کتاب میلہ

بارود کی کہانی یا کہانی میں بارود از: تہمینہ درانی
دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسی بہت سی کہانیاں اور ناول لکھے گئے جن میں جنگ کی بدترین چڑیلی ہولناکیاں دکھائی گئیں۔ چونکہ دوسری جنگ عظیم کا "مظلوم ہیرو" امریکہ تھا لہٰذا زیادہ تر کہانیوں کے ولن نازی تھے۔ لٹریچر نے اپنا سفر جاری رکھا اور ویت نام کی جنگ کے بعد بھی ایسا بہت کچھ لکھا گیا مگر اِس مرتبہ پرانا "مظلوم ہیرو" اب "بھوت ولن" تھا۔ امریکیوں کے ویت نامیوں پر برسات کی طرح برسائے جانے والے قہر کی داستانیں دنیائے ادب میں اپنا ایک نمایاں مقام بنا گئیں۔ اس کے بعد جنگ رکی نہیں بلکہ اپنی جگہ اور شکل تبدیل کر گئی۔ لٹریچر بھی نہیں رکا مگر کچھ بے خبر اور مفادی ہو گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ آنے والی جنگیں یورپ اور غیرمسلمان ملکوں کی بجائے مسلمان ملکوں میں لڑی جانی تھیں۔ جنگ کو نئی شکل دے کر کچھ ایسی حکمت عملی تیار کی گئی تھی کہ بڑی طاقتوں کا کاروبار بھی چلے اور پائوں بھی زخمی نہ ہوں۔ یعنی مسلمان ممالک میں میدان جنگ سجانے کے لئے زیادہ تر افرادی قوت انہی مسلمان ملکوں سے لی جائے جو آپس میں ایک دوسرے کو دشمن قرار دے دیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے بچے کھیل میں دو ٹیموں میں تقسیم ہو جاتے ہیں مگر یہ کھیل بچوں کا نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کا خونی کھیل تھا جس میں وہ اپنا خوب اسلحہ بیچیں اور مفادات اٹھائیں لیکن دوسری جنگ عظیم اور ویت نام کی طرح زخمی یا مرنے والوں میں شامل نہ ہوں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے ہر شعبے پر بڑی طاقتوں کا قبضہ قائم کر دیا گیا۔ لٹریچر اور اس کے موضوعات پر بھی انہی طاقتوں کے پنجے گاڑ دیئے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تیس چالیس برسوں میں مسلمان ممالک میں لڑی جانے والی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بارے میں دوسری جنگ عظیم اور ویت نام کی طرح کا کوئی خاص انٹرنیشنل لٹریچر نہیں لکھا گیا۔ انٹرنیشنل لٹریچر کی بے خبری کے اس دور میں بدترین چڑیلی اثرات رکھنے والی جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ یہ جنگ شاید اپنی نوعیت کی اب تک کی دنیا کی واحد جنگ ہے جس میں 4دہائیوں کے دوران دوست اور دشمن اپنی اپنی جگہ بدلتے رہے ہیں۔ کبھی جو پہلے دوست ہوتا تھا وہ بعد میں دشمن بن جاتا اور پہلے والا دشمن دوست کہلاتا۔ اس جنگ کو نئی تکنیک اور حکمت عملی کے ذریعے اتنا کنفیوز بنادیا گیا کہ نہ کوئی ہیرو بن سکے اور نہ کوئی مظلوم۔ کسی کو کچھ معلوم نہ ہو کہ اُن کا اپنا کون ہے اور پرایا کون۔ جیسے کسی گھر میں ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچے رہتے ہوں مگر وہاں اس حد تک بدبختی آجائے کہ باری باری سب ایک دوسرے کے جانی دشمن بنتے رہیں۔ افغانستان میں جنگ مفاد پرستی اور کاروبار کے لئے تھی جس کی "اونر شپ" پہلے دو بڑی طاقتوں اور اب مغرب کے پاس ہے مگر جنگ کی "خونی شپ" صرف افغان لوگوں کی قسمت میں لکھ دی گئی۔ اس پر بھیانک ظلم کہ افغانستان کے حقیقی خونی مناظر کو دنیا کے لٹریچر کی آنکھ سے بھی اوجھل کردیا گیا۔ اگر کچھ لکھا گیا یا فلمیں بنائی گئیں تو وہ انہی طاقتوں کی مفاد پرستی اور کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لئے بنائی گئیں۔ لہٰذا کسی ایسی مضبوط تحریر کی ضرورت تھی جو کسی حد تک دنیا کو افغانستان کی جنگ کے سچے جہنمی اثرات کے مناظر دکھا سکے۔ اس تحریر کے لئے جہاں ایک معروف نام کی ضرورت تھی وہیں تحریر کا اچھا ہونا بھی ضروری تھا۔ جب تہمینہ درانی کی Happy Things in Sorrow Times کتاب سامنے آئی تو وہ مندرجہ بالا معیار پر پوری اتری کیونکہ تہمینہ درانی اس سے قبل "My Feudal Lord" سے اتنی شہرت حاصل کر چکی تھیں کہ بین الاقوامی قارئین اور تجزیہ نگار انہیں اچھی طرح پہچاننے لگے تھے۔ تہمینہ درانی کی یہ تازہ کتاب ایک ناول کے طور پر جانی جارہی ہے۔ اس میں تہمینہ درانی کے وہ حقیقی مشاہدات اور تجربات بھی شامل ہیں جو انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے مہاجر کیمپوں میں براہ راست حاصل کئے۔ بنیادی طور پر اس کہانی کا پلاٹ اس معصوم لڑکی کے گرد گھومتا ہے جس کے ماں باپ اور بہن بھائی سوویت یونین کی جنگ میں مارے گئے۔ اِس کے بعد اُس لڑکی کی زندگی زمینی جہنم کی بدترین درجے کی زندگی سے بدترین ہوتی گئی مگر وہ اپنی امیدوں اور یادوں کے سہارے جنت کی ٹھنڈی ہوا لے کر راستے کی اگلی آگ میں چلنے لگتی۔ ناول ریڈر کو جہاں لرزا دیتا ہے وہیں رلا بھی سکتا ہے لیکن مفادی اور کاروباری اونرز اِن تحریروں سے کب کانپیں گے؟ تہمینہ درانی کی مذکورہ کتاب کے Audienceشاید پاکستان اور افغانستان کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اس کتاب کا اصل ٹارگٹ یورپ اور امریکہ ہے کیونکہ پہلی بات یہ کہ اس ناول کو انگریزی میں تحریر کیا گیا جو پاکستان اور افغانستان جیسے ملکوں میں کم سمجھی جاتی ہے اور ان کم سمجھنے والوں میں بھی بہت کم لوگ کسی انگریزی تحریر سے مکمل طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ تہمینہ درانی نے مغرب کو اپنی تحریر کی طرف متوجہ کرنے کے لئے شاید یہ کوشش دانستہ کی ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری اس جنگ کی ہولناکیوں سے افغانستان خاص طور پر اور پاکستان کسی حد تک اتنا متاثر ہو چکا ہے کہ ناول میں بیان کی گئی Miseries سے یہاں کے عام لوگ شاید زیادہ متاثر نہ ہوں کیونکہ وہ وہی تو ہیں جو خودکش حملوں اور ڈرون حملوں میں براہ راست زندہ ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تہمینہ درانی کا یہ ناول بچوں کے ناول Alice's Adventures in Wonderland سے ملتا جلتا ایک ناول ہے جس میں مرکزی کردار ایک لڑکی کا ہے لیکن یہ تبصرہ درست نہیں ہے کیونکہ اُس ناول میں لڑکی خرگوش کے گھر میں داخل ہو کر کسی خیالی دنیا میں چلی جاتی ہے مگر اُس کہانی میں جنگ کی ہولناکیوں کا کہیں ذکر نہیں جبکہ تہمینہ درانی کے ناول میں موجود مرکزی کردار والی لڑکی "بسرابعہ" اُس طرح کی خیالی دنیا میں جانے کی بجائے جنگ کی ہولناکیوں کو اپنے اوپر برداشت کرکے اور اُن میں زندہ رہ کر اپنی یادوں کو مستقبل سے جوڑ کر جوان ہوتا دیکھنا چاہتی ہے۔ البتہ تہمینہ درانی کے ناول Happy Things in Sorrow Times کے عنوان کے الفاظ ویت نامی جنگ پر لکھے جانے والے دو ناولوں The Sorrow of War اور The Things They Carried سے کچھ ملتے ہیں جبکہ اِ ن میں سے The Sorrow of War کی کہانی صرف اس حد تک تہمینہ درانی کے ناول سے ملتی ہے کہ ایک ویت نامی سپاہی ویت نامی جنگ کے بعد مرے ہوئے انسانوں اور جانوروں کی ہڈیوں اور گوشت ٹھکانے لگانے کے مشن پر جاتا ہے اور ناول کے اندر ہی ایک ناول کی صورت میں جنگ کی ہولناکیاں تحریر کرتا ہے۔ جب ناول کے اندر کا ناول مکمل ہونے لگتا ہے تو وہ سپاہی اسے جلانے کی کوشش کرتا ہے مگر اس کی دوست "گونگی لڑکی" اس ناول کو بچا لیتی ہے۔ اِن سب سے بڑھ کر تہمینہ درانی کا ناول دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے سامنے آنے والے Anne Frank کے شہرہ آفاق اور انعام یافتہ ناول The Diary of a Young Girl کے زیادہ قریب ہے جو کہ ایک سچی آپ بیتی ہے۔ اس ناول میں لکھا گیا ہے کہ ایک کم سن لڑکی نازی سپاہیوں کی بربریت سے بچنے کے لئے مختلف جگہوں پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ چھپتی پھرتی ہے مگر اس لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو پناہ دینے والے ہی مخبری کر دیتے ہیں۔ اس طرح وہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ نازی ٹارچر کیمپوں میں پہنچا دیئے جاتے ہیں جہاں انسانیت سوز واقعات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ تقریباً 2سال بعد جب جنگ کے اختتام پر ان قیدیوں کی رہائی کا وقت آتا ہے تو ایک اور ٹریجڈی جنم لیتی ہے۔ وہ یہ کہ رہائی سے صرف 2 ہفتے قبل وہ لڑکی تشدد اور بیماریوں کے باعث مر جاتی ہے۔ بعد ازاں اس کے ہاتھ کی لکھی یہی ڈائری شائع ہوتی ہے اور انٹرنیشنل لٹریچر میں اپنا مقام بناتی ہے۔ تہمینہ درانی نے اپنے ناول میں جنگ کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے بنائی گئی کچھ پینٹنگز کو بھی شامل کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا یہ آئیڈیا بھی ویت نام کی جنگ کے حوالے سے شائع ہونے والے تصویری ناول The Girl in the Picture سے ملتا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک کم سن لڑکی کس طرح نیپام بم سے ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ ان تصویروں کی اشاعت کے بعد یورپ اور امریکہ میں بہت تہلکہ مچاجس نے ویت نام کی جنگ کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں بہت مدد کی۔ دیکھنا یہ ہے کہ تہمینہ درانی کے ناول میں دکھائی گئی پینٹنگز کس حد تک یورپ، امریکہ اور "افغان جنگ کے اونرز" کو متاثر کرتی ہیں۔ تہمینہ درانی کے اس جدید ناول میں جدت کے اعتبار سے ایک کمی ہے۔ وہ یہ کہ مغرب میں شائع ہونے والی کتابوں کے ساتھ اُن کی سافٹ کاپی DVD کی صورت میں موجود ہوتی ہے جس کی اپنی بہت اہمیت ہے۔ پاکستان میں پبلشرز کے معاشی حالات کی وجہ سے یہ رجحان ابھی ترقی نہیں کرسکا مگر تہمینہ درانی جیسی Resourceful لکھاری کے لئے یہ بات مشکل نہیں تھی۔ تاہم قاری کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ تہمینہ درانی کا یہ ناول بارود کی کہانی ہے یا کہانی میں بارود ہے۔
مبصر:سید سردار احمد پیرزادہ
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)
کرشن چندر کے افسانوں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
کرشن چندر کے افسانوں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ڈاکٹر آنسہ احمد سعید اعوان کے پی ایچ ۔ ڈی (اردو) کے مقالے کا کتابی روپ ہے۔ڈاکٹر صاحبہ کو ۲۰۰۰ء میں اس مقالے پر علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے پی ایچ ۔ڈی کی سندِ فضیلت تفویض ہوئی۔انھوں نے اس مقالے میں کرشن چندر کی افسانہ نگاری کوچھے ابواب میں منقسم کر کے ان کے فکری اور فنی امتیازات کو نہایت ہی احسن انداز میں قلم بند کیا۔ کرشن چندر اپنے عہد کے ممتاز اور بعض حوالوں سے بالکل منفرد افسانہ نگار تھے۔ انھوں نے ناول بھی لکھے اور ڈرامے بھی۔رپورتاژ کی صنف بھی ان کے حسنِ تخیل کے چمن سے پھول چنتی رہی اور بچوں کا ادب بھی ان کے خیالِ حسن کی خوشبو سے معطر رہا۔کئی دیگر اصنافِ ادب بھی ان کے احساس ِ خیال کی رعنائی اور اظہارِ نگارش کی زیبائی سے برگ و بار لاتی رہیں۔ان کا تخلیقی وفور اظہار کے نئے نئے رنگوں میں ڈھل کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہا ۔۔۔۔لیکن ان تمام رنگوں میں افسانے کا رنگ نمایاں بھی رہا اور چوکھا بھی۔مو ضوعات کی رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ ان کا افسانہ اپنے تکنیکی تنوع اور اسلوبِ اظہار کی خوش رنگی کا آئینہ داربن گیااوروہ اس کے باعث اپنے ہم عصروں میں بہت سر بلند ہوئے۔ان کا افسانہ ،ان کے تخلیقی وفور اور حسنِ اظہار کا ترجمان ٹھہرا۔ وہ بطور افسانہ نگار اپنی معاصر ادبی روایت میں ایک ممتاز اور توانا آواز بن کر ابھرے اور افسانوی ادب کی فضا پرچھا گئے۔آج بھی ان کی آواز اپنی انفرادیت کا جادو جگارہی ہے۔ ان کے اس افسانوی سرمائے میں ان کا فکری اور فنی نظام مختلف اور متنوع رنگوں میں منکشف ہوا ۔وہ بہت زود نویس افسانہ نگار تھے،لیکن ان کی یہ زود نویسی ان کے تخلیقی پر اثر اندازنہیں ہوئی۔پیشِ نظر تحقیقی کام میں ڈاکٹر آنسہ سعید اعوان نے کرشن چندر کی افسانوی کائنات کے خوش کن مناظر کو بڑی دقتِ نظر اور بصیرت افروزی سے آشکار کیا۔انھوں نے چھے ابواب میں اپنے مطالعاتی افادات کو اس انداز سے منقسم کیا کہ ان کے افسانے کے مختلف رنگ نمایاں ہو گئے۔
مقالے کا پہلا باب اردو افسانے کی روایت اور اس کے فن کے مختلف مراحل کا ترجمان ہے۔اس میںڈاکٹر صاحبہ نے افسانے کے آغاز سے لے کر کرشن چندر تک اس صنفِ ادب کے ارتقائی سفر کا اختصار اور جامعیت کے ساتھ جائزہ لیا۔اس فن کدے کے فنی،ہیئتی اور تکنیکی خدو خال کو نمایاں کیا ۔
دوسرے باب میں کرشن چندر کے افسانوی سرمائے کو زمانی ترتیب سے پیش کیاگیا۔اس پیشکش میں ان کی افسانہ نگاری کا ارتقائی سفرمختلف ادوار میں تقسیم ہو کران کے فکری اور فنی ارتقا کو سمجھنے اور ان کے مقام اور مرتبے کی تعیین کا باعث ہوا۔
تیسرے باب میں کرشن چندر کے افسانوں کے مختلف اور متنوع موضوعات کو سلیقے اور قرینے سے پیش کیا گیا۔ان موضوعات میں کرشن چندر کی انفرادیت کے رنگ بھی نمایاں ہوئے اور ان کی افسانوی کائنات کی وسعت ،گہرائی اور گیرائی کا بھی اندازہ ہوا۔ان کے موضوعات کا گنجینہ: معانی کی طلسماتی اپیل کے تناظر میں ڈھل کر نئی تعبیر کا آئینہ دار بن گیا۔
چوتھے باب میںکرشن کے افسانوی کرداروں پر بحث کی گئی ۔ڈاکٹر صاحبہ نے کرشن چندرکے افسانوں کے اہم اور نمایاں کرداروں کا مطالعہ کیااور افسانوں کے مجموعی تناظر میں ان کی فکری معنویت کو اجاگر کیا۔
پانچویں باب میں کرشن چندر کے افسانوں کافنی مطالعہ کیا گیا ۔اس باب میں تکنیکی اور ہیئتی امور بھی زیرِبحث آئے۔زبان و بیان کا بھی جائزہ لیا گیااوراسلوبِ اظہارکے مختلف رنگوں کا بھی تجزیہ کیا گیا ۔زبان، بیان اور تکنیک کے جملہ مباحث اس باب کی زینت بنے۔ڈاکٹر صاحبہ نے نہایت ہی خوش اسلوبی سے ان کی تعبیر اور تفہیم کا فریضہ انجام دیا۔
آخری باب میں کرشن چندر کے افسانوں کے فکری پہلو تلاش کیے گئے اور انھیں توازن اور اعتدال کے ساتھ نمایاں کیا گیا۔اسی باب میں کرشن چندر کے مقام اور مرتبے سے بھی بحث کی گئی۔معاصر افسانہ نگاروں کے جھرمٹ میں ان کی انفرادیت کے رنگوں کو اجاگر کیا گیا۔
پاکستان میںکرشن چندرکے فنی اور فکری نظام کا اتنا بھر پور اورمربوط مطالعہ نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ایم فل کی سطح پر ان کے ناولوں کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور پی ایچ ۔ڈی کے لیے ان کی افسانوی کائنات ان کا موضوعِ سخن رہی۔انھوں نے نہایت محنت اور توجہ سے ان کے افسانوی ادب کا جائزہ لیا۔پیشِ نظر کام ان کی تحقیقی اور تنقیدی بصیرت کا ترجمان ہے۔کرشن چندر کے حوالے سے تمام اہم منابع اور مصادران کے پیشِ نظر رہے ہیں۔انھوں نے اس مواد سے اخذ و استفادہ کیااور کرشن چندر کے فکر و فن کا عمدہ تجزیہ کیا۔ان کی زبان اور اسلوب سادہ، عام فہم اور تحقیقی اصولوں کے مطابق ہے۔انھیں اپنے مافی الضمیرکی ترجمانی میں کہیں بھی مشکل کا سامنا نہیں رہا۔پورے مقالے میں کہیں بھی الجھائو اور گنجلک نہیں۔افسانوی ادب کے حوالے سے لکھے گئے مقالوں میں یہ مقالہ کئی حوالوں سے منفرد بھی ہے اور ممتاز بھی۔ مجموعی تناظر میں یہ تحقیقی کام نئے محققین کے لیے سمت نما ہے ۔ افسانے کی تنقیدکے عام قارئین بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔۳۱۷ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۴۵۰ روپے ہے۔اس گرانی کے دور میں یہ قیمت کچھ زیادہ نہیں۔کتاب ادارۂ فروغِ قومی زبان، اسلام آباد نے شائع کی ہے اور ان کے کتاب گھر میں دستیاب ہے۔
