اردو کی اولین قواعد

پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل

اس قواعد کوجسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک جرمن ملازم نے ۱۶۹۸ ء میں ولندیزی زبان میں لکھنؤ میں تحریر کیا اور یہ اب پہلی بار بڑے اہتمام سے تین جلدوں میں جاپان سے شائع ہوئی ہے۔
دستیاب شواہد کی روشنی میں اس بات پر اب قریب قریب اتفاق ہے کہ اردو کی اولین قواعد مقامی علماء میں سے میرزا فخرالدین محمد (میرزا جان ابن فخرالدین محمد خان) نے اپنی ہمہ موضوع فارسی تصنیف''تحفتہ الہند'' میں تحریر کی تھی جو اگرچہ ۱۶۷۶ء سے قبل کی تصنیف ہے لیکن مصنف نے اس میں اپنے مربی اعظم شاہ (۱۷۰۷)، فرزندِ اورنگ زیب عالم گیر (۱۶۵۸ئ۔۱۷۰۷ئ) کی خوشنودی یا ایما پر، جو برج بھاشا کا سر پرست بتایا جاتا ہے ، ۱۷۱۱ء میں اضافہ کر کے لغت اور یہ قواعد شامل کی تھی ۱؎۔ قواعدکے ضمن میں مقامی علمأ کی جانب سے یہ دستیاب اولین کاوش تھی لیکن یورپی افراد کی جانب سے یورپی زبانوں میں اردو اور مقامی زبانوں کی قواعد لکھنے کاسلسلہ بھی آس پاس کے عرصے میں جاری تھا۲؎ بلکہ اگر ''تحفتہ الہند'' کے حصہ قواعد کی تصنیف کا سال ۱۷۱۱ء کو مان لیا جائے تو اردو کی اولین قواعد ایک یورپی باشندے جون جوسوا کیٹیلار (Joan Josua Ketelaar)نے ۱۶۹۸ء میں لکھی تھی۔ یہ کیٹیلار ہی تھا جس نے بعد کے عرصے میں دیگر مستشرقین کو اس راہ پر گامزن ہونے کی تحریک دی۔
کیٹیلار(خاندانی نام: کیٹلر) ایک معرکہ آراء شخص تھا جس نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ ۲۵دسمبر ۱۶۵۹ء کو جرمنی کے ایک چھوٹے سے ساحلی قصبے ایلبنگ (Elbing) میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ کیٹلر ایک جلد ساز تھا جس کی وجہ سے خود اس نے جلد سازی شروع کی لیکن فطرت میں نچلا بیٹھنا پسند نہ تھا، چنانچہ چوری بھی کی اور اپنے مالک کو زہر بھی دینے کی کوشش کی، لہٰذا نوکری سے نکال دیا گیا۔ یہاں سے نکل کر وہ دانزنگ یا دانسک (Danzig or Gdansk)چلا گیا، جہاں وہ پھر چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اس طرح وہ وہاں سے بھی نکل کر ۱۶۸۰ء میں اسٹاک ہوم چلا گیا۔ وہاں وہ دو سال رہا اور پھر اپنے خاندانی نام کیٹلر کو تبدیل کر کے کیٹیلار رکھ لیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک معمولی سی ملازمت اختیار کر کے ۱۶۸۳ء میں ہندوستان آ گیا۔ یہاں اس نے بہت جلد ترقی کی اور تجارتی امور اس خوبی سے انجام دیے کہ اہم ذمے داریاں اس کے سپرد کی جانے لگیں۔ ۱۷۰۸ء میں اسے اس بنیاد پر کہ اس نے ''مورش'' (Moorish، مسلمانوں کی) زبان اور ثقافت میں مہارت پیدا کر لی تھی، ''سینئر مرچنٹ'' کا عہدہ دے دیا گیا اور ۱۷۱۱ء میں کمپنی کا ''ناظم تجارت'' مقر رکر دیا گیا۔ اس عرصے میں اس نے مغل حکمرانوں بہادر شاہ اول (۱۷۰۸۔۱۷۱۱ئ) اور جہان دار شاہ (۱۷۱۲ئ) کے دربار وں میں رسائی حاصل کر لی تھی۔ ۱۷۱۲ء میں اس نے ولندیزی سفارت خانے کے سفیر کی حیثیت میں جہان دار شاہ سے شاہی فرامین کے تعلق سے سفارتی اور تجارتی نوعیت کے مذاکرات کیے۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے مستقر سورت سے دہلی تک آمد و رفت کے جو سفر کیے، ان میں اس نے راستوں کے علاقائی تمدن اور زبانوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ ۱۷۱۵ء میں اس نے ایلچی ولندیز کی حیثیت میں تقرر پا کر ایران کا سفر بھی کیا اور مزید تجربات حاصل کیے۔ واپسی کے سفر میں بندر عباس کے قریب اس نے عرب مداخلت کاروں سے مقابلے کے لیے وہاں کے صوبے دار کا حکم ماننے سے انکار کر دیا جس پر اسے قید میں ڈال دیا گیا۔ قید کی حالت میں وہ بیمار پڑ گیا اور ۱۲ مئی ۱۷۱۸ء کو انتقال کر گیا ۳؎ ۔
کیٹیلار نے جو ایک بھرپور اور متحرک زندگی گزاری اور جو تجربات خاص طو رپر ہندوستان کی مقامی معاشرت اور تمدن کے حاصل کیے، انھوں نے اس کی زبان دانی کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ زبانوں سے اس کو خاصی دلچسپی رہی کہ اس نے یہاں ہندوستانی یا اردو سیکھی اور ساتھ ہی فارسی اور عربی میں بھی وہ آسانی سے معاملات کو لیتا تھا اور اپنے اسی وصف کی بدولت اس نے کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ اس نے گجرات کے اپنے قیام کے علاوہ راجستھان، آگرہ ، دہلی اور لکھنؤ میں بھی زندگی گزاری جس کے باعث وہ متعدد زبانوں میں اپنے منصبی فرائض کامیابی سے ادا کرتا رہا۔ اس کی زندگی کے اس رخ نے اسے اردو قواعد لکھنے کی طرف مائل کیا جو اس امر کا مظہر بھی ہے کہ اس نے دیگر زبانوں کے مقابلے میں اردو یا ہندوستانی ہی کو اس وقت کی سب سے اہم اور شاید مستقبل کی زبان سمجھ کر اس کی طرف بطور خاص توجہ کی اور ''اولین اردو قواعد'' لکھ ڈالی۔ اس کے جواز میں سنیتی کمار چٹر جی نے بھی اس قواعد کا تعارف کرواتے ہوئے یہی تسلیم کیا کہ اس وقت اردو یا ہندوستانی ہی لاہور ، دہلی، آگرہ سے سورت تک ''لنگوافرینکا'' تھی۔ ۴؎
کیٹیلار کا رجحان مذہب سے بہت قریب معلوم ہوتا ہے۔ اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ باقاعدگی سے اپنے پیدائشی علاقے ایلبنگ کے ''پروٹسٹنٹ'' گرجا گھروں کو بھیجا کرتا تھا۔ قواعد میں بطور مثال ایسے الفاظ اور جملے بھی بکثرت ہیں جو عبادات اور ان کے ادا کرنے سے متعلق ہیں یا پھر آقا اور محکوم یا نوکر اور مالک کے درمیان بات چیت کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس قواعد کے متن اور الفاظ اور جملوں سے اس کے لکھنے کا مقصد اس طور پر نمایاں ہوتا ہے کہ جیسے کیٹیلار نے اسے تجارتی، استعماری اور تبلیغی و ثقافتی ضرورتوں کو پیش نظر رکھ کر لکھا ہے۔ اس کی نوعیت اور اس کا مقصد کسی کو ایک زبان کے طو رپر سکھانا یا تعلیم دینا نہیں تھا، چنانچہ اس کے منتخب کردہ الفاظ اور جملے تنوع کے لحاظ سے محدود ہیں اور زیادہ تر مذکورہ ضرورتوں ہی کا احاطہ کرتے ہیں۔ چونکہ کیٹیلار نے ہندوستانی معاشرت اور زندگی کی تمام سطحوں کا تجربہ حاصل کیا تھا اور متعدد مقامی زبانوں سے بھی واقفیت حاصل کر لی تھی اس لیے اس کی قواعد اور اس میں شامل الفاظ کی فہرست میں ''لنگوا فرینکا'' ہندستانی کے الفاظ کے ساتھ ساتھ فارسی، عربی، پنجابی، گجراتی اور الفاظ بھی ملتے ہیں اور یہ اپنی سطح کے مطابق نچلی ''بازاری'' زبان کی نمائندگی بھی کرتے ہیں اور فصیح و بلیغ معرّب و مفرّس ''ہندوستانی'' کا آمیزہ بھی ہیں ۵؎۔ جو جملے یا زبان کیٹیلار نے استعمال کی ہے، وہ ''کھڑی بولی'' ہے۔
اپنی نوعیت اور اس میں شامل الفاظ کی فہرست کے اعتبار سے یہ قواعد ایک لغت بھی کہی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ چاہے ایک لغت کہی جائے یا ایک قواعد، اس نے بہرحال مقامی زبانوں کی قواعد نویسی کی ایک روایت کا آغاز ضرور کیا جو اگرچہ کسی درسی مقصد سے وجود میں نہیں آئی لیکن اس نے مقامی زبانوں کی قواعد نویسی کی ایک عام اور مروج صورت کو پیش کیا۔ اس میں کیٹیلار نے نہ زبان کے ضوابط اور اصولوں سے بحث کی نہ معیار پر اصرار کیا۔ ان سے قطع نظر اس نے ہندوستانی قواعد نویسی کے مؤرخین کے لیے ایک ابتدائی نمونہ ضرور فراہم کر دیا جسے تاریخ میں ایک اہم اور بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ اس زمانے میں ایک واقعتاً بڑا کام تھا جس نے اردو کے ابتدائی ذخیرۂ الفاظ کو مرتب شکل میںیکجا بھی کر دیا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اور متعدد زبانوں کے الفاظ کا آمیزہ ہونے کی وجہ سے اور جملوں کی ساخت اور عام بول چال کے اسالیب کے باعث لسانی نقطۂ نظر سے بے حد مفید و کار آمد بھی ہے۔ یہ ذخیرہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس میں سماجی لسانیات کے مطالعے کے لیے بھی ایسا مواد موجود ہے کہ جس کے ذریعے گزشتہ تین سو سالوں کے لسانی تغیرات کا مطالعہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ کچھ یہی صورت ''تحفتہ الہند'' میں شامل ذخیرۂ الفاظ کو دیکھ کر بھی کہی جا سکتی ہے۔
۱۶۹۸ء میں یہ قواعد لکھی گئی لیکن ایک عرصے تک کسی صورت میںبھی شائع نہ ہوئی اور اس کا واحد قلمی نسخہ نیدر لینڈ کے ایک چھوٹے سے شہر دی ہیگ(The Hague) کے محفوظات کے کتب خانے میں محفوظ رہا۔ پہلے پہل اسے علمی دنیا سے ایک جرمن مستشرق بینجمن شلزے نے متعارف کرایا اور اپنی تصنیف:"A Grammar of Hindustani Language" کے مقدمے میں جو ۱۷۴۳ء میں اس نے تحریر کیا تھا، اس کا ذکر کیا ۶؎۔ ویسے شلزے نے اعتراف کیا کہ یہ قواعد اس کی نظر سے نہیں گزری لیکن اسی سال ایک اسکالر ڈیوڈملس (David Mills)نے اس قواعد کو کسی طرح حاصل کر کے اس کا ترجمہ لاطینی زبان میں کر کے شائع کر دیا ۷؎۔
