ریختہ اور غزل کی مماثلتیں : چند مباحث
تصنیف


غزل کو ریختہ کے نام سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ریختہ کا لفظ غزل کے لیے کیوں رائج ہوا اور اس کے پیچھے کون سے اسباب کارفرما ہیں، اس کے علاوہ یہ لفظ اول اول کون سی غزلوں کے لیے مستعمل رہا ہوگا۔ محمود شیرانی نے اپنی کتاب پنجاب میں اردو میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ ریختہ کا لفظ سب سے پہلے حضرت امیر خسروؒ نے موسیقی کے ایک راگ کے طور پر استعمال کیا تھا۔دوسرے راگوں کی طرح ریختہ کی بھی اپنی خصوصیت ہے اور اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف شکستہ بحروں کے لیے مختص ہے۔اس بات کا اطلاق یقینی طور پر تبھی کیا جاسکے گا جب ریختہ پر میری چھیڑی ہوئی اس بحث کو محققین اور آگے تک لے جائیں گے۔ تاہم یہ خیال مجھے اس لیے بھی آیا ہے کیونکہ محمود شیرانی نے اپنی تحقیق کے مطابق جتنی غزلیں یا نغمے ریختہ کے طور پر دریافت کیے ہیں ان پر ابھی تک تو یہی بات پوری اترتی نظر آتی ہے۔محمود شیرانی نے موسیقی کی اس نئی اصطلاح کی تلخیص میں حضرت علاؤالدین ثانی برناوی کی تصنیف کتاب چشتیہ کے حوالے سے لکھا ہے :
’’
اس اصطلاح سے موسیقی میں یہ مقصد قرار پایا کہ جو فارسی ، خیال ہندوی کے مطابق ہو اور جس میں دونوں زبانوں کے سرود ایک تال اور ایک راگ میں بندھے ہوں، اس کو ریختہ کہتے ہیں۔ریختہ کے لیے کسی پردے کی قید نہیں ہے۔وہ ہر پردے میں باندھی جاتی ہے۔ ‘‘
(
پنجاب میں اردو، ص۳۲، مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان )
محمود صاحب نے ریختہ کی اصطلاح پر موسیقی کے قاعدوں کے اعتبار سے کوئی خاص تحقیق نہیں کی ہے البتہ وہ اس میں موجود کلام کی تحقیق کرکے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ریختہ اک ایسے نمونۂ کلام کا نام ہے جس میں فارسی اور ہندوی کلام کی آمیزش ہواور ان کی ترتیب سے اسے پرویا گیا ہو۔لیکن میرا قیاس اس معاملے میں کچھ اور ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ ہم ریختہ کی وجۂ تسمیہ کو نظر انداز کردیتے ہیں۔اگر موسیقی کے علم کے مطابق اس لفظ کو شکستہ بحروں یا پھر الگ الگ جگہوں پر pauseلینے والے لفظوں سے مربوط مصرعوں کے لیے مختص سمجھا جائے تو ہم کو اسے سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔چونکہ ریختن کے قریبی معنی بکھرنے کے ہیں اس لیے ہمیں اس نکتے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت امیر خسروؒ نے اس اصطلاح کو ریختہ کا ہی نام کیوں دیا۔اس باب میں سب سے پہلے ان مثالوں کو دیکھنا ضروری ہے جو ہمارے اکابرینِ ادب کی نظر میں ریختہ کی synonymمیں شامل ہیں۔محمود شیرانی نے جن غزلوں کو ریختہ کے طور پر پیش کیا ہے اُن کی بحریں مندرجہ ذیل ہیں
مصرع:زحالِ مسکیں مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں
بحر:مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن
مصرع:سعدی کہ گفتہ ریختہ در ریختہ در ریختہ
بحر:مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن
مصرع:سن لے یشودا رانی تو لال کی بڈائی
بحر:مفعول فاعلاتن، مفعول فاعلاتن
مصرع:سوکھ چین کے منڈل موں ، سبھ جاکرو پکارا
بحر:مفعول فاعلاتن ، مفعول فاعلاتن
یہ ساری بحریں شکستہ ہیں اور اب تک میرے اس قیاس کی تصدیق کرتی ہیں کہ ریختہ اول اول اس کلام کو کہا گیا ہوگا جس میں بحر کے اعتبار سے شکستن اور ریختن کے عناصرپوری طرح کارفرما نظر آئیں۔ عہدِ ہمایوں کے ایک شاعر شیخ جمالی سے منسوب یہ ریختہ کی ایک غزل بھی شامل کی ہے ،جس کا ایک شعر یوں ہے ۔
