عالمی ادب سے ترجمہ
جادو
ہرمن بیس
ترجمہ : نیئر عباس زیدی
یہاں پر فریڈرک (Frederick)نامی شخص کا ذکر کیا جا رہا ہے، اُس نے خود کو دانشورانہ مقاصد کے لئے وقف کر لیا تھا، وہ بے پناہ علم حاصل کر چکا تھا اور معلومات میں یکتا حیثیت رکھتا تھا لیکن اس کے لئے تمام علوم ایک جیسی اہمیت کے حامل نہیں تھے اور نہ ہر سوچ دوسری سوچ کی طرح بہتر تھی۔ وہ ایک خاص قسم کی سوچ کو پسند کرتا تھا اور دیگر سوچوں کو ناگوار خاطر کرتا اور رد کر دیتا۔ وہ جس چیز کی توقیر کرتا اور پسند کرتا وہ تھی ’’منطق‘‘ اور جسے وہ ایک ’’سائنس‘‘ قرار دیتا تھا۔
وہ اکثر کہتا، ’’دو جمع دو چار ہوتے ہیں، اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر کسی انسان کی سوچ کا محور ہونا چاہیے‘‘۔
یقینی طور پر وہ اس بات سے نا آشنا نہیں تھا کہ سوچوں کے دھارے اور علوم مختلف بھی ہو سکتے ہیں مگر وہ ’’سائنس‘‘ نہیں اور وہ ان کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ آزادانہ سوچوں کا حامل ہونے کے باوجود وہ مذہب کے معاملے میں عدم رواداری کا شکار نہیں تھا۔ سائنسدانوں کی دنیا میں مذہب ایک ان کہے معاہدے کی حیثیت رکھتا تھا۔ کئی صدیوں تک ان کی سائنس نے تقریباً ہر اس چیز کو اپنے سے پیوست کر لیا تھا جو اس دنیا میں اپنا وجود رکھتی ہے اور وہ اس قابل تھی کہ اسے جانا جائے، اس میں صرف ایک چیز کو استثنیٰ حاصل تھا اور وہ تھی انسانی روح۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک رواج بنتا چلا گیا کہ اس مسئلے کو مذہب کے لئے چھوڑ دیا جائے اور روح پر ہونے والے مفروضات کو سنجیدگی سے لئے بغیر ہی برداشت کیا جائے۔ لہٰذا فریڈرک بھی مذہب کے معاملے میں رواداری سے کام لیتا۔ لیکن وہ جس چیز کو بھی توہم پرستی سمجھتا تھا وہ اس کے لئے نا پسندیدہ اور ناگوار ہوتی۔ نا آشنا، غیر تہذیب یافتہ اور ذہنی معذوری کے شکار افراد تو خود کو ان چیزوں میں پھنسائیں، شائد قدیم معاشروں میں ماورائی اور جادوئی سوچ کا تصور موجود ہو، لیکن سائنس اور منطق کے نمو پذیر ہونے کے بعد ان فرسودہ اور مشکوک خیالات کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
وہ ان خیالات کا اظہار کرتا اور اسی طرح سوچتا، اور جب کبھی تو ہم پرستی سے متعلق کسی قسم کے خیالات اس کے سامنے آتے تو وہ ناراضی کا اظہار کرتا کہ جیسے کسی ناموافق چیز نے اسے چھو لیا ہو۔
تاہم یہ بات اسے اکثر تنگ کرتی رہتی چاہے ایسی کوئی چیز وہ از خود تلاش کرے یا سائنسی اصولوں کے مباحثوں کے دوران کوئی پڑھا لکھا شخص اسے بیان کرے اور جو بات اس کے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک اور عدم برداشت کا باعث بنتی وہ ایک عجیب سا تصور تھا جس کا اظہار بعض اوقات عظیم ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کرتے کہ ’’سائنسی سوچ‘‘ امکانی طور پر ایک شاندار، وقت کی حدود سے آزاد ،دائمی، پہلے سے طے شدہ اور مستحکم تخیل کا نام نہیں بلکہ کئی عارضی نقطہ ہائے نظر میں سے ایک ہے جو تبدیلی اور زوال سے مبرا نہیں۔ یہ تخریبی، زہریلا،غیر متاثرکن خیال عام ہو چکا تھا حتیٰ کہ فریڈرک بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا، یہ سوچ اس مایوسی کے نتیجے میں رائج ہوئی جو دنیا میں جنگوں، انقلابات اور بھوک و افلاس کی وجہ سے پیدا ہوئی اور ایک انتباہ کی طرح نوشتہ دیوار بن گئی۔
فریڈرک اس حقیقت سے جتنا زیادہ آشنا ہوتا چلا جاتا کہ یہ خیال اب رائج ہو چکا ہے اور اب وہ اسے تشویش میں مبتلا کر سکتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اس نظریے اور ان لوگوں کے پیچھے پڑ جاتا جن کے بارے میں اسے شبہ ہوتا کہ یہ لوگ خاموشی کے ساتھ اس نظریے پر یقین کئے ہوئے ہیں۔ اب تک اس نئے نظریے پر یقین رکھنے والوں میں حقیقی علم کے حامل چند افراد کا شمار ہوتا تھا، یہ ایک ایسا نظریہ دکھائی دیتا تھا جو پہلے سے طے شدہ ہو ، کیا اسے زمین پر موجود تمام تر اقدار کو ختم کرنے اور انتشار پیدا کرنے کے لئے رائج ہو جانا چاہیے اور تقویت حاصل کرلینی چاہیے۔ جی ہاں! معاملات ابھی اس نہج پر نہیں پہنچے، اور وہ ’’منتشر‘‘ افراد جنہوں نے اس نظریے کو آزادانہ طور پر تسلیم کر لیا تھا ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی اور ان لوگوں کو غیر معمولی اور انوکھا سمجھا جا سکتا تھا۔ لیکن زہر کے قطرے کی طرح، اس خیال کے ظہور کو پہلے ایک طرف سے اور پھر دوسری طرف سے سمجھے جانے کی ضرورت ہے۔ لوگوں میں، اور بالخصوص نیم پڑھے لکھے لوگوں میں، نئے نظریوں کی آمد کا سلسلہ نہیں پایا جا سکتا، مخفی نظریات ، فرقے اور پیروکاری، (ان کی) دنیا ان چیزوں سے بھری ہوتی تھی، کوئی بھی شخص ہر جگہ موجود توہمات، تصوف اور روحانیات سے متعلق حلقوں اور دیگر پر اسرار قوتوں کو محسوس کر سکتا تھا، جن سے مقابلہ اور مسابقت ضروری تھا، لیکن کسی سائنس کے تحت، کہ جیسے موجودہ آزادانہ حیثیت کی خاطر کمزوری کے نجی احساس سے کوئی چیز حاصل کی گئی ہو۔
ایک دن فریڈرک اپنے کسی دوست کے گھر گیا ،جس کے ساتھ وہ اکثر مطالعہ کیا کرتا تھا، اس نے اپنے اس دوست کو کافی عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔ جب وہ اپنے دوست کے گھر کی سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا تو اس نے یہ بات یاد کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے اس دوست کے ساتھ آخری مرتبہ کب بیٹھا تھا، اپنی دیگر صلاحیتوں پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی یاد داشت پر بھی نازاں تھا، اس کے باوجود وہ یہ ملاقات یاد نہیں کر سکا۔ اسی وجہ سے وہ غیر محسوسیت اور بیزاری کا شکار تھا اور اس کی طنز و مزاح کی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی تھی اسی کیفیت میں وہ اپنے دوست کے دروازے پر دستک دے رہا تھا اور خود کو اس کیفیت سے آزاد کرانے کا خواہشمند تھا۔
اس نے اپنے دوست کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر بھی اسے خوشگوار سا تاثر نہیں دیا۔ اسے یہ محسوس ہوا کہ اس نے اپنے دوست کے چہرے پر پہلے ایسی مسکراہٹ کبھی نہیں دیکھی اور اسے یہ دیکھ کر احساس ہوا کہ دوستی کے باوجود اس کی مسکراہٹ میں ایک طنز یا مخالفت کا پہلو نمایاں ہے اور اچانک اسے یہ بھی یاد آگیا کہ وہ اپنی یادداشت پر ،اپنے دوست سے عمومی ملاقات کا وقت یاد کرنے کے لئے، زور دے رہا تھا جو کہ بے سود تھا۔ اسے یاد آگیا کہ وہ آخری مرتبہ لڑے بغیر ہی علیحدہ ہو گئے، لیکن ان کے اندر عدم تسلی اور نا اتفاقی کے جذبات موجود تھے کیونکہ اسی ملاقات میں ارون (Erwin)نے توہمات پر فریڈ رک کی طرف سے کئے جانے والے حملوں میں اس کی کوئی خاص حمایت نہیں کی تھی۔
یہ بات حیران کن تھی۔ اس نے یہ بات یکسر فراموش کیسے کر دی تھی؟ اور اب وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہی وجہ تھی کہ اس نے اتنے عرصے تک اپنے دوست سے ملاقات نہیں کی تھی، صرف یہی بے چینی، جسے وہ ہر وقت باور کرتا رہتا تھا، باوجود اس کے کہ اس نے اپنے دوست سے ملاقات میں تاخیر کے اور بہت سے بہانے تلاش کئے ہوئے تھے۔
اب وہ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اور فریڈرک کو ایسا محسوس ہوا کہ اس دن کا معمولی سا تنازعہ ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ،وسعت اختیار کر گیا ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ اس وقت اس کے اور ارون کے درمیان کوئی ایسی چیز غائب ہے جس کا پہلے وجود تھا۔ یقینی طور پر وہ باہمی سمجھ بوجھ کی فضا، استحکام کا ہالہ اور محبت کی موجودگی۔ بہر حال اس تمام تر صورت حال کے باوجود ایک خلا بھی موجود تھا۔ وہ ایک دوسرے سے پرتپاک انداز میں ملے، موسم کے بارے میں بات چیت کی، اپنی شناسائی سے متعلق گفتگو کی، صحت سے متعلق دریافت کیا اور خدا جانے کیوں۔ ہر لفظ کے ساتھ فریڈرک کو یہ احساس ہوا کہ وہ اپنے دوست کی بات نہیں سمجھ رہا، شائد اس کا دوست حقیقی معنوں میں اسے نہیں جانتا، اس کے الفاظ معیار تک نہیں پہنچ پا رہے، انہیں حقیقی بحث مباحثے کے لئے کوئی مشترک بنیاد نہیں مل رہی۔ مزید یہ کہ، ابھی تک ارون کے چہرے پر ایک دوستانہ مسکراہٹ ہے، جسے دیکھ کر فریڈرک کے اندر نفرت کے سے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
