انتظار حسین

ادب گر

مسعود اشعر
ہمیں انعام نہیں ملا
اس گرمی میں کچھ بھی تو کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ جب دم ہی گھٹا جا رہا ہے تو بھلا آدمی کر ہی کیا سکتا ہے۔ یہاں تو زندہ رہنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔ مگر پھر خیال آتا ہے کہ ''مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے'' اس لیے جیئے جاتے ہیں۔ جیئے جاتے ہیں یہ دیکھنے اور سننے کو کہ ''بین الاقوامی بکر انعام'' ہمیں نہیں ملا۔ ملا بھی تو کس کو؟ ایک امریکی خاتون کو ، جن کی خوبی محض یہ ہے کہ وہ دو دو تین تین سطروں یا زیادہ سے زیادہ صفحے ڈیڑھ صفحے کی کہانیاں لکھا کرتی ہیںلیکن یہ تو کوئی نئی بات نہیںہے۔ اگر انگریزی میں ہی دیکھا جائے تو ابھی ایک دو سال پہلے تک اخبار گارڈین میں چھوٹے چھوٹے افسانچے یا مختصر ترین افسانے چھپا کرتے تھے۔ فارسی میں آپ شیخ سعدی کی گلستان میں ایسی حکایات پہلے ہی پڑھتے رہے ہیں۔ سعادت حسن منٹو کے ''سیاہ حاشیے'' چند سطروں کے افسانے ہی تو ہیں۔ ان چند سطروں میں منٹو نے جوبات کہہ دی ہے وہ شاید پوری کتاب میں بھی نہ کہی جا سکے۔ اچھا منٹو کو جانے دیجئے اردو میں مختصر افسانے یا افسانچے لکھنے کا رواج تو اتنا پرانا ہو گیا تھا کہ لکھنے والوں نے ان سے ہاتھ ہی کھینچ لیا۔ احسان بی اے اور ایک شیخ صاحب ایسے افسانے لکھتے تھے۔ ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ انگریزی والوں کو تو اس کا علم نہیں ہو گا مگر گارڈین کے چھوٹے افسانے تو ان تک ضرور پہنچے ہوں گے بلکہ منٹو کے ''سیاہ حاشیے'' کا بھی انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے۔
بکر انعام کے منصف حضرات کا فرمانا ہے کہ امریکی خاتون لیڈیا ڈیوس کے ہاں Imaginative Narrative پایا جاتا ہے۔ اس کا ترجمہ آپ ''غیر معمولی تخیلاتی بیانیہ'' کر سکتے ہیں۔ مگر یہ غیر معمولی بیانیہ تو ان باقی نو ناول نگاروں میں سے کئی ایک کے ہاں اس سے بھی زیادہ موجود ہے اور ہم یہ بات ان ناول نگاروں کو پڑھے بغیر نہیں کہہ رہے ہیں۔ آصف فرخی کی مہربانی سے ہم ان کے رسالے ''دنیا زاد'' میں ان دس کے دس ناول نگاروں کی منتخب تحریریں پڑھ چکے ہیں اور سوائے اس کے کہ امریکی خاتون چند سطروں میں بات کرتی ہیں ہمیں ان کے اندر اور کوئی خوبی نظر نہیں آتی اور وہ چند سطروں کی باتیں بھی ہمارے جیسے پڑھنے والوں کے دل و دماغ پر کوئی پائیدار تاثر نہیں چھوڑتیں۔ خود منصفوں نے کہا ہے کہ ''یہ افسانے ہیں یا حکایات، یا پھر ہم انھیں اقوال زریں کی صنف میں شامل کر لیں'' تو پھر انھیں ناولوں اور افسانوں میں شامل کیوں کیا گیا؟ ہندوستان کے اننتھ مورتی نے تو اسی وقت احتجاج بھی کیا تھا لیکن ان کا احتجاج یہ تھا کہ اس مقابلے میں دوسری زبانوں سے انگریزی میں ترجمہ کیے جانے والے ناولوں اور افسانوں کے ساتھ انگریزی میں لکھی جانے والی طبع زاد تحریروں کو شامل کیوں کیا گیا؟ لیکن اس کا جواب تو موجود تھا کہ یہ بین الاقوامی انعام ان ملکوں کے ادیبوں کو دیا جاتاہے جو انگریزوں کی غلامی میں نہیں رہے۔ انگریزوں کی غلامی میں رہنے والوں کو اصل ''مین بکرانعام'' دیا جاتاہے۔ یہ انٹرنیشنل انعام تو پچھلے سال فلپ روتھ کو بھی دیا گیا تھا، جو امریکی ہے۔
