بھارت: زبانیں اور لسانی پالیسی
ترجمہ و تحقیق: نبلیٰ پیرزادہ

(الف)زبانوں کے مختلف خاندان
(Language Families)
بھارت بے پناہ لسانی تنوع کا خطہ ہے جس میں بولی جانے والی زبانیں اورسیکڑوں بولیاں اور لہجے زبانوںکے مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بولنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے ان میں سب سے بڑا ہند۔یورپی خاندان (Indo-Europian family)ہے۔ جس کی سب سے بڑی نمائندگی اس کی ہند۔آریائی(Indo-Aryan)شاخ (تقریباً ۷۰۰ ملین بولنے والے جو آبادی کا ۶۹% ہیں) او رکچھ نمائندگی فارسی، پرتگالی اور فرانسیسی جیسی اقلیتی زبانوں اور انگریزی بطور رابطہ کی زبان کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ کشمیری اور دیگر داردک(Dardic)ہند۔ایرانی(Indo Iranian)اور مفروضۃً ہند آریائی زبانوں میں گفتگو کرنے والے تقریباً۶ئ۴ ملین افراد بھارت کی کل آبادی کا حصہ ہیں۔
ہند یورپی خاندان کا ارتقاء ''وسطی ہند آریائی پراکرت'' (Middle Indo-Aryan Prakrat)اور وسطی ادوار کی ''اپابھرمسا''(Apabhramsa) کی وساطت سے سنسکرت جیسی قدیم ہند۔آریائی زبان سے ہوا۔ اس بات پر اتفاق رائے موجود نہیں کہ ہندی۔اردو، بنگالی، میراٹھی، گجراتی، سرائیکی، پنجابی، آسامی، سندھی اور اوریائی جیسی شمالی ہند کی جدید زبانیں کس خاص وقت پر نمودار ہوئیں۔ تاہم ۱۰۰۰ء کو عام طور پر قبول عام حاصل ہے۔ ہر زبان پر مختلف اثرات وقوع پذیر ہوئے۔ مثال کے طو رپر ہندی۔اردو (ہندوستانی) نے فارسی کابے پناہ اثر قبول کیا۔
زبانوں کا دوسرا بڑا خاندان، دراوڑی خاندان (Dravidian family)ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد ۲۰۰ ملین سے زائد یا ۲۶% افراد پر مشتمل ہے جبکہ دیگر لسانی خاندانوں میں جن کے بولنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہے، آسٹرو۔ایشیائی(Astro-Asiatic)اور متعدد چھوٹی، تبتی۔ برمی (Tibeto-Burman)زبانیں شامل ہیں جو بالترتیب ۱۰ اور ۶ ملین بولنے والے افراد کا ذریعہ اظہار ہیں اور مجموعی آبادی کا ۵% حصہ ہیں۔
جنوبی ہند کی دراوڑی زبانوں کی، سنسکرت سے ہٹتے ہوئے اپنی ایک علیحدہ تاریخ تھی۔ ان بڑی دراوڑی زبانوں میں تامل، تلگو، کتدا اور ملیالم شامل ہیں تاہم یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ملیالم اور تلگو زبان کے ۸۰% سے زائد الفاظ خالصتاً سنسکرت الفاظ ہیں اور تلگو رسم الخط (Script) متن کی اصل حالت کو ذرہ برابر متاثر یا تبدیل کیے بغیر سنسکرت کی تمام تر صوتیات (phonetics)کو ادا کرنے پر قادر ہے۔ شمالی ہند کی آسٹرو۔ایشیائی اور تبتی۔برمی زبانیں بھی اسی طرح اپنی علیحدہ اور طویل تاریخ رکھتی ہیں۔
جنوبی انڈیمان جزائر (Andaman Islands) کی اونجی (Ongan)زبانیں ایک پانچویں لسانی گروہ کی تشکیل کرتی ہیں۔ ''انڈیمان کی عظیم زبانیں ' ' (Great Andamanese Languages) اب ناپید(extinct)ہو چکی ہیں ماسوائے ایک شدید خطرے سے دوچار، تیزی سے معدوم ہوئی زبان کے ، جس کے بولنے والوں کی تعداد میں بھی روزبروز کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور معلوم ''تنہا زبان''(Language Isolate)بھی ہے جو ''نہالی زبان'' کہلاتی ہے۔ شومپن(Shompen)زبانوں کی موجودگی کی نہ تو تصدیق ہو سکی ہے نہ ہی ان کی کوئی قسم بندی کی گئی ہے جبکہ سنتالی(Santali)سے لوگ مکمل طور پر ناواقف ہیں۔
بھارتی جمہوریہ کی زیادہ تر زبانیں براہمی سے اخذ شدہ رسم الخط جیسا کہ دیونا گری، بنگالی، اوریا، تامل، کانڈا وغیرہ میں لکھی جاتی ہیں تاہم اردو، عربی اور فارسی کے تبدیل شدہ رسم الخط (Perso-Arabic Script)میں تحریر کی جاتی ہے جبکہ سنتالی(Santali)اورچند دیگرچھوٹی چھوٹی زبانوں کا اپنا علیحدہ رسم الخط ہے۔