مبصر:ڈاکٹرعبدالعزیز ساحر
دائرے کا سفر از: ڈاکٹرآنسہ احمد سعید
ڈاکٹر آنسہ احمد سعید اعوان اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پہلی پی۔ڈی کا اعزاز اُن کے حصے آیا۔ یہ بھی اُن کے لیے باعث افتخار ہے کہ انھوں نے ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی دونوں ڈگریاں اسی یونیورسٹی سے لیں۔ ان دونوں ڈگریوں میں ان کا موضوع کرشن چندر کی افسانہ نویسی اور ناول نگاری ہے۔
ہندوستان کے کسی ہندو ادیب کو تقسیم ہند کے بعد اپنا موضوع تخلیق بنا کر ایک مسلمان خاتون نے بڑی بلند ظرفی ، وسیع النظری اور بے تعصبی کا ثبوت دیا ہے اور یہی اُن کا امتیاز ہے۔ انھوں نے اس موضوع کا انتخاب اس وقت کیا جب یہ مصنف پاکستان میں لوگوں کے ذہن سے اُتر چکا تھا اور بوجوہ پاکستان کے علمی حلقوں میں بڑی حد تک نامعتبر ہو چکا تھا۔ ان حلقوں سے اس موضوع کو منظور کرانا بھی آسان نہیں رہا تھا۔ موضوع کی منظوری کا مرحلہ شعبہ اردو کی کوششوں سے خدا خدا کر کے طے ہوا۔ پھر اس موضوع کے بارے میں مواد بھی پاکستان میںدستیاب نہیں تھا۔ ہندوستان سے مواد کا حصول بھی جوئے شیر لانے کے برابر تھا لیکن آنسہ نے چوں توں کر کے یہ مرحلے بھی کامیابی سے طے کر لیے اور انھوں نے یہ پل صراط بھی عبور کر لیا۔ اس کے لیے انھیں بے پناہ وسائل اور وقت صرف کرنا پڑا اور بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کرشن چندر ایک بہت ہی مقبول قلمکار تھے۔ ناشرین نے اُن کی اس مقبولیت سے بڑا فائدہ اٹھایا۔ کرشن چندر کے نام پر بہت سی جعلی کتابیں چھاپ کر اپنی تجوریاں بھر لیں اور تحقیق کرنے والوں کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی دقت نظر سے کام لے کر اور مختلف ماخذ کو پیش نظر رکھ کر کرشن چندر کے اصلی اور جعلی ادب پاروں کو الگ کیا۔ اُن کی کاوش سے کرشن چندر کے افسانوں اور ناولوں کی اصل تعداد کا تعین کیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی ژرف نگاہی اور دقتِ نظر کا استعمال کیا۔ اپنے آپ کو ایک بلند نظر محقق کے طو رپر پیش کیا۔ چھان پھٹک کا یہ کام بڑی محنت سے انجام دیا۔ اپنی جگہ یہ بھی بہت بڑا کام بلکہ کارنامہ ہے۔
کرشن چندر کی ادبی زندگی کا عرصہ کم و بیش چالیس سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے۔ ان کے سارے تخلیقی کام کو پرکھنا مشکل کام تھا لیکن انھوں نے اس کام کو بڑے سلیقے سے انجام دیا۔ یہ بات عام طو رپر کہی جاتی ہے کہ اچھا محقق اچھا شاعر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ تخلیق اور تحقیق ادب دو الگ الگ پیشے ہیں اور ان کے لیے مزاج بھی مختلف چاہیئیں، تخلیق اور تحقیق کا یہ اختلاف اپنی جگہ بڑی حد تک درست بھی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ نے جہاں کرشن چندر کی افسانہ نگاری اور ناول نویسی کی چھان پھٹک میں اپنی تحقیقی کاوشوں کا ثبوت دیا ہے۔ وہاں انھوں نے ''دائرے کا سفر'' کے نام سے شعری مجموعہ مرتب اور تصنیف کرکے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بڑا ثبوت دیا ہے۔
اردو کی ادبی تاریخ کے ہی اوسط ضخامت کے مختصر مجموعے تعریف کے زیادہ مستحق قرار پائے ہیں۔ یہ مجموعہ بھی ہر لحاظ سے اسی زمرے میں آتا ہے۔ اختصار اس کا عیب نہیں بلکہ خوبی ہے۔ یہ مجموعہ ۷۱ غزلوں ۲۵ نظموں اور ۱۶ قطعات پر مشتمل ہے۔ مجموعے کا آغاز حمدیہ اور نعتیہ قطعات سے ہوا۔ اس کا انتساب ماں کے نام کیا گیا ہے۔ جو انسانی رشتوں میں سب سے معتبر اور سب سے مقدس رشتہ ہے۔ اس مجموعے میں ماں کے عنوان سے دو بڑی اثر انگیز نظمیں شامل ہیں۔
پاکستان میں آنے والے اندوہناک زلزلے پر بھی ایک نظم اس مجموعہ میں نظر آتی ہے۔ اس نظم میں اس المیے پر ماں کے احساسات کی بڑی مؤثر تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس نظم کے آخری حصے کے چند مصرعے ملاحظہ ہوں:
آفت زدہ انسانوں کی
بین کرتی مائوں کی
ماں کی گود کی لوری
چلچلاتی پھرتی ہے
سسکیاں بھرتی ہے
دائرے کے سفر کی شاعرہ نے ماں کو روشن ستارہ کہا ہے۔ ماں کے لیے یہ استعارہ کتنا معنی خیز ہے۔ اس خوبصورت نظم کا آخری بند ملاحظہ فرمائیں:
وہ نور کا ہالہ ………معصوم سا چہرہ
ستار ابن کے آسمانوں کی بلندی پر مسکراتا ہے
جسے میں ہر رات دیکھتی ہوں اور یہ کہتی ہوں
یہ روشن ستارا ہی تو
میری ماں کا چہرہ ہے
میری ماں کا چہرہ ہے
ماں کی محبت اور اس کی عقیدت ہر مصرعے سے جھلکتی ہے۔
آنسہ کی غزلوں کا موضوع تو عشق و محبت ہے ہی لیکن ان غزلوں میں کامرانیاں کم اور حسرت و حرمان زیادہ ہے اور ویسے بھی محبت کی کامرانیوں کا ذکر زیادہ لطف نہیں دیتا۔ حسرت و حرمان کا تذکرہ زیادہ جاندار ہوتا ہے۔ غزلوں میں اشعار کی تعداد زیادہ نہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی غزل چھ یا سات شعروں پر مشتمل ہے اورزیادہ سے زیادہ اشعار دس ہیں۔ اشعار کی تعداد سے غزلوں میں توازن کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی غزلوں میں اچھے اشعار کی کمی نہیں ، چند شعر ملاحظہ فرمائیے:
زہر میں ڈوبی ہوئی تھی شامِ غم کی ہر گھڑی
آنسوئوں میں یاد کا جلتا دیا اچھا لگا

چپ رہا بیٹھا رہا کوئی گِلہ شکوہ نہ تھا
دور تک مُڑ مُڑ کے اس کا دیکھنا اچھا لگا

کوئی بھی سایہ نہیں، گرمی میں ٹھنڈی چھائوں کا
تپ گئی ساری زمین جھلسا ہوا ہے آسمان

کارواں کا ساتھ تو اپنے مقدر میں نہ تھا
دم بخود ہو کر غبار کاروان دکھا گئے

مدت ہوئی ہے ترکِ تعلق کیے ہوئے
پھر کیوں کسی کو یاد کیے جا رہا ہوں
اس مجموعے میں۲۵ نظمیں بھی موجود ہیں۔ نظموں کے عنوان اور طرزِ بیان میں جدت اور تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کتاب میں قابل ذکر نظموں میں دو تو ماں کے موضوع پر ہیں۔ دونوں نظمیں ان کی محبت اور اس سے عقیدت کی ترجمان ہیں۔ اس کا پہلا بند ماں کے ایثار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
تو نے اک بار کہا تھا
جیون کے اندھیرے میں
تم چلتے چلتے تھک جائو تو
تم میرے پاس چلے آنا
میں اپنی ممتا کا جوبن
سب تم پر لُٹا دوں گی
ان نظموں میں دو نظمیں خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ایک تو داستان پہاڑوں کی ہے۔ اس اندوہناک زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کو شاعرہ نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا اور قلم کی توانا ئیوں سے اس کی دلدوز کیفیتوں کو بڑے مؤثر طریقے سے بیان کیا ہے۔ اس کا ایک بند ملاحظہ فرمائیں:
ٹوٹے ہوئے مکانوں کی
بکھرے ہوئے مکینوں کی
بین کرتی مائوں کی
غم میں ڈوبی بہنوں کی
ماتم بھری فضائوں میں
دل دہل جاتا ہے
جب کوئی سناتا ہے
داستاں پہاڑوں کی