خوار شدم زار شدم لت گیا
در رہِ عشق تو کمر تتا ہے
اس شعر میں ہندی اور فارسی کی آمیزش تو نظر آتی ہے مگر اسے سراسر ریختہ ماننے میں اختلاف کی بھی گنجائش ہے ۔اول تویہ بات کہیں سے ثابت نہیں ہے کہ یہ شعر شیخ جمالی کا ہی ہے اور اگر اس کا تدارک نہ کرپانے کی بنا پر ہمیں یہ تسلیم ہی کرنا پڑے تو اس میں بہرحال شک باقی رہتا ہے کہ شیخ جمالی نے خود اسے ریختہ کہا ہو۔آخر میں جو بات سب سے زیادہ مؤثر معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ شیخ جمالی کے عہد میں اور حضرت امیر خسروؒ کے دور میں کئی صدیوں کا فرق ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ ریختہ اس دور تک پہنچتے پہنچتے اپنی اصل حالت سے بگڑ گیا ہو اور شمالی ہند کے کچھ شاعروں نے کچھ ہندوی اور فارسی کلام کے ملے جلے نمونوں کو ریختہ کا نام دے دیا ہو۔
شیخ باجن کی ایک غزل کا شعر بھی محمود صاحب نے اپنی اس تحریر میں شامل کیا ہے جسے بقولِ محمود شیرانی خود شیخ باجن ریختہ قراردیتے ہیں۔ غزل کا مطلع ہے
باجن یہ وہ روپ نہ ہوئے جو کوئی بکھانے
بکھانے آپ کو جیوں سبہ کوئی جانے
اول بات تو یہ ہے کہ اسے ریختہ قرار دینے میں خود ریختے کی وہ بنیادی شرط آڑے آتی ہے جس میں فارسی کلام کا ہندی سے ہم آغوش ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔عروضی نقطۂ نظر سے بھی اس مطلع کو مکمل اور صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔لفظ کی ساخت اورنظم کی ہئیت کی طرح اردو غزل بھی طرح طرح کے ادوار میں بنتی اور بگڑتی رہی ہے۔اردو میں اس کا وجود یونہی قائم نہیں ہوا ہے بلکہ آہستہ آہستہ اس کے گیسوؤں کو شانۂ مشق سے سنوارا گیا ہے۔ہوسکتا ہے میری اس بحث میں ریختے کی صحیح تعریف بیان ہونے میں کچھ کوتاہی ہوئی ہو مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریختہ ابتدا میں غزل کے کسی خاص فارمیٹ کانام رہا ہوگا جس کی صحیح تحقیق بے حد ضروری ہے اور جہاں تک اس لفظ کے سفر کی داستان ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کے ذریعے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ غزل کے طور پرریختہ کا لفظ ہندوی کلام میں جب استعمال ہوا ہے وہ زمانہ گیارھویں ہجری کی ابتدا کا ہے، خاص طور پر ابھی تک کی تحقیق تو یہی ثابت کرتی ہے کہ اس دور میں غزل ،گیت، بھجن یامناجات کی ایک خاص قسم کو ریختہ کا نام دیا جاتا تھا۔ابھی یہ بات تحقیق طلب ہے کہ اس لفظ کو سب سے پہلے اپنی اصل راہ سے الگ ہٹ کر کس شاعر نے غزل کے طور پر استعمال کیا اور وہ کون سا شاعر،نثار یا تاریخ دان تھا جس نے اردو زبان کو سب سے پہلے ریختہ کے نام سے موسوم کیا۔اگر نصیر الدین ہاشمی کو ریختہ بمعنی غزل کے لیے اردو میں اپنی تحقیق کا بنیادی رکن بنایا جائے تو ریختہ کو ولی نے ۱۷۰۰ء کے بعد یعنی اٹھارہویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے سفرِ دہلی کے بعد گجرات یا دکن میں غزل کے طور پر استعمال کیا ہوگا۔یہاں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ ولی ؔ نے دہلی میں ہی استعمال کیا ہواور بعد میں اسے جاری رکھا ہو۔اس بات پر چونکہ تفصیل سے ابھی کسی ماہر ادیب و ناقد نے کوئی روشنی نہیں ڈالی ہے اس لیے یہاں اس بات کو اس بحث کے آغاز کے طور پر ہی تسلیم کیا جائے اور جب تک یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے تب تک کسی بھی طرح سے اسے وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا البتہ ریختہ بمعنی غزل کا لفظ نورالدین ہاشمی کی تحقیق کے مطابق اس سے پہلے پنجاب میں ملا شیری کے ذریعے ایک صدی قبل یعنی سترہویں صدی کے شروعاتی دور میں استعمال ہوچکا تھا۔