۱۹۶۱ء میں ہونے والی مردم شماری میں جمہوریہ بھارت میں ۱۶۵۲ زبانوں کی شناخت کی گئی (بشمول ان زبانوں کے جو برصغیر ہند کی مقامی نہیں)۔ ۱۹۹۱ء کی مردم شماری میں ۱۵۷۶ قسم بند(Classified)زبانوں کی شناخت کی گئی ہے جبکہ بھارت میں دنیا بھر کی کل ۶۹۱۲ زندہ زبانوں میں سے ۴۱۵ زندہ زبانیں پائی جاتی ہیں۔۱۹۹۱ء کی اس مردم شماری کے مطابق ۲۲ زبانوں کے دس لاکھ(۰۰۰،۰۰،۱۰) سے زیادہ بولنے والے موجود تھے جبکہ ۵۰ زبانوں کے ایک لاکھ(۰۰۰،۱۰۰) سے زیادہ اور ۱۱۴ زبانوں کے بولنے والے دس ہزار(۰۰۰،۱۰) سے زائد مقامی افراد موجود تھے۔ ۲۰۰۱ء میں ہونے والی تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ۲۹ زبانوں کے بولنے والے دس لاکھ (۰۰۰،۰۰،۱۰) سے زیادہ مقامی افراد ہیں، ۶۰ زبانوں کے ایک لاکھ (۰۰۰،۱۰۰) سے زیادہ جبکہ ۱۲۲ زبانوں کے بولنے والے دس ہزار سے زائد مقامی افراد پائے جاتے ہیں۔
(ب)بھارت کی لسانی پالیسی
بھارت جیسے وسیع و عریض اور کثیر لسانی خطے میں زبان سے متعلق پالیسی خصوصی توجہ کی طالب ہے۔ اس ضمن میں چند بنیادی اہمیت کے شعبوں مثلاً تعلیم، انتظام، عدالتیں، قانون سازی، ذرائع ابلاغ وغیرہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو بھارت کی لسانی پالیسی میں اس لحاظ سے ہمہ جہتی ہے کہ یہ زبانوں کی نشوونمااور زبانوں کی بقا، دونوں پر مرکوز ہے اور اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ زبانوں کے بڑے یا چھوٹے ہونے سے قطع نظر ہر زبان کے بولنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اپنی مادری زبان کو اظہار کا وسیلہ بناتے ہوئے ہر شعبہ میں اس کا مؤثر استعمال کر سکیں۔ بھارت میں بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کی بنا پر عوام میں اپنی مقامی زبانوں کے تحفظ اور بقا کا تصور بہت مضبوط ہے اور بھارت کی لسانی پالیسی اس ضمن میں بھرپور گنجائش فراہم کرتی ہے کہ ہر زبان کو آزادی کے ساتھ پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے۔ درج ذیل ۶ نکات مذکورہ پالیسی کے عملی اطلاق کی وضاحت کرتے ہیں۔
۱۔لسانی اجتماع (Language Clustering)
بھارتی آئین نے چودہ زبانوں آسامی (Assamese)، بنگالی(Bengali)، گجراتی(Gujrati)، ہندی(Hindi)، کانڈا(Kannada)، کشمیری، (Kashmiri)،ملیالم(Malyalam)، میراٹھی (Marathi)،اوڑیا(Oriya)، پنجابی (Punjabi)، سنسکرت (Sanskrit)، تامل (Tamil)، تلگو (Telugo)اور اردو(Urdu)کو ۱۹۵۰ء میں اپنے آٹھویں شیڈول (Eighth Schedule) میں درج کیا۔ اُس وقت سے اب تک اس فہرست کو تین باروسعت دی جا چکی ہے۔ پہلی بار سندھی (Sindhi)کو شامل کرنے کے لیے، ایک اور مرتبہ کو نکنی (Konkani)، مانی پوری (Manipuri)اور نیپالی (Nepali)شامل کرنے کے لیے اور تیسری بار سنتھالی (Santhali)،بودو(Bodo)،متھیلی(Maithili)اور ڈوگری(Dogri) شامل کرنے کے لیے۔ بھارتی آئین کی ایک ۱۰۰ویں (100th) ترمیم جس کے ذریعے آٹھویں شیڈول میں مندرجہ بالا چار زبانوں سبتھالی، بودو، ڈوگری اور متھیلی کا اضافہ کیا گیا، کو تمام ۳۳۸ ممبران کی حمایت حاصل تھی۔ نیز ۳۳ مزید زبانوں کو شامل کیے جانے کا معاملہ زیر غور ہے۔ آٹھویں شیڈول کی یہ فہرست کسی طور حتمی نہیں اور مختلف زبانوں کے فوائد حاصل کرنے کے ایک مؤثر ذریعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسا کہ ایک مرتبہ جب کوئی زبان اس فہرست میں شامل ہوجاتی ہے تو اس کا مقام فوری طور پر تبدیل ہو جاتا ہے اور اسے جدید بھارتی زبان (Modren Indian Language[MIL])یا شیڈول زبان (Scheduled Language)کہہ کر پکارا جانے لگتا ہے۔