دوسری قابل ذکر نظم کا عنوان ''وہ آنسو جو آنکھ سے ٹپکا اور نوحہ بن گیا''۔ یہ کسی عظیم شخصیت کی موت کا مرثیہ ہے۔ اس دردناک رات میں اس موت کے غم میں پوری کائنات غمزدہ ہے۔ اس میں کسی کے سولی چڑھنے کا ذکر ہے۔ اس قتل کو شاعرہ نے خونِ ناحق کہا ہے۔ نظم پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ کس کے بارے میں ہے۔ اس نظم کے آخری بند کے کچھ مصرعے دیکھیں:
دیکھو تو سہی، پوچھو تو سہی
یہ کون بھلا سولی چڑھا
اک سوگ کا عالم طاری ہے
جس رات میں خونِ ناحق ہوا
وہ رات جو ہم پر بھاری ہے
اس رات کا زخم بھی کاری ہے
آنسہ چھوٹے جھوٹے مؤثر مصرعوں سے اپنی نظموں کا تاروپود بنتی ہیں اور ایک ایک مصرعہ تیر کی طرح چبھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے مصرعے بلا کے مصرعے ہیں۔ جتنے سادہ ہیںاتنے ہی بُرا اثر ہیں۔ یہ ابلاغ کا معجزہ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ دونوں نظمیں دردناک ہیں اور تاثر سے معمور ہیں۔ غزلوں اور نظموں کے علاوہ اس مجموعے میں سولہ قطعات بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ہر قطعہ چار مصرعوں کا ہے لیکن شاعرہ نے انھیں رباعی نہیں کہا۔ کیونکہ قطع رباعی کے وزن میں نہیں ہے۔ جو اس وزن کی فنی نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے شاعرہ نے انھیں قطعہ ہی کہا ہے۔ قطعہ کہنا فنی لحاظ سے قدرے مشکل ہے۔ ان قطعات میں شاعرہ نے اپنی ذات کے بارے میں زیادہ کہاہے۔ ان قطعات میں بھی افکار کی تازگی نظر آتی ہے۔ ان میں آب بیتی کا رنگ زیادہ ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ کے شعری مجموعے کا نام بے حد معنی خیز ہے۔ دائرے کے سفر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس سفر کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ مسافر کو لہو کے بیل کی طرح گھومتا رہتا ہے اور یہ سفر ختم نہیں ہوتا۔ اس نام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سفر کی یہ تعبیر ہمارے حسب حال بھی ہے۔ کیونکہ ہمارا سفر بھی دائرے کا سفر ہی محسوس ہوتا ہے۔ نامور شاعر منیر نیازی نے بھی اس بات کا اظہار اس طرح کیا ہے کہ ہمارے ملک پر آسیب کا سایہ ہے کیونکہ یہاں حرکت تیز تر ہے لیکن سفر آہستہ ہے۔ اس مجموعہ میں اصناف کا عمدہ تنوع ملتا ہے۔ اس میں غزلیں، نظمیں اور قطعات ہیں لیکن غزل کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ کتاب کے آغاز میں پے در پے سات غزلیں ہیں۔ دائرے کے سفر میں بیشتر غزلیں حسرت و حرمان کی ترجمان ہیں۔ ان کا لہجہ دھیما اسلوب سادہ اور کہیں آراستہ و پیراستہ ہے۔ نظموں کی تکرار سے ایک خاص آہنگ کا احساس ہوتا ہے۔ اس لیے بعض مصرعے دل کو چھو لیتے ہیں۔ مثلاً ملاحظہ فرمائیں:
گھٹی گھٹی ہیں ساعتیں، بجھی بجھی سی شام ہے
فریب ہی فریب ہے حیات جس کا نام ہے
ساری نظمیں سادگی کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ ان میں کوئی الجھائو نظر نہیں آتا۔ نظموں میں طوالت کا احساس کم ہوتا ہے، منظومات میں جذبات کی عکاسی بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے اور یہ سب اثر انگیز ہیں۔ مثلاً وہ آنسو جو آنکھ سے ٹپکا اور نوحہ بن گیا، کسی بڑی شخصیت کا مرثیہ ہے۔ یہ نظم بڑی درد انگیز ہے۔ اسی طرح داستان پہاڑوں کی میں بھی اس اندوہناک زلزلے کو موضوع بنایا گیا۔ یہ نظم بھی بڑی المناک ہے۔ کرشن چندر کے ناولوں اور افسانوں پر ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی محنت اور ذہانت سے لکھا ہے او ان کا شعری مجموعہ ''دائرے کاسفر'' اپنے عنوان کی معنویت اور اشعار کی دل آویزی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
مبصر: ڈاکٹر پروفیسر محمد صدیق خان شبلی
ناشر: احسن پبلی کیشنز، ۶۰۰۔بی۔ پیپلز کالونی نمبر۱، فیصل آباد
قیمت: ۲۵۰ روپے۔ فون:۲۶۱۳۴۴۹۔۰۴۱
''خواب گاہ'' از: موپساں، ترجمہ ریاض قدیر
''خواب گاہ'' موپساں کی منتخب بیس کہانیوں پر مشتمل کتاب ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ ''ریاض قدیر'' نے کیا ہے، انھوں نے موپساں کے افسانوں کا گہرا مطالعہ کر کے اسے اردو کے رنگ میں ڈھالا ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری اس حوالے سے لکھتے ہیں:
''پروفیسر ریاض قدیر نے موپساں کو پہچانا اور اُسے اپنے تراجم کے ذریعے اردو والوں سے اس طرح متعارف کرایا کہ اردو میں جہاں کہیں اور جب بھی موپساں کے افسانوں کا ذکر آئے گا، پروفیسر ریاض قدیر کا ذکر ضرور آئے گا''۔ص۱۱؎
ریاض قدیر کے تراجم اس لیے اہمیت کے حامل ہیں کہ انھوں نے اردو زبان میں بھی موپساں کی انداز تحریر کی ترجمانی کی ہے۔ ان کے تراجم میں کوئی کمی یا جھول دکھائی نہیں دیتا۔
''ریاض قدیر کا کمال فن یہ ہے کہ انھوں نے اپنے تراجم میں موپساں کے افسانے کی خصوصیات کو ہر جگہ برقرار رکھا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ریاض قدیر کے تراجم اپنی اثر پذیری میں اصل کے ہم پلہ ہیں البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ ترجمانی کا پورا حق ادا کر سکتے ہیں اور ریاض قدیر کو بلند پایہ مترجم ثابت کرتے ہیں'' ص:۱۱؎
موپساں کے افسانوں کے موضوعات عام ہیں لیکن بہ اعتبار دلکشی اس کا انداز بیاں خاص ہے ایسا خاص کہ موپساں کا ''افسانہ'' خود کو اپنے قاری سے پڑھواتا ہے اور قاری اس کے افسانے کو ہاتھ لگا کر ختم کیے بغیر چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا'' ص:۱۱؎
موپساں کے افسانوں میں سے ہمیں منٹو کے افسانوں کی خوشبو آتی ہے۔ ان کے افسانے اردو کے افسانہ نگار منٹو کے افسانوں سے قریب تر ہیں۔ منٹو بھی معاشرے میں بکھری حساس کہانیوں کو افسانوں کے رنگ میں بیان کرتا ہے یہی انداز موپساں کے ہاں ملتا ہے۔
بقول ڈاکٹر انوار احمد:
''منٹو کے شعور کی بالیدگی میں موپساں کی تلاش اردو ادب کی خدمت ہو گی اور موپساں کے تراجم میں سے منٹو کی نئی جہات سامنے آئیں گی'' ص:۱۰؎
موپساں کے افسانوں کا اگر تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ''خواب گاہ'' کی بدولت ہر جگہ ہمیں ریاض قدیر کی محنت اور کاوش کو داد دینا پڑتی ہے جنھوں نے ایک اجنبی کی زبان میں بیان کردہ مفہوم کو اس انداز میں اردو زبان کا رنگ دیا ہے کہ ہم موپساں کے خیالات اور انداز ِ تحریر سے آسانی کے ساتھ استفادہ کر سکتے ہیں۔ موپساں اپنے ارد گرد سے کہانیاں تلاش کر کے انھیں تحریر کے ذریعے اَمر کر دیتا ہے۔ وہ اس خوبصورتی سے اصل مفہوم کو واضح کرتاہے کہ پڑھنے والے میں تجسس و شوق دونوں بیک وقت جنم لیتے ہیں ''خواب گاہ'' میں موپساں کے بیس افسانے ترجمہ کیے گئے ہیں۔
''خواب گاہ'' کا پہلا افسانہ بھوک ہے اس افسانے میں ٹرین کے سفر کا منظر دکھایا گیا ہے۔ ایک عورت مسافر ہے جو روز گار کے لیے اپنی شیر خوار بچی کو چھوڑ کر گھر سے نکلتی ہے اور دوسرا مسافر ایک دبلا پتلا بیس سالہ نوجوان ہے جس کے چہرے پر بے روز گاری کی زردی چھائی ہوئی ہے۔ اس مرد کے ہاں غربت اور بے بسی کی انتہا ملتی ہے۔ اس افسانے میں موپساں نے غربت کی انتہا کی ایک الم ناک تصویر کھینچی ہے۔ معاشرے کا ایک اہم عنصر روح کو ساکت کر دینے والی کہانی کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ بیس سالہ نوجوان کی غربت اور بے بسی کی تصویر بھوک سے اُس کی للچائی ہوئی نظریں اور فاقے اسے کس انتہا تک پہنچا دیتے ہیں بقول مصنف:
''لڑکے نے سر اٹھا کر اسے کھاتے ہوئے دیکھا تو اس کی مدھم نگاہ اس عورت کی گود سے اس کے منہ تک ہر لقمے کا تعاقب کرنے لگی… اس سے پہلے سے پژمردہ چہرہ اور بھی مرجھا گیا وہ حسرت سے اسے دیکھ رہا تھا'' ص:۱۵
اس افسانے میں موپساں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پیٹ کی بھوک نفس کی بھوک سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے جو انسان کو حواس باختہ کر دیتی ہے۔ بھوک انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتی ہے۔ بھوک انسان کو ہر جائز اور ناجائز کام کرنے پر اُکساتی ہے ۔ ایک بھوکا انسان اچھے برے کی پہچان سے بالاتر ہو جاتاہے۔ اس دنیا میں تمام انسان اپنے پیٹ کی بھوک مٹانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ اس بھوک ہی کی بنا پر معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں۔ اس افسانے میں تشبیہات اور استعارات کی بھی خوبصورت مثالیں ملتی ہیں۔
''یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سمندراور پہاڑ کے درمیان کوئی لوہے کا سانپ برق رفتاری سے بھاگ رہا ہوگا''ص:۱۷؎
بیس افسانوں پر مشتمل کتاب میں مصنف نے مختلف کرداروں کے ذریعے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ کتاب مثال پبلی کیشنز، فیصل آباد نے شائع کی ہے۔
مبصر: صبا بتول رندھاوا
صاف صاف از:سید سردار احمد پیرزادہ
''تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں انسانوں کے لیے آنے والی سب تبدیلیوں میں تحریر اور کتاب کا بہت اہم کر دار ہے ۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ گزشتہ ۶۴ برسوں میں ہمارے ہاں بے پناہ لکھا گیا لیکن کوئی بڑی اور دیر پا تبدیلی رونما نہ ہوئی اس کی وجہ سوچنا ضروری ہے ''۔ یہ فکر انگیز جملے ''صاف صاف '' کے پیش لفظ کی ابتدا ہے ۔ جو اس کے لکھنے والے کی بصیرت افروزی اور نوع انسانی کی سوچ میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں۔ ''صاف صاف'' سید سردار احمد پیر زادہ کا ۳۲۸ صفحات پر مشتمل پچانوے کالموں کا مجموعہ ہے ۔ جس میںپہلے چار کالم اللہ ، اللہ کے رسول اور اس کی مخلوق سے عقیدت پر ہیں ۔ جس میں ''کرم کے موتی '' گویا تمام انسانی زندگی پر محیط ہے۔ دریا کو کوزے میں بند کرنا کے مصداق طاعت نفس سکھاتا ہے۔ اسی طرح '' کیا آپ مصروف ہیں؟'' آج کی مادی دنیا اور اس کی لذتیں، انسان کی اپنے خالق سے، مذہب سے دوری کو یو ں بیان کیا ہے کہ صرف ایک یہی کالم برسوں کی تبلیغ پر حاوی ہے۔ ''صاف صاف '' کے اکیانوے کالموں کا دورانیہ ستمبر ۲۰۰۷ء سے اکتوبر ۲۰۱۱ء تک محیط ہے۔ یہ تمام کالم اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کے نوائے وقت میں چھپ چکے ہیںاور عوامی شعور کو بیدار کرنے میں خاطر خواہ خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ ''صاف صاف '' کے تمام کالم اپنے عنوانات سے ہی قاری کی توجہ مبذول کرانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر کالم کا چونکا دینے والا آغاز اور ذہنی شعور کو بیدار کرنے والا اختتام قاری کو مثبت روی کی جانب گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ سیاسی باریکیوں پر اتنی گہری نظر ، ملکی اور غیر ملکی تاریخ کا وسیع مطالعہ ، حقیقی تجزیہ نگاری، ٹھوس شواہد کے ساتھ، سیاسی افق کے سورج کا طلوع و غروب، اہم حقائق ، اقتدار کی ہوس ، عہدوں کی ناقدری، سیاسی غلط فہمیاں ، حکمرانوں کی عیاریاں ، ذاتی مفادات کی جنگ ، غریب عوام کے ساتھ بڑھتی ہوئی نا انصافی ، جمہوریت کے نام پر دھوکا، وطن اور وطنیت پر جھگڑے ، انسانی حقوق کی پامالی ، ماضی کا خوف، حال کی بے چینی اور مستقبل کی بڑھتی ہوئی امیدیں ، عوام اور خواص کا تعصب …یہ سب ہمیں ''صاف صاف''کے صفحات پر جا بجا نظر آتا ہے۔
کالم نگاری ایک منفرد صنفِ صحافت ہے کہ یہ کالم نگار کے اسلوبِ بیان ، طرز نگارش ، فکر انگیزی، بصیرت افروزی، الفاظ کا چنائو ، خیالات و نظریات کی یوں عکاسی کرتی ہے کہ ایک کالم نگار اپنے قاری کی نبض سے کیسے مرض کا اندازہ لگا کے بیماری کی تشخیص اور بہترین علاج تجویز کرتا ہے اور علم و ادب میں گہرا مقام رکھتے ہوئے زبان و ادب کی چاشنی سے دوسروں کے دل کو موہ لیتا ہے۔
یہ صنف الفاظ کی حرمت کی دعویدار ہے اور ''صاف صاف'' کو لکھنے والے ''سید سردار احمد پیر زادہ '' ہیں جو کہ ''پاکستانی قلمکاروں میں پہلے نابینا صحافی ہیں ۔ راقم کوان سے ملنے کا اتفاق ہو چکا ہے۔ اور ایسے عظمت کے میناروں سے ملاقات گویا بہت بڑا شرف ہے اور ان سے مل کر یا ان کی کتاب پڑھ کر کہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اس نعمت خداوندی سے محروم ہیں۔ جنہوں نے اپنی کمزوری کو اپنا عذر نہیں بنایا ۔ وہ اپنی ہی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ''جب آنسوئوں کا کوئی خریدار نہیں تو پھر انہیں کیوں مشتہر کیا جائے۔''
بات صرف فیصلہ کرنے کی ہے۔ وہ فیصلہ انہوں نے کیا اور آج نابینا ہوتے ہوئے ایک بینا سے زیادہ دیکھا ، محسوس کیا اور صفحہ قرطاس پر بکھیرا اور اپنے لفظوں کے جادو سے وہ سحر پھونکا اور عدم بصارت سے بصیرت سازی کو یوں فروغ دیا کہ بائیسویں اے پی این ایس ایوارڈکی تقریب میں صدر مملکت سے '' بہترین کالم نگاری '' کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ۲۰۱۲ ء میں ہی چولستان ایوارڈ حاصل کیا ۔ اور ۲۰۱۳ء میں نظریہ پاکستان کے زیر اہتمام صحافت میں نمایاں خدمات ادا کرنے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے سونے کا تمغہ بھی وصول کر چکے ہیں۔ آپ ایک ممتاز کالم نگار، سینئر بے باک صحافی ، سب ایڈیٹر ، رپورٹر اور ایڈیٹر کی حیثیت سے مختلف صحافتی اداروں میں نمایاں کام کرنے والے محنتی اور فعال انسان ہیں۔ ''سید سردار احمد پیر زادہ '' نے اسلام آباد میں سفارت کاروں کے لیے خصوصی انگریزی ماہنامے ''ڈپلومیٹک '' کا اجراء کیا۔ نئی طرز کے ساتھ ایک میڈیا آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام Research & information service emporium(Rise24)ہے۔ مقتدرہ قومی زبان (ادارہ فروغ قومی زبان ) میں اخبار اردو کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ اردو زبان کی کتابوں کے لکھنے میں معاون، اردو زبان کے فروغ میں سر گرم، ریڈیو سن رائز کے میزبان ، لائیو شوز کے اینکر پرسن ، یہ سب اس تنہا فرد کی داستان ہے۔ جن کے الفاظ میں حرارت، جذبہ ، ولولہ ، خودشناسی اور انسان سے محبت ہے ۔ یہ باعث تعجب نہیں کہ ہم ان کو بصیرت سے محروم سمجھیں وہ تو سنگ میل ہیں۔ اور بہت ''صاف صاف''سب کچھ لکھ اور پڑھ لیتے ہیں اور اس ملک کا سرمایہ ہیں ۔ یہ اس رب کی کرامت ہے کہ وہ جس کو جتنا نواز دے، کسی کو بصیرت دے کر کچھ دکھائی نہیں دیتا اور کچھ عدم بصیرت سے وہ چراغ روشن کر رہے ہیں کہ ان کی لو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ اور ان کی ذہانت و فطانت پرسبھی حیران ہیں۔ثابت قدمی اس قدر ہے کہ گزشتہ تیئس برس سے سترویں گریڈ میں ایک ہی محکمے میں حکمرانوں کی عدم توجہی کے باوجود اتنے صبر اور قناعت سے بیٹھے ہیں کہ اسی حالت کے پیش نظر اپنی ہی کتاب میں ''صاف صاف'' درج کیا ہے۔ جو کہ ایک چینی کہاوت ہے۔ ''آہستہ آہستہ آگے بڑھنا بری بات نہیں رک جانا موت ہے۔'' جبار مرزا ان کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں ''سردار احمد پیر زادہ کاسفر بڑی جواں مردی اور ہمت سے جاری ہے۔ انہوں نے سفید چھڑی کو مہمیز ، قلم کو تلوار اور احسا س کو بصارت بنا لیا ہے۔ ایسے ہمالہ صفت انسانوں کے آگے اگر بلائیں بھولے سے آ بھی جائیں تو گھبرا کے راستے سے ہٹ جایا کرتی ہیں۔ ''
