سنتے ہو تو " چینی " کی سنیئے
نبلی پیرزادہ


چینی زبان عوامی جمہوریہ چین (بشمول تائیوان) میں آباد اکثریتی نسل کی زبان ہے۔یہ نسل چینی (Chinese) یا ہان (Han)کہلاتی ہے جو ۲۰۶قبل مسیح یا ۲۲۰عیسوی کے درمیان ہوانگ ہو کے میدان میں پھلی پھولی۔ دسمبر ۲۰۱۱ء کی سرکاری مردم شماری کے مطابق چین کی کل آبادی ۰,۱۳۴۷۳۵۰۰۰کے۹۵% افراد چینی زبان بولتے ہیں جبکہ دیگر ۵ % باشندوں میں تبّتی ، منگولین، لولو، میاؤ اور تائی جیسی اقلیتی زبانیں رائج ہیں۔ علاوہ ازیں جنوب مشرقی ایشیا، روس، شمالی اور جنوبی امریکا اور ہوائی میں آباد تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد بھی چینی زبان بولتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کسی ایک زبان کے بولنے والوں کی تعداد کا موازنہ کیا جائے تو چینی زبان بولنے والوں کی تعداد اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے جبکہ انگریزی زبان دوسرے نمبر پر ہے۔ چینی زبان کا تعلق زبانوں کے اس خاندان سے ہے جو چینی (Sinitic) ، ہند چینی (Indo-Chinese)یا چینی تبتی (Sino-Tibetan) کے نام سے جانا جاتا ہے۔( نیز مشرقی ایشیا کی غالب زبان کی حیثیت سے چینی زبان نے اپنے اطراف کی ہمسایہ زبانوں مثلاً جاپانی، کوریائی اور ویت نامی زبان کے ذخیرہ الفاظ (Vocabulary) اور تحریری نظام (Writing Systems)پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اٹھارہویں صدی تک دنیا میں طبع ہونے والی نصف سے زائد کتب چینی زبان میں تھیں) دیگر چینی تبتی زبانوں کی طرح چینی زبان کو بھی لفظ کی تشکیل کے اہم عنصر کی حیثیت سے تان (Tone)کے استعمال، تقریباً تمام مادہ الفاظ (Root words)کی یک رکنیت (Monosyllabacity)اور اپنے خاندان میں موجود دیگر تمام زبانوں سے زیادہ، قواعدی تصریف۱؂ (Grammatical Inflection)کی تقریباً مکمل عدم موجودگی سے نمایاں کیا جا سکتاہے۔
تاریخی ارتقاء (Historical Development)
چینی زبان کے جدید لہجوں اور بولیوں نے آٹھویں تاتیسری صدی قبل مسیح کی قدیم چینی زبان (Archaic Chinese) سے نشوونما پائی۔ اس دور کی چینی زبان اگرچہ یک صوت رکنی (Monosyllabic) زبان تھی تاہم اس میں کسی حد تک تصریف (Inflection) موجود تھی۔ چینی زبان کا دوسرا دور ’’وسطی ادوار کی چینی زبان ‘‘ (Middle Chinese)کا ہے۔ جب قدیم چینی زبان کے بھرپور صوتی نظام کی پیچیدگیاں ترک کر کے ، جدید چینی بولیوں (Dilects)میں پائی جانے والی سادگی کی طرف بہت حد تک پیش رفت ہو چکی تھی۔ مثال کے طور پر قدیم چینی زبان میں p, ph, b, bh(جہاں 'h"ہائیہ آواز کو ظاہر کرتا ہے) جیسے حروفِ صحیح (consonants)کا ایک سلسلہ پایا جاتا تھا۔ وسطی ادوار کی چینی زبان میں یہ p, ph, bhہو گیا جبکہ جدید مینڈیرن (Mandarin) میں یہ صرف p, phرہ گیا ہے جسے املا میں 'p"اور 'b'کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ جدید مینڈیرن کا ایک صوت رکن (syllable)ایک مخصوص تان یا سُر (Tone)کے ساتھ، ایک اختتامی عنصرFinal) (Elementجو عام طور پر ایک ’’حرفِ علّت ‘‘ (a,e)یا ’’نیم علت ‘‘ (i,u)یا پھر ان دونوں کا ملاپ ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک اختتامی ’’حرفِ صحیح‘‘ جو صرف ng,nیا rہو سکتا ہے، پر مشتمل ہوتاہے۔ تاہم قدیم چینی زبان میں اس کے علاوہ بھی ایک اختتامی p, t, k, b, d, g یا m لیا جاتا تھا۔ اس اختتامی عنصرسے پہلے، آغاز میں ایک حرفِ صحیح آ سکتا ہے لیکن کبھی بھی حروفِ صحیح کا مجموعہ نہیں۔ تاہم قدیم چینی زبان میں شاید یہ اجتماع بھی موجود تھا، جیسا کہ 'klam'اور 'glam'جیسے الفاظ لیکن زبان کے ارتقاء کے ساتھ جوں جوں صوتی امتیازات (Sonic Distinctions)کم ہوئے تو اختتامی 'n'نے اختتامی 'm'کو اپنے اندر جذب کر لیا اور یوں 'lam'اور 'lan'جیسے الفاظ صرف 'lan'ہو گئے۔ مینڈیرن میں صوتی اعتبار سے مختلف صوت رکنوں (syllables)کی تعداد صرف ۱۳۰۰رہ گئی۔ الفاظ کی مقدار میں اگرچہ کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تاہم ’’ہم صوت الفاظ ‘‘ (Homonyms)کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ چنانچہ شاعری ، گیلا، ڈھیلا، لاش کے لیے استعمال کیے جانے والے الفاظ جو وسطی ادوار کی چینی زبان میں علیحدہ علیحدہ تلفظ رکھتے تھے ’’مینڈیرن‘‘ میں ان کے لیے یکساں سُر (Tone) میں "Shi"استعمال کیا جانے لگا۔ ہم صوت الفاظ کی تعداد میں ہونے والا یہ بے پناہ اضافہ یقیناً بہت بڑے ابہام کا باعث بنتا اگر ساتھ ساتھ مرکب الفاظ کی تشکیل نہ کی جاتی۔ چنانچہ مذکورہ بالا لفظ "shi"شاعری کے لیے Shi-ge بمعنی’’شاعری۔گانا ‘‘(poetry-song)جبکہ ’’استاد‘‘ کے لیے Shi-zhangبمعنی ’’استاد۔ بزرگ/ بڑا ‘‘ (Teacher-elder)میں تبدیل ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدچینی زبان کی لغت میں پائے جانے والے زیادہ تر الفاظ گوصوتی مرکبات ہیں تاہم انھیں انفرادی طو رپر با معنی ’’صوت رکن‘‘ میں تقسیم کرنا ممکن ہے۔ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج کی جدید چینی زبان اور پرانی اور قدیم چینی زبان کے مابین بنیادی فرق تلفظ کا ہے۔ گرائمر (syntax) کے اعتبار سے یہ فرق اتنا شدید نہیں ماسوائے درج ذیل بنیادی باتوں کے :
۱۔ ایک سے زیادہ’صوت رکن ‘(syllable)کے اجتماع سے کثیر صوت رکنی (polysyllabic) الفاظ بنانے کا رجحان نسبتاً کم تھا جس کے نتیجے میں اگر گرائمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قدیم چینی زبان، گزشتہ چند صدیوں کی چینی زبان کے مقابلے میں تقریباً تقریباً یک صوت رکنی (Monosyllabic)الفاظ تک محدود تھی۔
۲۔ لفظوں کی بنیادی ترتیب گو وہی تھی جو آج ہے، تاہم کسی چیز کے طورطریقہ یا محل وقوعmanner &) (locationکو ظاہر کرنے والی ترسیمی ترکیبات (Modifying phrases)جدید چینی زبان کے برعکس ، مرکزی فعل سے پہلے آنے کی بجائے بعد میں آتی تھیں۔
۳۔ قدیم چینی زبان میں کسی حد تک تصریف (Inflection)موجود تھی جیسے "ngo"بمعنی’میں ‘ (I) اور 'nga'’بمعنی ’میں ‘(me)نیز صوتی تبدّل (Phonetic modification) کے ذریعے الفاظ کی تشکیل بھی پائی جاتی ہے۔ جیسے Kian بمعنی ’’دیکھنا ‘‘(to see)اور g'ianبمعنی ’’ظاہر ہونا ‘‘ to cause to be seen,) (appearلیکن مذکورہ بالا دونوں استعمال اب ناپید ہیں۔
بولیاں (Dilects)
اگرچہ کہ چین کی مختلف زبانیں تحریر کے اعتبار سے ایک تقریباً یکساں نظامِ تحریر کو استعمال کرتی ہیں اور مختلف علاقوں کے باشندے بآسانی ایک دوسرے کا رسم الخط پڑھ سکتے ہیں۔تاہم جہاں تک بولی جانے والی زبان کا تعلق ہے، چین کے مختلف خطوں میں بولی جانے والی چینی زبان ایک دوسرے سے اتنی ہی مختلف ہے جتنی فرانسیسی، ہسپانوی زبان سے یا انگریزی ، جرمن زبان سے۔ تاہم اس فرق کو مختلف زبانیں نہیں بلکہ چینی زبان کے مختلف لہجے یا بولیاں (Dilects)قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں۔ ایک کا تعلق تو اس امر سے ہے کہ زبان کی شناخت عموماً کسی قوم کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ فرانسیسی (French)اور ہسپانوی (Spanish) دونوں کا مشترکہ آغاز لاطینی (Latin)زبان سے ہوا تاہم فرانسیسی فرانس کی زبان ہے اور ہسپانوی سپین کی زبان ہے۔ چونکہ عوامی جمہوریہ چین ایک طویل تاریخی ورثے کا مالک ہے،اس لیے اس کی زبان کی تمام شکلوں کے لیے بھی صرف ایک نام یعنی چینی زبان (Chinese)مخصوص کیا گیاہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ چینی زبان کی تمام مختلف صورتیں اپنی تحریری شکل میں ایک ایسی مشترکہ املاکی حامل ہیں جو بولی جانے والی زبان میں موجود فرق سے بالکل ماوراء ہے۔ کمیونسٹ دورِ حکومت سے پہلے چینی زبان کے ۵۰ سے زائد لہجوں میں سے صرف ۲۰ کا تحریری شکل میں وجود تھا جبکہ ان میں سے بھی صرف چند ایک عام استعمال میں تھے۔