ہمیں یہ صدمہ نہیں ہے کہ ہمارے انتظار حسین کو یہ انعام کیوں نہیں ملا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہندوستان کے اننتھ مورتی جیسے دنیا کے اور بھی بہت بڑے ناول نگار اس مقابلے میں موجود تھے، اور وہ سب نظر انداز کر دیے گئے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے ذوق کا قصور ہو، مگر ہمیں تو دوسرے کئی لکھنے والے زیادہ اچھے لگے اور ہمیں اننتھ مورتی کی یہ بات بھی اچھی لگی کہ ''مجھے انتظار حسین کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہونے پر زیادہ خوشی ہے کہ ہم دونوں ہی ثقافتی دوریا ں ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں''۔ اب آپ انعام یافتہ خاتون لیڈیا ڈیوس کی ایک دو کہانیاں بھی پڑھ لیجئے۔ ایک کہانی کا عنوان ہے ''ماں''
لڑکی نے ایک کہانی لکھی۔ ''لیکن کتنا اچھا ہوتا کہ تم ایک ناول لکھو'' اس کی ماں نے کہا۔ لڑکی نے گڑیا کا گھر بنایا۔ ''لیکن کتنا اچھا ہوتا اگر یہ سچ مچ کا گھر ہوتا''۔ اس کی ماں نے کہا۔ لڑکی نے اپنے باپ کے لیے چھوٹا سا تکیہ تیار کیا ''لیکن کیا لحاف زیادہ فائدہ مند نہ ہوتا؟'' اس کی ماں نے کہا۔ لڑکی نے باغیچے میں چھوٹا سا گڑھا کھودا۔ ''لیکن کتنا اچھا ہوتا اگر تم نے بڑا گڑھا کھودا ہوتا''۔ اس کی ماں نے کہا۔ لڑکی نے زیادہ بڑا گڑھا کھودا اور اس میں لیٹ کر سو گئی۔ ''لیکن کتنا اچھا ہوتا اگر تم ہمیشہ کی نیند سو جاتیں''۔ اب دوسری کہانی پڑھ لیجئے۔ عنوان ہے ''مصروف سڑک''۔
میں اب اس سے اتنی مانوس ہو گئی ہوں
کہ جب ٹریفک کا شور تھم جاتاہے
مجھے لگتا ہے کوئی طوفان آنے والا ہے
ایک اور کہانی۔ عنوان ہے ''اپنے جسم کو جاننا''
''اگر تمہارے آنکھوں کی پتلیاں حرکت کر رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے تم سوچ رہے ہو یا سوچنا شروع کرنے والے ہو۔
اگر تم اس مخصوص لمحے میں سوچنا نہیں چاہتے تو کوشش کرو کہ تمہاری آنکھوں کی پتلیاں ساکت رہیں''۔
یہ ہیں ان افسانچوں یا مختصر ترین کہانیوں میں سے چند کہانیاں جو آصف فرخی اور انور رائے نے انگریزی سے ترجمہ کی ہیں۔ یہ کہانیاں پڑھنے لائق تو ہیں۔ پڑھنے میں اچھی بھی لگتی ہیں لیکن کیا یہ بڑا ادب ہے؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ان کے مقابلے میںجو دوسری تحریریں ہم نے پڑھیں ان میں سے کئی ایسی ہیں جو کم سے کم ہمیں تو زیادہ اچھی لگیں۔ انتظار حسین کا ناول ''بستی'' ہی ایک پورے دور کی داستان ہے اور کیا ہولناک داستان ہے۔ خیر، ہم اس بات پر ہی خوش ہو لیتے ہیں کہ پاکستان کے کسی ناول نگار کو اس انعام کے لیے ''دس بڑوں'' میں شامل تو کیا گیا۔ اردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم تو کیا گیا۔ ہم تو وہ تصویر دیکھ کر ہی باغ باغ ہو گئے تھے جو اس انعام کے اعلان سے ایک دن پہلے برطانیہ کے اخباروں میں چھپی۔ ہمارے انتظار حسین دنیا کے دوسرے نو بڑے ادیبوں کے درمیان کھڑے ہیں۔ (بشکریہ: روز نامہ جنگ)
ادبی انعامات ہماری اردو دنیا کے ہوں یا عالمی نوعیت کے ہوں، یہ کبھی بھی میرا مسئلہ یا موضوع نہیں رہے۔ مقامی ،قومی اور بین الاقوامی ، ہر سطح پر جو تعلقات عامہ اور طاقت ور لابی کا بندہ ہوتاہے ، وہ انعام جیت جاتا ہے۔ یہ کوئی چوہا دوڑ نہیں بلکہ ہاتھی دوڑ ہوتی ہے۔ قومی سطح پر نذیر ناجی اور ڈاکٹر ظہور اعوان کے تحریر کردہ ذاتی تجربات پڑھنے کے بعد اس کھیل کی ساری حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ عالمی سطح کے انعامات میں بھی یہی منظر بڑی سطح پر ہوتا ہے۔ میں مقامی نوعیت سے لے کر بین الاقوامی سطح تک کی اس انعامی کھیل سے تھوڑا بہت باخبر تو رہتا ہوں لیکن اسے میں نے کبھی موضوع نہیں بنایا۔
