ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی

کبیراحمدجائسی

 

نئے سال کے پہلے مہینے کے پہلے ہی عشرے میںمتعدداکابرادب دنیا ے فانی سے کوچ کرگئے۔ ۷جنوری کوعشا کے قریب مجھے محترمہ ڈاکٹرنگارسجاد ظہیرصاحبہ نے اطلاع دی کہ آج ۵بجے شام پروفیسر کبیراحمد جائسی ،علی گڑھ میں انتقال کرگئے۔اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔
پاکستان کے ادبی حلقے،پروفیسرکبیراحمدجائسی کے نام سے زیادہ واقف اورمانوس نہیں ہیں لیکن بقول برادرم امین راحت چغتائی: ''ڈاکٹر کبیر احمد جائسی کو جو نہ جانے،وہ کافراورجوجانے،وہ بھی کافر… وہ عہدحاضر کے علم وادب میں بڑا نام ہیں۔شاعرہیں،ادیب ہیں،نقادہیںاورمحقق ومفسر، تفسیر کے جدید اسلوب واندازتنقیدکے بانی۔ایران کی چنداہم فارسی تفسیریں(چارجلدیں)ان کابہت بڑا کام ہے۔''صرف یہی نہیں، جائسی کے اور بھی بڑے بڑے کام ہیں۔ ان کی تصانیف وتالیفات کی تعدادبائیس ہے،جن میںسے سات آٹھ انعام یافتہ کتابیںہیں۔(اگرچہ ان جیسی شخصیات انعامات اوراوارڈ سے مستغنی ہوتی ہیں۔)
جائسی ۱۶نومبر۱۹۳۴ء کوضلع رائے بریلی(یو پی) کے قصبے جائس میں پیداہوئے۔ ابتدامیں وہ اعظم گڑھ کے شبلی نیشنل پوسٹ گریجویٹ کالج کے طالب علم رہے۔ (اسے مولاناشبلی نے۱۸۸۳ء میں سکول کے طورپرقائم کیاتھا۔)جنرل(ر)مرزااسلم بیگ اور پروفیسرخلیل الرحمن اعظمی اسی کالج کے تعلیم یافتہ ہیں۔جائسی یہاںکے طالب علم تھے تو ان دنوں نامور ادبی نقاداورادیب جناب شمس الرحمن فاروقی اسی کالج میں انگریزی پڑھاتے تھے۔جائسی ان کی کلاس میں تو نہیں تھے مگر باہمی تعلق شاید اسی زمانے میں قائم ہوا۔اس کی تفصیل جائسی کے نام فاروقی صاحب کے خطوط(شمس کبیر،قرطاس کراچی۲۰۰۴ئ)میں ملتی ہے۔انٹرمیڈیٹ کے بعد وہ بی اے کرنے کی کوشش کررہے تھے،مگرپہلی کوشش میں فیل ہوگئے،دل برداشتہ ہوئے۔ جولائی ۱۹۶۰ء کے اوائل میں اپنے دوست ابن فرید کی تحریک پراعظم گڑھ سے ان کے پاس علی گڑھ چلے گئے۔
ابن فریدپراپنے مضمون میں جائسی لکھتے ہیں:''میںاس وقت بے کارتھا۔ مجھ کوباکارکرنے کے لیے مولانا نے اس زمانے کے جامعہ اردوکے رجسٹرارسیدظہیرالدین صاحب علوی کو پھانسنا شروع کیااورآخرکارمجھ کوجنوری۱۹۶۱ء سے ادیب کامدیر معاون مقرر کروانے میں کامیاب ہوگئے ۔انھوں نے اپنے سوروپے کے معاوضے میں سے تیس روپے ماہوارمیرے محنتانے کے لیے کٹوادیے اورمیرا نام پکی روشنائی میںچھپنے لگا''۔روزگارکابندوبست ہوجانے پر جائسی نے تعلیمی استعداد بڑھانے کی ٹھانی۔ادیب کامل پہلے ہی پا س کرچکے تھے۔اب'' وایابٹھنڈا'' گریجویٹ بننے کی سوجھی۔انگلش اونلی کا امتحان دیامگر فیل ہوگئے، پھرپریشان ہوئے۔ابن فرید نے پھران کی ہمت بڑھائی اوران کی تجویز پر جائسی نے باقاعدہ (ریگولر) طالب علم کی حیثیت یونی ورسٹی میںداخلہ لیا،خوب محنت کی اور بی اے میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ایم اے فارسی کیا اورپی ایچ ڈی ریسرچ میں داخل ہوگئے۔ان چار برسوں میں انھوںنے ادیب کے مدیر ابن فریدکے ساتھ مدیرمعاون کی حیثیت سے بھی کام کیا۔
