کچھ یادیں کچھ آنسو
عارفہ شمسہ

۲۷ دسمبر۲۰۱۲ء دوپہر سروش نے آکر کہا کہ آپ کراچی جانے کی رٹ لگائے رہتی ہیں اب چلی جا ئو نا ،میں نہا کر کھانا کھاکر دوبارہ کمبل میں گُھس گئی تھی۔ اسلام آباد کی سردی بدن میں گھستی ہے۔مجھے تو ویسے بھی سردی بہت لگتی ہے۔میں نے کہا،کیا کروں کراچی کے حالا ت کی وجہ سے وہاں کے لوگ خود ہی منع کردیتے ہیں ، ابھی انور اورنکہت کا فون آیا تھا کہ جنوری میں اطہر کی شادی ہے سوچا اس طرح جائوں گی کہ پہلے آپا کے پاس جاکرر ہوں پھر شادی اٹینڈ کر کے واپس آئوں۔ سروش کہنے لگی نہیں نہیں اطہر کی شادی میں مہینہ پڑا ہے آپ پھر چلی جانا،۔ میرا خیال ہے کہ آپ چلی ہی جائیں۔ سروش کا انداز عجب تھا۔ میں کچھ حیران ہوئی۔ اتنے میں آفرین کا فون آیا۔ آپ نے بکنگ کرائی میں گھبرا کر اٹھ گئی۔ خیر تو ہے ،کیا ہوا۔ ساتھ ہی ساتھ میرے موبائل پر پیغام آیا۔ "AMAN IN ICU" اُف ۔ ۔بلال اور سروش سمجھ گئے کہ مجھے پتہ چل گیا ہے۔ کہنے لگے ہم نے ایئرپورٹ بات کی ہے۔ ایک بجے والی پی آئی اے کی فلائیٹ تک تو ایر پورٹ نہیں پہنچ سکتے، ڈھائی بجے ائیر بلو کی فلائیٹ جانے والی ہے۔ ابھی فوراً چلئے ۔ سیٹ ان کے پاس بھی نہیں ہے۔ وہاںجاکر کوشش کر لیں گے، میں ایک ہفتے سے گھبرارہی تھی۔ دل پریشان تھا۔ آپا کی طبیعت اوپر نیچے ہوجاتی تھی۔ روزانہ فون پر بات ہوتی تھی۔ لیکن وہ مجھ سے کہتیں کے میں ٹھیک ہوں۔ کچھ دن پہلے چھوٹی آپا کو سیف نے فون کیا تھا کہ امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ڈاکٹر سمیع کو لے کر نذر اور انور اور عمرفوراً پہنچ گئے ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ کمزوری ہے اور کوئی بات نہیں عمر کا تقاضا ہے۔ ڈرپ چڑھا دی گئی ہے۔ سیف نے مجھے بھی فون کیا میں نے خاص طور پر کہاکہ میں آجاتی ہوں، اس نے کہا،پریشان نہ ہوں، ڈاکٹر نے کمزوری بتائی ہے پریشان نہ ہوں، اگلے ماہ توآپ آہی رہی ہیں۔۔،لیکن دل بے چین تھا دوسرے دن صبح بھی میں نے آپا سے بات کی تھی چھوٹی آپا پورے دن انکے پاس تھیں میں نے پوچھا ا ب کیا حال ہے ،چھوٹی آپا نے کہا بہت کمزور ہوگئی ہیں ۔ فون پر بات میں بھی تھوڑی لکنت تھی۔ میں نے سیف سے پوچھا اس نے بھی کہا ہاں بہت کمزوری ہے۔ ویسے تو آپ کو پتا ہے شمسہ خالہ طبیعت آگے پیچھے رہتی ہے۔اور میں بد بخت اُس بات کو سمجھ ہی نہ پائی تیسرے دن ہی پیغام آگیا کہ میری آپا ''انتہائی نگہداشت'' کے وارڈمیں ہیں۔ اُف ۔ یہ آئی سی یو وارڈمجھے ڈس لیتا ہے۔ میر ی جان نکال دیتا ہے۔ نہ جانے یہ آئی سی یو میرا پیچھا کیوں کرتا ہے۔ میں آئی سی یو سے بہت گھبراتی ہوں، میں کیو ں نہ سمجھی کہ مجھے آپا کے پاس فوری طور پر جانا چاہیے۔ اُف…کیا دنیا میں پچھتاوہ کا علاج ہے۔