ایک اسی طرح کا مختصر ذکر جارج اے گریر سن (George A. Grierson) نے اپنے معروف لسانی جائزے: "A Linguistic Survey of India"میں کیا لیکن تفصیلات نہ بتائیں۸؎۔ ان سب سے قطع نظر اس قواعد کا سب سے مفصل تعارف اور تجزیہ سنیتی کمار چٹرجی نے ۱۹۳۱ء میں تحریر کیا جو ۱۹۳۳ء میں شائع ہوا ۹؎۔ اس وقت تک یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ اب اس قواعد کا وجود نہیں رہا اور یہ ضائع ہو چکی ہے لیکن فوگل نے سنیتی کمار کے مقالے کو پڑھ کر یہ اطلاع دی کہ قواعد کا مخطوطہ نیدر لینڈ کے شاہی محفوظات (دی ہیگ) میں موجود ہے۱۰؎۔ اس کی موجودگی کا علم ہو جانے کے باوجود، اصل مخطوطے سے استفادہ کرنے کی بجائے، لاطینی سے اس کا ایک ہندی ترجمہ میتھیوویچور (Methew Veechoor)نے شائع کیا ۱۱؎۔
ان متعدد کاوشوں اور حوالوں کے بعد اس قواعد کے مذکورہ مخطوطے تک بالآخر تیج کمار بھاٹیا، پروفیسر ہندی، سیرا کوسے (Syracuse)یونیورسٹی نے کامیابی حاصل کی اور اس کے عکس کا غائر نظر سے جائزہ لے کر اور اس کا تقابل اس کے لاطینی ترجمے سے کر کے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ اس قواعد کا کم از کم ایک اور نسخہ کہیں موجود رہا ہے جس سے لاطینی ترجمہ کیا گیا،کیونکہ اس لاطینی ترجمے اور اصل مخطوطے کے متن میں فرق پایا جاتا ہے ۱۲؎۔ بھاٹیا نے اس مخطوطے کا عکس حاصل کر کے اس کے تعارف پر مشتمل اولاً ایک مقالہ تحریر کیا ۱۳؎۔اور پھر تقریباً دو دہائیوں کی محنت سے اسے بڑے اہتمام اور سلیقے سے بعنوان: The Oldest Grammar of Hindustani: Contact, Communication and Colonial Legacyمرتب کیا، جسے جاپان میں ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار لینگویجز اینڈ کلچرز آف ایشیا اینڈ افریقہ نے ۲۰۰۸ء میں تین جلدوں میں شائع کیا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں ہندی کے پروفیسر کازوہیکو ماچیدا، جنھوں نے ہندی زبان اور لسانیات پر کئی قابل قدر اور مفید کام کیے ہیں، اس قواعد کی ترتیب و تدوین اور مطالعے و تجزیے میں ان کے شریک رہے ہیں۔ اس اشاعت کے علاوہ ایک کوشش ممتاز اسکالر محمد اکرام چغتائی کے پیش ِ نظر بھی ہے، جس کا ایک عکس انھوں نے بھی بہت پہلے دی ہیگ کے محفوظات سے حاصل کیا تھا اور اب وہ اسے مرتب کر رہے ہیں ۱۴؎۔
زیرِ نظر اشاعت کی جلد اول، دو ذیلی حصص پر مشتمل ہے، جس میں سے حصہ اول ''تاریخی اور باہمی ثقافتی سیاق'' کا احاطہ کرتا ہے جسے تیج کمار بھاٹیا نے لکھا ہے۔ دراصل یہ مقدمہ ہے جس میں اس قواعد اور اس کے مصنف کا مکمل تعارف اور اس قواعد و لغت کی خصوصیات اور موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جب کہ دوسرے حصے میں ''قواعد کاذخیرۂ الفاظ اور ان کا تجزیہ'' کیا گیا ہے جو دونوں مرتبین کی مشترکہ کاوش ہے۔ دوسری جلد میں ''لغت کے ذخیرۂ الفاظ کا تجزیہ'' کیا گیا ہے اور یہ بھی دونوں کی مشترکہ کوشش ہے۔ اصلاً یہ ساری قواعد اور لغت کا مکمل متن ہے جسے تجزیے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ تیسری جلد تمام تر کیٹیلار کی قواعد کا متن یا اس کے ہاتھ سے لکھا ہوا مسودہ ہے جس کا اس جلد میں مکمل عکس دے دیا گیا ہے۔