دونوں کے لیے یہ بڑی مشکلات اورآزمائشوں کا زمانہ تھا۔ جائسی صاحب نے ابن فرید پراپنے مضمون میں تفصیل کے ساتھ ان آزمائشوں کا ذکرکیاہے۔جائسی شعبہ فارسی میں لیکچررشپ کے امیدوار تھے(مستحق بھی تھے)مگر ان کے استادپروفیسرنذیراحمد نے کسی دباؤیامصلحت کے تحت کسی اورشخص کاتقررکردیا، جس سے جائسی بہت ناخوش،افسردہ اورپریشان ہوگئے اور ڈاکٹرشباب الدین کے الفاظ میں وہ''پانچ برس تک جہنم میں جلتے رہے۔'' اُدھر ابن فریدکوبھی ان کے استحقاق سے مسلسل محروم کیاجاتا رہا،وہ انگریزی،نفسیات اورسوشیالوجی میں ایم اے تھے اورسوشیالوجی میں پی ایچ ڈی بھی کر چکے تھے۔ آخرمیں شعبۂ سوشیالوجی میں لیکچررہوگئے مگران کاراستہ روکنے والے اورٹانگ کھنچنے والے بہت تھے ،نتیجہ یہ کہ سولہ سال بعدبھی انھیںترقی (پروموشن)نہ ملی اوروہ لیکچرر کے طورپراوراسی گریڈ میںریٹائرہوگئے۔ جائسی صاحب ان کے مقابلے میںخوش قسمت نکلے اورجامعہ ملیہ اور علی گڑھ کے اسلامک سٹڈیز شعبوں اوراقبال انسٹی ٹیوٹ سری نگر میں چندسال گزارنے کے بعد بالآخر واپس علی گڑھ آکرشعبہ فارسی میںلیکچررہوگئے، اگرچہ بہت تاخیر سے اوربہ ہزارخرابی ودِقّت ۔پھریہیںپروفیسربنے ۔آخری برسوں میںانسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیزکے ڈائریکٹر،تہذیب الاخلاق کے مدیر اور یونی ورسٹی کے اعلیٰ ادارے یونی ورسٹی کورٹ کے ممبربھی رہے۔
جائسی صاحب نہایت فاضل اوراعلیٰ درجے کے سکالرتھے۔انھیں بہت سے اوارڈاورانعامات ملے۔ایرانی تصوف،ذبیح اللہ صفا: حیات اورکارنامے،حافظ:شخص اورشاعر،ایران کی چنداہم فارسی تفسیریں،انعکاس،سوویتی تاجیکی ادبیات کے بانیان کی اہم کتابوںمیںشمارہوتی ہیں۔وہ بہت اچھے شاعربھی تھے۔ شاعری کے دومجموعے :صحراصحرااورجاوداں مضراب ان سے یادگارہیں۔صباؔتخلص کرتے تھے۔صباؔجائسی مشاعروں میں بھی شریک ہوتے رہے۔بالکل ابتدائی زمانے کی شاعری شمس کبیرکے حاشیوں میں ملتی ہے۔ شمس کبیر کے خطوط بہت دلچسپ ہیں مگراس سے بھی زیادہ دلچسپ جائسی کے خاکوںکا مجموعہ (ڈھونڈوگے انھیں) ہے جس میں بارہ حضرات پرمضامین یاخاکے شامل ہیں۔دوبزرگوں(مولوی چراغ علی اور نواب محمداسحاق خان)کے علاوہ باقی سارے ان کے معاصرین یاعلی گڑھ کے اساتذہ ہیں۔ڈاکٹرمسعودحسین خان،آل احمد سرور، پروفیسر نذیراحمد،مولانامحمدتقی امینی،خلیل الرحمن اعظمی،مشیر الحق، ممتازعلی، نسیم قریشی وغیرہ۔جائسی صاحب نے نسیم قریشی کے خاکے میں ایک دلچسپ واقعہ لکھاہے:پروفیسرنسیم قریشی کٹر مسلم لیگی تھے، وہ مسلم لیگی کارکن کی حیثیت سے جلسوں میں تقریریں کیاکرتے تھے اور ان کی آتش نوائی مشہور تھی۔تحریک پاکستان کے حوالے سے مسلم لیگ کے ایک جلسے میں خطاب کرنے کوجب وہ ایک قصبے میں پہنچے تو وہاںدیوبندی علماکا ایک وفدبھی موجود تھا،جو پاکستان کی تشکیل کے خلاف تھے۔یہ تقریرایک مسجد میں ہونی تھی۔اب ہواکیا؟جائسی لکھتے ہیں:
