سید ضمیر جعفری

تجمل شاہ

غرّاتی ہے بیوی کہ غرارا مجھے لا دو
گوٹا نہیں ملتا تو کنارا مجھے لا دو
ظرافت نگاری سے فضا کو نمکین بنانے والے ضمیر جعفری آج ہم میں نہیں لیکن ان کا فن آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ ضمیر جعفری نے مزاحیہ شاعری کے ساتھ ساتھ سنجیدہ شاعری بھی کی ہے۔ وہ بیک وقت فوجی بھی تھے، صحافی بھی اور شاعر بھی۔ ان کے کئی ملی نغمے اب بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں بلکہ ان کا لکھا ہوا نغمہ ''میرا لونگ گواچہ'' مسرت نذیر کی آواز میں جب سماعتوں سے ٹکراتا ہے تو جعفری صاحب کی شخصیت بے ساختہ سامنے گھومتی نظر آتی ہے۔ سید ضمیر جعفری کا اصل نام سید ضمیر حسین شاہ ہے۔ وہ ضلع جہلم کے گائوں چک عبدالخالق میں یکم جنوری ۱۹۱۶ء میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم گائوں کے ٹاٹ مدرسہ میں حاصل کی۔ بی اے اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ زمانہ طالب علمی سے لکھنے کا آغاز کیا۔ لاہور سے روزنامہ ''احسان'' کے ذریعے صحافت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ چراغ حسن حسرت کے رسالے ''شیرازہ'' کے مدیر بھی رہے بعد ازاں سرکاری ملازمت کے بعد فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے منسلک ہوئے۔ ۱۹۴۹ء میں فوجی ملازمت کو خیرباد کہہ کر ''بادشمال''کے نام سے اپنا روزنامہ جاری کر دیا جو کہ ناکام رہا پھر پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں پنجہ آزمائی کی وہ بھی ناکام رہی بعد ازاں پھر سے فوج میں واپسی ہوگئی۔ ۱۹۶۶ میں فوج سے سبکدوشی کے بعد سی ڈی اے کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر اور شمالی علاقہ جات کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اکادمی ادبیات پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور اخبارات کے لیے اور پی ٹی وی کے لیے پروگرام بھی کرتے رہے۔ انھیں ادبی خدمات کے طور پر تمغۂ قائداعظم، صدارتی تمغۂ برائے حسن کارکردگی اور ہمایوں گولڈ میڈل کے انعامات سے نوازا گیا۔ ان کی اب تک دو درجن سے زائد کتب منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں نمایاں نام یہ ہیں:
شاعری:
جزیروں کے گیت، کھلیان، ولایتی زعفران، لہو ترنگ، مسدّس بے حالی، گنرشیر خان، من میلہ، مافی الضمیر، ضمیریات، رموز وطن، من کے تار، متاع ضمیر، قریۂ جاں، نشاطِ تماشاوغیرہ۔
نثر:
ہندوستان میں دو سال، اڑتے خاکے، کتابی چہرے، جنگ کے رنگ، حفیظ نامچہ، آنریری خُسر (ناولٹ)، گورے کالے سپاہی، ضمیر حاضر ضمیر غائب، خدوخال، نظر غبارے وغیرہ۔ ان کے پرستاروں میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے اور آج بھی ان کی تحریروں کو پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے قلم سے رشتہ آخر دم تک برقرار رکھا۔ وہ مئی ۱۹۹۹ء میں طویل علالت کے بعد دار فانی سے چل بسے۔
ان کے کلام کے چند نمونے
ہاتھوں پر جو دیکھو گے تو دستانے بھی ہوں گے
شانوں پر گِراں کوٹ کے کاشانے بھی ہوں گے
پتلون میں سگریٹ کے لیے خانے بھی ہوں گے
آنکھوں پر سُبک شیشے و پیمانے بھی ہوں گے

لیکن غم دوراں سے پریشاں ہے کلرکی
چہرے سے کلکروں کے نمایاں ہے کلرکی
بزدلی
اپنے سُورج پر نہ ہو جب اختیار
صبح نکلے بھی تو سمجھو شام ہے
جو مرّوت اپنی خواہش سے نہ ہو
وہ مرّوت بزدلی کا نام ہے
………
گھر ہے تھل میں زندگی جاپان کے معیار سے
خود کشی کی ہے نہایت قیمتی تلوار سے
تیل کب نتھر نکلتا ہے کنوئیں کی دھار سے
آدمی عالم نہیں بنتا فقط دستار سے
زندگی اپنے کنارے کے سہارے ہی سے کر
کون آتا ہے مرد کرنے سمندر پار سے
……
غریب خانہ ہمیشہ سے جیل خانہ ہے
مرا مزاج لڑکپن سے لیڈرانہ ہے
الہٰی دل زار تاواں کی خیر
کہ آج ان کا ہر انداز ہٹلرانہ ہے
مسدس بدحالی
مِلوں پرمٹوں، کارخانوں کے جھگڑے
سیاست کے ''نو دولتانوں'' کے جھگڑے
زبانوں، بیانوں ، ترانوں کے جھگڑے
فسانوں پہ ہم داستانوں کے جھگڑے
سرِخوان لقمہ اُٹھانے پہ جھگڑا
وہ جھگڑا کہ ہر دانے دانے پہ جھگڑا
٭٭٭٭
یہ لیڈر بیانوں میں کام آنے والے
جرائد میں شہ سرخیاں پانے والے
یہ ہر قول دے کر مُکر جانے والے
یہ ہر میز کرسی پہ مر جانے والے
بیاباں کو صحنِ چمن میں جانتے ہیں
قیادت کو خوراکِ تن جانتے ہیں
٭٭٭٭
مقاصد کو زیر و زبر کر کے لڑنا
نتائج سے قطع نظر کر کے لڑنا
سنان و تبرتیز کر کے لڑنا
اگر کر کے لڑنا، مگر کر کے لڑنا
کہیں دو وڈیرے جو لڑ بیٹھتے ہیں
تو سارے بٹیرے بگڑ بیٹھتے ہیں
٭٭٭٭
وطن کے لیے نظم کا ایک بند
اے میرے وطن، پیارے وطن!
میری ساری زر تمنائوں کے گہوارے وطن!
تیرے قدموں کے لیے
ریشمی دہلیز، آزادی کا نذرانہ لیے
(اپنے پیمانِ وفا کا رقصِ جانا نہ لیے)
شعر کی نَم ڈالیاں لاتا ہوں میں
بے دلی کی برف کو احساس کے شعلوں سے گرماتا ہوں میں
پُھول کو کانٹے سے گزارتا ہوں میں
پائوں کی زنجیر چھنکاتا ہوا گاتا ہوں میں