بھارتی آئین کا آٹھواں شیڈول زبان کی پالیسی کے حوالے سے سب سے اہم دستاویز ہے۔ جو ہزاروں لکھی اور نہ لکھی جانے والی زبانوں کا دو بڑے حصوں، شیڈول (Schedule)اور غیر شیڈول زبانوں (Non-scheduled language) کی صورت میں اجتماع کرتا ہے۔ گو تاریخی طور پر تو ان ہندوستانی زبانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں تاہم ''آٹھویں شیڈول'' میں شامل زبانوں کو غیر شیڈول زبانوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور زبان کی نشوونما سے متعلق کسی بھی سرگرمی کے لیے انھیں پہلے زیر غور لایا جاتا ہے اور زبان کے حوالے سے تمام تر سہولیات خاص طو رپر ٹیکنالوجی کو زبان میں ضم کرنے کے حوالے سے حکومت کے حوصلہ افزا اقدامات (Technology Development in Indian Languages [TDIL])بھی فی الحال انہی زبانوں تک محدود ہیں۔
ایک دوسری قسم کا اجتماع (Clustering)مادری زبان کی سطح پر زبانوں کے بننے سے عمل میں آتا ہے۔ اگرچہ کہ مردم شماری کا دفتر (Census Office)۱۱۴زبانوں کی شناخت کرتا ہے تاہم ان میں سے بہت سی صرف ایک انفرادی زبان نہیں بلکہ بالترتیب بہت سی مادری زبانوں اور بولیوں کا مجموعہ ہیں۔ زبان کے مختلف گروہوں کی تشکیل اس وقت ہوتی ہے جب بہت سی مختلف مادری زبانیں بولنے والے اُس ایک چھت کے نیچے جمع ہوتے ہیں جسے ''زبان'' کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ''ہندی'' جسے ایک زبان کہا جاتا ہے: ۴۵ سے زیادہ ''مادری زبانو'ں کا اجتماع (cluster)ہے جس میں بھوج پوری (Bhojpuri)، مگدھی(Magadhi)، میتھیلی(Maithili)، مارواڑی (Marwari)، راجستھانی (Rajisthani)، صدری (Sadri) وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
۲۔مادری زبان کا نظریہ(Notion of Mother Tongue)
مادری زبان (Mother Tongue)کے نظریے کو بھارتی آئین میں بہت اہمیت حاصل ہے جیسا کہ ذریعہ تعلیم سے متعلق فیصلوں اور سرکاری زبانوں جیسے بہت سے امور سے متعلق حکومتی پالیسی کا دارومدار اس نظریہ کی توضیح پر ہے۔ اس ضمن میں وہ سب سے پہلا سوال جو کسی بھی کثیر لسانی معاشرے میں زبان کی پالیسی کے حوالے سے ذہن میں آتا ہے، یہ ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جنھیںکسی بھی جگہ کے شہریوں کی مادری زبان کی تشکیل کرنی چاہیے۔ خود مختار بھارت میں تعلیمی مقاصد کے لیے اس سوال کا سب سے پہلا جواب ''صوبائی وزرائے تعلیم کی قرار دار (۱۹۴۹)'' (Provincial Education Ministers Resolution)اور مرکزی مشاورتی بورڈ برائے تعلیم (Central Advisory Board of Education)کے توثیق شدہ بیان میں دیا گیا جس کے مطابق ''مادری زبان وہ زبان ہو گی جسے ماں باپ یا پرورش کرنے والا (Guardian)مادری زبان قرار دے''۔
۲۰۰۱ء کی سب سے حالیہ مردم شماری میں مادری زبان کی تعریف ایسی زبان کے طور پر کی گئی ہے جو کسی فرد کی ماں بچپن میں اس کے ساتھ گفتگو کے لیے استعمال کرتی تھی۔ اگر ماں موجود نہ ہو تو شمار کنندہ کو اس زبان کا بطور ''مادری زبان'' اندراج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں گھر کے بیشتر افراد گفتگو کرتے ہیں۔ بہت چھوٹے بچوں یا گونگے ، بہرے اور معذور افراد یا بچوں کی صورت میں اُس زبان کو ہی مادری زبان سمجھا جائے گا جس میں متعلقہ شخص یا بچے کی ماں گفتگو کرتی ہے۔ مذکورہ مردم شماری میں اس امر کو تسلیم کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے کہ مختلف لسانی (Ethnic)پس منظر سے تعلق رکھنے کے باعث ایک ہی خاندان کے افراد کی مختلف مادری زبانیں بھی ہو سکتی ہیں۔ بھارت کی عدلیہ نے بھی بحث و تمحیص کے بعد مادری زبان کے حوالے سے متعدد احکامات جاری کیے ہیں۔ اس ضمن میں مدراس کی ہائی کورٹ کے ۲۰۰۰ء کے صادر کیے گئے فیصلے ۱؎ میں کہا گیا کہ ''ان مقدمات کے حوالے سے کسی بچے کی مادری زبان ، اسی زبان کو سمجھا جانا چاہیے جس سے وہ سب سے زیادہ روشناس ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مادری زبان، ماں کی زبان یا باپ کی زبان ہو۔ عام طو رپر والدین اس بات کا اندازہ قائم کرنے کے لیے موزوں ترین افراد ہیں کہ وہ کون سی زبان ہے جس سے بچہ سب سے زیادہ شناسا ہے''۔
بھارت میں مختلف ریاستوں اور ملک کی مجموعی کثیر لسانی صورت (Multilingual nature)کے سبب عدلیہ نے ثانوی مادری زبان (Second Mother tougue) کے نظریہ کو بھی متعارف کروایا ہے اور اس ضمن میں احکامات جاری کیے ہیں۔ مثال کے طو رپر کرناٹک (Karnataka) کی ہائی کورٹ نے ذریعہ تعلیم کے لیے زبان اختیار کرنے کے حوالے سے ''کانڈا''(Kannada)زبان کو تُو لو(Tulu) اور (Kodagu)مادری زبانیں بولنے والوں کے لیے ''ثانوی مادری زبان قرار دیا ہے جیسا کہ وہ کرناٹک میں مقامی کا درجہ رکھتے ہیں۔
۳۔انتظام(Administration)
ہرقوم تاریخی طور پر نشوونما کے ایک ارتقائی عمل سے گزرتی ہے۔ انتظام کی زبان کو بھی ان مراحل سے استثنیٰ حاصل نہیں۔ چنانچہ ان زبانوں کے بارے جاننا ضروری ہوتا ہے جنھیں کسی ملک کے حکمرانوں نے اپنے خطے کے انتظام کے لیے استعمال کیا۔ بھارت کے بہت سے حکمرانوں نے ایسے علاقوں پر حکومت کی جہاں ان کی رعایا ایک سے زیادہ زبانیں بولتی تھی بلکہ اکثراوقات تو بادشاہ کی زبان ان تمام زبانوں سے مختلف ہوتی تھی جنھیں اس کی رعایا بول چال کے لیے استعمال کرتی تھی۔ تاہم تاریخی طور پر یہ بھی درست ہے کہ رعایا کی زبان یا زبانوں اور اس زبان کے مابین ہمیشہ مطابقت رہی ہے جس کے ذریعے ان پر حکومت کی جاتی تھی۔ اگرچہ کہ ایسی صورت بارہا دیکھنے کو ملتی ہے جب صرف ایک زبان کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا تاہم ایسا بہت کم ہوا کہ ایک زبان تمام ترحکومتی نظم و نسق کے لیے رابطے کی زبان ہو۔ سرکاری زبان کا زیادہ استعمال قوانین وضع کرنے اور حکومتی نظام کا دیگر اندرونی سرگرمیوں تک محدود تھا تاہم عملی اقدامات کے حوالے سے عوام سے رابطے کے لیے متعلقہ مقامی زبانوں کو ہی فوقیت دی جاتی تھی چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سرکاری زبان اور سرکاری انتظام کو چلانے کے لیے استعمال کی جانے والی زبانوں میں فرق پایا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر اگرچہ آندھرا پردیش کا ۱۹۶۶ء کا سرکاری زبان کا قانون (Official Langauge Act 1966)متعلقہ علاقے میں تِلگو (Telugu) کو سرکاری زبان تسلیم کرتا ہے تاہم مخصوص علاقوں اور خاص حالات میں انتظامی سرگرمیوں کو چلانے کے لیے انگریزی، اردو، تامل، کانڈا اور اوریا کے استعمال کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ چنانچہ آندھرا پردیش میں انتظامی مقاصد کے لیے مذکورہ زبانیں استعمال کی جاتی ہیں گو تلگو یہاں کی واحد سرکاری زبان ہے۔ بھارت کی لسانی پالیسی بولنے والوں کی سہولت اور مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے کسی بھی مخصوص ریاست میں اسی طرز پر کثیر لسانی کی حوصلہ افزائی اور احترام کرتی ہے۔ تاہم بھارت کے آئین کے آٹھویں شیڈول کے مطابق اس وقت ۲۲ زبانوںکو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔
۴۔تعلیم(Education)