''ابھی تقریر کا آغاز بھی نہیں ہواتھا کہ فریق مخالف کی طرف سے مناظرے کی دعوت دی گئی۔کہاں مناظرہ،کہاں نسیم صاحب، مگر موقعے کی نزاکت دیکھتے ہوئے وہ مناظرے کے لیے تیار ہوگئے۔ایک صاحب نے جو عالم معلوم ہورہے تھے،مناظرے کی ابتداکرتے ہوئے نسیم صاحب سے دریافت کیا کہ''وہ میدان حشر میں مولانا حسین احمد مدنی کادامن پکڑیں گے یا محمد علی جناح کا؟''[اپنے تئیں ان کانگریسی عالم نے نسیم قریشی کو بُری طرح پھنسا دیاتھا۔]
''نسیم صاحب کی ذہانت بیدار تھی ۔انھوں نے برملا جواب دیا:میدان حشر میں مَیں تو اس کا دامن پکڑوں گاجس کا دامن ،اگر مولاناحسین احمد مدنی نہ پکڑیں تومردُوداوراگرمحمد علی جناح نہ پکڑیں تو مردُود''۔یہ جواب سن کرپورے مجمعے نے اللہ اکبر کابلندآہنگ نعرہ بلند کیااورسامعین میں ایسا جوش پیدا ہوگیا کہ فریق مخالف کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔''
جائسی صاحب بلا کے محنتی تھے۔ سری نگر کے سہ سالہ قیام میںانھوں نے روسی سِرے لِک رسم خط سیکھااورمیرسیدمیرشکرکی مختصر سی کتاب محمد اقبال کااردومیں ترجمہ کرکے اسے اقبال انسٹی ٹیوٹ سے شائع کیا۔تاجیکی زبان اصل میں توفارسی زبان ہی ہے،اشتراکیوںنے اس کا رسم خط تبدیل کرکے اسے تاجکستان سے باہر کے فارسی دانوں کے لیے اجنبی بنادیاتھا۔ جائسی صاحب نے سِرے لِک سیکھ کرمتذکرہ بالاترجمے کے علاوہ تاجیکی ادبیات پردوکتابیں(سوویتی تاجیکی ادبیات کے بانی۔جدید تاجیکی شعرا) تصنیف کیں۔اپنی کتاب ایرانی تصوف میں ایرانی دانش وراورنامورادیب استادسعیدنفیسی کے افکارپر بڑی جرأت سے تنقید کی۔حافظ: شخص اورشاعرجائسی صاحب نے فارسی میں لکھی تھی۔ اشاعت کے لیے خانہ فرہنگ ایران کو دی۔ کتاب چھپی، نہ مسوّدہ واپس آیا۔ضائع ہوگیایاکردیاگیا یا؟؟؟جائسی صاحب کے پاس اردومیںاس کتاب کے نوٹس موجودتھے،ان کی بنیاد پرکتاب کاکچھ حصہ دوبارہ لکھا۔ حافظ ؔپراپنے دومطبوعہ مضمون بھی شامل کیے اورکتاب تیارکرکے چھپوادی۔
حافظ کاذکرآیاتوایک اوردلچسپ بات: کبیر احمد جائسی نے اقبال اورحافظ پر ایک مضمون لکھاتھا۔ (مطبوعہ اردوادب،علی گڑھ، ۱۹۶۸ئ) تقریباًچھے سال بعدناموراقبال شناس اور نقادڈاکٹریوسف حسین خاں نے جامعہ ملیّہ کی ایک تقریب میںاسی موضوع پراپنا مضمون پڑھا۔جائسی صاحب نے اس حوالے سے کہیں لکھایابیان کیاکہ مجھے ''اس بات کی خوشی ہے کہ میرے ایسے مبتدی نے جو باتیں۱۹۶۸ء میں کہی تھیں،یہی باتیں ۱۹۷۴ء میں اردوکے ایک مستنداوربزرگ ادیب کی زبانی بھی سنائی دیں۔ڈاکٹریوسف حسین خاں کو معلوم ہواتوبھڑک اٹھے اوراسے اپنے علم و فضل کی توہین سمجھ لیا۔یہ بات جامعہ کے سربراہ مسعودحسین خاں تک بھی پہنچ چکی تھی[وہ ڈاکٹر یوسف حسین خاں کے بھتیجے تھے۔] ڈاکٹرجائسی کی ملازمت کی مستقلی کاانٹرویوہواتو مسعودصاحب اپنے چچاکی شدیدخفگی کونظراندازکرگئے اورجائسی صاحب کو مستقل کردیا۔