اس برس ''دی مین بُکر پرائز ۲۰۱۳ئ'' کا اعلان ہوا اور اردو کے بعض لکھنے والوں کا اس پر رد عمل سامنے آیا تو اس بُکر پرائز کا سارا منظر نامہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ لگ بھگ، پانچ ماہ پہلے مسعود اشعر کے کالم میں یہ نوید دی گئی کہ اس بار اس انعام کے ٹاپ ٹین میں اردو کے انتظار حسین بھی شامل ہیں۔ کچھ اور کالم نگار ادیبوں نے بھی اس کا چرچا کیا اور بی بی سی کی اردو ویب سائٹ تک سے کام لے کر لابنگ کا عمل جاری رکھا گیا۔ ٹھیک ہے۔ یہ سب اپنی لابی کو مستحکم کرنے کا طریق تھا، اچھا کیا گیا ، لیکن جب مئی ۲۰۱۳ء میں بُکر پرائز کا نتیجہ سامنے آیا، تو امریکی افسانچہ نگار Lydia Davisکے افسانچوں نے بڑے بڑے ناولوں کو ڈھیر کر دیا۔ لیڈیا ڈیوس اس سال کا انعام جیت گئیں۔ اندازہ ہوا کہ ان کی لابی زیادہ مضبوط اور مؤثر
تھی۔ اگر انتظار حسین کی لابنگ زیادہ مضبوط ہوتی تو یقینی طور پر وہ یہ انعام جیت جاتے۔ ایسا نہیں ہوا، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہی بہت ہے کہ وہ اس انعام کے ٹاپ ٹین میں شامل رہے۔
فرانس، اسرائیل، سوئٹزر لینڈ ، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے اہم مصنفین کے نام حتمی فہرست میں شامل تھے۔ یہ ایوارڈ کسی ادیب کی عمر بھر کی تخلیقی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ مصنف یا تو انگریزی زبان میں لکھتا ہو یا پھر اس کا کام انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا ہو۔
اس میں شک نہیں کہ اردو زبان میں ہمارے ہاں صرف عبداللہ حسین، انتظار حسین، بانوقدسیہ، مستنصر حسین تارڑ جیسے بڑے نام ہی موجود نہیں بلکہ ایک پوری کہکشاں ہے، ادیبوں، افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں کی جن کے نام درج کرنے لگیں تو پھر کچھ اور لکھنے کی گنجائش نہیں رہے گی۔ مگر ہمارے ادیبوں کا شاندار کام عالمی سطح پر متعارف ہونے سے اس لیے رہ جاتا ہے کہ ہمارے ہاں اردو ادب کی بہترین کتابوں کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کوئی باقاعدہ سلسلہ موجود نہیں۔ ہمیں اس وقت ضرورت ہے کہ اس سطح کا ایک ادبی ادارہ انگریزی زبان کے حوالے سے قائم ہو۔ انگریزی کے پروفیسرز کی خدمات لی جائیں اور اردو کی کلاسیک اور جدید اردو ادب کی تحریروں کو انگریزی زبان کے قالب میں ڈھالا جائے تاکہ ہمارے ادیب انگریزی ادب پڑھنے والوں کے لیے اجنبی نہ رہیں۔ جیسا کہ اس بار ''مین بُکر انٹرنیشنل پرائز'' کی جیوری نے کیا ہے کہ اس بار فہرست میں موجودہ زیادہ تر ادیب انگریزی زبان و ادب کے قاری کے لیے بالکل نئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ادیبوں کا کام انگریزی زبان میں ڈھل کر جب انگریزی ادب کے قاری تک پہنچے گا تو ہر برس عالمی سطح کے ادبی بورڈز کی لسٹ میں پاکستان کا نام بھی شامل ہو گا۔
پروفیسر ڈاکٹر فرانسس ڈبلیو پر یچت (Francis w.Prichett)کولمبیا یونیورسٹی میں ایشیائی زبانوں کے استاد ہیں۔ انھوں نے ۱۹۹۵ء میں انتظار حسین کے ناول ''بستی'' کو انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ یوں اردو زبان کا ایک باکمال ناول خوبصورت انگریزی میں ڈھل کر دنیا بھر کے انگریزی ادب کے قارئین تک پہنچا۔ ہم تو پروفیسر فرانسس کے شکر گزار ہیں جنھوں نے یہ کام کیا۔ وہ آج کل غالب کی شعری کاوشوں پر تحقیق اور تدوین کے کام میں مصروف ہیں۔اردو زبان میں ایسا قابل قدر کام کرنے والے غیر ملکی پروفیسرز کو سرکاری سطح پر پاکستان بلانا چاہیے اور ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اس مرتبہ مذکورہ ایوارڈ پانے والی خوش نصیب یونیورسٹی ایٹ البانے نیو یارک کی پروفیسر لیڈیاڈیوس ہیں جو تخلیقی نثر نگاری کی استاد ہیں۔ لیڈیاڈیوس مختصر ترین افسانہ نگاری کی بنا پر امریکی ادبی حلقوں میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔(بشکریہ :روزنامہ دنیا)