اس تھکا دینے والی بحث کے دوران فریڈرک نے سٹوڈیو کی طرف دیکھا جس کے متعلق وہ اچھی طرح جانتا تھا، اس نے دیوار پر، ڈھیلے سے انداز میں لٹکا ہوا ،ایک کاغذ دیکھا- اسے دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور اس کے ذہن میں پرانی یادیں عود کر آئیں، اسے یاد آیا کہ زمانۂ طالب علمی میں ارون کی یہ عادت تھی کہ جب کبھی وہ کسی مفکر کے قول یا کسی شاعر کے شعر کو اپنے ذہن میں تازہ کرنا چاہتا تھا تو وہ دیوار پر لگے ہوئے کاغذ سے اُسے پڑھتا تھا۔
وہاں ارون کے تحریر کردہ مقولے میں سے اس نے پڑھا:’’کوئی بھی چیز کسی(چیز ) کے باہر نہیں ، اور کوئی بھی چیز کسی (چیز) کے اندر نہیں، کیونکہ جو کچھ بھی کسی (چیز) کے باہر ہے وہی (چیز) اس کے اندر ہے‘‘۔
اس کا رنگ فق ہو گیا اور وہ ایک لمحے کے لئے ساکن ہو گیا۔ ہاں یہی ہے! یہی وہ چیز ہے جس کا اسے خطرہ تھا!۔ ایک خاص وقت میں اسے چاہیے تھا کہ وہ اس کاغذ کو نظر انداز کر دیتا، اسے بڑی ہمت سے برداشت کر لیتا، ایک ایسی بے ضرر چیز کی طرح جوہر شخص کو قابل قبول ہوتی ہے، کوئی بھی معمولی چیز جو کسی انسان کو اپنی طرف متوجہ کر کے اسے وقتی طور پر مشغول کر لیتی ہے۔ لیکن اب تو صورت میں واضح فرق موجود تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ یہ الفاظ محض اس کی شاعرانہ حس کو بیدار اور محظوظ کرنے کے لئے نہیں؛ یہ وہم نہیں تھا کہ خاصے عرصے کے بعد ارون اپنی نوجوانی سے منسوب عادت پر واپس آگیا تھا۔ جو کچھ یہاں لکھا تھا وہ اس خاص لمحے میں اس کے دوست کا اعلان نظر آرہا تھا اور وہ تصوف سے متعلق ہی تھا! ارون بے وفا تھا! فریڈڑک بڑی آہستگی سے اپنے دوست کا سامنا کرنے کے لئے مڑا، جس کی مسکراہٹ اب چمک دار محسوس ہو رہی تھی۔
فریڈرک بولا ’’میرے لئے اس مقولے کی وضاحت کرو‘‘۔
ارون نے بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہوئے کہا، ’’کیا تم نے پہلے کبھی یہ مقولہ نہیں پڑھا؟ ‘‘
فریڈرک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’یقیناً پڑھا ہے، یہ تصوف ہے، یہ عرفانیت سے متعلق ہے، یہ شاعرانہ بھی ہوسکتا ہے، لیکن۔ جو کچھ بھی ہے میرے لئے اس کی وضاحت کرو اور یہ بھی بتاؤ۔ کہ یہ مقولہ تمہاری دیوار پر آویزاں کیوں ہے۔ ‘‘
ارون نے بڑی شائستگی سے جواب دیا۔ ’’یہ مقولہ ’علمیات ‘ کا پہلا تعارف ہے جس سے میری بعد میں وابستگی ہو گئی، اور جو میرے لئے بہت خوشیاں لے آئی‘‘۔
فریڈرک نے اپنے موڈ اور مزاج پر قابو رکھتے ہوئے کہا، ’’(نئی) علمیات؟ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے؟ اسے کیا کہا جاتا ہے؟
ارون نے جواب دیا، ’’یہ صرف میرے لئے نئی ہے ، ورنہ یہ بہت پرانی اور آزمودہ ہے، اسے ’جادو‘ کہتے ہیں‘‘۔
یہ لفظ کہہ تو دیا گیا، مگر اس لفظ میں حیرت انگیز طور پر واضح اعتراف تھا، اس بات سے فریڈرک بھی حیران ہو گیا اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ اپنے ایک دیرینہ دشمن کے سامنے بیٹھا ہے جو اسکے دوست کی صورت میں اس کے سامنے موجود ہے۔ اسے یہ ادراک نہ ہو سکا کہ وہ غصے کی حالت یا آنسو نکلنے کی حالت کے قریب ہے؛ وہ ایک ایسی کیفیت میں مبتلا ہو گیا جو ناقابل تلافی نقصان ہو جانے کی صورت میں ہوتی ہے۔ کافی دیر تک وہ خاموش بیٹھا رہا۔
پھر ایک بناوٹی سا لہجہ بنا کر اس نے کہا،۔ ’’تو گویا اب تم ایک جادوگر بننا چاہتے ہو؟ ‘‘
ارون نے بغیر ہچکچاہٹ کے جواب دیا، ’’جی ہاں !‘‘
’’
جادوگروں جیسا تجربہ؟ ‘‘
’’
یقینا ‘‘
کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ ساتھ والے کمرے میں لگی ہوئی کلاک کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔
اس کے بعد فریڈرک نے کہا، ’’اس کا مطلب ہے کہ تم سنجیدہ سائنس سے تمام تر وابستگی توڑنے کے ساتھ ساتھ مجھ سے بھی اپنی وابستگی ترک کر رہے ہو‘‘۔
ارون نے جواب دیا، ’’ میرا خیال ہے ایسی بات نہیں، لیکن اگر ایسا ہے بھی ، تو میں اس کے سوا کیا کر سکتا ہوں‘‘؟
فریڈرک طیش میں آکر بولا، ’’اس کے علاوہ تم کیا کر سکتے ہو!، کیوں نہ اس طفلانہ اور مطعون خیال سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان چھڑالی جائے اور جادو کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا جائے۔ اگر تم میری کوئی لاج رکھنا چاہتے ہو تو یہی وہ کام ہے جو تم کر سکتے ہو۔
