کالم سے انتخاب

انتظار حسین
شہریار رخصت ، مغنی تبسم بھی الوادع
شہر یار کے فوراً بعد مغنی تبسم کی رخصی بھی ایک معنی رکھتی ہے۔ دونوں کے مزاجوں میں اچھی خاصی ہم آہنگی تھی جب ہی تو دونوں نے مل کر ایک بہت سنجیدہ قسم کا رسالہ ’’شعروحکمت ‘‘ نکالا تھا۔ اس میں ہر کس وناکس چھپتا بھی نہیں تھا۔ جسے چھاپنا اسے پوری عزت سے چھاپنا۔ انھوں نے اپنی طرح کاایک کم آمیز شاعر احمد مشتاق بھی تلاش کیا۔ پھر پورے اہتمام سے اپنے رسالہ میں اس کا تعارف کرایا۔ شاید کچھ مشترک اوصاف تھے کہ احمد مشتاق سے شہر یار سے بہت بنی رہی۔ مگر اوصاف کا یہ اشتراک ایک حد تک تھا ۔مشتاق کم آمیز اکل کھرے ہونے کی حد تک ہے ۔اور پھر مزاج کی تندی ۔ جس سے بات کی اس نے شکایت ضرور کی۔ ادھر شہر یار کم آمیز ضرور تھے مگر مزاج ملنساروں والا پایا تھا اور پھر نرم طبع، کم گو۔ ان باتوں میں مغنی تبسم سے ان کا مزاج زیادہ ملتا تھا۔ دنیائے ادب کی کتنی اچھی دوروحیں تھیں کہ ایک رخصت ہوئی تو دوسری روح نے سوچا کہ بس ہمیں بھی اس دنیائے دنی سے اپنا ڈیرا اٹھا لینا چاہیے ۔ کل تم سدھارے تھے ۔ آج ہماری باری ہے۔
بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس ، ۲۰۔ فروری ۲۰۱۲ء

مسعود اشعر
دو ہفتے میں پانچ سانحے
پہلے خبر آئی کہ افضال شاہد اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس کے دو دن بعدمعلوم ہوا کہ عبا س نجمی بھی سدھار گئے ۔ پھر اظہر جاوید کی وحشت اثر خبر ملی۔ ادھر ہندوستان سے شہر یار اور مغنی تبسم کے رخصت ہوجانے کی اطلاع آئی۔ عباس نجمی بھی پنجابی ادب و شاعری کا بڑا نام تھا۔ اس نے بھی ٹی وی کے پنجابی پروگراموں کی میز بانی کر کے شہرت حاصل کی۔ ان سے بھی زیادہ جس شخص کے انتقال کا یقین کرنے کو ابھی تک جی نہیں چاہتا وہ تھا اظہر جاوید ۔ وہ تو ایک دن پہلے تک محفلوں میں چہچہاتا پھرتا تھا۔ کسی بھی ادبی رسالے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ اس میں شائع ہونے والے تنقیدی مضامین ، افسانوں اور شاعری کا ذکر ادبی محفلوں میں بھی کیا جائے ۔ اور تخلیق انہی رسالوں میں تھا۔ ’’تھا‘‘ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ معلوم نہیں اس کا بیٹا اب یہ سلسلہ جاری رکھے گا یا نہیں۔ ادبی رسالہ نکالنے کے لئے ادبی ذوق کے ساتھ ہمت ، حوصلہ اور لگن بھی چاہیے جو معلوم نہیں آج کل کے جوانوں میں ہے یا نہیں۔ اب ذرا یاد کیجئے مظفر علی کی بنائی ہوئی فلمیں ’’امراؤ جان ادا ‘‘ اور۔ ’’گمن‘‘ اور ان فلموں کی غزلیں ۔ آج بھی وہ غزلیں اور ان کی دھنیں دماغ میں گونجتی ہیں تو جھر جھری سی آجاتی ہے۔ مظفر علی کی فلموں نے تو شہر یار کو فلم بینوں کے حلقے میں شہرت دی تھی، لیکن اصل میں تو وہ ہندوستان اور پاکستان کے ان شاعروں میں تھے جن کے کلام کے بغیر اردو شاعری مکمل نہیں ہوتی۔