اس طرح لفظ ریختہ بمعنی غزل کا تاریخی سفر پنجاب سے دہلی اور دہلی سے دکن تک کا قرار پائے گا مگر سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس لفظ کا رشتہ دکنی غزل سے کچھ اس طرح قائم ہوا کہ بعد میں اسے دکن کے شاعروں نے یا کہا جائے کہ ولی کے معاصرین نے غزل کے طور پر زیادہ استعمال کیا ہے اور رفتہ رفتہ ریختہ نے دکن یا گجرات کے شعرا میں غزل لفظ کی جگہ لے لی۔یہاں ایک اور بات کا ذکرخالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ ہم جس ریختہ لفظ کا استعمال شمالی ہند میں پہلے دیکھتے چلے آرہے تھے اس میں شکستہ بحر کی شرط بدستور قائم تھی لیکن جس شاعر کو ہم سب سے پہلے دونوں بنیادی شرطوں سے انحراف کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ ولیؔ ہے۔ولی ؔ نے ریختہ کے لیے نہ تو شکستہ بحر کی کوئی شرط ملحوظ رکھی ہے اور نہ ہی فارسی اور ہندی کلام کی آمیز ش کی کوئی بندش خود پہ لگائی ہے اور مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے اپنے کلام کو ریختہ کا نام دینے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے۔ مثال کے طور پر اس کا ایک شعر دیکھیے
امید مجھ کوں یوں ہے ولیؔ کیا عجب اگر
اس ریختے کو سن کے ہو معنی نگار بند
اک بڑا نکتہ ریختے کے معاملے میں یہ ہے کہ اس بات کا خیال آناکسی بھی ذی فہم کے لیے ناگزیر ہے کہ جب غزل کی اصطلاح شاعری میں موجود تھی تو پھر ریختے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور کن وجوہات کی بنا پر ریختے نے غزل کی جگہ لے لی۔اس سے یہ بات تو صاف ہوجاتی ہے کہ اول اول ریختہ کسی ایسی صنفِ سخن کانام ہوگا جس کے قواعد غزل سے کچھ منفرد ہوں گے، اب اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط میں میر کے ریختہ کے بارے میں اُن بیانات کی طرف آئیے جنہیں محمود شیرانی ان کی ذہنی اُپج قرار دیتے ہیں۔میر نکات الشعرا کے خاتمے میں ریختہ کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ
اول آنکہ یک مصرعش فارسی و یک ہندی چنانچہ قطعہ حضرت امیر خسرو علیہ الرحمۃ نوشتہ شددویم آنکہ نصف مصرعش ہندی و نصف فارسی چنانچہ شعر میر معز (موسوی مرقوم) سویم آنکہ حرف و فعل فارسی بکارمی برند وایں قبیح است چہارم آنکہ ترکیباتِ فارسی می آرند۔غور کیجیے کہ ریختہ کی یہ جو شرطیں میر نے بیان کی ہیں اُن پر خود اُن کا وہ کلام پورا نہیں اُترتا جسے وہ ریختہ کی صف میں شامل کرتے ہیں، کم از کم مجھے یہاں میر کے جو ریختہ والے اشعار یاد آرہے ہیں اُن پر تو اِن چاروں میں سے کوئی شرط بھی پوری اترتی نظر نہیں آتی۔یہ اشعار دیکھیے
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں

کس کس طرح سے میرؔ نے کاٹا ہے عمر کو
اب آخر آخر ان کنے یہ ریختہ کہا

سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میرؔ
یہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا

ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا

دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختہ کے
بہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے

میرؔ کس کو اب دماغِ گفتگو
عمر گزری ریختہ چھوٹا گیا