بھارت کے آئین کی رو سے ۱۴ سال تک کے بچوں کے لیے تعلیم مفت اور لازمی ہے البتہ آئین میں اس حوالے سے کوئی صراحت موجود نہیں کہ کن زبانوں کی تعلیم دی جائے گی اور وہ کون سی زبانیں ہوں گی جنھیں درس و تدریس میں بطور ذریعہ تعلیم اختیار کیا جائے گا۔ تاہم اس امر میں یہ حکمت عملی بھی پوشیدہ ہو سکتی ہے کہ بھارت جیسے کثیر لسانی ملک میں صرف چند زبانوں کا ممتاز کیا جانا بھارت کی آزاد جمہوری حیثیت کو متنازعہ بنانے کا باعث نہ بنے۔
آل انڈیا کونسل برائے تعلیم (All India Council for Education) نے ۱۹۵۶ء میں تعلیم کے حوالے سے ''سہ لسانی فارمولے (Three Language Formula [TLF])کو اپنانے کی تجویز دی۔ اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ۱۹۶۸ء کی تعلیمی پالیسی میں یہ سہ لسانی فارمولا شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس میں تین زبانوں کی تدریس شامل ہے۔ ہندی بولنے والی ریاستوں میں ہندی کے علاوہ کوئی سی جدید انڈین زبان یا ماڈرن انڈین لینگویج (MIL)جس میں جنوبی ہند کی زبانوں کو فوقیت دی جائے گی۔ علاوہ ازین ہندی اور انگریزی کی تعلیم دی جائے گی۔ ان ریاستوں میں جہاں ہندی مقامی زبان نہیں ہے وہاں ہندی، انگریزی اور متعلقہ علاقائی زبان کی تدریس کی جائے گی۔
یکم جنوری ۲۰۰۰ء میں جاری کی گئی ایک دستاویز بعنوان The National Curriculum Framework for School Education: A Discussion Document میںسہ لسانی فارمولے (TLF)کا جائزہ لیتے ہوئے درج ہے:
''بہت سی ریاستوں، اداروں اور بورڈ میں اس فارمولا کا اصل روح کے مطابق اطلاق نہیں کیا گیا اور لوگوں کی مادری زبان کو اولین زبان(First Language)کے رتبے سے محروم رکھا گیا ہے… چونکہ بدلتے ہوئے معاشرتی۔اقتصادی تناظر (Socio-Economic Scenario)میں دوسری (ثانوی) اور تیسری زبان کا فاصلہ سمٹ گیا ہے۔ چنانچہ تمام مقاصد اور مواقع کے استعمال کے لیے حقیقتاً دو ثانوی زبانیں ہو سکتی ہیں۔ بعض ریاستیں صرف ایک ذولسانی فارمولا (Two Language Formula)پر عمل کرتی ہیں جبکہ بعض میں ''جدید انڈین زبان'' کی جگہ سنسکرت اور عربی جیسی کلاسیکی زبانیں پڑھائی جا رہی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض بورڈوں اور اداروں میں ہندی کی بجائے فرانسیسی اور جرمن جیسی یورپی زبانوں کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت بھی ہے۔ اس پس منظر میں سہ لسانی فارمولا کا وجود صرف ہماری نصابی دستاویزات اور دیگر پالیسی اعلانات تک ہی محدود ہے…''
جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جا چکاہے مندرجہ بالا دستاویز کے مطابق سہ لسانی فارمولا میں درج ذیل تین زبانیں شامل ہیں:(i) گھریلو زبان / علاقائی زبان۔(ii) انگریزی زبان (iii)ہندی بول چال نہ رکھنے والی ریاستوں میں ہندی زبان اور ہندی بول چال والی ریاستوں میں کوئی سی جدید انڈین زبان۔
مادری زبان اور دیگر مختلف زبانوں میں تعلیم کے میدان میں مندرجہ بالا تمام امکانات کے حوالے سے چھٹے ''آل انڈیا ایجوکیشن سروے'' کی رو سے سکول کی سطح پر پڑھائی جانے والی ۴۱ زبانوں کی شناخت کی گئی ہے جن میں سے ۱۹ کو مختلف سطحوں پر بطور ذریعہ تعلیم استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم جوں جوں طلباء تعلیم کے اعلیٰ مدارج میں پہنچتے ہیں، مطالعے کے لیے دستیاب اور ذریعہ تعلیم، دونوں حوالوں سے زبانوں کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور تکنیکی اور انتظامی تعلیم کے لیے صرف انگریزی ہی بطو رذریعہ تعلیم استعمال کی جاتی ہے۔
سکول میں پڑھائی جانے والی اور ذریعہ تعلیم کی زبانیں
(School Languages and Medium of Instruction)