بول چال کی چینی زبان کو ہم ۵ بنیادی لہجوں یا بولیوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
۱۔ مینڈیرن (Mandarin)
چینی لہجوں میں سب سے بڑی اور اہم بولی کو ان ہؤا (Kuan-Hua)ہے جو مغربی زبانوں میں مینڈیرن (Mandarin)کہلاتی ہے اور چین کی کل آبادی کے ۹۵222 حصے پر مشتمل ہان لوگول میں سے ۷۰222 کی زبان ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے مینڈیرین لہجہ چین کے ایک وسیع و عریض خطے پر محیط ہے جو ایک ترچھی پٹی کی صورت میں چین کے انتہائی جنوب مغرب سے سنچوریا تک پھیلا ہوا ہے۔ نیز شنگھائی کے شمالی ساحل کا تمام تر علاقہ بھی مینڈیرین بولی کے دائرہ اثر میں آتا ہے۔
مینڈیرین کی اصطلاح بنیادی طور پر بیجنگ میں قدیم ادوار میں بولے جانے والے لفظ "guan hua"یعنی ’’سرکاری زبان ‘‘(Official Language)کا انگریزی ترجمہ ہے جو کئی صدیوں تک بیجنگ کا لہجہ رہا۔
مینڈیرن (Mandarin)چونکہ بنیادی طور پر چین کے سرکاری افسروں کی زبان تھی جو رفتہ رفتہ اس ملک کے شمالی صوبوں میں بسنے والے ’’ہان‘‘ عوام میں رائج ہو گئی،اسی لیے ’’کوان ۂوا‘‘ یا مینڈیرین لہجہ بنیادی طو رپر شمالی چین کی بولی پر مبنی ہے اور اس کا تلفظ بیجنگ کی بول چال کے مطابق ہوتاہے۔ ۱۹۱۱ء میں مان چو شاہی خاندان کے زوال کے بعد جمہوریہ چین کی حکومت نے ایک اعلان کے ذریعے کو ان ہوا یا مینڈیرین کو ’’کویو ‘‘ (Kuo-yu)یا قومی زبان قرار دیا۔ نیز مذکورہ زبان ملک میں عام طور پر مروج جدید تحریری زبان (Written Vernacular)’’بے ہوا ‘‘(Baihua) کی بھی بنیاد ہے جس نے ۱۹۱۷ء کے بعد سکولوں میں زیر استعمال کلاسیکی چینی زبان کی جگہ لی۔ ۴ مئی ۱۹۱۹ء کی تحریک کے دوران ’’کویو‘‘ نے ہان آبادی کی مختلف بولیوں کے الفاظ، اصوات اور فقرے اپنے اندر جذب کر لیے جس کی بنا پر حکومت نے بعد ازاں اسے ’’پوٹنگ ہوا ‘‘ (putonghua) یا ملک کی عام زبان قرار دیا۔ چنانچہ مذکورہ زبان ہی اب ’’کویو‘‘ یا ’’مینڈیرن‘‘ کی سب سے بڑی نمائندہ ہے اور جب بھی معیاری چینی زبان یا بغیر کسی مخصوص توضیح کے چینی زبان کا عمومی حوالہ دیا جاتا ہے تو اس سے ہماری مراد ’’پوٹنگ ہوا‘‘ ہی ہوتی ہے۔
۲۔ وُو (Wu)
یہ بولیاں زیریں دریائے یینگ زیLower) (Yangzi.Rاور اس کی شاخوں کے ارد گرد کے علاقوں اور جیانگ سو (Jiangsu) ،زنگ جانگ (Zhejiang)اور آن ہوئی (Anhui)کے صوبوں میں بولی جاتی ہیں جس میں شنگھائی (Shanghai) اور سوزد (Suzhou)کے تمام بڑے شہری علاقے بھی شامل ہیں۔
۳۔ مِن (Min)
یہ بولیاں تائیوان (Taiwan)اور فیوجین صوبوں (Fujian Provinces)اور خلیج ٹونکن ) Guly of Tonkin (میں رہنے والے لوگوں کی زبان میں۔ انگریزی زبان میں ان بولیوں کا حوالہ بسا اوقات 'Fukkianse" ، 'Hokkianese" ، 'Amoy'اور 'Taiwanese'کے طور پر بھی دیا جاتا ہے۔ تائیوان میں آباد زیادہ تر لوگ مِن (Min)بولنے والوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو صدیوں پہلے فیوجین صوبوں کے ساحلی علاقوں سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ مِن تائیوان میں آباد ۸۵222 افراد کی مادری زبان ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین کے زیرِ انتظام سنگا پور (Singapore)میں چینی زبان بولنے والے زیادہ تر لوگوں کی آبائی بولی بھی ’’مِن‘‘ ہی ہے۔
۴۔ یو ای (Yue)