آفرین نے جلدی جلدی میرا لیپ ٹاپ اور دو جوڑے سمیٹے، بلال اپنی گاڑی پر مجھے لے کر عبدل کو ساتھ بٹھا کر نکلے۔ مجھے تو جیسے ہوش ہی نہ تھا،آفرین اور سروش نے گھر بند کیا اور ہم ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ ڈیڑھ بج چکا تھا پی آئی اے کی فلائیٹ بھی ابھی تک نہیں چلی تھی۔ لیکن اس میں کوئی سیٹ نہیں تھی۔ ایئربلو والوں کی خوشامد کی لیکن انھوں نے بھی انکار کر دیا۔ ہر منٹ کراچی سے رابطہ تھا۔ نذر اور انور دلاسہ دے رہے تھے۔ لیکن آوازیں بتا رہی تھیں کہ خیریت نہیں ہے۔ میں نے ۷ بجے کی ۔ فلائیٹ کا ٹکٹ لیا۔ اور نذر کو بتایا اس نے کہا ٹھہر جائیں ہم یہاں سے کوشس کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد نذر کے سمدھی بریگیڈیر جمشید کا فون آیا۔ خالہ آپ کہاں ہیں۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ پھر ایک صاحب وردی میں آئے اور میرا ٹکٹ لے جا کر کچھ لکھوایا۔ اور مجھے تقریباً گھسیٹتے ہوئے ائیرپورٹ پر وی آئی پی لاونج سے گزارکر پی آئی اے کی جو فلائیٹ ایک بجے جانے والی تھی۔ اس پر چڑھایا۔ دل سے جمشید میاںکے لیے دعا نکلی ۔ وہ فلائیٹ مزید لیٹ اسلام آباد سے چلی۔ کراچی ائیرپورٹ پر حسبِ سابق سیما لینے آئی ہوئی تھیں۔ کیا کہوں۔ آتے جاتے وقت سیما اور سعید کی شخصیت کچھ ایسی ہے کہ بے ساختہ ان ہی کو فون کر دیتی ہوں۔ سیما کے ساتھ میں سیدھی ہسپتال پہنچی۔ درمیان میں نذر ۔ انور سے پوچھتی رہی کہ صاف صاف بتادو آپا کیسی ہیں۔ دونوںنے کہا کہ بس ICU میں ہیں آپ آجائیے۔ دل میں طرح طرح کے وسوسے تھے۔ہم کو ضیا الدین ہسپتال پہنچتے پہنچتے چھ بج گئے ، سامنے بلاک بی میں سیف کا گھر ہے،ہسپتال میں آپا کے سب ہی بچے ،بلکہ ان کے سب چاہنے والے قطار سے کھڑے تھے۔ نذر آئے۔مجھے شاید انور ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئے، میں جو آئی سی یو سے گھبراتی تھی دوڑ کر اندر پہنچ گئی ICU ۔ میں میری بہن، میری ماں میری آپا۔ بے ہوش تھیں۔ میں انھیں پکارتی رہی وہ نہ بولیں۔ ڈاکٹر نے مجھے منع کیا ان سے بات نہ کریں، لیکن کیوں ، وہ تو سب سن رہی تھیں مجھے کیوں منع کردیا۔ ڈاکٹربضد تھے از راہ کرم آپ جائیے۔ میرا دل انھیں چھوڑنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ انور ،نذر، سیف، عمر ، پپو، نے بھی سمجھایا گھر جائیے۔ وہاں سب کو آپ کی ضرورت ہے، دیکھیے نجمہ خالہ نے کتنی ہمت کی ، حد ہوگئی آپ سے تو سب کی ہمت بندھتی ہے ،لیکن میں کسی سے کیا کہتی، میں تو تتر بتتر ہوچکی تھی ،مجھے تو ان سے ابھی بہت سی باتیں کرنی تھیں چونکہ سب سے زیادہ تو میں ان سے باتیں کرتی تھی میری تحریروں کا وہ حوالہ تھیں۔