بشکریہ: روز نامہ جنگ،۲۶ فروری ۲۰۱۲ء

اثر چوہان
مجلس یاراں اُجڑ گئی
ماہنامہ ’’تخلیق‘‘ لاہو رکا ایڈیٹر، اردو اور پنجابی کا شاعر، ادیب ، مترجم اور دانشور اظہر جاوید بھی ہم کو چھوڑ کر چلا گیا۔علم و ادب کا ہرا بھرا گلشن ویران ہو گیا۔’’تخلیق ‘‘ کو زندہ اور جاری رکھنے کے لئے اظہر جاوید نے بہت جدو جہد کی۔ اس بوٹے کو اظہر جاوید نے واقعی جگر کا خون دے دے کر پالا اور پروان چڑھایا۔ وہ ایک مجذوب ایڈیٹر تھا۔اظہر جاوید کی ایک تقریب کے متعلق میں نے ایک کالم لکھا تھا، جس کا عنوان تھا’’اردو ادب کا مہینوال ‘‘ ۔ یہ کالم میرے ہفت روزہ ’’پنجاب ‘‘لاہور میں چھپا تھا۔ ۱۳ جولائی ۱۹۷۲ ء کو شائع ہوا۔ پنجاب میں قتیل شفائی ، اظہر جاوید ، سعیدہ ہاشمی اور امینہ عنبرین کے علاوہ کئی اور نامور ادیب اور شاعربھی لکھتے تھے۔ بلخ ،بخارے کا شہزادہ عزت بیگ گجرات کی سوہنی کمہارن کے عشق میں مبتلا ہوا تو اس کی قربت کے لئے ہر روز سوہنی کے والد تلا کمہار سے مہنگے داموں مٹی کے برتن خرید تا اور سستے داموں فروخت کر کے اگلے روز پھر مہنگے برتن خریدنے کے لئے (دیدار یار کے لئے ) وہاں پہنچ جاتا ۔ اظہر جاوید نے بھی یہی کیا ۔ یہ محض اتفاق تھا یا ’حسن اتفاق ‘‘ کہ اظہر جاوید کا دفتر راجہ اندرکا دربار لگتا تھا۔ انہی دنوں میں نے کہا۔ اظہر جاوید!میں نے تمہاری طرف سے ایک شعر کہاہے۔ قبول کر لو ۔ اس نے کہا ’’سناؤ ‘‘ میں نے عرض کیا۔
’’
چار طرف پریوں کا جھرمٹ
میں ہوں آج کا راجہ اندر ‘‘
اظہر جاوید مسکرایا اور بولا ’’یار اثر چوہان ! ایہہ گل باہر نہ کڈھیں ‘‘ لیکن بات مشک کی طرح چاروں کھونٹ پھیل چکی تھی۔
اظہر جاوید کو شاید اپنی ملامت کروانے کا شوق تھا لیکن وہ ایک بے ضرر انسان تھا، اس لحاظ سے اسے ملامتی صوفی کہا جا سکتا ہے۔ بے حد مخلص ، مہمان نواز ، زندہ دل اور یاروں کا یار۔ ناراض کم ہوتا تھااور اگر کوئی دوست ناراض ہو جاتا تو وہ اسے منانے میں پہل کرتا ۔ اظہر جاوید اور اس کے ماہنامہ ’’تخلیق ‘‘ نے ان گنت شاعرات پیدا کیں جو نامور ہوئیں ۔
بشکریہ: نوائے وقت، اسلام آباد ، ۲۲ فروری ۲۰۱۲ء

کشور ناہید
’’
امراؤجان ادا‘‘کا شاعر شہریار چلا گیا
ہندوستان میں اچھی غزل کہنے والے بہت کم شاعر ہیں۔ اب ہندوستان اور بھی تہی دامن ہو گیا ہے کہ کل رات شہر یار بھی راہی اجل ہو گیا۔ وہ تین چار مہینے سے کینسر میں مبتلا تھا مگر حوصلہ اتنا تھا کہ کیمو تھراپی کے باوجود ہر چوتھے دن فون کہ شعرو حکمت کے لیے غزلیں بھیجو۔ مضامین بھجواؤ ۔ اپنے حال کو بھول کر سب کا حال چال پوچھنا۔ خوش شکل ، خوش گفتار ، خوش غزل گو، یاروں کا یار اور اپنی تنہائی کا ساتھی۔ بالکل اکیلا رہنے کے باوجود ، ہر شام کلب جانا ، تاش کھیلنا ، بے پناہ مشاعرے پڑھنا اور مشاعرہ پڑھنے کے بعد، جام و مینا کی بات کرنا، اس سے پہلے کبھی یہ بات نہ کرنی۔ ممبئی کے فلم والوں نے اسے بہت بلایا مگر اس کا مزاج ان لوگوں سے نہیں ملتا تھا۔ مظفر علی نے جب امراؤ جان ادا بنانے کا ارادہ کیا تو شہر یار کو کہا کہ میں نے اس فلم میں غزلیں بھی شامل کرنی ہیں اور وہ بھی تمہاری ، بہت کم گو تھا۔ بولا’’ میں تو فلمی انداز کی غزلیں نہیں لکھتا مگر جب مظفر علی نے یاد کرایا کہ ’’ان آنکھوں کی مستی میں افسانے ہزاروں ہیں‘‘۔ جیسی غزلیں میں خود منتخب کر لو ں گا۔ تم بس اجازت دے دو۔ پھر کیا تھا۔ آشا بھونسلے کی آواز ، ریکھا کی اداکاری اور امراؤ جان ادا کی کہانی ، ساری دنیا میں شہر یار کا ڈنکا بجنے لگا۔ یہ سچ ہے کہ شہر یا ر بہت بڑا شاعر تھا۔ وہ شاعر جو کہتا ہے کہ :
امید سے کم چشم خریدار میں آئے
ہم لو گ ذرا دیر سے بازار میں آئے
ایسی غزلیں کہنے والا شاعر، اب ہندوستان میں کم کم ہی پڑھنے میں آتا ہے۔ ابھی چند مہینے پیشتر کی بات ہے کہ سرورالہندی نے شہر یار پر لکھے گئے مضامین کو یکجا کیا تھا۔ خلیل الرحمان اعظمی ، وحید اختر اور شمیم حنفی ، سب نے اس بے بد ل شاعر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ شہر یار ہر مشاعرے کے دوران ،خاموشی سے بیٹھنے والا شاعر ، مشاعرے کے بعد باتوں کی پھلجھڑیاں چھوڑتا تھا۔ ابھی اگلا فقرہ لکھنے کا سوچ رہی تھی کہ اصغر ندیم سید کا فون آگیا’’اظہر جاوید کا ہارٹ فیل ہو گیا‘‘ ۔ کون نہیں جانتا کہ کم از کم تیس برس سے ماہنامہ ’’تخلیق ‘‘ اپنے ہی زور بازو پر نکال رہا تھا۔ میرے فون میں سکت نہیں اور مجھ میں ہمت نہیں کہ کسی اور سانحہ کے بارے میں سن سکوں مگر میرے حوصلے کا امتحان لینے کا وقت ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ قیصر علوی کا فون آیا’’تم کہہ رہی تھیں صوفی تبسم کی برسی کا دن خاموشی سے گزر گیا۔ لو اور سنوان کا چہیتا بیٹا صوفی وقار جو کہ معروف مصور تھا۔ وہ بھی گیا۔ وہ امریکہ میں رہتا تھا ۔ وہیں دفن کیا گیا۔ کو ن تھا رونے والا جس کے لئے اسے پاکستان لایا جاتا ‘‘۔ جانے والے سب لوگ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ جس محفل میں ہوتے، قہقہے اور لگا تار خوبصورت باتیں ہوتی تھیں۔ میرے پڑھنے والے بھی محبت سے انہیں یاد کریں گے۔
بشکریہ: روز نامہ جنگ، راولپنڈی ، ۲۴ فروری ۲۰۱۲ء

زاہدہ حنا
لطف اللہ خاں: نایاب ہیں ہم
یہ ۷۰ کی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔جب میری ان سے پہلی ملاقات ان کے اس گھر میں ہوئی جو موٹن داس بلڈنگ میں تھا ۔ کراچی کے ان سنہرے دنوں کی ایک یادگار عمارت جب یہاں ہندو ،مسلمان ، سکھ ،عیسائی سب ہی رہتے تھے۔ موٹن داس بلڈنگ کا یہ روشن، کشادہ اور وسیع فلیٹ ان کا گھر ہونے کے ساتھ ہی ان کا سٹوڈیو بھی تھا۔ اس اسٹوڈیو میں انھوں نے میری ایک کہانی ریکارڈ کی تھی اور چند تصویریں کھینچی تھیں کہ ان کا شوق تصویروں کو اکٹھا کرنا بھی تھا۔ نادر و نایاب آوازوں سے ان کے عشق نے انھیں کمپیوٹر سیکھنے، مراکشی چمڑے سے اپنے خزانے کی فہرستوں کی خود جلد سازی کرنے کی طرف مائل کیا۔گزشتہ دنوں ان کے نیاز اکثر حاصل ہوئے اور اس کا بڑا سبب فاطمہ حسن ہیں۔ جنھیں لطف اللہ خاں اور ان کی بیگم زاہدہ لطف اللہ خاں سے بے حد لگاؤ رہا۔ مختلف محفلوں میں جہاں یہ دونوں ہوتے وہاں فاطمہ حسن مجھے بہ اصرار ساتھ لے جاتیں۔ لطف اللہ صاحب کے بال آج سے نہیں کئی دہائیوں سے سفید دیکھے لیکن کمر سیدھی، چہرے پر کبھی ہنسی اور کبھی گہری سوچ کی پرچھائیاں، آنکھوں میں وہ چمک جواب نوجوانوں میں بھی کم کم نظر آتی ہے۔ شہر کی بہت سی ادبی محفلوں میں پُرجوش گفتگو کرتے ہوئے۔ ۲۰۱۰ء میں اکیڈمی آف لیٹرز کی طرف سے آرٹس کونسل کراچی میں ان کی پذیرائی کی محفل تھی جس میں کمال فن ایوارڈ انھیں اردو کے نامور ادیب مشتاق احمد یوسفی نے پیش کیا۔ صدارت زہرہ نگاہ کر رہی تھیں۔ سحر انصاری ، سرشار صدیقی، فاطمہ حسن اور احمد شاہ ان کے کام کی تعریف کر چکے تھے۔ آخر میں لطف اللہ صاحب نے اپنی موتیوں جیسی تحریرکیسی تابدار آواز میں سنائی ، بیمار تھے، عمر ۹۴ برس ہو چکی تھی لیکن نہ سانس میں ناہمواری اور نہ زبان میں لکنت۔
انھوں نے ۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو شہر کراچی میں قدم رکھا اور پھر ۳ مارچ ۲۰۱۲ء کو اسی شہر کی آغوش میں سو گئے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن سے کراچی کا شمار امیر کبیر شہروں میں ہوتا تھا۔ ایسے نادر و نایاب لوگ ہمارے شہر سے اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ خاں صاحب اسے کچھ اور مفلس کر گئے۔
ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم !
بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس ۷؍مارچ ۲۰۱۲ء

اظہر جاوید چل بسے
۱۴ فروری کی صبح کو جان کاشمیری صاحب نے گوجرانوالہ سے ٹیلی فون پر رندھی ہوئی آواز میں جب کہا’’انور سدید !ایک بہت بڑی خبر !‘‘ تو میں نے فوراً جواب دیا نوجوان شاعر عباس نجمی کی وفات کی خبر پڑھ لی ہے؟اس نے بات کاٹ کر کہا’’ اظہر جاوید فوت ہوگئے‘‘۔۔۔ میرا دل دھک سے بیٹھ گیا ۔ کل شام وہ ڈاکٹر سعید اختر درانی کے اعزاز میں شاہد علی خان مدیر ’’الحمرا‘‘ کی منعقدہ تقریب میں شگفتہ بار باتیں کر رہے تھے، لطیفے سنا رہے تھے۔ اور اپنی پلیٹ سے رس گلے اور گلاب جامن اٹھا اٹھا کر میری تھالی میں رکھ رہے تھے اور اب ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی تھی ۔ اس شام لاہور کے ڈیڑھ دو سو آدمیوں نے اظہر جاوید کو پر سکون ابدی نیند سوئے ہوئے دیکھا اور نما ز جنازہ پڑھ کر انہیں ہزاروں من مٹی میں دفن کر دیا ۔ ادب کا ایک چراغ بجھ گیا تھا۔ اظہر جاوید کی وفات سے ایک فرد نہیں ایک انجمن اس دنیا سے رخصت ہو گئی رسالہ’’ تخلیق ‘‘ مر کز ٹوٹ گیا۔ معاشرے کا ایک وضعدار شخص جوشاعر بھی تھا ،افسانہ نگاربھی، ادیب بھی اور صحافی بھی ، موت کی نذر ہوا تو مجھے اسداللہ خان غالب یا دآیا جس کا یوم وفات اظہر جاوید نے ۱۲ فروری کو دفتر ’’تخلیق‘‘ میں شاندار طور پر منایا تھا۔