''صاف صاف''ایسی کتا ب ہے جو ہم پر بہت سے سوچ کے در وا کرتی ہے۔ اور ہمارے بہت سے مسائل کا حل ہمارے اپنے ہی پاس موجود ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ سیاسی باریکیوں کو یوں بیان کیا ہے گویا سیاسی نباض ہوں۔ اور ملکی صورتحال کو اس دور میں ایسے محسوس کیا ہے کہ ہم جیسے دیدہ و بینا تو اس معراج کو چھونے کا بھی تصور نہیں کر سکتے اور ملکی تلخیوں کو مزاج کی چاشنی میں لپیٹ کر عوام کو آگاہی کی نئی منز ل پر پہنچایا ہے۔ سب سے خوبصورت بات کہ ۲۰۰۷ ء سے ۲۰۱۱ء تک کے سیاسی نشیب و فراز کی یوں منظر کشی کی ہے کہ آج بھی لگتا ہے ہم انھی الجھے دھاگوں کو سلجھا رہے ہیں اور کوئی سراہاتھ نہیں آیا۔ بس ایک مسیحا کی تلا ش ہے ۔ ایک اجالا ہے جو ہمیں منزل کی طرف بلا تا ہے اور تابناک مستقبل کی نوید ''صاف صاف''جھلکتی ہے۔ صاف صاف میں درج ہے ''پاکستان میں ۲۱ویں صدی کا سورج لوگوں کے لیے ایک نئی ترنگ لے کر آیا۔ وہ پہلے سے زیادہ انکا ری ہوئے ، بے باک ہوئے، بولنے لگے ، چلنے لگے ، مرنے لگے اور کسی حد تک سوچنے لگے''۔
کسی بھی قوم کی تبدیلی کا یہی نقطہ آغاز ہے کہ وہ سوچنے لگے اور اس طرح کے عظیم قلمکاروں کی عظیم کتابیں سوچ کو مثبت رخ عطا کرتی ہیں۔ اس بات کا اعتراف ''منو بھائی '' نے اپنے کالم گریباں میں کیا ۔ جاوید چودھری نے اس کتاب اور ادیب کی عظمت کا اعتراف زیروپوائنٹ میں کیا ، فضل حسین اعوان نے اپنے کالم شفق میں کیا اور محمد آصف بھلی نے ''چوتھا ستون'' کالم لکھ کر کیا ۔ یہ سب اور بہت سے احباب جو اس کتاب کی سچائی اور بے باکی اور سردار احمد پیرزادہ کی بڑائی کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کی اگلی کتاب کے منتظر ہیں۔ ایسے ہی الفاظ ایسی کتاب اورایسے لکھنے والے قوموں کی تقدیر بدلنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں ۔ جو صلے کے تمنائی نہیں۔ صرف تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اور خوشی اور سکون کے متلاشی ہیں۔
''صاف صاف''پیر زادہ صاحب کی جانب سے میرے لیے خلوص کا نذرانہ تھا جسے میں نے سرمایہ سمجھ کر وصول کیا اور اس کتاب کے ہر لفظ کو محبت سے پڑھا ۔ اللہ ان کے درجات بہت بلند فرمائے۔ آمین
مبصر :شازیہ مجید ملک
قیمت: ۔/۵۰۰ روپے
برقی پتا: www.saafsaaf.live.com
www.saafsaaf.blogspot.com
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)
کب بیتے گا ہجر کا موسم از: افضال عاجز
شاعری دراصل واردات قلبی کی سچی ترجمان اور زندگی کی صداقتوں کی صحیح تفسیر ہوتی ہے۔ شاعری بے حس قوتوں کو چونکاتی ہے۔ سوئے احساس جگاتی ہے۔ مردہ جذبات کو جلا بخشتی ہے۔ حوصلوں کو بڑھاتی ہے۔ ''کب بیتے گا ہجر کا موسم'' کے شاعر افضال عاجزؔ کا شمار دور جدید کے عظیم ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ ان کے کلام میں گہرائی ہے۔ معنویت اور سوزوگداز ہے۔ مثلاً ایک مقام پر لکھتے ہیں:
ہر کسی کی آنکھ میں دیکھا نہ کر
چلتے چلتے راہ میں ٹھہرا نہ کر
ہے اگر خواہش کہ یہ قائم رہے
دوستوں کی دوستی پر کھا نہ کر
حقیقت پسندی سے لبریز یہ شعر افضال عاجزؔ کے ہیں۔ یو ں تو ان کے مجموعے میں وہ سب کچھ موجود ہے جو ناقدین کسی شعری مجموعے اور شاعری میں ڈھونڈتے ہیں اور کسی بھی لکھاری کو ایسی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ غزل کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنے کے ہیں۔ اگر غزل کو صرف اسی تعریف کے آئینے میں دیکھا جائے تو گزشتہ چار دہائیوں سے شعر کہنے والے افضال عاجزؔ کی مکمل شاعری حوالے کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ عاجزؔ کی شاعری حسن و عشق کی شاعری ہے۔ ہر شاعر فطری طورپر حسن پرست ہوتا ہے اور فطرت کے ہر شاہکار کا عاشق ہوتا ہے اور فطرت کے شاہکاروں سے محبت کا جذبہ ہی اسے شعر کہنے پر اکساتا ہے۔ مثلاً وہ اپنے شعری مجموعے ''کب بیتے گا ہجر کا موسم'' میں لکھتے ہیں کہ
آنکھوں کے جزیروں پر اترنے نہیں دیتا
وہ شخص کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتا
چلتا ہے سمٹ کر وہ بہت تیز ہوا میں
آنچل کا کوئی رنگ بکھرنے نہیں دیتا
عاجزؔ کی شاعری میں موزونیت پوری طرح موجود ہے۔ ان کی شاعری میں موزوں الفاظ اور عمدہ تراکیب کا استعمال ہے محض الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں ہے۔ عاجزؔ نے غزل کو نیا رنگ و آہنگ دیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شاعری میں انھوں نے بطور نمونہ آئیڈیل کسی شاعر کو سامنے نہیں رکھا۔ اپنا اسلوب قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ عاجزؔ کی کاوش یقیناً قابل داد ہے۔
مبصر: منزہ مبین
پبلشر: پرائم ٹائم پبلی کیشنز، واہ کینٹ
صحرا کی ہتھیلی پہ دیا از: آسناتھ کنول
''صحرا کی ہتھیلی پہ دیا'' (آغا گل کی منتخب نثری تخلیقات کا تنقیدی جائزہ) آسناتھ کنول کی تنقیدی کتاب ہے۔ آسناتھ ہمہ جہت شخصیت کی مالک خاتون ہیں۔ وہ نہ صرف منجھی ہوئی شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار ہیں بلکہ بحیثیت محقق و نقاد بھی اپنے فن کا لوہا منوا چکی ہیں۔ اردو ادب میں خواتین کی بہترین کاوشیں شاعری، افسانہ و ناول نگاری، سوانح عمریوں، آب بیتیوں میں تو کثرت سے نظر آتی ہیں لیکن تحقیق و تنقید کے میدان میں شاذ و نادر بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بطور محقق و نقاد جن خواتین نے اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں ان میں ممتاز شیریں، حجاب امتیاز علی تاج وغیرہ شامل ہیں۔ آسناتھ کنول اپنی بہترین کاوش کے بل بوتے پر اپنا نام ان کی صف میں شامل کر چکی ہیں۔
''صحرا کی ہتھیلی پہ دیا'' آغا گل کے فن پر تحقیقی و تجرباتی کام ہے۔ آسناتھ کنول نے انتہائی جانفشانی، باریک بینی سے مصروف محقق و نقاد، دانشور، افسانہ و ناول نگار آغا گل کی منتخب نثری تخلیقات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے بہت مہارت سے جناب آغاگل کے فن اور شخصیت کے پوشیدہ گوشوں کی بازیافت کی ہے اور ان کے فکری و فنی کارناموں پر روشنی ڈالی ہے جو ان کی ذہنی بصیرت کی عکاس ہے۔
آج کا نقاد ادبی معیار کے تعین میں اگرچہ قدماء کے بنائے ہوئے تحقیقی وتنقیدی اصولوں، تصورات، مقاصد پر اپنے مطالعے کو مرکوز رکھتا ہے لیکن ادبی معیار اور حقائق کے تعین میں تحقیقی عمل سے گزرے بغیر یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔ اس لحاظ سے تنفید میں تحقیق سے استفادے و انجذاب کے اس عمل کی عمدہ مثال آسناتھ کنول کی تنقیدی کتا ب ہے۔ مصنفہ نے اپنے موضوع کا احاطہ بہت عمدہ طریقے سے کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے اسلوب کے لحاظ سے نہایت سنجیدگی اورمتانت کے لب و لہجہ میں لکھی گئی ہے۔ اس میں کوئی جملہ فاضل نہیں، کوئی جملہ بے ربط یا نامکمل نہیں ہے۔ ''صحرا کی ہتھیلی پہ دیا'' جہاں ادبی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ ہے وہیں یہ تنقیدی کتاب جناب آغا گل پر جامعات میں ایم اے، ایم فل کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات لکھنے والے طلبہ و طالبات کے لیے حوالہ کے طو رپر بہترین نمونہ ہے۔ آخر میں میری طرف سے محترمہ آسناتھ کنول کو بہت بہت مبارک باد۔