میںآخر پہلے کیوں نہیں آئی۔ کیوں؟؟۔۔کیوں؟؟۔ ضیاء الدین ہسپتال آپا کے گھر کے بالکل سامنے ہے۔ سیما مجھے گھر لا ئیں،میں اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ لیکن جب گھر پہنچی اور بی بی کی حالت دیکھی تو ہمیشہ کی طرح اپنے کو سنبھالا۔ ایک دفعہ پھر میں پتھر کی بن گئی، بی بی کو جھوٹی تسلی دی۔ رات تک و ہی کیفیت تھی۔ نذر ۔ انور اور بی بی کو گھر بھیجا۔ صبح سے وہ لوگ ہسپتال میں تھے۔ سیف کو زبردستی رات ایک بجے لٹایا۔ فون پر فون آرہے تھے۔ میں نے کہا سیف فون ہمیں دے دو تم تھوڑا سوجائو۔ عمیر اور اس کے دوست ہسپتال میں تھے۔ ڈھائی بجے فون آیا۔ بینانے اٹھایا۔ عمیر نے کہا ڈاکٹراماں کو وینٹیلٹر پر ڈال رہے ہیں۔ حا لت ٹھیک نہیں ہے۔ سیف فون کی آواز سے فوراً اٹھ کر آگئے۔ وہ پہلی رات تھی جب دسمبر میں کراچی میں تیز ہوا چلی۔ میں سیف کے ساتھ ہسپتال جانا چاہ رہی تھی۔ بینا نے منع کیا کہ آپ بچوں کے پاس رہیں میں اورسیف جاتے ہیں۔ انور اور نذر کو فون کردیا گیا۔ میرا دل وینٹیلٹر کے لیے نہیں مان رہا تھا لیکن میں تو بہن تھی۔ بچے چا ہ رہے تھے ۔ ویسے بھی ڈاکٹر نے تو پہلے ہی وینٹیلیٹر پر ڈال دیا تھا ،جمعہ کا دن تھا۔ پورے دن جس کو پتہ چلا ہسپتال آتا رہا، شام جب میں اور نکہت گئے،دونوں صرف ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا ڈاکٹر نے تسلی کے لیے وینٹیلٹر لگایا ہوا ہے، ، سب بچوں کو ڈاکٹر نے بلایا اور کہا کوئی صورتحال قابو میں نہیں ہے۔ متفقہ فیصلہ سے وینٹیلٹر ہٹایا گیا۔ جیسے ہی وہ ہٹا۔ آپا ہم سب سے رخصت ہو گئیں۔ میری آپا ۔ میں نے آپ کو کتنا تنگ کیا ہے۔ کتنا پریشان کیا ہے۔ میں نے کبھی آپ کو بے حس کہا تو کبھی کہا آپ انسان نہیں، نہ جانے آپ کس مٹی کی بنی ہوئی ہیں۔ ہمیشہ لڑتی رہی جھگڑتی رہی۔ ایک فرشتہ آپ کی صورت میں ہمارے درمیاں اتنے دن تک رہا۔ جس کی ہم نے قدرنہ کی، یہ ان کی نہیں میری بدقسمتی تھی ہماری بدقسمتی تھی، بھلا کہاں کسی کو ایسے ایسے مواقع ملتے ہیں۔ایک ایسی فرشتہ صفت عورت،جب بچے چھوٹے تھے تو صبح اٹھتی فجر کی نماز پڑھنے کی بعد گھر کا کام جو ان کی دیورانی زاہدہ آپا اور ان کے درمیان بٹا ہوا تھا، کرتیں۔ کپڑے سیتی۔ شام کی روٹی پکاتی ۔ بچوں کے کاموں کے ساتھ ساتھ سب کا خیال رکھتیں۔ معین بھائی (آپا کے دیور)کے انتقال کے بعد سب ساتھ تھے۔ مجال تھی جوبچوں میں تفریق کی ہو، وہ بغیر ساس کے اپنے شوہر کے ساتھ بھی کبھی نہیں گئیں۔ جوانی میں بھی جب دولہا بھائی نے کہیں جانے کو کہا تو اپنی ساس کو ساتھ لیا ،ساس بھی بہت چاہتی تھی۔