Limboo

Angami

Lotha

Ao
ملیالم
Malayalam
عربی
Arabic
مانی پوری
Manipuri
آسامی
Assamese
میراٹھی
Marathi
بنگالی
Bengali
متھیلی
Maithili

Bhutia

Mizo
بودو
Bodo
نیپالی
Nepali
ڈوگری
Dogri

Nicobaree
انگریزی
English
اوڑیا
Oriya
فرانسیسی
French
فارسی
Persian

Garo
پرتگالی
Portuguese
گجراتی
Gujarati
پنجابی
Punjabi
ہندی
Hindi
سنسکرت
Sanskrit

Kakhbarak

Sema
کانڈا
Kannada
تامل
Tamil
کشمیری
Kashmiri
تلگو
Telugu

Khasi
تبتی
Tibetan
کونکنی
Konkani
اردو
Urdu

Konyak

Zeliang
لداخی
Laddakhi

 

Lepcha
۵۔ مطبوعہ صحافت (Print Media)
پرنٹ میڈیا کے حوالے سے زبان کے متعلق تشکیل دی جانے والی پالیسی کا دارومدار اس امر پر ہے کہ ایک مخصوص خطے یا علاقے کے لوگ کس زبان میں خبریں اور دیگر معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں کسی بھی زبان ، بولی یا رسم الخط میں اخبار جاری کرنے پر پابندی نہیں ہے۔ بھارت میں مطبوعہ صحافت کا آغاز ۱۷۸۰ء میں ہوا جس کے بعد سے اب تک اس میں ایک تواتر کے ساتھ بے پناہ ترقی ہوئی ہے۔ ۲۰۰۲ء میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق بھارت میں ۱۰۱ مختلف زبانوں اور بولیوں میںاخبار اور رسائل شائع کیے جاتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