اگرچہ ارون اتنا خوش دکھائی نہیں دے رہا تھا تا ہم وہ مسکرایا۔
ارون نے اتنی عمدگی اور شائستگی سے بات کی کہ اس کی زبان سے ادا کئے ہوئے خوبصورت الفاظ کے مقابلے میں فریڈرک کی غصیلی آواز کمرے میں گونجتی ہوئی محسوس ہوئی، ’’فریڈرک! تم نے یہ گفتگو ایسے کی جیسے یہ سب کچھ میں نے اپنی مرضی سے کیا، کہ جیسے میرے پاس انتخاب کا کوئی حق تھا۔ معاملہ یوں نہیں ہے۔ میرے پاس دیگر کوئی صورت موجود نہیں تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ میں نے جادو کا انتخاب کیا: جادو نے میرا انتخاب کیا۔ ‘‘
فریڈرک نے لمبا سانس لیا، بیزاری سے کھڑا ہوا اور بغیر ہاتھ ملائے الوداع کہتا ہوا چل پڑا۔
ارون چلّایا،’’نہیں! ایسے نہیں، تم میرے پاس سے یوں نہیں جا سکتے۔ فرض کرو ہم دونوں میں سے کوئی ایک بستر مرگ پر پڑا ہے-معاملہ کچھ ایسا ہی ہے!- تو کیا ہمیں الوداع کہہ دینا چاہیے‘‘۔
’’
لیکن ارون، ہم دونوں میں سے کون قریب المرگ ہے؟
’’
میرے دوست! آج شاید میں قریب المرگ ہوں، جس کسی کو بھی از سر نو پیدا ہونے کی خواہش ہو اسے موت کے لئے تیار رہنا چاہیے‘‘۔
فریڈرک ایک مرتبہ پھر اس کاغذ کے قریب گیا اور اس مقولے کو پڑھا۔
بالآخر اس نے کہا،’’بہت خوب! تم ٹھیک کہتے ہو، غصے میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں وہی کچھ کروں گا جس کی تمہیں تمنا ہو گی، میں تصور کرتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی ایک قریب المرگ ہے، پیشتر اس کے کہ میں جاؤں میں تمہارے سامنے آخری گزارش کرنا چاہتا ہوں‘‘۔
ارون بولا، ’’چلو میں اس بات پر خوش ہوں، مجھے بتاؤ میں تمہارے واپس جانے پر کسی شفقت اور مہربانی کا مظاہرہ کر سکتا ہوں‘‘؟
مَیں اپنے پہلے سوال کو دہراتا ہوں، اور یہ میری درخواست بھی ہے: ’’میرے لئے اس مقولے کی وضاحت کرو۔ اتنی وضاحت کرو جتنی تم کر سکتے ہو‘‘۔
ارون نے ایک لمحے کے لئے اس کی طرف دیکھا اور پھر بولا: ’’کوئی بھی چیز کسی چیز کے باہر نہیں اور کوئی بھی چیز کسی (چیز) کے اندر نہیں۔ تم اس جملے کے مذہبی معانی جانتے ہو: اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔ اللہ روح میں موجود ہے اور فطرت میں بھی جلوہ گر ہے۔ ہر چیز خدائی ہے کیونکہ اللہ کُل ہے۔ ہم اسے وحدت الوجود کہتے ہیں۔اس کے بعد مقولے کے فلسفیانہ معانی: ہم لوگ عادی ہیں کہ ہم اپنی اپنی سوچ میں ’’اندر‘‘ کو ’’باہر‘‘ سے دور لے جانے کے عادی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں۔ ہماری روح میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان حدود سے پیچھے ہی رک جائے جو ہم نے اس کے لئے مختص کی ہے۔ تضاد کے اس جوڑے کے پرے جس پر ہماری دنیا مشتمل ہے، علم کے ایک نئے اور مختلف شعبے کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن، میرے محترم دوست! مجھے اس بات کا اعتراف کر لینا چاہیے۔ جب سے میری سوچ کا دھارا تبدیل ہوا ہے اس وقت سے میرے لئے الفاظ اور مقولوں کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہیں رہا: ہر لفظ کے دسیوں اور سینکڑوں معانی ہیں اور تمہیں جس چیز کا خدشہ ہے وہ اب شروع ہوتی ہے - جادو‘‘۔
فریڈرک نے اپنی تیوری چڑھائی، وہ مداخلت کرنے ہی والا تھا کہ ارون نے اس کی طرف دیکھا اور مزید وضاحت کے ساتھ اپنی گفتگو جاری رکھی، ’’چلو میں تمہیں ایک مثال دیتا ہوں میری ایک چیز اپنے ساتھ لیتے جاؤ، یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے۔ اسے مختلف اوقات میں دیکھتے رہنا۔ کچھ ہی عرصے بعد ’’اندر ‘‘اور ’’ باہر‘‘ کا اصول تم پر بہت سی چیزوں کا انکشاف کر دے گا‘‘۔
اس نے کمرے کا جائزہ لیا، دیوار کے شیلف میں سے مٹی کا بنا ہوا، چھوٹا سا ’’بت ‘‘اٹھایا اور فریڈرک کو دیتے ہوئے کہا، ’’اسے میرے ایک الوداعی تحفے کی حیثیت سے ساتھ لیتے جاؤ۔ جو چیز میں تمہارے ہاتھوں میں رکھ رہا ہوں جب تمہارے ’’باہر ‘‘ کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے تمہارے اندر آجائے تو تم میرے پاس آجانا! لیکن اگر یہ تمہارے ’’باہر‘‘ ہی رہے ، جیسے کہ یہ اب ہے ، تو تمہارے اور میرے درمیان ہونے والی جدائی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی ‘‘!