یو ای بولی بنیادی طور پر ’گوانگ ڈونگ‘کے صوبے میں استعمال کی جاتی ہے۔ یو ای بولی جسے ’’کینٹونیز ‘‘ (Cantonese) یعنی گوانگ ہو (Guangzhou)یا کینٹن (Canton)کی زبان بھی کہا جاتا ہے، خاص طور پر بانگ کانگ اور امریکہ، یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا میں بہت سی جگہوں پر آباد چینی تارکینِ وطن کی بول چال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی زبان میں، چینی زبان سے مستعار لیے گئے بہت سے الفاظ کی اصل کینٹو نیز بولی ہے۔
۵۔ ہاکا (Hakka)
ہاکا بولیاں عوامی جمہوریہ چین سے باہر سب سے کم معروف بولیاں ہیں۔ کیونکہ ہاکا بولنے والوں میں سے بہت کم نے چین سے باہر ہجرت اختیار کی ہے۔ ہاکا بولنے والوں میں سے زیادہ تر، پورے جنوب مشرقی چین میں ’’گوانگ سی ‘‘ *Guangxi)صوبے اور ’’من‘‘ اور ’’یوای‘‘ بولنے والے خطوں کے طول و عرض پر چھوٹی چھوٹی مگر مربوط زرعی آبادیوں Agriculture) (communitiesکی صورت میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تاریخی طو رپر ہاکا قبائل، شمالی علاقوں کے باشندے تھے جو یکے بعد دیگرے کئی ہجرتوں کے نتیجے میں جنوب میں آ کر آبادہوگئے۔ چینی زبان میں لفظ ہاکا (Hakka)کا مطلب ’’مہمان‘‘ ہے جو جنوب میں ان کے تارکین وطن ہونے کا عکاس ہے۔
صوتی نظام (Phonetic System)
صوتی اعتبار سے چینی زبان ایک ’’یک صوت رکنی ‘‘ (Monosyllabic)زبان ہے یعنی پورا لفظ ایک ہی بار میں ادا ہوتا ہے۔ اس کے ٹکڑے نہیں ہوتے۔ چینی زبان کا ہر بنیادی بامعنی کلمہ (Meaningful Unit)ایک واحد رکن صوت (Monosyllable)ہوتا ہے جو آغاز، اختتام اور ایک تان پر مشتمل ہوتاہے۔ رومن آوازوں u, iاور u کے حروفِ علت (Vowels) ۔ آغاز کے حرفِ صحیح (Consonant)اور مرکزی حرف علت Main) (Vowelکے درمیان نیم علتیہ (Semi vowel)کا کام بھی دے سکتے ہیں یا iاور u(یا o) کسی رکن صوت (Syllable) کے اختتام پر بھی آ سکتے ہیں اور نتیجتاً ia ، uo ، eiجیسے ’’دو علتیہ ‘‘(Dipthongs) یا uaiاور iaoجسے ’’سہ علتیہ ‘‘(Tripthongs)حروف کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔ اختتامیہ حرفِ صحیح میں صرف ن اور ن گ n and) (ngشامل ہیں جبکہ گنتی کے الفاظ ر ‘ (-r) یا ’م ‘ (-m)پر ختم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی لفظ کے چینی نہ ہونے کی بابت فوری طور پر بتانا ممکن ہوتاہے۔
چینی زبان کی سب سے نمایاں خصوصیت تان (Tone) کا استعمال ہے۔ یعنی کسی ایک رکن صوت کو ادا کرنے کے دوران سر کا اتار چڑھاؤ۔ دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ’’حروفِ صحیح کے ذریعے مختلف الفاظ کے درمیان تخصیص کی جاتی ہے جیسا کہ اردو میں ’’چائے‘‘ اور ’’گائے‘‘ یا انگریزی زبان میں ’’Sea‘‘ اور "Tea" یا پھر ’’حروفِ علت‘‘ کے ذریعے جیسا کہ انگریزی زبان میں "Too"اور "Tea"کے درمیان تاہم کسی ایک لفظ کو مختلف سُروں (pitch patterns)میں ادا کرنے سے منفی، سوالیہ، بیانیہ یا تحکمانہ لہجہ تو نمایاں ہو سکتا ہے تاہم لفظ کے بنیادی مطلب میں کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوتی۔ اس کے برعکس بول چال کی چینی زبان ایک ہم صوت (Homophonic)زبان ہے یعنی لفظ کی صوتی شکل تو ایک ہی رہتی ہے لیکن لہجے اور آواز کے زیر وبم سے معنی بدل جاتے ہیں۔