اس قواعد کے فاضل مرتبین نے اس کے مخطوطے کی دریافت اور اشاعت کو ''ہندی'' قواعد نویسی کی تاریخ کا گزشتہ تین سو سالوں کا ایک اہم واقعہ قرار دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ''ہندی زبان'' کی قواعد کی روایت اور تاریخ کا کھوج لگانے کی متعدد کوششیں مختلف سمتوں میں کی جا رہی ہیں، اس کی اشاعت کو اس ضمن میں ایک سنگِ میل سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک واقعہ بھی ہے لیکن یہ انصاف اور دیانت کے اصولوں کے خلاف ہے کہ ''ہندوستانی'' کی اس قواعد کو جس کے ذخیرۂ الفاظ اور جملوں میںاستعمال ہونے والے الفاظ میں عربی و فارسی کے الفاظ کی بہتات ہونے اور خود اس کے مرتب کی جانب سے اس کے ''ہندوستانی'' کی قواعد قرار دیے جانے کے باوجود ان مرتبین نے اسے ''ہندی قواعد'' قرار دینے میں کسی قسم کا تامل نہیں کیا ہے، جو افسوس ناک ہے۔ متعدد مقامات پر نسخ و نستعلیق میں مثالوں کے باوجود کہ ہندی الفاظ کے لیے بھی دیونا گری یا سنسکرت رسم الخط کیٹیلار نے استعمال نہیں کیے، مرتبین کا اسے ہندی کی قواعد قرار دنیا لسانی عصبیت ہی کہی جا سکے گی۔ عربی فارسی الفاظ کی کثرت اور اس وقت کے لسانی مناظر و شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے ''ہندوستانی'' (یا اردو) کو ''ہندی'' قرار دینے کے عمل کے پس پشت جو مذہبی، قومی اور ثقافتی عصبیت کارفرما ہے اس میں کوئی کلام نہیں۔ جس زبان کو فورٹ ولیم کالج میں ۱۸۰۲ء کے بعد شناخت اور رسم الخط نصیب ہوا ہو، وہ تو اس عصبیت کے نتیجے میں ہمیشہ سے ''ہندی''رہی اور اردو اس کے مطابق ۱۷۸۰ء سے اردو کہلانے کی وجہ سے ہندی کے مقابلے میں ہندوستان کی سب سے کم عمر زبان ہے ۱۵؎۔جبکہ ۱۷۸۰ء سے بھی پہلے اس زبان کے لیے ''اردو'' کا نام استعمال میں آتا رہا ہے۔ اس طرح افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ فاضل مقدمہ نگاروں نے قواعد کے اصل عنوان میں شامل قواعد کی زبان کے نام ''ہندوستانی'' کو اپنے مقدمے میں بارہا ''ہندی'' تحریر کیا اور ''ہندی'' ہی قرار دیا، جس کی اخلاقی اصولوں اور علمی دیانت کے لحاظ سے گنجائش نہ تھی۔
اس ایک محلِ نظر امر سے قطع نظر تیج کمار بھاٹیا اور کازوہیکو ماچیدا کی یہ کوشش بلاشبہ لائقِ تحسین ہے اور ایک ایسی عمدہ مثال ہے کہ کسی ایسی تصنیف اور اس کتاب کے متن کو کس طرح ایک بے حد فاضلانہ و معلوماتی مقدمے کے ساتھ ضروری تجزیے و مطالعے اور گوشواروں کی مدد سے مرتب اور پیش کرنا چاہیے۔
حواشی