ان اشعارکے علاوہ بھی میر کی غزلوں میں فارسی تراکیب کو گڑھنے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی گئی ہے ۔مندرجہ بالا اشعار میں بھی اگرریختہ کا لفظ نظر انداز کردیا جائے تو میرکے یہ شعر آسان ہندوی زبان کے ہیں جن کا اُن تمام شرطوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جن کو خود میرؔ نے بیان کیا ہے،ذرا سوچیے اگر ان شعروں میں سے ریختہ لفظ کو ہٹا دیا جائے اور پھر انہیں میر کے قواعدِ ریختہ کی کسوٹی پر گھس کر دیکھا جائے تو کیا یہ کسی طرح بھی ریختہ کہلا سکیں گے۔
اسی طرح جب ہم میرؔ کے عرصۂ شاعری پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ میرؔ کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اور ان کے ہم عصر شاعر جس شاعری کا تتبع کررہے ہیں وہ ولی ؔ کی ہے اور اس نے ریختہ کے قاعدوں میں پھیر بدل کرکے اٹھارہویں صدی میں اسے ایک نئے لغوی معنی دیے تھے اور وہ معنی تھے اردو غزل کے۔میر کی اگلی دو شرطوں کو بھی سرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا، بات دراصل وہی ہے کہ ریختہ کے لیے ہندی اور فارسی کلام کی آمیزش کا جو قاعدہ ابتدا سے طے ہے وہ ذہنوں سے یونہی نکل نہیں سکتا تھا اور اسی وجہ سے ایک لمبے زمانی فرق کے باوجود میرؔ کے زمانے میں بھی یہ شرطیں ذرا سی ترمیم شدہ شکلوں کے ساتھ اور جگہوں پر دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔اب آئیے ریختہ اور دہلی کے تعلق کی طرف تو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہلی والوں نے جب ولی ؔ کو اپنا استادِ معنوی تسلیم کیا تو ان میں بہت سے ایسے تھے جنہیں ریختہ لفظ کو اردو غزل کے طور پر ماننے سے لاشعوری طور پر کچھ اعتراض تھااور اس کی وجہ تھی فارسی کی وہ غزل جو دہلی والوں کے ذہنوں سے کسی بھی طرح دیس نکالا نہیں پاسکتی تھی۔اس بات پر سب سے پہلے اردو کے مشہور محقق جناب شمس الرحمان فاروقی نے اپنی کتاب ’’اردو کا ابتدائی زمانہ ‘‘ میں بحث کی تھی ، دہلی میں ریختہ اور غزل کی مناسبت سے آپ لکھتے ہیں کہ
’’
فارسی کی طرف جھکاؤ اور فارسی (یا سبک ہندی) کی غیر معمولی توقیر و مقبولیت کا ایک ثبوت اس بات میں بھی ملتا ہے کہ دلی والے عرصۂ دراز تک غزل‘اور ’ریختہ ‘ میں فرق کرتے رہے۔یعنی وہ ریختہ میں کہی ہوئی غزل کو غزل نہیں صرف ریختہ قرار دیتے تھے۔غزل کی اصطلاح صرف فارسی غزل کے لیے تھی۔ ‘‘
(
اردو کا ابتدائی زمانہ، ص۱۱۶، مطبوعہ آج کی کتابیں، کراچی۱۹۹۹ء )
فاروقی صاحب کے اس بیان کا مآخذ قائم ؔ اور مصحفی ؔ کے مندرجہ ذیل شعر ہیں
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
اک بات لچر سی بہ زبانِ دکنی تھی

مصحفی ریختہ کہتا ہوں میں بہتر ز غزل
معتقد کیونکے کوئی سعدیؔ و خسروؔ کا ہو
مصحفی کے شعر میں یہ بات صاف ہے کہ انہوں نے ریختہ اور غزل کی لفظی مناسبت کا اہتمام کرتے ہوئے شعر میں حسن پیدا کرنے کے لیے اردو غزل کو ریختہ اور فارسی غزل کو غزل سے پکارا ہے مگر اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ تمام دہلوی شعرا اس دور میں اس بات کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوں گے اور اس طرح کی غلط فہمی بھی پیدا نہ ہونے پائے کہ دہلی میں باقاعدہ کسی شعوری منصوبہ بندی کے ساتھ غزل اور ریختہ کی اس تقسیم کا کوئی لحاظ رکھا گیا تھا، اول تو اس بات کو ذہن تسلیم نہیں کرتا اور دوم کسی بھی تاریخی شعر و ادب کی کتاب میں اس طرح کی کسی بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ اس لیے فقط دو شعروں کی بنیاد پر اس طرح کا نظریہ قائم کرلینا شاید مناسب نہیں ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ قائمؔ کے شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ عام طور پر اس زمانے کا اندازِ تفخر ہے جو کئی شاعروں کے یہاں مل جاتا ہے اور یہاں قائم نے غزل لفظ کو فارسی غزل کے طور پر نہیں برتا ہے بلکہ وہ دہلوی غزل او ردکنی ریختہ کے فرق کو بڑی خوبصورتی سے واضح کررہے ہیں۔