بول چال کی چینی زبان میں چار سُر رائج ہیں جنھیں وسطی ادوار کی چینی زبان (Middle Chinese)کی چار سروں میں نمایاں تبدیلی کے بعد جدید ’’پوٹنگ ہوا ‘‘ (putonghua)میں محفوظ کیا گیا ہے۔ چینی زبان کے ہر لفظ کا بنیادی ماخذ مذکورہ بالا انہی چار سروں میں سے کسی ایک سے حاصل شدہ ہوتا ہے۔ جن کی جانب بالا نوشت (Superscript) اعداد سے بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے اونچے سُر میں ’’یاؤ ۱ (yao1) کا مطلب ہے ’’کمر ‘‘ (waist) ؛ دوسرے درمیانے سے اونچے تک ابھرتے سُر میں ’’یاؤ۲ ‘‘(yao2) کا مطلب ہے ’’ہلانا جلانا ‘‘ (To shake) ؛ تیسرے نیچے ڈوبتے سے درمیانے تک ابھرتے سُر میں، ’’یاؤ۳ ‘‘ (yao3) کا مطلب ہے ’’کاٹنا یا کترنا ‘‘(To bite) ؛ اور چوتھے اونچے سے بالکل نیچے ڈوبتے سُر میں، ’’یاؤ۴ ‘‘(yao4) کا مطلب ہے ’’چاہنا یا خواہش کرنا ‘‘ (To want) ۔ اس طرح لفظ کی صوتی شکل ایک رہنے کے باوجود اس کے معانی میں واضح تبدیلی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی ایک سُر کے بعد اسی سُر کا دوسرا لفظ آنا ہے تو پہلے بولا جانے والا لفظ نسبتاً دھیمے سر پر ختم کر دیا جائے گا۔ کوئی بھی لفظ اپنی مکمل تان (Tone)تک اسی صورت میں ادا کیا جاتا ہے جب یا تو وہ کسی وقفے (Pause)سے پہلے ہو یا کسی جملہ یا ترکیب کے آخر میں جبکہ الفاظ کی ادائیگی میں تان کے سُروں کی حقیقی بلندی اور وقفہ کا دارومدار بہت حد تک بولنے والے کی رفتار اور گفتگو کے تناظر (Context) پر بھی ہوتا ہے۔
گرامر (Grammer)
لاطینی اور روسی جیسی انتہائی منصرف زبانیں (Inflected Languages) گرامر کے فرق کو بیان کرنے کے لیے اپنے الفاظ کی صوتی شکل میں بے انتہا اضافے اور تبدیلیاں کرتی ہیں۔ تاہم جدید چینی زبان اس مقصد کے لیے نہ تو کبھی کوئی تبدیلی کرتی ہے اور بہت کم کوئی اضافہ کرتی ہے۔ جیسا کہ چینی زبان میں اسم (Nouns)کی کوئی تصریف (Inflection)موجود نہیں ہوتی، جس سے یہ ظاہر ہو کہ مثال کے طور پر وہ (اسم) بطور فائل ہیں یا مفعول اور نہ ہی کوئی اشارہ دیا جاتا ہے کہ فعل (Verb) ، اسم (Noun)اور صفت (Adjective) ،تعداد (Number)اور حالت (case)میں ایک دوسرے سے متفق ہیں یا نہیں، چنانچہ الفاظ کی ترتیب (Word Order) کی اہمیت اور بھی دو چند ہو جاتی ہے جیسا کہ یہ کسی جملے میں شامل الفاظ کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ چینی زبان میں ترتیب بہت حد تک انگریزی زبان کے جملے سے مشابہ ہے۔۔۔۔یعنی فائل۔۔۔ فعل اور مفعول (subject-verb-object)تاہم باریکی سے مطالعہ کریں تو واضح فرق نمایاں ہوتاہے۔ ایک تو یہ کہ چینی زبان کے زیادہ تر جملے ایک فائل (Subject)اور ایک خبر (Predicate)پر مشتمل ہوتے ہیں جس میں ثانی الذکر عام طور پر صفت (Adjective)اور کبھی کبھار مثال کے طو رپر "T'a1 ch'iung2" _____’’وہ غریب(ہے ) (He(is) poor)اسم ہوتاہے۔ دوسرا یہ کہ انگریزی اور اردو زبان میں فاعل ہمیشہ فعل کے انجام دینے والے شخص کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس چینی زبان کے جملے میں یہ زیادہ تر صرف ایک موضوع ہوتاہے اور یہ قطعاً ضروری نہیں ہوتا کہ کسی فعل میں مذکورہ عمل کا سر انجام دینے والا بھی فاعل ہی ہے۔ مثال کے طور پر :
"Che4 ti4-fang k'o2-yi k'ai1 hui4" ___
’’
اس جگہ ملاقات ہو سکتی ہے "This place can hold meeting" یعنی ’’یہاں کوئی ملاقات کر سکتا ہے ‘‘ (One can hold meetings here)
فائل اور خبر (Subject predicate)کی بنیادی تقسیم کے علاوہ جملے کی دیگر نحوی تشکیلات (Syntactical forms)درج ذیل ہیں :
۱۔ہم ربط تراکیب (Coordinate Constructions)
جو اکثر نہ صرف حروفِ عطف (Condunctions) بلکہ کسی بھی وقفہ (Pause) کے بغیر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ____feng1 hua1 hsueh3 yueh4
’’
ہوا، پھول ، برف ، (اور) چاند ‘‘ (wind, flower, snow (and) the moon)یا مثلاً :
____t'a1- men sha1 jen2 fang4 huo3 ’’
وہ لوگوں کو مارتے (اور) آگ لگاتے (ہیں )
(They kill people (and) set fires)
۲۔ماتحت تراکیب (Subordinate Constructions)