۱۔ اس تصنیف A Grammar of the Braj Bhasha by Mirza Khan (1676) کے متعدد قلمی نسخے ہندوستان اور برطانیہ کے کتب خانوں میں محفوظ ہیں لیکن اس کا ایک نسخہ ایم۔ ضیاء الدین نے مرتب کیا تھا۔ مطبوعہ ، کلکتہ: وشوا بھارتی بک شاپ، ۱۹۳۵ئ۔
۲۔ ان کاوشوں کاایک معلوماتی جائزہ ، متعدد تصانیف، مآخذ کے علاوہ، مولوی عبدالحق، مقدمہ ''قواعد اردو''، اورنگ آباد، انجمن ترقی اردو، ۱۹۳۶ء ص۲۰۔۱۱۸، اور ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، مقدمہ ''ہندوستانی گرائمر'' ، مصنفہ بنجمن شلزے، مجلس ترقی ادب، لاہور، ص: ۲۔۳۷ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
۳۔ کیٹیلار کے حالات اس کی زیر نظر تصنیف کے فاضل مرتب تیج کمار بھاٹیا اور کازو ہیکو ماچیدا نے اپنے معلوماتی مقدمے میں تحریر کیے ہیں: The Oldest Grammar of Hindustani: Contact, Communication and Colonical Legacy، تین جلدیں، مطبوعہ: ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار لینگویجز اینڈ کلچرس آف ایشیا اینڈ افریقہ، ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز، ٹوکیو، ۲۰۰۸ء جلد اول، صفحہ ۲۶؛ یہ مقدمہ اس زیر نظر تحریر کا بنیادی ماخذ بھی ہے۔ ونیزو فوگل، جے Joan Josua Ketelaar of (Vogel.J.)Elbing, Author of the First Hindustani Grammar، مشمولہ: Bulletin of the School of African and Oriental Studies، ص ۸۱۷۔۸۲۲، جلد۸جو خود فاضل مقدمہ نگار کا بھی بنیادی ماخذ ہے۔ افسوس کہ فاصل مقدمہ نگاروں نے قواعد کے اصل عنوان میں شامل نام ''ہندوستانی'' کو اپنے مقدمے میں بارہا ''ہندی'' تحریر کیا جس کی اصول اوردیانت کے لحاظ سے گنجائش نہ تھی۔
۴۔ "The Oldest Grammar of Hindustani"، چٹرجی نے اپنا یہ مقالہ ۱۹۳۱ء میں لکھ کر اولاً ۱۹۳۳ء میں شائع کیا تھا۔ مشمولہ: "Indian Linguistics"، جلد ۲،۱۹۶۵ئ، ص۸۳۔۶۸۔
۵۔ چٹرجی نے اسی بنیاد پر اس قواعد میں شامل الفاظ کو دو سطحوں کا مجموعہ بتایا ہے۔ ایک ادنیٰ اور ایک اعلیٰ، جو معاشرے کے ان ہی طبقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تصنیف مذکور، ص ۷۸۔
۶۔ مقدمہ (انگریزی)، ص۳، مشمولہ ''ہندوستانی گرائمر'' ، ترتیب و ترجمہ و تعلیقات از ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، مطبوعہ: مجلس ترقی ادب، لاہور، ۱۹۷۷ئ۔
۷۔ "De Lingua Hindustani ca"، مشمولہ:"Dissertationes Selectae"، لائیڈن، ۱۷۴۳ئ، مرتبہ ڈیوڈ ملس، سی وشوف، جی۔ جے وشوف پبلشرز۔ص ۴۸۸۔۴۵۵۔
۸۔ "A Linguistic Survey of India"، جلد ۹، حصہ ۱، دہلی، ۱۹۱۶، ص ۸۔۶۔
۹۔ "The Oldest Grammar of Hindustani"۔ محولہ بالا: ۴؎
۱۰۔ تصنیف مذکور، ص: ۸۲۱۔
۱۱۔ مطبوعہ: الہ آباد، ۱۹۷۶ئ۔
۱۲۔ تصنیفِ مذکور، جلد اول، ص۱۹۔
۱۳۔ "The Oldest Grammar of Hindustani"، مشمولہ:Syracuse Scholar، ۴(۳)، ۱۹۸۳ئ، ص: ۱۰۱۔۸۱۔
۱۴۔ مکتوب بنام راقم، مؤرخہ ۷ ستمبر ۲۰۱۱ء
۱۵۔ بھاٹیا اور ماچیدا، ص ۷۔
٭٭٭٭

٭٭٭٭