_____
جائسی صاحب سے راقم کی ملاقات کبھی نہیںہوئی۔میں پہلی بار۱۹۸۶ء میں اوردوسری بار۱۹۹۷ء میں بھارت گیا۔دونوں موقعوں پر وہ علی گڑھ میں تھے مگرمیرے پاس علی گڑھ کا ویزانہ تھا۔علی گڑھ جاسکا،نہ ملاقات ہوئی۔وہ۱۹۸۳ء میں پاکستان آئے،مجھے علم نہ ہو سکا،ہوتابھی تو اس وقت ان کی شخصیت اور کارناموں سے ناواقف تھا۔ ڈاکٹرابن فریدپر کچھ لکھتے ہوئے اورکچھ کام کرواتے ہوئے،ان کا ذکرپڑھا،پھرشمس کبیر،بعدازاں ڈھونڈوگے انھیںاورایران کی چنداہم فارسی تفسیریں نظر سے گزریں۔ ابن فرید پران کامضمون بھی راقم کی ان سے غائبانہ قربت کا ایک سبب بنا۔یہ مضمون ابن فرید کی زندگی میں لکھاگیاتھااور ابن فریدکی نظر سے گزراتھا۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دونوں کے درمیان کس قدر قربت تھی اور جائسی صاحب کوابن فرید سے کتنی محبت تھی۔ابن فرید۹؍مئی۲۰۰۳ء کوانتقال کرگئے تو میںنے جائسی صاحب کوخط لکھ کر تعزیت کی ،ان کاجواب آیا،بعدازاںبھی دوایک خطوں کاتبادلہ ہوا۔میں سوچتاتھاکہ جب کبھی علی گڑھ جاناہوگا تو ان سے ضرور ملوں گالیکن قبل اس کہ یہ نوبت آتی ،جائسی صاحب ۷؍جنوری۲۰۱۳ء کوشام پانچ بجے سفرآخرت پرروانہ ہوگئے۔
میں نے اوّل توڈاکٹرنگارسجادظہیرصاحبہ سے تعزیت کی کہ جائسی مرحوم،نگارصاحبہ کے ماموں تھے۔دوسرے دن میںنے جناب شمس الرحمن فاروقی کوبرقی ڈاک سے تعزیتی خط روانہ کیا۔اسی روزان کا جواب موصول ہواجوذیل میں درج کیاجارہاہے۔(یہ مرحوم کوفاروقی صاحب کاایک فوری خراج تحسین بھی ہے):
Dear Brother Rafiuddin Hashmi, Yes, It was a great shock. The New Year has not begun well for us who lost numerous major writers in 2012.Yes, I knew Kabir since he was a young boy, struggling to make a name. He was very bright even then, and wrote a short book on Fani when he was v. young. I never taught him, but he regarded me as "ustad" because of our numerous discussions about poetry and literature. He lived a life of great austerity and denial, devoted to Persian and Urdu literature.May God rest his soul in the highest place in paradise.
Yours, with best regards, SRF., Jan. 9, 2013.
جائسی مرحوم نے اپنے استاد پروفیسر نذیر احمد پر خاکے (مشمولہ:ڈھونڈوگے انھیں)میں لکھاتھا:''آدمی جب یکسوئی اورخاموشی سے بیگانۂ سود وزیاں ہوکرکسی نیک اورمفیدکام میں مصروف رہتاہے توقدرت اس کومحبوب خلائق بنادیتی ہے اور دنیاوی انعامات واکرامات کی بھی اس پر بارش کرواتی ہے'' ___کبیراحمدجائسی ایسے ہی ''آدمی'' تھے جوعمربھر''یکسوئی اورخاموشی سے بیگانۂ سودوزیاں ہوکر''تصنیف وتالیف کے'' نیک اورمفید کام میں مصروف''رہے۔ایسا''آدمی''یقینااس لائق ہے کہ جب وہ دنیاسے رخصت ہوتواس کی یادتازہ کی جائے اوراسے اچھے لفظوں سے یاد کیاجائے۔
پس یہی بات اوریہی نکتہ راقم کے اس مضمون کامحرک بنا،فقط۔
٭٭٭٭