جہاں ’’ترمیم کار ‘‘(Modifier)اکثر اوقات ’’ترمیم شدہ ‘’(Modified)سے پہلے آتا ہے جیسا کہ درج ذیل میں :
____"ta4 shih4"’’
بڑا کام ‘‘ (Big affair) یا _____ k' an1 men2 te jen2 ’’دیکھنا دروازوں والا آدمی ‘‘(watch doo'r man)یعنی’’وہ آدمی جو دروازوں کو دیکھتا (دھیان رکھتا) ہے ‘‘
(The man who watches doors)
۳۔فعل مفعول تراکیب
(Verb-object Constructions)
جو ہمیشہ کچھ اس ترتیب میں آتی ہیں جیسے :
____"k' an4 pao4" ’’
پڑھو اخبار ‘‘Read) (newspapersیا جیسے ____"kan4 shem2- me" ’’کریں کیا؟ ‘‘(Do what)
۴۔ فعل کی تکمیلی تراکیب
(Verb-complement constructions)
جو فعل میں بیان کیے گئے کام کی تکمیل کو ظاہر کریں جیسے ____"ch' ih' wan2"’’کھاؤ ختم (ہونے تک )‘‘(Eat (to a)finish)یعنی ’’کھانا ختم کرو ‘‘(Finish eating)جدید دور میں بول چال کی چینی زبان اور تحریر کیے جانے والے زیادہ ترچینی زبان کے یک صوت رکنی (Monosyllabic)حروف (characters)کو مندرجہ بالا ترکیبات کے ذریعے قریبی بندش سے با معنی الفاظ کی صورت دی جا رہی ہے مثلاً ___"ti4-pan3" ’’زمین ۔ بورد ‘‘ (Ground- boad) یعنی ’’فرش ‘‘ (Floor)یا پھر جیسے ____"Fou3- jen4"’’منفی۔ شناخت ‘‘(Nagative-recognize) یعنی ’’تردید‘‘ یا ’’انکار ‘‘ (Deny) ۔
تحریری نظام (Writing System)
چینی زبان کی قدیم ترین تحریری شکل کم از کم ۴۰۰۰۔۳۵۰۰سال پرانی ہے۔ اس ضمن میں دریافت ہونے والی سب سے پرانی تحریریں وہ الہامی اقوال (oracle) (sayingsہیں جنھیں شینگ خاندانshang) dynasty)کے دربار کے مقدس پیشواؤں نے کچھوؤں کے خول اور جانوروں کی ہڈیوں پر کندہ کیا۔ اگرچہ کہ اس وقت سے اب تک تحریری طریقہ کارکی معیار بند ی اور طرزِ تحریر میں ردوبدل کے بعد اس تحریری نظام میں کافی حد تک تبدیلی آ چکی ہے تاہم اس کے بنیادی اصول اور بہت سی علامات اب بھی وہی ہیں۔ قدیم آغاز کے حامل دیگر رسم الخط کی طرح چینی زبان کا نظامِ تحریر بھی تصویری رسم الخط پر مبنی ہے۔ تاہم زبان کی ’’لفظ در لفظ نمائندگًی ‘‘word by word) (representationکے اعتبار سے اس کی نشوونما اس ادراک کے بعد ہوئی کہ وہ الفاظ جنھیں ’’مجرد ‘‘(Abstract) ہونے کے باعث آسانی سے تصویری شکل دینا ممکن نہیں ہوتا، ایسے الفاظ کو ان کی آواز سے بآسانی ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ البتہ دیگر رسم الخط کے برعکس چینی زبان ابھی تک تصویری اور صوتی دونوں انداز سے لکھی جاتی ہے۔ مزید برآں تحریر کی چینی زبان کے صوتی اشارات (Sound Indications)نے لب و لہجے کے فرق کو نہیں اپنایا اور وہ تین ہزار سال پرانے تلفظ (Pronunciation)پر ہی قائم ہے۔
آواز کی پابندی سے آزاد ہونا ہی وہ خصوصیت ہے جس نے چینی حروف (Chinese Characters) کو چین کے مختلف خطوں اور ثقافتوں کے مابین یکجہتی کی ایک قوت کی حیثیت سے اتنا اہم بنا یاہے۔ اگرچہ کینٹن اور بیجنگ کے لوگوں کو ایک دوسرے کی بول چال سمجھنے میں بہت دشواری کا سامنا ہوتاہے جیسا کہ گزشتہ کئی سو سال کے دوران لب و لہجے میں تلفظ (Pronunciation)کے اعتبار سے بے تحاشا تبدیلی رونما ہو چکی ہے، تاہم وہ ایک دوسرے کی تحریری زبان میں شاید ہی کوئی فرق محسوس کر سکیں۔ یہاں تک کہ چینی زبان اور جاپانی زبان کے پڑھنے والوں کے درمیان بھی ایک حد تک ابلاغ ممکن ہے۔ جیسا کہ جاپانی زبان کی تحریر میں بھی تقریباً دو ہزار چینی حروف (Chinese Characters) استعمال ہوتے ہیں، گو چینی اور جاپانی زبان کے بولنے والے ایک دوسرے کی گفتگو سے مکمل نابلد ہوتے ہیں۔