فریڈرک مزید کچھ کہنا چاہتا تھا؛ لیکن ارون نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، اسے دبایا اور اسے ایک ایسے رویے کے ساتھ الوداع کیا، جس کے لئے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں تھی۔
فریڈرک وہاں سے چلا گیا؛ سیڑھیوں سے نیچے اُترا (اس نے ایک طویل عرصہ قبل ان سیڑھیوں کا سفر کتنی شان سے طے کیا تھا۔!)؛ شہر کی سڑکوں سے ہوتا ہوا اس چھوٹے سے بت کو ہاتھ میں لئے، اپنے گھر پہنچا، گھر پہنچتے وقت وہ خاصا مضطرب اور غمگین تھا۔ گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنی اُس مٹھی کو بڑی سختی سے دبایا جس میں وہ بت کو تھامے ہوئے تھا، اس کا دل چاہا کہ وہ اس مزاحیہ چیز کو پھینک دے مگر اس نے ایسا نہیں کیا؛ اس نے اپنے ہونٹ بند کئے اور گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ اسے اس قسم کے متذبذب خیالات کا کبھی سامنا نہیں ہوا۔
اس نے اپنے دوست کے دیئے ہوئے تحفے کے لئے کوئی مناسب جگہ دیکھی اور اسے کتابوں کے شیلف کے اُوپر رکھ دیا۔ کچھ عرصے کے لئے اسے وہیں رہنے دیا۔
جیسے جیسے وقت گزرتا چلا گیا وہ گاہے بگاہے اسے دیکھتا رہا، اس پر اور اس کے اصل پر غور کرتا رہا اور وہ خاص معانی بھی تلاش کرتا رہا جس کے لئے یہ احمقانہ سی چیز اسے دی گئی تھی۔ یہ کسی بھی انسان، دیوتا یا بت کا چھوٹا سا خاکہ نما تھا۔ جس کے دو چہرے تھے اور یہ رومی دیوتا جانوس (Janus)کی طرح تھا جسے چکنی مٹی سے بنانے کے بعد جلا کر مختلف ٹکڑیوں سے صیقل کیا گیا تھا۔ یہ بت معمولی نوعیت کا تھا اور کسی اہمیت کا حامل نہیں تھا؛ یقینی طور پر یہ رومی یا یونانی تو نہیں تھا بلکہ یہ افریقہ یا جنوبی ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی غیر ترقی یافتہ اور ابتدائی نسل کے عہد سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے دو چہرے تھے ،جو ایک جیسے تھے اور ان پر ایک پھیکی بے حس اور مجہول قسم کی مسکراہٹ تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کوئی بد شکل بالشیتا احمقانہ ہنسی ہنس رہا ہے۔
فریڈرک اس چھوٹے سے بت سے مانوس نہ ہو سکا۔ یہ بت اس کے لئے ناگواری کا باعث ہی رہا۔ جب بھی اس کا آمنا سامنا اس بت سے ہوتا تو وہ پریشانی میں مبتلا ہو جاتا۔ اگلے روز اس نے اس بت کو چولھے کے اُوپر رکھ دیا، اور چند دن بعد اسے الماری میں منتقل کر دیا۔ وہ بت بار بار اس کے تخیل میں آتا، جیسے وہ ، اس پر توجہ مبذول کروانے کے لئے زور دے رہا ہو، وہ فریڈرک پر ہنس رہا تھا، سر گوشی کر رہا تھا اور توجہ چاہ رہا تھا۔ چند ہفتوں بعد فریڈرک نے اسے ڈیوڑھی میں آویزاں اٹلی کی تصویر اور یادگاری شیلڈز کے درمیان رکھ دیا۔ ان تمام تر چیزوں پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اب کم از کم وہ اس بت کو گھر میں داخل ہوتے وقت یا گھر سے نکلتے وقت ایک مرتبہ ضرور دیکھتا تھا ۔ اس کے بعد وہ اس کے قریب سے عجلت میں ہی گزر جاتا اور اس کا قریب سے مشاہدہ نہیں کرتا تھا۔ لیکن ایسے کرنے پر بھی یہ بت اس کے لئے پریشانی کا باعث بنا رہا ، باوجود اس کے کہ اس نے یہ بات خود سے تسلیم نہیں کی۔
اس کو نئی جگہ رکھنے کے بعد یہ دو چہروں والا (پُتلا نما) چھوٹا بت اس کی زندگی میں شامل ہونا شروع ہو گیا۔
چند مہینوں بعد فریڈرک کسی ٹرپ سے جب واپس آیا، اب وہ ایسے ٹرپ اکثر لگایا کرتا تھا کیونکہ اسے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی اس سے یہ امور سر انجام دلوارہا ہے، تو وہ ڈیوڑھی سے گزرا، اس کی ملازمہ نے اس کا استقبال کیا، اور پھر وہ ان خطوط کا مطالعہ کرنے لگا جو اس کے منتظر تھے۔ وہ مضطرب اور پریشان دکھائی دے رہا تھا، جیسے وہ کوئی اہم چیز بھول گیا ہو؛ مطالعے میں اس کا دل نہ لگا، نہ ہی اسے اپنی کرسی آرام دہ محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اپنے دماغ پر زور دینا شروع کر دیا۔ آخر اس سب کی وجہ کیا ہے؟ کیا اس نے کسی اہم چیز پر عدم توجہ کی؟ کوئی غیر معمولی چیز نوش کر لی ہے؟ اس صورت حال پر غور کرتے ہوئے اس پر یہ انکشاف ہوا کہ اس کی طبیعت میں یہ تبدیلی عین اس وقت ہوئی جب وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوا۔ وہ ڈیوڑھی میں واپس آیا اور ، نہ چاہتے ہوئے، اس کی نگاہیں بت تلاش کرنے لگیں۔