مبصر : منزہ مبین
ہاتھوں پر لکھی کہانیاں از: شاہد زبیر
''الوہی داخلی آوازاس کی رہنمائی کرتی ہے اور اس کا ضمیر اسے بتاتا رہتا ہے کہ صحیح کیا ہے …'' شاید کسی نے یہ ہمدم دیرینہ شاہد زبیر کے بارے میں کہا ہے اور سچ کہا ہے اور یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ انسان کا کوئی اپنا نقطہ نظر بھی ہو''… ''واقعی تعجب ہوتاہے! پھر تم نے دوسروں سے کچھ نہیں لیا، جو کچھ لکھا ہے خود لکھا ہے''… اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ''مجھے امید ہے کہ اسے پڑھ کر آپ کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہوں گے''۔
اور یہ شاہد زبیر ہی کی کہانیاں ہیں جو بالآخر قاری کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ فکری تاخیذ کو اپنے نقطہ نظر سے ہم آہنگ کر کے ایک نئے نقطہ نظر تک کا سفر اور پھر قاری کو عجیب سی سرشاری میں مبتلا کر دینا شاہد کی کہانیوں کا خاصا بھی ہے اور ندرت بھی۔ کہیں کہہ مکرنی کی کیفیت ہے تو کہیں حیرت سے زبان کے گنگ ہونے کی کیفیت ہے کہیں نتیجہ پہلی ہی سطر میں ہے تو کہیں اساطیری کیفیت نتیجے کو صدیوں پر، صدیوں تک مؤخرکر دیتی ہے۔ کہیں مصنف نتیجے سے بے نیاز ہے تو کہیں قاری پر نتیجے سے استغنا بلکہ برات کی کیفیت ہے، کہیں قیل و قال ہے تو کہیں حال کی کیفیت ہے، فلسفیانہ موشگافیوں سے ایقان تک کا سفر، بلکہ سفر در سفر ہے۔ جسے ماضی کے دھندلکوں سے حال کی تلخ نوائی تک صدیوں کے ارتقاء کا سامنا ہے۔ موضوع کو پھیلانا اپنی جگہ ایک فن ہے لیکن اس موضوع سے بہت کچھ حذف کر دینے کے بعد بھی سلسلہ تکلم میں خلا کے باوجود تفہیم کو متاثر نہ ہونے دینا ایک فن ہے اور یہ ہنر شاہدزبیر کو آتاہے۔
''ہاتھوں پر لکھی کہانیاں''شامت خود ساختہ سے حالات کے جبر تک پھیلے زندگی کے ایک لامتناہی سلسلے کی کہانیاں ہیں جنھیں شاہد زبیر نے حیات گم گشتہ کے مدفن سے نکال کر حیات عصری پر منطبق کر دیاہے''رشتے'' کی طوطا کہانی مین دو طرفہ شدید احساس محبت کا اظہار ہو،'' سانس کا پہرہ'' کا آفاقی احساس امید ہو، ''وعدہ'' میں وعدہ خلافی کی نفاست سے کی گئی تلافی ہو۔ ہر کہانی میں تفہیم اور تفہیم در تفہیم کی نئی دنیا آباد ہے، بعض کہانیوں میں تفہیم کی کئی پرتیں ہیں جن تک رسائی کے لیے قاری آزاد ہے کہ وہ کوئی بھی نتیجہ اخذ کرے، اس میں مستقبلیت (Furturing)کی گنجائش موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کہانیاں قاری کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ انھیں بار بار پڑھے اور ہر بار اس کی ندرت آگین معنویت سے آشنا ہو ، زندگی کا کرب کہیں زیر لب مسکراہٹ میں مدغم ہے تو کہیں تفکر عصری حسیت کی تلخیوں سے آہنگ ہے، یقین نہ آئے تو ''ڈپلومیسی'' پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ ''پیاس کی خود کشی'' میں بھی مفہوم کی ایسی کیفیت کا عکس ہے مگر تفہیم مکمل طور پر مختلف ہے۔
یادش بخیر! ''علامتیت'' شاہد زبیر کے ہاں ایک مکمل تفہیم کے طو رپر موجود ہے اور انھوں نے جس مہارت سے علامت کو برتا ہے وہ بلاشبہ جدید افسانے کے لیے آفاق کی نشاندہی کر رہی ہے۔
شاہد زبیر کی کہانیوں میں انفرادی المیے سے لے کر سماجی عفریت بلکہ حسی عفریت تک موضوعات کا کینوس بڑا وسیع ہے۔ نزاکتوں سے سماجی تلخیوں تک رنگ و آہنگ کی ایک معنی خیز دنیا آباد ہے جو بعض اوقات پرائی ہوتے ہوئے بھی اپنی ہے اور یہی شاہد زبیر کی کہانیوں کی خاصیت ہے جو قاری کو سحر میں مبتلا رکھتی ہے۔
امید ہے ''ہاتھوں پہ لکھی کہانیاں'' ہاتھوں کی لکیروں کی مانند خوش کن مستقبل کی نشاندہی کریں گی، جس پر علم و ادب کی دنیا کو ناز ہو گا۔
مبصر: ڈاکٹر شاہد حسن رضویؔ
ناشر: دستک پبلی کیشنز گول باغ، گلگشت ، ملتان
برقی پتا:dastakpublication@yahoo.com

رسائل پر تبصرہ مبصر: تجمل شاہ
ماہنامہ ادب لطیف، لاہور
پیش نظر ماہنامے''ادب لطیف'' میں ممتاز شیریں اور میرا جی کے حوالے سے مضامین کو جگہ دی گئی ہے جبکہ افسانے، انشائیے، یادرفتگاں، تبصرے اور آراء بھی شامل اشاعت ہیں۔ اس رسالے کے بانی برکت علی چوہدری ہیں، مدیر اعلیٰ صدیقہ بیگم، مجلس ادارت میں شاہد بخاری، افتخار علی چوہدری، ظفر علی چوہدری، محمد خالد چوہدری، محمد اکبر چوہدری جبکہ ناشر آفتاب احمد چوہدری ہیں۔ تاہم ماہ اور سن اشاعت کا ذکر نہیں۔
پتا: ۳۹ گرین ایکرز، رائے ونڈ روڈ، لاہور
برقی پتا: adabelatif@hotmail.com
سہ ماہی نُصرۃ الاسلام، گلگت
پاکستان کے شمالی علاقہ جات جیسے دور افتادہ علاقے سے نکالا جانے والا یہ رسالہ یقیناً لائق تحسین ہے۔ حضرت مولانا قاضی عبدالرزاق کی یاد میں نکالا جاتا ہے۔ جنوری تا جون ۲۰۱۳ء کے شمارے کا آغاز اداریہ''آواز حق'' سے کیا گیا ہے۔ جس میں مدیر اعلیٰ کا اس مجلے کے حوالے سے مؤقف موجود ہے جبکہ مکالمات و ڈائیلاگ، سیرت صحابہؓ، سفر نامہ، کشمیریات، سوانح عمری، پیغامات حزن، مقالات مضامین، کالم کارنر، مسائل و فضائل جیسے اہم موضوعات کو شامل اشاعت کیا گیاہے۔ تبصرہ کتب، اخباری سرگرمیوں اور مراسلات کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ۱۴۶ صفحات پر مشتمل اس شمارے کا پتا درج ذیل ہے: جامعہ نصرۃ الاسلام، عید گاہ روڈ، گلگت بلتستان۔
برقی پتا: ibshaqqani@gmail.com
ماہنامہ نفاذ اردو، کراچی
تحریک نفاذ اردو کو اجاگر کرنے کے لیے ڈاکٹر سید مبین اختر نے اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت اس رسالے کی اشاعت کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے جس میں اردو کے نفاذ اور اس حوالے سے تحقیقی مضامین اور تقریبات کی خبروں اور تصاویر کو نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔ یہ رسالہ گزشتہ تین سالوں سے مسلسل شائع ہو رہا ہے جس سے ڈاکٹر صاحب کی اردو سے محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس رسالے کے مدیر شبیر احمد انصاری ہیں۔
پتا: بی۔۱۴/۱، ناظم آباد نمبر ۳، کراچی۔
برقی پتا: tnupk@yahoo.com
ماہنامہ سب رس، حیدر آباد
ادارۂ ادبیات اردو حیدر آباد، بھارت سے گزشتہ ۷۵ سال سے شائع ہونے والے اس رسالے میں زیادہ تر علمی و ادبی مضامین شائع ہوتے ہیں۔پیش نظر مئی ۲۰۱۳ء کے شمارے میں قتیل شفائی کی آپ بیتی ''گھنگرو ٹوٹ گئے'' اردو کے معروف شاعر فیض احمد فیض سے متعلق حسین الحق کا مضمون ''فیض تک پہنچنے کی ایک کوشش''، ناول سے متعلق علی احمد فاطمی، ''تضاد و تصادم کی داستان''، ایوانوں کے خوابیدہ چراغ اور ابتدائی سترھویں صدی کے دکنی ادب میں سماجی نقوش سے متعلق حبیب نثار کے مضامین کے علاوہ منٹو کی خاکہ نگاری کے حوالے سے ماجد قاضی کا مضمون اوردیگر موضوعات پر تحریریں شامل اشاعت ہیں۔رسالے کے مدیر پروفیسر بیگ احساس جبکہ مجلس مشاورت میں گوپی چند نارنگ، پروفیسر مجتبیٰ حسین، پروفیسر اشرف رفیع اور پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ہیں۔ پتا: ایوان اردو، پنجہ گٹہ روڈ، سوماجی گوڑہ، حیدر آباد ۵۰۰۰۸۲، حیدرآباد بھارت۔
برقی پتا: idarasabras@yahoo.com
سہ ماہینظریات، لاہور