اگرچہ چینی زبان کی ضخیم ترین لغات میں پچاس ہزار سے زائدحروف (Characters)موجود ہوتے ہیں تاہم ان میں سے صرف ۴۰۰۰۔۳۰۰۰روزمرہ کے استعمال کے لیے درکار ہوتے ہیں اور اس نسبتاً کم تعداد کا سیکھنا بھی ان charactersکی انتہائی باقاعدہ اور منظم ساخت کے باعث بہت سہل ہو جاتا ہے۔ ہر چینی حرف دو بنیادی اکائیوں (Units) ، ’’ریڈیکل ‘’(Radical)اور ’’سٹروک ‘‘(Stroke)پر مشتمل ہوتا ہے۔ ریڈیکلز (Radicals)کی تعداد ۲۱۴ہے جبکہ سٹروکس (Strokes)صرف ۲۰ تا ۳۰ ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ان سٹروکس کے ڈالنے کے طرز میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے (جس کی ایک جزوی وجہ سامان تحریر میں رونما ہونے والا فرق ہے) تاہم زیادہ ترحروف کی بنیادی ساخت قریب قریب وہی ہے جو چن (Chin)خاندان کے دور میں تھی ۔ روایتی طور پر چھ ایسے طریقے ہیں جن سے چینی حروف کی تکمیل کی جاتی ہے :
۱۔’’تصویری ترسیمیہ‘‘ یا ’’پکٹو گراف ‘‘ (Pictograph)
جیسا کہ mu4 = بمعنی درخت (Tree) ۔ ’’چینی‘‘ تحریر کا آغاز آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے اپنے ارد گرد کی قدرتی چیزوں کی تصاویر کے ساتھ ہوا۔ ان تصویروں (Drawings)کو رفتہ رفتہ آسان اور منظم شکل میں ڈھالا گیا جس سے تصویروں پر مبنی حروف نے جنم لیا جنھیں ’’تصویری ترسمیے‘‘ یا ’’پکٹو گراف ‘‘ (Pictograph)کہا جاتا ہے۔ جدید دور میں چینی تحریری نظام کی بنیاد بھی ایسے کئی ’’سوپکٹو گراف‘‘ ہیں، جنھیں روزمرہ کے بنیادی الفاظ کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بہت سی چیزوں کے اظہار کے لیے ’’مرکب ترسیمیے‘‘ یا ’’کمپاؤنڈ پکٹو گراف ‘‘(Compound pictograph)بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’آدمی‘‘ کو ظاہر کرنے والے میں اگر ایک اور علامت کا اضافہ کر دیا جائے اور آدمی کو اجناس اٹھائے دکھایا جائے تو اس سے مراد’’فصل ‘’(Harvest)اور اس بنا پر’’سال ‘‘(year)ہو گا۔ اس طرح اگر مذکورہ بالا درخت کے ۲ پکٹوگراف کو یکجا کر دیا جائے جیسے تو اس کا مطلب ’’جنگل‘‘ ہو جائے گا۔
۲۔’’تصوری ترسیمیے‘‘یا’’’’ایڈیوگراف ‘‘ (Ideographs)
جیسا کہ 236 San1 بمعنی تین (Three) ’’تصورّی ترسیمیہ یا ’’’ایڈیوگراف‘‘ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ایسے علامتی حروف ہیں جو کسی تصور (Idea)یا مبہم نظریے (Abstract notion)کو بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل اشکال ’’ ‘‘ اور ’’ ‘‘ کی تشکیل بالترتیب ’’اوپر ‘‘ اور ’’نیچے‘‘ کے تصور کو علامت سے
ظاہر کرنے کے لیے کی گئی۔جدید دور میں مذکورہ علامتی حروف
تبدیل ہو کر ’’اوپر‘‘ اور ’’نیچے‘‘ کے لیے باالترتیب ’’ ‘‘
(shang)
اور (xia)کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
۳۔مرکب تصوری ترسیمیے یا کمپاؤنڈ ایڈیوگراف
(Compound Ideographs)
جیسا کہ nan2بمعنی ’’آدمی ‘‘(Man, Male) ۔ ’’مرکب تصوری ترسیمیے‘‘ یا ’’ایڈیوگراف‘‘ ایسے علامتی حروف ہیں جن کا مطلب کسی طور پر ان کے جزو (parts)کے مطالب کے ملاپ سے ظاہر ہوتا ہے مثلاً مندرجہ بالا صورت میں ’’آدمی‘‘ کے لیے استعمال کیے جانے والا ’’ایڈیوگراف‘‘ دو جزو ، t'ien'بمعنی ’’کھیت ‘‘(field)اور li4 بمعنی ’’طاقت ‘‘(Strength)کے ملاپ سے بنا ہے جس میں یہ تصور کار فرما ہے کہ ’’آدمی‘‘ سے مراد وہ ہے ، جو کھیت میں اپنی طاقت استعمال کرتا ہے۔
۴۔مستعار علامتی حروف (Loan Characters)یا صوتی مستعاریے (Phonetic Loans)
