اردو اور انگریزی کے استعمال کی جائزحدود

ڈاکٹر وزیر آغا

ہر زبان کا ایک لسانی تناظر ہوتا ہے جس پر دوسری زبانوں سے اخذ و اکتساب کی ساری داستان رقم ہوتی ہے۔ اردو زبان کے لسانی تناظر میں ہمیں فارسی، عربی ، انگریزی اور پراکرتوں کے الفاظ آبدار موتیوں کی طرح جڑے ہوئے نظر آتے ہیں مگر یہ سب کچھ ایک فطری طریق سے سرانجام پایا ہے۔ نتیجتاً دوسری زبانوں کے الفاظ اردو زبان کی بنت میں شامل ہوئے ہیں اس کے دامن سے چمٹے ہوئے نظر نہیں آتے۔ اس کے برعکس جدید ہندی میں سنسکرت کے الفاظ کی شعوری سطح پر آمیزش ایک بالکل مصنوعی عمل ہے۔ جس سے ہندی زبان کی تازگی اور کوملتا بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اردو زبان کو سنسکرت کے الفاظ کی یلغار کا تو قطعاً کوئی خطرہ نہیں مگر یہاں ایک اور خطرہ ہے جو آج سے کافی عرصہ پہلے اردوزبان کے افق پر ایک شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہوا تھا مگر جو اب ایک جلا دینے والا سورج بن کر سوا نیزے پر آچکا ہے اور جس کی آتش بار شعاعوں نے اردو زبان کے حریری ملبوس میں جا بجا سوراخ کر دیے ہیں۔ میرا اشارہ انگریزی زبان کی طرف ہے جس نے ہمارے ملک میں سگی بہن کا کردار ادا کرنے کے بجائے سوتیلی ماں کا کردار ادا کیا ہے۔
ہر زبان ایک عمارت کی طرح ہوتی ہے جس میں چاروں طرف کھڑکیاں اور دروازے سورج کی روشنی اور ہوا کے لمس کو قبول یا رد کرنے کے لیے گاہے کھولے اور گاہے بند کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی وجہ سے زبان کی اس عمارت کی ساری کھڑکیاں اور دروازے مقفل کر دیے جائیں تو پھر نہ تو سورج کی روشنی ہی عمارت کے اندر جا سکتی ہے اور نہ وہاں تازہ ہوا ہی کا گزر ہوتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جس عمارت کو روشنی اور ہوا سے محروم کر دیا جائے (چاہے یہ عمارت زبان کی، معاشرے کی ہو یا شخصیت کی) تو اس کے اندر سے بدبو کے بھبکے سے اٹھنے لگتے ہیں، نمی سی پھیل جاتی ہے اور دیمک کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔ سنسکرت زبان کی عمارت کو جب برہمنوں نے پوری طرح مقفل کر دیا تو اس کے اعماق میں بھی یہی کیفیت پیدا ہو گئی تھی اور پھر وہ زمانے کی روشنی اور ہوا سے محروم ہو کر انجماد کی نذر ہوتی چلی گئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ اردو زبان کو کسی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں اور اس نے ہمیشہ تازہ ہوا اور روشنی کے لیے اپنے دروازوں اور کھڑکیوں کو بار بار کھولا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ بھی دیکھیے کہ جس عمارت کی ساری کھڑکیاں اور دروازے مستقل طور پر کھول دیے جائیں تو اُس میں بادِ نسیم کے ساتھ ساتھ بادِ سموم بھی داخل ہو سکتی ہے اور سورج کی روشنی کے ساتھ جھلسا دینے والی دھوپ کی یلغار بھی بعید از امکان نہیں بلکہ میں تو یہ تک کہوں گا کہ جس عمارت کے دروازے اور کھڑکیاں ہمہ وقت کھلے ہوں وہ عمارت نہیں بلکہ ایک جلسہ گاہ ہے جس میں ہر طرح کی مخلوق آجا سکتی ہے۔ کم از کم انگریزی کے معاملے میں مجھے یہ ہمیشہ محسوس ہوا کہ اردو زبان کی عمارت کی جملہ کھڑکیاں اور دروازے بڑی بے احتیاطی سے کھلے چھوڑ دیے ہیں جس کے نتیجے میں انگریزی کے الفاظ محاورے ، نام اور ان سب سے وابستہ غیر ملکی تہذیبی مظاہر اور خباثتیں بے روک ٹوک ہماری تہذیب کے ایوانوں میں داخل ہوتی چلی گئی ہیں۔