اس کی طبیعت میں مزید اضطراب اس وقت پیدا ہوا جب اسے وہ بت نظر نہ آیا۔ وہ غائب ہو گیا تھا۔ گم ہو گیا تھا۔ کیا وہ اپنی چھوٹی سی ٹانگوں پر چل کر کہیں چلا گیا؟ اڑ گیا؟ جادو کے ذریعے؟
فریڈر ک نے خود پر قابو پایا، اپنے اضطراب اور اپنی پریشانی پر مسکرایا۔ پھر اس نے اپنے کمرے میں اس بت کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ تلاشی مکمل کر چکا اور اسے وہ بت نہ ملا تو اس نے اپنی ملازمہ کو بلایا۔ وہ آئی ، حیرت میں مبتلا دکھائی دی اور اس نے فوراً اعتراف کیا کہ کمرے کی صفائی کے دوران اس کے ہاتھ سے وہ بت نیچے گر گیا تھا۔
’’
لیکن اب وہ کہاں ہے‘‘؟
اب وہ اس جگہ موجود نہیں۔ کیونکہ وہ اس بت کو اکثر ہاتھوں میں اٹھا لیتی تھی، وہ انتہائی ٹھوس دکھائی دیتا تھا، لیکن آج وہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا اور اسے جوڑنا ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ وہ اسے ایک کاشی گر کے پاس لے گئی، جس نے اس کا مذا ق اڑایا؛ اور اس بُت کو وہیں پھینک دیا۔
فریڈرک نے اس ملازمہ کو برخاست کر دیا۔ پھر وہ مسکرادیا۔ یہ اس (فریڈرک ) کے ساتھ بالکل صحیح ہوا۔ خدا جانتا ہے کہ اس نے اس بت کو (اپنے اندر) محسوس نہیں کیا تھا۔ کراہت اب دور ہو چکی تھی؛ اور اب وہ سکون میں آگیا تھا۔ اگر وہ اس چھوٹے سے بت کو گھر میں لانے کے پہلے ہی دن توڑ دیتا، تو وہ اب تک کس سوچ میں مبتلا رہتا، اس تمام عرصے میں وہ بت اس پر کتنی عجیب و غریب ، مکارانہ، شیطانی اور سست روی پر مبنی ہنسی ہنستا رہا تھا! اب جب کہ وہ کہیں گم ہو گیا تھا تو وہ خود سے یہ اعتراف کر سکتا تھا کہ: وہ (فریڈرک) اس (بت) سے خوفزدہ تھا، وہ حقیقی معنوں میں اس مٹی کے دیوتا سے خوف کھایا کرتا تھا۔ کیا وہ بت ہر اس چیز کی نشانی یا علامت نہیں تھا جو اس (فریڈرک) کے لئے ناقابل برداشت اور قابل نفرت تھی، ہر وہ چیز جس کی پہچان ایک مہلک، مخالف اور دباؤ کی حیثیت سے ہی ہوئی۔ تمام تر توہمات، اندھیروں، روح اور شعور کے مجموعی جبر کی صورت؟ کیا وہ بُت اس بھیانک قوت کی نمائندگی نہیں کرتا جو کبھی کبھار زمین کی گہرائی میں محسوس ہوتی ہے، جب زلزلہ کچھ فاصلے پر ہوتا ہے، جب ثقافت کی ناپیدگی، اور انتشار کے ظاہر ہونے کا عمل قریب ہو؟ کیا اس چھوٹے سے بت نے اسے اپنے بہترین دوست سے جدا نہیں کر دیا تھا۔ نہ صرف وہ اس کے دوست کو اس سے چھین کر لے گیا تھا بلکہ اس کے دوست کو اس کا دشمن بھی بنا دیا تھا؟ چلو ! اب وہ چیز غائب ہو چکی ہے۔ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہے۔ یہ اچھا ہی ہوا۔ یہ اور بہتر ہوتا اگر وہ خود اسے توڑ دیتا۔
فریڈرک نے ایسا ہی سوچا۔۔۔۔۔ اور جب اس نے اپنے معمول کے کام دوبارہ شروع کئے۔ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہو گئی۔ اور اس بت کا غائب ہونا اس (فریڈرک) کے لئے ملامت کا باعث ہو گیا کیونکہ وہ اس مضحکہ خیز چیز کا عادی ہو چکا تھا، اب اس چیز کی ڈیوڑھی میں موجودگی شناسائی کا باعث محسوس ہونے لگی، اور اس کی غیر موجودگی اسے ستانے لگی تھی۔ جی ہاں! وہ جب بھی اس کمرے میں جاتا اسے وہ بت یاد آتا ، اسے محض وہ خالی جگہ نظر آتی جہاں وہ چھوٹا سا بت کھڑا تھا اس جگہ کے خالی ہونے کا احساس بھی اسے کھائے جاتا اور وہاں سے اجنبیت کا احساس بھی عیاں ہوتا۔
فریڈرک کے لئے برے دن اور بد تر راتوں کا آغاز ہو گیا تھا۔ وہ اس ڈیوڑھی میں گم شدہ بت کا تصور کئے بغیر داخل نہیں ہو سکتا تھا، وہ اسے ہر وقت یاد کرتا تھا اور یہ محسوس کرتا تھا کہ اس کے خیالات اسے تنگ کر رہے تھے۔ یہ بات اس کے لئے لازم و ملزوم ہو گئی۔ اور ایسا ہوا کہ وہ جب بھی اپنے کمرے میں داخل ہوتا تو یہ دباؤ اس پر غالب آتا۔ ڈیوڑھی میں رکھی ہوئی میز پر وہ خالی جگہ دیکھ کر، جہاں وہ بت رکھا ہوا تھا، جو دباؤ اسے محسوس ہونا شروع ہوا تھا، اس نے ایک کھوکھلے پن اور اجنبیت کے احساس کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔
بار بار اس بات کا خاکہ اس کے ذہن میں آتا، شائد یہ بات باور کروانے کے لئے کہ اس بت کا گم ہو جانا اس کے لئے کتنے صدمے کا باعث ہے۔ وہ اس کا عکس کراہت و بربریت میں دیکھتا تھا، یقینی طور پر وہ اس کے دو چہروں پر ایک مکارانہ ہنسی دیکھ سکتا تھا جیسے وہ نفرت سے بھرا ہوا ہے اور اس کا منہ ترچھا محسوس ہو رہا ہے اور فریڈرک نے خود کو یہ ہنسی ہنسنے پر اس کو مجبور کیا ہو۔ اس سوال نے اسے پریشان کیا ہوا تھا کہ آیا اس (بت) کے دونوں چہرے بالکل ایک جیسے ہیں۔ شائد ان میں سے ایک دوسرے سے مختلف تھا کیونکہ ان کی چمک اور کاشی گری میں تھوڑا سا فرق تھا؟ کوئی مزاحیہ قسم کی چیز؟ ابو الہول نما؟ اور اس کی چمک کا رنگ کیسا تھا! سبز ، نیلا اور سلیٹی، کچھ سرخ بھی اس میں شامل تھا۔ ایک ایسی چمک جس کی تلاش اسے دیگر چیزوں میں رہتی ہے، کھڑکیوں کے شیشوں میںیا گیلی سڑک پر۔
وہ رات کو بھی اس چمک پر بہت غور کرتا اور لفظ ’’چمک‘‘ اس کے لئے خاصا غیر مانوس، اجنبی اور عجیب و غریب بن گیا تھا۔ اس نے اس لفظ کا تجزیہ کرنا شروع کر دیا اور ایک مرتبہ تو اس نے ان الفاظ کی ترتیب بھی الٹ کر دیکھی اور پھر وہ ایک اس لفظ کو نامانوس اور شیطانی تصور کرنے لگا۔ بالآخر اُسے ایک پرانی کتاب کا خیال آگیا جسے اس نے کئی سال پہلے خرید کر پڑھا تھا جس کے مطالعے نے اسے پریشان تو کیا تھا مگر وہ اندرونی طور پر اس سے متاثر ہوا تھا اس کا عنوان شہزادی ازلکا (Princess Ezalka)تھا۔ یہ ایک مطعون ہونے کی سی کیفیت تھی؛ ہر چیز اس چھوٹے سے بت جیسی تھی۔ اس کی چمک، نیلا ، سبز، رنگ، اس کی مسکراہٹ، ایک عجیب سی نفرت اس کو اندر سے زہر آلود کر رہی تھی اور جب اس کے سابقہ دوست ارون (Erwin)نے اس بت کو اس کے ہاتھ میں تھماتے وقت ایک خاص قسم کی ہنسی ہنسی تھی۔ وہ ہنسی کتنی منفرد علامتی اور نفرت سے بھر پور تھی۔
فریڈرک نے اپنے خیالات کا- کامیابی نہ ہونے کے باوجود- کافی دنوں تک مقابلہ کیا۔ا سے واضح طور پر خطرہ منڈلاتا ہوا نظرآیا: وہ پاگل نہیں ہونا چاہتا تھا! نہیں، اس صورت حال میں مر جانا بہتر ہے- عقل ضروری ہے، زندگی نہیں- اور اس پر یہ بات عیاں ہوئی کہ شائد یہ جادو ہو، ہو سکتا ہے کہ اس کے دوست ارون (Erwin)نے اس چھوٹے سے بت کے ذریعے اس کو مسحور کیا ہے اور یہ کہ اس کو ایک ’’قربان ہونے والی چیز‘‘ کی طرح اس کے پاس جانا چاہیے، منطق اور سائنس کو دفاع کرنے والے کی حیثیت سے جو ان مہلک قوتوں کے سامنے لوگوں کا دفاع کرتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ کچھ ایسے ہی ہے کہ جیسے وہ سمجھ پایا ہے، یعنی جادو جیسی بھی کسی چیز کا وجود ہے اور اس کا دوست اس کو جادوگری اور بدروحوں سے متعلق قائل نہیں کر سکتا ہے۔ تو پھر اس فریڈر ک کے لئے مرجانا بہترہے !
ایک ڈاکٹر نے اس کو تواتر کے ساتھ پیدل چلنے اور غسل کرنے کا مشورہ دیا : اور کبھی کبھار وہ تفریح کرنے کی غرض سے مسافر خانے میں بھی شام گزارتا۔ لیکن اس سے اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس نے ارون پر لعن طعن کرنے کے ساتھ ساتھ خود پر بھی لعنت کی۔
ایک رات، اپنے حالیہ دنوں کی معمول کے مطابق، وہ اضطرابی کیفیت ہی میں بستر پر دراز ہو گیا، نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ بے چینی اس پر حاوی رہی۔ وہ مراقبے میں جانا چاہتا تھا؛ تنہائی کی تلاش میں تھا، خود کلامی چاہتا تھا، خود سے کچھ جملے بولنا چاہتا تھا، اچھے جملے، جو اسے سکون دے سکیں، جو اس کا یقین بحال کر سکیں، جن میں سادگی ہو اور وہ جملے سہل و آسان ہوں، ’’دو دونی چار‘‘۔ اس کے ذہن میں کوئی بات نہیں آئی ؛ لیکن نسبتاً پر سکون ہونے کے بعد اس نے خود سے مخاطب ہو کر کچھ آوازیں اور حروف ادا کئے۔ بتدریج اس کے ہونٹوں پر کچھ لفظ تشکیل پا گئے، یہ عمل کئی بار ہوا لیکن اس کو معانی سمجھ نہیں آئے، اس نے خود سے وہی چھوٹا سا جملہ بولا، جس نے اس کے اندر کوئی ’’صورت‘‘ اختیار کر لی تھی۔ وہ ایک مرتبہ پھر خود سے بڑبڑایا ، جیسے وہ چیز اسے دم بخود کرنے والی ہو، جیسے وہ اس چھوٹے سے جملے کے ساتھ اپنا راستہ ٹٹولتا جا رہا ہے، کسی حفاظتی دیوار کے ساتھ ساتھ ایک ایسی نیند کے لئے جو اس کو ایسے تنگ راستے سے بچا رہی ہے جو گہرائی کے قریب سے ہو کر گزر رہا ہے۔