یہٹھوس الفاظ (Concrete Words)کے ایسے پکٹو گراف میں جنھیں بالکل ویسا ہی تلفظ (Pronunciation)رکھنے والے مجرد یا مبہم الفاظ (Abstract Words)کو ظاہر کرنے کے لیے مستعار لے لیا گیا ہو۔مثال کے طور پر چینی زبان کے ابتدائی دور میں "yi"بمعنی ’’بچھو ‘‘ (Scorpian)کو ظاہر کرنے والے ’’پکٹو گراف کو لفظ "Yi"بمعنی ’’آسان ‘‘(easy)کو ظاہر کرنے کے لیے مستعار لے لیا گیا ، جیسا کہ دونوں کا تلفظ ایک تھا۔ جدید چینی زبان میں اب بچھو کو ظاہر کرنے کے لیے نیا علامتی حرف وضع کیا گیا ہے۔ اسی طرح ’’چُو عہد ‘‘ (Chu Dynasty)گیارہویں تا تیسری صدی قبل مسیح کے دوران "Ji"بمعنی ’’کوڑا دان (Dustpan)کے لیے استعمال ہونے والا پکٹو گراف "Ji"بمعنی ’’یہ‘‘ اس کا (مؤنث) ،اس کا (مذکر) اس کا (بے جان چیز (This, his, her, its)کے لیے مستعار لے لیا گیا اور آج یہ صرف انہی مطالب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
۵۔صوتی مرکبات (Phonetic Compounds) کاوجود معنی کے اس ابہام کے نتیجے میں عمل میں آیا جو آواز میں مماثلت کی بنا پر کسی پکٹو گراف کے مستعار لیے جانے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ مثال کے طور پر جب کوڑا دان کا پکٹو گراف ’’نال ‘‘ بمعنی "This, His, Her, Its"کے طور پر مستعار لے لیا گیا تو جب لکھنے والے کو واقعی Jiبمعنی’کوڑا دان‘‘ کہنا مقصود ہوتا تو ایسی صورت میں ’’کوڑا دان‘‘ کے علامتی حرف کے ساتھ ’’بانس‘‘ کا پکٹو گراف لگا کر اسے ایک ’’صوتی مرکب ‘‘ Phonetic) (Compoundکی شکل دے دی جاتی جس سے یہ تشریح ہو جاتی کہ ’’بانس‘‘ وہ چیز ہے جس سے ’’کوڑا دان‘‘ تیار کیا جاتا ہے۔ ’’اسی طرح اگر کوڑا دان کے ’’پکٹو گراف‘‘ کے ساتھ ’’مٹی ‘‘(earth)کا پکٹو گراف جڑا ہوتا تو اس سے مراد "Ji"بمعنی ’’بنیاد ‘‘(Base, foundation)ہوتا۔ چنانچہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ صوتی مرکب دو علامتی حروف کا مجموعہ ہوتاہے، جس میں سے ایک لفظ کی معنویاتی (Semantic) اور دوسری صوتی (Phonetic)خصوصیت کو ظاہر کرتاہے۔ جدید چینی حروف میں ۹۰222 سے زائد ’’صوتی مرکبات‘‘ ہوتے ہیں جبکہ نئے حروف وضع کرنے کا سب سے معروف طریقہ بھی یہی ہے۔
لسانی پالیسی (Language Policy) اور چینی زبان
عوامی جمہوریہ چین میں عملی زندگی کے ہر شعبہ میں چینی زبان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ۱۹۴۹ء میں اپنے ملبے سے اٹھنے والی چینی قوم نے گومغربی علوم کی افادیت کو فی الفور تسلیم کیا تاہم انھوں نے ان علوم کے لسانی وسیلہ کو نہیں اپنایا اور دن رات کی محنت سے یہ تمام علوم اپنی چینی زبان میں منتقل کیے اور آج نہ صرف تمام مضامین کی درس و تدریس کے لیے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں امور کی انجام دہی کے لیے یہی زبان رائج ہے اور بطور قومی زبان اس کی تمام بولیوں کے بولنے اور لکھنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
جدید چین میں انگریزی زبان میں قابلیت کا ہونا بھی بہت باوقار اور فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباو طالبات کے لیے انگریزی کو ایک مطلوبہ مضمون کی حیثیت حاصل ہے۔ ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کی دہائیوں میں سوشلزم کی زبان ہونے کے باعث روسی زبان کو بھی امراء کے طبقے میں ایک سماجی حیثیت حاصل تھی جبکہ جاپانی زبان، چین میں سیکھی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔ تاہم دور جدید میں انگریزی کے علاوہ دیگر تمام زبانوں کو چھوٹی زبانوں Minor) (Languagesکا درجہ دیا جاتاہے اور ان کا مطالعہ صرف جامعات کی سطح پر ہی کیا جاتاہے جبکہ انگریزی زبان پبلک سکولوں میں پرائمری سطح کے تیسرے سال سے پڑھائی جاتی ہے۔ مشہور انگریزی جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ کے مطابق چین کی کل آبادی کا پانچ فی صد سے زائد حصہ انگریزی زبان سیکھ رہا ہے جبکہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ’’گورڈن براؤن‘‘ کے مطابق چین میں انگریزی بولنے والوں کی تعداد ، دنیا میں انگریزی زبان کے اصل بولنے والوںNative) (Speakersسے زیادہ ہو جائے گی۔
***