رسالے کے ''نظرات'' میں مدیر طاہر اسلام عسکری تحریر کرتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں جو اصحاب علم و ہنر اسلام کے حکیمانہ مزاج کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ عصر حاضر کے فہیم لوگ ان کی جانب متوجہ ہوں تو انھیں بہ ہر آئینہ اردو زبان و ادب سے رشتہ استوار کرنا ہو گا، اس سے نہ صرف یہ کہ اپنے خیالات دل آویز اسلوب نگارش میں دوسروں تک پہنچانے کا سلیقہ پیدا ہو گا، اربابِ ذوق کی تسکینِ خاطر کا سامان ہو گا، شعر وادب اور علم و فن کے اس عظیم الشان سرمائے سے آگاہی حاصل ہو گی جو ہمارے بزرگوں نے دنیا کو دیا ہے بلکہ ادب کے پردے میں اخلاقی انارکی پھیلانے والے نام نہاد ادیبوں کو پہنچاننے میں بھی مدد ملے گی۔ ادارہ بحث و تحقیق لاہور کی جانب سے شائع ہونے والا یہ مجلہ زیادہ تر مذہبی تحریروں پر مشتمل ہے۔ تاہم ادبی و علمی اور تحقیقی حوالے سے مضامین بھی شامل اشاعت ہیں تاہم ایک حصہ ادبیات کے لیے بھی مختص ہے۔ پیش نظر جنوری تا مارچ ۲۰۱۳ء کے شمارے میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان ''تہذیب جدید کا فکری بحران، اردو ادب کے آئینے میں''ایک جامع تحقیقی مضمون ہے، جس میں فاضل مصنف نے ادب میں ترقی پسندی کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر بیان کیا ہے ، لکھتے ہیں:
۱۹۳۵ء میں حقیقت نگاری کے نام پر اردو ادب میں عریانی اور بے حیائی کا آغاز ہوا اور اس کا نام ترقی پسند ادب رکھا گیا۔ اس تحریک کی ابتدا سجاد ظہیر، احمد علی اور ڈاکٹر رشید جہاں نے کی اور ''انگارے'' کے نام سے افسانوں کا ایک مجموعہ شائع کیا جس میں دین اور اخلاق پر حملے کیے گئے اور اشتراکی نظریات کی تبلیغ کی گئی۔ پھر ۱۹۳۶ء میں ''انجمن ترقی پسند مصنفین'' کی بنیاد پڑی اور اس کے اراکین نے اس مقصد کے پیش نظر اور حقیقت نگاری کا لبادہ اوڑھ کر دین ، اخلاق، تہذیب اور ان کی اقدار کو لغو قرار دیا بلکہ محض جہالت اور اوہام پرستی کہا۔ مادہ کو اصل کہا ،روح اور خدا کا انکار کیا اور اس نظریے کی اس طرح تاویل کی کہ مادی ارتقا میں احساس، شعور، عقل اور ضمیر کی تخلیق ہوتی ہے اور دین محض فریب تخیل ہے اور استحصالی طبقوں کا آلۂ کار ہے۔ اسی کے ساتھ جب فرائڈ کے نظریات بھی شامل ہو گئے تو اب نفسیاتی ماحول اور سماجی تربیت کا مرکز روٹی کی بجائے جنسیت قرار پایا۔ اس نظریے نے ترقی پسند ادب میں داخل ہو کر بے حیائی اور گندگی کو عام کا۔ جوش، ن م راشد، میرا جی، مجاز، جان نثار اختر، جذبی، ساحر، فکر تونسوی، مخمور جالندھری، احمد فراز، علی سردار جعفری، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی وغیرہ نے ترقی پسندی میں بڑے جوہر دکھائے ہیں لیکن ان سب میں فیضؔ سب سے زیادہ ممتاز ہیں۔ انھیں اشراکیت سے وفاداری کی بنا پر روس کی طرف سے ''لینن'' کا امن انعام دیا گیا لیکن انھیں شاید اپنے محسن ملک کی پابندی یاد نہیں رہی، جہاںکوئی شخص اس حکومت کے خلاف زبان بھی نہیں ہلا سکتاتھا اور جہاں ذرا سے شک پر گولی سے اڑا دیا جاتا ۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے ناول ''آگ کا دریا'' میں اسلام اور پاکستان کے خلاف متنازعہ باتیں لکھیں۔ پیش نظر مجلے کے نگران حافظ عبدالرحمن مدنی جبکہ مدیر منتظم حافظ فہد اللہ مراد ہیں۔ رابطے کے لیے پتا: ادارہ بحث و تحقیق، گلی نمبر ۱، سلمان پارک، بینک سٹاپ، ۱۷ کلومیٹر، فیروز پورہ روڈ، لاہور۔
برقی پتا۔ tahiraskari@yahoo.com
ماہنامہحکمتِ پالغہ ،جھنگ
جدید تعلیم یافتہ لوگوںتک علوم قرآنی کوپہنچانا اور فروغ دینا اس رسالے کا نقطۂ نظر ہے۔ قرآن اکیڈمی جھنگ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے پیش نظر مئی ۲۰۱۳ء کا اداریہ ''پاکستان کی بقا اور دو قومی نظریہ کے فروغ'' کے حوالے سے ہے۔ مضامین میں ''قرآن مجید کے ساتھ چند لمحات''، ''بارگاہ نبویؐ میں چند لمحات''، ''اسلام اور سائنس اور نظریاتی تعلیم'' جیسے تحقیقی مضامین کو جگہ دی گئی ہے جس میں مضمون نگار نے نظریاتی تعلیم کے شدید فقدان پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رسالے کے مدیر مسئول انجینئر مختار فاروقی جبکہ مدیر معاون مفتی عطا الرحمان ہیں۔ رابطے کے لیے پتا: لالہ زار کالونی نمبر ۲، ٹوبہ روڈ، جھنگ صدر۔
برقی پتا: hikmatbaalgaha@yahoo.com
خبرونظر، اسلام آباد
اردو زبان میں یہ رسالہ امریکی سفارتخانے کی طرف سے شائع ہوتا ہے۔ پیش نظر مارچ۔اپریل۲۰۱۳ء کے مشترکہ شمارے میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن سے ملاقات، ایک پاکستانی طالب علم سے امریکی نائب صدر کا مصافحہ اور تفصیل۔ ایک حقیقی پاکستانی پیش رو فاطمہ نور کے حوالے سے رپورٹ، پاکستان اور امریکہ میں شادی کے شادیانے، شادی بیاہ کی رسم و رواج اور روایات، امریکہ میں دوہری ثقافتوں کے بارے رپورٹ اور خوابوں کی سرزمین کیلی فورنیا کے بارے مضمون شامل اشاعت ہیں۔ گوشۂ مدیر میں رائن ہیریس کہتی ہیں کہ امریکہ میں ہم روایات کو اپنے اس ماضی کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں جس پر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ امریکہ کی اپنی مخصوص روایات ہیں، ان میں سے کئی ایسی ہیں جو آپ کی توقعات کے برعکس پاکستان کی روایات سے اتنی مختلف نہیں، آپ کو اس بات پر حیرت ہوگی کہ کئی طرح سے امریکہ کی ثقافتی روایات کو متوازی پاکستانی روایات بھی مل جاتی ہیں، لیکن اگر زیادہ قریب سے دیکھا جائے تو پاکستانی شادی کے رسوم و رواج امریکی شادی بیاہ سے کافی مماثلت رکھتے ہیں۔ رسالے کے لیے برقی پتا: infoisb@state.gov
پاک جمہوریت
ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنزلاہور کے زیر اہتمام شائع ہونے والے اس رسالے کے منتظم اعلیٰ رائو تحسین علی خان، نگران اعلیٰ محمد نعیم جبکہ ادارتی بورڈ میں سید عاصم حسنین، شگفتہ انصاری، غزالہ عنبرین، شہزاد انور اور محمد نعیم شامل ہیں۔ پیش نظر شمارے میں ''علامہ اقبال اور ملت اسلامیہ کی فلاح'' والدین کا مقام اور بدلتی ہوئی سماجی اقدار اور دیگر مضامین شامل ہیں۔ پتا: ۴۶، ایبک بلاک ، نیو گارڈن ٹائون، لاہور۔
ماہنامہ ا لحق، اکوڑہ خٹک
یہ رسالہ دارالعلوم حقانیہ کوڑہ خٹک کا علمی و دینی ترجمان ہے۔ جو ادارے کے بانی مولانا عبدالحق کی یاد میں ہر ماہ گزشتہ اڑتالیس سال سے مسلسل شائع کیا جا رہا ہے۔ پیش نظر اپریل ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق سے گفتگو بھی شامل ہے۔ جس کے شریک گفتگو ڈاکٹر ممتاز احمد ہیں۔ اس ملاقات میں مولانا صاحب نے دینی مدارس کے نصاب تعلیم،دینی مدارس کی تعلیم کا مقصد درس نظامی میں قرآن و حدیث کا مطالعہ، طریق تعلیم اور دور جدید کے مسائل، سکولوں کالجوں میں دینی تعلیم کے بارے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی علمی مضامین بھی شمارے کی زینت ہیں۔ اس رسالے کے نگران مولانا انوارالحق ہیں جبکہ مدیر اعلیٰ مولانا سمیع الحق اور مدیر حافظ راشد الحق سمیع حقانی ہیں۔ پتا:دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، ضلع نوشہرہ۔
برقی پتا: editor_ihag@yahoo.com
ماہنامہ پیام، اسلام آباد
البصیرہ پبلی کیشنز کے زیر اہتمام شائع ہونے والا یہ شمارہ گزشتہ سولہ برسوں سے شائع ہو رہاہے۔ اس رسالے میں علمی اور تحقیقی مضامین کے علاوہ تبصرہ کتب بھی شامل اشاعت ہوتے ہیں۔ اس کے مدیر اعلیٰ ثاقب اکبر، مدیر خواجہ شجاع عباس، مدیر مشترک، ہما مرتضیٰ اور مدیر معاون عباس تقویٰ ہیں۔
پتا: البصیرہ: ۴۰ بیلا روڈ، جی ٹن ون، اسلام آباد
برقی پتا: ukuwat@gmail.com
٭٭٭٭