مبادا کوئی غلط فہمی پیدا ہو جائے میں انگریزی کے معاملے میں پوری طرح قلعہ بند ہو جانے کے حق میں نہیں ہوں بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ انگریزی زبان کی صورت میں ہمیں ایک ایسی کھڑکی میسر آئی ہے جس سے ہم پوری دنیا کی علمی اور سائنسی فتوحات کا نظارہ کر سکتے ہیں اور جس کے ذریعے علوم کی روشنی ہم تک پہنچ سکتی ہے بلکہ پہنچ رہی ہے۔ اس کھڑکی کو بند کر دینے کا مطلب ہو گا کہ ہم زمانے کے فیوض اور برکات سے خود کو محروم کر لیں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغز کے ساتھ چھلکے کو بھی قبول کر لیا جائے۔ علوم کے ساتھ اُس تہذیبی کیپ سول کو بھی نگل لیا جائے جس میں یہ علوم بند کر کے بھیجے گئے ہیں اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انگریزی کے الفاظ اور محاوروں اور ناموں کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ اردو کے الفاظ اور محاوروں کو دھکیل کر پرے کریں اور خود ان کی مسندوں پر قابض ہو تے چلے جائیں۔بدقسمتی سے جہاں تک قومی زبان کی مملکت کا تعلق ہے اس میں دو حکمرانوں کا سکّہ چل رہا ہے یعنی انگریزی اور اردو کا ! اور آج تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ان کی حدود، حقوق اور اختیارات کیا ہیں۔
انگریزی کی عملداری ابھی تک جار ی ہے اور بعض اوقات اس عملداری کے باعث اردو کی عملداری کے راستے میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔مثلاً عام زندگی بالخصوص کاروباری زندگی میں انگریزی اور اردو کے الفاظ کا دنگل جاری ہے حالانکہ اس دنگل کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس خاص میدان میں اردو کی بالا دستی کا احساس دلایا جا تا ۔ اس سلسلے میں ریڈیو ، ٹیلی وژن اور دیگر ثقافتی ادارے معاشرتی رویوں کوایک بڑی حد تک تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں ، دفتروں ، بنکوں اور دوسرے اداروں میں اردو زبان کومؤثر کردار ادا کرنے کی نہ صرف اجازت ملنی چاہیے بلکہ کوشش ہونی چاہیے کہ یہ زیادہ سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے مثال کے طور پر اگر ملکی بنک ایک ضابطہ سا وضع کر دیں کہ وہ غیر ملکیوں کو چھوڑ کر باقی سب لوگوں کے صرف اردو دستخطوں ہی کو قبول کر یں گے اور اسی طرح اوپر سے نیچے تک تمام سرکاری ملازمین کو یہ ہدایت کر دی جائے کہ وہ اردو کے سوا اور کسی زبان میں دستخط نہیں کریں گے تو پورے ملک کی فضا میں ایک خوشگوار تبدیلی آ سکتی ہے کیونکہ جب دستخط اردو میں ہوں گے تو درخواستیں بھی اردو میں لکھی جائیں گی اور احکامات بھی اردو میں صادر کیے جائیں گے اور پوری کاروباری زندگی میں اردو کا نفوذ بڑھ جائے گا۔ ایسی صورت میں اس بات کی ضرورت پڑے گی کہ انگریزی زبان کے الفاظ اور اصطلاحات کے اردو تراجم کو عام کیاجائے۔ خوشی کی بات ہے کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہو چکی ہے اور کئی ادارے اس ضمن میں کام کر رہے ہیں تاہم ابھی تک ترجمہ کرنے والے ان اداروں میں پوری ہم آہنگی پیدانہیں ہو سکی ۔ نتیجتاً ترجمے کے سلسلے میں مختلف رویّے سامنے آئے ہیں۔ یہ بات اردو زبان کے فروغ کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔
آخر میں یہ گزارش کر کے اجازت چاہوں گا کہ انگریزی زبان کو بے شک برقرار رکھیے بلکہ ضروری ہے کہ اُسے برقرار رکھا جائے اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے مگر ملک کے اندر عملداری اردو زبان ہی کی ہونی چاہیے تاکہ انگریزی زبان کے حامیوں کو غیر مبہم الفاظ میں یہ معلوم ہو جائے کہ گھر کے اندر محترمہ کے اختیارات کی نوعیت کیا ہے نیز افرادِ خانہ کی قطار میں اُسے کس مقام پر کھڑے ہونے کاحق حاصل ہے۔
٭٭٭٭
قدرت اللہ شہاب
قدرت اللہ شہاب کا شمار ہمارے ملک کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کا زیادہ تر وقت سرکاری فرائص کی انجا م دہی میں گزرا۔ ان کے اردو میں تخلیقی ادب کا معیار اتنا بلند ہے کہ انھیں تاریخ ادب میں مستقل مقام حاصل رہے گا۔قارئین کے ساتھ شہاب کا بلاواسطہ تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ اس تعلق میں ان کے افسانوں، مضامین اور شخصی خوبیوں کو دخل رہا، تنقید و تحقیق کے سہارے کے بغیر ہی انھیں پڑھنے والوں نے عزت دی۔
اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں قدرت اللہ شہاب نے بہت کم افسانے لکھے مگر انھوں نے جو کچھ لکھا قارئین اسے بھلا نہ سکے۔ معروف ادبی رسائل اور اردو افسانوں کے انتخابوں میں ان کے افسانوں کو نمایاں جگہ ملی، مولانا صلاح الدین احمد ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے اولین قدر دان تھے۔ قدرت اللہ شہاب اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے افسانوں کو اتنے بلند پایہ پارکھوں نے اتنے پرجوش الفاظ میں سراہا۔ اردو افسانے کے ارتقاء پر تنقیدی، تحقیقی و تاریخی جائزوں میں مسلسل شہاب کا ذکر ملتا ہے۔
(پروفیسرفریدہ نذیر )
ممتاز مفتی
ممتاز مفتی اردو افسانہ نگاری کا بڑا نام ہے۔ انھوں نے افسانہ، سوانحی ناول، سفرنامے، شخصی خاکے، ڈرامے اور رپورتاژ میں بیک وقت الگ الگ اسلوب اختیار کرتے ہوئے بالکل جداگانہ شناخت بنائی۔ ان کے اسلوب میں لسانی تجربوں کی رنگا رنگی انھیں تمام معاصر لکھنے والوں میں ممتاز مقام پر فائز کرتی ہے۔ انھوںنے اردو، پنجابی روزمرہ کے افسانے تخلیق کیے، ناول لکھے، خاکے تحریر کیے مگر کہیں بھی ابلاغ کا مسئلہ پیدا نہیں ہونے دیا بلکہ یوں لگتا ہے کہ ان کی تحریر اس کٹھالی سے گزر کر مزید بلیغ ہوتی چلی گئی۔
ممتاز مفتی کی تمام کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ان کے ذاتی تجربات اور مشاہدات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ وہ کسی بھی مشکل اور ادق فلسفیانہ مسئلے پر جس سادگی اور بے تکلفی سے اظہار خیال کی قدرت رکھتے ہیں، معاصرین میں سے شاید ہی کسی اور کے ہاں نظر آئے۔ انسانی نفسیات کا جیسا گہرا مطالعہ وہ کر سکتے تھے، شاید ہی اردو ادب کا کوئی اور نثر نگار ایسی قدرت رکھتا ہو۔ یقیناً ان کی ادبی خدمات اردو ادب کے لیے گراں قدر ہیں۔
(ڈاکٹر نجیبہ عارف)
اشفاق احمد
اردو ادب کی تاریخ میں اشفاق احمد کا نام ہمیشہ یادر رکھا جائے گا۔ اُن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دو سال تک روم یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے رہے۔ اس دوران انھوں نے اطالوی اور فرانسیسی زبانیں بھی سیکھیں۔ پھر نیویارک سے ریڈیائی نشریات کی تربیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں اپنا اشاعتی ادارہ''داستان سرائے'' قائم کیا اور ساتھ ہی ساتھ ''داستان گو'' رسالے کا اجراء بھی کیا۔ ریڈیو نشریات میں تلقین شاہ ان کا مقبول پروگرام تھا، پاکستان ٹیلی وژن کے لیے متعدد ڈرامے تحریر کیے لیکن ''ایک محبت سو افسانے'' کا ڈرامہ سیریل زیادہ مشہور ہوا جس میں ''گڈریا'' افسانہ اردو ادب میں نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ ان کے ڈراموں میں ''من چلے کا سودا'' خاصا مشہور رہا۔ انھوں نے کئی درجن کتابوں کے ذریعے اردو ادب کے طالب علموں کے لیے گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ جن میں نمایاں نام وداع جنگ، ایک ہی گولی، صبحان فسارے، طوطا کہانی، بند گلی، طلسم ہو ش افزا اور ڈرامے، ننگے پائوں، مہمان سرائے، بابا صاحبا، سفر در سفر، اُچے برج لاہور دے، ٹاہلی تھلے، حسرت تعمیر، جنگ بجنگ، سفر مینا، حیرت کدہ، شاہلا کوٹ، کھیل تماشا، گلدان، گھٹیا وٹیا، دھینگا مشتی، شورا شوری، ڈھنڈورا، عرض مصنف اور شہرآرزو جیسی بے شمار تخلیق کے مالک اشفاق احمد کی ذات میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں اور زاویے میں یوں کہانی کا رخ متعین کرتے کہ کہانی خود بولنے لگتی۔٭٭