اور اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ دہلی والے غزل لفظ سے صرف فارسی غزل مراد لیتے تھے تو پھر قائم اور ان کے معاصر شعرا کو یہ چاہیے تھا کہ وہ اردو غزل کا ذکر جہاں بھی کرتے اس بات کا خیال رکھتے کہ وہاں صرف ریختہ کا ہی لفظ آئے ،غزل کا لفظ شامل نہ ہونے پائے۔ظاہر ہے کہ یہ شعر اس دور میں دہلی کی پوری اردو شاعری کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ مصحفی ہی کی طرح قائم کی بھی ایک ایسی کوشش ہے جس نے مناسبتِ لفظی سے کام لیتے ہوئے ریختہ اور غزل کے الفاظ کا رتبہ بتایا ہے اور پھر اس معاملے میں قائم ؔ کے دوسرے مصرعے’ اک بات لچر سی بہ زبانِ دکنی تھی‘ سے یہ صاف ظاہر ہے کہ قائم نے دکن کے ریختے کو دہلی کی غزل کا ہم پایہ بنانے میں جو رول ادا کیا ہے وہ اس کا اعلان کررہے ہیں۔
غزل اور ریختہ کی اس مماثلت کے لیے نثر سے بھی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔میر نے نکات الشعرا میں، مصحفی نے تذکرۂ ہندی میں اور قاسم نے مجموعۂ نغز میں کئی مقامات پر اردو غزل کے لیے غزل کا لفظ بھی استعمال کیا ہے ، یہ بات صرف انہی لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس زمانے کے کئی دوسرے مؤلفین اور مصنفین نے بھی اس لفظ کو ریختہ کی جگہ پر تحریر کیا ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کا کوئی امتیاز شعوری طور پر دہلی کے شاعروں اور سخندانوں کے یہاں نہیں پایا جاتا جس کا ذکر فاروقی صاحب نے اردو کا ابتدائی زمانہ، میں کیا ہے۔ریختہ اور غزل پر ہونے والی اس گفتگو میں ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا اور وہ یہ ہے کہ عام طور پر ہم ریختہ کو مذکر ہی سمجھتے ہیں اور اسے ہمارے کلاسیکل شعرا نے زیادہ تر مذکر ہی باندھا ہے مگر سراسر ایسا نہیں ہے اور شروعات کی ایک دو مثالیں ایسی بھی ہیں جن سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اٹھارہویں صدی عیسوی کے اوائل میں لفظِ ریختہ جہاں ایک طرف اپنے لغوی اور اصطلاحی معنی کی تشکیل میں گم تھا وہیں اس کے مذکر اور مؤنث ہونے پر بھی اختلاف کی صورتیں موجود تھیں اس باب میں جرأت کا ایک شعر میری نظر میں آیا ہے ۔
کہہ غزل اور اس انداز کی جرأت اب تو
ریختہ جیسے کہ اگلی تری مشہور ہوئی
(
جرأت )
میرے سامنے اس بات کو تحریر کرتے وقت جرأ ت کا دیوان نہیں ہے اس لیے میں یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہہ سکتا مگر قیاس چاہتا ہے کہ جرأ ت نے جس لفظِ ریختہ کو موئنث استعمال کیا ہے اس کی تاریخ بڑی عجیب اور دلچسپ رہی ہوگی۔اس لفظ کا استعمال بارھویں صدی ہجری کی ابتدا سے تیرھویں صدی کے آخر تک ہوتا رہا اور غالب اور ان کے معاصرین کے یہاں بھی اس لفظ کو اردو غزل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔میرا یہ مضمون اس بحث کا آغاز سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے معاصرین ناقد اور محقق حضرات غزل کی تاریخ پر توجہ دیں اور ریختہ اور غزل کے سفر کی روداد کو مفصل بیان کرنے کی کوشش کریں تاکہ یہ بات صاف ہوسکے کہ ریختہ کا لفظ معنوی طور پر کب بگڑا اور غزل کے مرادف کے طور پر کون سے دور میں صحیح طور پر اس کو قبولیت عوام و دوام ملی۔
تصنیف حیدر(بھارت )
ریختہ اور غزل کی مماثلتیں :چند مباح