پھر اچانک جب وہ ذرا بلند آواز سے بولا تو وہ الفاظ اس کے شعور میں داخل ہو گئے۔ وہ ان الفاظ سے شناسا تھا: وہ الفاظ یہ تھے، ’’جی ! اب تم میرے اندر ہو‘‘! پھر اس کا ادراک بھی بحال ہو گیا۔ وہ ان الفاظ کے معانی بھی جانتا تھا۔ وہ اس مٹی کے بنے ہوئے چھوٹے بت سے منسوب تھے اور اب رات کے اس پہر ارون (Erwin) کی وہ پیش گوئی درست ہو گئی جو اس نے ملاقات کے دن کی تھی، اوراس نے اسی دن جو چھوٹا سا بت اپنی انگلیوں میں تھاما ہوا تھا وہ اب اس کے ’’باہر‘‘ نہیں تھا بلکہ وہ اس کے ’’اندر‘‘ چلا گیا تھا کیونکہ ’’جو چیز بھی کسی چیز کے باہر ہے وہی (چیز) اس کے اندر ہے‘‘۔
چھلانگ مارنے کی سی صورت حال کی تیاری کرتے ہوئے، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ برف اور آگ سے بھر چکا ہے۔ دنیا اس کے گرد گھوم گئی، سیاروں نے احمقانہ انداز سے اس کی طرف دیکھا۔ جلدی جلدی کپڑے پہنے، (کمرے کی)لائٹ آن کی اور وسط شب میں اپنے گھر سے نکل کر ارون کے گھر کی طرف دوڑا۔ وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ سٹوڈیو کی کھڑکی میں ایک چکا چوند کر دینے والی روشنی جل رہی ہے۔ اس کے گھر جانے والا دروازہ کھلا ہے: گویا ہر چیز اس کی منتظر تھی۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھا۔ اور بلا جھجک ارون (Erwin)کے کمرۂ مطالعہ میں چلا گیا، خود کو کانپتے ہاتھوں سے اس کی میز پر سہارا دیا۔ ارون اپنے لیمپ کی دھیمی روشنی میں بیٹھا تھا اور بڑی پر سکون ہنسی ہنس رہا تھا۔
ارون بڑی شان سے اٹھا اور کہا، ’’تم آگئے، بہت اچھا کیا۔ ‘‘
فریڈرک نے آہستگی سے پوچھا، ’’کیا تم میرے منتظر تھے؟ ‘‘
تم جانتے ہو کہ میں اُسی دن سے تمہارا منتظر تھا جس دن سے تم میرے پاس سے گئے ہو، اپنے ہاتھوں میں میرا دیا ہوا چھوٹا سا تحفہ تھامے، بتاؤ کیا ویسا نہیں ہوا جیسے میں نے کہا تھا؟
فریڈرک نے کہا، ’’ہاں ایسا ہی ہوا، وہ چھوٹا سا بت اب میرے اندر ہے اور اب میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ ‘‘
ارون نے پوچھا، ’’کیا میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں‘‘؟
’’
مجھے نہیں معلوم۔ ایسا ہی کرو جیسا تم چاہتے ہو۔ مجھے اپنے جادو سے متعلق مزید بتاؤ، اور یہ بھی بتاؤ کہ وہ چھوٹا سا بت اب میرے اندر سے باہر کیسے نکل سکتا ہے‘‘۔
ارون نے اپنا ہاتھ فریڈرک کے کاندھے پر رکھا۔ اسے آرام کرسی کے قریب لے گیا اور اس پر بٹھا دیا۔ پھر وہ دوستانہ انداز میں فریڈرک سے مخاطب ہوا:’’وہ چھوٹا سا بت تمہارے اندر سے باہر آسکتا ہے۔ مجھ پر بھروسہ کرو۔ کیا تمہیں خود پر بھروسہ ہے۔ تم نے اس (بت) پر بھرسہ اور یقین کرنا سیکھ لیا ہے۔ اب اس سے محبت کر ناسیکھ لو۔ اب یہ تمہارے اندر ہے، لیکن مر چکا ہے، اب بھی یہ تمہارے لئے ایک بھوت پریت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو بیدار کرو، اس سے کلام کرو، اس سے سوال کرو! کیونکہ یہ تم خود ہو۔ اس سے مزید نفرت کا اظہار مت کرو، اس سے خوف مت کھاؤ، اس سے نفرت اوربیزاری مت اختیار کرو۔ تم نے اس بیچارے بت سے نفرت کیسے کی، جو کہ تم خود تھے! تم نے خود سے، اپنے آپ سے نفرت کیسی کی !‘‘
فریڈر ک نے سوال کیا، ’’کیا جادو کا راستہ یہی ہے؟‘‘ پھر وہ کرسی پر آرام سے بیٹھ گیا، جیسے وہ بوڑھا ہو گیا ہو، اور اس کی آواز ماند پڑ گئی۔
ارون نے جواب دیا، ’’ہاں یہی راستہ ہے اور شائد اس سے پہلے تم نے انتہائی مشکل قدم اٹھایا تھا۔ تم تجربے کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچے تھے۔ کسی (چیز کے) باہر کو، کسی(چیز کے) اندر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تم کسی بھی دعوے کے جواب دعوے یا ضد دعوے سے پرے تھے۔ یہ تمہیں جہنم دکھائی دیتا تھا؛ لہٰذا میرے دوست، سیکھ لو اور یاد رکھو کہ یہ جنت ہے! کیونکہ یہ جنت ہی ہے جو تمہاری منتظر ہے۔ یاد رکھو یہ ہی جادو ہے: کسی (چیز کے)باہر کو، کسی (چیز کے) اندر میں تبدیل کرنا ، لازمی یا جبر کی حیثیت سے نہیں، جیساکہ تم نے کیا، اس کی بجائے اس کام کو آزادانہ اور رضا کارانہ طور پر کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ماضی کو بھی بلاؤ اور مستقبل کو بھیبلاؤ: دونوں تمہارے اندر موجود ہیں۔ بجائے اس کے کہ تم اس ’’اندر‘‘ کے غلام بن جاؤ۔ اس کے مالک و آقا بننا سیکھ لو۔ یہی جادو ہے‘‘۔