ کیا گیا ہے ان میں گہر گہر ستارگی از عین سلام ، وفا کا تذکرہ از شاہ محمد مری، پرندہ از آغا گل، شاہ کے جوگی از شاہ محمد مری اور چلشن سے چین تک از زیب النساء غرشین شامل میں تبصرہ نگاروں میں دانیال طریر، رکھیل مورائی ، عابد میر ، سحر صدیقی اور مجید اصغر کے نام آتے ہیں۔ خوبصورت اور دل آویز سرورق کے ساتھ شائع ہونے والے اس جریدے کے کل ۲۴۸ صفحات ہیں اور اس کی قیمت ۲۵۰ روپے ہے۔ ملنے کا پتہ ہے سیلز اینڈ سروسز جناح روڈ کوئٹہ۔
مبصر: فیصل احمد گوندل
مجلہ۔ کوگنوسیر
پیش نظر مجلہ ایف، ایف، سی سکولز میرپور ماتھیلو سندھ کا مجلہ ہے۔ایف۔ایف۔سی سکولز گو کہ ایک علمی وادبی روایت کا نام ہے۔ اگرچہ اس درسگاہ نے ہر شعبہ زندگی میں نامور سپوت وطنِ عزیز کے سپرد کیے، مگر اس کا سرمایۂ افتخار، علم و دانش اور شعر وادب کا حوالہ بھی رہا۔ یہاں کے طلبہ، روایاتِ کہن کے محافظ اور فکری صلاحیتوں کے نقیب رہے ہیں۔ یہ علمی و ادبی مجلہ ۲۰۱۲ء ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر بن کر آج روزِ روشن کی طرح عیاں ہوا ہے۔ مجلہ 'دی کوگنو سیر ۲۰۱۲ئ' ننھے شاہینوں کی کاوش کا مظہر ہے۔ یہ مجلہ طلبہ و طالبات کی فکری، شعوری اور تخلیقی کاوشوں کا اعلیٰ ترجمان ہے۔ اس مجلے کا منشور اہل علم اور طالب علموں کو خدائے لم یزل کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بامِ عروج تک پہنچانا ہے۔ یہ شاہین جب ہاتھ میں قلم تھامے، روشنی کی کرن بن کر دشتِ ادب میں، حرفِ حرمت کی داستان رقم کرتے ہیں تو صحرابھی سبزہ زار بن جاتے ہیں اور پھر اس بنجر دھرتی سے بحرِ علم کے سوتے پھوٹنے لگتے ہیں، کاوش خلوص میں بدل جاتی ہے، گفتگو، لفظِ شیریں کی حلاوت کا مزا دینے لگتی ہے اور قطرے ابرنیساں بن کر جلوہ گر ہوتے ہیں اور اس طرح سوچوں کے رنگ برنگے جھرنوں سے ''کوگنو سیر ۲۰۱۲ئ'' گوہر ہائے آبدار بن کر چمکنے لگتا ہے۔ یقیناً یہ مجلہ کئی نونہالان ادب کی سوچوں پر علم کی دستک دے گا۔ ہمارے اساتذہ اور دوستوں کی حوصلہ افزائی اور علم دوست جذبے کی صداقت بطور خاص اس مجلے کو کاغذی پیرہن عطا کرنے کا باعث بن۔ آرٹ پیپر پر خوبصورت طباعت کے ساتھ یہ مجلہ اردو، انگریزی دوحصوں پر مشتمل ہے جس میں سکول کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
مجلس کے سر پرست اعلیٰ ظہیر انور، سر پرست عابد ہاشمی، مدیر اعلیٰ محمد ابراہیم لنگراہ، مدیرمحمد اسلم خان، جبکہ معاون مدیران میں عبدالحمید خان، محمد محمود بھٹی اور مسز نزہت ابرار ہیں۔
مبصر: اسلم خان
سہ ماہی خوش نما
افسروں، سفارت کاروں اور وزیروں مشیروں کے سنجیدہ شہر اسلام آباد کو سرفراز شاہد نے مزاح کا ''خوش نما'' تڑکا لگا کر ادبی مزاج کو نیا ذائقہ فراہم کیا ہے۔ سرفراز شاہد ملک بھر میں مزاحیہ شاعری کے بحراوقیانوس ہیں ظرافت ان کے چہرے پر جھلکتی نظر آتی گو کہ وہ موسمیات کے محکمے سے منسلک رہے مگر ''خوش نما'' کے ذریعے اب وہ اس شہر کی ادبی فضا میں مزاح کی گرج چمک بھی پیدا کر رہے ہیں جس میں وہ اب تک ملک بھر کے بلکہ بیرون ملک شاعروں کے زعفرانی کلام اورمضامین شائع کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے کا ساتواں شمارہ جنوری تا مارچ شائع ہو چکا ہے جس میں چند یادگار مشاعروں کی تصاویر کو نمایاں شائع کیا گیا جبکہ صدیق سالک، مشتاق احمد یوسفی، ضیاء الحق قاسمی، سید ضمیر جعفری اور قتیل شفائی جیسے بے شمار قلمکاروں کی تحریروں کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ مدیر موصوف اپنے ''خوشنمائیہ'' میں رقم طراز ہیں کہ ایک اخبار میں شائع سروے میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان کے باشندے دنیا کے اداس ترین لوگوں میں چوتھے نمبر پر آگئے ہیں۔ یہ بات خبر کی حد تک ہی درست نہیں بلکہ حقیقت کے قریب ترین دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے کسی شہر کی کسی سڑک پر نکل جائیے مجال ہے کہ جو کسی چہرے پر مسکراہٹ نظر آئے، کسی گلی کوچے کا رخ کیجیے ممکن نہیں کوئی قہقہہ کانوں میں رس گھولے، کسی ادبی سماجی محفل میں چلے جائیے وہاں بھی آپ کو زیادہ بر بسورتی شکلیں ملیں گی۔ ہم قہقہے کا استعمال بھول گئے ہیں۔ دراصل ہم اتنے بحرانوں میں گھر چکے ہیں کہ کسی فرد کے پاس ہنسنے ہنسانے کے لیے وقت ہے اور نہ جواز، یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے جو ہماری قوم کو مسلسل ڈپریشن کی کھائیوں میں دھکیل رہی ہے۔ دہشت گردی، ٹارگٹ گلنگ، بے روزگاری، غربت، تعلیم سے محرومی، مہنگائی، کرپشن وغیرہ ان سب بحرانوں نے ایسی فضا کو جنم دیا ہے جس میں مسکرانا یا مسکروانا بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ آفرین ہے ان مزاح نگاروں اور مزاح گو شعراء پر جنھوں نے بدترین حالات میں بھی دامنِ ظرافت کو نہیں چھوڑا اور وہ اپنے ہنر سے مشاعروں اور شگفتہ تحریروں کے ذریعے مسکراہٹیں بکھیرتے رہتے ہیں اور ''خوش نما'' اسی کوشش میں سر گرم عمل رہتا ہے۔ رابطہ کے لیے ای میل: sarfrazmshahid@yahoo.com۔
مبصر: تجمل شاہ