’’
کیا تیرا بگڑتا جونہ مرتا کوئی دن اور ‘‘
اظہر جاوید سر گوھا کے نواحی گاؤں بھاگٹانوالہ کے رہنے والے تھے۔ ان کی پیدائش ۴ جنوری ۳۸ ۱۹ء کو راولپنڈی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گوجرانوالہ میں حاصل کی پھر اپنے گاؤں میں آ گئے ۔ ان کی والدہ کا نونٹ کی تعلیم یافتہ تھیں۔ ایک ماموں شاعر تھے۔ گھر کی الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اظہر جاوید نے ان سے بے دریغ استفادہ کیا اور میٹرک پاس کیا تو وہ شاعر ی بھی کرنے لگے۔ اس دور میں ہی وہ اخبار ات کے نامہ نگار بن گئے ۔ الطاف مشہدی نے جو شاعر انقلاب مشہور تھے ۔ انہیں اپنے ادبی ہفتہ وار رسالے کا مدیر بنا دیا ۔ کلاسیکی شاعری میں جناب جوہر نظامی کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کیا اور ادبی مجالس میں شریک ہونے لگے ۔صحافت اور ادب کا شوق ہی اظہر جاوید کو لاہور لے آیا، جہاں چند ڈائجسٹوں میں کام کرنے اور ایک دو فلموں کے گانے لکھنے کے بعد معروف اخبار ’’امروز‘‘ سے وابستہ ہو گئے۔ فلمی دنیا ان کے مزاج کے مطابق نہیں تھی جبکہ ان کے لکھے ہوئے گانے نورجہاں اور مہدی حسن نے گائے تھے۔ اور ان میں ایک نعت بھی مشہور ہوئی تھی۔
اظہر جاوید نے ’’امروز ‘‘ میں ادبی صفحہ آراستہ کیا۔ اور متعدد نئے لکھنے والوں کو متعارف کروایا ۔ ان کا ادبی کالم ’’محفل محفل‘‘ اخبار ’’حریت ‘‘ کراچی میں بھی چھپتا تھا۔ ادب کی خدمت اور ذوق کی پذیرائی کے لیے ماہنامہ ’’تخلیق‘‘ جاری کیا جو ۱۹۶۹ سے لے کر فروری ۲۰۱۲ء تک باقاعدگی سے چھتا رہا۔ آمر ضیا ء الحق کے دور میں اظہر جاوید نوکر ی سے برطرف کر دیے گئے۔ بحالی کے لیے تحریری معافی کی شرط عائد کی گئی۔ لیکن اظہر جاوید اپنے آزاد مسلک پر قائم رہے۔ تاآنکہ ۱۴ اگست ۲۰۱۱ء کو انہیں صدر پاکستان کا’’تمغہ حسن کارکر دگی‘‘ (پرائڈ آف پر فارمنس ) پیش کیا گیا۔ چند سال پہلے انہیں عارضہ قلب نے وارننگ دی تھی۔ لیکن وہ رسالہ ’’تخلیق‘‘ کی اشاعت میں مگن رہے ۔ آخر ۴ ۱ فروری کو ادب کی خدمت کرتے کرتے اس دنیاسے اٹھ گئے۔ ان کی عمر ۷۳ برس تھی۔ حق مغفرت کرے! اظہر جاوید نے کچھ عرصہ رسالہ ’’ادب لطیف ‘‘کی ادارت بھی کی اور اس کا شاندار فیض نمبر اور سالنامہ شائع کیا۔ روحانی مزاج کے اس شاعر کا ایک مجموعہ’’ غم عشق اگر نہ ہوتا‘‘چھپ چکا ہے۔ پنجابی افسا نوں کی کتاب ’’بڑی دیر کر دی‘‘ پر انہیں مسعود بگھوان ایوارڈ دیا گیا تھا۔ ’’تخلیق ‘‘ کا دفتر لاہور کے ادیبوں کی ادبی بیٹھک تھی ۔ افسوس! اب یہ ادبی بیٹھک کبھی نہ کھلے گی۔
***