دو نوں نندیں سردار آپا اور سلطان آپا کی چہیتی تھیں۔ ان کے بچوں کی ہر دلعزیز مامی۔ کسی کے ہاں بچہ ہورہا ہے تو ہسپتال میں ساتھ جارہی ہیں، خاندان میں نہ جانے کتنی شاد یاں ان کے گھر سے ہو تی تھیںکسی کی بَری بن رہی ہے تو کسی کا جہیز، ہر ایک کے کپڑے سینے کی ذمہ داری۔ میکہ اور سسرال کے جتنے لوگ ہندوستان سے آتے آپا کا گھر ہمیشہ کھلا رہتا۔ سب ان کے ہاںہی ٹھہرتے تھے۔،دولہا بھائی نے تو اپنے گھر میں اپنے ماموں اور ان کے بچوں کے لیے کمرے بھی بنادیئے تھے۔ سب کے بچوں کو سلائی سکھائی، نور محمد بھائی کو وہ اور دولہا بھائی کانپور سے ساتھ لائی تھیں۔ ان کی شادی کی، پھر بچوں کو اپنے بچوں کے ساتھ پالا۔
مجھے نہیں یاد کہ کبھی نماز چھوڑی یا روزے چھوڑے ہوں دعائوں میں بچوں کے لیے گڑگڑاتے ہوئے میں نے دیکھا ۔ مجھے اور رضوان کو بھی انھوں نے ہی پالا۔ میں سب سے بدتمیز تھی۔ مجھے ان کی بے حسی بری لگتی تھی۔ کبھی میاں سے بھی فرمایش نہ کی، مجھے ان کی سادگی، ان کی معصومیت ایک آنکھ نہ بھاتی۔ ہر بات پر ان سے لڑتی تھی۔ مجھے بھی کچھ نہ کہتیں۔ دوسروںسے کہتیں اسے سمجھائو۔ اپنے دولہا بھائی سے بدتمیزی نہ کرے ۔ آپا آپ کیسی تھیں۔ آپ نے تو صرف محبت کرنا سیکھی تھی۔ صرف محبت۔ آپ نے اپنے شوہر کی کس قدر خدمت کی۔ آپ نے عام مائوں کی طرح ممتا کا واویلہ نہیں مچایا۔ آپ کی اکلوتی بیٹی پروین آپ کے لیے روتی تھی کہ آپ میرے پاس کیوں نہیں رہتیں۔ اس کا خیال تھا کہ شاید آپ اُسے چاہتی نہیں تھیں۔ بیوقوف لڑکی ، کس قدر پاگل ہے وہ اپنی محبت کی خاطر سمجھتی تھی کے شاید ماں اس سے محبت نہیں کرتیں، ارے اس کی ماں کو ان کے میاں نے اپنی دانست میں ایک ٹھکانہ دیا تھا ایک چھت دی تھی جو ان کا اپنا تھا ،جہاں ان کابستر تھا۔ ان کا کمرہ تھا۔ الماری تھی۔ اس کمرے میں انھوں نے اپنے شوہر کی خدمت کی تھی۔ وہ ہر پھر کر صرف اسی جگہ رہنا چاہتی تھیں۔ اس جگہ کی ان کے اندر لمبی داستان تھی صدر کے بچوں عزیر اور عمر کو اس طرح سلاتی تھیں اور خود باہر بیٹھتی تھیں کہ زور سے نہ بولنا اندر ( عزیر سورہا ہے) ۔ میں چڑجاتی آپ کیسی عورت ہیں۔ خود بھی تو آرام کر لیا کریں۔ مجھے خاموش رہنے کا کہتیں۔ وہ جگہ ۔ وہ کمرہ ۔
ماشاء اللہ جوان پوتے پوتیوں والی دادی جو سب انکو اماں کہتے تھے۔ ایک لڑکی کے ساتھ تھیں۔ جو خدمت گار تھی۔ سیف کی صبح ماں کے ساتھ ہوتی وہ اخبار سناتا۔ پھر ناشتا کراتا۔ شام کو آ کر ما ں کے پاس بیٹھتا رات کو اٹھ کر بھی کئی پھیرے لگاتا۔ یہ ہی ان کی زندگی کی خوشی تھی۔ بی بی کی تڑپ۔ نذر ، انور، سیف، پپو، فرح، سیما، بابوجی سب نو حہ خواں ہیں۔ ایک سال قبل بڑا بیٹا سب کا چہیتا صدر الاسلام ان سے جداہوگیا۔اس کا غم انھیں نڈھال کر گیا۔ لوگ کہتے ہیں ماشاء اللہ۸۶سال کی تھیں۔۔۔ کیاممتا کے لئے عمر ضروری ہوتی ہے۔ ۱۰۰ سال کی مائیں بھی اپنے بچوں کے پوتاپوتی، نواسا نواسی کے ارد گرد ایسے رہتی ہیں جیسے پھولوں بھری پریاں۔ ہم اسی میں خوش ہیں کہ انھوں نے ما شاء اللہ ہمارے ساتھ عمرکے ۸۶ سال گزارے۔ وہ زندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ ہسپتال گئیں۔ خدا کا شکر ہے کہ خدمت کا موقع نہ دیا ۔
آپا آپ مجھے بہت اکیلا کر گئیں۔اللہ چھوٹی آپا کو زندہ سلامت رکھے۔ وہ تو ذہنی طور پر پریشان ہوگئی ہیں ، شائد وہ کھل کر رو لیتیں تو اتنی پریشان نہ رہتیں۔ باتیں ہی باتیں کرتی رہتی ہیں۔میں نالائق ان سے بھی لڑتی رہتی ہوں چونکہ وہ کبھی کبھی بلا سوچے سمجھے بولتی ہیں، لیکن مجھے خود ہی خیال آ جاتا ہے کے وہ جان کر نہیں بولتیں۔ اپنی محبت سے مجبور ہیں، ہم سب کو اب انہیں اسی طرح ہاتھوں ہاتھ رکھنا ہے، کسی کو چاہنے کے لیے اپنی مرضی کا ہونا ضروری نہیں، رشتوں میں ، دوستی میں صرف چاہت ہوتی ہے،جو جیسا ہو ہمیں اسے ویسے ہی قبول کرنا پڑتا ہے۔
اللہ عمر، سدرہ اور اریبہ کو سلامت رکھے جس نے انہیں بھلایا ہوا ہے، یہ ہم کو بہت عزیز ہیں۔سدرہ نے تو آپا کی بھی خدمت کی ہے۔
اللہ رضوان کو صحت وسلامتی کے ساتھ رعنا اور بچوں کے سر پر قائم رکھے(آمین) وہ ہم سب کی خاطر پاکستان کا چکر لگاتا ہے،اللہ میری آپا کے درجات بلند کرے، ،میری آپا میرے دل کی پیاری…مجھے بھی بلالیں اپنے پاس، اس بے ثباتیٔ دنیا سے دل گھبراگیاہے،دل بے چین ہے معلوم نہیں کیوں۔دل ماہیٔ بے تاب ہے معلوم نہیں کیوں۔
آپا کے جانے کے بعد آج پہلی مرتبہ کچھ لکھا ہے، ہر نماز کے بعد انکے بچوں کے لیے بھی دعا کرتی ہوں،جو آپا کے دل کا ٹکڑا ہیںرضوان اپنے گھمبیرمسئلوں میں الجھا ہوا ہے، اللہ اسے سکون و اطمینان دے (آمین)
چھوٹی آپا کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔ میرا اضطراب بڑھ گیا ہے۔ میں تو خود پر قابو پاکردنیا داری میں مصروف رہنے کی کوشش میں ہو ں۔
اللہ چھوٹی آپا کو بھی صبر دے ان کا بہت بڑا آسرا تھیں۔ کاش میری آپا میرے پاس ہوتیں۔ میں روزانہ ان کو تیار کرتی ،وہ آپا جوہر ایک کو چاہتی تھیں۔وہ تو ہمیشہ دوست دشمن کی تمیز نہ کر پائیں۔ ہر ایک کے لیے بھی دعا گو رہیں ، صحت کے لیے دعائیں کیں،گلے لگایا، پھر بھی سب کہتے تھے اماں کو تو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا، پتا نہیں بے چاری کو کیا کرنا چاہیے تھا، چلو اچھاہواچلی گئیںبس ہمیںیہ یاد رکھنا چاہیے۔ آج وہ کل ہماری باری ہے۔
٭٭٭