Lakhar-Mara
اہیرانی
Ahirani
لاطینی
Latin
اَنال
Anal

Lushai

Angami Naga
مگہی
Magahi
اَنکا
Angika
متھیلی
Maithili
اینگلو
Anglo
ملیالم
Malayalam
عربی
Arabic
مانی پوری
Manipuri
اَسامی
Assamese
میراٹھی
Marathi
بنجارا
Banjara
مارواڑی
Marwari
بنگالی
Bangali

Meetelion
بھوج پوری
Bhojpuri

Mikir

Biate

Mising
بہاری
Bihari

Mizo Lushai
ذولسانی
Bilingual
کثیر لسانی
Multi Lingual
بشنو پیریا
Bishnupriya

Muridari
بودو
Bodo
نانگا
Nagaa
برمی
Burmese
نیپالی
Nepali
چکما
Chakma
نکوباری
Nicobari
چھاتس گرگی
Chhatisgarghi
اوڑیا
Oriya
چینی
Chinese
پہاڑی
Pahari
ڈوگری
Dogri
پالی
Pali
انگریزی
English
فارسی
Persian
اسپرانتو
Esperanto

Piate
فینی
Finish

Piate-Pau
فرانسیسی
French

Pitalri

Ganje
پرتگالی
Portuguese

Garhwali
پنجابی
Punjabi
گارو
Garo
پشتو
Pushto

Gaundi
راجستھانی
Rajasthani
جرمن
German

Rongamei

Goani
روسی
Russian
گور کھالی نیپالی
Gorkhali Nepali
سنسکرت
Sanskrit
یونانی
Greek
سنتھالی
Santhali
گجراتی
Gujarathi
سورا شٹر (انڈونیشی)
Saurashtra
حلبی
Halbi

Simite

Haruti
سندھی
Sindhi
ہریانوی
Haryanvi
سنہالی
Sinhali
ہما چلی
Himachali
سرائیکی
Sirayaki
ہندی
Hindi
ہسپانوی
Spanish
فارسی۔ ہندوستانی
Hindustani-
Persian
سواہلی
Swahili

Hmar

Syryn
انڈونیشی
Indonesia
تامل
Tamil
اطالوی
Italian
تلگو
Telugu

Jaintal

Thadou-Kuki

Kabur

Thandon
کنٹری
Kanarese

Thankhul Naga
کانڈا
Kannada
تبتی
Tibetan
کشمیری
Kashmiri

Tiddinchin

Khasi

Tripuri

Koch- Rajbanshi
تولُو
Tulu

Kodava
اردو
Urdu

Kokborok

Vaiphei
کونکنی
Konkani
یوگوسلاوی
Yugaslavia

Koshli-Oriya

Zemi Naga
کوکی
Kuki

Zokan

Kumauni

 

Kurbi
جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں، بہت سی غیر ملکی زبانیں بھی اس فہرست کا حصہ ہیں تاہم کسی بھی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات کی تعداد کے اعتبار سے ہندی سر فہرست ہے، جس میں ۲۵۰۷، اردو میں ۵۳۴، انگریزی میں ۴۰۷، میراٹھی میں ۳۹۵، تامل میں ۳۹۵، کانڈا میں ۳۶۴، ملیالم میں ۲۲۵، تلگو میں ۱۸۰، گجراتی میں ۱۵۹، پنجابی میں ۱۰۷ اور بنگالی میں ۱۰۳ اخبار شائع ہوتے ہیں۔
۶۔ سرکاری زبانیں(Official Langauges)
بھارتی جمہوریہ کی سرکاری زبانیں معیاری ہندی (Standard Hindi) اور انگریزی ہیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل(۱) ۳۴۳ کے مطابق ۱؎ ''متحدہ بھارت کی سرکاری زبان دیوناگری رسم الخط میں ہندی ہو گی''۔ ریاستوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے، انفرادی طو رپر اپنی اپنی سرکاری زبانیں مقرر کر لیں۔ مثال کے طور پر مہاراشٹر (Maharashtra) میں میراٹھی(Marathi) واحد سرکاری زبان ہے، آندھرا پردیش میں ''تلگو''(Telugu)واحد سرکاری زبان ہے اور کرناٹک (Karnataka) کی ریاست میں ''کانڈا''(Kannada)واحد سرکاری زبان ہے جبکہ ریاست جموں کشمیر میں ''کشمیری'' (Kashmiri) ''اردو''(Urdu)اور ''ڈوگری''(Dogri) سرکاری زبانیں ہیں۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل (۱) ۳۴۳ اس بات کی گنجائش فراہم کرتا ہے کہ کسی مخصوص ریاست میں ضروری قانون سازی کے بعدمعیاری ہندی یا کسی دیگر زبان کی بطور سرکاری زبان شناخت ہو سکے۔ ۱۹۶۷ء میں آئین کی ۲۱ ویں ترمیم سے پہلے بھارت میں ۱۴سرکاری علاقائی زبانوں (Official Regional Languages)کو تسلیم کیا جاتا تھا۔ آئین کے آٹھویں شیڈول اور ۷۱ ویں ترمیم کے ذریعے ان میں ''سندھی'' (Sindhi)، کونکنی(Konkani)، ''مانی پوری''(Manipuri) اور ''نیپالی''(Nepali)کا اضافہ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرکاری علاقائی زبانوں کی تعداد بڑھ کر ۱۸ ہو گئی۔ اگرچہ ''سرکاری زبان'' کا درجہ پانے والی زبانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اب بھی چند ایسی زبانیں ہیں جن کے بولنے والوں کی کثیر تعداد کے باوجود انھیں یہ رتبہ نہیں مل سکا۔ ان میں سب سے بڑی ''بھیلی'' (Bhili) زبان ہے جس کے تقریباً ۶ئ۹ملین بولنے والے موجود ہیں۔ اس کے بعد گوندی (Gondi)کا درجہ آتاہے (اٹھارہویں نمبر پر) جو تقریباً ۷ئ۲ملین لوگوں کی زبان ہے۔ تاہم اس کے برعکس دو ایسی زبانیں بھی ہیں جو محض سیاسی وجوہ کی بنا پر آٹھویں شیڈول میں شامل کی گئی ہیں لیکن جن کے بولنے والے مقامی افراد کی تعداد ۲ ملین سے بھی کم ہے۔ ان زبانوں میں مانی پوری (Manipuri)جس کے ۵ئ۱ ملین بولنے والے ہیں (۲۵ ویں نمبر پر) اور بوڈو (Bodo) جس کے ۴ئ۱ ملین بولنے والے ہیں (۲۶ ویں نمبر پر) سر فہرست ہیں۔ ثقافتی اور تاریخی وجوہ کی بنا پر سنسکرت بھی سرکاری شیڈول پر موجود ہے گو صرف ۱۴ ہزار لوگ اسے اپنی زبان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم سکولوں اور کالجوں میں طالب علموں کی ایک کثیر تعداد ایک کلاسیکی زبان کے طو رپر اس کو پڑھتی اور سیکھتی ہے۔
دور حاضر میں بھارتی آئین کے مئی ۲۰۰۸ء کے آٹھویں شیڈول کے مطابق انگریزی کے علاوہ ۲۲ زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔مختصر یہ کہ ہم بجا طو رپر کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کی لسانی پالیسی، زبانوں کی کثرت کی حفاظت اور بقا کی پالیسی ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق ''اگرچہ کہ دنیا کے طول و عرض پر بولی جانے والی اندازاً ۶۰۰۰ زبانوں میں سے تقریباً نصف اس وقت معدوم ہو رہی ہیں یا معدوم ہونے کے خطرے سے دو چار ہیں۔ تاہم یہ بات قابل ستائش ہے کہ اس تناظر میں بھی حکومت کی کامیاب اور درست پالیسیوں کی بنا پر بھارت نے اپنے اس بے پناہ لسانی تنوع کو قائم اور محفوظ رکھا ہے''۔
حوالہ جات:
1. Wikipedia
2. Comrie, Bernard. (Edited), The World's Major Languages, 1987, Croom Helm Ltd, London & Sydney.
3. Crystal, David. The Cambridge Encylopedia of Language., 1988, Cambridge University press, Cambridge, New York Melborne & Sydney.